Explained with ayahs 4–12
زنجیریں طوق اور شعلے
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…
Read the full tafseer →سورة الدَّهْر 10
نذر پوری کرنے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی پر واجب کیا گیا ہو اسے وہ پورا کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے خود اپنے اوپر واجب کرلیا ہو، یا بالفاظ دیگر جس کام کے کرنے کا اس نے عہد کیا ہو، اسے وہ پورا کرے۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی پر واجب ہو، ، خواہ وہ اس پر واجب کیا گیا ہو یا اس نے خود اپنے اوپر واجب کرلیا ہو، اسے وہ پورا کرے۔ ان تینوں مفہومات میں سے زیادہ معروف مفہوم دوسرا ہے اور عام طور پر لفظ نذر سے وہی مراد لیا جاتا ہے۔ بہرحال یہاں ان لوگوں کی تعریف یا تو اس لحاظ سے کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ واجبات کو پورا کرتے ہیں، یا اس لحاظ سے کی گئی…
Read the full tafseer →يُوْفُوْنَ بالنَّذْرِ یہ بیان اس کا ہے کہ ابرار اور عباد اللہ کو یہ انعامات کس بناء پر ملیں گے۔ معنے یہ ہیں کہ یہ لوگ جس کام کی اللہ کے لئے نذر (منت) مان لیتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں۔ نذر کے لفظی معنے یہ ہیں کہ آپ اپنے اوپر کوئی ایسا کام واجب کرلیں جو شریعت سے آپ کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ ایسی نذر کو پورا کرنا شرعاً واجب ہوتا ہے جس کی کچھ تفصیل آگے آتی ہے۔ یہاں اہل جنت کی جزائے عظیم اور انعامات کا سبب ایفائے نذر کو قرار دیا ہے۔ اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ یہ لوگ جب اپنی طرف واجب کردہ چیزوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں تو جو فرائض و واجبات ان کے اختیار سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر…
Read the full tafseer →ابرار کے وہ اعمال جن کے صلہ میں ان کو یہ سرفرازی حاصل ہو گی: یہ ان کے وہ اوصاف و اعمال بیان ہو رہے ہیں جن کے سبب سے ان کو رب کریم کی طرف سے یہ سرفرازی بخشی جائے گی۔
کوئی نیک کام کرنے کا عہد کر لینے کو ’نذر‘ کہتے ہیں۔ ان وفادار بندوں (ابرار) کے اوصاف میں ایفائے نذر کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ جو لوگ ان نذروں کے پورے کرنے کا بھی اہتمام رکھیں گے جو انھوں نے بطور خود اپنے اوپر واجب کی ہوں ان سے نیکیوں کے بدرجۂ اولیٰ اہتمام کی توقع ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہیں۔ ہمارے مفسرین نے اس لفظ کے مفہوم کو وسیع کر کے تمام نیکیوں پر حاوی کر دیا ہے، خواہ بندے نے اپنے اوپر وہ ازخود عائد کی ہوں…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔
Read the full tafseer →یہ نہایت روشن اور شفاف تصویر ہے اور یہ ان مخلصین اور سچے لوگوں کی شکل ہے جو اللہ کے احکام اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے بندوں پر غایت درجہ مہربان ہوتے ہیں۔ اور اپنے مقابلے میں دوسرے بندگان خدا کو ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کا ڈر اور خوف ان پر طاری رہتا ہے ، وہ اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اور ان پر اسلام کے حوالے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے ہیں۔
یوفون بالنذر (v:76) ” وہ نذر پوری کرتے ہیں “۔ یعنی جو عبادات اور نیک کام خود اپنے اوپر لازم کرتے ہیں ، ان کی وفا کرتے ہیں یعنی وہ دین اسلام کے معاملے کو بڑی…
Read the full tafseer →8 یعنی جو منت مانی ہو اسے پورا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب خود اپنی لازم کی ہوئی چیز کو پورا کریں گے تو اللہ کی لازم کی ہوئی باتوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔
9 یعنی اس دن کی سختی اور برائی درجہ بدرجہ سب کو عام ہوگی۔ کوئی شخص بالکلیہ محفوظ نہ رہے گا۔ " الا من شاء اللہ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 6{ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَہَا تَفْجِیْرًا۔ } ”یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لے جائیں گے۔“
یعنی اگر وہ چاہیں گے تو اس چشمے میں سے اپنی مرضی سے نہریں نکال کر اپنے اپنے علاقے کی طرف لے جائیں گے۔
Read the full tafseer →8 اہل جنت کی چند صفات :۔ اب ان کامیاب ہونے والے نیک لوگوں کی چند صفات بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں۔ نذر ایسے عہد کو کہا جاتا ہے جو انسان خود اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے واجب کردہ عہد کو پورا کرنے کا اس قدر خیال رکھتا ہے وہ اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھے گا۔
9 مُسْتَطِیْرٌ (مادہ ط ی ر) بمعنی چارسو پھیلی ہوئی آفت۔ پوری کی پوری فضا کو متاثر کرنے والی تکلیف اور مصیبت۔ جب سورج بالکل زمین کے قریب لے آیا جائے گا اور حرارت اور گھبراہٹ کے مارے لوگوں کا برا حال ہوگا۔ اس دن کے شر سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو پہلے ہی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5۔ غرض یہ کہ مالی عبادتوں میں بھی اخلاص کامل ملحوظ رکھتے ہیں۔ ) (آیت) ” یوفون بالنذر “۔ نذر ہر وہ عبادت ہے جو اپنے اوپر واجب کرلی جائے خواہ بالکل اپنی طرف سے خواہ اس لئے کہ اس کا حکم ہی ہو۔ المراد بالنذر ھھنا کل مایوجب علی سواء وجب بایجاب اللہ و جمیع الطاعات (کبیر) (آیت) ” یوفون ..... مستطیرا “۔ یعنی عبادتوں کی ادائی میں پورا اخلاص برتتے ہیں، اور اپنی ذمہ داری اور پرسش آخرت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں۔ مستطیرا “۔ وہ چیز ہے جو خوب پھیلے ہوئے اور خوب گھیرے ہوئے ہو۔ (آیت) ” علی حبہ “۔ ضمیر ہ بھی اللہ کی جانب ہے یعنی حق تعالیٰ کی محبت میں حق تعالیٰ کی رضاجوئی کیلئے۔ اطعاما کائنا علی حبہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ان الابرار یشربون، پہلی آیتوں میں اشقیاء کا ذکر تھا اب ان کے مقابلہ میں سعداء کا ذکر ہے، کاس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو، کافور ایک ٹھنڈی اور مخصوص خوشبو کی حامل شئی ہوتی ہے اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو شام جان کو معطر کرنے والی ہوجاتی ہے۔
یوفون بالنذر الخ، یعنی صرف ایک اللہ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں اور نذر بھی مانتے ہیں تو صرف اللہ کے لئے اور … سے پورا کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔
نذر ماننے کی چند شرائط :
مسئلہ : نذر ماننے کی چند شرائط ہیں، اول یہ کہ جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز ہو معصیت نہ ہو، اگر کسی شخص…
Read the full tafseer →یوفون بالنذر . یہ جملہ مستانفہ ہے (گویا یہ) جواب ہے ایک فرضی سوال کا کہ ابرار کو ایسا ثواب کیوں ملے گا
ابرابر کے کیا اوصاف ہیں ‘ اس صورت میں یہ ابرار کی تعریف ہو جائیگی کہ وہ فرائض ادا کرتے ہیں ‘ اللہ سے ڈرتے ہیں ‘ ممنوعات سے پرہیز کرتے ہیں ‘ بندوں پر رحم کرتے ہیں اور مرضی مولیٰ کی طلب میں خلوص کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں ‘ یہ ابرار کے اوصاف ہیں اور یہ مرتبہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب نفس کو فنا کردیا گیا ہو اور بری خصلتیں دور ہوگئی ہوں۔ رہے اہل قرب تو انکے اوصاف ان سے بھی اونچے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یوفون سے کلام سابق کی علت بیان کی گئی ہو۔ ابرار پر بہشت میں انعامات مذکورہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(7۔ 8) آگے ان نیک لوگوں کی صفات مذکور ہیں جن پر وہ دنیاوی زندگی میں کار بند تھے کہ وہ لوگ عہد اور قسموں کو یا یہ کہ فرائض کو پورا کرتے اور ایسے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور وہ لوگ کھانے کی کمی اور اس کی خواہش کے باوجود غریب مسلمانوں اور یتیم اور مسلمان قیدیوں کو خواہ کافروں کے قبضہ میں ہوں یا جیل میں کھانا کھلاتے ہیں۔
شان نزول : وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (الخ)
ابن منذر نے ابن جریر سے وَّاَسِيْرًا کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ رسول اکرم مسلمانوں میں سے کسی کو قید نہیں کیا کرتے تھے لیکن یہ آیت کافروں کے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کافر عذاب میں ان کو قید کرلیا کرتے تھے تو…
Read the full tafseer →یوفون بالنذر…:”النذر“ اپنے آپ پر وہ چیز واجب کرلینا جو واجب نہیں ہے۔”مستطیراً“ (طار یطیر“ اڑنا اور ”استطار یستطیر“ باب اسفعال میں الفاظ زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، یعنی بہت زیادہ اڑنے والا، مراد ہے، بہت زیادہ پھینلے والا، جیسے آگیا صبح کی روشنی خوب پھیل جائے تو کہا جاتا ہے : ”استطار الحریق“ یا ”استطار الفجر“ کہ آگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے، یا صبح کی روشنی خوب پھیل گئی ہے۔
اس آیت میں اور اس کے بعد کتین آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی چند صفات بیان کی گئی ہیں، ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں، پھر جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف ہلے ہی واجب ہیں ان پر کتنے اہتمام…
Read the full tafseer →یوفون بالنذر۔۔۔ تا۔۔۔ ولاشکورا۔
یوفون بالنذر، جب وہ نذرمانتے ہیں تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرض کی گئی نماز، زکوۃ، روزہ، حج، عمرہ، اور دوسرے فرائض ہیں۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا، جب وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں نذر مانیں تو وہ اسے پورا کرتے ہیں فراء اور جرجانی نے کہا، کلام میں اضمار ہے یعنی وہ دنیا میں نذر پوری کیا کرتے تھے عرب اس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے کبھی کان کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی حذف کردیتے ہیں۔ نذر اس کی حقیقت ہے مکلف نے اپنے نفس پر کسی چیز کو اس لیے واجب کیا کہ وہ اسے بجالائے گا اگر تو چاہے تو اس کی تعریف میں یہ بھی…
Read the full tafseer →42۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوفون بالنذر سے مراد ہے کہ جب وہ اللہ کے حق میں نذر مانتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔
43۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوفون “ سے مراد ہے کہ ہر وہی نذر جو شکر کے لیے ہو اسے وہ پورا کرتے ہیں۔
نذر پوری کرنا واجب ہے
44۔ عبدالرزاق فی المصنف اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنی جان کو ذبح کردوں نبی اکرم ﷺ کسی کام میں مشغول ہوگئی اور اس سے اعراض فرمایا کہ وہ آدمی چلا گیا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے…
Read the full tafseer →[يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ : وہ لوگ (اس دنیا میں) پوری کرتے ہیں منت ] [وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا : اور ڈرتے ہیں ایک ایسے دن سے ] [كَان شَرُّهٗ : جس کا شر ] [مُسْـتَطِيْرًا : پھیل جانے والا ہے ]
Read the full tafseer →﴿ يُوْفُوْنَ بالنَّذْرِ ﴾ دنیا میں وہ لوگ اپنی نذر پوری کرتے ہیں نذر کا معنی تو معروف ہی ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ حضرات کسی نیک کام کی نذر مان لیتے ہیں تو اسے پوری کرلیتے ہیں، جب کوئی شخص کسی کام کی نذر مان لے تو اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا ﴿وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ ﴾ نذر نہ مانے تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر نذر مان لے (اور گناہ کی نذر نہ ہو) تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر گناہ کی نذر مان لے تو اسے پوری نہ کرے بلکہ اس کا وہی کفارہ دے دے جو قسم کا کفارا ہے۔ احادیث شریفہ میں نذر کے بارے میں یہ ہدایات وارد ہوئی ہیں۔ (دیكھئے مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 297)
﴿ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →6:۔ ” یوفون بالنذر “ یہ ماقبل کی علت ہے ان آیتوں میں مومنوں کے ان اعمال صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو مذکورہ بالا جزاء وثواب کا موجب ہوں گے۔ ” یوفون بالنذر “ نذر سے وہ تمام عقود و عہود مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عائد فرمائے ہو یا انسان کود اپنے اوپر لازم کرلے النذر ھنا عام لما اوجبہ اللہ تعالیٰ وما اوجبہ العبد فیدخل فیہ الایمان و جمیع الطاعات (بحر ج 8 ص 395) ۔ المراد من النذر العہد والعقد الخ (کبیر ج 8 ص 390) ۔ ” ویخافون یوما “ اعمال صالحہ بجا لانے میں ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اور وہ محض خدا کی رضاء جوئی کے لیے اور اس کے عذاب سے ڈر کی وجہ سے اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے…
Read the full tafseer →يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّہٗ مُسْـتَطِيْرًا 7
وفی پورا
الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35]
( وی) الوافی
۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔
نذر ( منت)
النّذر : أن تُوجِب علی نفسک ما ليس بواجب لحدوثِ أمر، يقال : نَذَرْتُ لله أمراً ، قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…
Read the full tafseer →یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا۔ (الدہر : 7)
(وہ لوگ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہوگی۔ )
ابرار کی پاکیزہ فطرت اور ان کی صفات
کسی نیک کام کرنے کا عہد کرلینا اور اسے اپنے اوپر لازم کرلینا اسے نذر کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے جنھیں ابرار کے نام سے یاد کیا گیا ہے جن کی فطرت اور سرشت میں ایفائے عہد کی روح کارفرما ہے۔ وہ جب کسی نیک کام کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے اوپر لازم کرلیتے ہیں تو پھر اسے پورا کرنا ازبس ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی اس خوبی کو اس سیاق وسباق میں اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔
جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے…
Read the full tafseer →ایفائے نذر ‘ خوفِ قیامت اور صدقہ :
7 : یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں) جو انہوں نے اپنے اوپرلازم کیا۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو یہ کہے ان کو کیا ہوا کہ وہ یہ رزق دیئے جارہے ہیں ؟ تو جواب دیا کہ وہ اپنے اوپر لازم کردہ باتوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ وفا بالنذر سے ان کی صفت بیان کر کے یہ کہا گیا کہ وہ کثرت سے ادائے واجبات کرتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے نفس پر اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز لازم کر کے اتنی وفاداری کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ نے جو اس پر واجب کی ہیں ان پر تو بدرجہ اولیٰ وہ کاربند ہوگا۔ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا (اور وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس…
Read the full tafseer →6 ۔” عینا “ اس پر نصب کافور کے تابع ہونے کی وجہ سے ہے اور کہا گیا ہے مدح کی بناء پر نصب ہے اور کہا گیا ہے اصل عبارت ” اعنی عینا “ ہے یعنی میں چشمہ مراد لیتا ہوں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں زیادہ عمدہ یہ ہے کہ معنی ہوں من عین۔ ” یشرب بھا “ کہا گیا ہے ” یشربھا “ اور یاء صلہ ہے اور کہا گیا ہے بھا یعنی منھا۔ ” عباد اللہ “
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ کے اولیاء ” یفجرونھا تفجیرا “ یعنی اس کو کھینچیں گے جہاں چاہیں گے اپنے گھروں اور محلات کی طرف۔ جیسا کہ کسی کی نہر ہو، یہاں دنیا میں تو وہ اس کو کھو دکر جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ ) یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر اللہ کے لیے لازم کرلیتے تھے انہیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے جو اصل میں ان پر واجب نہیں الا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کرلیں۔ تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولی قائم کرتے اور ان کو بجالاتے ہوں گے۔ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْـتَطِيْرًا) یعنی اس دن کا خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے پس انہیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انہیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انہوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب…
Read the full tafseer →11 اہل جنت کا دوسرا بڑا وصف و عمل، خوف آخرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ڈرتے رہے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ آسمان و زمین ہر حصے پر پھیلی اور چھائی ہوگی، قالہ قتادہ ؓ (طبری وغیرہ) والعیاذ باللہ الذی لا الٰہ غیرہ سو اس سے ان بندگان خدا کے اندیشہ آخرت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ اس دن کے عذاب ‘ اس کی گرفت و پکڑ، اور اس کی سختی و شدت سے ڈرتے رہتے ہیں، کہ اس کی ہولناکی اور شدت بڑی ہی سخت ہوگی اس دن چھوٹے بڑے، امیر و غریب، حاکم و محکوم، اور عابد و معبود سب ہی کو اس کے ہول سے واسطہ پڑے گا، اور اس سے صرف وہی لوگ محظوظ رہ سکیں گے جن کو اللہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–22
اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں
تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →ف 7 نذر سے مراد وہ نیکی ہے جسے بندہ اپنے اوپر ازخود لازم کرلے۔ ظاہر ہے کہ جب اللہ کے یہ نیک بندے دنیا میں اپنے اوپر خود لازم کی ہوئی نیکیوں کو پورا کرتے تھے تو اللہ و رسول ﷺ کی لازم کی ہوئی نیکیوں کو بدرجہ اولیٰ پوری کرتے ہوں گے۔8 یعنی قیامت کے دن سے جس کی سختی بلائے عام ہوگی اور جس میں ہر شخص پریشان ہوگا۔ الا من شآء اللہ :
Read the full tafseer →(76:7) یوفون بالنذر جملہ مستانفہ ہے جس میں ابرار کا حال بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں ان اعمال حسنہ اور اخلاق حمیدہ کا بیان ہے جن کی وجہ سے ان کو جنت کی مذکورہ بالا نعمتیں عطا ہوں گی۔ یوفون مضارع جمع مذکر غائب ایفاء (افعال) مصدر۔ وہ پوری کرتے ہیں۔ وی مادہ۔ الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ النذر بطور اسم، بمعنی منت بطور مصدر بمعنی منت ماننا۔ نذر کا لغوی معنی ہے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینا۔ النذر کی تشریح کرتے ہوئے فقہاء کرام لکھتے ہیں۔
النذر ھو ایجاب المکلف علی نفسہ من الطاعات مالم یوجبہ لم یلزمہ۔ یعنی کسی مکلف (عاقل بالغ مومن کا) اپنے اوپر کسی ایسی چیز کا (نیکی اور عبادت کا) واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(ف 1) ابرار کے ثواب بیان فرمانے کے بعد ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جاتا ہے جن عملوں کے سبب سے ان کو یہ درجہ ملا ہے وہ تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی فرض کی ہوئی عبادت کو پوری طور پر ادا کرتے ہی ہیں لیکن جو طاعت غیرواجب اپنے اوپرنذر سے واجب کرلیتے ہیں اس کو بھی ادا کرتے ہیں غرض اپنی مانی ہوئی نذر کو اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی نیکی کو بھی باوجود تنگدست ہونے ، خالص عقبی کے ثواب کی نیت سے پورا کرتے ہیں منت یہ ہے کہ جو چیز آدمی پر واجب نہیں ہے وہ کسی شرط سے اپنے اوپر واجب کرلے مثلا یہ کہے کہ اگر میرا مریض اچھا ہو یا میرا مسافر بخیر واپس آئے تو میں راہ خدا میں اس قدر صدقہ دوں گا یا اتنی رکعتیں…
Read the full tafseer →[6] نذر کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 182 صفحہ 113۔ یہاں ان نیک بندوں کے اوصاف میں ایفائے نذر کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی نذروں کے پورے کرنے کا اہتمام رکھتے ہیں ان سے ان نیکیوں کی بدرجہ اولیٰ اہتمام کی توقع ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
کوائف جنت
2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی…
Read the full tafseer →(7) یہ وہ لوگ ہیں جو مانی ہوئی منت کو پورا کرتے ہیں اور وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی یعنی عام ہوگی۔ یعنی وہ منت جو انسان خود اپنے اوپر واجب کرتا ہے جب اس کو پورا کرتے ہیں تو وہ واجبات جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ان کو تو بہت زیادہ پورا کرتے ہوں گے۔
غرض یہ کہ تمام فرائض وواجبات کو بجا لاتے ہیں یہاں تک کہ جو سنت خود اپنے ذمہ پر واجب کرتے ہیں اس تک کو بھی پوری توجہ اور خوشی سے پورا کرتے ہیں مثلاً اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دیدی یا میرے غائی شدہ چیز مجھ کو مل گئی تو اللہ تعالیٰ کے لئے میرے ذمے فلاں بات ہوگی یعنی مساکین کو کھانا کھلائوں گا یا مساکین کو کپڑے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی سب پر کم و بیش اس کی سختی کا اثر ہوگا ماد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(ایک چشمہ ہے پیتے رہیں گے اس میں اللہ تعالیٰ ) (کے بندے بہا کرلے جائیں گے اپنے یہاں) یعنی جہاں چاہیں گے اسے بآسانی بہا لے جائیں گے۔ جہاں چلنے کو کہیں گے وہ چشمہ ان کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ ان ابرار کی شان یہ ہے کہ (وہ پوری کریں منت کو) ۔
یہ آیت کریمہ خاص طور پر حضرت علی کی شان میں نازل فرمائی گئی۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ تفسیروں میں ہے کہ حضرت رسالت مآب حضرت علی کے گھر تشریف لائے ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو بیمار دیکھا ، تو حضرت علی اور حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ کچھ نذر کرو تاکہ تمہارے فرزند صحت پائیں۔ انہوں نے نذر کی کہ تین روز روزہ رکھیں گے۔ حق تعالیٰ نے حسنین کو شفا بخشی اور حضرت علی اور حضرت…
Read the full tafseer →يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (They [ are the ones who ] fulfill the vows...76:7). This describes the reason why the righteous believers and Allah's slaves will receive these favours and bounties. This verse signifies that whenever they vow to do a good act, they invariably fulfill the vow. The word 'vow' literally means 'to take upon oneself an obligation which Shari` ah has not obligated on him'. Once a vow is taken, it becomes obligatory to fulfill it. Here it is stated that great rewards and favours for the inmates of Paradise would be apportioned to them because they fulfilled the vow. The…
Read the full tafseer →10 One meaning of fulfilling the vow is that one should fulfil, second, that one should fulfil what one has pledged oneself to do, third, that one should fulfil what one has been enjoined; what is obligatory for one to do, whether one has been enjoined it, or is self-imposed. Of these three the second meaning is the best known and generally the same is implied by fulfilling the vow. In any case, these righteous people have been regarded as praiseworthy either because they carry out the duties enjoined by Allah, or because if they vow to Allah to perform certain good deeds which Allah has not…
Read the full tafseer →