Explained with ayahs 4–12
زنجیریں طوق اور شعلے
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…
Read the full tafseer →سورة الدَّهْر 11
اصل الفاظ ہیں علی حبہ۔ اکثر مفسرین نے حبہ کی ضمیر کا مرجع کھانے کو قرار دیا ہے، اور وہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ کھانے کے محبوب اور دل پسند ہونے اور خود اس کے حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو کھلا دیتے ہیں۔ ابن عباس اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے علی حب الاطعام، یعنی غریبوں کو کھانا کھلانے کے شوق میں وہ ایسا کرتے ہیں۔ اور حضرت فضیل بن عیاض اور ابو سلیمان الدارانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہمارے نزدیک بعد کا یہ فقرہ کہ انما نطعمکم لوجہ اللہ (ہم تو اللہ کی خوشنودی کی خاطر تمہیں کھلا رہے ہیں) اسی معنی کی تائید کرتا ہے۔
سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…
Read the full tafseer →غریبوں کی خدمت:
یہ خلق کے ساتھ ان کے رویہ کا بیان ہے کہ وہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کی ضرورتیں، خود اپنی ضرورتیں نظرانداز کر کے پوری کرتے ہیں۔ لفظ ’اِطْعَامٌ‘ محدود معنی میں نہیں ہے۔ زندگی کی دوسری ناگزیر ضروریات کا اہتمام بھی اس میں شامل ہے۔ قرآن میں یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
’عَلٰی حُبِّہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع: ’عَلٰی حُبِّہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع عام طور پر لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ وہ مسکینوں اور یتیموں کو اللہ کی محبت میں کھلاتے پہناتے ہیں۔ اگرچہ قاعدہ زبان کی رو سے اس میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن شواہد قرآن کے پہلو سے میں ان لوگوں کے قول کو ترجیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یا طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چناچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔
Read the full tafseer →ویطعمون .................... واسیرا (8:76) ” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدکو کھانا کھلاتے ہیں “۔ یہ ان کی نیکی ، مہربانی اور بھلائی کا شعور ہے لیکن اس کا اظہار مساکین وغیرہ کو کھانا کھلانے کی شکل میں کیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ ان کو اس کھانے کی خود اشد ضرورت ہے ، کیونکہ ایسے لوگوں کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ اس کھانے سے محبت کرتے ہیں ، الایہ کہ وہ خود اس کی طرف محتاج ہوں ، لیکن اس احتیاج کے باوجود وہ ایثار کرتے ہیں اور یہ کھانا دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔
اس صفت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے اندر موجود مشرک معاشرے میں معاشی صورت حال کیا تھی ، یہاں غرباء اور محتاجوں پر اتفاق…
Read the full tafseer →10 یعنی اللہ کی محبت کے جوش میں اپنا کھانا باوجود خواہش اور احتیاج کے نہایت شوق اور خلوص سے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ (تنبیہ) قیدی عام ہے مسلم ہو یا کافر۔ حدیث میں ہے کہ " بدر " کے قیدیوں کے متعلق حضور ﷺ نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی رہے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چناچہ صحابہ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے۔ مسلمان بھائی کا حق تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر لفظ " اسیر " میں ذرا توسع کرلیا جائے تب تو یہ آیت غلام اور مدیون کو بھی شامل ہوسکتی ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے قید میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8{ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ } ”اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں مسکین کو ‘ یتیم کو اور قیدی کو۔“
عَلٰی حُبِّہکا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ مال کی محبت کے علی الرغم کھانا کھلاتے ہیں۔ یعنی ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کی محبت میں بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اگرچہ ان کے دلوں میں بھی مال سے محبت کا جذبہ ہے اور ان کا جی بھی چاہتا ہے کہ وہ اپنے مال کو سنبھال سنبھال کر رکھیں ‘ لیکن اپنے ان جذبات کے باوجود وہ محض اللہ کی رضا کے لیے مستحقین کو کھانا کھلانے میں اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ حب ِمال کا…
Read the full tafseer →10 علی حبہ میں ہ کی ضمیر کا مرجع طعام بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت بھی یعنی وہ ایسے کام اللہ کی محبت کے جوش میں کرتے ہیں۔
11 جنگی قیدیوں سے بہتر سلوک اگرچہ وہ کافر ہوتے ہیں :۔ اسیر کا لفظ جنگی قیدی کے لیے مخصوص ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگ کافر ہی ہوسکتے ہیں۔ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ ان کے کافر ہونے کے باوجود انہیں کھانا کھلانا اور ان سے حسن سلوک بڑی نیکی کا کام ہے۔ بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس شخص کے پاس کوئی قیدی رہے وہ اس سے اچھا سلوک کرے۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے اور مسلمان بھائیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5۔ غرض یہ کہ مالی عبادتوں میں بھی اخلاص کامل ملحوظ رکھتے ہیں۔ ) (آیت) ” یوفون بالنذر “۔ نذر ہر وہ عبادت ہے جو اپنے اوپر واجب کرلی جائے خواہ بالکل اپنی طرف سے خواہ اس لئے کہ اس کا حکم ہی ہو۔ المراد بالنذر ھھنا کل مایوجب علی سواء وجب بایجاب اللہ و جمیع الطاعات (کبیر) (آیت) ” یوفون ..... مستطیرا “۔ یعنی عبادتوں کی ادائی میں پورا اخلاص برتتے ہیں، اور اپنی ذمہ داری اور پرسش آخرت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں۔ مستطیرا “۔ وہ چیز ہے جو خوب پھیلے ہوئے اور خوب گھیرے ہوئے ہو۔ (آیت) ” علی حبہ “۔ ضمیر ہ بھی اللہ کی جانب ہے یعنی حق تعالیٰ کی محبت میں حق تعالیٰ کی رضاجوئی کیلئے۔ اطعاما کائنا علی حبہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔
Read the full tafseer →و یطعمون الطعام . اس میں اشارہ ہے اس امر کی جانب کہ مؤمن اللہ کے بندوں پر مہربانی کرتے
ہیں ‘ رضائے مولیٰ کے حصول کے لیے خلوص کے ساتھ نفل (غیر لازم) نیکیاں کرتے ہیں۔
علی حبہ . اللہ کی محبت میں یا کھانے کی محبت اور حاجت کے باوجود۔
مسکینا و یتیما واسیرا . ابن منذر نے ابن جریج کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہل اسلام کو قید نہیں
کرتے تھے (اس لیے آیت میں مسلمان قیدی مراد نہیں) بلکہ اس آیت کا نزول ان مشرکوں کے سلسلہ میں ہوا تھا جن کو مسلمان قید کرلیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان مشرک قیدیوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے تھے۔ قتادہ کا بھی یہی قول ہے لیکن مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اسیرًا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(7۔ 8) آگے ان نیک لوگوں کی صفات مذکور ہیں جن پر وہ دنیاوی زندگی میں کار بند تھے کہ وہ لوگ عہد اور قسموں کو یا یہ کہ فرائض کو پورا کرتے اور ایسے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور وہ لوگ کھانے کی کمی اور اس کی خواہش کے باوجود غریب مسلمانوں اور یتیم اور مسلمان قیدیوں کو خواہ کافروں کے قبضہ میں ہوں یا جیل میں کھانا کھلاتے ہیں۔
شان نزول : وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (الخ)
ابن منذر نے ابن جریر سے وَّاَسِيْرًا کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ رسول اکرم مسلمانوں میں سے کسی کو قید نہیں کیا کرتے تھے لیکن یہ آیت کافروں کے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کافر عذاب میں ان کو قید کرلیا کرتے تھے تو…
Read the full tafseer →(1) ویطعمون الطعام علی حبہ…: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں، ایک یہ کہ خود کھانے کی خواہش و ضرورت کے باوجود وہ دوسرے مستحقین کو کھلا یدتے ہیں، دوسرا یہ کہ اللہ کی محبت کی وجہ سے ان لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہاں پہلا معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ دوسرا معنی تو اگلی آیت :(انما نطعمکم لوجہ اللہ) (ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھلاتے ہیں) میں آہی رہا ہے، لہٰذا تکرار سے بہتر ہے کہ الگ الگ مفہوم مراد لیا جائے۔ مزید دیکھیے سورة حشر کی آیت (9):(ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ) کی تفسیر۔
(2) مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانا ان اہم ترین مواقع میں سے ہے جہاں صدقہ کرنے کا حق…
Read the full tafseer →ویطمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیماواسیرا۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، وہ کھانا تھوڑا ہونے، اس کی محبت ہونے اور اس کی چاہت ہونے کے باوجود دوسروں کو کھلاتے ہیں دارانی نے کہا، حبہ کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ فضیل بن عیاض نے کہا، کھانا کھلانے کی محبت رکھتے ہوئے کھانا کھلاتے ہیں ربیع بن خثیم کے پاس جب کوئی سائل آتا تو آپ فرماتے : اے شکر کھلاؤ کیونکہ ربیع شکر پسند کرتے تھے۔ مسکین سے مراد مسکنہ ولا ہے۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے دروازوں پر گردش کرنے والا وہ تجھ سے تیرے مال کا سوال کرتا ہے۔ یتیم سے مراد مسلمانوں کا یتیم ہے۔ منصور نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویطعمون الطعام علی حبہ اور وہ اس کی محبت پر کھانا کھلانے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اس کی خواہش رکھتے ہیں آیت واسیرا اس سے قیدی مراد ہیں آیت انما نطعمکم لوجہ اللہ۔ ہم جو تمہیں کھلاتے ہیں وہ خاص اللہ کے لیے ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ بات ان پر صحابہ ؓ نے نہیں کہی جب انہوں نے ان مشرکین کو کھلایا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ان کے دلوں کی کیفیت اور اس پر ان کی تعریف فرمائی تاکہ اس میں رغبت کرنے والا مزید رغبت کرے۔
2۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن مردویہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس وقت…
Read the full tafseer →[وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ : اور وہ لوگ کھلاتے ہیں کھانا ] [عَلٰي حُبِهٖ : اس (کھانے) کی محبت کے باوجود ] [مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا : مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو ]
Read the full tafseer →﴿وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا 008﴾
یہ نیک بندوں کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی محبت کی وجہ سے اس کی مخلوق پر مال خرچ کرتے ہیں مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اس میں جو لفظ اسیر آیا ہے یعنی قیدی اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مسلمان قیدی مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ہر قیدی کو عام ہے کافر مشرک قید میں ہو اس کو بھی کھانا کھلانا ثواب ہے خصوصاً جب کسی کو ظلماً قید کرلیا گیا ہو، پھر جب کسی کو قتل کرنا نہیں ہے اور جیل میں رکھنا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے کھانا دینا ہی ہوگا کیونکہ وہ مجبور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →7:۔ ” ویطعمون “ حبہ کی ضمری مجرور الطعام کی طرف راجع ہے یعنی وہ طعام کی محبت اور اس کی طلب و اشتہاء کے باوجود خود نہیں کھاتے بلکہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ یا ضمیر مجرور ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں۔ قال ابن عباس و مجاھد علی قلتہ وحبھم ایاہ وشہوتہم لہ وقال۔۔۔۔ علی حبہ اللہ (قرطبی ج 19 ص 126) ۔
Read the full tafseer →وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا 8
طعم
الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا
[ الأحزاب/ 53] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…
Read the full tafseer →وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَـتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ (الدہر : 8)
(اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ )
ابرار کی ایک اور صفت
ابرار کی ایک اور صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ عَلٰی حُبِّہٖسے اس کی علت بیان کی گئی ہے۔ مفسرین میں اس کی ضمیر کے مرجع سے متعلق اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین ضمیر کا مرجع طعام کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک آیت کا مفہوم یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ خود طعام کے محتاج ہوتے ہیں اور ان کے گھر میں کھانے کا سامان اتنا ہی ہوتا ہے جس سے وہ اپنے بچوں کا اور اپنا پیٹ بھر سکیں، لیکن جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔
جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے…
Read the full tafseer →8 : وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ (اور وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے کھانا کھلاتے ہیں) حبہؔ کی ضمیر طعام کی طرف راجع ہے۔ ای حب الطعام یعنی کھانے کی چاہت اور حاجت کے باوجود۔ نمبر 2۔ یا اللہ تعالیٰ کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر کھلاتے ہیں۔ مِسْکِیْنًا (مسکین کو) وہ فقیر جو کمائی سے عاجز ہو۔ وَّ یَتِیْمًا (اور یتیم کو) جس کا باپ نہ ہو۔ اس نابالغ کو یتیم کہتے ہیں۔ وَّاَسِیْرًا (قیدی کو) غلام یا دیگر۔
Read the full tafseer →یوفون بالنذر کی مختلف تفاسیر
7 ۔” یوفون بالنذر “ یہ ان کی دنیا کی صفات ہیں۔ یعنی وہ دنیا میں اس طرح تھے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ پورا دا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج وعمرہ اور اس کے علاوہ واجبات کو فرض کیا ہے اور النذر کا معنی واجب کرنا اور مجاہدہ اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتی ہیں جب وہ اللہ کی طاعت کی منت مانتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے منت مانی کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو چاہیے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے منت مانی کہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اس کی نافرمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ ) یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں۔ (اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا) ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →12 اہل جنت کا تیسرا بڑا وصف و عمل، اطعام طعام : سو اہل جنت کو جنت کا مستحق بنانے والے اعمال و اوصاف کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ان کا تیسرا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر۔ " حبہ " کی ضمیر کے مرجع میں تین احتمال ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر ایک علیحدہ، مستقل اور صحیح مطلب بنتا ہے، ایک یہ کہ اس کا مرجع الطعام ہو جو کہ اس کا اقرب مذکور ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ یہ لوگ اس کھانے کے محبوب اور مرغوب ہونے کے باوجود اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اور اسی کو صحیح حدیث میں افضل صدقہ قرار دیا گیا ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل اور بہتر صدقہ وہ ہے جو تم اپنی صحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–22
اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں
تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ان کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے۔ چناچہ اگر کھانا کم ہوتا تو خود بھوکے رہ کر انہیں کھانا پیش کردیتے تھے۔ قیدی سے مراد ہر قیدی ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بت کے روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا برتائو کریں۔ اس حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام ؓ قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے ظاہر ہے کہ مسلمان قیدی کا حق تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ بعض مفسرین نے ” قیدی “ کے لفظ میں غلام اور عورت کو بھی شامل سمجھا ہے کیونکہ وہ بھی ایک طرح سے قیدی ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنی وفات سے پیشتر جو آخری وصیت فرمائی وہ یہ…
Read the full tafseer →(76:8) ویطعمون الطعام علی حبہ اس کا عطف جملہ سابقہ ہے۔ یطعمون مضارع جمع مذکر غائب : اطعام (افعال) مصدر۔ وہ کھانا کھلاتے ہیں۔ علی حبہ اس کی محبت پر۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے ۔ اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں۔
مسکنا ویتیما واسیرا۔ مسکینوں کو، یتیموں کو۔ اسیروں کو، (ہر سہ منصوب بوجہ مفعول ہونے فعل یطعمون کے) اسیر بمعنی قیدی۔ یہ ابرار کی تیسری صفت ہے۔ خوبی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(ف 1) ابرار کے ثواب بیان فرمانے کے بعد ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جاتا ہے جن عملوں کے سبب سے ان کو یہ درجہ ملا ہے وہ تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی فرض کی ہوئی عبادت کو پوری طور پر ادا کرتے ہی ہیں لیکن جو طاعت غیرواجب اپنے اوپرنذر سے واجب کرلیتے ہیں اس کو بھی ادا کرتے ہیں غرض اپنی مانی ہوئی نذر کو اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی نیکی کو بھی باوجود تنگدست ہونے ، خالص عقبی کے ثواب کی نیت سے پورا کرتے ہیں منت یہ ہے کہ جو چیز آدمی پر واجب نہیں ہے وہ کسی شرط سے اپنے اوپر واجب کرلے مثلا یہ کہے کہ اگر میرا مریض اچھا ہو یا میرا مسافر بخیر واپس آئے تو میں راہ خدا میں اس قدر صدقہ دوں گا یا اتنی رکعتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[7] یعنی اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
کوائف جنت
2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی…
Read the full tafseer →(8) اور وہ لوگ باوجود کھانے کی رغبت و احتیاج کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلا دیتے ہیں۔ علی حبہ کھانے کی محبت اور رغبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں ، قیدی خواہ مسلمان ہو یا مشرک سب کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم ہے اور سب کو کھانا کھلانا مستحسن ہے۔ جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا تھا اور مسلمان ان کو جب تک وہ قید میں رہے ہر طرح کا آرام پہنچاتے رہے جو کافر جس مسلمان کے گھر میں قید تھا وہ اس کے کھانے کا خیال رکھتا تھا۔
علی حبہ کے معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی کے لئے یہ لوگ مسکین ویتیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 4۔ قیدی اگر مظلوم ہے تب تو اس کی رعایت کا مستحسن ہونا ظاہر ہے، اور اگر ظالم ہے تو شدت حاجت کے وقت اس کا اطعام بھی مستحسن ہے۔
Read the full tafseer →(اور کھانا کھلائیں اس کی محبت پر) یعنی خدا کی محبت پر۔۔ یا۔۔۔ کھانے کی محبت پر ، یعنی باوصف اس کے کہ وہ اس کھانے کے محتاج ہیں اور اسے دوست رکھتے ہیں ، مگر ایثار کرتے ہیں۔ اوروں کو کھلا دیتے ہیں خود نہیں کھاتے ، اور فانی کھانے باقی کھانے کے واسطے دیتے ہیں۔ (مسکین) یعنی فقیر محتاج کو (اور یتیم) کو ، یعنی اس بچے کو جو بےباپ کا ہوگیا (اور قیدی کو) جسے کفار مکہ میں سے گرفتار کیا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ جب کسی قیدی کو آنحضرت کے حضور میں لاتے تو آپ اسے کسی مسلمان کے سپرد کرتے یہاں تک کہ آپ کی رائے اس کے باب میں کسی امر پر قرار پائے۔ اور اس مسلمان سے حکم فرماتے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنا۔ بعضے علماء اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives.
عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…
Read the full tafseer →11 Most of the commentators hold the view that the pronoun in hubbi-hi refers to food. Accordingly, they interpret the sentence to mean: "In spite of the food's being agreeable and tasty and that they need it, they give it away to others." Ibn `Abbas and Mujahid say: "they do so because of their fondness for feeding the poor (`ala hubb-il-it am) ; and Fudail bin `Iyad and Abu Suleman ad-Darani say: "They do so out of love for Allah." In our opinion the following sentence ("We are feeding you only for the sake of Allah") supports the last meaning.
12 The custom in the ancient days was that the…
Read the full tafseer →