Al-Insaan 76:9

Al-Insaan · from ayah 9

76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّلَا شُكُوْرًا ۟اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا‏

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکرگزاری کے (طلبگار)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Saying], "We feed you only for the countenance of Allah. We wish not from you reward or gratitude.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:9

(اور اُن سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکرگزاری کے (طلبگار)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتےہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کے لئے تمہیں کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلہ کے خواست گار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہش مند) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کے چہرے کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور انہیں کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کی خاطر کھلاتے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(اس جذبہ کے ساتھ کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں ‘ نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں نہ شکریہ کے ‘

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور وہ دل میں یا زبان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں محض اللہ کے لئے کھلا رہے ہیں تم سے نہ کوئی بدلہ لینا چاہتے ہیں نہ کوئی شکریہ

— مولانا اسحاق مدنی

ہم تو تم کو بس اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے کھانا کھلاتے ہیں اور نہ تم سے (اس کا) عوض چاہیں اور نہ شکریہ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تو آپ کو یہ کھانا کھلا رہے ہیں صرف اللہ (کی رضا) کے لیے ہم آپ سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی شکریہ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو محض اللہ کے واسطے کھلاتے ہیں نہ تم سے معاوضہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری کے خواہش مند ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(saying): “We feed you only for Allah's sake; we do not seek of you any recompense or thanks,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(saying to them,) :We feed you only for the sake of Allah; we have no intention of (receiving) either a return from you or thanks.

— Muhammad Taqi Usmani

(saying to them,) :We feed you only for the sake of Allah; we have no intention of (receiving) either a return from you or thanks.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Saying): "We feed you seeking Allah's Face only. We wish for no reward, nor thanks from you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Saying): We feed you, for the sake of Allah only. We wish for no reward nor thanks from you;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Saying], "We feed you only for the countenance of Allah. We wish not from you reward or gratitude.

— Saheeh International

"We only feed you for the sake of God and we do not want any reward or thanks from you.

— Muhammad Sarwar

We only feed you for Allah's sake; we desire from you neither reward nor thanks:

— Muhammad Habib Shakir

Saying: we feed you only for the sake of Allah; we desire not from you any recompense or thanks.

— Abdul Majid Daryabadi

(Saying),"We feed you for the sake of Allah alone: no reward do we desire from you, nor thanks.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–12

زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الدَّهْر 14 ضروری نہیں ہے کہ غریب کو کھانا کھلاتے ہوئے زبان ہی سے یہ بات کہی جائے۔ دل میں بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کی بھی وہی حیثیت ہے جو زبان سے کہنے کی ہے۔ لیکن زبان سے یہ بات کہنے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو یہ اطمینان دلا دیا جائے کہ ہم اس سے کسی قسم کا شکریہ یا بدلہ نہیں چاہتے، تاکہ وہ بےفکر ہو کر کھائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انفاق صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے: یہ ان کے اس انفاق کے باطنی محرک کا بیان ہے کہ وہ جس کی مدد کرتے ہیں نہ اس سے اپنے اس انفاق کا کوئی معاوضہ چاہتے نہ اس بات کے خواہش مند ہوتے کہ وہ ان کا ممنون احسان اور شکرگزار ہو بلکہ وہ صرف اپنے رب کی رضا جوئی اور آخرت کے خوف سے ایسا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–9

یا طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چناچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–13

2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

انما نطعمکم .................................... قمطریرا (9:76 تا 10) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔ یہ گویا بلند پایہ قلوب کے اندر رحمت اور محبت کی موجیں ہیں۔ اور یہ محض اللہ کی رضامندی کے حصول کے لئے ہیں۔ ان مہربانیوں سے وہ کوئی جزاء اور کوئی معاوضہ بلکہ شکریہ تک نہیں چاہتے۔ نہ کبرو غرور کا اظہار کرتے ہیں اور نہ غرباء پر اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بس وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس فعل کی وجہ سے سخت مصیبت کے دن کی تکالیف سے بچ جائیں ، کیونکہ صدقہ کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یہ کھلانے والے زبان حال سے کہتے ہیں اور کہیں مصلحت ہو تو زبان قال سے بھی کہہ سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8{ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ } ”اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں مسکین کو ‘ یتیم کو اور قیدی کو۔“ عَلٰی حُبِّہکا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ مال کی محبت کے علی الرغم کھانا کھلاتے ہیں۔ یعنی ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کی محبت میں بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اگرچہ ان کے دلوں میں بھی مال سے محبت کا جذبہ ہے اور ان کا جی بھی چاہتا ہے کہ وہ اپنے مال کو سنبھال سنبھال کر رکھیں ‘ لیکن اپنے ان جذبات کے باوجود وہ محض اللہ کی رضا کے لیے مستحقین کو کھانا کھلانے میں اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ حب ِمال کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 محسن اور ممنون کے لئے الگ الگ احکام :۔ اسلام کی انتہائی اعلیٰ وارفع تعلیمات میں سے ایک یہ حکم ہے یعنی احسان کرنے والوں کو اسلام نے یہ تعلیم دی کہ وہ اس سے جس پر احسان کیا گیا ہے کسی طرح کے معاوضہ، بدلہ حتیٰ کہ شکریہ تک کی بھی توقع نہ رکھیں۔ اور جس پر احسان کیا جائے اس کو یہ تعلیم دی کہ وہ احسان کرنے والے کا ضرور شکریہ ادا کریں۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : مَنْ لاَ یَشْکُرُ النَّاسَ لاَ یَشْکُرُ اللّٰہَ (یعنی جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا کرنا نہیں جانتا وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا ؟ ) حالانکہ حق اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ احسان کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے۔ اب احسان کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

6۔ (اور ہم یہ اعمال اس لئے بجالاتے ہیں کہ اس دن کی سختیوں سے محفوظ رہیں) یہ آیتیں مسلسل اسی تاکید اخلاص کیلئے چلی آتی ہیں۔ اس قسم کی آیتیں ان تمامی غیر محقق صوفیہ کی تردید کے لئے کافی ہیں۔ جنہوں نے خوف آخرت سے کسی عمل کے کرنے کو خلاف اخلاص سمجھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما نطعمکم . یطعمون کی ضمیر کی حالت کا اظہار ہے۔ یعنی وہ اس قول کو کہنے کی حالت میں کھانا کھلاتے ہیں۔ یہ قول تو واقعی وہ زبان سے کہتے تھے یا زبان حال گویا تھی۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا : ان لوگوں نے اپنی زبانوں سے یہ الفاظ نہیں کہے تھے مگر انکے دل کی حالت سے اللہ واقف تھا (اور دل سے ضرور انہوں نے یہ بات کہی تھی) اس قلبی قول ہی کی اللہ نے تعریف فرمائی ہے۔ لوجہ اللہ . لفظ وجہ زائد ہے ‘ مراد ہے اللہ واسطے۔ اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں۔ لا نرید منکم جزاء . جسمانی اور مالی بدلہ۔ ولا شکورا . شکور ‘ دخول ‘ جروح ‘ قبول۔ سب مصدر ہیں ‘ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ خیرات کا کچھ مال کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور یوں کہتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں اگرچہ ان حضرات نے زبان سے یہ الفاظ نہیں کہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سچائی کی بنا پر اس چیز کا ذکر کردیا نہ ہم تم سے اس کا فعلی بدلہ چاہیں اور نہ زبانی شکریہ۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت دن کے عذاب کا اور اس کے تلخ ہونے کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(انما نطعمکم لوجہ اللہ …:”شکوراً“ مصدر ہے، بروزن ”’ خول“ اور ”خروج“ یعنی وہ کھانا کھلاتے ہوئے یہ بات دل میں کہتے ہیں یا زبان سے انہیں اطمینان دلانے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلا رہے ہیں تم سے نہ یہ خواہش ہے کہ تم اس کا بدلا دو اور ہمارے کسی کام آؤ، نہ یہ کہ ہمارا شکریہ ادا کرو اور لوگوں کے سامنے ہماری سخاوت کا ذکر کرو، تاکہ وہ اپنے آپ پر احسان کا بوجھ محسوس نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزاء ولاشکورا۔ وہ مسکین، یتیم اور اسیر کو اپنی زبانوں سے یہ کہتے ہیں ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی بدلہ کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم اس بارے میں ہماری تعریف کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا دنیا میں جب وہ کھاناکھلاتے تھے تو ان کی یہی نیتیں ہوا کرتی تھیں سالم نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے انہوں نے و اپنی زبانوں سے یہ بات نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں علم تھا اس لیے ان کی ان الفاظ سے تعریف کی تاکہ رغبت کرنے والا اس بارے میں ان سے رغبت کرے۔ سعید بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویطعمون الطعام علی حبہ اور وہ اس کی محبت پر کھانا کھلانے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اس کی خواہش رکھتے ہیں آیت واسیرا اس سے قیدی مراد ہیں آیت انما نطعمکم لوجہ اللہ۔ ہم جو تمہیں کھلاتے ہیں وہ خاص اللہ کے لیے ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ بات ان پر صحابہ ؓ نے نہیں کہی جب انہوں نے ان مشرکین کو کھلایا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ان کے دلوں کی کیفیت اور اس پر ان کی تعریف فرمائی تاکہ اس میں رغبت کرنے والا مزید رغبت کرے۔ 2۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن مردویہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس وقت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انمَا نُـطْعِمُكُمْ : (کہتے ہیں) ہم تو بس کھلاتے ہیں تم کو ] [لِوَجْهِ اللّٰهِ : اللہ کی توجہ (حاصل کرنے) کے لیے ] [لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ : ہم نہیں چاہتے تم سے ] [جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا : کوئی بدلہ اور نہ کوئی احسان ماننا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا ﴿ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا 009﴾ یہ حضرات جو ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں کوئی احسان نہیں دھرتے اور انہیں بتا دیتے ہیں کہ آپ لوگ بےتکلف کھائیں ہماری طرف سے نہ کسی عوض کا مطالبہ ہے اور نہ کسی شکریہ کا ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی امید ہے ہم صرف اسی کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مخلوق میں سے جب کسی پر خرچ کیا جائے تو صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہونی چاہیے نہ نام آوری مقصود ہو نہ کسی عوض کی طلب ہو۔ حد یہ ہے کہ دل میں یہ بھی نہ ہو کہ جس پر خرچ کیا ہے وہ مرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

8:۔ ” انما نطعمکم “ جب وہ مساکین وغیرہم کو کھانا کھلاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہیں محض لوجہ اللہ اور اس کی رضا جوئی کیلئے کھانا کھلا رہے ہیں اور تم سے اس کا معاوضہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنے والوں کی نیت ایسی ہی ہوتی ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے اس کی جزاء کے طالب نہیں ہوتے۔ ” انا نخاف من ربنا عبوسا “ یوما کی صفت ہے یعنی وہ دن جس میں کافروں کے چہرے شدت ہول سے بگڑ جائیں گے۔ قمطریرا سخت اور شدید یہ بھی یوما کی صفت ہے وہ کہتے ہیں ہم تو اللہ کی طرف سے اس کٹھن اور شدید دن سے ڈرتے ہیں جس کے عذاب کی شدت اور ناگواری سے کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا۝ 9 طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا [ الأحزاب/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–14

ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَ نُرِیْدُمِنْـکُمْ جَزَآئً وَّلاَ شُکُوْرًا۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ (الدہر : 9، 10) (بلاشبہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں اور نہ شکریہ کے۔ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جو نہایت عبوس اور سخت ترشرو ہوگا۔ ) ابرار ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب آیت کے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب کسی کو کھانا کھلاتے ہیں یعنی کسی ضرورت میں اس کی مدد کرتے ہیں تو اسے کہہ دیتے ہیں کہ ہم محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایسا کررہے ہیں، تم سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔ جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انتہاء کا خلوص : 9 : پھر انہوں نے اپنے کھانا کھلانے کی وجہ ذکر کی۔ کہا اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ (ہم تم کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خاطر کھانا کھلاتے ہیں۔ ) یعنی ثواب حاصل کرنے کیلئے نمبر 2۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کی بات ظاہر کی گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو جانتے ہیں ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی تعریف فرمائی اگرچہ وہ لوگوں کو زبان سے کچھ نہیں کہتے۔ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآ ئً (نہ ہم تم سے بدلہ چاہیں) کوئی ہدیہ اس کھلانے پر وَّ لَا شُکُوْرًا (اور نہ شکریہ) تعریفی کلمات۔ نحو : یہ شکر کی طرح مصدر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” ویطعمون الطعام علی حبہ “ یعنی کھانے کی محبت اور قلت اور ان کے کھانے کی چاہت کرنے اور ضرورت ہونے کے باوجود اور کہا گیا ہے اللہ کی محبت میں۔ ” مسکینا “ فقیر کو جس کا کوئی مال نہ ہو۔ ” ویتیما “ بچہ جس کا باپ نہ ہو۔ ” واسیرا “ مجاہد، سعید بن جبیر اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ اہل قبلہ میں سے قید کیا ہوا شخص اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے امراء کو ان کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگرچہ ان دنوں ان کے قدی مشرک ہوتے تھے اور کہا گیا ہے الاسیر مملوک غلام اور کہا گیا ہے عورت۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اللہ سے عورتوں کے معاملہ میں ڈرو کیوں کہ وہ تمہارے پاس عوان یعنی قیدی ہیں اور اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–12

4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–9

(وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ ) یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں۔ (اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا) ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 اطعام طعام محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ کھانا بھی کھاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تو تمہیں محض اللہ کیلئے کھلاتے ہیں۔ تم سے نہ کسی طرح کا کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی شکریہ ۔ پس اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے سوا ہمارا کوئی بھی اور مطلب نہیں، تم لوگوں سے ہم کسی طرح کی کوئی جزا اور بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کسی قسم کا کوئی شکریہ، یہ بات ایسے لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں تاکہ اخلاص پر دھیان رہے اور کسی طرح کی دوسری کسی غرض کا کوئی شائبہ اس میں شامل نہ ہوجائے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زبان شے بھی اس کا اظہار کردیں، تاکہ اگلے اس بارہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی زبان حال سے کہتے تھے۔ ابن جبیر (رح) کہتے ہیں :” اللہ کی قسم وہ اپنی زبان سے کچھ نہ کہتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی جذبہ کو دیکھ کر ان کی تعریف فرمائی تاکہ دوسروں میں بھی رغبت پیدا ہوا۔ (ابن کثیر)11 یعنی یہ نہیں چاہیے کہ تم ہمارے بھی کسی کام آئو یا لوگوں کے لئے ہماری سخاوت کا ذکر کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:9) انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا۔ جملہ حالیہ ہے ای قائلین انما ۔۔ یہ کہتے ہوئے : ہم تمہیں کھلاتے ہیں اللہ کی رضاء کے لئے ۔ ہم نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کسی شکر کے متمنی ہیں۔ لوجہ اللہ۔ لام (حرف جر) تعلیل کا۔ وجہ مضاف بمعنی رضاء اللہ مضاف الیہ اللہ کی رضا کی خاطر۔ لانرید۔ فعل نہی۔ جمع متکلم۔ ارادۃ (افعال) مصدر۔ ہم نہیں چاہتے ہیں۔ شکورا۔ شکر یشکر کا مصدر ہے بمعنی شکر کرنا۔ شکر گزاری۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

(ف 1) ابرار کے ثواب بیان فرمانے کے بعد ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جاتا ہے جن عملوں کے سبب سے ان کو یہ درجہ ملا ہے وہ تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی فرض کی ہوئی عبادت کو پوری طور پر ادا کرتے ہی ہیں لیکن جو طاعت غیرواجب اپنے اوپرنذر سے واجب کرلیتے ہیں اس کو بھی ادا کرتے ہیں غرض اپنی مانی ہوئی نذر کو اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی نیکی کو بھی باوجود تنگدست ہونے ، خالص عقبی کے ثواب کی نیت سے پورا کرتے ہیں منت یہ ہے کہ جو چیز آدمی پر واجب نہیں ہے وہ کسی شرط سے اپنے اوپر واجب کرلے مثلا یہ کہے کہ اگر میرا مریض اچھا ہو یا میرا مسافر بخیر واپس آئے تو میں راہ خدا میں اس قدر صدقہ دوں گا یا اتنی رکعتیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–9

کوائف جنت 2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) ہم تو تم کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کھانا کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی بدلے اور شکریے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ یعنی ہم اس کھانا کھلانے کے صلے میں تم سے کسی بدلے کے آرزو مند نہیں اور نہ کسی زبانی شکریے کے خواہش مند ہیں ہم تو یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 4۔ قیدی اگر مظلوم ہے تب تو اس کی رعایت کا مستحسن ہونا ظاہر ہے، اور اگر ظالم ہے تو شدت حاجت کے وقت اس کا اطعام بھی مستحسن ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 9–10

(کہ ہم کھلاتے ہیں تمہیں بس اللہ تعالیٰ ) (ہی کے لیے ہم نہیں چاہتے تم سے کوئی معاوضہ) بدلا اور جزا (اور نہ شکر گزاری کو) اور نہ رنج و تکلیف دفع کرنا ، اس واسطے کہ احسان کر کے احسان جتانا اور بدلے کی توقع کرنا ثواب گھٹا دیتا ہے۔ چنانچہ۔۔۔ حکم خداوندی ہے کہ اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور رنج پہنچا کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ اور اپنی نیکیوں کو ضائع نہ کرو۔ (بیشک ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن کو) جو (کہ تلخ اور نہایت سخت ہے) ۔ حضرت حسن بصری سے پوچھا کہ قمطریرا کیا ہے ؟ فرمایا کہ سبحان اللہ ! کیا سخت ہے قیامت کے دن کا نام ، اور وہ دن اپنے نام سے زیادہ سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives. عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

13 Although feeding a poor man is in itself a great virtue, yet fulfilling the other needs of an indigent person is no less virtuous. For example, to clothe a poor man, to arrange treatment for a sick person, or to help a debtor who is harassed by his creditor, is an act of equally great virtue. Here, a particular kind of virtue in view of its importance has been presented only as an example, but the real object is to stress giving help to the needy. 14 It is not necessary that this may be said in so many words while feeding the poor man. It may be said in the heart; in the sight of Allah…

Read the full tafseer →