Al-Insaan 76:10

Al-Insaan · from ayah 10

76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا ۟اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِيۡرًا‏

ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے (جو چہروں کو) کریہہ المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کر دینے والا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We fear from our Lord a Day austere and distressful."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:10

ہمیں تو اپنے رب سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے (جو چہروں کو) کریہہ المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کر دینے والا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی واﻻ ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہمیں تو اپنے پروردگار کی طرف سے اس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جس میں چہرے بری طرح بگڑے ہوئے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کا خوف رہتا ہے جو (چہروں کو) نہایت سیاہ (اور) بدنما کر دینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہمیں اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو چہروں کو کریہہ المنظر اور (دلوں کو) مضطر کرنے والا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے اندیشہ ناک ہیں جو نہایت عبوس اور سخت ترش رو ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہمیں تو اپنے رب سے ایک ایسے دن کا سخت ڈر لگا رہتا ہے جو بڑا ہی ہولناک اور تلخ دن ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

ہم تو اپنے پروردگار کی طرف سے اندیشہ رکھتے ہیں ایک سخت اور تلخ دن کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم تو ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جس کی اداسی بڑی ہولناک ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیں اپنے رب سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو چہروں کو خراب اور دل کو سخت پریشان کردینے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

we fear from our Lord a Day that shall be long and distressful.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In fact, we are fearful of a day, from the side of our Lord, that will be frowning, extremely malignant.

— Muhammad Taqi Usmani

In fact, we are fearful of a day, from the side of our Lord, that will be frowning, extremely malignant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, We fear from our Lord a Day that is `Abus and Qamtarir."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! we fear from our Lord a day of frowning and of fate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We fear from our Lord a Day austere and distressful."

— Saheeh International

We are afraid of our Lord and the bitterly distressful day".

— Muhammad Sarwar

Surely we fear from our Lord a stern, distressful day.

— Muhammad Habib Shakir

Verily we dread from our Lord a Day grim and distressful.

— Abdul Majid Daryabadi

"We only fear a Day of distressful Wrath from the side of our Lord."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–12

زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الدَّهْر 14 ضروری نہیں ہے کہ غریب کو کھانا کھلاتے ہوئے زبان ہی سے یہ بات کہی جائے۔ دل میں بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کی بھی وہی حیثیت ہے جو زبان سے کہنے کی ہے۔ لیکن زبان سے یہ بات کہنے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو یہ اطمینان دلا دیا جائے کہ ہم اس سے کسی قسم کا شکریہ یا بدلہ نہیں چاہتے، تاکہ وہ بےفکر ہو کر کھائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوم آخرت کی صفت یہاں ’عَبُوس‘ اور ’قَمْطَرِیْر‘ آئی ہے۔ ’عَبُوس‘ کے معنی ترش رو اور روکھے پھیکے کے ہیں۔ ’قَمْطَرِیْر‘ اسی مضمون کی شدت کے اظہار کے لیے بطور تاکید آیا ہے یعنی وہ دن ایسا اکھڑ، اکل کُھرا اور ترش مزاج ہو گا کہ اس میں کوئی بھی کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن سابقہ ہر ایک کو اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ خدا کی رحمت صرف انہی لوگوں کی طرف متوجہ ہو گی جنھوں نے اس کی رضا جوئی میں مسکینوں اور یتیموں کی سرپرستی اور ہمدردی کی ہو گی اور اپنی ضروریات نظر انداز کر کے ان کی احتیاج پوری کرنے پر اپنا مال صرف کیا ہو گا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ بات وہ قولاً ہر اس شخص سے کہیں بھی جس کی مدد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی وہ دن نہایت سخت ہوگا اور سختیوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے کافروں پر بڑا لمبا ہوگا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–13

2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

انما نطعمکم .................................... قمطریرا (9:76 تا 10) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔ یہ گویا بلند پایہ قلوب کے اندر رحمت اور محبت کی موجیں ہیں۔ اور یہ محض اللہ کی رضامندی کے حصول کے لئے ہیں۔ ان مہربانیوں سے وہ کوئی جزاء اور کوئی معاوضہ بلکہ شکریہ تک نہیں چاہتے۔ نہ کبرو غرور کا اظہار کرتے ہیں اور نہ غرباء پر اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بس وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس فعل کی وجہ سے سخت مصیبت کے دن کی تکالیف سے بچ جائیں ، کیونکہ صدقہ کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی کیوں نہ کھلائیں اور کھلانے کے بعد کیونکر بدلہ یا شکریہ کے امید وار رہیں جبکہ ہم کو اپنے پروردگار کا اور اس دن کا خوف لگا ہوا ہے جو بہت سخت اداس اور غصّہ سے چیں بہ چیں ہوگا ہم تو اخلاص کے ساتھ کھلانے پلانے کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے ہمارا عمل مقبول ہوا یا نہیں۔ مبادا اخلاص وغیرہ میں کمی رہ گئی ہو اور الٹا منہ پر مارا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ } ”ہم تو ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جس کی اداسی بڑی ہولناک ہوگی۔“ عَبُوْس کا لفظ ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہ آتی ہو ‘ بلکہ غصہ اور وحشت برستی ہو۔ جب کہ قمطریر کا معنی ہے بہت سخت ‘ بہت کرخت ‘ ہولناک اور طویل۔ چناچہ یہاں اس سے مراد میدانِ محشر کی وہ کیفیت ہے جس کی وجہ سے کھرب ہا کھرب انسان متفکر ّاور پریشان ہوں گے اور ان میں سے کسی ایک کے چہرے پر بھی مسکراہٹ کے آثار تک نظر نہیں آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی احسان کرنے والے نیکی کرنے اور شکریہ تک کی توقع نہ رکھنے کے باوجود اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے عمل میں کوئی تقصیر باقی نہ رہ جائے۔ اور اس دن ہم سے باز پرس نہ ہو جس کے نظارہ سے ہی سب کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ہیبت اور دہشت طاری ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

6۔ (اور ہم یہ اعمال اس لئے بجالاتے ہیں کہ اس دن کی سختیوں سے محفوظ رہیں) یہ آیتیں مسلسل اسی تاکید اخلاص کیلئے چلی آتی ہیں۔ اس قسم کی آیتیں ان تمامی غیر محقق صوفیہ کی تردید کے لئے کافی ہیں۔ جنہوں نے خوف آخرت سے کسی عمل کے کرنے کو خلاف اخلاص سمجھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا نخاف من ربنا . اطعام کی پہلی علت لوجہ اللہ تھی اور یہ دوسری علت ہے گویا حرف عطف اور حرف جر کو حذف کر کے لوجہ اللہ پر عطف کردیا گیا ہے ‘ اصل کلام یوں تھا : نطعمکم طمعًا و خوفًا من اللہ۔ یعنی اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اور اللہ کے عذاب و غضب کے خوف سے ہم تم کو کھانا کھلاتے ہیں۔ من ربّنا کا معنی ہے : من عذاب ربّنا یعنی ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یوما عبوسا قمطریرا . اس دن کے عذاب سے جو عبوس اور قمطریر ہوگا۔ عبوس ‘ ترشرو ‘ تیوری پر بل ڈالا ہوا آدمی۔ یہ یوم کی صفت مجازاً ہے جیسے نھارہ صائمٌ۔ اس کا دن روزہ دار ہے یعنی وہ دن میں روزہ دار ہے (پس دن کے تیوری پر بل پڑنے کا معنی ہوا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور یوں کہتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں اگرچہ ان حضرات نے زبان سے یہ الفاظ نہیں کہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سچائی کی بنا پر اس چیز کا ذکر کردیا نہ ہم تم سے اس کا فعلی بدلہ چاہیں اور نہ زبانی شکریہ۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت دن کے عذاب کا اور اس کے تلخ ہونے کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) انا نخاف من ربنا…:”عبوساً“ تیوری چڑھانے والا، منہ بنانے والا۔”قمطریراً“ سخت تیوری چڑھانے والا۔ سوال یہ ہے کہ اس دن کو ”عبوساً“ اور ”قمطریراً“ کیوں کہا گیا ، جبکہ تیوری چڑھانا اور منہ بگاڑانا آدمی کا کام ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس دن کی ہیبت اور سختی کی منظر کشی کے لئے اسے ایک ایسے شخص کی صورت میں پیش کیا ہے جس کے منہ اور ماتھے پر غصے کی وجہ سیسخت تیوری چڑھی ہوئی ہو۔ دوسرا یہ کہ جس طرح ”نھنارہ صائم“ (اس کا دن روزہ دار ہے) اور ”لیلہ قائم“ (اس کی رات قیام کرنے والی ہے) میں صیام وق یام کی نسبت دن اور رتا کی طرف کردی ہے، حالانکہ روزہ رکھنا اورق یام کرنا آدمی کا کام ہے، اسی طرح یہاں بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انا نخاف من ربنا یوما۔۔۔ تا۔۔۔۔ سرورا۔ انانخاف من ربنا یوما عبوسا قمطریرا۔ عبوسا یہ یوما کی صفت ہے یعنی ایسا دن جس کی ہولناکی اور شدت کی وجہ سے چہرے ترش رو ہوں گے معنی ہے ہم ترش رودن سے ڈرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، کافر اس دن ترش رو ہوگا یہاں تک کہ اس سے تارکول جیسا پسینا بہے گا حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ العبوس کا معنی تنگ دل ہے۔ قمطریر کا معنی طویل ہے شاعر نے کہا : شدید عبوساقمطریرا۔ سخت، ترش رو اور لمبا۔ اور ایک قول یہ کیا گیا ہے قمطریر کا معنی شدید ہے عرب کہتے ہیں، یوم قمطریر، قماطر، عصیب، سب کا معنی ایک ہی ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا ہے، بنی عمنا ھل تذکرون بلاء نا، علیکم اذا ماکان یوم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

13۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوما عبوسا اداس دن یعنی تنگ دن۔ قمطریرا ہولناک یعنی لمبادن۔ 14۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ عبوسا قمطریرا سے مراد ہے وہ شخص جو اپنی آنکھوں کے درمیان سلوٹیں بنالیتا ہے۔ 15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قمطریرا سے مراد ہے وہ آدمی جو اپنی آنکھوں کے درمیان اور اپنے چہرے پر سلوٹیں بنا یتا ہے۔ 16۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوما عبوسا قمطریرا کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انا نَخَافُ مِنْ رَّبِنَا : بیشک ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ] [يَوْمًا : ایک ایسے دن سے جو ] [عَبُوْسًا : بہت ترش ہوگا ] [قَمْطَرِيْرًا : بہت شدید ہوگا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا 0010﴾ (یہ بھی اللہ کے نیک بندوں کا قول ہے، وہ قیامت کے دن کا استحضار رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اپنے رب سے سخت دن کا اندیشہ رکھتے ہیں یعنی ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ قیامت کے سخت دن میں اللہ تعالیٰ ہماری گرفت نہ فرمائے۔ لفظ عبوس فعول کے وزن پر ہے جس کا معنی منہ بگاڑنا اور ناراضگی اور ترش روئی کے ساتھ پیش آنا ہے۔ اور قمطریر بھی تقریباً اسی معنی میں ہے لیکن یہ بہت زیادہ منہ بگاڑنے پر دلالت کرتا ہے۔ علامہ قرطبی نے حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ عبوس وہ ہے جو ہونٹوں سے منہ بگاڑے اور قمطریر وہ ہے جو پیشانی سے اور بھنوؤں سے چہرہ بگاڑ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

8:۔ ” انما نطعمکم “ جب وہ مساکین وغیرہم کو کھانا کھلاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہیں محض لوجہ اللہ اور اس کی رضا جوئی کیلئے کھانا کھلا رہے ہیں اور تم سے اس کا معاوضہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنے والوں کی نیت ایسی ہی ہوتی ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے اس کی جزاء کے طالب نہیں ہوتے۔ ” انا نخاف من ربنا عبوسا “ یوما کی صفت ہے یعنی وہ دن جس میں کافروں کے چہرے شدت ہول سے بگڑ جائیں گے۔ قمطریرا سخت اور شدید یہ بھی یوما کی صفت ہے وہ کہتے ہیں ہم تو اللہ کی طرف سے اس کٹھن اور شدید دن سے ڈرتے ہیں جس کے عذاب کی شدت اور ناگواری سے کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا۝ 10 خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–14

ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَ نُرِیْدُمِنْـکُمْ جَزَآئً وَّلاَ شُکُوْرًا۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ (الدہر : 9، 10) (بلاشبہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں اور نہ شکریہ کے۔ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جو نہایت عبوس اور سخت ترشرو ہوگا۔ ) ابرار ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب آیت کے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب کسی کو کھانا کھلاتے ہیں یعنی کسی ضرورت میں اس کی مدد کرتے ہیں تو اسے کہہ دیتے ہیں کہ ہم محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایسا کررہے ہیں، تم سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔ جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا (ہم اپنے رب کی طرف سے اندیشہ رکھتے ہیں) ہم تم سے اس صدقہ پر کوئی بدلہ کا ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ کے بدلہ پر عذاب وسزا کا ڈر ہے۔ نمبر 2۔ ہمیں اپنے رب کا ڈر ہے۔ پس اس کی خاطر ہم صدقہ کرتے ہیں۔ تاکہ ہم اس خوف (منتظر) سے محفوظ رہیں۔ یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا (ایک سخت اور تلخ دن کا) یہاں یوم کی صفت اشقیاء سے کی گئی ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ نھارک صائم حالانکہ دن تو روزہ دار نہیں ہوتا شدت التباس سے کہہ دیتے ہیں۔ والقمطریر ؔ سخت ترش روئی۔ جو آنکھوں کے مابین ماتھے پر ظاہر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” انما نطعکم لو جہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا “ اور شکور مصدر ہے عقود، دخول اور خروج کی طرح۔ مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ان کے دلوں سے جان لیا۔ پھر ان کی تعریف کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–12

4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا) ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا، یعنی جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا۔ ( قَمْطَرِيْرًا) اور نہایت تنگ دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 یوم قیامت کا خوف و ڈر ‘ اصلاح احوال کی اصل بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بندگان صدق و صفا کہتے ہیں کہ تم تو اپنے رب سے ایک ایسے دن کا سخت خوف رکھتے ہو جو کہ بڑا ہی ہولناک اور تلخ دن ہوگا۔ سو وہ دن بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سخت اور تلخ دن ہوگا، اور اتنا سخت اور اس قدر تلخ اور ہولناک کہ اس کی شدت کی وجہ سے مجرموں کے چہرے بگڑ کر کچھ کے کچھ ہوجائیں گے، چناچہ عکرمہ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس روز کافر کا حال یہ ہوگا کہ اس کا پسینہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان تارکول کی طرح بہہ رہا ہوگا، پس سا دن کے عبوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس میں موجود لوگوں کا حال ایسا اور بہت برا ہوگا، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 12 یعنی جس کی شدت اور ہولناکی سے چہرے اداس ہوں گے اور ان کی تیوری چڑھی ہوگی، مراد قیامت کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:10) انا نخاف من ربنا : اطعام لہ پہلی علت لوجہ اللہ تھی۔ یہ دوسری علت ہے گویا حرف عطف اور حرف جر کو حذف کرکے لوجہ اللہ پر عطف کردیا گیا ہے۔ اصل کلام یوں تھا :۔ نطعمکم طمعا وخوفا من اللہ یعنی اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اور اللہ کے عذاب اور غضب کے خوف سے ہم تم کو کھانا کھلاتے ہیں۔ من ربنا کا معنی ہے من عذاب ربنا یعنی ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یوما عبوسا قمطریرا : یوما منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے یا بوجہ ظرفیت کے ” یہ عذاب اس دن ہوگا “ یا اس دن کے عذاب سے۔ جو عبوس اور قمطریر ہوگا۔ عبوسا قمطریرا دونوں بوجہ یوما کی صفت کے منصوب ہیں۔ عبوسا : منہ بنانے والا۔ تیوری چڑھانے والا۔ ترش…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) لہذا ہم اپنے عمل کی جزا یا شکرگزاری تم سے نہیں چاہتے، یہ عمل اس لیے ہے کہ اس دن خوف سے امن میں رہیں گے کیونکہ ہم کو اپنے پروردگار کا اور اس دن کا خوف لگا ہوا ہے جو بہت سخت اداس اور غصہ سے چیں بہ جبیں ہوگا۔ ہم تو اخلاص کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے ہمارا عمل مقبول ہوا یا نہیں، مبادا اخلاص وغیرہ میں کمی رہ گئی ہو اور الٹا منہ پر ماراجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو دن نہایت ترش روا اور نہایت سخت ہوگا۔ دن کی صفت عبوس کے ساتھ مجازاً ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس دن لوگوں کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ دن بڑا تلخ اور نہایت سخت ہوگا اس دن کا ہم کو اندیشہ لگا ہوا ہے اور ہم کو اندیشہ لگا ہوا ہے اور ہم اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں کہ اس دن ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوا اور یہ کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہو یا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا خلاف اخلاص اور ابتغاء مرضاة کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 9–10

(کہ ہم کھلاتے ہیں تمہیں بس اللہ تعالیٰ ) (ہی کے لیے ہم نہیں چاہتے تم سے کوئی معاوضہ) بدلا اور جزا (اور نہ شکر گزاری کو) اور نہ رنج و تکلیف دفع کرنا ، اس واسطے کہ احسان کر کے احسان جتانا اور بدلے کی توقع کرنا ثواب گھٹا دیتا ہے۔ چنانچہ۔۔۔ حکم خداوندی ہے کہ اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور رنج پہنچا کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ اور اپنی نیکیوں کو ضائع نہ کرو۔ (بیشک ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن کو) جو (کہ تلخ اور نہایت سخت ہے) ۔ حضرت حسن بصری سے پوچھا کہ قمطریرا کیا ہے ؟ فرمایا کہ سبحان اللہ ! کیا سخت ہے قیامت کے دن کا نام ، اور وہ دن اپنے نام سے زیادہ سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives. عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

13 Although feeding a poor man is in itself a great virtue, yet fulfilling the other needs of an indigent person is no less virtuous. For example, to clothe a poor man, to arrange treatment for a sick person, or to help a debtor who is harassed by his creditor, is an act of equally great virtue. Here, a particular kind of virtue in view of its importance has been presented only as an example, but the real object is to stress giving help to the needy. 14 It is not necessary that this may be said in so many words while feeding the poor man. It may be said in the heart; in the sight of Allah…

Read the full tafseer →