Al-Insaan 76:11

Al-Insaan · from ayah 11

76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَلَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا ۟ۚفَوَقٰٮهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ وَ لَقّٰٮهُمۡ نَضۡرَةً وَّسُرُوۡرًا‌ۚ

تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So Allah will protect them from the evil of that Day and give them radiance and happiness

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:11

پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے برے اثرات سے بچا لے گا، اور ان کو شادابی اور سرور سے نوازے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس اللہ انہیں (خوفِ اِلٰہی کے سبب سے) اس دن کی سختی سے بچا لے گا اور انہیں (چہروں پر) رونق و تازگی اور (دلوں میں) سرور و مسرّت بخشے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اللہ نے انھیں اس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور انھیں انوکھی تازگی اور خوشی عطا فرمائی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اللہ نے ان کو اس دن کی آفت سے بچایا اور ان کو تازگی اور سرور سے نوازا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو (ان کی اس فرمانبرداری و اخلاص مندی کے طفیل) اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہوگا ان کو اس دن کے شر سے اور ان کو نواز دیا ہوگا (اپنے کرم سے) ایک عظیم الشان تازگی اور سرور (شادمانی) سے

— مولانا اسحاق مدنی

سو اللہ ان کو اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا کرے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اللہ انہیں بچا لے گا اس دن کے شر سے اور بخش دے گا انہیں تروتازگی اور مسرت۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اللہ ان کو اس دن کی سختی سے بچا لے گا تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So Allah shall guard them against the woe of that Day, and will procure them freshness and joy,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So Allah will save them from the evil of that day, and will grant them bloom and delight,

— Muhammad Taqi Usmani

So Allah will save them from the evil of that day, and will grant them bloom and delight,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, Allah saved them from the evil of that Day, and gave them Nadrah (a light of beauty) and joy.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor Allah hath warded off from them the evil of that day, and hath made them find brightness and joy;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So Allah will protect them from the evil of that Day and give them radiance and happiness

— Saheeh International

God will certainly rescue them from the terror of that day and will meet them with joy and pleasure.

— Muhammad Sarwar

Therefore Allah win guard them from the evil of that day and cause them to meet with ease and happiness;

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore Allah shall preserve them from the evil of that Day, and shall cause them to meet brightness and joy.

— Abdul Majid Daryabadi

But Allah will deliver them from the evil of that Day, and will shed over them a Light of Beauty and (blissful) Joy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–12

زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 15 یعنی چہروں کی تازگی اور دل کا سرور۔ دوسرے الفاظ میں روز قیامت کی ساری سختیاں اور ہولناکیاں صرف کفار و مجرمین کے لیے ہوں گی، نیک لوگ اس دن ہر تکلیف سے محفوظ اور نہایت خوش و خرم ہوں گے۔ یہی بات سورة انبیاء میں بیان کی گئی ہے کہ " وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " (آیت 103) اور اسی کی صراحت سورة نمل میں کی گئی ہے کہ " جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے "۔ (آیت 89)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ان کا صلہ بیان ہوا کہ چونکہ وہ اس ’عبوس‘ اور ’قمطریر‘ دن سے اندیشہ ناک رہے اور اس کی آفتوں سے محفوظ رہنے کے لیے اپنا محبوب مال انھوں نے خرچ کیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی آفتوں سے محفوظ رکھے گا اور اس دن جب سب کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے ان کے چہرے ہشاش بشاش اور مسرور ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔ 11۔ 2 تازگی چہروں پر ہوگی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–13

2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں نہایت تیزی کے ساتھ یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس دن کے شر سے بچا لیے جائیں گے جس سے وہ بہت ڈرتے ہیں تاکہ دنیا میں بھی یہ لوگ مطمئن ہوجائیں کیونکہ یہاں وہ قرآن کریم کی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ، اس لئے وہاں ان کو اللہ کی جانب سے تروتازگی اور مسرت حاصل ہوگی۔ ان کو سخت مصیبت والے دن کا وہاں احساس ہی نہ ہوگا کیونکہ یہاں وہ خوف کھاتے تھے اور اللہ کے سامنے جانے سے ڈرتے تھے۔ چناچہ قیامت میں ان کے دل تروتازہ اور ان کا شعور مسرت آمیز ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے تھے۔ اللہ نے اس سے محفوظ و مامون رکھا۔ اور ان کے چہروں کو تازگی اور دلوں کو سرور عطا کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 1{ فَوَقٰـٹہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ } ”تو اللہ انہیں بچا لے گا اس دن کے شر سے“ { وَلَقّٰٹہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا۔ } ”اور بخش دے گا انہیں تروتازگی اور مسرت۔“ یعنی چہروں کی تازگی اور دلوں کا سرور۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 یعنی اللہ ان کے اس نیک عمل کا بدلہ یہ دے گا کہ ان کے چہرے بگڑنے کے بجائے خوب ترو تازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے اور دلوں میں گھبراہٹ واقع ہونے کے بجائے ان کو دل کا اطمینان اور سرور عطا فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–14

7۔ (کہ ہر وقت ہر طرح بلامشقت حاصل ہوسکیں گے) قرآن کے مخاطبین اول یاد رہے کہ عرب تھے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کی ضرورت تھی کہ جنت کی نعمتوں، لذتوں، راحتوں کی ایک ایک تفصیل ان کے مذاق کے مطابق بیان کی جائے، کلام اس سے ان کے لئے خاص طور پر مؤثر ہوگیا تھا۔ مخاطبین اول کے فہم و مذاق کی رعایت خصوصیت کے ساتھ رکھنا بلاغت کلام اور فن خطابت دونوں کے اصول اعلی میں داخل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فوقھم اللہ . فاء سببی ہے یعنی ابرار چونکہ اللہ سے ڈرتے اور عذاب آفریں اعمال سے بچتے تھے اسلئے اللہ نے انکو محفوظ رکھا واقعہ اگرچہ مستقبل سے تعلق رکھتا ہے (آئندہ ہوگا) مگر یقینی الوقوع ہے اسلئے مستقبل کی تعبیر ماضی کے صیغہ سے کردی۔ (گویا ایسا ہوگیا) شر ذلک الیوم . شر سے مراد مکروہات۔ ولقھم . اور بجائے ترشروئی (اور بدنمائی) کے ان کو عطا فرمائے گا۔ نضرۃ و سرورا . چہرہ کا حسن اور دل کی خوشی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

(11۔ 12) سو اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھے گا اور ان کو چہروں کی اور دلوں کی فرحت و خوشی عطا کرے گا اور دنیا میں جو انہوں نے فقر و تنگیوں پر صبر کیا، اس کے صلہ میں جنت دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فوقھم اللہ شر ذلک الیوم…: اللہ تعالیٰ اخلاص اور خوف کے ساتھ مذکورہ اعمال کرنے والے ابرار و عباد اللہ کو اس دن کی برائی سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا فرمائیگا۔ تازگی چہرے کی اور خوشی دل کی۔ دل میں خشوع ہو تو چہرے پر تازگی آجاتی ہے۔ (دیکھیے عبس : 38، 39) ان کے برعکس کفار وف جار کے چہرے بگڑے ہوئے اور دل غم و فکر سے بھرے ہوں گے۔ دیکھیے سورة عبس (40 تا 42)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فوقاھم اللہ شرذالک الیوم ولقاھم نظرۃ وسرورا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے اس دن کی شدت اور عذاب کو دور کردیا ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یعنی اسے دیکھا تو انہیں حسن و سرور عطا کیا حسن اور مجاہد نے کہا، تروتازگی ان کے چہروں میں اور خوشی ان کے دلوں میں تھی، نضرۃ میں تین صورتیں ہیں ان میں سے ایک سفیدی اور صفائی ہے یہ ضحاک نے کہا، دوسری حسن و خوبصورتی، یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ تیسری یہ نعمت کا اثر ہے یہ ابن زید نے کہا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–12

19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقہم نضرۃ وسرورا اور ان کے سامنے تازگی اور خوشی لائے گا یعنی تازگی ہوگی ان کے چہروں میں اور خوشی ہوگی ان کے سینوں میں۔ 20۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت ولقہم نضرۃ وسرورا یعنی ان کے چہروں میں تازگی عطا فرمادے گا۔ ” وسرورا “ اور ان کے سینوں اور دلوں میں خوشی ڈال دے گا۔ 21۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقہم نضرۃ وسرورا سے مراد ہے کہ ان کے چہروں میں تازگی اور ان کے دلوں میں وشی عطا فرمادے گا۔ آیت وجزہم بما سبروا وجنۃ وحریرا۔ اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی پوشاکیں گے گا اور صبر، دو صبر ہیں ایک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ : تو بچایا ان کو اللہ نے ] [شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ : اس دن کے شر سے ] [وَلَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا : اور دی ان کو تازگی اور سرور ] ترکیب : (آیت 11) فَوَ قٰھُمْ اور لَقّٰھُمْ میں ھُمْ کی ضمیریں آیت۔ 5 ۔ میں مذکور اَلْاَ بْرَارَ کے لیے ہے جبکہ ذٰالِکَ الْیَوْمِ میں اشارہ گزشتہ آیت میں مذکور یَوْمًا عَبُوْمًا کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ0011﴾ (سو اللہ انہیں اس دن کی سختی سے محفوظ فرمائے گا اور انہیں تازگی اور خوشی سے ہمکنار فرمائے گا) وہ دنیا میں قیامت کے دن سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کی سختی سے بچا دے گا ان کے چہروں میں حسن ہوگا ترو تازگی ہوگی اور دلوں میں خوشی ہوگی خوب ہشا ش ہوں گے۔ جعلنا اللّٰہ تعالیٰ منھم۔ (آمین)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” فوقاھم “ فاء سببیہ ہے اور مستقبل کو لفظ ماضی سے قطعی اور یقینی ہونے کی وجہ سے تعبیر کیا گیا ہے (مظہری) ۔ یعنی خوف خدا اور موجبات عذاب سے اجتناب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے شدائد سے محفوظ رکھے گا۔ ولقاھم نضرۃ وسرورا، اور عبوست و ترشروئی کے بجائے ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا۔ آخرت کی کامیابی پر ان کے چہرے فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں گے۔ نضرۃ، تازگی، رونق۔ سرور، خوشی اور شادمانی۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَوَقٰىہُمُ اللہُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقّٰىہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا۝ 11 ۚ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] ، وَما لَهُمْ مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–14

ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَوَقٰـھُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا۔ (الدہر : 11) (پس اللہ تعالیٰ انھیں اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انھیں تازگی اور سرور سے نوازے گا۔ ) ابرار پر اللہ تعالیٰ کا انعام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے چونکہ دنیا میں آخرت کے اس دن سے بچنے کے لیے جو نہایت ترشرو، روکھا پھیکا اور اکھڑ ہوگا دوسروں پر اپنی ضرورتوں کا ایثار کرتے رہے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کو مقصود بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت میں یہ صلہ عطا فرمائے گا کہ اس عبوس اور قمطریر دن میں ان کے دلوں کو تازگی بخشے گا اور ان کے سینوں کو سرور سے بھر دے گا۔ یعنی قیامت کے دن کی ساری سختیاں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔ جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 1 : فَوَقٰھُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ (پس اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا) یعنی اس کی سختیوں سے بچائے گا۔ وَلَقّٰھُمْ (اور ان کو عطا فرمائے گا) فجار کی ترشروئی کے بدلے عنایت فرمائے گا۔ نَضْرَۃً (تروتازگی) چہرے کا حسن وَّ سُرُوْرًا (اور خوشی) دلوں میں فرحت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” انا نخاف من ربنا یوما عبوسا “ اس میں چہرے اس کی ہولناکی اور شدت کی وجہ سے ترش ہوجائیں گے اور عبوس کی نسبت یوم کی طرف کی گئی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے یو م صائم ولیل نائم ۔ اور کہا گیا ہے کہ یو م کا وصف عبوس بیان کیا ہے اس لئے کہ اس میں شدت ہوگی۔ ” قمطریرا “ قتادہ مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں قمطر پر جو چہروں اور پیشانیوں کو ترش کے ساتھ پکڑے گا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں عبوس وہ جس میں کوئی انبساط نہ ہو اور قمطریر سخت۔ اخفش (رح) فرماتے ہیں قمطریر دنوں میں سے سخت ترین اور آزمائش میں طویل ۔ کہا جاتا ہے ” یوم قمطریر وقماطر “ جب سخت ناپسند ہو اور ” اقمطر الیوم فھو مقمطر “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–12

4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ ) پس اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔ پس انہیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے۔ یہ وہ دن ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ( وَلَقّٰىهُمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا۔ (نَضْرَةً ) یعنی ان کے چہروں کی تازگی عطا کرے گا ( وَّسُرُوْرًا) اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

16 اہل ایمان کے صلہ و بدلہ کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان خصال و اعمال کے صلے اور بدلے میں اہل ایمان کو اس روز ایک عظیم الشان تروتازگی اور سرور و مسرت سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور یہ سب کچھ اگرچہ ان کو آخرت کے اس جہاں میں ہوگا جو اس دنیا کے بعد آأے گا اور خدا ہی جانے وہ کب کتنے زمانے کے بعد آئے گا، مگر اس کو تعبیر فرمایا گیا ہے، ماضی کے صیغوں کے ساتھ، اس کے تحقق وقوع اور نہایت یقینی ہونے کی بناء پر، جو کہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے، یعنی آخرت کے اس جہاں میں وقوع پذیر ہونے والا یہ سب کچھ اور وہاں کی ان نعمتوں کا ملنا اس قدر قطعی اور اتنا یقینی ہے کہ گویا کہ یہ سب کچھ ہوچکا ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 12 یعنی جس کی شدت اور ہولناکی سے چہرے اداس ہوں گے اور ان کی تیوری چڑھی ہوگی، مراد قیامت کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:11) فوقھم اللہ :سببیہ ہے۔ وقی (وہ بچالے گا) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ وقایۃ (باب ضرب) مصدر۔ وقی مادہ۔ یہاں اگرچہ فعل ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور واقعہ کا تعلق مستقبل سے ہے : مستقبل کی تعبیر ماضی کے صیغہ سے اس لئے کردی ہے کہ گویا ایسا ہو ہی گیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع الابرار ہے۔ جن کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ بہ سبب اس کے کہ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو خدا کی رضا کی خاطر اور روز قیامت کی سختی کے خوف سے کھانا کھلاتے ہیں اور ان سے کسی شکر گزاری اور اجر کی خواہش نہیں رکھتے اللہ ان کے روز قیامت کے شر سے بچالے گا۔ شر ذلک الیوم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے تھے اللہ نے اس سے محفوظ ومامون رکھ اور ان کے چہروں کو تازگی اور دلوں کو سرور عطا کیے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) سو اللہ تعالیٰ ان مذکوروہ کو اس دن کی سختی اور برائی سے محفوظ رکھے گا اور بچالے گا اور ان کو تازگی اور مسرت و خوشی سے بہرہ مند کردے گا۔ یعنی ان کے اخلاف و اطاعت کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا اور ان کے چہروں کو تروتازگی سے اور ان کے دلوں کو خوش سے بہرہ مند کرے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا خلاف اخلاص اور ابتغاء مرضاة کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 11–12

(تو بچالیا انہیں اللہ تعالیٰ ) (نے اس دن کی خرابی سے اور عطا کی انہیں تروتازگی) یعنی خوبروئی (اور خوشی) یعنی دل کی فرحت (اور ثواب دیا انہیں) بسبب اس کے (جو انہوں نے صبر کیا تھا) طاعت پر معصیت سے۔ یا۔۔۔ خود ضرورتمند ہوتے ہوئے دوسرے محتاجوں کو کھانا کھلا دیا اور خود صرف پانی پی کر رہ گئے تو اس صبر کا انہیں بدلہ دیا (جنت اور ریشمی لباس کا) تاکہ وہ جنت کے میوے کھائیں اور ریشمی کپڑے پہنیں اور رہیں اس حال میں کہ ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives. عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 "Freshness and joy": freshness of the face and joy of the heart. In other words, all the severities and terrors of the Day of Resurrection will be meant only for the disblievers and the culprits. The righteous will on that Day remain immune from every hardship and will be well-pleased with their lot. The same theme has been expressed in Al-Anbiya': 103, thus: "The time of great fright will not trouble them at all; the angels will rush forth to receive them, saying: this is the Day that you were promised; and in An-Naml: 89 thus: "He who brings good deeds, will have a reward better than…

Read the full tafseer →