Ayahs 76:1–3اس سورة مبارکہ میں اللہ نے انسان کے ابتدائی اس کے انتہائی اور اس کے متوسط احوال بیان فرمائے ہیں چناچہ فرمایا کہ اس پر ایک طویل زمانہ گزرا ہے اور ویہ وہ زمانہ ہے جو اس کے وجود میں آنے سے پہلے تھا اور وہ ابھی پردہ عدم میں تھا بلکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مسلسل بنایا (مِنْ نُّطْفَةٍ ) نطفہ مخلوط سے، یعنی حقییر اور گندے پانی سے بنایا (نبتلیہ) ہم اس کے ذریعے اس کو آزماتے ہیں تاک ہم جان لیں کہ آیا وہ اپنی پہلی حالت کو چشم بصیرت سے دیکھ کر اور اس کو سمجھ سکتا ہے یا اس کو بھول جاتا ہے اور اس کو اس کے نفس نے فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ؟ پس اللہ نے اس کو پیدا کیا اس کے ظاہری اور باطنی قوی مثلا کان، آنکھیں اور دیگر اعضا تخلیق کیے ان قوی کو اس کے لیے مکمل کیا ان کو صحیح سالم بنایا تاکہ وہ ان قوی کے ذریعے سے اپنے مقاصد کے حصول پر قادر ہو پھر اس کی طرف اپنے رسول بھیجے ان پر کتابیں نازل کیں اسے وہ راستہ دکھایا جو اس کے پاس پہنچاتا ہے اس راستے کو واضح کیا اور اسے اس راستے کی ترغیب دی اور اسے ان نعمتوں کے بارے میں بتایا جو اسے اس کے پاس پہنچنے پر حاصل ہوں گی پھر اس راستے سے خبردار کیا جو ہلاکت کی منزل تک پہنچاتا ہے اسے اس راستے سے ڈرایا اسے اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ جب وہ اس راستے پر چلے گا تو اسے کیا سزا ملے گی اور وہ کس عذاب میں مبتلا ہوگا اللہ تبارک تعالیٰ نے بندوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔
اول۔ اس نعمت پر شکر ادا کرنے والا بندہ جس سے اللہ نے اس کو بہرہ مند کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان حقوق کو ادا کرنے والا جن کی ذمہ داری کا بوجھ اللہ تعالیٰ نے اس پر ڈالا ہے۔
ثانی۔ نعمتوں کی ناشکری کرنے والا، اللہ نے اس کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے بہرہ مند کیا مگر اس نے ان نعمتوں کو ٹھکرادیا اور اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور اس راستے پر چل نکلا جو ہلاکت کی گھاٹیوں میں لے جاتا ہے۔
Ayah 76:4پھر اللہ نے جزا کے لحاظ سے دونوں فریقوں کا ذکر کیا تو فرمایا جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں (سَلٰسِلَا۟) جہنم کی آگ کی زنجیریں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے (ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ۔ الحاقہ 32) پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔ (وَاَغْلٰلًا) اور طوق۔ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔ (وَّسَعِيْرًا) یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلاڈالے گی جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے 0 کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیر لیذوقوالعذاب۔ النساء 56) جب ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 76:5(الْاَبْرَارَ ) رہے نیک لوگ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انہوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ (يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ ) ایسے جام سے پئیں گے۔ یعنی شراب سے انتہائی لذیذ مشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ وہ اس مشروب کو ٹھنڈا کرکے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہوگا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہوگا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے ہر وہ آفت جو ان اسما میں ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جن میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسما دنیا میں بھی ہیں تو وہ آفت آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے (فی سدرمخضود۔ وطلح منضود۔ الواقعہ۔ 28، 29) وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔ فرمایا (وازواج مطھرۃ۔ آل عمران 15) اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔ اور فرمایا (لھم دارلسلام عند ربھم۔ الانعام 127) ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔ اور فرمایا (وفیھا ما تشتھیہ الانفس وتلذالاعین۔ الزخرف 71) اور اس میں سب کچھ ہوگا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
Ayah 76:6(عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ) وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے انہیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہوگا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہوگا جو کبھی منقطع نہ ہوگا یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہوگا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہالے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں ہے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔
Ayah 76:7اللہ تبارک وتعالی نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ ) یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر اللہ کے لیے لازم کرلیتے تھے انہیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے جو اصل میں ان پر واجب نہیں الا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کرلیں۔ تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولی قائم کرتے اور ان کو بجالاتے ہوں گے۔ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْـتَطِيْرًا) یعنی اس دن کا خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے پس انہیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انہیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انہوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔
Ayahs 76:8–9(وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ ) یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں۔ (اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا) ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں نہ شکرگزاری کے۔ یعنی کوئی مالی جزا چاہتے ہیں نہ قولی ثنا۔
Ayah 76:10(اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا) ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا، یعنی جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا۔ ( قَمْطَرِيْرًا) اور نہایت تنگ دن ہوگا۔
Ayah 76:11(فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ ) پس اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔ پس انہیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے۔ یہ وہ دن ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ( وَلَقّٰىهُمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا۔ (نَضْرَةً ) یعنی ان کے چہروں کی تازگی عطا کرے گا ( وَّسُرُوْرًا) اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کرے گا۔
Ayah 76:12(وَجَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا) یعنی ان کی جزا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انہوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اس سبب سے بھی کہ انہوں نے اللہ کی تکلیف دہ قضا وقدر پر صبر کیا اس پر ناراضی کا اظہار نہی کیا۔ (جنۃ) جنت ہے۔ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے۔ (وَّحَرِيْرًا) اور ریشم ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا (ولباسھم فیھا حریر۔ الحج۔ 23) اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہوگا جو صاحب لباس کے حالت پر دلالت کرے گا۔
Ayah 76:13(مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْهَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۚ ) وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (الاتکاء) سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ والے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ (لَا يَرَوْنَ فِيْهَا) یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے۔ ( شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْرًا) دھوپ۔ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ اور نہ سخت سردی، یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گذریں گے جہاں گرمی ہوگی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہوگی نہ سردی سے۔
Ayah 76:14(وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا) اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے، یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کردیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کرسکے گا۔
Ayah 76:15خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے (بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَا۩رِيْرَا۟، قَوَا۩رِيْرَا۟ مِنْ فِضَّةٍ ) چاندی کے برتن اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔ یعنی ان کا مادہ چاندی کا ہوگا ان کی صفائی شیشے کی سی ہوگی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہوگی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہوگی۔
Ayah 76:16(قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا) جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ یعنی ان مذکورہ برتنوں (کے حجم) کو ان کی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہوگی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انہوں نے اپنے دلوں میں کیا ہوگا۔
Ayah 76:17(وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا) وہاں انہیں پلائی جائے گی۔ یعنی جنت میں خالص شراب کے بھرے جام ہوں گے (كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا) جس میں ملاوٹ ہوگی سونٹھ کی۔ تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خوش گوار بن جائیں۔
Ayah 76:18(عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا) اس جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ اس کو یہ نام اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
Ayah 76:19(وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ ) یعنی اہل جنت کے پاس ان کے کھانے، انکے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے۔ (وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ) لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے ان کی ہیبت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ (اِذَا رَاَيْتَهُمْ ) جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ( حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا) تو تو ان کو خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کردے گا وہ اپنی تابع داری کی بنا پر امن کے ساتھ ان کی آرام گاہ میں وہ چیزیں لے کر آئیں گے جو وہ منگوائیں گے اور جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے۔
Ayah 76:20(وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا) یعنی جب تو جنت میں دیکھے کہ اہل جنت کن کامل نعمتوں میں ہیں تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ تو ان میں سے ایک کو اس طرح پائے گا کہ اس کے پاس ایسی آرام گاہیں ہوں گی، سجائے اور مزین کیے ہوئے ایسے بالاخانے ہوں گے جن کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں اس کے پاس خوبصورت باغات ہوں گے ایسے پھل ہوں گے جو اس کی پہنچ میں ہوں گے لذیذ میوہ جات ہوں گے بہتی ہوئی ندیاں اور خوش کن باغیچے ہوں گے۔ سحرانگیز چہچہانے والے پرندے ہوں گے جو دلوں کو متاثر اور نفوس کو خوش کریں گے اس کے پاس بیویاں ہوں گی جو انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی جو ظاہری اور باطنی جمال کی جامع ہوں گی جو نیک اور حسین ہوں گی ان کا حسن قلب کو سرور، لذت اور خوشی سے لبریز کردے گا۔
اس کے اردگرد ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے اور دائمی خدام گھوم رہے ہوں گے جس سے راحت اور اطمینان حاصل ہوگا لذت عیش کا اتمام اور مسرت کی تکمیل ہوگی۔ پھر اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر رب رحیم کی رضا، اس کے خطاب کا سماع اس کے قرب کی لذت اسکی رضا کی خوشی اور دائمی زندگی حاصل ہوگی۔ جن نعمتوں میں وہ رہ رہے ہوں گے وہ ہور وقت اور ہر آن بڑھتی ہی رہیں گی پس پاک ہے اللہ، اقتدار اور واضح حق کا مالک جس کے خزانے کبھی ختم ہوتے ہیں نہ اس کی بھلائی کم پڑتی ہے جیسے اس کے اوصاف کی کوئی انتہا نہیں ہے اسی طرح اس کی نیکی اور احسان کی کوئی حد نہیں ہے۔
Ayah 76:21(عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ) یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ 0 سندس) موٹے اور دبیرز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں اور استبرق باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ ( وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ ) مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کررکھا ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں۔ ( وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا) اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہوگی اور انکے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کردے گی۔
Ayah 76:22(اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا) بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔ یعنی تمہاری تھوڑی سی کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔
Ayah 76:23اللہ تبارک وتعالی نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا) ، بیشک ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔ اور اس کے اندر وعدہ وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں قرآن کریم کے اندر اللہ کے اوامر شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 76:24بنابریں فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجئے اور اس پر ناراضی کا اظہارنہ کیجئے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجئے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کرسکے۔ (وَلَا تُطِعْ ) معاندین حق کی اطاعت نہ کیجئے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ( اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا) یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں) کفر کرنے والی کی۔ کیونکہ کفار، فجار، اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔
Ayah 76:25(چونکہ صبر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے چناچہ فرمایا (وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا) یعنی صبح وشام اپنے رب کا نام لیتے رہو۔ اس میں فرض نمازیں، اس کے توابع نوافل وغیرہ اور ان اوقات میں ذکر وتسبیح، تہلیل اور تکبیر وغیرہ داخل ہیں۔
Ayah 76:26( وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ ) اور رات کو سجدے کرو۔ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجئے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ (وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا) اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ اس مطلق کی تقید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ (یا ایھا المزمل، قم اللیل الا قلیلا نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ او زد علیہ۔ المزمل 1 تا 4) اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیجئے، قیام نصف شب کیجئے یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔
Ayah 76:27(اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ) اے رسول آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں ان کو ترغیب دی گئی ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے انکو کچھ فائدہ نہیں دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے۔ (الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَاۗءَهُمْ يَوْمًا ثَــقِيْلًا) یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں یعنی اپنے آگے، بھاری دن۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یقول الکافرون ھذا یوم عسیر۔ القمر 8) کافر کہیں گے یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔
Ayah 76:28پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے چناچہ فرمایا (نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ ) یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ (وَشَدَدْنَآ اَسْرَهُمْ ۚ ) یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قوی کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہوگیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انہیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے۔ وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا وسزا دینے کے لیے انہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزرا ہے اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بےکار چھوڑ دے، ان کو حکم دیا جائے نہ ان کو روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔ بنا بریں فرمایا (بَدَّلْنَآ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِيْلًا) ان کے بدلے انہی کی طرح اور لوگ لے آئیں، یعنی ہم نے انہیں روز قیامت دوبارہ اٹھنے کے لیے تخلیق کیا ہے، ہم نے ان کے اعیان، ان کے نفوس اور ان کا امثال کا اعادہ کیا۔
Ayah 76:29(اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ ۚ ) یہ ایک نصیحت ہے۔ یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے اس کے اندر جو تخویف و ترغیب ہے اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ (فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا) پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے، یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔ اللہ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کردیا اور لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لیے انکو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔
Ayah 76:30(وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ) اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو۔ بیشک اللہ کی مشیت نافذ ہے۔ ( اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا) بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے، ہدایت یاب کی ہدایت اور گمراہ کی گمراہی میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہے۔
Ayah 76:31( يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَاۗءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ) وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ پس اسے اپنی عنایت سے مختص کرتا ہے اسے سعادت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے اور سعادت کے راستوں کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ (وَالظّٰلِمِيْنَ ) جنہوں نے ہدایت کے بجائے شقاوت کو منتخب کیا (اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا) تو ان کے ظلم اور عدوان کی پاداش میں ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔