Explained with ayahs 4–12
زنجیریں طوق اور شعلے
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
سورة الدَّهْر 16
یہاں صبر بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، بلکہ در حقیقت صالح اہل ایمان کی پوری دنیوی زندگی ہی کو صبر کی زندگی قرار دیا گیا ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے کے بعد سے مرتے دم تک کسی شخص کا اپنی ناجائز خواہشوں کو دبانا، اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرنا، اللہ کے عائد کیے ہوئے فرائض کو بجا لانا، اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلتیں، حتی کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کردینا، ہر اس لالچ اور ترغیب کو ٹھکرا دینا جو اللہ کی راہ سے ہٹانے کے لیے سامنے آئے، ہر اس خطرے اور تکلیف کو برداشت کرلینا جو راہ راست پر چلنے میں پیش آئے، ہر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…
Read the full tafseer →صبر کی صفت کا صلہ:
اور چونکہ انھوں نے صبر کیا اس وجہ سے ان کو جنت اور حریر کا صلہ عطا ہوگا۔ ’بِمَا صَبَرُوْا‘ سے اشارہ ان کے اس صبر کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر ’وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ خود بھوکے ہوتے ہوئے اپنے آگے کی رکابی دوسرے بھوکے کے آگے وہی سرکائے گا جس کے اندر صبر کی صفت ہو گی۔
’جنّت‘ ان کو اس لیے ملے گی کہ اس کے پھل کھائیں اور اس کے عیش دوام سے بہرہ مند ہوں اور ’حریر‘ اس لیے کہ اس کے لباس پہنیں۔ مکان، غذا اور لباس تینوں چیزیں اس کے اندر آ گئیں۔
Read the full tafseer →12۔ 1 صبر کا معنی ہے دین کے راستے میں جو تکلفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد جنت کی نعمتوں کا مزید ذکر اور تفصیلات :۔
وجزھم .................... وحریرا
” اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا “۔ اس جنت میں ان کی مستقل رہائش ہوگی اور ریشمی لباس ہوگا جسے وہ پہنیں گے۔
Read the full tafseer →2 یعنی ازبسکہ یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کر کے معاصی سے رکے اور طاعت پر جمے رہے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کو عیش کرنے کے لیے جنت کے باغ اور لباس ہائے فاخرہ مرحمت فرمائے۔
Read the full tafseer →آیت 12{ وَجَزٰٹہُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا۔ } ”اور بدلے میں دے گا انہیں ان کے صبر کے سبب جنت اور ریشم کا لباس۔“
دنیا میں وہ لوگ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری میں لگے رہے۔ انہوں نے فاقوں سے رہنا گوارا کرلیا لیکن حرام کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انہوں نے اپنی جانیں تک قربان کردیں۔ ان کے اس صبر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انہیں رہنے کے لیے جنت اور پہننے کے لیے ریشم کی پوشاکیں عطا کرے گا۔
Read the full tafseer →15 دنیا میں ان لوگوں نے اللہ کی رضا کی خاطر بیشمار پابندیاں برداشت کی تھیں۔ اسلام کی راہ میں آنے والی مشکلات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے تھے۔ اس مستقل صبر کے عوض آج انہیں جنت بھی عطا کی جائے گی اور فاخرانہ ریشمی لباس بھی پہنائے جائیں گے اور وہ جنت میں پورے شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ تکیہ لگائے بیٹھا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
7۔ (کہ ہر وقت ہر طرح بلامشقت حاصل ہوسکیں گے) قرآن کے مخاطبین اول یاد رہے کہ عرب تھے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کی ضرورت تھی کہ جنت کی نعمتوں، لذتوں، راحتوں کی ایک ایک تفصیل ان کے مذاق کے مطابق بیان کی جائے، کلام اس سے ان کے لئے خاص طور پر مؤثر ہوگیا تھا۔ مخاطبین اول کے فہم و مذاق کی رعایت خصوصیت کے ساتھ رکھنا بلاغت کلام اور فن خطابت دونوں کے اصول اعلی میں داخل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔
Read the full tafseer →و جزاھم . اللہ خود ان کو جزا دے گا ‘ دوسرے سے جزا نہیں طلب کی جائے گی۔
بما صبروا . ان کے صبر کرنے کی ‘ یعنی اللہ کی اطاعت پر اور گناہوں سے پرہیز کرنے پر اور مسکین کو کھانا کھلانے کے وقت اپنی بھوک پر اور جہاد میں شہید ہونے پر اور خیرات دیتے وقت خود دکھ اٹھانے پر صبر کے بدلہ میں اللہ انکو عطا فرمائے گا۔
جنۃ و حریرا . جنت جس میں وہ داخل ہوں گے اور ریشمی لباس جو ان کو پہنایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) سو اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھے گا اور ان کو چہروں کی اور دلوں کی فرحت و خوشی عطا کرے گا اور دنیا میں جو انہوں نے فقر و تنگیوں پر صبر کیا، اس کے صلہ میں جنت دے گا۔
Read the full tafseer →وجزھم بما صبروا جنتہ وحریراً : اور انہیں اللہ تعالیٰ ان کے صبر کے عوض جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی حرام کردہ چیزوں سے صبر، اس کے دین کی دعوت پر صبر، آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر، خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانے پر صبر، غرض مومن کی زندگی اول تا آخر صبر ہی صبر ہے۔
Read the full tafseer →وجزاھم بماصبروا۔۔۔ تا۔۔۔۔ تذلیلا۔
وجزاھم بماصبروا جنۃ وحریرا۔ انہوں نے فقر پر جو صبر کیا اللہ تعالیٰ اس پر انہیں جنت اور ریشم عطا فرمائے گا، قرظی نے کہا، روزوں پر جزا دے گا۔ عطاء نے کہا تین دن بھوکا رہنے پر جزا دے گا۔ یہ نذر کے دن ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنے، اللہ تعالیٰ کی معصیت اورس کے محارم سے بچنے پر صبر کنے پر جزا دے گا۔ مامصدریہ ہے یہ تعبیر اس صورت میں ہوگی کہ یہ آیت تمام نیک لوگوں اور جس نے اچھا کیا اس کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عمر نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے صبر کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا، صبر کی چار صورتیں ہیں۔ پہلے صدمہ پر صبر۔ 2۔ فرائض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقہم نضرۃ وسرورا اور ان کے سامنے تازگی اور خوشی لائے گا یعنی تازگی ہوگی ان کے چہروں میں اور خوشی ہوگی ان کے سینوں میں۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت ولقہم نضرۃ وسرورا یعنی ان کے چہروں میں تازگی عطا فرمادے گا۔ ” وسرورا “ اور ان کے سینوں اور دلوں میں خوشی ڈال دے گا۔
21۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقہم نضرۃ وسرورا سے مراد ہے کہ ان کے چہروں میں تازگی اور ان کے دلوں میں وشی عطا فرمادے گا۔ آیت وجزہم بما سبروا وجنۃ وحریرا۔ اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی پوشاکیں گے گا اور صبر، دو صبر ہیں ایک…
Read the full tafseer →[وَجَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا : اور اس نے بدلے میں دیا ان کو بسبب اس کے جو وہ ثابت قدم رہے ] [جَنَّةً وَّحَرِيْرًا : ایک باغ اور باریک ریشم ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
﴿وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِيْرًاۙ0012﴾ (اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صبر کی وجہ سے جنت عطا فرمائے گا اور ریشمی لباس) ﴿مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ 1ۚ﴾ (اس میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے) ۔ ﴿ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِيْرًاۚ0013﴾ (اس میں نہ دھوپ دیکھیں گے اور نہ ٹھنڈک) یعنی وہاں کی فضا پر کیف ہوگی گرمی اور دھوپ کی تپش اور کسی طرح کی سردی اور ٹھنڈک محسوس نہ ہوگی۔ ﴿ بِمَا صَبَرُوْا ﴾ جو فرمایا اس کا عموم تینوں قسم کے صبر کو شامل ہے طاعات پر جمنا (یعنی احکام کی پابندی کرنا) اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے رکھنا اور مصائب اور مکروہات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
10:۔ ” وجزاھم “ ایمان وطاعت پر ثابت قدم رہنے اور اللہ کی راہ میں شدائد و مصائب برداشت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت اور ریشمی لباس بطور جزاء وانعام عطاء فرمائے گا۔ متکئین، ھم ضمیر منصوب سے حال ہے۔ ارائک، رایکۃ کی جمع ہے یعنی تکیہ دار تخت جو پر تکلف فروش اور پرندوں سے آراستہ ہوں۔ شمس، گرمی، دھوپ۔ زمہریر، سردی۔ اھل جنت پر تکلف اور عالیشان تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور جنت میں وہ سردی اور گرمی کی شدت کا نام و نشان نہیں پائیں گے یعنی وہ گرمی اور سردی کی ایذاء و مضرت سے محفوظ رہیں گے۔
Read the full tafseer →وَجَزٰىہُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِيْرًا 12 ۙ
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…
Read the full tafseer →وَجَزٰھُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا۔ (الدہر : 12)
(اور ان کے صبر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ )
صبر کی صفت کا صلہ
جنت سے مراد جنت کی ساری نعمتیں اور وہ عیش دوام ہے جس سے اہل جنت بہرہ مند ہوں گے اور حریر سے مراد بیش قیمت لباس، اعلیٰ رہائش گاہیں اور وہ بڑے بڑے مناصب ہیں جن سے اہل جنت کی عزت افزائی کی جائے گی اور یہ سب کچھ انھیں اس لیے ملے گا کہ انھوں نے دنیا میں صبر دکھایا۔ ایمان لانے کے بعد ہر طرح کی مخالفتوں سے واسطہ پڑا۔ کبھی ڈرایا گیا، کبھی بہکایا گیا، لیکن ان کے ضبط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ دنیوی معاملات میں ناجائز خواہشوں کو دبا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔
نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…
Read the full tafseer →صبر کا بدلہ ملے گا :
12 : وَجَزٰھُمْ بِمَا صَبَرُوْا (اور ان کی پختگی کے بدلہ میں ان کو ان کا رب دے گا) ایثار پر جمے رہنے کی وجہ سے۔ یہ آیت علی و فاطمہ اور فضہ (لونڈی) ؓ کے متعلق اتری جب حسن و حسین ؓ بیمار ہوگئے تو انہوں نے تین دنوں کی نذر مانی، علی ؓ نے ایک یہودی سے تین صاع جو لیے۔ فاطمہ ؓ نے ہر روز ایک صاع پیس کر آٹا گوندھا۔ اور انہوں نے افطار کے وقت میں آنے والے مسکین، یتیم، اسیر کو روٹیاں دے دیں اور خود پانی سے روزہ افطار کیا۔ (قال الحکیم الترمذی، ھذا الحدیث مزوق فھذا وا شباھہ عامتھا مفتعلۃ نوادر الاصول : 246، 247) ۔ جَنَّۃً (باغ جس میں خوشگوار کھانے کی اشیاء ہوں گی) وَّ حَرِیْرًا (اور…
Read the full tafseer →11 ۔” فوقاھم اللہ شر ذلک الیوم “ جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ ” ولقاھم نضرۃ “ ان کے چہروں میں حسن ” وسرورا “ ان کے دلوں میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…
Read the full tafseer →(وَجَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا) یعنی ان کی جزا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انہوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اس سبب سے بھی کہ انہوں نے اللہ کی تکلیف دہ قضا وقدر پر صبر کیا اس پر ناراضی کا اظہار نہی کیا۔ (جنۃ) جنت ہے۔ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے۔ (وَّحَرِيْرًا) اور ریشم ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا (ولباسھم فیھا حریر۔ الحج۔ 23) اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہوگا جو صاحب لباس کے حالت پر دلالت کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →17 راہ حق پر صبر و استقامت کا صلہ و بدلہ جنت اور اس کی نعیم مقیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا رب ان کو جنت اور ریشمی لباس سے نؤازے گا ۔ اس بناء پر کہ انہوں نے صبر و استقامت سے کام لیا اپنی دنیاوی زندگی میں۔ سو وہ زندگی بھر اس راہ حق و صواب پر قائم اور ثابت قدم رہے، اور اسی کے مطابق وہ تمام طاعات و عبادات بجا لاتے رہے، اور معاصی وذنوب سے اپنے مقدور کی حد تک بچتے رہے، اور مشکلات و مصائب پر صبر و ضبط سے کام لیتے رہے سو راہ حق صواب پر صبر و ثبات اور پختگی و استقامت فلاح و نجات کی شہ کلید ہے، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو مومن کی پوری زندگی ہی از اول تا آخر صبر و ثبات اور اخلاص و استقامت ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–22
اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں
تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی اللہ و رسول ﷺ کے عائد کردہ احکام بجالائے تھے اور ان کی منع کردہ چیزوں سے بازر ہے تھے۔14 جس کا پہننا ان پر دنیا میں حرام کیا گیا تھا اور انہوں نے کبھی اسے نہ پہنا تھا۔
Read the full tafseer →(76:12) وجزہم بما صبروا جنۃ وحریرا۔ واؤ عاطفہ۔ جزی ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب (مفعول اول) ان کو۔ ب سببیہ۔ ما موصولہ۔ صبروا صلہ اور وہ ان کو صبر کے بدلہ میں عطا کرے گا۔ جنۃ : جنت۔ مفعول دوم ۔ وحریرا اور ریشمی لباس مفعول سوم۔ حریر۔ رشیم (اسم ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →(ف 3) یعنی یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کرکے معاصی سے رکے اور اطاعت پر جمے رہے تھے اس لیے اللہ نے ان کو عیش کرنے کے لیے جنت کے باغ اور ریشمی لباس مرحمت فرمائے۔
Read the full tafseer →[8] یعنی یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کر کے معاصی سے رکے رہے اور طاعت پر جمے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…
Read the full tafseer →(12) اور ان لوگوں کو ان کے صبر و استقلال اور ان کی پختگی اور استقامت فی الدین کے صلے میں جنت ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا خلاف اخلاص اور ابتغاء مرضاة کے منافی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(تو بچالیا انہیں اللہ تعالیٰ ) (نے اس دن کی خرابی سے اور عطا کی انہیں تروتازگی) یعنی خوبروئی (اور خوشی) یعنی دل کی فرحت (اور ثواب دیا انہیں) بسبب اس کے (جو انہوں نے صبر کیا تھا) طاعت پر معصیت سے۔ یا۔۔۔ خود ضرورتمند ہوتے ہوئے دوسرے محتاجوں کو کھانا کھلا دیا اور خود صرف پانی پی کر رہ گئے تو اس صبر کا انہیں بدلہ دیا (جنت اور ریشمی لباس کا) تاکہ وہ جنت کے میوے کھائیں اور ریشمی کپڑے پہنیں اور رہیں اس حال میں کہ ۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives.
عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
16 Here the word sabr (patience) has been used in a very comprehensive sense. The whole worldly life of the righteous believers in fact has been described as a life of patience. From the time a man attains discretion, or believes, till death;' his suppressing of unlawful desires, adhering to the bounds set by Allah, carrying out the duties enjoined by Him, sacrificing his time, his wealth, his effort, powers and abilities, even his life if so required, ignoring every greed and temptation, which might turn him away from Allah's way, meeting every danger and enduring every hardship faced on the…
Read the full tafseer →