Al-Insaan 76:13

Al-Insaan · from ayah 13

76:13

مُّتَّكِـِٕیْنَ فِیْهَا عَلَی الْاَرَآىِٕكِ ۚ— لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِیْرًا ۟ۚمُّتَّكِئِـيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآئِكِ‌ۚ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا شَمۡسًا وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا‌ۚ

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will be] reclining therein on adorned couches. They will not see therein any [burning] sun or [freezing] cold.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:13

وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہونگے نہ اُنہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹھر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ان باغوں میں آرام دہ اونچی نشستوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، جہاں نہ دھوپ کی تپش دیکھیں گے اور نہ کڑا کے کی سردی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ لوگ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں دھوپ کی تپش پائیں گے اور نہ سردی کی شدّت،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ اس میں سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدّت) دیکھیں گے اور نہ سردی کی شدت

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ٹیک لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر۔ نہ اس میں گرمی کے آزار سے دوچار ہوں گے نہ سردی کے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس جنت میں یہ لوگ اونچی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے (اس پرکیف منظر میں کہ) نہ وہ وہاں پر دھوپ (کی سختی) دیکھیں گے اور نہ جاڑے کی ٹھر

— مولانا اسحاق مدنی

اس حال کہ کہ وہ وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور نہ وہاں تپش پائیں گے اور نہ سردی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس میں تختوں کے اوپر۔ نہیں دیکھیں گے وہ اس میں دھوپ کی حدت اور نہ سخت سردی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ کی تپش ہوگی نہ سردی کی شدت

— محترمہ رفعت اعجاز

There they will recline on elevated couches and will be subjected neither to the burning heat of the sun nor to bitter cold.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

wherein they will be reclining on couches, feeling neither heat of the sun nor intense cold.

— Muhammad Taqi Usmani

wherein they will be reclining on couches, feeling neither heat of the sun nor intense cold.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Reclining therein on raised couches, they will see there neither the excessive heat, nor the excessive cold.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Reclining therein upon couches, they will find there neither (heat of) a sun nor bitter cold.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will be] reclining therein on adorned couches. They will not see therein any [burning] sun or [freezing] cold.

— Saheeh International

They will recline therein on couches and they will find neither excessive heat nor cold.

— Muhammad Sarwar

Reclining therein on raised couches, they shall find therein neither (the severe heat of) the sun nor intense cold.

— Muhammad Habib Shakir

Reclining therein upon couches, they shall behold therein neither sun nor hurting cold.

— Abdul Majid Daryabadi

Reclining in the (Garden) on raised thrones, they will see there neither the sun's (excessive heat) nor (the moon's) excessive cold.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–14

سورة الدَّهْر 16 یہاں صبر بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، بلکہ در حقیقت صالح اہل ایمان کی پوری دنیوی زندگی ہی کو صبر کی زندگی قرار دیا گیا ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے کے بعد سے مرتے دم تک کسی شخص کا اپنی ناجائز خواہشوں کو دبانا، اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرنا، اللہ کے عائد کیے ہوئے فرائض کو بجا لانا، اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلتیں، حتی کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کردینا، ہر اس لالچ اور ترغیب کو ٹھکرا دینا جو اللہ کی راہ سے ہٹانے کے لیے سامنے آئے، ہر اس خطرے اور تکلیف کو برداشت کرلینا جو راہ راست پر چلنے میں پیش آئے، ہر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’سورج‘ اور ’زَمْھَرِیْر‘ نہ دیکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ، جنت کے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ ان کے سورج میں روشنی اور قوت بخشی تو ہو گی مگر اس میں حدت و تمازت نہ ہو گی۔ اسی طرح وہاں کا موسم ہمیشہ خوش گوار، معتدل اور پربہار رہے گا، خزاں کی نحوست اور باد زمہریر کے آزار سے ان کو کبھی سابقہ نہیں پیش آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم بہار، نہ سخت گرمی اور نہ کڑاکے کی سردی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–13

2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

متکئین ........................ زمھریرا گویا وہاں ان کی محفلیں منعقد ہوتی رہیں گی جن میں وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھیں گے اور سب کے سب خوشحال اور نعمتوں اور آسائشوں میں ڈوبے ہوئے ، خوشگوار موسموں میں ہوں گے جہاں نہ گرمی کی شدت ہوگی اور نہ سردیوں کی منجمد کرنے والی سردی ہوگی۔ بہرحال وہ ایک دوسرا جہاں ہوگا ۔ جس میں ہمارے جہاں والے شمس وقمرنہ ہوں گے۔ ایک نئی دنیا ہوگی یہی ہم کہہ سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 بادشاہوں کی طرح۔ 4 یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا نہ گرمی کی تکلیف نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

آیت 13{ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ } ”وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس میں تختوں کے اوپر۔“ { لَا یَرَوْنَ فِیْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِیْرًا۔ } ”نہیں دیکھیں گے وہ اس میں دھوپ کی حدت اور نہ سخت سردی۔“ زَمْہَرِیر ایسی سخت سردی کو کہتے ہیں جو انسان پر زبردست کپکپی طاری کر دے۔ چناچہ جنت میں اہل جنت کو نہ تو دھوپ کی تپش تنگ کرے گی اور نہ ہی انہیں ٹھٹھرنے والی سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا جنت میں مسلسل معتدل موسم کا سماں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 شمس سے مراد دھوپ کی حرارت اور شدت ہے جو بدن کو ناگوار محسوس ہو۔ اور زمھریر سے مراد سخت سردی ہے اور ایسا طبقہ بھی جہاں کڑاکے کی سردی ہو۔ یعنی جنت کا موسم گرمی اور سردی کی ان دونوں انتہاؤں سے پاک اور معتدل قسم کا ہوگا۔ جیسے ہمارے ہاں موسم بہار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–14

7۔ (کہ ہر وقت ہر طرح بلامشقت حاصل ہوسکیں گے) قرآن کے مخاطبین اول یاد رہے کہ عرب تھے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کی ضرورت تھی کہ جنت کی نعمتوں، لذتوں، راحتوں کی ایک ایک تفصیل ان کے مذاق کے مطابق بیان کی جائے، کلام اس سے ان کے لئے خاص طور پر مؤثر ہوگیا تھا۔ مخاطبین اول کے فہم و مذاق کی رعایت خصوصیت کے ساتھ رکھنا بلاغت کلام اور فن خطابت دونوں کے اصول اعلی میں داخل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

متکئین فیھا علی الارائک . متکئین حال ہے یعنی جنت کے اندر مسہریوں پر وہ تکیے لگائے ہوں گے۔ ارائک۔ پردہ والی مسہریاں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : صرف پلنگ ‘ بغیر پردے اور چھتری کے اور صرف چھتری۔ پردہ بغیر پلنگ کے ارائک نہیں کہلاتا ‘ پلنگ مع چھتری اور پردہ کے ہو تو ارائک کہلاتا ہے۔ (بیہقی) لا یرون فیھا شمسا ولا زمھریرا . قاموس میں ہے زمھریر چاند کی سخت سردی۔ ازمھرت الکواکبُ ۔ ستارے چمکنے لگے۔ زمہریر سے مراد سخت سردی اور شمس سے مراد سخت گرمی ہے یعنی جنت کے اندر نہ گرمی ہوگی نہ سردی بلکہ ہمیشہ معتدل ہوا رہے گی۔ ابن مبارک نے بیان کیا اور عبداللہ بن احمد نے بھی زوائد میں تخریج کی ہے کہ حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–14

(13۔ 14) اس حالت میں کہ وہ جنت میں مسہریوں پر آرام و عزت سے تکیہ لگائے ہوں گے اور نہ وہاں گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی شدت اور یہ حالت ہوگی کہ درختوں کے سائے ان کے قریب ہوں گے اور ان کے میوے ان کے اختیار میں ہوں گے کہ ہر طرح لے سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

متکئین فیھا علی الارآئک …:”شمساً“ سے مراد سخت دھوپ اور گریم اور ”زمھریراً“ سے مراد سخت سردی ہے، یعنی جنت کا موسم نہایت خوش گوار اور معتدل ہوگا، اس میں نہ تکلیف دہ گریم ہوگی نہ سردی۔ اس کے برعکس جہنم میں شدید گرمی یعنی آگ کا عذاب بھی ہوگا اور شدید سردی (زمہر پر) کا بھی، بلکہ دنیا میں شدید گرمی اور شدید سردی کا اصل بھی جہنم ہی سے ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(واشتکت النار الی ربھا فقالت یا رب ! اکل یعصی بعضاً فاذن لھا بنفسین ، نفس فی الستائ، ونفس فی الصیف ، فھو اشد ماتجدون من الحر واشد ماتجدون من الزمھریر) (بخاری ، مواقیت الصلاۃ ، باب الابراد بالظھر فی شدۃ الحر : 538)”آگ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

متکئین فیھا علی الارائک۔ ھاضمیر سے مراد جنت ہے متکئن کو ھم ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے نصب دی گئی ہے اس حال میں عامل جزی ہے صبرو اس میں عامل نہیں ہے کیونکہ صبر دنیا میں تھا اور الاتکاء آخرت میں ہوگا فراء نے کہا اگر تو چاہے تو متکئین کو صفت بنالے گویا کلام یوں ہوگی، جزاھم متکئین فیھا۔ خیموں میں پلنگوں پر، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے عربوں سے کچھ ایسے اسماء آئے ہیں جو چند صفات پر مشتمل ہیں ان میں سے ایک الاری کہ بھی ہے یہ نہیں بولا جاتا مگر ایسے پردے کیے لیے جو چارپائی پر بنایا گیا ہو انہیں میں سے ایک سجل ہے وہ پانی سے بھرا ہوا ڈول ہے جب وہ پانی سے خالی ہو تو اسے سجل نہیں کہتے، اسی طرح ذنوب ہے انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

22۔ عبد الرزاق وابن مردویہ نے زہری (رح) سے آیت لا یرون فیہا شمسا ولا زمہریرا کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے ابو سلمہ ؓ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم نے اپنے رب کی طرف شکایت کی۔ اور کہا اے میر رب ! میرا بعض حصہ بعض کو کھائے جا رہا ہے۔ تو میں سانس لوں گی۔ تو اس کے لیے ہر سال دو مرتبہ سانس مقرر کردئیے۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں پس سردی کی شدت جو تم پاتے ہو وہ جہنم کی ٹھنڈک کے سبب ہے اور گرمی کی شدت جو تم پاتے ہو وہ جہنم کی گرمی میں سے ہے۔ جہنم کے دو سانس 23۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والترمذی وابن مردویہ نے طرق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْهَا : ٹیک لگا کر بیٹھنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] [عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ : آراستہ تختوں پر ] [لَا يَرَوْنَ فِيْهَا : وہ لوگ نہیں دیکھیں گے اس میں ] [شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْرًا : کوئی سورج (دھوپ) اور نہ کوئی ٹھٹھرن ] نوٹ 1: آیت۔ 13 ۔ میں سورج اور زمہریر نہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ان کے سورج میں روشنی اور قوت بخشی تو ہوگی مگر اس میں حدت اور تمازت نہ ہوگی۔ وہاں کا موسم معتدل اور پربہار رہے گا۔ خزاں کی نحوست اور باد زمہریر (یخ ٹھنڈی ہوا) اسے ان کو کبھی سابقہ پیش نہیں آئے گا۔ (تدبر قرآن) اگلی آیت میں شاید درختوں کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–13

﴿وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِيْرًاۙ0012﴾ (اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صبر کی وجہ سے جنت عطا فرمائے گا اور ریشمی لباس) ﴿مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ 1ۚ﴾ (اس میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے) ۔ ﴿ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِيْرًاۚ0013﴾ (اس میں نہ دھوپ دیکھیں گے اور نہ ٹھنڈک) یعنی وہاں کی فضا پر کیف ہوگی گرمی اور دھوپ کی تپش اور کسی طرح کی سردی اور ٹھنڈک محسوس نہ ہوگی۔ ﴿ بِمَا صَبَرُوْا ﴾ جو فرمایا اس کا عموم تینوں قسم کے صبر کو شامل ہے طاعات پر جمنا (یعنی احکام کی پابندی کرنا) اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے رکھنا اور مصائب اور مکروہات پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

10:۔ ” وجزاھم “ ایمان وطاعت پر ثابت قدم رہنے اور اللہ کی راہ میں شدائد و مصائب برداشت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت اور ریشمی لباس بطور جزاء وانعام عطاء فرمائے گا۔ متکئین، ھم ضمیر منصوب سے حال ہے۔ ارائک، رایکۃ کی جمع ہے یعنی تکیہ دار تخت جو پر تکلف فروش اور پرندوں سے آراستہ ہوں۔ شمس، گرمی، دھوپ۔ زمہریر، سردی۔ اھل جنت پر تکلف اور عالیشان تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور جنت میں وہ سردی اور گرمی کی شدت کا نام و نشان نہیں پائیں گے یعنی وہ گرمی اور سردی کی ایذاء و مضرت سے محفوظ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْہَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ۝ 0 ۚ لَا يَرَوْنَ فِيْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِيْرًا۝ 13 ۚ تكأ المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله، ( ت ک ء ) التکاء ( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔ أيك الأَيْكُ : شجر ملتف وأصحاب الأيكة قيل : نسبوا إلى غيضة کانوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–14

ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مُّتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ ج لاَ یَرَوْنَ فِیْھَا شَمْسًا وَّلاَ زَمْھَرِیْرًا۔ (الدہر : 13) (وہ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ اس میں گرمی کے آزار سے دوچار ہوں گے، نہ سردی کے۔ ) اللہ تعالیٰ ابرار کو جنت میں ایسی شان و شوکت عطا فرمائے گا کہ وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے اور گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ ہوں گے۔ سورج سے مراد سورج کی گرمی اور تپش ہے اور زَمْھَرِیْرسے مرادسخت سردی کی اذیت ہے۔ وہاں سورج کی روشنی اور اس کی قوت بخشی تو ہوگی مگر اس میں حدت و تمازت نہ ہوگی۔ جنت کے موسم ہمیشہ خوشگوار، معتدل اور پربہار رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : مُّتَّکِئِیْنَ نحو : یہ جزاء ھمؔ کے ھم سے حال ہے۔ فِیْھَا (اس حالت میں کہ وہ تکیہ لگائے ہوئے ہونگے) ھاؔ کی ضمیر جنت کی طرف جاتی ہے۔ عَلَی الْاَرَآئِکِ (مسہریوں پر) تختے یہ اریکۃ کی جمع ہے۔ لَایَرَوْنَ (نہ پاویں گے) نحو : یہ متکئین میں ضمیر مرفوع سے حال ہے۔ ای غیررائین نہ دیکھیں گے۔ فِیْھَا (اس باغ میں) شَمْسًا وَّلَا زَمْھَرِیْرًا (تپش نہ جاڑا) کیونکہ جنت میں سورج ہے اور نہ ہی زمہریر۔ جنت کے سائے دائمی اور اس کی ہوا متعدل نہ سورج کی دھوپ کہ جو گرمی پہنچائے اور نہ شدید سردی کہ کپکپائے اور ایذاء پہنچائے۔ حدیث میں وارد ہے جنت کی ہوا متعدل ہے نہ اس میں حرارت نہ برودت (زمخشری فی الکشاف)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12 ۔” وجزاھم بما صبروا “ الل کی طاعت پر اور اس کی معصیت سے اجتناب پر۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں فقر پر اور عطا (رح) فرماتے ہیں بھوک پر۔ ” جنۃ وحریرا “ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت میں داخل کیا اور ان کو ریشم پہنایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْهَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۚ ) وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (الاتکاء) سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ والے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ (لَا يَرَوْنَ فِيْهَا) یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے۔ ( شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْرًا) دھوپ۔ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ اور نہ سخت سردی، یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گذریں گے جہاں گرمی ہوگی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہوگی نہ سردی سے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 اہل جنت کے آرام و راحت کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر یہ اونچی اونچی مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ جو نشانی و علامت ہوگی ان کی دلی راحت و سکون اور عزت و آرام کی، اللہ پاک نصیب فرمائے آمین، سو یہ خوش نصیب گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ جنت کے ان عالیشان تختوں پر بےمثال سکون و اطمینان کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں سورج کی حدت و شدت ہوگی اور نہ زمہریر کی ٹھر اور سردی، بلکہ نہایت خوشگوار و پربہار اور معتدل موسم ہوگا، دھوپ کی تپش، خزاں کی نحوست اور زمہریر کے آزار سے ان کو کبھی سابقہ پیش نہیں آئے گا، اللہ نصیب فرمائے آمین۔ سو انہوں نے چونکہ دنیاوی زندگی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 یعنی نہایت معتدل اور خوشگوار موسم ہوگا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ نے اپنے پروردگار کے حضور شکایت کی کہ میرے بعض حصے بعض حصوں کو کھاگئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دوسانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس موسم گرما میں اور دوسرا سانس موسم سرما میں تو جاڑے کی سخت سردی اور گرما کی سخت گرمی اسی کے اثر سے ہے “۔ (فتح القدیر) گویا اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے اثر سے محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:13) متکئین فیہا علی الارائک۔ جملہ حال ہے۔ جزھم کی ضمیر مفعول ہم سے۔ متکئین : اسم فاعل جمع مذکر منصوب متکئی واحد۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے کو گاؤ تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنۃ ہے الارائک اریکۃ کی جمع۔ بہت سے تخت۔ اریکۃ اس تخت کو کہتے ہیں جو مزین ہو اور جس پر پردہ لگا ہوا ہو۔ لا یرون فیہا : لا یرون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں دیکھیں گے۔ وہ نہیں پائیں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (مفعول فیہ) کا مرجع جنۃ ہے۔ شمسا مفعول دوم۔ سورج بمعنی سخت گرمی۔ ولا زمھریرا۔ مفعول سوم۔ زمھریر۔ سخت ٹھنڈ۔ مطلب یہ کہ :۔ وہاں جنت میں نہ سخت گرمی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–19

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–20

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس جنت میں مسہریوں پر آرام وعزت سے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور اس جنت میں نہ وہ سورج کی گرمی اور تپش پائیں گے اور نہ سخت سردی اور جاڑے سے دوچار ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا خلاف اخلاص اور ابتغاء مرضاة کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 13–14

(تکیہ لگائے) ہوں (اس میں تختوں پر) یعنی جنت میں آراستہ تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھیں۔ اور (نہ دیکھیں گے اس میں 9 یعنی جنت میں (دھوپ اور نہ کڑکڑاتی ٹھنڈ) مراد یہ ہے کہ بہشت کی ہوا معتدل ہوگی اور وہاں جاڑا گرمی کچھ نہ ہوگا کہ گرمی کی شدت ۔۔۔ یا ۔۔۔ جاڑے کی تیزی سے ایذا پائیں۔ (اور جھکے ہوئے ان پر اس کے ) درختوں (کے سائے اور نیچے کردیے گئے اس کے خوشے بالکل) مسخر کر کے ، کہ اس کے میوے توڑنا آسان ہوگا اور میوے توڑنے والے کو کوئی توڑنے سے منع نہیں کرے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives. عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

16 Here the word sabr (patience) has been used in a very comprehensive sense. The whole worldly life of the righteous believers in fact has been described as a life of patience. From the time a man attains discretion, or believes, till death;' his suppressing of unlawful desires, adhering to the bounds set by Allah, carrying out the duties enjoined by Him, sacrificing his time, his wealth, his effort, powers and abilities, even his life if so required, ignoring every greed and temptation, which might turn him away from Allah's way, meeting every danger and enduring every hardship faced on the…

Read the full tafseer →