Al-Insaan 76:14

Al-Insaan · from ayah 14

76:14

وَدَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا ۟وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا

ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And near above them are its shades, and its [fruit] to be picked will be lowered in compliance.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:14

جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہوگی، اور اُس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑ لیں)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکائے ہوئے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حالت یہ ہوگی کہ ان باغوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے، اور ان کے پھل مکمل طور سے ان کے آگے رام کردیے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردیے گئے ہوں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (جنت کے درختوں کے) سائے ان پر جھک رہے ہوں گے اور ان کے (میووں کے) گچھے جھک کر لٹک رہے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے خوشے تابع کردیے جائیں گے، خوب تابع کیا جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(جنت کے درختوں کے) سائے ان پر جھکے ہوں گے اور ان کے خوشے مکمل طور پر ان کے تابع فرمان بنا دیئے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

باغ جنت کے سائے ان پر جھکے ہوئے اور اسکے خوشے بالکل ان کے دست رس میں ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جھکے پڑے ہوں گے ان پر وہاں کے (درختوں کے) سائے اور پوری طرح ان کے بس (اور اختیار) میں کردیا گیا ہوگا وہاں کے پھلوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے ان کے بالکل اختیار میں ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جنت کے سائے ان کے اوپر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کے خوشے نیچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھلوں سے بھری ٹہنیاں اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

The shades of Paradise will bend over them, and its fruits will be brought within their easy reach;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And shades of gardens will be hanging low on them, and their fruits will be placed totally under their command.

— Muhammad Taqi Usmani

And shades of gardens will be hanging low on them, and their fruits will be placed totally under their command.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the shade thereof is close upon them, and the bunches of fruit thereof will hang low within their reach.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The shade thereof is close upon them and the clustered fruits thereof bow down.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And near above them are its shades, and its [fruit] to be picked will be lowered in compliance.

— Saheeh International

The shades of the garden will be closely spread over them and it will be easy for them to reach the fruits.

— Muhammad Sarwar

And close down upon them (shall be) its shadows, and its fruits shall be made near (to them), being easy to reach.

— Muhammad Habib Shakir

And close upon them will be the shades thereof, and low will hang the clusters thereof greatly.

— Abdul Majid Daryabadi

And the shades of the (Garden) will come low over them, and the bunches (of fruit), there, will hang low in humility.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–14

سورة الدَّهْر 16 یہاں صبر بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، بلکہ در حقیقت صالح اہل ایمان کی پوری دنیوی زندگی ہی کو صبر کی زندگی قرار دیا گیا ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے کے بعد سے مرتے دم تک کسی شخص کا اپنی ناجائز خواہشوں کو دبانا، اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرنا، اللہ کے عائد کیے ہوئے فرائض کو بجا لانا، اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلتیں، حتی کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کردینا، ہر اس لالچ اور ترغیب کو ٹھکرا دینا جو اللہ کی راہ سے ہٹانے کے لیے سامنے آئے، ہر اس خطرے اور تکلیف کو برداشت کرلینا جو راہ راست پر چلنے میں پیش آئے، ہر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی ان کے باغوں کے سائے ان کے سروں پر پھیلے ہوئے ہوں گے اور پھلوں کے خوشے اس طرح نکل رہے ہوں گے کہ بالکل ان کی دسترس کے اندر ہوں گے۔ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی کاوش نہیں کرنی پڑے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہوگی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے قریب ہونگی۔ اور درختوں کے پھل، گوش برآواز فرماں بردار کی طرح انسان کا جب کھانے کو جی چاہے گا تو وہ جھک کر اتنے قریب ہوجائیں گے کہ بیٹھے، لیٹے بھی انہیں توڑ لے۔ ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

3: یعنی تمام پھل ان کی دسترس اور ان کے قابو میں دے دئیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ودانیة ............................ تذلیلا ۔ یہ کہ چھاﺅں بھی قریب ہوگی اور جنت کے درختوں کے پھل بھی ان پر جھکے ہوں گے ، تو اس سے زیادہ خوشی اور مسرت اور عیش و عشرت کیا ہوسکتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تصور ہے ، خوشحالی اور فارغ البالی کا۔ یہ تو ہے اس جنت کی عمومی صورت حال جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کیا ہے ، جن کے لئے یہ صورت بیان کی گئی ہے ، جو نہایت ہی خوبصورت ہے اور روشن ہے تاکہ دنیا میں کتاب الٰہی میں پڑھ کر وہ خوش ہوں۔ ان نعمتوں اور سہولیات کی مزید تفصیلات :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے ایسی طرح لٹکے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے، لیٹے بےتکلف چن سکے (تنبیہ) شاید درختوں کی شاخوں کو یہاں ظلال سے تعبیر فرمایا ہے یا واقعی سایہ ہو۔ کیونکہ آفتاب کی دھوپ نہ سہی، کوئی دوسری قسم کا نور تو وہاں ضرور ہوگا۔ اس کے سایہ میں بہشتی تفنن تفریح کی غرض سے کبھی بیٹھنا چاہیں گے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

آیت 13{ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ } ”وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس میں تختوں کے اوپر۔“ { لَا یَرَوْنَ فِیْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِیْرًا۔ } ”نہیں دیکھیں گے وہ اس میں دھوپ کی حدت اور نہ سخت سردی۔“ زَمْہَرِیر ایسی سخت سردی کو کہتے ہیں جو انسان پر زبردست کپکپی طاری کر دے۔ چناچہ جنت میں اہل جنت کو نہ تو دھوپ کی تپش تنگ کرے گی اور نہ ہی انہیں ٹھٹھرنے والی سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا جنت میں مسلسل معتدل موسم کا سماں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

17 جنت میں روشنی کس قسم کی اور کس چیز سے ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی سائے ہوں گے اور وہ سائے خوشگوار بھی ہوں گے اور درختوں کے پھلوں کے گچھے اہل جنت کے اتنے قریب کردیئے جائیں کہ جب وہ چاہیں انہیں اپنے استعمال میں لاسکیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–14

7۔ (کہ ہر وقت ہر طرح بلامشقت حاصل ہوسکیں گے) قرآن کے مخاطبین اول یاد رہے کہ عرب تھے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کی ضرورت تھی کہ جنت کی نعمتوں، لذتوں، راحتوں کی ایک ایک تفصیل ان کے مذاق کے مطابق بیان کی جائے، کلام اس سے ان کے لئے خاص طور پر مؤثر ہوگیا تھا۔ مخاطبین اول کے فہم و مذاق کی رعایت خصوصیت کے ساتھ رکھنا بلاغت کلام اور فن خطابت دونوں کے اصول اعلی میں داخل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ودانیۃ . یعنی قرب ‘ اس کا عطف متکئین پر ہے یا لا یرون کے محل پر یعنی وہ قریب ہی دیکھیں گے یا جنۃً پر عطف ہے اور موصوف محذوف ہے یعنی ایک اور جنت اللہ عطا فرمائے گا۔ جس کے سائے قریب ہوں گے (گویا دو جنتیں عطا فرمائی جائیں گی) جیسا کہ ایک اور آیت میں آیا ہے : ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن۔ لیکن یہ مؤخر الذکر تاویل ضعیف ہے کیونکہ اس توجیہ کا اقتضاء ہے کہ پہلی جنت کے سائے قریب نہ ہوں ‘ تقسیم شرکت کے منافی ہے۔ علیھم ظللھا . یعنی ان سے جنت کے سائے قریب ہوں گے۔ و ذللت قطوفھا تذلیلا . ذُلِّلَتْ ظِلٰلُھَا سے حال ہے یا دانِیَۃً پر معطوف ہے۔ جیسے : فالق الاصباح و جعل الیل سکنًا میں جعل کا عطف فالق پر ہے یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–14

(13۔ 14) اس حالت میں کہ وہ جنت میں مسہریوں پر آرام و عزت سے تکیہ لگائے ہوں گے اور نہ وہاں گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی شدت اور یہ حالت ہوگی کہ درختوں کے سائے ان کے قریب ہوں گے اور ان کے میوے ان کے اختیار میں ہوں گے کہ ہر طرح لے سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ودانیۃ علیھم ظلھا…:”’ انیۃ“”’ نا یدنو“ (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ ”ذلت“ تابع کئے جائیں گے، جھکا دیئے جائیں گے۔ ”تذلیلاً“ تاکید ہے، خوب جھکانا۔ ”قطوف“ ”قطف“ کی جمع ہے، خوشہ، چنا ہوا پھل ، یعنی جنت کے درختوں کے سائے نہایت گھنے اور جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کے خوشے جنتیوں کے تابع اور ان کی دسترس میں ہوں گے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جس طرح چاہیں گے توڑ سکیں گے۔ انس بن مالک ؓ عنہماباین کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان فی الجنۃ الشجرۃ یسیر الراکب فی ظلھا مائۃ عام لایقطعھا) (بخاری، بدہ الخلق ، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ…: 3251)”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا مگر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ودانیۃ علیھم ظللھا۔ یعنی جنت میں درختوں کے سائے نیک لوگوں کے قریب ہوں گے وہ ان پر سایہ فگن ہوں گے۔ یہ ان نعمتوں پر اضافہ کی خاطر ہوگا اگرچہ وہاں کوئی سورج اور چاند نہیں ہوگا جس طرح ان کی کنگیاں سونے وارچاندی کی ہوں گی اگرچہ وہاں نہ کوئی میل ہوگی اور نہ پراگندگی ہوگی ایک قول یہ کیا جاتا ہے جنت میں درختوں کی بلندی سو سال کی مسافت تک ہوگی جب اللہ کا ولی اس کے پھل کی خواہش کرے گا تو وہ جھک جائیں گے یہاں تک وہ انہیں لے لے گا، دانیہ حال ہونے اور متکئین پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جس طرح تو کہتا ہے، فی الدار متکئا ومرسلہ علیہ الحجال۔ گھر میں عبداللہ ٹیک لگائے ہوئے ہے اور اس پر پردے لٹکائے گئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

29۔ فریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وہناد بن السری وعبد بن حمید وعبد اللہ بن احمد فی زوائد الزہر وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے البعث میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ آتی ودانیۃ علیہم ظللہا اور اوپر اس کے سائے جھک رہے ہوں گے۔ یعنی قریب ہوں گے آیت وذللت قطوفہا تذلیلا۔ اور پھلوں کے گوشے بہت ہی قریب لٹک رہے ہوں گے کہ جنت واے، جنت کے پھلوں میں سے کھائیں گے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے اور جس حال پر وہ چاہیں گے کھاسکیں گے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ ان کے گچھے جھک جائیں گے۔ اور وہ لوگ ان میں سے جس کیفیت پر چاہیں گے کھائیں گے۔ 30۔ عبد بن حمید نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَدَانيَةً عَلَيْهِمْ : اور نزدیک ہونے (جھکنے) والے ہوتے ہوئے ان پر ] [ظِلٰلُهَا : اس کے سائے ] [وَذُلِـلَتْ قُـطُوْفُهَا : اور مطیع کیے (جھکائے) گئے اس کے پھل ] [تَذْلِيْلًا : جیسی جھکائے جانے کا حق ہے ] (آیت۔ 14) دَانِیَۃً حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اسم الفاعل ہے۔ یہاں پر اس نے فعل کا عمل کیا ہے (دیکھیں آیت۔ 2: 54، نوٹ۔ 1) ظِلٰلُھَا اس کا فاعل ہے۔ ذُلِّلَتْ کا نائب فاعل قُطُوْفُھَا ہے۔ قُطُوْفٌ جمع مکسر ہے اس لیے فعل دُّلِّلَتْ واحد مؤنث آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ دَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا 0014﴾ (اور ان پر اس کے سائے قریب ہوں گے اور ان پر اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے) ۔ جنت میں دھوپ نام کو نہ ہوگی سایہ ہی سایہ ہوگا اور سایہ قریب بھی ہوگا اور گہرا اور گھنا بھی کما قال تعالیٰ : ﴿وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 0057﴾ اور جو پھل ملیں گے وہ ان کے اختیار میں ہوں گے، کھڑے اور لیٹے اور بیٹھے توڑ سکیں گے۔ اس کے بعد اہل جنت کے برتنوں کا تذکرہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖف 11:۔ ” و دانیۃ “ یہ جنۃ پر معطوف ہے اور جنۃ مقدر کی صفت ہے یا یہ متکئین پر معطوف ہے اور حال واقع ہے۔ قال الزجاج ھو ھال عطفا علی متکئین وقال ایضا ویجوز ان یکون صفۃ للجنۃ فالمعنی وجزاھم جنۃ دانیۃ (بحر ج 8 ص 396) ۔ جنت کے درختوں کے سائے ان سے بالکل قریب ہوں گے اور ان کے اس طرح تابع ہوں گے کہ جب وہ چاہیں گے لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہاتھ بڑھا کر آسانی سے میوے تناول کرسکیں گے۔ (وذللت) سخرت للقائم والقاعد والمتکئ (مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَدَانِيَۃً عَلَيْہِمْ ظِلٰلُہَا وَذُلِّـلَتْ قُطُوْفُہَا تَذْلِيْلًا۝ 14 دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] ، وقوله : وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] ، وتارة عن الأقرب، فيقابل بالأقصی نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–14

ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَدَانِیَۃً عَلَیْہِمْ ظِلٰـلُھَا وَذُلِّـلَتْ قُطُوْفُھَا تَذْلِیْلاً ۔ (الدہر : 14) (باغِ جنت کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور پست کردیئے گئے ہوں گے لٹکا کر اس کے خوشے۔ ) موسم کی لذت اور سایوں کی برودت سے اہل جنت اس طرح مسرور ہورہے ہوں گے کہ وہ سائے ان کے سروں پر پھیلے ہوئے ہوں گے۔ اور پھلوں کے خوشے اس طرح ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے کہ بالکل ان کی دسترس کے اندر ہوں گے۔ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی کاوش نہیں کرنی پڑے گی۔ خوش ذوق لوگ جانتے ہیں کہ پھلوں کے ڈھیر سے اچھے سے اچھا پھل اٹھا کے کھانا اور درخت سے توڑ کر پھل کھانے میں کیا فرق ہے۔ اور اگر وہ پھل انسان کی دسترس میں ہو تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا (اور یہ حالت ہوگی کہ درختوں کے سائے ان پر جھکے ہونگے) ان کے درختوں کے سائے ان کے قریب ہوں گے۔ جنت کے سائے : نحو : اس کا عطف جنۃ پر ہے۔ وجنۃ اخری دانیۃ علیھم ظلالھا۔ گویا ان سے دو باغوں کا وعدہ کیا گیا۔ کیونکہ ان کی تعریف خوف سے کی گئی۔ فرمایا : انا نخاف من ربنا۔ ہمیں اپنے رب کا خوف ہے۔ اور فرمایا ولمن خاف مقام ربہ رجنتان۔ (الرحمان۔ 46) وَذُلِّلَتْ (اور ان کے اختیار میں ہونگے) کھڑے ہونے والے اور بیٹھنے والے اور ٹیک لگانے والے کیلئے برابر ہونگے۔ ای تدنو ظلالہا علیہم فی حال تذلیل قطوفھاعلیہم ان کے سائے ان پر اس حالت میں تابع ہونگے جیسا ان کے پھلوں کا توڑنا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” متکئین “ حال پر۔ ” فیھا “ جنت میں۔ ” علی الارائک “ پردے والی سہریاں اور ” اریکۃ “ اسی وقت ہوسکتا ہے جب دونوں صفتیں جمع ہوں۔ ” لا یرون فیھا شمسا ولا زمھریرا “ یعنی گرمی اور سردی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی سورج اس کی گرمی ان کو تکلیف دے گی اور ” زمھریر “ اس کی ٹھنڈک ان کو تکلیف دے گی۔ اس لئے کہ وہ دونوں دنیا میں تکلیف دیں گی اور ” زمھریر “ سخت ٹھنڈک ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا) اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے، یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کردیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 اہل جنت کے سایوں اور ان کے پھلوں کی کیفیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جھکے ہوئے ہوں گے ان پر جنت کے سائے اور پوری طرح ان کے اختیار میں کردیا گیا ہوگا وہاں کے پھلوں کو۔ تاکہ یہ ان کو لیٹے بیٹھے جس طرح چاہیں لے سکیں، بلکہ مجاہد سے مروی ہے کہ جب جنتی کھڑا ہوگا تو وہ اسی حساب سے دور ہوجائیں گے، اور جب بیٹھے گا یا لیٹے گا تو وہ اسی انداز سے اس کے قریب ہوجائیں گے، پس نہ کسی دوری کا کوئی سوال ہوگا اور نہ کسی کانٹے وغیرہ کا کوئی خطرہ (ابن کثیر و مراغی وغیرہ) اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ سبحان اللہ، کیا کہنے جنت کی نعمتوں اور حضرت واہب مطلق کی عنایتوں کے جل جلالہ و عم نوالہ کے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–15

ف 1 تاکہ جب چاہیں، انہیں توڑ لیں اور توڑنے میں ذرا بھی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:14) ودانیۃ علیہم ظلھا : اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی حال ہے۔ دانیۃ : دنو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی قریب، نزدیک، جھکنے والی، لٹکنے والی۔ ظلھا مضاف مضاف الیہ۔ ان کے سائے جنت کے (باغوں کے) سائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جنت کے باغوں کے سائے ان پر جھک رہے ہوں گے۔ وذللت قطوفھا تذلیلا : اس کا عطف دانیۃ پر ہے جیسے فالق الاصباح وجعل الیل سکنا (6:97) میں جعل کا عطف فالق پر ہے۔ یا دانیۃ کے ذوالحال سے حال ہے اور ذوالحال کی طرف راجع ہونے والی ضمیر محذوف ہے یعنی ذللت لہم (تفسیر مظہری) ۔ ذللت ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب۔ تذلیل (تفعیل) مصدر۔ وہ پست کردی گئی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–19

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–20

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اور جنت کے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان درختوں کے پھل ان کے قریب اور ان کے اختیار میں ہوں گے ۔ یعنی درختوں کے سائے قریب ہوں گے اور پھل بالکل قریب اور مسخر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا خلاف اخلاص اور ابتغاء مرضاة کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 13–14

(تکیہ لگائے) ہوں (اس میں تختوں پر) یعنی جنت میں آراستہ تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھیں۔ اور (نہ دیکھیں گے اس میں 9 یعنی جنت میں (دھوپ اور نہ کڑکڑاتی ٹھنڈ) مراد یہ ہے کہ بہشت کی ہوا معتدل ہوگی اور وہاں جاڑا گرمی کچھ نہ ہوگا کہ گرمی کی شدت ۔۔۔ یا ۔۔۔ جاڑے کی تیزی سے ایذا پائیں۔ (اور جھکے ہوئے ان پر اس کے ) درختوں (کے سائے اور نیچے کردیے گئے اس کے خوشے بالکل) مسخر کر کے ، کہ اس کے میوے توڑنا آسان ہوگا اور میوے توڑنے والے کو کوئی توڑنے سے منع نہیں کرے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives. عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

16 Here the word sabr (patience) has been used in a very comprehensive sense. The whole worldly life of the righteous believers in fact has been described as a life of patience. From the time a man attains discretion, or believes, till death;' his suppressing of unlawful desires, adhering to the bounds set by Allah, carrying out the duties enjoined by Him, sacrificing his time, his wealth, his effort, powers and abilities, even his life if so required, ignoring every greed and temptation, which might turn him away from Allah's way, meeting every danger and enduring every hardship faced on the…

Read the full tafseer →