Al-Insaan 76:15

Al-Insaan · from ayah 15

76:15

وَیُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِیْرَاۡؔ — ۟ۙوَيُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِاٰنِيَةٍ مِّنۡ فِضَّةٍ وَّاَكۡوَابٍ كَانَتۡ قَوَارِيۡرَا

خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there will be circulated among them vessels of silver and cups having been [created] clear [as glass],

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:15

اُن کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جا رہے ہونگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا جو شیشے کے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور وہ پیالے گردش میں لائے جائیں گے جو شیشے کے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (خُدام) ان کے گرد چاندی کے برتن اور (صاف ستھرے) شیشے کے گلاس لئے پھرتے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان پر چاندی کے برتن اور آبخورے پھرائے جائیں گے، جو شیشے کے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان پر چاندی کے برتن اور شیشے کے ساغر پھرائے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے آگے گردش میں لائے جا رہے ہوں گے عظیم الشان برتن چاندی کے اور ایسے عظیم الشان پیالے جو کہ شیشے کے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے پاس لائے جائیں گے چاندی کے برتن اور گلاس جو شیشے کے ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور گردش میں ہوں گے ان پر (خدامِ جنت) چاندی کے برتنوں اور شیشے کے پیالوں کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

خدام چاندی کے پیالے لئے ہوئے ان کے ارد گرد پھر رہے ہوں گے اور شیشے کے نہایت شفاف گلاس

— محترمہ رفعت اعجاز

and there shall be passed around them vessels of silver and goblets of crystal,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Circulated among them will be vessels of silver, and cups that will be (as transparent as) crystals,

— Muhammad Taqi Usmani

Circulated among them will be vessels of silver, and cups that will be (as transparent as) crystals,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among them will be passed round vessels of silver and cups of crystal --

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Goblets of silver are brought round for them, and beakers (as) of glass

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there will be circulated among them vessels of silver and cups having been [created] clear [as glass],

— Saheeh International

They will be served with silver dishes and crystal clear goblets.

— Muhammad Sarwar

And there shall be made to go round about them vessels of silver and goblets which are of glass,

— Muhammad Habib Shakir

And brought round amongst them will be vessels of silver and also goblets of glass.

— Abdul Majid Daryabadi

And amongst them will be passed round vessels of silver and goblets of crystal,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 17 سورة زخرف آیت 71 میں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے آگے سونے کے برتن گردش کرائے جا رہے ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی وہاں سونے کے برتن استعمال ہوں گے اور کبھی چاندی گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا یعنی اہل جنت کے یہ انعامات اس سبب سے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے علی حبہ میں حرف علیٰ بمعنے مع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے جبکہ وہ کھانا خود اپنے لئے بھی ان کو محبوب اور پسند ہے۔ یہی نہیں کہ اپنے سے زائد فالتو کھانا غریبوں کو دیدیں۔ مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کا عبادت و ثبوات ہونا تو ظاہر ہے۔ قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قیدی ہے جس کو اصول شرعیہ کے مطابق قید میں رکھا گیا ہے خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم۔ مگر بہرحال اس کا کھانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی ان کے سامنے ہر وقت چاندی کے ظروف اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے اور یہ شیشہ بھی دیکھنے میں شیشہ ہو گا، حقیقت میں یہ بھی چاندی ہی کے جوہر سے بنا ہو گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

3: یعنی تمام پھل ان کی دسترس اور ان کے قابو میں دے دئیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–19

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

6 یعنی آبخورے اصل میں چاندی کے بنے ہوں گے نہایت سفید، بےداغ اور فرحت بخش، لیکن صاف و شفاف اور چمکدار ہونے میں شیشے کی طرح معلوم ہوں گے۔ ان کے اندر کی چیز باہر سے صاف نظر آئے گی۔ 7 یعنی جنتی کو جس قدر پینے کی خواہش ہوگی ٹھیک اس کے اندازے کے موافق بھرے ہوں گے کہ نہ کمی رہے نہ بچے۔ یا بہشتیوں نے اپنے دل سے جیسا اندازہ کرلیا ہوگا بلا کم وکاست اسی کے موافق آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

آیت 13{ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ } ”وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس میں تختوں کے اوپر۔“ { لَا یَرَوْنَ فِیْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِیْرًا۔ } ”نہیں دیکھیں گے وہ اس میں دھوپ کی حدت اور نہ سخت سردی۔“ زَمْہَرِیر ایسی سخت سردی کو کہتے ہیں جو انسان پر زبردست کپکپی طاری کر دے۔ چناچہ جنت میں اہل جنت کو نہ تو دھوپ کی تپش تنگ کرے گی اور نہ ہی انہیں ٹھٹھرنے والی سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا جنت میں مسلسل معتدل موسم کا سماں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

17 جنت میں روشنی کس قسم کی اور کس چیز سے ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی سائے ہوں گے اور وہ سائے خوشگوار بھی ہوں گے اور درختوں کے پھلوں کے گچھے اہل جنت کے اتنے قریب کردیئے جائیں کہ جب وہ چاہیں انہیں اپنے استعمال میں لاسکیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

8۔ یعنی پینے والوں کی ٹھیک خواہش کے مطابق (آیت) ” قواریرا من فضۃ “۔ چاندی کے شیشے کے معنی یہ ہیں۔ سفیدی چاندی کیسی ہوگی اور شفافی شیشہ کی سی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و یطاف علیھم باینیۃ من فضۃ واکواب . اکواب بغیر دستے کے آفتابے ‘ ہناد نے مجاہد کا یہی قول نقل کیا ہے۔ کانت قواریرا . کانت اگر فعل تام ہوگا تو قواریرا وکو حال کہا جائے گا یعنی وہ کوزے بنے ہوئے ہیں اور مثل بلور کے ہیں اور کانت کو اگر فعل ناقص کہا جائے تو قواریر اس کی خبر ہوگا ‘ یعنی وہ کوزے صفائی میں بلوری جام کی طرح ہیں۔ ابن جریر نے بسند عوفی حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ چاندی کے برتن ہیں جن کی صفائی شیشوں کی طرح ہے۔ سعید بن مسعود بن عبدالرزاق نے اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ اگر دنیا کی چاندی لے کر تم اسکا باریک ورق مکھی کے پر کی طرح بھی بنا لو تب بھی دوسری طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–17

(15۔ 17) اور ان کی خدمت میں چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے وہ غلمان جنت کے ہاتھوں میں ہوں گے، یا یہ کہ جن کو مناسب انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ کم ہوں گے نہ زیادہ اور جنت میں ان کو ایسا جام شراب پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

ویطاف علیھم بانیۃ …:”آنیۃ“”انائ“ کی جمع ہے، بروزن ”افعلۃ“ اور ”اکواب“”کو ب“ کی جمع ہے، برتن جس کی نہ ٹونٹی ہو نہ دستی، آبخورے۔ یعنی ان کی مجلس میں چاندی کے ایسے برتنوں اور آبخوروں کا دور چلے گا جو شیشے کے ہوں گے، ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہوگا۔ ایسے برتنوں کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، کیونکہ دنیا کی چاندی کو کوٹ کر مچھر کے بر کے برابر باریک بھی کردیا جائے تب بھی وہ شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتی۔ برتنوں کی یہ قسم جنت ہی میں ہوگی جو چاندی کی طرح سفید اور شیشے کی طرح شفاف ہوگی۔”قدروھا تقدیراً“ یعنی وہ پینے والوں کی ضرورت کے عین اندازے کے مطابق بنے ہوئے ہوں گے، نہ کم نہ زیادہ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

ویطاف علیھم بانیۃ۔۔۔ تا۔۔۔ سلسبیلا۔ ویطاف علیھم بانیۃ من فضۃ واکواب۔ جب وہ مشروب کا ارادہ کریں گے تو ان نیک لوگوں کے اوپر خدام چاندی کے برتن لے کر گھومیں گے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جنت میں جو کچھ ہے دنیا میں تو صرف ان کے نام ہی ہیں۔ جنت میں جو کچھ ہے وہ بہت ہی اعلی اور عمدہ ہے یہاں سونے کی برتنوں کی نفی نہیں کی گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ کبھی چاندی کے برتنوں میں انہیں پلایا جاتا ہے اور کبھی سونے کے برتنوں میں انہیں پلایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب۔ الزخرف 71) گردش میں ہوں گے ان پر سونے کے تھال اور جام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے چاندی کا ذکر کرکے سونے پر متنبہ کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

35۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویطاف علیہم بانیۃ من فضۃ اور ان پر چاندی کے برتن کا دور چل رہا ہوگا یعنی چاندی کی سفیدی میں شیشے کی صفائی ہوگی۔ آتی قدروھا تقدیرا جو ایک خاص انداز سے ڈھالے گئے ہوں گے۔ جو قوم کی رائے ہوگی اسی قدر ان کو بھرا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ : اور گھمائے پھرائے جائیں گے ان کے گرد (خدّام)] [بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ : ایسے برتنوں کے ساتھ جو چاندی کے ہوں گے ] [وَّاَكْوَابٍ : اور ایسے آبخوروں کے ساتھ جو ] [كَانتْ قَوَا۩رِيْرَا۟: ہوں گے شیشے کے ] (آیت۔ 15) بِاٰنِیۃٍ کے حرفِ جَرَّبِ پر عطف ہونے کی وجہ سے اَکْوَابٍ حالت جر میں آیا ہے۔ اٰنِیَۃٍ اور اَکْوَابٍ کو یُطَافُ کا نائب فاعل مان کر بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ لیکن حافظ احمد یار صاحب کی رائے ہے کہ یُطَافُ کا نائب فاعل اس میں شامل ضمیر ہے جو خُدّام کے لیے ہے۔ ترجمہ شیخ الہند کے ترجمہ میں بھی اسی لحاظ سے ترجمہ ہے۔ ہم اسی کو ترجیح دیں گے۔ قَوَارِیْرُ غیر منصرف ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِيْرَاۡۙ0015﴾ (اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آب خورے جو شیشے کے ہوں گے وہ شیشے چاندی کے ہوں گے) یعنی جن برتنوں اور آب خوروں میں یہ حضرات جنت کی شراب پئیں گے ان میں چاندی والی سفیدی ہوگی اور وہ شیشے کی طرح شفاف بھی ہوں گے۔ قال صاحب الروح فالمراد تکونت جامعة بین صفائن الزجاجاة وشفیفھا ولین الفضة وبیاضھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

12:۔ ” ویطاف علیہم “ اکواب کی دو صفتیں ذکر کی گئی ہیں۔ اول، قواریر۔ دوم، من فضۃ، وہ پیالے بنے ہوئے تو چاندی کے ہوں گے، لیکن چمک اور صفائی میں شیشہ کی مانند ہوں گے جس طرح اب بھی دھاتوں میں ایسی صفائی اور چمک پیدا کرلی جاتی ہے کہ آئینہ کی طرح ان میں سے چہرہ نظر آتا ہے۔ غلمان جنت، اہل جنت کو چاندی کے برتنوں میں ماکولات پیش کریں گے اور مشروبات چاندی کے ایسے ساغروں میں پیش کریں گے جو صفائی اور چمک میں آئینہ کی مانند ہوں گے اور ان میں مشروبات کی مقدار بالکل صحیح ان کے اشتہاء کے مطابق ہوں گی۔ نہ کم نہ زیادہ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيُطَافُ عَلَيْہِمْ بِاٰنِيَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِيْرَا۟۝ 15 ۙ طوف الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها . قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه قيل للخیال : طَيْفٌ. قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–22

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰ نِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَاْ ۔ قَوَارِیْرَاْ مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا۔ (الدہر : 15، 16) (اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔ شیشے چاندی کے ہوں گے اور انھوں نے اس کو ماپ رکھا ہوگا ٹھیک اندازے سے۔ ) اہلِ جنت کی خوش عیشی کا عالم یہ ہوگا کہ چاندی کے ظروف اور شیشے کے پیالے ان کے سامنے گردش میں رکھے جائیں گے۔ یہ شیشہ دیکھنے میں شیشہ ہوگا حقیقت میں یہ پیالے بھی چاندی کے ہوں گے جو شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔ البتہ دنیا میں ایسی شفاف چاندی کا وجود نہیں پایا جاتا۔ ایسی چاندی کے برتن صرف جنت میں پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت کے برتن : 15 : وَیُطَافُ عَلَیْھِمْ بِاٰنِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ (اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جاوینگے) ان کے خدام ان پر شراب کے جام گھمائیں گے۔ الاٰنیہ جمع اناء۔ پانی کا برتن۔ وَّاَکْوَابٍ (آبخورے) یعنی چاندی کے اکواب جمع کو ب ایسا لوٹا جس کا دستہ نہ ہو۔ کَانَتْ قَوَارِیْرا (جو شیشے کے ہونگے) یہ کان تامہ ہے۔ ای کوّنت فکانت قواریرا بتکوین اللہ۔ ان کو بنایا گیا پس وہ اللہ تعالیٰ کے بنانے سے قواریر بن گئے۔ نحو : حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔ ودانیۃ علیھم ظلالھا “ یعنی ان سے قریب ہوں گے ان کے درخت کے سائے اور ” دانیۃ “ کا نصب اللہ تعالیٰ کے قول ” متکئین “ پر عطف کی وجہ سے ہے اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” لایرون فیھا شمسا ولا زمھریر “ کی جگہ اور دیکھیں گے ” دانیۃ “ اور کہا گیا ہے مدح کی بناء پر ۔ ” وذلت “ تابع کیے گئے اور قریب کیے گئے۔ ” قطوفھا “ اس کے پھل ” تذلیلا “ وہ اس کے پھلوں کو کھائیں گے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور لیٹ کر اور ان کو توڑیں جیسے چاہیں گے جس حال پر چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے (بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَا۩رِيْرَا۟، قَوَا۩رِيْرَا۟ مِنْ فِضَّةٍ ) چاندی کے برتن اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔ یعنی ان کا مادہ چاندی کا ہوگا ان کی صفائی شیشے کی سی ہوگی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہوگی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 ان کی ہمہ وقتی خدمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے گردش میں لائے جا رہے ہوں گے وہاں کے عظیم الشان برتن۔ یعنی خدام ان برتنوں کے اندر کھانے پینے کی مختلف اشیاء لئے ان کے آگے پیچھے پھر رہے ہوں گے، جس طرح کہ دنیا میں ہوتا ہے اور آج کل یہ Service کے نام سے مشہور و معروف ہے ‘ لیکن وہاں کی ہر چیز اور ہر نعمت دنیاوی اشیاء اور نعمتوں سے کہیں بڑھ کر عمدہ اور اعلیٰ و افضل ہوگی۔ اور اس قدر کہ ان میں اشتراک اسمی کے سوا کوئی چیز مشترک نہ ہوگی، کما قال ابن عباس ؓ کل ما فی الآخرۃ لیس منہ فی الدنیا الا الاسامی اللھم انی اسئلک الجنۃ ونعیمھا وما یقرب الیھا اعوذبک من النار وجحیمھا وما یقرب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–15

ف 1 تاکہ جب چاہیں، انہیں توڑ لیں اور توڑنے میں ذرا بھی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:15) ویطاف علیہم بانیۃ من فضۃ واؤ عاطفہ ہے یہ بیان سابق کا تمتہ ہے جنتوں کے لئے رہنے سہنے اور میووں اور پھلوں کے علاوہ سامان خوردو نوش بھی شاہانہ ہوگا۔ یطاف مضارع مجہول واحد مذکر غائب اطافۃ (افعال) مصدر۔ دور چلا یا جائیگا۔ علیہم ان پر۔ یا ان میں۔ یعنی بہشتیوں میں انیۃ جمع اناء کی جیسے اکسیۃ جمع ہے کساء کی (کمبل) یا اغطیۃ جمع ہے غطاء کی، (پردہ) ۔ من بیانیہ ہے۔ فضۃ۔ چاندی۔ یعنی چاندی کے بنے ہوئے برتن۔ مطلب ہے کہ خوردونوش کی چیزیں چاندی کے بنے ہوئے برتنوں میں مہیا کی جائیں گے۔ واکواب کانت قواریرا۔ اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اور آنجورے جو شیشے کے ہوں گے۔ اکواب جمع ہے کو ب کی اس آنجورے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–19

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–20

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا خلاف اخلاص اور ابتغاء مرضاة کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 15–16

(اور دور چلایا جائے گا ان پر چاندی کے برتن کا اور جاموں کا کہ ہوں گے شیشے) اور (شیشے بھی چاندی کے) یعنی چھوٹے بڑے جام چاندی کے ہوں گے شیشے کی طرح صاف کہ ان کے اندر جو چیز ہو باہر سے نظر آئے (جس کا اندازہ کرلیا انہوں نے) یعنی پلانے والوں نے (خوب) چنانچہ۔۔۔ وہ اس کو ٹھیک اندازے پر رکھیں گے اور ہر ایک کو اس کے حوصلہ کے موافق جام دیں گے کہ اس میں وہ سیراب ہوجائے اور اس دورہ میں کمی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (and they give food, despite their love for it, to the needy, and the orphan, and the captive... 76:8). The other reason why the inmates of Paradise will receive these favours is given in this verse, that is, their feeding the needy, the orphans and the captives. عَلٰي حُبِّهٖ (despite their love for it). This would mean that they give food to the needy while they themselves love it and desire it_ not that they eat to their fill and give the left-over food to the needy and poor. That feeding the poor and orphans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 According to Az-Zukhruf: 71, vessels of gold shall be passed round to them, but here of silver. This shows that vessels of gold as well as of silver shall be passed round to them as required by the occasion. 18 That is, though silver, it will be as transparent as glass, Vessels of this kind of transparent, crystal like silver will be the special characteristic of the vessels in which drinks will be served to the people of Paradise.

Read the full tafseer →