Al-Insaan 76:16

Al-Insaan · from ayah 16

76:16

قَوَارِیْرَاۡؔ— مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا ۟قَوَارِيۡرَا۟ مِنۡ فِضَّةٍ قَدَّرُوۡهَا تَقۡدِيۡرًا‏

اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Clear glasses [made] from silver of which they have determined the measure.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:16

شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہونگے، اور ان کو (منتظمین جنت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

شیشے بھی چاندی کے جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

شیشے بھی چاندی کے جنہیں بھرنے والوں نے توازن کے ساتھ بھرا ہوگا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور شیشے بھی چاندی کے (بنے) ہوں گے جنہیں انہوں نے (ہر ایک کی طلب کے مطابق) ٹھیک ٹھیک اندازہ سے بھرا ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہوگا، انھوں نے ان کا اندازہ رکھا ہے، خوب اندازہ رکھنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شیشے بھی ایسے جو چاندی سے مرکب ہوں گے اور انہیں (منتظمین جنت نے) ایک خاص ترکیب سے بنایا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شیشے چاندی کے ہوں گے۔ ان کو انہوں نے نہایت موزوں اندازوں کے ساتھ سجایا ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

شیشے بھی وہ جو چاندی کے ہوں گے اور ان کو ساقیوں نے پورے پورے اندازے سے بھرا ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

) اور وہ) شیشے چاندی کے ہوں گے جنہیں بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ایسا شیشہ جو چاندی کا ہوگا ان کو (ساقیانِ جنت نے) بھرا ہوگا بھرپور اندازے کے مطابق۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

شیشے اور چاندی کے جو بڑے اندازے سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ (16)

— محترمہ رفعت اعجاز

goblets bright as crystal but made of silver, filled to exact measure.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__crystals (as shining as if made) of silver, measured by those (who filled them) with due measure.

— Muhammad Taqi Usmani

__crystals (as shining as if made) of silver, measured by those (who filled them) with due measure.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Qawarir) Crystal-clear, made of silver. They will determine the measure thereof.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Bright as) glass but (made) of silver, which they (themselves) have measured to the measure (of their deeds).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Clear glasses [made] from silver of which they have determined the measure.

— Saheeh International

Also there will be crystal clear goblets of silver containing the exact measure of drink which they desire.

— Muhammad Sarwar

(Transparent as) glass, made of silver; they have measured them according to a measure.

— Muhammad Habib Shakir

Godblets of silver, they shall have filled them to exact measure.

— Abdul Majid Daryabadi

Crystal-clear, made of silver: they will determine the measure thereof (according to their wishes).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الدَّهْر 18 یعنی وہ ہوگی تو چاندی کی مگر شیشے کی طرف شفاف ہوگی۔ چاندی کی یہ قسم اس دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہوگی کہ وہاں شیشے جیسی شفاف چاندی کے برتن اہل جنت کے دسترخوان پر پیش کیے جائیں گے۔ سورة الدَّهْر 19 یعنی ہر شخص کے لیے اس کی خواہش کے ٹھیک اندازے کے مطابق ساغر بھر بھر کردیے جائیں گے۔ نہ وہ اس کی خواہش سے کم ہوں گے نہ زیادہ۔ بالفاظ دیگر اہل جنت کے خدام اس قدر ہوشیار اور تمیزدار ہوں گے کہ وہ جس کی خدمت میں جام شراب پیش کریں گے اس کے متعلق ان کو پورا اندازہ ہوگا کہ وہ کتنی شراب پینا چاہتا ہے۔ (جنت کی شراب کی خصوصیات کے متعلق ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قواریرا من فضتہ دنیا میں چاندی کا برتن کشیف ہوتا ہے آئینہ کی طرح نہیں ہوسکتا اور جو کانچ سے تیار کیا جاتا ہے وہ چاندی نہیں ہوسکتا ان دونوں میں تضاد ہے مگر یہ جنت کی خصوصیت ہے کہ وہاں کی چاندی آئینہ کی طرح شفاف ہوگی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جنت میں جتنی چیزیں ملیں گی ان سب کی نظیر اور شبیہ دنیا میں بھی ملتی ہیں سوائے ان گلاسوں اور برتنوں کے جن کی ساخت چاندی سے ہے مگر آئینہ کی طرح شفاف ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ’تقدیر‘ کا مفہوم: ’قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا‘۔ یعنی یہ ظروف اور پیالے مختلف شکلوں، مختلف پیمانوں اور الگ الگ اندازوں کے بنے ہوں گے اور خدام نے ان کو نہایت قرینہ اور حسن سلیقہ سے الگ الگ خانوں میں سجا کر رکھا ہو گا تاکہ حالات، وقت، ضرورت اور مطلوب شے کی مناسبت سے جس قسم کے سیٹ کی ضرورت ہو، پیش کر سکیں۔ لفظ ’تقدیر‘ ان تمام معانی پر حاوی ہے۔ اردو میں مجھے کوئی لفظ ایسا نہ مل سکا جو ان تمام کا احاطہ کر سکے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہونگے، نہایت نفیس اور نازک۔ 16۔ 2 یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہوگی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہوجائیں، تشنگی محسوس نہ کریں اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

4: یہ جنت کی ایک عجیب خصوصیت بیان فرمائی گئی ہے کہ عام طور سے چاندی شفاف نہیں ہوتی، اس لیے چاندی کا برتن شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتا، لیکن وہاں کے یہ گلاس چاندی کے ہونے کے باوجود شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–19

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

6 یعنی آبخورے اصل میں چاندی کے بنے ہوں گے نہایت سفید، بےداغ اور فرحت بخش، لیکن صاف و شفاف اور چمکدار ہونے میں شیشے کی طرح معلوم ہوں گے۔ ان کے اندر کی چیز باہر سے صاف نظر آئے گی۔ 7 یعنی جنتی کو جس قدر پینے کی خواہش ہوگی ٹھیک اس کے اندازے کے موافق بھرے ہوں گے کہ نہ کمی رہے نہ بچے۔ یا بہشتیوں نے اپنے دل سے جیسا اندازہ کرلیا ہوگا بلا کم وکاست اسی کے موافق آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ } ”ایسا شیشہ جو چاندی کا ہوگا“ دراصل وہ آب خورے یا جام انتہائی نفیس اور شفاف crystal clear چاندی سے بنے ہوں گے ‘ لیکن دیکھنے میں وہ شیشے جیسے ہوں گے۔ { قَدَّرُوْہَا تَقْدِیْرًا۔ } ”ان کو ساقیانِ جنت نے بھرا ہوگا بھرپور اندازے کے مطابق۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 دنیا میں کئی قسم کے شیشے ایجاد ہوچکے ہیں۔ اور ایسی اشیاء بھی جو شیشے کے علاوہ ہونے کے باوجود شیشے کی طرح صاف شفاف بھی ہیں جیسے پلاسٹک کی اشیاء لیکن یہ چیزیں آتش گیر ہوتی ہیں جنت میں چاندی اور اس کے برتنوں کو شیشے کی طرح صاف شفاف بنادیا جائے گا اور یہ صنعت دنیا میں آج تک ایجاد نہیں ہوسکی اور شاید آئندہ بھی نہ ہوسکے۔ 19 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان چاندی کے شیشہ نما برتنوں کو اتنی مخصوص مقدار میں ہی بھرا جائے گا۔ جتنی پینے والے کی طلب ہوگی، نہ انہیں اور مانگنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی یہ صورت ہوگی کہ برتن میں کچھ مشروب بچ جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

8۔ یعنی پینے والوں کی ٹھیک خواہش کے مطابق (آیت) ” قواریرا من فضۃ “۔ چاندی کے شیشے کے معنی یہ ہیں۔ سفیدی چاندی کیسی ہوگی اور شفافی شیشہ کی سی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قواریرا من فضۃ . اول قواریر سے بدل ہے۔ ابن ابی حاتم کی روایت ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جنت میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ تم کو دنیا میں اس کے مشابہ چیز نہیں دی گئی ہو۔ جنت کے قواریر فضّہ کے مشابہ دنیوی قواریر ہیں۔ کلبی کا قول ہے کہ اللہ نے ہر قوم کے بلوری برتن انہی کے ملک کی مٹی سے پیدا کیے اور جنت کی زمین چاندی کی ہے اس لیے وہاں کی چاندی کے بلوری برتن ہوں گے ‘ جن سے اہل جنت پئیں گے۔ قدروھا تقدیرا . یعنی اہل جنت کی سیرابی کے اندازہ کے مطابق پلانے والے خادم (غلمان) کو زوں کی مقدارمقرر کرلیں گے ‘ نہ سیرابی کی ضرورت سے مقدار زیادہ ہوگی نہ کم۔ فریابی نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول نقل کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–17

(15۔ 17) اور ان کی خدمت میں چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے وہ غلمان جنت کے ہاتھوں میں ہوں گے، یا یہ کہ جن کو مناسب انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ کم ہوں گے نہ زیادہ اور جنت میں ان کو ایسا جام شراب پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

ویطاف علیھم بانیۃ …:”آنیۃ“”انائ“ کی جمع ہے، بروزن ”افعلۃ“ اور ”اکواب“”کو ب“ کی جمع ہے، برتن جس کی نہ ٹونٹی ہو نہ دستی، آبخورے۔ یعنی ان کی مجلس میں چاندی کے ایسے برتنوں اور آبخوروں کا دور چلے گا جو شیشے کے ہوں گے، ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہوگا۔ ایسے برتنوں کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، کیونکہ دنیا کی چاندی کو کوٹ کر مچھر کے بر کے برابر باریک بھی کردیا جائے تب بھی وہ شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتی۔ برتنوں کی یہ قسم جنت ہی میں ہوگی جو چاندی کی طرح سفید اور شیشے کی طرح شفاف ہوگی۔”قدروھا تقدیراً“ یعنی وہ پینے والوں کی ضرورت کے عین اندازے کے مطابق بنے ہوئے ہوں گے، نہ کم نہ زیادہ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

ویطاف علیھم بانیۃ۔۔۔ تا۔۔۔ سلسبیلا۔ ویطاف علیھم بانیۃ من فضۃ واکواب۔ جب وہ مشروب کا ارادہ کریں گے تو ان نیک لوگوں کے اوپر خدام چاندی کے برتن لے کر گھومیں گے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جنت میں جو کچھ ہے دنیا میں تو صرف ان کے نام ہی ہیں۔ جنت میں جو کچھ ہے وہ بہت ہی اعلی اور عمدہ ہے یہاں سونے کی برتنوں کی نفی نہیں کی گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ کبھی چاندی کے برتنوں میں انہیں پلایا جاتا ہے اور کبھی سونے کے برتنوں میں انہیں پلایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب۔ الزخرف 71) گردش میں ہوں گے ان پر سونے کے تھال اور جام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے چاندی کا ذکر کرکے سونے پر متنبہ کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

36۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت قدروہا قاف کے رفع کے ساتھ۔ 37۔ حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو قاف کے نصب کے ساتھ پڑھا۔ 38۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی فی البعث العوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چاندی کے برتن ہوں گے اور اس کی صفائی۔ شیشوں کی صفائی کی طرح ہوگی۔ آیت قدروہا تقدیرا۔ جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز میں بھرا ہوگا یعنی ان کو بھرنے کے لیے اندازہ لگایا گیا۔ جنت کے شیشے چاندی کی طرح سفید ہوں گے 39۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی البعث عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر دنیا کی چاندی میں کچھ چاندی لی جائے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَوَا۩رِيْرَا۟ مِنْ فِضَّةٍ : (وہ) شیشے چاندی کے ہوں گے ] [قَدَّرُوْهَا : (خدّام ) اندازہ مقرر کریں گے جن کا ] [تَقْدِيْرًا : جیسے اندازہ کرنے کا حق ہے ] نوٹ 2: آیت۔ 16 ۔ میں چاندی کے شیشے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوگی تو چاندی مگر شیشے کی طرح شفاف ہوگی۔ چاندی کی یہ قسم اس دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہوگی کہ وہاں شیشے جیسی شفاف چاندی کے برتن اہل جنت کے دسترخوان پر ہوں گے۔ اور قَدَّرُوْ ھَا تَقْدِیْرًا کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے اس کی خواہش کے ٹھیک اندازے کے مطابق ساغر بھر بھر کر دئیے جائیں گے۔ نہ وہ اس کی خواہش سے کم ہوں گے نہ زیادہ۔ دوسرے الفاظ میں اہل جنت کے خدام اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ برتن اور آب خورے جن کا ذکر اوپر ہوا شراب سے بھرے ہوئے پیش کیے جائیں گے ان کے بھرنے اور پلانے پر جو خادم مامور ہوں گے وہ اس انداز سے انہیں پُر کریں گے کہ اس وقت جو پینے کی خواہش ہوگی اسی کے مطابق ان میں شراب بھریں گے نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے گی اور نہ اس سے کچھ بچے گا کیونکہ یہ دونوں چیزیں بےلطفی کی ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

12:۔ ” ویطاف علیہم “ اکواب کی دو صفتیں ذکر کی گئی ہیں۔ اول، قواریر۔ دوم، من فضۃ، وہ پیالے بنے ہوئے تو چاندی کے ہوں گے، لیکن چمک اور صفائی میں شیشہ کی مانند ہوں گے جس طرح اب بھی دھاتوں میں ایسی صفائی اور چمک پیدا کرلی جاتی ہے کہ آئینہ کی طرح ان میں سے چہرہ نظر آتا ہے۔ غلمان جنت، اہل جنت کو چاندی کے برتنوں میں ماکولات پیش کریں گے اور مشروبات چاندی کے ایسے ساغروں میں پیش کریں گے جو صفائی اور چمک میں آئینہ کی مانند ہوں گے اور ان میں مشروبات کی مقدار بالکل صحیح ان کے اشتہاء کے مطابق ہوں گی۔ نہ کم نہ زیادہ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَؔوَارِيْرَا۟ مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْہَا تَقْدِيْرًا۝ 16 قَوارِيرَا والقارُورَةُ معروفة، وجمعها : قَوَارِيرُ قال : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] ، وقال : رْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، أي : من زجاج . القارودۃ شیشہ جمع قواریر قرآن میں ہے : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] اور شیشے بھی چاندی کے ۔ صبح ممرد من قواریر یہ ایسا محل ہے جس میں ( نیچے ) شیشے جڑے ہوئے ہیں یعنی شیشے کا بنا ہوا ہے ۔ فض الفَضُّ : کسر الشیء والتّفریق بين بعضه وبعضه، كفَضِّ ختم الکتاب، وعنه استعیر : انْفَضَّ القومُ. قال اللہ تعالی: وَإِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–22

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰ نِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَاْ ۔ قَوَارِیْرَاْ مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا۔ (الدہر : 15، 16) (اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔ شیشے چاندی کے ہوں گے اور انھوں نے اس کو ماپ رکھا ہوگا ٹھیک اندازے سے۔ ) اہلِ جنت کی خوش عیشی کا عالم یہ ہوگا کہ چاندی کے ظروف اور شیشے کے پیالے ان کے سامنے گردش میں رکھے جائیں گے۔ یہ شیشہ دیکھنے میں شیشہ ہوگا حقیقت میں یہ پیالے بھی چاندی کے ہوں گے جو شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔ البتہ دنیا میں ایسی شفاف چاندی کا وجود نہیں پایا جاتا۔ ایسی چاندی کے برتن صرف جنت میں پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : قَوَا رِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ (وہ شیشے چاندی کے ہونگے) یعنی چاندی سے بنے ہونگے۔ وہ چاندی کی سفیدی اور اس کے حسن کے جامع ہونگے اور صفائی اور شفافیت میں شیشے جیسے ہونگے۔ اس طرح کہ باہر سے اندر کا تمام مشروب نظر آجائے گا۔ قول ابن عباس ؓ : قوار یر۔ ہر زمین کے (قوار یر) شیشے اس کی زمین سے ہوتے ہیں اور جنت کی زمین چاندی کی بنی ہے۔ قراءت : نافع، کسائی، عاصم اور ایک روایت میں ابوبکر نے تنوین دونوں میں پڑھی ہے۔ اور حمزہ، ابن عامر، ابوعمرو، حفص نے دونوں میں بلاتنوین پڑھا ہے۔ اور ابن کثیر نے اول میں تنوین۔ اور وہ تنوین بھی پہلی آیات کی مناسبت کی وجہ سے ہے۔ اور دوسری میں تنوین پہلے کی اتباع کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا) جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ یعنی ان مذکورہ برتنوں (کے حجم) کو ان کی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہوگی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انہوں نے اپنے دلوں میں کیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 اہل جنت کے برتن منفرد و بےمثال : سو اس سے اہل جنت کے برتنوں کی ایک منفرد اور بےمثال خوبی کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو یہ اہل جنت کو ملنے والی ایک خاص نعمت ہوگی، جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، کہ ان کے وہ برتن اپنی سفیدی اور رنگت میں تو چاندی کی طرح ہوں گے، مگر صفائی اور شفافیت میں شیشے کی طرح، جس سے ان کے اندر کی چیز باہر سے نظر آتی ہوگی، چناچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنت کی ہر نعمت کی نظیر کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا کے انڈر موجود ہے، سوائے چاندی کے ان برتنوں کے جو شیشے کی طرح ہوں گے، کہ دنیا میں ان کی کوئی نظیر و مثال موجود نہیں (خازن، ابن کثیر، مراغی، معارف وغیرہ)…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی ان میں پینے کی چیز ٹھیک اتنی آئے گی جتنی جنتیوں کو پینے کی خواہش ہوگی، نہ کم اور نہ زیادہ، شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی ان کی پیاس برابر “۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :” تم دنیا میں چاندی کو کوٹ کر چاہے مکھی کے پر کے برابر باریک کرلو، مگر وہ ایسی شفاف نہیں ہوسکتی کہ اس کے پیچھے سے پانی نظر آئے، لیکن جنت کی چاندی شیشے کی طرح شفاف ہوگی “۔ (فتح القدیر بحوالہ بیہقی وغیرہ )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:16) قواریرا من فضۃ یہ جملہ بدل ہے پہلے قواریرا کا جو آیت 15 میں آیا ہے قدروھا تقدیرا۔ یہ جملہ صفت ہے قواریرا کی قدروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تقدیر (تفعیل) مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع قواریرا ہے۔ وہ (یعنی اہل جنت کے خادم) پینے والوں کی خواہش کے بقدر دیں گے۔ تقدیرا مفعول مطلق ہے اور تاکیدا لایا گیا ہے۔ ویسقون فیہا۔ واؤ عاطفہ، اس کا عطف جملہ یطاف علیہم پر ہے۔ یسقون مضارع مجہول جمع مذکر غائب سقی (باب ضرب) مصدر۔ اور وہ پلائے جائیں گے۔ یعنی ان کو پینے کے لئے دیا جائیگا۔ فیہا ای فی الجنۃ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–19

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–20

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) وہ شیشے چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا۔ یعنی کھانے کے لئے چاندی کے برتن ہوں گے اور پینے کے لئے چاندی کے آبخورے ہوں گے۔ کو ب ایسے آبخورے کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو۔ چاندی کو شیشہ فرمایا یعنی یہ آبخورے ہوں گے تو چاندی کے مگر شفاف ایسے ہوں گے جیسے شیشے جس طرح شیشے سے نگاہ پار ہوجاتی ہے اور شیشے کے گلاس میں جو بھرا ہو وہ بھی باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح چاندی کے آبخورے اتنے شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئیگی۔ اور یہ بات مخصوص ہوگی جنت میں دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی پھر ان آبخوروں کو پلاتے وقت بھرنے والے اس انداز سے بھریں گے جو پینے والے کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 1۔ یعنی اس میں مشروب ایسے انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے، اور نہ اس سے بچے کہ دونوں میں بےلطفی ہوتی ہے، اور چاندی کے شیشے یہ معنی کہ سفیدی تو چاندی کی سی اور دنیا کی چاندی میں آرپار نظر نہیں آتا اور شیشہ میں یہاں ایسی سفیدی نہیں ہوتی پس یہ ایک عجیب چیز ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 15–16

(اور دور چلایا جائے گا ان پر چاندی کے برتن کا اور جاموں کا کہ ہوں گے شیشے) اور (شیشے بھی چاندی کے) یعنی چھوٹے بڑے جام چاندی کے ہوں گے شیشے کی طرح صاف کہ ان کے اندر جو چیز ہو باہر سے نظر آئے (جس کا اندازہ کرلیا انہوں نے) یعنی پلانے والوں نے (خوب) چنانچہ۔۔۔ وہ اس کو ٹھیک اندازے پر رکھیں گے اور ہر ایک کو اس کے حوصلہ کے موافق جام دیں گے کہ اس میں وہ سیراب ہوجائے اور اس دورہ میں کمی زیادتی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قَوَا۩رِيْرَا۟ مِنْ فِضَّةٍ (vessels of silver...76:16). Silver vessels in this world are dense which can never be like glass, and that which is made of glass can never be silver. Thus silver and glass are two contradictory concepts in this world. However, it is a characteristic of Paradise that its glasses will be as bright as silver, and as transparent and sparkling as crystal. Sayyidna Ibn ` Abbas said: The blessings given in Paradise have their likes in this world also, except these vessels that are made of silver, but as transparent as a mirror."

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

19 "In due measure": filled accurately according to the desire of every person, neither over-filled nor under-filled. In other words, the attendants of the dwellers of Paradise will be so judicious and discerning that they will have accurate judgement about everybody whom they serve wine as to how much of it he wishes to drink. (For the characteristics of the wine of Paradise, see As-Saaffat: 45-47 and the E.N.'s 24 to 27, Muhammad: 15 and E.N. 22, At-'tur; 23 and E.N. 18, Al-Waqi`ah: 19 and E.N. 10) .

Read the full tafseer →