Al-Insaan 76:17

Al-Insaan · from ayah 17

76:17

وَیُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًا ۟ۚوَيُسۡقَوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنۡجَبِيۡلًا

اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they will be given to drink a cup [of wine] whose mixture is of ginger

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:17

ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہیں وہاں وه جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہاں ان کو ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملا ہوا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے جس کی ملونی ادرک ہوگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہیں وہاں (شرابِ طہور کے) ایسے جام پلائے جائیں گے جن میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس میں انھیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملی ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں انہی شراب کے ایسے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ اس میں ایک اور شراب بھی پلائے جائیں گے جس میں ملونی چشمہ زنجبیل کی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انکو وہاں پر پلائے جا رہے ہوں گے شراب کے ایسے جام (پرکیف) جن کی آمیزش سونٹھ کی ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں انہیں ایسا جام (شراب) پلایا جائے گا جس میں آمیزش زنجییل کی ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کو پلایا جائے گا اس میں ایساجام کہ جس میں ملونی ہوگی سونٹھ کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو ایسی شراب بھی پلائی جائے گی جس میں سونٹھ ملی ہوئی ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

Therein they shall be served a cup flavoured with ginger,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they will be served with goblet of a drink blended with ginger,

— Muhammad Taqi Usmani

And they will be served with goblet of a drink blended with ginger,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they will be given to drink there of a cup (of wine) mixed with Zanjabil (ginger),

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There are they watered with a cup whereof the mixture is of Zanjabil,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they will be given to drink a cup [of wine] whose mixture is of ginger

— Saheeh International

They will drink cups containing (soft flowing) sparkling water

— Muhammad Sarwar

And they shall be made to drink therein a cup the admixture of which shall be ginger,

— Muhammad Habib Shakir

And therein they shall be given to drink of a cup whereof the admixture will be ginger.

— Abdul Majid Daryabadi

And they will be given to drink there of a Cup (of Wine) mixed with Zanjabil,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الدَّهْر 18 یعنی وہ ہوگی تو چاندی کی مگر شیشے کی طرف شفاف ہوگی۔ چاندی کی یہ قسم اس دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہوگی کہ وہاں شیشے جیسی شفاف چاندی کے برتن اہل جنت کے دسترخوان پر پیش کیے جائیں گے۔ سورة الدَّهْر 19 یعنی ہر شخص کے لیے اس کی خواہش کے ٹھیک اندازے کے مطابق ساغر بھر بھر کردیے جائیں گے۔ نہ وہ اس کی خواہش سے کم ہوں گے نہ زیادہ۔ بالفاظ دیگر اہل جنت کے خدام اس قدر ہوشیار اور تمیزدار ہوں گے کہ وہ جس کی خدمت میں جام شراب پیش کریں گے اس کے متعلق ان کو پورا اندازہ ہوگا کہ وہ کتنی شراب پینا چاہتا ہے۔ (جنت کی شراب کی خصوصیات کے متعلق ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–20

وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا، زنجبیل کے معروف معنے سونٹھ کے ہیں اور عرب لوگ شراب میں اس کی آمیزش کو پسند کرتے تھے اس لئے اس کو جنت میں بھی اختیار کیا گیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی چیزوں میں نام کے اشتراک کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں اس لئے وہاں کی زنجبیل کو دنیا کی زنجیل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’زنجبیل‘ اور ’سلسبیل‘: اوپر چشمۂ کافور کا ذکر ہوا۔ یہ ایک دوسرے چشمہ کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ اس میں ایک اور شراب بھی ان کو پلائی جائے گی جس میں چشمۂ زنجبیل کی ملونی ہو گی۔ یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے جس کا دوسرا نام ’سلسبیل‘ ہے۔ ناموں سے متعلق ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ ان میں مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ’زنجبیل‘ کے مشہور معنی تو سونٹھ کے ہیں لیکن نام بادنیٰ مناسبت بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ جنت اور دوزخ کی کتنی ہی چیزوں کے نام قرآن میں مذکور ہیں لیکن ان ناموں سے ان کے مسمّٰی کی حقیقت کا صحیح علم ممکن نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہ بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 زَ نْجَبِیْل (سونٹھ، خشک ادرک) کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چناچہ ان کے قہوہ میں بھی زنجبیل شامل ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور دوسری شراب گرم، جس میں زنجبیل کی ملاوٹ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

4: یہ جنت کی ایک عجیب خصوصیت بیان فرمائی گئی ہے کہ عام طور سے چاندی شفاف نہیں ہوتی، اس لیے چاندی کا برتن شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتا، لیکن وہاں کے یہ گلاس چاندی کے ہونے کے باوجود شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–19

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ایک جام شراب وہ تھا جس کی ملونی کافور ہے۔ دوسرا وہ ہوگا۔ جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ مگر یہ دنیا کی سونٹھ نہ سمجھے وہ ایک چشمہ ہے۔ جنت میں جس کو سلسبیل کہتے ہیں۔ سونٹھ کی تاثیر گرم ہے اور وہ حرارت غریزیہ میں انتعاش پیدا کرتی ہے۔ عرب کے لوگ اس کو بہت پسند کرتے تھے۔ بہرحال کسی خاص مناسبت سے اس چشمہ کو زنجبیل کا چشمہ کہتے ہیں۔ ابرار کے پیالہ میں اس کی تھوڑی سی آمیزش کی جائے گی۔ اصل میں وہ چشمہ بڑے عالی مقام مقربین کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ } ”ایسا شیشہ جو چاندی کا ہوگا“ دراصل وہ آب خورے یا جام انتہائی نفیس اور شفاف crystal clear چاندی سے بنے ہوں گے ‘ لیکن دیکھنے میں وہ شیشے جیسے ہوں گے۔ { قَدَّرُوْہَا تَقْدِیْرًا۔ } ”ان کو ساقیانِ جنت نے بھرا ہوگا بھرپور اندازے کے مطابق۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

20 پہلے کافور کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈا اور مفرح ہوتا ہے۔ اب زنجبیل یا سونٹھ کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا۔ زنجبیل کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ اہل عرب کے شوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ ایک قدرتی چشمہ ہوگا جس کے مشروب میں سونٹھ کی خوشبو تو ہوگی مگر اسکی تلخی نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ زنجبیل کے طبی فوائد آج بھی کافور ہی کے منافع کی طرح دنیا کی ہر طب میں مسلم ومشہور ہیں اور پھر وہ تو دنیا کی نہیں، جنت کی زنجبیل ہوگی۔ (آیت) ” یسقون “۔ میں اکرام وتعظیم کا پہلو اہل جنت کے لئے (آیت) ” یشربون “۔ سے بھی زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و یسقون فیھا کا سا . یطاف علیھم پر عطف ہے کاسًا سے مراد یا حقیقتاً مشروب ہے یا کاس بول کر مشروب مجازاً مراد لیا گیا ہے جیسے جری النہر ‘ نہر جاری ہوگئی ‘ یعنی پانی۔ کان مزاجھا زنجبیلا . یہ کاْس کی صفت ہے۔ سونٹھ کی آمیزش والی شراب۔ عرب کے ذوق کے لیے بہت لذیر ہوتی تھی ‘ اللہ نے بھی (انہی کے ذوق کے اعتبار سے) وعدہ فرمایا۔ حضرت ابن عباس۔ نے فرمایا : اللہ نے جنت کی جن چیزوں کا تذکرہ قرآن میں کیا ہے اور جو نام ذکر کیے ہیں ‘ ان کی مثال دنیا میں نہیں ‘ بعض کا قول ہے کہ زنجیل جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے جس کے پانی میں سونٹھ کا مزہ ہوگا۔ قتادہ نے کہا : جنتی چشمہ کا پانی اہل قربت کو بغیر آمیزش کے ملے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–17

(15۔ 17) اور ان کی خدمت میں چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے وہ غلمان جنت کے ہاتھوں میں ہوں گے، یا یہ کہ جن کو مناسب انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ کم ہوں گے نہ زیادہ اور جنت میں ان کو ایسا جام شراب پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–18

ویسقون فیھا کا سا…:”کا سا“ و پیالہ جس میں شراب ہو ، خالی پیایل کو کاس نہیں کہتے۔”مزاج“ آمیزش، بلونی، یعنی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لئے ملائی جائے۔ ”زنجیلاً“ ادرک ، سونٹھ۔”سلسبیلاً“ کے تین معانی ہیں :(1) آسانی سے حلق میں اتر جانے اولا۔ (2) تیزی سے بہنے اولا۔ (3) آسانی سے تابع ہونے والا کو دھر لے جانا چاہیں لے جائیں۔ عرب لوگ شراب کی لذت، حرارت، تلخی اور خوشبومیں اضافے کے لئے اس میں سونٹھ کی آمیزش کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتیوں کو جو جام شراب پلایا جائے گا اس میں زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ گویا جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی، جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور ایک گرم ہوگی جس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ویسقون فیھا کا سا کان مزاجھا زنجبیلا۔ کا سا سے مراد ایسا پیالہ ہے جس میں شراب ہو اس میں زنجبیل کی آمیزش ہو یا معنی ہے اللہ کے حکم میں وہ زنجبیل تھی عرب اسے شراب کو پسند کرتے تھے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہو کیونکہ اس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے کیونکہ وہ زبان کو چھیل دیتی ہے اور کھائی ہوئی چیز کو ہضم کردیتی ہے تو جو وہ اعتقاد رکھتے تھے اس کے باعث انہیں آخرت میں انتہا، درجے کی نعمت اور خوشبو کی طرف راغب کیا گیا، مسیب بن علس عورت کے ہونٹ کی صفت بیان کرتا ہے : کان طعم الزنجبیل بہ، اذا ذقتہ وسلافۃ الخمر۔ جب میں نے اسے چکھا گویا زنجبیل اور نچڑے ہوئے شراب کا ذائقہ اس میں ہے۔ مجاہد نے کہا : زنجبیل اس چشمہ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

46۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کان مزاجہا زنجبیلا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی یعنی ان کے لیے سونٹھ ملائی جائے گی۔ 47۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت کان مزاجہا زنجبیلا کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے لیے وہ چیز زیادہ پسندیدہ کرے گا جو وہ دنیا میں پیا کرتے تھے اس لیے ان کی طرف اسی طرح کی چیز لائی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا : وہ (ابرار) لوگ پلائے جائیں گے اس میں ] [كَاْسًا كَان مِزَاجُهَا : ایک ایسے پیالے سے جس کی ملاوٹ ] [زَنْجبيْلًا : ادرک ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

﴿وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًاۚ0017 عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا 0018﴾ (اور اس میں انہیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہوگا) یہ آمیزش زنجیل یعنی سونٹھ کی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایسا جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہوگی اور کبھی ایسا جام پئیں گے جس کی آمیزش رنجبیل سے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

13:۔ ” ویسقون فیہا “ اہل جنت کو وہاں ایک اور مشروب پیش کیا جائیگا جس میں عرق زنجبیل (سونٹھ) کی آمیزش ہوگی۔ جنت میں زنجبیل کا بھی ایک چشمہ جاری ہوگا جس کو سلسبیل کہا جائیگا۔ جس کے معنی خوشگوار اور آسانی کے ساتھ حلق سے اترنے والے کے ہیں۔ قال مجاھد حدیدۃ الجری سلسلۃ سھلۃ المساغ (روح) کبھی ان کو عرق کافور کی آمیزش والا اور کبھی عرق زنجبیل کی آمیزش والا مشروب پیش کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيُسْقَوْنَ فِيْہَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُہَا زَنْجَبِيْلًا۝ 17 ۚ سقی السَّقْيُ والسُّقْيَا : أن يعطيه ما يشرب، والْإِسْقَاءُ : أن يجعل له ذلک حتی يتناوله كيف شاء، فالإسقاء أبلغ من السّقي، لأن الإسقاء هو أن تجعل له ما يسقی منه ويشرب، تقول : أَسْقَيْتُهُ نهرا، قال تعالی: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال : وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ( س ق ی ) السقی والسقیا کے معنی پینے کی چیز دینے کے ہیں اور اسقاء کے معنی پینے کی چیز پیش کردینے کے ہیں تاکہ حسب منشا لے کر پی لے لہذا اسقاء ینسبت سقی کے زیادہ طبغ ہے کیونکہ اسقاء میں مایسقی منھ کے پیش کردینے کا مفہوم پایا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–22

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلاً ۔ عَیْنًا فِیْھَا تُشَمّٰے سَلْسَبِیْلاً ۔ (الدہر : 17، 18) (اور جنت میں انھیں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں ملونی چشمہ زنجبیل کی ہوگی۔ یہ اس میں ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ) زنجبیل اور سلسبیل کا مفہوم اس سے پہلے ایک اور شراب کا ذکر کیا گیا تھا جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔ پیش نظر آیت میں اب ایک اور شراب کا ذکر کیا جارہا ہے جو اہل جنت کو پلائی جائے گی جس میں چشمہ زنجبیل کی ملونی ہوگی۔ یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے۔ جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ زنجبیل کا معنی سونٹھ ہے۔ اہل عرب چونکہ شراب کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : وَیُسْقَوْنَ (اور ان کو پلایا جائے گا) یعنی ابرار کو فِیْھَا (اس میں) یعنی جنت میں کَاْسًا (جام شراب) کَانَ مِزَاجُھَازَنْجَبِیْلًا (اس میں سونٹھ کی ملاوٹ ہوگی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” قواریرا من فضۃ “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں شیشیوں کے صاف ہونے میں چاندی کی سفیدی مراد ہے۔ پس وہ شیشے کے صاف ہونے میں چاندی سے ہوں گی۔ انے اندر کی چیز باہر سے دیکھی جائے گی۔ کلبی (رح) (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ر قوم کے قواریران کی زمین کی مٹی سے بنائے ہیں۔ پس جنت کی زمین چادی کی ہے تو اس سے ان کے شراب کے برتن بنائے گئے جس میں وہ پئیں گے۔ ” قدروھا تقدیرا “ پیالوں کا ان کے رب نے ٹھیک اندازہ کیا ہے نہ زیادہ ہوں گے نہ کم۔ ینی ان کے لئے اندازہ کیا ہے پلانے والوں اور خادموں کا جوان پرچکر لگائیں گے وہ ان کا اندازہ کریں گے پھر پلائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا) وہاں انہیں پلائی جائے گی۔ یعنی جنت میں خالص شراب کے بھرے جام ہوں گے (كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا) جس میں ملاوٹ ہوگی سونٹھ کی۔ تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خوش گوار بن جائیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 اہل جنت کیلئے ایک اور عظیم الشان مشروب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر شراب کے ایسے جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش سونٹھ کی ہوگی۔ یعنی ایک ایسے چشمے کی جن کو وہاں پر سلسبیل کہا جائے گا۔ یعنی دنیا کی طرح وہاں سونٹھ کو پیس کر پانی میں ملانے کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ وہاں پر ایک ایسا عظیم الشان قدرتی چشمہ ہوگا جس میں سونٹھ کی خوشبو اور اس کی تاثیر تو موجود ہوگی مگر اس کی ترشی اس میں نہ ہوگی، جیسا کہ جنت کی نعمتوں کی خآصیت ہے کہ ان میں خوبی تو ہر ایک موجود ہوگی، مگر کسی طرح کا کوئی عجیب نہیں ہوگا اللھم شرفنا بھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین بہرکیف اوپر ان کیلئے چشمہ کافور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 عرب کے لوگ شراب میں سونٹھ ملانا پسند کرتے تھے تاکہ وہ خوشبودار ہوجائے۔ واضح رہے کہ جنت کی سونٹھ دنیا کی سونٹھ سے مشابہ نہ ہوگی۔ اس میں مہک اور مزا تو پایا جائے گا، لیکن وہ تیزی نہ ہوگی جو زبان یا حلق کو تکلیف دے۔ یہی حال جنت کی تمام چیزوں کا ہے۔ ان کا دنیا کی چیزوں سے صرف ناکام کا اشتراک ہے حقیقت بالکل مختلف ہے۔ نام کا اشتراک لوگوں کو ان کا تصور دلانے کے لئے ہے ورنہ حقیقت میں وہ ایسی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں ان کا خیال گزرا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:17) کان مزاجھا زنجیلا : (ایسی شراب کے) جام جن میں زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ زنجیل، سونٹھ۔ جنت میں ایک چشمہ کا نام۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 5 متذکرۃ الصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–19

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–20

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور ان کو وہاں ایسی شراب کے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 1۔ یعنی اس میں مشروب ایسے انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے، اور نہ اس سے بچے کہ دونوں میں بےلطفی ہوتی ہے، اور چاندی کے شیشے یہ معنی کہ سفیدی تو چاندی کی سی اور دنیا کی چاندی میں آرپار نظر نہیں آتا اور شیشہ میں یہاں ایسی سفیدی نہیں ہوتی پس یہ ایک عجیب چیز ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 17–18

(اور پلائے جائیں گے اس میں ) انہیں ایسے (جام) بھی (جس میں آمیزش ہے ادرک کی) یعنی اس مشروب میں زنجبیل بہشت ملائیں گے ، اس واسطے کہ زنجبیل بہ خوشی لانے والی اور بہت لذت بخشنے والی ہے۔ دراصل یہ زنجبیل (چشمہ ہے اسی جنت میں جس کا نام رکھا گیا سلسبیل) اور وہ اختیار میں ہوگا جنتی کے ، جہاں جاری کرنا چاہیں کرسکیں گے۔۔۔ اور بعضے کہتے ہیں کہ اس کا پانی حلق سے بآسانی اتر جائے گا اور جلد ہضم ہوجائے گا۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–20

وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا (And they will be served with a goblet of drink blended with ginger...76:17). The word zanjabil means 'ginger'. The Arabs loved that their drink should be mixed with ginger. Therefore, it is mentioned in the context of Paradise [ so that they are served with drinks flavoured with ginger of paradisiacal quality and splendour ]. Some scholars say that the only thing the blessings of Paradise and the blessings of this world share in common is their name, and they have nothing else in common. Therefore, the 'ginger' of this world cannot…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

19 "In due measure": filled accurately according to the desire of every person, neither over-filled nor under-filled. In other words, the attendants of the dwellers of Paradise will be so judicious and discerning that they will have accurate judgement about everybody whom they serve wine as to how much of it he wishes to drink. (For the characteristics of the wine of Paradise, see As-Saaffat: 45-47 and the E.N.'s 24 to 27, Muhammad: 15 and E.N. 22, At-'tur; 23 and E.N. 18, Al-Waqi`ah: 19 and E.N. 10) .

Read the full tafseer →