Explained with ayahs 13–22
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…
Read the full tafseer →سورة الدَّهْر 20
اہل عرب چونکہ شراب کے ساتھ سونٹھ ملے ہوئے پانی کی آمیزش کو پسند کرتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ان کو وہ شراب پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ لیکن اس کی آمیزش کی صورت یہ نہ ہوگی کہ اس کے اندر سونٹھ ملا کر پانی ڈالا جائے گا، بلکہ یہ ایک قدرتی چشمہ ہوگا جس میں سونٹھ کی خوشبو تو ہوگی مگر اس کی تلخی نہ ہوگی، اس لیے اس کا نام سلسبیل ہوگا۔ سلسبیل سے مراد ایسا پانی ہے جو میٹھا، ہلکا اور خوش ذائقہ ہونے کی بنا پر حلق سے بسہولت گزر جائے۔ مفسرین کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ یہاں سلسبیل کا لفظ اس چشمے کے لیے بطور صفت استعمال ہوا ہے نہ کہ بطور اسم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا، زنجبیل کے معروف معنے سونٹھ کے ہیں اور عرب لوگ شراب میں اس کی آمیزش کو پسند کرتے تھے اس لئے اس کو جنت میں بھی اختیار کیا گیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی چیزوں میں نام کے اشتراک کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں اس لئے وہاں کی زنجبیل کو دنیا کی زنجیل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →ان شاء اللہ ایک دن ان کی حقیقت بھی معلوم ہو جائے گی۔ اس چشمہ کا دوسرا نام ’سلسبیل‘ ہے۔ زجاج کے نزدیک اس کے معنی رواں دواں کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نام بھی محض اس کی روانی کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جواس کے گوناگوں اوصاف میں سے صرف ایک ہے۔
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی اس شراب زنجبیل کی بھی ایک نہر ہوگی جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
4: یہ جنت کی ایک عجیب خصوصیت بیان فرمائی گئی ہے کہ عام طور سے چاندی شفاف نہیں ہوتی، اس لیے چاندی کا برتن شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتا، لیکن وہاں کے یہ گلاس چاندی کے ہونے کے باوجود شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ویطاف ........................ سلسبیلا
یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک…
Read the full tafseer →9 اس نام کے معنی ہیں پانی صاف بہتا ہوا۔ کذا فی الموضح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
آیت 16{ قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ } ”ایسا شیشہ جو چاندی کا ہوگا“
دراصل وہ آب خورے یا جام انتہائی نفیس اور شفاف crystal clear چاندی سے بنے ہوں گے ‘ لیکن دیکھنے میں وہ شیشے جیسے ہوں گے۔
{ قَدَّرُوْہَا تَقْدِیْرًا۔ } ”ان کو ساقیانِ جنت نے بھرا ہوگا بھرپور اندازے کے مطابق۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
20 پہلے کافور کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈا اور مفرح ہوتا ہے۔ اب زنجبیل یا سونٹھ کی آمیزش والے مشروب کا ذکر کیا گیا۔ زنجبیل کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ اہل عرب کے شوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ ایک قدرتی چشمہ ہوگا جس کے مشروب میں سونٹھ کی خوشبو تو ہوگی مگر اسکی تلخی نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
10۔ (موتی تو رنگ کی صفائی کے لحاظ سے اور بکھرے ہوئے یوں کہ ہر وقت چلتے پھرتے رہیں گے) (آیت) ” یطوف ..... مخلدون “۔ یہ بطور خادم کے چیزیں لے لے کر ہر وقت آتے جاتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔
Read the full tafseer →عینا فیھا . اگر زنجیل کو چشمہ کا نام کہا جائے تو عینًا اس سے بدل ہوگا ورنہ کاْسًا سے بدل ہوگا اور مضاف محذوف ہوگا
یعنی مشروب عین۔
تسمی سلسبیلا . اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے ‘ جو مشروب آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جائے اور خوشگوار ہو وہ سلسبیل ہے۔ سَلْسَلَ ‘ سَلسالاً اور سَلْسَبِیْلاً (آسانی اور خوشگواری کے ساتھ حلق میں اتر گیا) بعض لوگوں کا قول ہے کہ سلسبیل میں باء زائد ہے (اصل لفظ میں سلسبیل یعنی پانچ حرف ہیں) زجاج نے سلسبیل کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہل جنت اس (چشمہ) کو جدھر چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے۔ وہ ان کی مرضی کا تابع ہوگا ‘ اس لیے اس کو سلسبیل کہا گیا ہے۔ مقاتل اور ابو العالیہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18۔ 20) یعنی ایسے چشمے سے جو جنت میں ہوگا جس کا نام وہاں سلسبیل ہوگا اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اگر محمد آپ ان کو دیکھ لیں تو سمجھیں کہ صفائی میں موتی ہیں بکھر گئے یا یہ کہ ان کی اس قدر کثرت ہوگی اگر آپ جنت کو دیکھ لیں تو ہمیشہ کی بڑی نعمت نظر آئے وہاں ان کے پاس کوئی بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہوگا۔
شان نزول : وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا (الخ)
ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس نے آپ کو پہلو پر نشان بنا دیے تھے یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق روئے، آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ویسقون فیھا کا سا…:”کا سا“ و پیالہ جس میں شراب ہو ، خالی پیایل کو کاس نہیں کہتے۔”مزاج“ آمیزش، بلونی، یعنی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لئے ملائی جائے۔ ”زنجیلاً“ ادرک ، سونٹھ۔”سلسبیلاً“ کے تین معانی ہیں :(1) آسانی سے حلق میں اتر جانے اولا۔ (2) تیزی سے بہنے اولا۔ (3) آسانی سے تابع ہونے والا کو دھر لے جانا چاہیں لے جائیں۔ عرب لوگ شراب کی لذت، حرارت، تلخی اور خوشبومیں اضافے کے لئے اس میں سونٹھ کی آمیزش کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتیوں کو جو جام شراب پلایا جائے گا اس میں زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ گویا جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی، جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور ایک گرم ہوگی جس…
Read the full tafseer →عینا فیھا تسمی سلسبیلا۔ عینا، کا سا سے بدل ہے یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے مضمر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، تقدیر کلام ہوگی یسقون عینا۔ یہ بھی جائز ہے کہ حرف جار کے حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، یعنی اصل یہ ہے من عین جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان، عینا یشرب بھاعباد اللہ۔ الانسان 6) میں یہ گفتگو گزرچکی ہے، فیھا میں ضمیر سے مراد جنت ہے۔ سلسبیلا سے مراد لذیذ شراب ہے، یہ سلالہ سے فعلیل کا وزن ہے عرب کہتے ہیں، ھذا شراب سلسل، سلسال، سلسل، سلسبیل۔ سب کا معنی ایک ہے یعنی عمدہ، لذیذ ذائقہ والی۔ صحاح میں ہے، تسلسل الماء فی الحلق۔ پانی حلق میں سے تیزی سے اتر گیا۔ سلسلہ میں نے اسے حلق میں انڈیلا۔ ماء سلسل وسلسال۔…
Read the full tafseer →48۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار چشمے جنت میں ہی : دو چشمے عرش کے نیچے سے بہتے ہیں ان میں ایک کا اللہ تعالیٰ نے اس طرح ذکر فرمایا آیت یفجرونہا تفجیرا اس کو آسانی سے بہا کرلے جائیں گے اور دوسرا زنجبیل ہے اور دو کے بارے میں فرمایا آیت عینا فیہا تسمی سلسبیلا ان دونوں باغوں میں خوب جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہوں گے ان میں سے ایک کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سلسبیل کے نام سے فرمایا اور دوسرا تسنیم ہے۔ روایت مرسل ضعیف السند ہے۔
49۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وہناد وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عینا فیہا تسمی سلسبیلا۔ وہ…
Read the full tafseer →[عَيْنًا فِيْهَا : جو ایک چشمہ ہے اس میں ] [تُسَمّٰى: اس کو نام دیا جائے گا ] [سَلْسَبِيْلًا : سلسبیل ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
﴿وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًاۚ0017 عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا 0018﴾ (اور اس میں انہیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہوگا) یہ آمیزش زنجیل یعنی سونٹھ کی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایسا جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہوگی اور کبھی ایسا جام پئیں گے جس کی آمیزش رنجبیل سے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
13:۔ ” ویسقون فیہا “ اہل جنت کو وہاں ایک اور مشروب پیش کیا جائیگا جس میں عرق زنجبیل (سونٹھ) کی آمیزش ہوگی۔ جنت میں زنجبیل کا بھی ایک چشمہ جاری ہوگا جس کو سلسبیل کہا جائیگا۔ جس کے معنی خوشگوار اور آسانی کے ساتھ حلق سے اترنے والے کے ہیں۔ قال مجاھد حدیدۃ الجری سلسلۃ سھلۃ المساغ (روح) کبھی ان کو عرق کافور کی آمیزش والا اور کبھی عرق زنجبیل کی آمیزش والا مشروب پیش کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →عَيْنًا فِيْہَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا 18
عين
ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلاً ۔ عَیْنًا فِیْھَا تُشَمّٰے سَلْسَبِیْلاً ۔ (الدہر : 17، 18)
(اور جنت میں انھیں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں ملونی چشمہ زنجبیل کی ہوگی۔ یہ اس میں ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل سے موسوم کیا جاتا ہے۔ )
زنجبیل اور سلسبیل کا مفہوم
اس سے پہلے ایک اور شراب کا ذکر کیا گیا تھا جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔ پیش نظر آیت میں اب ایک اور شراب کا ذکر کیا جارہا ہے جو اہل جنت کو پلائی جائے گی جس میں چشمہ زنجبیل کی ملونی ہوگی۔ یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے۔ جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ زنجبیل کا معنی سونٹھ ہے۔ اہل عرب چونکہ شراب کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔
نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…
Read the full tafseer →چشمہ سلسبیل :
18 : عَیْنًا یہ زنجبیل کا بدل ہے۔ فِیْھَا (جنت میں) تُسَمّٰی (ایسے چشمے سے جو وہاں ہوگا جس کا نام ہوگا) یعنی اس چشمے کا نام سَلْسَبِیْلًا (سلسبیل) چشمے کا نام زنجبیل اس لئے رکھا گیا کہ اس میں سونٹھ کا ذائقہ ہوگا۔ اہل عرب اس سے لذت حاصل کرتے اور اس کو عمدہ قرار دیتے تھے۔ اور اس کو سلسبیل اس لیے کہا کہ وہ حلق میں جلدی سے اتر جائے گا اور اس کا نگلنا آسان ہوگا۔
قول ابو عبیدہ ؓ :
ماء سلسبیل یعنی میٹھا پاکیزہ پانی۔
Read the full tafseer →17 ۔” ویسقون فیھا کا سا کان مزاجھا زنجیلا “ وہ اس کی طرف خوب خواہش کریں گے اور خوشی سے جھومیں گے اور زنجییل ان چیزوں میں سے ہے جن کو عرب بہت عمدہ سمجھتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعد کیا کہ وہ جنت میں وہ جام پلائے جائیں گے جن میں جنت کی زنجییل ملی ہوئی ہوگی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں دنیا کی زنجییل کے مشابہ نہ ہوگی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہر وہ چیز جس کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جنت اور آسمان میں ہونے کا ذکر کیا ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور کہا گیا ہے وہ جنت میں چشمہ ہے اس سے زنجییل کا ذائقہ آتا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کو صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لئے ملائی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…
Read the full tafseer →(عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا) اس جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ اس کو یہ نام اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →24 ۔ اہل جنت کے لیے چشمہ سلسبیل کی بشارت کا ذکر وبیان : ۔ سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل جنت کو ایک اور خاص چشمے سے نوازا جائے گا جس کا نام سلسبیل ہوگا۔ اس کے لذیذ اور خوشگوار ہونے کی وجہ سے، کیونکہ عرب ایسے پانی کو جو کہ لذیذ اور خوشگوار ہو سلسل سلسال اور سلسبیل کہتے ہیں، (مراغی، مدارک، صفوہ وغیرہ) بہر کیف یہ ایک اور عظیم الشان چشمہ و گا جس سے حق تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کو نوازا جائے گا جس کا نام سلسبیل ہوگا، جس کے معنی زجاج کے نزدیک رواں دواں کے ہیں، جو اس کی روانی کے اعتبار سے رکھا گیا ہے، جو کہ اس کے گوناگوں اوصاف میں سے صرف ایک وصف ہے، باقی اس کی اصل اور پوری حقیقت تو وہیں معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–22
اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں
تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 4 ” سلسبیل “ کے لفظی معنی نہایت خوشگوار اور لذیذ شراب کے ہیں اور وہ ” سلاسہ “ (خوشگواری) سے ماخوذ ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(76:18) عینا فیہا : اگر زنجیل کو چشمہکا نام کہا جائے تو عینا اس سے بدل ہوگا ورنہ کا سا سے بدل ہوگا۔ اور مضاف محذوف ہوگا۔
تسمی سلسبیلا۔ اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے جو مشروب آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جائے اور خوش گوار ہو وہ سلسبیل ہے سلسل سلسالا وسلسبیلا آسانی اور خوش گواری کے ساتھ حلق میں اتر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔
(ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…
Read the full tafseer →(18) وہ جنت میں ایک چشمہ ہوگاجس کا نام سلسبیل ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کے معنی پانی صاف بہتا ہو ۔ یعنی یہ شراب اس شراب کے علاوہ ہے جس میں کافور کی آمیزش تھی یہ سونٹھ دنیا کی سونٹھ جیسی نہ ہوگی بلکہ ایک خاص چشمہ ہے جو بڑے عالی مرتبت لوگوں کے لئے ہوگا نہایت خوشگوار لذیذ مسرت بخش اور فرحت زا، سونٹھ کا اثر گرم ہوتا ہے اور اہل عرب اس کو بہت پسند کرتے تھے قوت عزیزیہ کے لئے بہت نافع بلکہ زیادہ کرنے والی ہے اس کا نام سلسبیل ہے عام اہل جنت کی شراب میں اس کی ملونی ہوگی، یہ چشمہ نہایت صاف ستھرا اور رواں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کا منبع عرش کے نیچے جنت عدن میں ہے جنت کی شراب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 1۔ یعنی اس میں مشروب ایسے انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے، اور نہ اس سے بچے کہ دونوں میں بےلطفی ہوتی ہے، اور چاندی کے شیشے یہ معنی کہ سفیدی تو چاندی کی سی اور دنیا کی چاندی میں آرپار نظر نہیں آتا اور شیشہ میں یہاں ایسی سفیدی نہیں ہوتی پس یہ ایک عجیب چیز ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(اور پلائے جائیں گے اس میں ) انہیں ایسے (جام) بھی (جس میں آمیزش ہے ادرک کی) یعنی اس مشروب میں زنجبیل بہشت ملائیں گے ، اس واسطے کہ زنجبیل بہ خوشی لانے والی اور بہت لذت بخشنے والی ہے۔ دراصل یہ زنجبیل (چشمہ ہے اسی جنت میں جس کا نام رکھا گیا سلسبیل) اور وہ اختیار میں ہوگا جنتی کے ، جہاں جاری کرنا چاہیں کرسکیں گے۔۔۔ اور بعضے کہتے ہیں کہ اس کا پانی حلق سے بآسانی اتر جائے گا اور جلد ہضم ہوجائے گا۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا (And they will be served with a goblet of drink blended with ginger...76:17). The word zanjabil means 'ginger'. The Arabs loved that their drink should be mixed with ginger. Therefore, it is mentioned in the context of Paradise [ so that they are served with drinks flavoured with ginger of paradisiacal quality and splendour ]. Some scholars say that the only thing the blessings of Paradise and the blessings of this world share in common is their name, and they have nothing else in common. Therefore, the 'ginger' of this world cannot…
Read the full tafseer →20 This is to suit the taste of the Arabs who liked the wine flavoured with ginger-mixed water. But this flavouring will not be achieved by adding ginger-mixed water to it: it will be a natural fountain which will have the flavour of ginger but without its bitterness; Therefore, it will be called Salsabil, which implies such water as flows gently and pleasantly down the throat on account of its being sweet, light and platable. Most commentators think that the word salsabil has been used here as an adjective of the fountain and not as a name for it.
Read the full tafseer →