Explained with ayahs 13–22
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…
Read the full tafseer →سورة الدَّهْر 21
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الصفت، حاشیہ 26۔ جلد پنجم الطور، حاشیہ 19، الواقعہ حاشیہ 9۔)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا، زنجبیل کے معروف معنے سونٹھ کے ہیں اور عرب لوگ شراب میں اس کی آمیزش کو پسند کرتے تھے اس لئے اس کو جنت میں بھی اختیار کیا گیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی چیزوں میں نام کے اشتراک کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں اس لئے وہاں کی زنجبیل کو دنیا کی زنجیل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →غلمان اور ان کے اوصاف:
یہ ان کی خدمت اور ان کے آگے جام پیش کرنے والے غلمان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ غلمان ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ’مخلّد‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس وصف کے ذکر سے مقصود دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ایک اس بات کی طرف کہ نوخیز چھوکرے ہوں گے اس وجہ سے خدمت میں نہایت چاق و چوبند، چست اور سرگرم ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے جس سے ان کی مستعدی بھی برابر قائم رہے گی اور اپنے مخدوموں کی خدمت میں برابر رہنے کے سبب سے ان کے مزاج، عادت اور ذوق سے بھی اچھی طرح آشنا ہوں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ حسن خدمت میں تجربہ کو بڑا دخل ہے۔ بوڑھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان کیا جا رہا ہے ' ہمیشہ رہیں گے ' کا مطلب تو یہ ہے جنتیوں کی طرح ان خادموں کو بھی موت نہیں آئے گی۔ دوسرا یہ کہ ان کا بچپن اور ان کی رعنائی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ وہ بوڑھے نہ ہونگے نہ ان کا حسن جمال تبدیل ہوگا۔
19۔ 2 حسن و صفائی اور تازگی و شادابی میں موتیوں کی طرح ہونگے، بکھرے ہونے کا مطلب، خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے اور نہایت تیزی سے مصروف خدمت ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ویطاف ........................ سلسبیلا
یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک…
Read the full tafseer →10 یعنی ہمیشہ لڑکے رہیں گے یا جنتیوں سے کبھی چھینے نہ جائیں گے۔
11 یعنی اپنے حسن وجمال صفائی اور آب و تاب میں ادھرا دھر پھرتے ہوئے ایسے خوش منظر معلوم ہوں گے گویا بہت سے چمکدار خوبصورت موتی زمین پر بکھیر دیے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19{ وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَج } ”اور ان پر گردش میں رہیں گے ایسے لڑکے خدامِ جنت جو ہمیشہ اسی عمر اور شکل میں رہیں گے۔“
{ اِذَا رَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُــؤْلُــؤًا مَّنْثُوْرًا۔ } ”جب تم انہیں دیکھو گے تو محسوس کرو گے کہ جیسے وہ موتی ہیں بکھرے ہوئے۔“
یعنی وہ نوعمر خادم نہایت خوبصورت ہوں گے۔
Read the full tafseer →21 (يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 17 ۙ ) 56 ۔ الواقعة :17) کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکے اہل جنت کے پاس ہمیشہ موجود رہیں گے۔ کبھی غیر حاضر نہ ہوں گے۔
22 یعنی ان لڑکوں کا حسن و جمال، ان کی پاکیزگی اور نظافت، ان کی آب و تاب اور ان کے ہمہ وقت ادھر ادھر پھرنے سے یوں معلوم ہوگا کہ یہ خوبصورت موتی ہیں جو ادھر ادھر بکھیر دیئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
10۔ (موتی تو رنگ کی صفائی کے لحاظ سے اور بکھرے ہوئے یوں کہ ہر وقت چلتے پھرتے رہیں گے) (آیت) ” یطوف ..... مخلدون “۔ یہ بطور خادم کے چیزیں لے لے کر ہر وقت آتے جاتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔
Read the full tafseer →و یطوف علیھم ولدان . ولدان ‘ غلمان جن کو اہل جنت کی خدمت کے لیے اللہ پیدا کرے گا یا
کافروں کے نابالغ بچے جن کو اہل جنت کا خادم بنایا جائے گا۔
مخلدون یعنی نہ مریں گے نہ بوڑھے ہوں گے۔
اذا رایتھم حسبتھم لولوا منثورا . غلمان ‘ اہل جنت کی خدمت کے لیے منتشر ہوں گے اور منتشر
موتیوں کی طرح دکھائی دیں گے۔ غلمان کی صف بندی وجہ تشبیہ نہیں ورنہ پروئے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دی جاتی ‘ ابن مبارک اور ہناد اور بیہقی نے حضرت ابن عمرکا قول نقل کیا ہے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا جس کی خدمت میں ایک ہزار خادم لگے ہوں گے اور ہر خادم کا کام دوسرے خادم کے کام سے جدا ہوگا ‘ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ابن ابی الدنیا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18۔ 20) یعنی ایسے چشمے سے جو جنت میں ہوگا جس کا نام وہاں سلسبیل ہوگا اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اگر محمد آپ ان کو دیکھ لیں تو سمجھیں کہ صفائی میں موتی ہیں بکھر گئے یا یہ کہ ان کی اس قدر کثرت ہوگی اگر آپ جنت کو دیکھ لیں تو ہمیشہ کی بڑی نعمت نظر آئے وہاں ان کے پاس کوئی بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہوگا۔
شان نزول : وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا (الخ)
ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس نے آپ کو پہلو پر نشان بنا دیے تھے یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق روئے، آپ نے…
Read the full tafseer →ویطوف علیھم ولدان مخلدون…: یعنی جنتیوں کی مجلس میں خدمت کے لئے ایسے لڑکے گردش کرتے رہیں گے جن میں دو وصف نمایاں ہوں گے، ایک تو یہ کہ وہ ہمیشہ بچے ہی رہیں گے، کیونکہ خدمت کے لئے بڑی عمر کے آدمی کے بجائے بچے زیادہ مستعد اور موزوں ہوتے ہیں اور انہیں خدمت کے لئے کوئی کام کہنے میں حجاب نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ اتنے خوبصورت ہوں گے کہ جب تم انہیں آتے جاتے دیکھو گے تو گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ ان کی خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے ہونے کو موتیوں کے بکھرنے سے تشبیہ دی ہے۔ یہ لڑکے کوئی الگ مخلوق ہوگی، جو اللہ تعالیٰ اہل جنت کی خدمت کے لئے پید فرمائیگا یا جنتیوں کے اپنے لڑکے ہوں گے ؟ اگرچہ…
Read the full tafseer →ویطوف علیھم والدان۔۔۔ تا۔۔۔ مشکورا۔
ویطوف علیھم ولدان مخلدون۔ اس میں امر کی وضاحت کی کہ کون ان پر برتن لے کر گھومے گا ان کی وہ بچے خدمت کریں گے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے کیونکہ خدمت کرنا ان کے لیے آسان ہوتا ہے۔ مخلدون سے مراد ہے جس جوانی، حسن وبشاشت پر وہ ہیں اس پر باقی رہیں گے نہ وہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی ان میں کوئی تبدیلی ہوگی۔ وہ مرور زمانہ کے باوجود ایک ہی عمر پر رہیں گے ایک قول یہ کا گیا ہے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے انہیں کوئی موت نہیں آئے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں کنگن اور بالیاں پہنائی جائیں گی یعنی انہیں زیورپہنایا گیا ہوگا تخلیہ کا معنی زیور پہنانا ہے یہ پہلے بھی گزرچکا ہے۔
اذا…
Read the full tafseer →53۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ مومن اپنے بستر پر ہوگا اچانک ایک چیز کو دیکھے گا تو وہ اس کی طرف چل پڑے گا۔ تو وہ کہنا شروع کرے گا یہ موتی ہیں جبکہ وہ ایک حالت پر رہنے والے لڑکے ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان فرمایا اور وہ یہ آیت ہے آیت اذا رأیتہم حسبتہم لؤلؤا منثورا۔ جب تو ان کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں
Read the full tafseer →[وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ : اور گھومیں پھریں گے ان کے گرد ] [وِلْدَان مُّخَلَّدُوْنَ : ہمیشگی دیئے ہوئے کم عمر لڑکے ] [اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب بھی تو دیکھے گا ان کو ] [حَسِبْتَهُمْ : تو تُو گمان کرے گا ان کو ] [لُؤْلُؤًا مَنْثُوْرًا : بکھیرے ہوئے موتی ]
Read the full tafseer →اس کے بعد خدمت گاروں کا تذکرہ فرمایا جو شراب پلائیں گے اور دیگر خدمات انجام دیں گے۔
﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 1ۚ﴾ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہیں رہیں گے) ۔ ﴿ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا 0019﴾ (اے مخاطب اگر تو انہیں دیکھے تو یوں سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں) ۔
یعنی وہ چمک دمک میں موتی کی طرح ہوں گے اور خدمات انجام دینے میں جو ادھر ادھر آئیں جائیں گے اس کی کیفیت ایسی ہوگی جیسے بکھرے ہوئے موتی ہیں کوئی موتی یہاں رکھا ہے اور کوئی وہاں دھرا ہے۔ سورة ٴ والطور میں فرمایا :
﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
14:۔ ” ویطوف علیہم “ ان کی خدمت کے لیے حسین و جمیل لڑکے ان کے آگے پیچھے ہوں گے ان کا حسن و جمال اور جذبہ خدمت دائمی ہوگا اور ان کی خوبیوں میں کبھی کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ یہ غلمان جنت اس قدر حسین و جمیل ہوں گے کہ ان کو دیکھ کر ان کے چہروں کی صفائی اور چمک دمک کی وجہ سے ان پر سچے موتیوں کا گمان ہوگا اور ایسا معلوم ہوگا کہ جنت میں سچے اور آبدار موتی بکھرے پڑے ہیں۔ واذا رایت ثم، شرط۔ رایت نعیما الخ، جزاء۔ جبتم اس جگہ کو دیکھو گے تو وہ کوئی معمولی جگہ نہ ہوگی بلکہ وہاں تم ہر نعمت فراواں پاؤ گے اور وہاں تم ایک عظیم ملک اور سلطنت دیکھو گے۔ ہر مومن کو جو جنت ملے گی وہ اپنی جگہ ایک نہایت وسیع اور…
Read the full tafseer →وَيَطُوْفُ عَلَيْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 0 ۚ اِذَا رَاَيْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا 19
طوف
الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها .
قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…
Read the full tafseer →وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ج اِذَارَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْـثُـوْرًا۔ (الدہر : 19)
(اور ان اہل جنت کی خدمت میں ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی گمان کرو گے۔ )
اہلِ جنت کے خدام
اہلِ جنت کی خدمت کے لیے جن خدام کو لگایا جائے گا وہ بڑی عمر کے لوگ نہیں بلکہ نوخیز لڑکے ہوں گے جنھیں قرآن کریم میں غلمان کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ اپنی عمر کے اعتبار سے وہ یقینا نہایت چاک و چوبند، چست اور سرگرم ہوں گے جو خدمت کرکے لطف اٹھائیں گے اور اہل جنت ان کی خدمت کے انداز سے محظوظ ہوں گے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔
نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…
Read the full tafseer →19 : وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمدورفت کریں گے) غلمان جن کو اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی خدمت کیلئے پیدا فرمائیں گے۔ نمبر 2۔ کفار کی چھوٹی اولاد کو اہل جنت کا خادم بنادیا جائے گا۔ مُّخَلَّدُوْنَ (جوہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے) جو نہ مریں گے۔ اِذَا رَاَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ (اے مخاطب ! اگر تو ان کو دیکھے تو یوں سمجھے) حسن اور رنگت کے نکھار اور مجالس میں۔ بکھرنے کی وجہ سے لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا (وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں) موتی کو منثور ؔ یعنی بکھرنے سے خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بکھرا موتی پروئے موتی سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔
Read the full tafseer →18 ۔” عینا فیھا تسمی سلسبیلا “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں سلسلہ جو ان کے تابع ہوں جہاں چاہیں گے اس کو پھیریں گے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں تیز بہنے والا۔ ابوالعالیہ اور مقاتل بن حیان رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کا نام سلسبیل رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ ان کے راستوں اور ان کے گھروں میں بہے گا، عرش کے نیچے سے پھوٹے گا، جنت عدن سے اہل جنت کی طرف اور جنت کی شراب کا فور جیسی ٹھنڈی زنجییل کے ذائقے والی اور مشک کی خوشبو والی ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا نام سلسبیل رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ انتہائی عمدہ خوشگوار ہونے کی وجہ سے حلق میں آسانی سے اترتی چلی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کا قول ” تسمی “۔ یعنی اس کی صفت بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…
Read the full tafseer →(وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ ) یعنی اہل جنت کے پاس ان کے کھانے، انکے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے۔ (وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ) لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے ان کی ہیبت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ (اِذَا رَاَيْتَهُمْ ) جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ( حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا) تو تو ان کو خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کردے گا وہ اپنی تابع داری کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →25 ۔ خدام اہل جنت کی ایک منفرد خصوصیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ اہل جنت کے خادموں کی ایک منفرد خاصیت ہوگی کہ وہ ہمیشہ ایک ہی حال میں رہیں گے نہ وہ بوڑھے ہوں گے نہ کمزور اور نہ ان میں کوئی تبدیلی آئے گی (خازن، مدارک، جامع، مراغی اور صفوہ وغیرہ) اور لفظ مخلدوں کا عموم ان سب ہی خصال وصفات کو شامل و محیط ہے، پس ان کی عمدہ صفات ہمیشہ کے لئے اور دائمی ہو نگی، سو جنت کی دوسری تمام نعمتوں کی طرح وہاں کے یہ خادم بھی بےمثال ہوں گے اللہ نصیب فرمائے۔ آمین بہرکیف اس سے اہل جنت کے خادموں اور ان کے آگے جا مہائے شراب پیش کرنے والے لڑکوں کے اس خاص وصف کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–22
اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں
تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 4 ” سلسبیل “ کے لفظی معنی نہایت خوشگوار اور لذیذ شراب کے ہیں اور وہ ” سلاسہ “ (خوشگواری) سے ماخوذ ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(76:19) ویطوف علیہم ولدان مخلدون۔ اس جملہ کا عطف بھی یطاف علیہم پر ہے۔ یطوف مضارع واحد مذکر غائب۔ طوف (باب نصر) مصدر چکر لگائے رہیں گے۔ ان کی خدمت کے لئے گھومتے ہونگے۔
ولدان جمع ولد واحد بچے، جنت کے غلمان ۔ مخلدون، تخلید (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر۔ سدا رہنے والے۔ یعنی نہ مریں گے اور نہ بوڑھے ہوں گے۔
اذا رایتھم حسبتھم لؤلوا منثورا۔ اس میں پہلا جملہ شرط ہے اور دوسرا جملہ جواب شرط ہے۔ جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ حسبتھم ، حسبت ماضی واحد مذکر حاضر۔ حسبان (باب حسب یحسب) مصدر بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ سمجھنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو نے ان کو جانا۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔
(ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…
Read the full tafseer →(19) اور یہ چیزیں ان کے روبرو ایسے لڑکے لئے پھرتے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اے مخاطب اگر تو ان لڑکوں کو دیکھے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی خیال کرے۔ موتی سے تشبیہہ ان کی صفائی اور چمک کے اعتبار سے ہے اور بکھرے ہوئے سے تشبیہہ ان کے چلنے پھرنے کی وجہ سے فرمائی کہ وہ اہل جنت کے پاس گھومتے ہوں گے کبھی اس کے پاس کوئی چیز لے گئے کبھی اس کے پاس کوئی چیز لے گئے یہ اہل جنت کے خدمتگار ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 2۔ موتی سے تو تشبیہ صفائی اور اشراق میں اور بکھرے ہوئے کا وصف ان کے چلنے پھرنے کے لحاظ سے جیسے بکھرے موتی منتشر ہو کر کوئی ادھر جارہا ہے اور کوئی ادھر جارہا ہے اور یہ علی درجہ کی تشبیہ ہے۔
Read the full tafseer →(اور دور چلائیں گے ان پر) یعنی دورہ کریں گے ابرار اور نیک لوگوں کے گرد (لڑکے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں) اپنے بچپنے کی حالت پر جو کانوں میں بندے بالے پہنے ہوئے ہوں گے۔ (جہاں تم نے دیکھا انہیں) اے دیکھنے والے ! تو (سمجھے ) گا اور گمان کرے گا (ان کو کہ) وہ (موتی ہیں بکھیرے ہوئے) سیپ سے نکالے ہوئے ، تروتازہ کہ ہنوز کسی کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچا ہے اور ان کی رونق اور آبداری میں کچھ کمی نہیں پیدا ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا (And they will be served with a goblet of drink blended with ginger...76:17). The word zanjabil means 'ginger'. The Arabs loved that their drink should be mixed with ginger. Therefore, it is mentioned in the context of Paradise [ so that they are served with drinks flavoured with ginger of paradisiacal quality and splendour ]. Some scholars say that the only thing the blessings of Paradise and the blessings of this world share in common is their name, and they have nothing else in common. Therefore, the 'ginger' of this world cannot…
Read the full tafseer →21 For explanation, see E.N. 26 of As-Saaffat, E-N. 19 of At-Tur, E.N. 9 of Al-Wiiqi`ah.
Read the full tafseer →