Al-Insaan 76:20

Al-Insaan · from ayah 20

76:20

وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْكًا كَبِیْرًا ۟وَاِذَا رَاَيۡتَ ثَمَّ رَاَيۡتَ نَعِيۡمًا وَّمُلۡكًا كَبِيۡرًا

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when you look there [in Paradise], you will see pleasure and great dominion.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:20

وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سر و سامان تمہیں نظر آئے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) جب تم وہ جگہ دیکھو گے تو تمہیں نعمتوں کا ایک جہان اور ایک بڑی سلطنت نظر آئے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب آپ (بہشت پر) نظر ڈالیں گے تو وہاں (کثرت سے) نعمتیں اور (ہر طرف) بڑی سلطنت دیکھیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تو وہاں دیکھے گا تو نعمت ہی نعمت اور بہت بڑی بادشاہی دیکھے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جدھر بھی تم دیکھو تو نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بہت بڑی سلطنت دیکھو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے تو دیکھو گے کہ وہاں نعمتیں ہی نعمتیں ہیں اور ایک (بےمثل اور) عظیم الشان سلطنت

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم جہاں بھی دیکھو گے وہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی بادشاہی دیکھو گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بہشت میں جہاں آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت دیکھو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Whitherto you look around, you will see an abundance of bliss and the glories of a great kingdom.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you will look around there, you will see the Bliss and a magnificent realm.

— Muhammad Taqi Usmani

When you will look around there, you will see the Bliss and a magnificent realm.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when you look there (in Paradise), you will see a delight (that cannot be imagined), and a great dominion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When thou seest, thou wilt see there bliss and high estate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when you look there [in Paradise], you will see pleasure and great dominion.

— Saheeh International

If you were to see it, you would find it to be a great kingdom with great bounty.

— Muhammad Sarwar

And when you see there, you shall see blessings and a great kingdom.

— Muhammad Habib Shakir

And when thou lookest them thou shalt behold delight and a dominion magnificent.

— Abdul Majid Daryabadi

And when thou lookest, it is there thou wilt see a Bliss and a Realm Magnificent.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 22 یعنی دنیا میں خواہ کوئی شخص فقیر بےنواہی کیوں نہ رہا ہو، جب وہ اپنے اعمال خیر کی بنا پر جنت میں جائے گا تو وہاں اس شان سے رہے گا کہ گویا وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–20

وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا، زنجبیل کے معروف معنے سونٹھ کے ہیں اور عرب لوگ شراب میں اس کی آمیزش کو پسند کرتے تھے اس لئے اس کو جنت میں بھی اختیار کیا گیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی چیزوں میں نام کے اشتراک کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں اس لئے وہاں کی زنجبیل کو دنیا کی زنجیل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی جب دیکھو گے اور جہاں دیکھو گے وہیں ایک عظیم نعمت اور ایک عظیم بادشاہی کا جلوہ نظر آئے گا۔ گویا ہر قدم پر ع کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–20

19۔ 1 شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان کیا جا رہا ہے ' ہمیشہ رہیں گے ' کا مطلب تو یہ ہے جنتیوں کی طرح ان خادموں کو بھی موت نہیں آئے گی۔ دوسرا یہ کہ ان کا بچپن اور ان کی رعنائی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ وہ بوڑھے نہ ہونگے نہ ان کا حسن جمال تبدیل ہوگا۔ 19۔ 2 حسن و صفائی اور تازگی و شادابی میں موتیوں کی طرح ہونگے، بکھرے ہونے کا مطلب، خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے اور نہایت تیزی سے مصروف خدمت ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد قرآن مجید ایک نگاہ میں پورے لفظ کو نہایت مختصر الفاظ میں پیش کرتا ہے اور دعوت نظارہ دیتا ہے۔ واذا رایت ................................ کبیرا ہر طرف نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم مملکت کا سازو سامان ہوگا ، جس میں ابرار عیش کریں گے جو اللہ کے مقرب بندے ہوں گے اور یہ تو تھی جنت کی اجمالی حالت۔ یہاں بعض چیزوں کا خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے جو اس عظیم حکومتی انتظام کا مظہر ہیں گویا یہ حکومتی نظام کا نمونہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے، کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنیٰ ترین جتنی کو نصیب ہوگی۔ رَزَقْنَا اللہ مِنْہَا بمنہٖ وَفَضْلہٖ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

آیت 19{ وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَج } ”اور ان پر گردش میں رہیں گے ایسے لڑکے خدامِ جنت جو ہمیشہ اسی عمر اور شکل میں رہیں گے۔“ { اِذَا رَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُــؤْلُــؤًا مَّنْثُوْرًا۔ } ”جب تم انہیں دیکھو گے تو محسوس کرو گے کہ جیسے وہ موتی ہیں بکھرے ہوئے۔“ یعنی وہ نوعمر خادم نہایت خوبصورت ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 یعنی ایک ادنیٰ درجہ کے جنتی کو بھی جو رہائش کے لیے جنت میں جگہ ملے گی وہ بھی یوں معلوم ہوگی جیسے کسی بڑے بادشاہ کی سلطنت ہے جس میں ہر طرف اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتیں موجود ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا رایت . رأیت فعل متعدی قائم مقام لازم کے ہے ‘ فعل محذوف ہے۔ ثم . وہاں یعنی جنت میں۔ یہ رأیت کا ظرف مکان ہے۔ رایت نعیما و ملکا کبیرا . (نعیمًا میں تنوین تکثیر ہے یعنی) بڑی راحت ‘ حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ کم ترین مرتبہ والا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغات کو ‘ بیویوں کو ‘ خادموں کو اور تختوں (مسہریوں) کو ہزار برس (اور ایک روایت میں ہے دو ہزار برس) کی راہ کی مسافت سے دیکھے گا اور اس کو (اپنی حدود کا) آخری کنارہ اسی طرح نظر آئے گا جس طرح قریب ترین حصہ نظر آئے گا۔ ملکًا کبیرًا کی تشریح میں کہا گیا ہے ‘ لازوال حکومت ہوگی۔ فرشتے آکر سلام کریں گے اور باریابی کی اجازت کے خواستگار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 18–20

(18۔ 20) یعنی ایسے چشمے سے جو جنت میں ہوگا جس کا نام وہاں سلسبیل ہوگا اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اگر محمد آپ ان کو دیکھ لیں تو سمجھیں کہ صفائی میں موتی ہیں بکھر گئے یا یہ کہ ان کی اس قدر کثرت ہوگی اگر آپ جنت کو دیکھ لیں تو ہمیشہ کی بڑی نعمت نظر آئے وہاں ان کے پاس کوئی بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہوگا۔ شان نزول : وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس نے آپ کو پہلو پر نشان بنا دیے تھے یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق روئے، آپ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) واذا رایت ثم رایت نعیماً و ملکا کبیراً : اور نعمت کا حال کیا ہوگا ؟ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اول زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البدر، والذین علی ابرھم کا شد کوکب اضاء ۃ ، قلوبھم علی قلب رجل واحد، لااختلاف بینھم ولا تباعض، لکل امرہ منھم زوحنان، کل واحد منھما یری مخ ساقھا من وراء لخمیھا من الحسن ، یسبحون اللہ بکرۃ وعشیاً ، لا یسقمون ولایمتخطون، ولا ییصفون، ٓئیتھم الذھب و الفضۃ ، وامشاطھم الذھب، ووفود محاجرمرھم الالوۃ قال ابو الیمان یعنی العود و رشحھم المسک) (بخاری، بدہ ، الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ…: 3236)”پہلے گروہ کے لوگ جو جنت میں داخل ہوں گے، چودھویں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذا رایت ثم رایت نعیما وملکا کبیرا۔ ثم ظرف مکان ہے، یعنی جنت میں، ثم میں عامل رایت کا معنی ہے یعنی جب تو اپنی آنکھ سے وہاں دیکھے گا، فراء نے کہا، کلام میں مامضمر ہے تقدیر کلام یوں ہے، اذا رایت ماثم جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لقد تقطع بینکم (الانعام 94) تقدیر کلام یوں ہے مابینکم۔ زجاج نے کہا، ما، ثم کے ساتھ ملایا گیا ہے جس طرح فراء نے ذکر کیا ہے، یہ جائز نہیں کہ اسم موصول کو ساقط کیا جائے اور صلہ ترک کردیا جائے لیکن رایت معنی میں ثم کی طرف متعدی ہے معنی ہے جب تو اپنی نظر سے وہاں دیکھے گا اور ثم سے مراد جنت ہے۔ فراء نے یہ بھی ذکر کیا، نعیم سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جن سے لذت حاصل کی جاتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قیامت کے روز سب سے پہلے قبر سے نکلنا۔ 54۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے نکلنے والا ہوں جب لوگ نکلیں گے۔ اور میں ان کا قائد ہوں گا جب وہ چلیں اور میں ان کا خطیب ہوں گا جب وہ خاموش ہوں گے اور عزت و کرامت اور چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور آدم (علیہ السلام) اور اس کے علاوہ اور لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے کوئی فخر نہیں اور ان پر ایک ہزار خادم گشت کریں گے اور اتنے خوبصورت ہوں گے گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے یا موتی ہیں بکھرے ہوئے۔ 55۔ ابن المبارک وہناد وعبد بن حمید والبیہقی نے البعث میں ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب بھی تو دیکھے گا ] [ثَمَّ رَاَيْتَ : تو وہیں تُو دیکھے گا ] [نَعِيْمًا : دائمی خوشحالی ] [وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور ایک بڑی بادشاہت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّ مُلْكًا كَبِيْرًا 0020﴾ (اور اے مخاطب اگر تو وہاں نعمتوں کو دیکھے گا تو تجھے بڑا ملک نظر آئے گا) ۔ اس میں جنت کی وسعت بتائی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ ایسے ہی چھوٹے موٹے گھر اور باغیچے ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہاں بہت بڑا ملک ہے ہر ہر شخص کو جو جگہ ملے گی اس کے سامنے ساری دنیا کی وسعت ہیچ ہے۔ سب سے آخر میں جو شخص جنت میں داخل ہوں گا اللہ تعالیٰ کا اس سے ارشاد ہوگا کہ جا جنت میں داخل ہوجا تیرے لیے اس دنیا کے برابر جگہ ہے اور اس جیسی دنیا کے برابر دس گنا اس کے علاوہ اور ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص کے بارے میں یوں کہا جاتا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

14:۔ ” ویطوف علیہم “ ان کی خدمت کے لیے حسین و جمیل لڑکے ان کے آگے پیچھے ہوں گے ان کا حسن و جمال اور جذبہ خدمت دائمی ہوگا اور ان کی خوبیوں میں کبھی کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ یہ غلمان جنت اس قدر حسین و جمیل ہوں گے کہ ان کو دیکھ کر ان کے چہروں کی صفائی اور چمک دمک کی وجہ سے ان پر سچے موتیوں کا گمان ہوگا اور ایسا معلوم ہوگا کہ جنت میں سچے اور آبدار موتی بکھرے پڑے ہیں۔ واذا رایت ثم، شرط۔ رایت نعیما الخ، جزاء۔ جبتم اس جگہ کو دیکھو گے تو وہ کوئی معمولی جگہ نہ ہوگی بلکہ وہاں تم ہر نعمت فراواں پاؤ گے اور وہاں تم ایک عظیم ملک اور سلطنت دیکھو گے۔ ہر مومن کو جو جنت ملے گی وہ اپنی جگہ ایک نہایت وسیع اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا۝ 20 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–22

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

َاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا۔ (الدہر : 20) (جب تم دیکھو گے وہاں تو دیکھو گے عظیم نعمت اور عظیم پادشاہی۔ ) جنت کی حیرت انگیز تصویر جنت کی اس سے بہتر تصویرکشی نہیں ہوسکتی۔ کسی بھی مسکن کے بارے میں خوبصورت سے خوبصورت تصور اس سے زیادہ نہیں باندھا جاسکتا کہ وہاں زندگی کی ہر نعمت میسر ہو اور آدمی اپنے آپ کو یوں محسوس کرے کہ یہاں کی ہر چیز میرے تابع اور میری محکوم ہے اور میں ہر چیز پر حکمرانی کر رہا ہوں۔ جنت کی یہی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جنت میں داخل ہونے والا چاہے کتنا بھی معمولی آدمی ہو اور دنیا میں اس نے کیسی بھی دکھ بھری اور فاقوں کی زندگی گزاری ہو وہ جنت میں یوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20 : وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ (اے مخاطب ! اگر تو اس جگہ کو دیکھے) ثمؔ۔ یہ ظرف ہے۔ اس جگہ سے مراد جنت ہے۔ رأیت کا کوئی مفعول ظاہر نہیں ہے۔ اور نہ ہی مقدر ہے۔ تاکہ ہر ہر مرئی چیز میں شائع ہو اس کی تقدیرعبارت اس طرح ہے۔ واذا اکتسبت الرویۃ فی الجنۃ۔ اور جب تم جنت میں رؤیت کرلو۔ رَاَیْتَ نَعِیْمًا (پھر تو بہت سی نعمتیں دیکھے گا) وَّ مُلْکًا کَبِیْرًا (اور بڑی سلطنت) اور وسیع ملک۔ کبیر وسیع کے معنی میں ہے۔ روایت میں ہے ادنی جنتی کو ایسی بادشاہت ملے گی کہ وہ ایک ہزار سال کی مسافت کے برابر ہوگی۔ وہ اپنی سلطنت کے قریبی حصہ کو جس طرح دیکھے گا اسی طرح اس کے آخری حصہ کو بھی دیکھے گا۔ ] رواہ احمد : 2/64…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” ویطوف علیھم والدن مخلدوناذا رایتم حسبتھم لو لوا منثورا “ عطائؒ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ سفیدی اور حسن میں موتی ہیں جب ان کو دھاگے سے بچھونے پر بکھیر دیا جائے تو وہ پروئے ہوئے سے زیادہ اچھا ہوتا ہے اور اہل معانی رحمہم اللہ فرماتے ہیں ان کو منثور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے چونکہ یہ دوران خدمت بکھرے ہوتے ہیں اس وجہ سے۔ پس اگر وہ صف باندھے ہوتے تو ان کو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کے ساتھ تشبیہ دی جاتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا) یعنی جب تو جنت میں دیکھے کہ اہل جنت کن کامل نعمتوں میں ہیں تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ تو ان میں سے ایک کو اس طرح پائے گا کہ اس کے پاس ایسی آرام گاہیں ہوں گی، سجائے اور مزین کیے ہوئے ایسے بالاخانے ہوں گے جن کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں اس کے پاس خوبصورت باغات ہوں گے ایسے پھل ہوں گے جو اس کی پہنچ میں ہوں گے لذیذ میوہ جات ہوں گے بہتی ہوئی ندیاں اور خوش کن باغیچے ہوں گے۔ سحرانگیز چہچہانے والے پرندے ہوں گے جو دلوں کو متاثر اور نفوس کو خوش کریں گے اس کے پاس بیویاں ہوں گی جو انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 ۔ نعیم جنت کی عظمت و وسعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر تم جب دیکھو گے تو تم کو وہاں پر نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم الشان بادشاہی کی جلوہ گری نظر آئے گی اور ایسی عظیم الشان سلطنت و بادشاہی کہ اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر و مثال تو کیا ہوتی اس کا تصور ادراک بھی کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی عقل و فکر جتنا بھی زور لگائے گی وہ اس دنیا ہی کی کسی حکومت و بادشاہی کا تصور کرسکے گی اور بس جب کہ ہواں کی اس سلطنت و بادشاہی کا عالم یہ ہوگا جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے وارد و منقول ہے کہ دوزخ سے نکلنے والا آخری شخص جب جنت میں داخل ہوگا تو اس سے کہا جائے گا جاؤ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی جنت کا ہر شخص عظیم الشان نعمتوں اور بھاری شاہی سامان سے مالا مال نظر آئے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:20) واذا رایت لم۔ واؤ عاطفہ رایت ماضی واحد مذکر حاضر رایت فعل متعدی ہے لیکن یہاں ظاہر یا مقدر اس کا مفعول مذکور نہیں ہے لہٰذا قائم مقام فعل لازم کے ہے۔ ثم بمعنی وہاں ۔ وہیں، اس جگہ۔ اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لئے آتا ہے اور اعتبار اصل کے ظرف ہے۔ یہاں رایت کے ظرف مکان کے طور پر آیا ہے بمعنی وہاں ۔ یعنی جنت میں۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ (زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ (مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں (کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–22

(ف 1) یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے جس کا وصف بیان میں تو نہیں آسکتا کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنی ترین جنتی کو نصیب ہوگی، وسعت کا یہ عالم کہ ادنی مرتبہ کا جنتی جب اپنے ملک میں نظر آئے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتا ہو، شوکت وشکورہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بےاجازت اس کے دربار میں اور بغیرسلام کیے نہ آئیں گے اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ دارمی اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوسعید خدری کی جو روایت ہے اس میں نبی ﷺ نے فرمایا ادنی ادنی اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے ان حدیثوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–20

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور اے مخاطب جب تو وہاں دیکھے گا تو بکثرت نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ یعنی جنت کا وصف اور اس کے اوصاف کیا بیان کئے جائیں اے مخاطب تو دیکھے گا تو بیشمار نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا جو ادنیٰ ترین جنتی کو عطا ہوگا بےکراں نعمتیں اور بہت بڑی حکومت و سلطنت اللھم ارزقنا بمنک وکرمک۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

ف 2۔ موتی سے تو تشبیہ صفائی اور اشراق میں اور بکھرے ہوئے کا وصف ان کے چلنے پھرنے کے لحاظ سے جیسے بکھرے موتی منتشر ہو کر کوئی ادھر جارہا ہے اور کوئی ادھر جارہا ہے اور یہ علی درجہ کی تشبیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(اور جہاں دیکھا تم نے وہاں تو دیکھا آرام) اور ایسی نعمتیں کہ وصف میں نہیں آسکتیں (اور بڑے ملک کو) یعنی ایسی بڑی بادشاہی کو کہ زوال کو اس میں دخل نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جنتیوں میں سے کم سے کم رتبہ والا جو اپنے ملک اور بادشاہی پر نظر کرے گا تو ہزار برس کی راہ تک دیکھے گا۔ اور اپنی مملکت کی منتہا اسی طرح دیکھے گا جس طرح اس کی ابتدا کو دیکھتا ہے۔ اور ایک قول کے موافق ملکا کبیرا خواہش جاری کرنا ہے کہ جو کچھ چاہے میسر آئے۔ یا۔۔ داخل ہونے کے وقت ان کے سامنے فرشتوں کا کھڑا ہونا۔ فصول میں ہے کہ نعیما راحت اجسام ہے اور ملکا کبیرا لذت ارواح ہے۔ نعیما گھر کا دیکھنا ہے اور ملکا کبیرا صاحب خانہ کو مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–20

وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا (And they will be served with a goblet of drink blended with ginger...76:17). The word zanjabil means 'ginger'. The Arabs loved that their drink should be mixed with ginger. Therefore, it is mentioned in the context of Paradise [ so that they are served with drinks flavoured with ginger of paradisiacal quality and splendour ]. Some scholars say that the only thing the blessings of Paradise and the blessings of this world share in common is their name, and they have nothing else in common. Therefore, the 'ginger' of this world cannot…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 Even if a person might have lived a pauper in the world, in the Hereafter when he is admitted to Paradise, on the basis of his good deeds, he will live as though he were the owner of a splendid kingdom.

Read the full tafseer →