Al-Insaan 76:21

Al-Insaan · from ayah 21

76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ؗ— وَّحُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ— وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا ۟عٰلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّاِسۡتَبۡرَقٌ‌ وَّحُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّةٍ ‌ۚوَسَقٰٮهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابًا طَهُوۡرًا

ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Upon the inhabitants will be green garments of fine silk and brocade. And they will be adorned with bracelets of silver, and their Lord will give them a purifying drink.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:21

اُن کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے، ان کو چاندی کے کنگن پہنا ئے جائیں گے، اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے اوپر باریک ریشم کا سبز لباس اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے، اور انہیں چاندی کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے اور قنا ویز کے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان (کے جسموں) پر باریک ریشم کے سبز اور دبیز اطلس کے کپڑے ہوں گے، اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا ربّ انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے اور گاڑھا ریشم ہوگا اور انھیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انھیں نہایت پاک شراب پلائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس پر باریک ریشم اور گاڑھے ریشم کے لباس ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انہیں نہایت صاف ستھرے مشروب پلائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے اوپر سندس کا سبز اور استبرق کا لباس ہوگا اور وہ چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان (کے بدن) پر سبز رنگ کے (عظیم الشان) کپڑے ہوں گے باریک اور موٹے ریشم کے اور (مزید عظمت شان سے نواز نے کے لئے) ان کو کنگن پہنائے گئے ہوں گے چاندی کے اور ان کو پلائے گا ان کا رب ایک نہایت ہی عظیم الشان پاکیزہ مشروب

— مولانا اسحاق مدنی

ان (جنتیوں) پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دیبز ریشم کے کپڑے بھی اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے اوپر لباس ہوں گے باریک سبز ریشم کے اور گاڑھے ریشم کے اور انہیں کنگن پہنائے جائیں گے چاندی کے۔ اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ مشروب۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کے جسموں پر دیباو حریر کے سبز کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو بہترین پاکیزہ شراب پلائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

They [i.e., the virtuous] shall be attired in garments of fine green silk and rich brocade and will be adorned with bracelets of silver. Their Lord will give them a pure wine to drink.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Upon them will be garments of green sundus (a kind of fine silk) , and of istabraq (a kind of thick silk) , and they will be adorned by bracelets of silver. Their Lord will give them a pure beverage to drink:

— Muhammad Taqi Usmani

Upon them will be garments of green sundus (a kind of fine silk) , and of istabraq (a kind of thick silk) , and they will be adorned by bracelets of silver. Their Lord will give them a pure beverage to drink:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their garments will be of fine green silk, and Istabraq. They will be adorned with bracelets of silver, and their Lord will give them a purifying drink.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their raiment will be fine green silk and gold embroidery. Bracelets of silver will they wear. Their Lord will slake their thirst with a pure drink.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Upon the inhabitants will be green garments of fine silk and brocade. And they will be adorned with bracelets of silver, and their Lord will give them a purifying drink.

— Saheeh International

They will have fine green silk and brocade, and they will be decked with bracelets of silver. Their Lord will provide them with a drink of pure wine.

— Muhammad Sarwar

Upon them shall be garments of fine green silk and thick silk interwoven with gold, and they shall be adorned with bracelets of silver, and their Lord shall make them drink a pure drink.

— Muhammad Habib Shakir

Upon them shall be garments of fine green silk and of brocades. And adorned they shall be with bracelets of silver: and their Lord shall give them drink a beverage pure.

— Abdul Majid Daryabadi

Upon them will be green Garments of fine silk and heavy brocade, and they will be adorned with Bracelets of silver; and their Lord will give to them to drink of a Wine Pure and Holy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 23 یہی مضمون سورة کہف آیت 31 میں گزر چکا ہے کہ ویلبسون ثیابا خضرا من سندس و استبرق متکئین فیھا علی الارائک۔ " وہ (اہل جنت) باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے "۔ اس بنا پر ان مفسرین کی رائے صحیح نہیں معلوم ہوتی جنہوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد وہ کپڑے ہیں جو ان کی مسندوں یا مسہریوں کے اوپر لٹکے ہوئے ہوں گے، یا یہ ان لڑکوں کا لباس ہوگا جو ان کی خدمت میں دوڑے پھر رہے ہوں گے۔ سورة الدَّهْر 24 سورة کہف آیت 31 میں فرمایا گیا ہے یحلون فیھا من اساور من ذھب " وہ وہاں سونے کے گنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے "۔ یہی مضمون سورة حج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ، اساور، سوار کی جمع ہے کنگن کو کہا جاتا جو ہاتھوں میں پہننے کا زیور ہی اس آیت میں چندی کے کنگن کا ذکر ہے اور ایک دوسری آیت میں اساور رمن ذھب آیا ہے یعنی کنگن سونے کے، ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت چاندی کے کسی وقت سونے کے کنگن استعمال کئے جاویں یا بعض کے کنگن سونے کے ہوں بعض کے چاندی کے، مگر ایک سوال اس جگہ بہرحال ہے کہ چاندی کے کنگن ہوں یا سونے کے بہرحال یہ زیور ہیں جو عورتوں کے استعمال کے لئے ہوتے ہیں۔ مردوں کے لئے ایسے زیور پہننا عیب سمجھا جاتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا عورتوں یا مردونکے لئے مخصوص ہونا اور ان کے لئے مستحسن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل جنت کا لباس: ’عَالِیَ‘ میرے نزدیک حال کے محل میں ہے اور مراد اس سے اہل جنت کے بالائی کپڑے۔۔۔ عبا اور قبا وغیرہ۔۔۔ ہیں۔ ان کے بالائی جامے سبز سندس اور استبرق کے ہوں گے۔ سندس اور استبرق ایران کے بنے ہوئے مشہور ریشمی کپڑوں کے نام تھے۔ بعض لوگوں نے ان دونوں کے درمیان باریک اور دبیز کا فرق کیا ہے لیکن یہ تحقیق غیر ضروری ہے۔ یہاں مراد جنت کے سندس اور استبرق ہیں جن کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اہل عرب، ایران اور مصر ہی کے تمدن سے اس زمانہ میں زیادہ آشنا تھے اس وجہ سے جنت کی نعمتوں کی تمثیل کے لیے زیادہ تر انہی کی تمدنی چیزوں کے نام مستعار لیے گئے۔ اس دور کے سلاطین سندس اور استبرق کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

علیھم ............................ طھورا سندس نہایت باریک ریشم کو کہتے ہیں اور استبرق موٹے ریشم کے کپڑوں کو کہتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب وہ سب زینت کیے ہوئے ہوں اور خوب عیش و عشرت کررہے ہوں ، ان کا رب ان کے لئے یہ انتظام فرمارہا ہوگا ، جو نہایت ہی کریم عطا کنندہ ہے۔ اور اس سے ان انتظامات کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے کہ یہ انتظام رب تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔ اور ان بہترین انتظامات کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعزاز میں یہ کلمات بھی کہے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم کے لباس جنتیوں کو ملیں گے۔ 14 اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ دوسری جگہ سونے کے بیان کیے گئے ہیں۔ ممکن ہے یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں، کسی کو وہ۔ یا کبھی یہ کبھی وہ۔ 15 یعنی سب نعمتوں کے بعد شراب طہور کا ایک جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا، جس میں نہ نجاست ہوگی نہ کدورت، نہ سرگرائی، نہ بدبو، اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے، پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌز } ”ان کے اوپر لباس ہوں گے باریک سبز ریشم کے اور گاڑھے ریشم کے“ { وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍج } ”اور انہیں کنگن پہنائے جائیں گے چاندی کے۔“ { وَسَقٰٹہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا۔ } ”اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ مشروب۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 سورة کہف کی آیت نمبر 31 میں مذکور ہے کہ اہل جنت کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور یہاں چاندی کے کنگنوں کا ذکر ہے۔ اور یہ بات اہل جنت کی مرضی پر منحصر ہوگی کہ جیسے کنگن وہ پہننا چاہیں انہیں پہنائے جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں قسم کے پہنائے جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی سونے کے پہنائے جائیں اور کبھی چاندی کے۔ یا مردوں کو چاندی کے پہنائے جائیں اور عورتوں کو سونے کے۔ 25 یہ کافور اور زنجبیل کے امتزاج والے مشروبات کے علاوہ ایک تیسرے مشروب کا ذکر ہے۔ جسے شراباً طہوراً کا نام دیا گیا ہے۔ طہور سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جو خود بھی صاف ستھری ہو اور دوسری چیزوں کو بھی صاف ستھرا کرنے والی ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ ایسا پاکیزہ ولطیف مشروب، جو دوسروں کو بھی پاک ولطیف بنا دے گا۔ (آیت) ” سندس خضرواستبرق “۔ ہر دو قسم کے لباس ریشمین الگ الگ لطف ولذت دیں گے۔ (آیت) ” ثیاب ...... فضۃ “۔ ہر موطن کا مقتضاجداگانہ ہوتا ہے۔ ریشم اور زیور اس دنیا میں مردوں کے لئے بعض مفاسد کی بناء پر ممنوع ومعیوب ہے۔ جن کی فضا میں وہ سارے مفاسدغیر موجود ہوں گے۔ (آیت) ” وسقھم ربھم “۔ اہل جنت کے اعزاز واکرام کی ترتیب اس سورت میں دیکھتے آئیے۔ پہلے ارشاد ہوا (آیت) ” یشربون “۔ یعنی وہ خود وہاں پییں گے۔ پھر وارد ہوا (آیت) ” یسقون “۔ (بصیغہ مجہول) یعنی انہیں پلایا جائے گا۔ پلانے والے مجہول رہے، چاہے فرشتے ہوں یا جنت کے کوئی دوسرے خدام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علیھم ثیاب سندس . ثیاب مبتداء ہے یا خبر ہے یا عٰلِیَِھُمْ کا فاعل ہے۔ لفظ سندس معرب ہے ‘ ایک قسم کا باریک ریشمی دیبا ہوتا ہے۔ (قاموس) خضر واستبرق . موٹی ریشمی دریائی۔ استبرہ کا معرب ہے یا زربفت یا دیبا (دریائی) کی طرح کوئی ریشمی دبیز کپڑا ہوتا ہے۔ (قاموس) حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے ‘ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ جنتیوں کے کپڑوں کے متعلق ارشاد فرمائیے ‘ کیا وہ کوئی پیدا ہونے والی چیز ہے ‘ جس کی تخلیق کی جائے گی یا بننے والی چیز ہے جس کو بنا جائے گا ؟ فرمایا : نہیں ‘ وہ ایسی چیز ہے جو جنت سے پھوٹ کر نکلے گی وہ جنت کا ایک پھل ہے۔ (رواہ النسائی و البزار والبیہقی بسند جید) حضرت جابرکا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور ان پر چاندی کے قباء ہوں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا کہ اس میں میل اور کھوٹ نہ ہوگا یہ جو کچھ مذکور ہوا تمہارا صلہ ہے اور تمہارے اعمال مقبول ہوئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) علیھن ثیاب سندس خضرو استبرق …:”سندس“ باریک ریشم۔ ”استبرق“ گاڑھا ریشم۔ ”خلوا“ ”حلیۃ“ سے ”فعلوا“ کے وزن پر ہے، اصل میں ”حلیوا“ تھا، زیور پہنائے جائیں گے۔”اساور“ ”سوار“ کی جمع ہے، کنگن۔ ”شراباً“ مشروب، پینے کی چیز، ”طھوراً“ جو پاک ہو اور پاک کرنے والی ہو، جیسا کہ فرمایا :(وانزلنا من السمآء مآء طھوراً) (الفرقان : 38)”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ (2)”علیھم“ (ان کے اوپر) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ جن نشستوں پر جن نشستوں پر بیٹھے ہوں گے ان کے اوپر باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ جب پردے اتنی قیمتی ہوں گے تو ان کے لباس کا کیا کہنا۔ دوسرا یہ انہوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

علیھم ثیاب خضر واستبرق۔ نافع حمزہ اور ابن محیصن نے علیھم یعنی یاء کو ساکن پڑھا ہے ابوعبید نے حضرت ابن مسعود، ابن وثاب اور دوسرے قراء کی قرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح پڑھا ہے، فراء نے کہا، علیھم یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اس کی خبر ثیاب سندس، ہے اسم فاعل سے جمع مراد ہے۔ اخفش کے قول میں یہ جائز ہے کہ یہ مفرد اس بنا پر ہو کہ یہ اسم فاعل اور متقدم ہو اور ثیاب اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو اور قائم مقام خبرد ہو اس میں اضافت انفصال کے حکم میں ہو کیونکہ اس میں تخصیص واقع نہیں ہوئی اس کے ساتھ کلام کی ابتدا کی گئی ہے، کیونکہ اضافت کی وجہ سے اختصاص واقع ہوگیا ہے، باقی قراء نے اسے علیھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

61۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت علیہم ثیاب سندس خضر ان پر سبز ریشم کے کپڑے ہوں گے۔ پھر فرمایا کہ سبز ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس کے رہنے والوں کے اکثر کپڑے سبز ہوں گے۔ 62۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرابا طہورا پاکیزہ شراب ان پینے کی چیزوں میں سے ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 63۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرابا طہورا ان اشربہ میں ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اہل جنت کا کھانا پینا 64۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عٰلِيَهُمْ : چڑھنے والے ہوتے ہوئے ان پر ] [ثِيَابُ سُـنْدُسٍ : کچھ باریک ریشم کے کپڑے ہوں گے ] [خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ: (وہ ) سبز اور بھڑکیلے ہوں گے ] [وَّحُلُّوْٓا : اور ان کو آراستہ کیا جائے گا ] [اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ : چاندی کے کنگنوں سے ] [وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ : اور پلائے گا ان کو ان کا رب ] [شرابا طَهُوْرًا : ایک نہایت پاکیزہ مشروب ] (آیت۔ 21) ۔ عٰلِیْھُمْ میں اسم الفاعل عَالٍ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں عَالِیًا ہے مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ضم ہوئی تو عَالِیَ استعمال ہوا۔ یہ بھی یہاں فعل کا عمل کر رہا ہے۔ ثِیَابُ سُنْدُسٍ اس کا فاعل ہے۔ فُضْرٌ استَبرْقٌ صفت نہیں ہیں۔ اگرچہ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جب ادنیٰ درجہ کے جنتی کا اتنا بڑا رقبہ ہوگا تو مختلف درجات کے اعتبار سے دیگر حضرات کے رقبہ کے بارے میں غور کرلیا جائے۔ ﴿ عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ ﴾ (اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی ہوں گے) یہ ریشم وہاں کا ہوگا دنیا کا ریشم نہ سمجھ لیا جائے اور باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم عمدہ ہوں گے من بھاتے ہوں گے۔ ﴿ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ 1ۚ﴾ (اور ان کو زیور کے طور پر چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے) سورة الکہف اور سورة الحج میں ہے کہ کنگن سونے کے ہوں گے اس میں کوئی منافات نہیں دونوں طرح کے کنگن ہوں گے کہیں سونے کے کنگن کا ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” عالیہم “ عالی یہاں چونکہ فوق کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس لیے اعراب میں بھی اسی بناء پر (بنا بر ظرفیت) منصوب ہے اور یہ خبر مقدم ہے اور ثیاب سندس مع معطوفات مبتداء موخر ہے (کبیر) ۔ ” سندس “ باریک دیباج ” استبرق “ موٹا دیباج (مظہری) ۔ اہل جنت کے اوپر یعنی ان کے زیب تن باریک ریشم کا سبز لباس ہوگا اور جب چاہیں گے موٹے اور غف ریشم کا لباس زیب تن کریں گے اور ان کو ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنچائے جائیں گے اور ان کو شراب طہور پلایا جائے گا۔ شراب طہور ایک ایسا مشروب ہوگا جسے وہ کھانا تناول کرنے کے بعد پئیں گے تو تمام کھانا فورًا ہضم ہو کر کستور کا پسینہ بن جائیگا اور ان کی طبیعتیں بالکل ہلکی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 21–22

عٰلِيَہُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْـتَبْرَقٌ۝ 0 ۡوَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ۝ 0 ۚ وَسَقٰىہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا۝ 21 ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل «2» . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–22

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خَضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ ز وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَمِنْ فِضَّۃٍ ج وَسَقٰـہُمْ رَبُّـھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا۔ (الدہر : 21) (ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے اور وہ چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ مشروب پلائے گا۔ ) بعض اہل علم نے عٰلِیَہُمْ کو حال قرار دے کر آیت کا مفہوم یہ مراد لیا ہے کہ ان کے بالائی جامے سبز سندس اور استبرق کے ہوں گے جبکہ یہی مضمون سورة کہف میں ان الفاظ میں آیا ہے وَیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدَسٍ وَاِسْتَبْرَقٍ مُتَّکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَائِکَوہ یعنی اہل جنت باریک ریشم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنتیوں کے کپڑے : 21 : عَلَیْھِمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ (ان جنتیوں پر ایک باریک ریشم کے سبز کپڑے ہونگے) نحو : یطوف علیہم کی ضمیر سے حال ہونے کی بناء پر علیہم منصوب ہے۔ ای یطوف علیہم ولدان عالیا للمطوف علیھم۔ ثیابؔ۔ سکون کے ساتھ مدنی، حمزہ نے پڑھا۔ اس کو مبتدأ قرار دیا اس کی خبرثیاب سندس ہے۔ ما یعلوھم من ملابسھم ثیاب سندس جو ان کے اوپروالے کپڑے ہیں وہ ایک بار ریشم کے ہونگے۔ سندس : باریک ریشم خضرٌ یہ اخضر کی جمع ہے وَّ اِسْتَبْرَقٌ موٹا دونوں مرفوع ہیں۔ اس صورت میں ثیاب سے متعلق ہونگے۔ نافع و حفص نے اسی طرح پڑھا ہے۔ اور حمزہ، علی نے مجرور پڑھا اور سندس پر محمول کیا ہے۔ دیگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” واذا رایت ثم “ یعنی جب آپ اپنی نگاہ سے دیکھتے۔ ” ثم “ یعنی جنت میں ” رایت نعیما “ جو بیان نہیں کی جاسکتیں۔ ” وملکا کبیرا “ اور وہ یہ کہ ان میں سے ادنیٰ مرتبہ والا شخص اپنے ملک کی طرف دیکھے گا ایک ہزار سال کی مسافت میں۔ اس کی انتہا کو ایسے دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ کو دیکھتا ہے۔ مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ رب العزت کا رسول فرشتوں میں سے اس کی اجازت کے بغیر اس پر داخل نہ ہوسکے گا اور کہا گیا ہے ایسا ملک جس کا زوال نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ) یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ 0 سندس) موٹے اور دبیرز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں اور استبرق باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ ( وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ ) مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کررکھا ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں۔ ( وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا) اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا جس میں کسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

28 ۔ اہل جنت کے لباس و پوشاک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے اوپر کپڑے ہوں گے سبز رنغ کے باریک اور موٹے ریشم کے۔ اور مزید برآں یہ کہ ان کو کنگن پہنا دیئے جائیں گے چاندی کے، دوسرے مقام پر سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے " یحلون فیھا من اساور من ذھب الآیۃ (الکہف 31) سو کبھی یہ پہنیں گے اور کبھی وہ یا دونوں ہی پہنیں گے، یا کچھ کو اس اعزاز سے نوازا جائے گا اور کچھ کو اس سے، کلمات کریمہ کا عموم ان سب ہی مفاہیم و مطالب کو شامل ہے " والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ " اس لئے اس کے ذکر سے یہ بتایا کہ ان کو وہاں پر شاہانہ لباس سے نوازا جائیگا ‘ کیونکہ انسان وہی کچھ سمجھ اور جان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 6 قدیم عرب میں سونے اور چاندی کے کنگن پہننا شاہی لباس کا جز تھا اس لئے فرمایا گیا کہ جنتی لوگوں کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دوسری آیات میں سونے کے کنگنوں کا بھی ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی آن بان ہر لحاظ سے شاہانہ ہوگی۔7 یعنی ایسی شراب جس میں کسی قسم کی نجاست اور بدبو نہ ہوگی جس کے پینے سے ہرگز سرگردانی نہ ہوگی بلکہ دل و دماغ کی تمام کدورتیں صاف ہوجائیں گی۔ اس لئے شاہ صاحب (رح) نے ” طھوراً “ کا ترجمہ کیا ہے ” جو دل کو دھو گئی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:21) علیہم ثیاب سندس خضر واستیرق : علیہم ان کے اوپر کی پوشاک ۔ جو چیز اوپر ہے اور بالا ہو وہ عالی ہے۔ اوپر کی پوشاک میں بھی چونکہ یہ بات موجود ہے اس لئے وہ بھی عالی ہے اور یہاں اس لفظ سے یہی معنی مراد ہیں۔ عالی مضاف (بمعنی فوق) ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب مضاف الیہ۔ عالی منصوب بوجہ ظرفیت کے ہے۔ ای فوق) ہم کی ضمیر کا مرجع اہل جنت ہیں نہ کہ ان لڑکوں کے لئے ہے جو اہل جنت کی خدمت کے لئے دوڑے پھر رہے ہوں گے (تفہیم القرآن جلد ششم فٹ نوٹ نمبر 33 زیر آیت 21 ۔ سورة الدھر) ثیاب ثوب کی جمع ہے کپڑے۔ لباس سندس۔ باریک۔ ریشم ، باریک دیبا۔ خضر سبز، ہرے۔ اخضر، خضراء کی جمع (افعل فعلاء فضل کے وزن پر) استبرق ریشم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–22

(ف 1) یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے جس کا وصف بیان میں تو نہیں آسکتا کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنی ترین جنتی کو نصیب ہوگی، وسعت کا یہ عالم کہ ادنی مرتبہ کا جنتی جب اپنے ملک میں نظر آئے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتا ہو، شوکت وشکورہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بےاجازت اس کے دربار میں اور بغیرسلام کیے نہ آئیں گے اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ دارمی اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوسعید خدری کی جو روایت ہے اس میں نبی ﷺ نے فرمایا ادنی ادنی اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے ان حدیثوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[10] اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور کا ذکر آیا ہے جبکہ دوسرے مقامات پر سونے کے بیان کئے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں کسی کو وہ، یا کبھی وہ کبھی یہ۔ [11] یعنی سب نعمتوں کے بعد شراب طہور (پاکیزہ شراب) کا جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا جس میں نہ سرگرانی ہوگی نہ بدبو۔ اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے۔ پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اہل جنت کا بالائی لباس باریک ریشم کے سبز رنگ کے ہوں گے اور دبیزریشم کے کپڑے بھی ہوں گے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو شراب طہور پلائے گا۔ سورة حج میں اور سو رہ کہف میں موتیوں کے زیور اور سونے کے کنگنوں کا ذکر بھی آیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں اہل جنت کو پہنائی جائیں گی یا باری باری سے یہ چیزیں پہنائی جائیں گی کبھی یہ اور کبھی یہ۔ باریک ریشم کے سبز کپڑے شاید خلعت کی جگہ استعمال ہوں گے یا جیسا کہ ہمارے ہاں کا دستور ہے کہ نیچے کے لباس پر دوسرا لباس ہوتا ہے جیس اچکن یا چغہ یا کوٹ اسی طرح اہل جنت کا اندرونی اور باطنی لباس دبیزریشم کا نرم ہوگا جس کا رنگ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–22

ف 3۔ اس سورت میں تین جگہ چاندی کے سامان کا ذکر آیا ہے اور دوسری آیات میں سونے کا، مگر دونوں میں تعارض نہیں، کیونکہ دونوں طرح کا سامان ہوگا، اور حکمت اس کی وہی تفنن طبائع و تنعمات کا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(ان) جنتیوں (کے بدن پر ہیں سبز ریشم کے کپڑے اور دبیز ریشم) مضبوط (اور پہنائے گئے ہیں کنگن چاندی کے) ۔ یہ اس ارشاد کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ سونے کے کنگن پہنائے گئے ، اس واسطے کہ دونوں کو اکٹھا کرنا اور آگے پیچھے پہننا ممکن ہے ۔ (اور پلایا ان کو ان کے رب نے پاک صاف شراب) جو میلوں اور نجاستوں سے پاک ہے ۔۔ یا۔۔ پاک کرنے والی غل و غش اور کینہ کپٹ سے۔ مقاتل کہتے ہیں کہ طھورا ایک چشمہ ہے بہشت میں جو کوئی اس میں سے پیے گا اس کے دل میں کینہ کپٹ اور کوئی بری صفت نہ رہے گی۔ ویسے بھی جو جنت میں پہنچ جائے گا وہ تمام صفات قبیحہ سے پاک ہو کر ہی جائے گا۔۔۔ بایں ہمہ۔۔ شراب طہور کی یہ خصوصیت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ (...And they will be adorned by bracelets of silver...76:21). The asawir is the plural of siwar that refers to a 'bracelet'. It is a piece of jewellery worn around the wrist. This verse speaks of'silver bracelets'. On another occasion [ 22:23], the Qur'an speaks of asawira min dhahab 'gold bracelets'. There is no discrepancy between the two verses, because sometimes the silver bracelets will be worn, and at other times the gold bracelets, or some will wear gold bracelets and others will wear silver bracelets. However, a question arises in any case: A…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 This same theme has been expressed in Surah Al-Kahf: 31, thus: "They (the dwellers of Paradise) will wear coloured robes of silk and rich brocade and will be reclining upon raised thrones. ° On this basis, the opinion of the commentators who have expressed the view that this implies the sheets of cloth which will be hanging over their thrones or bedsteads or that this would be the dress of the boys who would be moving about serving them dces not seem to be correct. >24 In Surah Al-Kahf: 31, it has been said: "They will be adorned with bracelets of gold. This same theme has also occurred in…

Read the full tafseer →