Al-Insaan 76:22

Al-Insaan · from ayah 22

76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّكَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا ۟۠اِنَّ هٰذَا كَانَ لَـكُمۡ جَزَآءً وَّكَانَ سَعۡيُكُمۡ مَّشۡكُوۡرًا

یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And it will be said], "Indeed, this is for you a reward, and your effort has been appreciated."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:22

یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابل قدر ٹھیری ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور فرمائے گا کہ) یہ ہے تمہارا انعام اور تم نے (دنیا میں) جو محنت کی تھی اس کی پوری قدر دانی کی گئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ تمہارا صلہ ہوگا اور تمہاری محنت مقبول ہوچکی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یہ تمہارے لیے ہمیشہ کا بدلہ ہے اور تمہاری کوشش ہمیشہ قدر کی ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور فرمائے گا) یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک یہ تمہارے عمل کا صلہ ہے اور تمہاری سعی مقبول ہوئی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور انکے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ) بلاشبہ یہ صلہ ہے تمہارا (زندگی بھر کے کئے کرائے کا) اور ٹھکانے لگی تمہاری (عمر بھر کی) محنت

— مولانا اسحاق مدنی

یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور کہا جائے گا :) یہ تم لوگوں کے لیے بدلہ ہے اور تمہاری جدوجہد مقبول ہوچکی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تمہاری کوشش اور صلہ اللہ کے ہاں مقبول ہوا

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, this is your recompense and your endeavour has been appreciated.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:This is a reward for you, and your effort has been appreciated.

— Muhammad Taqi Usmani

:This is a reward for you, and your effort has been appreciated.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(And it will be said to them): "Verily, this is a reward for you, and your endeavor has been accepted."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And it will be said unto them): Lo! this is a reward for you. Your endeavour (upon earth) hath found acceptance.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And it will be said], "Indeed, this is for you a reward, and your effort has been appreciated."

— Saheeh International

This will be their reward and their efforts will be appreciated.

— Muhammad Sarwar

Surely this is a reward for you, and your striving shall be recompensed.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this is for you by way of recompense, and your endeavour hath been accepted.

— Abdul Majid Daryabadi

"Verily this is a Reward for you, and your Endeavour is accepted and recognised."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–22

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 26 اصل الفاظ ہیں کان سعیکم مشکورا۔ یعنی تمہاری سعی مشکور ہوئی۔ سعی سے مراد وہ پورا کارنامہ حیات ہے جو بندے نے دنیا میں انجام دیا۔ جن کاموں میں اس نے محنتیں اور جن مقاصد کے لیے اس نے اپنی کوششیں صرف کیں ان سب کا مجموعہ اس کی سعی ہے اور اس کے مشکور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ قابل قدر قرار پائی۔ شکریہ جب بندے کی طرف سے خدا کے لیے ہو تو اس سے مراد اس کی نعمتوں پر احسان مندی ہوتی ہے، اور جب خدا کی طرف سے بندے کے لیے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمات کی قدر فرمائی۔ آقا کی یہ بہت بڑی عنایت ہے کہ بندہ جب اس کی مرضی کے مطابق اپنا فرض انجام دے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رب کریم کی طرف سے داد: یعنی یہ سب کچھ پا کر پروردگار کی طرف سے ان کو یہ داد بھی ملے گی کہ یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہے، اللہ کے نزدیک تمہاری سعی مقبول ٹھہری! اس کے لیے تمہیں کسی دوسرے کی سعی و سفارش کا ممنون احسان نہیں ہونا پڑا۔ اس میں ان لوگوں پر ایک تعریض بھی ہے جو اپنے مزعومہ دیوتاؤں کی سفارشوں کے بل پر جزا اور سزا سے غافل رہے حالانکہ وقت پر ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ھذا ........................ مشکورا عالم بالا سے یہ تقریر ان کے اعزاز میں ہوگی ، چناچہ ان کلمات کی وجہ سے ان انعامات کی قدروقیمت دوچند ہوجاتی ہے۔ ان الفاظ پر انعامات جنت کی یہ تفصیلات ختم ہوتی ہیں۔ اور یوں لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ قیدوبند اور آگ وسلاسل سے بھاگو اور ان نعمتوں میں داخل ہوجاﺅ۔ ابھی وقت ہے اور دونوں راستے تمہارے لئے کھلے ہیں۔ جنت کی طرف اس پکار کی انتہا پر اور جنت کی خوشگوار نعمتوں کے ذکر کے بعد ، اب ان مشرکین کے حالات کو لیا جاتا ہے ، جو عناد میں مبتلا ہیں اور تکذیب پر اصرار کررہے ہیں ، جو دعوت اسلامی کی حقیقت کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے۔ اور وہ دعوت اسلامی کے معاملے میں حضور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

16 یعنی مزید اعزازو اکرام اور تطییب قلوب کے لیے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔ اور محنت ٹھکانے لگی۔ اس کو سن کر جنتی اور زیادہ خوش ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22{ اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَـکُمْ جَزَآئً وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا۔ } ”اور کہا جائے گا : یہ تم لوگوں کے لیے بدلہ ہے ‘ اور تمہاری جدوجہد مقبول ہوچکی ہے۔“ تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں غلبہ دین کے لیے جو جدوجہد کرتے رہے تھے وہ اللہ کے ہاں قبول کرلی گئی ہے اور اس کی قدردانی کے طور پر تم لوگوں کو جنت اور اس کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 یعنی یہ نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ دنیا میں میری خاطر جو تم نے مصیبتیں برداشت کیں اور میرے احکام کی پابندیوں کا خیال رکھا۔ تمہاری ان محنتوں کی آج پوری قدر کی جاتی ہے اور ان کا تمہیں بیش بہا بدلہ دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ (جو تم دنیا میں طاعات الہی میں کرتے رہتے تھے) یہ اہل جنت سے ان کے مزید اکرام و اعزاز کے طور پر کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–22

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھذا کان لکم جزاء . یہ راحت تمہارے اعمال کے عوض ہے۔ وکان سعیکغم مشکورا . مشکور کا معنی مقبول ‘ پسندیدہ ‘ ستائش کے لائق ‘ قابل ثواب۔ اللہ کی طرف سے یہ قول گویا انکے حسن اعمال کا شکریہ ہوگا کیونکہ وہ یتیموں اور مسکینوں سے شکریہ کے طالب نہیں تھے۔ میں کہتا ہوں اللہ نے اپنی مہربانی سے جنت کی نعمتوں کو ابرار کے اعمال کی جزاء قرار دیا ورنہ آدمی کا کونسا عمل اس قابل ہوسکتا ہے کہ اسکی جزاء جنت ہو (یعنی کوئی نیکی جنت کا مستحق نہیں بنا سکتی ‘ نہ خدا پر لازم ہے کہ وہ نیکوں کو جنت عطا فرمائے بلکہ اس نے اپنی مہربانی سے نیکی کے عوض جنت دینے کا وعدہ فرما لیا ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور ان پر چاندی کے قباء ہوں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا کہ اس میں میل اور کھوٹ نہ ہوگا یہ جو کچھ مذکور ہوا تمہارا صلہ ہے اور تمہارے اعمال مقبول ہوئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان ھذا کان لکم جآء …:”یہ سب کچھ تمہارے اعمال کا بدلا ہے اور تمہاری کوشش قدر کی ہوئی ہے“ یہ بات جنتیوں سے کہی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں تھوڑی سی عمر کے اعمال کے بدلے میں ابدالآباد کی یہ نعت میں عطا فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر قدر دانی کیا ہو ست کی ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا۔ انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ تمہارا بدلہ ہے تمہارا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہے اللہ تعالیٰ کا بندے کے لیے شکر کا معنی ہے وہ اس کی اطاعت کو قبول کرتا ہے اس پر اس کی ثنا کرتا ہے اور اس پر عمل پر اسے بدلہ عطا فرماتا ہے، سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ان کو اچھی جزاء دیتا ہے مجاہد نے کہا، مشکورا، کا معنی مقبول ہے اور معنی قریب قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب عمل قبول فرماتا ہے تو اس پر شکر کرتا ہے جب شکر کرتا ہے تو اس پر بڑا ثواب دیتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فضل عظیم والا ہے۔ حضر تابن عمر سے مروی ہے ایک حبشی نے عرض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–23

66۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اہل جنت میں سے ہر آدمی کے لیے اہل دنیا میں سے سو آدمیوں کے برابر شہوت تقسیم کی جائے گی۔ اور ان کا کھانا اور ان کی حرص بھی اتنے ہی افراد کے برابر ان کے لیے ہوگی۔ جب وہ کھائے گا تو پاکیزہ شراب سے خوب سیراب ہوگا اور اس کے جسم میں سے مشک کی طرح خوشبودار پسینہ نکلے گا۔ پھر اس کی شہوت اور خواہش لوٹ آئے گی۔ 67۔ عبدالرزاق وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکان سعیکم مشکورا اور تمہاری کوشش مقبول ہوگی۔ یعنی یقینی طور پر اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سی کوشش اور محنت کی قدردانی فرمائی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان هٰذَا : بیشک یہ ] [كَان لَكُمْ جَزَاۗءً : ہوگا تمہارے لیے ایک بدلہ ] [وَّكَان سَعْيُكُمْ : اور ہوگی تمہاری دوڑ دھوپ ] [مَّشْكُوْرًا : قدر کی ہوئی ] (آیت۔ 22) اِنَّ کا اسم ھٰذَا ہے اور محلًّا حالت نصب میں ہے۔ اس کے آگے پورا جملہ کَانَ لَکُمْ جَزَائً ۔ اِنَّ کی خبر ہے اور محلًّا حالت رفع میں ہے۔ اس جملے میں کَانَ کا اسم اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے اور اس کی خبر ہونے کی وجہ سے جزائً حالت نصب میں ہے۔ اگلے جملے میں کَانَ کا اسم سَعْیُکُمْ ہے اور مَشْکُوْرًا اس کی خبر ہے۔ ان آیات میں قیامت کے حالات کا ذکر ہے۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا (رح) 0022﴾ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا کہ یقین جانو یہ تمہارا صلہ ہے اور تم نے جو کوشش کی تھی (یعنی نیک کاموں میں لگے تھے) وہ مقبول ہوگئی اور اس کی قدر دانی کی گئی جو اس انعام و اکرام کا ذریعہ بن گئی) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” ان ھذا “ جنت کی یہ تمام نعمتیں اور آسائشیں تمہارے ایمان و عمل کی جزاء ہے اور تمہاری تمام نیک کوششوں کی قدر کی گئی اور یہ سب اسی کی جزاء ہے۔ دنیا میں تم نے اپنے ایمان و عمل کا کسی سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا اور نہ کسی سے اپنے عملوں پر شکر گذاری اور خراج تحسین کی خواہش کی۔ آج ہم نے تمہارے تھوڑے کاموں پر زیادہ اجر وثواب عطا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 21–22

عٰلِيَہُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْـتَبْرَقٌ۝ 0 ۡوَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ۝ 0 ۚ وَسَقٰىہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا۝ 21 ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل «2» . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–22

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ھٰذَا کَانَ لَـکُمْ جَزَآئً وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا۔ (الدہر : 22) (بیشک یہ ہے تمہارے عمل کا صلہ، اور تمہاری کارگزاری مقبول ٹھہری ہے۔ ) اہلِ جنت کا ایک خاص اعزاز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت پر انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد انھیں ایک خاص اعزاز سے نوازا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ بلاشبہ تمہارا جنت کے لیے سزاوار ہونا اور تمہیں جنت کی نعمتوں سے نوازا جانا اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان اور اس کے عظیم فضل و کرم کا مظہر ہے۔ کیونکہ اس کے فضل و کرم کے بغیر نہ کسی عمل کی توفیق ملتی ہے اور نہ کوئی عمل باریاب ہوتا ہے۔ اور نہ کسی عمل کرنے والے کی قسمت اپنی معراج کو پہنچتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–22

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔ نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : اہل جنت کو کہا جائے گا اِنَّ ھٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآئً (یہ تمہارا صلہ ہے) ھذا سے مراد نعمتیں جزاءؔ یعنی تمہارے اعمال کی جزاء ہے۔ وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا (اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی) قابل تعریف اور مقبول ہمارے ہاں پسندیدہ ہوئی۔ جبکہ تم نے یتیم ‘ اسیر، مسکین کو کہا۔ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا۔ ہم تم سے بدلہ و شکر یے کے طالب نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” عالیھم ثیاب سندس “ اہل مدینہ اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” عالیھم “ یاء ساکن اور ھاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس یہ رفع کی جگہ میں ہوگا ابتداء کی وجہ سے اور اس کی خبر یثاب سندس ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے زبر اور ھاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے صفت کی بناء پر یعنی ان کے اوپر اور یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی بناء پر یثاب سندس کا۔ ” خضر واستبرق “ نافع اور حفص رحمہما اللہ نے ” خضر واستبرق “ دونوں کو مرفوع پڑھا ہے ثیاب پر عطف کرتے ہوئے اور ان دونوں کو حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے مجرور پڑھا ہے اور ابن کثیر اور ابوب کرنے ” خضر “ زیر کے ساتھ۔ ” واستبرق “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو جعفر اور اہل بصرہ اور اہل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–22

13۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا) بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔ یعنی تمہاری تھوڑی سی کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

28 ۔ اہل جنت کے لباس و پوشاک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے اوپر کپڑے ہوں گے سبز رنغ کے باریک اور موٹے ریشم کے۔ اور مزید برآں یہ کہ ان کو کنگن پہنا دیئے جائیں گے چاندی کے، دوسرے مقام پر سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے " یحلون فیھا من اساور من ذھب الآیۃ (الکہف 31) سو کبھی یہ پہنیں گے اور کبھی وہ یا دونوں ہی پہنیں گے، یا کچھ کو اس اعزاز سے نوازا جائے گا اور کچھ کو اس سے، کلمات کریمہ کا عموم ان سب ہی مفاہیم و مطالب کو شامل ہے " والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ " اس لئے اس کے ذکر سے یہ بتایا کہ ان کو وہاں پر شاہانہ لباس سے نوازا جائیگا ‘ کیونکہ انسان وہی کچھ سمجھ اور جان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 6 قدیم عرب میں سونے اور چاندی کے کنگن پہننا شاہی لباس کا جز تھا اس لئے فرمایا گیا کہ جنتی لوگوں کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دوسری آیات میں سونے کے کنگنوں کا بھی ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی آن بان ہر لحاظ سے شاہانہ ہوگی۔7 یعنی ایسی شراب جس میں کسی قسم کی نجاست اور بدبو نہ ہوگی جس کے پینے سے ہرگز سرگردانی نہ ہوگی بلکہ دل و دماغ کی تمام کدورتیں صاف ہوجائیں گی۔ اس لئے شاہ صاحب (رح) نے ” طھوراً “ کا ترجمہ کیا ہے ” جو دل کو دھو گئی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:22) ان ھذا کان لکم جزائ : ان حرف تحقیق ھذا اسم اشارہ جس کا مشار الیہ وہ نعمتیں اور فیوض ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ جو ابرار کو ان کے اعمال صالحہ کے بدلے میں جنت میں ان کو دئیے جائیں گے۔ ھذا۔ اسم کان لکم جزاء خبر کان۔ جملہ سے قبل عبارت قیل لہم محذوف ہے۔ یعنی اہل جنت سے کہا جائے گا یہ تھی تمہاری جزاء اور تمہاری دنیاوی کوششوں ایمان اور عمل صالح اور محبت الٰہی کا بدلہ جو تمہارے لئے پہلے سے تیار تھا۔ وکان سعیکم مشکورا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے کان فعل ناقص ۔ سعیکم مضاف مضاف الیہ۔ اسم کان مشکورا اس کی خبر۔ اور کہا جائے گا، تمہاری کوششیں مقبول ہوئیں۔ مشکورا کا معنی مقبول ، پسندیدہ، ستائش کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–22

(ف 1) یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے جس کا وصف بیان میں تو نہیں آسکتا کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنی ترین جنتی کو نصیب ہوگی، وسعت کا یہ عالم کہ ادنی مرتبہ کا جنتی جب اپنے ملک میں نظر آئے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتا ہو، شوکت وشکورہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بےاجازت اس کے دربار میں اور بغیرسلام کیے نہ آئیں گے اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ دارمی اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوسعید خدری کی جو روایت ہے اس میں نبی ﷺ نے فرمایا ادنی ادنی اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے ان حدیثوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[10] اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور کا ذکر آیا ہے جبکہ دوسرے مقامات پر سونے کے بیان کئے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں کسی کو وہ، یا کبھی وہ کبھی یہ۔ [11] یعنی سب نعمتوں کے بعد شراب طہور (پاکیزہ شراب) کا جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا جس میں نہ سرگرانی ہوگی نہ بدبو۔ اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے۔ پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) بلاشبہ یہ نعمتیں تمہارے صلہ اور بدلا ہیں اور تمہاری سعی اور کوشش جو دنیا میں کیا کرتے تھے مقبول ہوئی اور ٹھکانے لگ گئی۔ یعنی یہ جنت کی تمام نعمتیں اس فرماں برداری اور اطاعت کا صلہ ہیں جو تم دنیا میں بجالاتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمہاری کوشش مقبول ہوئی اور تمہاری سعی ٹھکانے لگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–22

ف 3۔ اس سورت میں تین جگہ چاندی کے سامان کا ذکر آیا ہے اور دوسری آیات میں سونے کا، مگر دونوں میں تعارض نہیں، کیونکہ دونوں طرح کا سامان ہوگا، اور حکمت اس کی وہی تفنن طبائع و تنعمات کا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(بیشک یہ ہے تمہارا ثواب) یعنی بزرگیوں کے ساتھ یہ ہے تمہارے واسطے تمہارے کاموں کی جزا (اور تمہاری محنت مقبول ہوئی) یعنی کار خیر میں تمہارا دوڑنا پسندیدہ اور بدلا دینے کے قابل ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے احوال دنیا بیان فرمائے اور اطاعت کرنے والوں کے احوال کو نافرمانی کرنے والوں کے احوال پر مقدم رکھا۔ اطاعت کرنے والوں میں رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ کی امت ہے۔۔ چنانچہ۔۔ اپنے رسول کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 In the original, kana sa yu kum mashkura: "your endeavours have been accepted and recognized." Sa`i implies the entire lifework that a person accomplished in the world, the works and objectives to which he applied his energies and abilities; and its being mashkur means that Allah has appreciated it. Shukr when expressed by the servant to God implies his gratefulness to Him for His blessings, and when it is expressed by God for the servant, it means that He has appreciated his services. It is indeed highly kind of the Master that He should appreciate the endeavours of the servant when the…

Read the full tafseer →