Explained with ayahs 23–31
اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…
Read the full tafseer →سورة الدَّهْر 27
یہاں مخاطب بظاہر نبی ﷺ ہیں، لیکن دراصل روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آجاتا۔ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ان کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی 102۔ 104۔ 105۔ 106۔ بنی اسرائیل، 119) اور یہاں اسے نقل کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہیں، یعنی محمد ﷺ اس کے مصنف نہیں ہیں اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے ہیں، یعنی یہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…
Read the full tafseer →نبی صلعم کو صبر اور انتظار کی تلقین:
جس محل میں سورۂ قیامہ میں آیت: ’لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ‘ (۱۶) آئی ہے بعینہٖ اسی محل میں اور اسی مقصد سے اس سورہ میں یہ آیت ہے۔ یعنی منکرین اور مومنین کا انجام بیان کرنے کے بعد نبی ﷺ کو صبر اور انتظار کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کیے جاؤ اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ ان لوگوں کے سامنے وہ سب کچھ آ کے رہے گا جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے۔
’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْقُرْآنَ تَنزِیْلاً‘۔ یعنی یہ قرآن نہ تم نے اپنے جی سے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور نہ اس کو تم نے ہم سے مانگ پر اپنے اوپر نازل کرایا…
Read the full tafseer →23۔ 1 یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے حسب ضرورت مختلف اوقات میں نازل کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے، یہ تیرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، جیسا کہ مشرکین دعویٰ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →انا نحن ................................ طویلا
ان چار آیات آیات میں دعوت اسلامی کے حوالے سے ایک عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو داعیان حق کی زندگی میں اچھی طرح رچ اور بس جائے اور وہ ایک طویل عرصہ تک اس حالت میں رہیں اور اس میں غوروفکر کریں اور اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے حقیقی مفہوم ، اس کی عملی شکل اور اس کے ایمانی اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کریں۔
حضور اکرم ﷺ کی دعوت کا بنیادی نکتہ عقیدہ توحید تھا اور آپ ایک عرصہ تک مشرکین مکہ کے سامنے اسے پیش کرتے رہے تھے۔ آپ عقیدہ توحید کو محض ایک عقیدے کے طور پر ان کے سامنے نہ پیش کرتے تھے۔ اگر آپ صرف ایک عقیدے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
1 تاکہ آپ ﷺ کا دل مضبوط رہے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ اپنے نیک و بد کو سمجھ لیں۔ اور معلوم کرلیں کہ جنت کن اعمال کی بدولت ملتی ہے۔ اگر اس طرح سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور اپنی ضدو عناد ہی پر قائم رہیں تو آپ ﷺ اپنے پروردگار کے حکم پر برابر جمے رہیے۔ اور آخری فیصلہ کا انتظار کیجیے۔
2 عتبہ اور ولید وغیرہ کفار قریش آپ ﷺ کو دنیاوی لالچ دے کر اور چکنی چپڑی باتیں بنا کر چاہتے تھے کہ فرض تبلیغ و دعوت سے باز رکھیں۔ اللہ نے متنبہ فرما دیا۔ کہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کی بات نہ مانیں۔ کیونکہ کسی گنہگار فاسق یا ناشکر کافر کا کہنا ماننے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ایسے شریروں اور بدبختوں کی بات پر کان دھرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22{ اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَـکُمْ جَزَآئً وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا۔ } ”اور کہا جائے گا : یہ تم لوگوں کے لیے بدلہ ہے ‘ اور تمہاری جدوجہد مقبول ہوچکی ہے۔“
تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں غلبہ دین کے لیے جو جدوجہد کرتے رہے تھے وہ اللہ کے ہاں قبول کرلی گئی ہے اور اس کی قدردانی کے طور پر تم لوگوں کو جنت اور اس کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !
Read the full tafseer →27 کفار مکہ کا آپ ﷺ پر ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ ﷺ ساتھ کے ساتھ قرآن تصنیف کرتے رہتے ہیں۔ پھر ہمیں سنا دیتے ہیں۔ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہوتا تو ایک ہی بار نازل ہوجاتا۔ اس اعتراض کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تاکید اور تاکید مزید کے طور پر جمع متکلم کی تین ضمیریں استعمال فرمائیں ایک انا میں دوسرے نحن میں اور تیسرے نَزَّلْنَا میں۔ اتنی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ قرآن رسول کا تصنیف کردہ نہیں بلکہ ہم ہی نے اسے نازل کیا ہے اور تدریجاً نازل کیا ہے جس میں کئی مصلحتیں ہیں۔ جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
14۔ (کہ ان میں سے کسی کی ترغیب یا فرمائش پر دعوت وتبلیغ کا سلسلہ کسی طرح بند کردیں (آیت) ” انا ..... تنزیلا “۔ اور اس تدریجی تنزیل میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اسے تھوڑا ہی تھوڑا کرکے امت تک بسہولت پہنچاتے رہے۔ اور انہیں بھی قبول کرنے میں آسانی رہے۔ (آیت) ” فاصبر لحکم ربک “۔ اور انہیں احکام الہی میں ایک بڑا فریضہ تبلیغ و دعوت کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…
Read the full tafseer →انا نحن نزلنا علیک القران تنزیلا . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ آیت آیت کر کے
قرآن نازل کیا۔ یک دم مجموعہ نازل نہیں کیا۔ نحن مسند الیہ (مبتداء) ہے۔ نزلنا خبر فعلی ہے۔ جملہ کو انّ سے شروع کیا ہے۔ نزلنا خود جمع متکلم ہے لیکن نحن کا اس پر اضافہ کر کے فاعل کی طرف فعل کی اسناد کو مکرر کردیا۔ یہ طرز کلام ‘ کلام کو بہت مؤکد کردیتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تفریق کے ساتھ قرآن کو نازل کرنے ہی میں حکمت اور مصلحت ہے (یکدم مجموعہ نازل کرنے سے وہ مصلحت اور فائدہ حاصل نہیں ہوتا) پھر فعل کی نسبت اپنی طرف مکرر کرنے سے اختصاص کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے (کہ ہم نے ہی نازل کیا کسی دوسرے نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(23۔ 26) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔
شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ)
عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر…
Read the full tafseer →انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزلیلاً : سورت کے شروع سے یہاں تک کفار و ابرار کے انجام کا ذکر فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کفار کے اعتراضات کے جواب میں تسلی دی جا رہی ہے اور صبر و استقامت اور ذکر و تسبیح اور سجود کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آپ قرآن مجید اپنے پاس ہی سے بنا کر سناتے رہتے ہیں، ورنہ یہ اکٹھا ہی کیوں نازل نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس کا جواب مذکور ہے (مثلاً دیکھیے فرقان : 32) مگر یہاں نہایت زور دار لہجے میں فرمایا کہ یقینا ہی نے یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے آپ پر نازل کیا ہے، یعنی ہمارے علاوہ کوئی ایسا کلام بنا ہی نہیں سکتا، ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
انا نحن نزلناعلیک القرآن۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔
انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا۔ یعنی آپ نے اسے اپنی طرف سے گھڑا ہے اور نہ ہی آپ اسے اپنی طرف سے لائے جس طرح مشرک دعوی کرتے ہیں اس آیت کا ماقبل آیت کے ساتھ تعلق یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ اور وعید کی کئی صورتوں کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان کیا کہ یہ کتاب ان چیزوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے جن کی انسان کو ضرورت ہے، یہ جادو، کہانت اور شعر نہیں یہ حق ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تھوڑا تھوڑا آیت در آیت نازل کیا گیا ہے یہ یکبارگی نازل نہیں کیا گیا ہے اس وجہ سے ارشاد فرمایا، نزلنا اس بارے میں گفتگو مفصل گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔
فاصبر لحکم ربک ولاتطع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
66۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اہل جنت میں سے ہر آدمی کے لیے اہل دنیا میں سے سو آدمیوں کے برابر شہوت تقسیم کی جائے گی۔ اور ان کا کھانا اور ان کی حرص بھی اتنے ہی افراد کے برابر ان کے لیے ہوگی۔ جب وہ کھائے گا تو پاکیزہ شراب سے خوب سیراب ہوگا اور اس کے جسم میں سے مشک کی طرح خوشبودار پسینہ نکلے گا۔ پھر اس کی شہوت اور خواہش لوٹ آئے گی۔
67۔ عبدالرزاق وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکان سعیکم مشکورا اور تمہاری کوشش مقبول ہوگی۔ یعنی یقینی طور پر اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سی کوشش اور محنت کی قدردانی فرمائی۔
Read the full tafseer →[انا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ : بیشک ہم نے ہی اتارا آپ ﷺ پر ] [الْقُرْاٰنَ : اس قرآن کو ] [تَنْزِيْلًا : جیسے جستہ جستہ اتارنے کا حق ہے ]
نوٹ 1: آیت۔ 23 ۔ میں مخاطب بظاہر نبی ﷺ ہیں لیکن دراصل روئے سخن کفار کی طرف ہے کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آجاتا۔ قرآن میں بعض مقامات پر ان کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں اسے نقل کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہی ہیں یعنی محمد ﷺ اسکے مصنف نہیں ہیں۔ اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے…
Read the full tafseer →حضور رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم کہ آپ صبح شام اللہ تعالیٰ ذکر کیجئے اور رات کو نماز پڑھیے اور دیر تک تسبیح میں مشغول رہیے، فاسق یا فاجر کی بات نہ مانیے
اہل جنت کے انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اس انعام عظیم کا تذکرہ فرمایا جو دنیا میں رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمایا جس کے ذریعے آخرت میں انعامات ملیں گے، یہ انعام قرآن کریم کی تنزیل ہے تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کو کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اول سے آخرتک بیک وقت پورا نازل نہیں فرمایا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا۔ اس میں آپ کے لیے بھی آسانی ہوگئی اور حضرات صحابہ ؓ کے لیے بھی تھوڑا تھوڑا کر کے یاد بھی ہوگیا اور جیسے جیسے نازل ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
17:۔ ” انا نحن “ یہ سورت کا دوسرا حصہ ہے۔ ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو تبلیغ کریں۔ مسئلہ توحید ان کو سمجھائیں حشر و نشر اور جزاء سزا سے ان کو آگاہ کریں۔ ” فاصبر لحکم ربک “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تبلیغ توحید اور ادائے رسالت کا جو حکم صادر فرمایا اس کی خاطر مخالفین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں اور تکلیفوں پر صبر کیجئے اور راہ حق میں آنے والے شدائد و مصائب کو مردانہ وار برداشت فرمائیے۔ ان مشرکین میں سے کسی مجرم اور کفر و شرک کے داعی کی بات نہ مانئے گا۔ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ توحید کی تبلیغ سے باز…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا 23 ۚ
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ترکیب : انانحن نزلنا مبتداء اوخبر۔ وقال الزجاج اوھھنا اولہ من الواولانھا بدل علی ان کل واحد اھل ٌ ان لایطاع بخلاف الواولانھا تدل علی ان لایطاع کلاھما وجازان یطاع احد ھما وقال الفراء او بمعنی لاکانہ قال ولاکفورا بکرۃ من اول النہار الی الزوال والاصیل من الزوال الی الغروب وھما منصوبان علی انھما ظرفان لاذکر ومن اللیل من للتبعیض والفاء دالۃ علی معنی الشرطیۃ والتقدیر مھما یکن من شیء فصل من اللیل اے فی اللیل لیلاً منصوب علیٰ انہ ظرف کسبحہ۔
تفسیر : اس سورة کی ابتداء میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آدمی معدوم تھا۔ عدم سے وجود میں لایا گیا ایک قطرہ منی سے بنایا گیا جس میں اس کی تمام قوتیں اور کل ظاہر ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْـنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلاً ۔ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تُطِعْ مِنْہُمْ اٰ ثِمًا اَوْکَفُوْرًا۔ (الدہر : 23، 24)
(اے پیغمبر ہم نے ہی آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حکم پر صبر کریں اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات پر دھیان نہ دیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو صبر اور انتظار کی تلقین
گزشتہ آیات میں منکرین کا انجام بھی بیان ہوا ہے اور مومنین کا بھی۔ ان دونوں کے درمیان چونکہ حد فاصل اور قول فیصل قرآن کریم اور اس کی لائی ہوئی تعلیم ہے اور اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو منکرین نے مخالفتوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ چناچہ اسی قرآن کریم کے حوالے سے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے یہ بات بتلا دی ہے کہ اے انسان تو شکر اور کفر میں جس کا چاہے انتخاب کرلے جو لوگ کفر کریں گے انہیں جہنم میں رنجیروں سے جھکڑا جائے گا اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے، جو لوگ شکر کا راستہ اختیار کریں گے ان کے اعمال کی قدر دانی کی جائے گی۔ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی۔ قرآن مجید میں ” اللہ تعالیٰ “ نے ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اس کے باوجود لوگ ہدایت کے راستہ پر نہیں آتے تو داعی کو صبر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہے۔ نبی ﷺ کو اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا…
Read the full tafseer →قرآن کی نعمت :
23 : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُراٰنَ تَنْزِیْلًا (ہم نے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے) ضمیر کو دوبارہ لائے اول ضمیر اَنَّ کا اسم بن گئی۔ دراصل اس سے تاکید درتاکید مقصود ہے کہ قرآن مجید کا اتارنا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے خاص ہے۔ تاکہ آپ کے دل میں یہ بات اور زیادہ پختہ کردی جائے کہ جب قرآن مجید کو اتارنے والے اللہ تعالیٰ ہیں تو تھوڑا اتارنا یقینا حکمت اور بہتری کے پیش نظر ہے۔ اور آپ کا اس پر ایذاء کو سہنا حکمت سے خالی نہیں۔ اسی طرح اہل مکہ جو آپ کی دشمنی میں پیش پیش ہیں ان کے خلاف آپ کی نصرت میں تاکید حکمت بیش کی وجہ سے ہے۔
Read the full tafseer →22 ۔” ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا “ یعنی جو جنت کی نعمتیں بیان کی گئی ہیں وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کا بدلہ ہوگی اور تمہاری سعی اور دنیا میں عمل کرنا اللہ کی طاعت میں اس کی قدردانی کی جائے گی۔ عطا (رح) فرماتے ہیں میں نے تمہاری اس پر قدردانی کی ہے اور تم کو افضل ثواب دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا) ، بیشک ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔ اور اس کے اندر وعدہ وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں قرآن کریم کے اندر اللہ کے اوامر شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →30 قرآن حکیم کو نہایت اہتمام کے ساتھ نازل کرنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس قرآن کو ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر تھوڑا تھوڑا کرکے (اے پیغمبر ﷺ ! ) ۔ قسط وار تئیس سال کے طویل عرصے میں، تاکہ آپ کیلئے اس کا سمجھنا، سمجھانا، سیکھنا، سکھانا، اور آگے پہنچانا آسان ہو اور تاکہ یہ طریقہ آپ ﷺ کیلئے تسکین قلب اور تقویت و تبثیت باطن کا ذریعہ بنے، سو یہ طریقہ ہماری حکمت کا عین مقتضیٰ ہے، اس پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کی اپنی کوڑ مغزی اور کوتاہ فہمی کا نتیجہ ہے، والعیاذ باللہ ‘ چناچہ دوسرے قمام پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا " وقال الذین کفروا لولا نزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے
تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
آیات 23 تا 31
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔
اسم ذات کے ذکر کا حکم۔
یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…
Read the full tafseer →“۔8 مطلب یہ ہے کہ اسے آپ ﷺ نے خود تصنیف نہیں کرلیا ہے جیسا کہ یہ مشرکین خیال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(76:23) نزلنا۔ ماضی جمع متکلم تنزیل (تفعیل) مصدر۔ بطور مفعول مطلق تاکیدا لایا گیا ہے۔ مراد یہ کہ قرآن مجید کو ہم نے آیت آیت کرکے نازل کیا۔
علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ مراد یہ ہے کہ آیت آیت کرکے نازل کیا یک دم مجموعہ نازل نہیں کیا۔ نحن مسند الیہ (مبتدائ) ہے نزلنا خبر فعلی ہے جملہ کو انا سے شروع کیا ہے نزلنا خود جمع متکلم ہے لیکن نحن کا اس پر اضافہ کرکے فاعل کی طرف فعل کی اسناد کو مکرر کردیا۔ یہ طرز کلام کلام کو بہت مؤکد کردیتا ہے اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تفریق کے ساتھ قرآن کو نازل کرنے میں حکمت اور مصلحت ہے (یک دم مجموعہ نازل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
لغات القرآن۔
شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔
تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول :
اوپر نیک وبد لوگوں کا اور جنت دوزخ کا حال تھا، اس قسم کی آیتیں نبی ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنالی ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا ، ان لوگوں کو ایک سیدھی سی بات بتلادی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورت یہ لوگ بھی بناکر پیش کریں، جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنامحض ان کی ہٹ دھرمی ہے یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو بتدریج ضرورت کے موافق اے محبوب ﷺ اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل کیا ہے اس میں اللہ کی بڑی حکمتیں ہیں…
Read the full tafseer →[12] تاکہ تم تھوڑا تھوڑا کر کے امت تک بسہولت پہنچاتے رہو اور لوگوں کو بھی قبول کرنے میں آسانی رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…
Read the full tafseer →(23) اے پیغمبر ہم نے قرآن کو آپ پر تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا ہے یعنی حسب ضرورت نجماً نجماً نازل ہوتا رہا ہے تاکہ خوب ذہن نشین ہوجائے اور لوگوں کو ابتداء میں پڑھنے اور سیکھنے کی آسانی ہو جیسا کہ ہم سورة بنی اسرائیل اور سورة فرقان میں عرض کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔
Read the full tafseer →(بیشک ہم نے اتارا تم پر قرآن کو بتدریج) ۔
اس آیت سے مقصود رسول اللہ کے دل کو مضبوط کرنا ہے اور آپ کو تسلی دینا ہے کیونکہ قریش مکہ آپ پر تہمت لگاتے تھے کہ آپ جو کلام پیش کرتے ہیں وہ کہانت اور جادو ہے ، تو اللہ نے اس کے رد میں فرمایا کہ یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہے اور اللہ نے اس کلام کو تھوڑا تھوڑا کر کے جو نازل کیا اس میں بھی حکمت بالغہ ہے کہ جس وقت کے لیے جو حکم مقرر ہے اس وقت میں وہ حکم دیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ کفار سے قتال کا حکم ہجرت کے بعد دیا گیا اور ہجرت سے پہلے کفار کی ایذا کے مقابلہ میں آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ جب کوئی صورت حال پیش آئے۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…
Read the full tafseer →27 Though the addressee here apparently is the Holy Prophet (upon whom be peace) , the discourse is directed to the disbelievers, who said "Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) himself composes the Qur'an deliberately piece by piece; had it been from Allah, it would be revealed all at once. At some places on the Qur'an this objection bas been cited and answered (e.g. see E.N.'s 102, 104, 105, 106 of An-Nahl and E.N. 119 of Bani Isra'il) , but here Allah has answered it without citing it, saying emphatically: "It is We Ourself Who are sending it down: it is not the composition…
Read the full tafseer →