Al-Insaan 76:24

Al-Insaan · from ayah 24

76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا ۟ۚفَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡهُمۡ اٰثِمًا اَوۡ كَفُوۡرًا‌ۚ‏

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So be patient for the decision of your Lord and do not obey from among them a sinner or ungrateful [disbeliever].

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:24

لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، اور اِن میں سے کسی بد عمل یا منکر حق کی بات نہ مانو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم اپنے پروردگار کے حکم پر ثابت قدم رہو، اور ان لوگوں میں سے کسی نافرمان یا کافر کی بات نہ مانو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ اپنے ربّ کے حکم کی خاطر صبر (جاری) رکھیں اور ان میں سے کسی کاذب و گنہگار یا کافر و ناشکرگزار کی بات پر کان نہ دھریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور ان میں سے کسی گناہ گار یا بہت ناشکرے کا کہنا مت مان۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا آپ اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کیجیے اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ مانئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات کا دھیان نہ کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم کے مطابق اور (کسی بھی قیمت پر) بات نہیں ماننا ان میں سے کسی بھی بدکار یا منکر حق کی

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر مستقل رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آئیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا اور آپ ﷺ ان میں سے کسی گناہگار یا ناشکرے کی باتوں پر دھیان نہ دیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی گناہ گار ناشکرے کا کہا نہ مانو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So persevere with the command of your Lord and do not pay any heed to the wicked and the unbelieving,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, be steadfast patiently in (obeying) your Lord‘s command, and do not obey any one of them who is sinner or ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

So, be steadfast patiently in (obeying) your Lord‘s command, and do not obey any one of them who is sinner or ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therefore be patient with constancy to the command of your Lord, and obey neither a sinner nor a disbeliever among them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So submit patiently to thy Lord's command, and obey not of them any guilty one or disbeliever.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So be patient for the decision of your Lord and do not obey from among them a sinner or ungrateful [disbeliever].

— Saheeh International

So wait patiently for the command of your Lord and do not yield to any sinful or disbelieving person among them (people).

— Muhammad Sarwar

Therefore wait patiently for the command of your Lord, and obey not from among them a sinner or an ungrateful one.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore persevere thou with the commandment of thy Lord, and obey not thou of them, any sinner or ingrate.

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore be patient with constancy to the Command of thy Lord, and hearken not to the sinner or the ingrate among them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–31

اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الدَّهْر 28 یعنی تمارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو، جو کچھ بھی تم پر گزر جائے اسے پا مردی کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ اور پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دو۔ سورة الدَّهْر 29 یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دین حق کی تبلیغ سے باز نہ آؤ، اور کسی بد عمل کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں، یا کسی منکر حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو، خواہ کوئی بد کار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو۔ اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا أَوْ کَفُوْرًا‘۔ ’فَاصْبِرْ‘ کے بعد ’ل‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ انتظار کے مضمون پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب تم نے مانگ کر اپنے اوپر نہیں اتروائی ہے تو لوگوں کے اعتراضات و مطالبات سے تم کیوں پریشان ہو۔ تمہارے اوپر بلاغ کی ذمہ داری ہے وہ ادا کرتے رہو اور رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ ان نابکاروں اور ناہنجاروں کی ذرا پروا نہ کرو جو مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کو وہ عذاب دکھا دیا جائے جس سے قرآن ان کو ڈرا رہا ہے۔ لفظ ’اطاعت‘ یہاں پروا کرنے کے معنی میں ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ آیت: ’کَلَّا لَا تُطِعْہُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کرو وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لئے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور اگر تجھے اللہ کے نازل کردہ احکام سے روکیں تو ان کا کہنا نہ مان، بلکہ تبلیغ ودعوت کا کام جاری رکھ اور اللہ پر بھروسہ رکھ، وہ لوگوں سے تیری حفاظت فرمائے گا، فاجر جو اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہو اور کفور جو دل سے کفر کرنے والا ہو یا کفر میں حد سے بڑھ جانے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاصبر لحکم ........................ اوکفورا (24:76) ” لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ، اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ نہ تمہارے درمیان کوئی پل ہے ، جس کے اوپر سے خیالات ، نظریات ادھر ادھر جاسکیں۔ کیونکہ تمہارے منہاج اور جاہلیت کے منہاج کے درمیان وسیع خلا ہے۔ اس کائنات کے بارے میں تمہارا تصور ان کے تصورات سے جدا ہے۔ تم حق پر ہو اور وہ کفر پر ہیں۔ تم ایمان پر ہو اور وہ باطل پر ہیں۔ تم نور پر ہو اور وہ اندھیرے میں ہیں۔ تم علم ومعرفت پر ہو اور وہ جاہلیت پر ہیں۔ پھر معاملات تمام اللہ کے احکام کے مطابق ظہور پذیر ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–24

1 تاکہ آپ ﷺ کا دل مضبوط رہے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ اپنے نیک و بد کو سمجھ لیں۔ اور معلوم کرلیں کہ جنت کن اعمال کی بدولت ملتی ہے۔ اگر اس طرح سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور اپنی ضدو عناد ہی پر قائم رہیں تو آپ ﷺ اپنے پروردگار کے حکم پر برابر جمے رہیے۔ اور آخری فیصلہ کا انتظار کیجیے۔ 2 عتبہ اور ولید وغیرہ کفار قریش آپ ﷺ کو دنیاوی لالچ دے کر اور چکنی چپڑی باتیں بنا کر چاہتے تھے کہ فرض تبلیغ و دعوت سے باز رکھیں۔ اللہ نے متنبہ فرما دیا۔ کہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کی بات نہ مانیں۔ کیونکہ کسی گنہگار فاسق یا ناشکر کافر کا کہنا ماننے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ایسے شریروں اور بدبختوں کی بات پر کان دھرنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا“ ربط ِمضمون کے اعتبار سے یوں سمجھئے کہ ان آیات کا تعلق سورة القیامہ کی ان آیات سے ہے : { لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ - اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۔ } ”آپ ﷺ اس قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے“۔ یعنی ہم نے قرآن مجید کو بطرز تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے ہی نازل کرنا ہے ‘ ہماری مشیت اسی میں ہے۔ ہمارا ہر حکم اور ہر فیصلہ اسی وقت پر نازل ہوگا جو وقت ہم نے اس کے نزول کے لیے طے کر رکھا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ کو نہ صرف نزول قرآن کے حوالے سے صبر کرنا ہے بلکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 کچھ کافر تو وہ تھے جو قرآن پر اور آپ ﷺ کی رسالت پر مختلف قسم کے اعتراضات جڑ رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو آپ ﷺ کو لالچ دے کر مداہنت اور سمجھوتہ کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ ان میں عتبہ بن ربیعہ کا نام بالخصوص قابل ذکر ہے۔ جس نے آپ ﷺ کو کہا تھا کہ آپ ﷺ مکہ کی ریاست چاہتے ہیں یا مال و دولت یا کسی حسین لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپ ﷺ کی ہر بات منظور ہوگی بشرطیکہ آپ ﷺ اس کام سے باز آجائیں۔ جس کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول کو سمجھایا کہ ان میں سے کسی کی بات کو بھی تسلیم نہ کیجیے۔ نہ ان سے بحث میں الجھیے۔ صبر کیجیے اور صبر کے ساتھ اپنا کام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

14۔ (کہ ان میں سے کسی کی ترغیب یا فرمائش پر دعوت وتبلیغ کا سلسلہ کسی طرح بند کردیں (آیت) ” انا ..... تنزیلا “۔ اور اس تدریجی تنزیل میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اسے تھوڑا ہی تھوڑا کرکے امت تک بسہولت پہنچاتے رہے۔ اور انہیں بھی قبول کرنے میں آسانی رہے۔ (آیت) ” فاصبر لحکم ربک “۔ اور انہیں احکام الہی میں ایک بڑا فریضہ تبلیغ و دعوت کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–31

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصبر لحکم ربک . فاء سببی ہے (ف سے پہلے کا کلام بعد والے حکم کا سبب ہے) یعنی جب تم نے نیکوں اور بدوں کا حال اور سزا و جزا کی تاخیر کا سبب جان لیا تو کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر کرو۔ ان کو عذاب دینے کی جلدی نہ کرو ‘ کافروں پر تمہارے فتح یاب ہونے میں جو تاخیر ہو رہی ہے ‘ اس سے رنجیدہ نہ ہو اور جب تم جانتے ہو کہ قرآن خدا ہی نے نازل فرمایا ہے تو اس کے تشریعی احکام پر صبر کرو۔ ولا تطع منھم اثما او کفورا . یعنی فتح یابی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے تنگ دل ہو کر کافروں میں سے کسی آثم یا کفور کے کہنے پر نہ چلو۔ اٰثم سے مراد وہ گنہگار جو گناہ کی طرف چلانے والا ہے خواہ وہ گناہ کفر نہ ہو۔ کفور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–26

(23۔ 26) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔ شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ) عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فاصبر لحکم ربک…: یعنی وہ وقت آرہا ہے جب آپ کا رب حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، آپ اس وقت کا اتنظار کرتے ہوئے صبر کریں۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ آپ جہاد کے لئے اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کریں، یعنی خود بھی اللہ تعالیٰ کے احاکم پر عمل کرتے رہیں، لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر آزمائش پر بھی صبر کریں اور اس سے روکنے والے کسی شخص کے کہنے پر، خواہ وہ کوئی گناہگار یعنی بدعمل ہو یا ناشکرا یعنی بدعقیدہ ہو، نہ اپنا عمل چھوڑیں، نہ عقیدہ اور نہ اس کی دعوت۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–24

انا نحن نزلناعلیک القرآن۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔ انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا۔ یعنی آپ نے اسے اپنی طرف سے گھڑا ہے اور نہ ہی آپ اسے اپنی طرف سے لائے جس طرح مشرک دعوی کرتے ہیں اس آیت کا ماقبل آیت کے ساتھ تعلق یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ اور وعید کی کئی صورتوں کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان کیا کہ یہ کتاب ان چیزوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے جن کی انسان کو ضرورت ہے، یہ جادو، کہانت اور شعر نہیں یہ حق ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تھوڑا تھوڑا آیت در آیت نازل کیا گیا ہے یہ یکبارگی نازل نہیں کیا گیا ہے اس وجہ سے ارشاد فرمایا، نزلنا اس بارے میں گفتگو مفصل گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ فاصبر لحکم ربک ولاتطع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–26

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع منہم اٰثما او کفورا اور ان میں سے کسی بدکار یا ناشکرے کا کہا نا مانا کریں۔ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت اللہ کے دشمن ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابو جہل نے کہا جب نبی مکرم ﷺ پر نماز فرض ہوئی اور اس دن آپ مکہ میں تھے اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ضرور آپ کی گردن کو پاؤں سے روند ڈالوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ولاتطع منہم اٰثما اوکفورا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاصْبِرْ : پس آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] [لِحُكْمِ رَبِكَ : اپنے رب کے حکم کے لیے (حقیقی حکم پر)] [وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ : اور کہنا مت مانیں ان میں سے ] [اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا : کسی گنہگار کا یا کسی ناشکرے کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–26

﴿ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ0024﴾ (اور ان لوگوں میں سے کسی فاسق یا کافر کی بات نہ مانیے) یہ لوگ آپ کو تبلیغ سے روکتے ہیں آپ ان کی فرمانبرداری نہ کریں اور تبلیغ کے کام میں لگے رہیں۔ ﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًاۖۚ0025﴾ (اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجئے) ۔ ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا 0026﴾ (اور رات کے حصے میں بھی اپنے رب کو سجدہ کیجئے اور رات کے بڑے حصہ میں اس کی تسبیح کیا کیجئے) اس میں یہ بتایا کہ کار دعوت کی مشغولی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی عبادت میں بھی مشغول رہیں نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص عابد و ذاکر ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–31

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

17:۔ ” انا نحن “ یہ سورت کا دوسرا حصہ ہے۔ ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو تبلیغ کریں۔ مسئلہ توحید ان کو سمجھائیں حشر و نشر اور جزاء سزا سے ان کو آگاہ کریں۔ ” فاصبر لحکم ربک “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تبلیغ توحید اور ادائے رسالت کا جو حکم صادر فرمایا اس کی خاطر مخالفین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں اور تکلیفوں پر صبر کیجئے اور راہ حق میں آنے والے شدائد و مصائب کو مردانہ وار برداشت فرمائیے۔ ان مشرکین میں سے کسی مجرم اور کفر و شرک کے داعی کی بات نہ مانئے گا۔ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ توحید کی تبلیغ سے باز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا۝ 24 ۚ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–26

ترکیب : انانحن نزلنا مبتداء اوخبر۔ وقال الزجاج اوھھنا اولہ من الواولانھا بدل علی ان کل واحد اھل ٌ ان لایطاع بخلاف الواولانھا تدل علی ان لایطاع کلاھما وجازان یطاع احد ھما وقال الفراء او بمعنی لاکانہ قال ولاکفورا بکرۃ من اول النہار الی الزوال والاصیل من الزوال الی الغروب وھما منصوبان علی انھما ظرفان لاذکر ومن اللیل من للتبعیض والفاء دالۃ علی معنی الشرطیۃ والتقدیر مھما یکن من شیء فصل من اللیل اے فی اللیل لیلاً منصوب علیٰ انہ ظرف کسبحہ۔ تفسیر : اس سورة کی ابتداء میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آدمی معدوم تھا۔ عدم سے وجود میں لایا گیا ایک قطرہ منی سے بنایا گیا جس میں اس کی تمام قوتیں اور کل ظاہر ہونے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْـنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلاً ۔ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تُطِعْ مِنْہُمْ اٰ ثِمًا اَوْکَفُوْرًا۔ (الدہر : 23، 24) (اے پیغمبر ہم نے ہی آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حکم پر صبر کریں اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات پر دھیان نہ دیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو صبر اور انتظار کی تلقین گزشتہ آیات میں منکرین کا انجام بھی بیان ہوا ہے اور مومنین کا بھی۔ ان دونوں کے درمیان چونکہ حد فاصل اور قول فیصل قرآن کریم اور اس کی لائی ہوئی تعلیم ہے اور اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو منکرین نے مخالفتوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ چناچہ اسی قرآن کریم کے حوالے سے نبی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے یہ بات بتلا دی ہے کہ اے انسان تو شکر اور کفر میں جس کا چاہے انتخاب کرلے جو لوگ کفر کریں گے انہیں جہنم میں رنجیروں سے جھکڑا جائے گا اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے، جو لوگ شکر کا راستہ اختیار کریں گے ان کے اعمال کی قدر دانی کی جائے گی۔ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی۔ قرآن مجید میں ” اللہ تعالیٰ “ نے ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اس کے باوجود لوگ ہدایت کے راستہ پر نہیں آتے تو داعی کو صبر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہے۔ نبی ﷺ کو اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24 : فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ (آپ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کیے رہیئے) کافر و گنہگار کے پیچھے نہ چلیں : وَ لَاتُطِعْ مِنْہُمْ (آپ ان میں سے کسی کے کہنے پر نہ آئیے) ھمؔ سے کفار مراد ہیں۔ اس بات سے اکتا کر کہ کامیابی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اٰثِمًا (فاسق) جو گناہ کا مرتکب، اور آپ کو گناہ کی طرف دعوت دینے والا ہو۔ اَوْکَفُوْرًا (یا کافر) کفر کا مرتکب اور آپ کو کفر کی طرف بلانے والا ہو۔ کیونکہ وہ آپ کو اپنی معاونت کی طرف یا تو اس فعل کی شرط پر دعوت دیتے ہونگے جو گناہ ہے یا کفر یا گناہ نہیں اور نہ کفر۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلی دو صورتوں کی مساعدت پر ممانعت کردی۔ نہ کہ تیسری۔ ایک قول گناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جدا جدا آیت کے بعد آیت یکبارگی نہیں اتارا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–31

23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

بنابریں فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجئے اور اس پر ناراضی کا اظہارنہ کیجئے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجئے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کرسکے۔ (وَلَا تُطِعْ ) معاندین حق کی اطاعت نہ کیجئے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ( اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا) یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں) کفر کرنے والی کی۔ کیونکہ کفار، فجار، اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 صبر و استقامت کو اپنائے رکھنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر ﷺ کو خظاب کرکے ارشاد فرمایا گیا۔ پس آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیں اپنے رب کے حکم کیلئے۔ اور ان ناہنجاروں کا معاملہ اسی وحدہ لاشریک کے سپرد کردیں۔ وہ ان سے ٹھیک ٹھیک اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق خود نبٹ لے گا ‘ اس کا اس بارہ جب اور جو بھی حکم و فیصلہ ہوگا وہی بہتر ہوگا، سو آپ ﷺ اسی کے تابع اور اسی کے منتظر رہیں، اور اسی کیلئے صبر و برداشت سے کام لیں، سلوات اللہ وسلامہ علیہ، یہاں پر فاصبر کے بعد چونکہ ل کا صلہ آگیا ہے اس لئے یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں پر یہ انتظار کے معنی کو متضمن ہے، مطلب یہ کہ جب آپ ﷺ نے یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–31

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عنقریب آپ ﷺ کو ان کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ جب تک یہ حکم نہ آئے آپ ﷺ ان کی ایذارسانی کو صبرو ہمت سے برداشت کرتے رہے۔10 یعنی یہ اگر دھمکی یا لالچ دے کر آپ ﷺ کو دعوت حق کے کام سے بازرکھنا چاہیں تو آپ ﷺ ان کی بات پر ہرگز کان نہ دھریں بلکہ دعوت کا کام پوری توجہ اور تندہی سے جاری رکھیں۔ کہتے ہیں کہ بدکار سے مراد عتبہ بن ربیعہ ہے اور ناشکرے سے مراد ولید بن مغیرہ، کیونکہ ان دونوں بدبختوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کو خالص توحید کی طرف بلانے سے باز آجائیے، ہم آپ ﷺ کو جتنی دولت آپ ﷺ چاہیں گے دیں گے اور جس عورت سے آپ ﷺ چاہیں گے آپ ﷺ کا نکاح کردیں گے۔ (فتح…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:24) فاصبر لحکم ربکسببیہ ہے (ف سے پہلے کا کلام بعد والے حکم کا سبب ہے۔ یعنی جب تم نے نیکوں اور بروں کا حال جان لیا۔ اور جزاء و سزا کی تاخیر کا سبب بھی جان لیا۔ تو کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر کرو۔ کافروں کو عذاب دینے کی جلدی مت کرو۔ کافروں پر فتح یاب ہونے میں جو تاخیر خیر ہو رہی ہے اس سے رنجیدہ نہ ہو اور جب تم جانتے ہو کہ قرآن خدا نے ہی نازل کیا ہے تو اس کے تشریعی احکام پر صبر کرو۔ اصبر فعل امر واحد مذکر حاضر، صبر (باب ضرب) مصدر۔ تو صبر کر۔ ولا تطع منہم : واؤ عاطفہ، لاتطع فعل نہیں واحد مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر تو اطاعت نہ کر۔ تو حکم نہ مان۔ منھم میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–31

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) شان نزول : عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ یہ دونوں نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ اس کام سے باز آجایے یعنی اپنے دین کی تبلیغ سے عتبہ نے کہا کہ آپ ایسا کریں گے تو میں اپنی بیٹی آپ کو بیاہ دوں گا اور بغیر مہر کے آپ کی خدمت میں حاضر کردوں گا ولید نے کہا کہ میں آپ کو اتنا مال دیدوں گا کہ آپ راضی ہوجائیں ، اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ یہ لوگ آخرت کے تو منکر ہیں فقط دنیا پر ان لوگوں کا مدار ہے اور اللہ کے نزدیک دنیا کوئی چیز نہیں، اس لیے اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں کی ایک نہ سنو، اور لوگوں کی نصیحت اور اللہ کی عبادت میں جہاں تک ممکن ہو رات دن لگے رہو۔ اللہ تمہاری ہر طرح کی مدد کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی تمہارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو اور عزم و ہمت کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ۔ [14] یعنی کسی بدعمل کی خاطر دین میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لئے تیار نہ ہو جو کچھ حرام و ناجائز ہے۔ اسے برملا حرام و ناجائز کہو خواہ کوئی بدکار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی خدمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو۔ نیز جو باطل عقائد ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور جو حق ہیں انہیں علانیہ حق کہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–24

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر ثابت قدم رہیے اور جمے رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کا کہنا نہ مانیے۔ کہتے ہیں کہ جنت کی نعمتیں سن کر کافروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ پیغمبر عیش و آسائش کی زندگی چاہتا ہے لہٰذا اس کو نعمتیں پیش کرو چناچہ سب لوگ جمع ہوئے کسی نے باغ کی پیش کش کی کسی نے بہت بڑا مکان دینے کو کہا، کسی نے اپنی خوبصورت لڑکی سے شادی کردینے کو کہا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ ہم نے قرآن تم پر نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ ہدایت قبول کریں۔ یہاں کسی عیش پرستی کا سوال نہیں ہے آپ ان میں سے کسی فاسق اور کافر کا کہنا نہ مانیے یعنی دونوں میں سے ایک کا بھی نہیں بلکہ اپنے پروردگار کے حکم پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–31

ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–26

(تو انتظار رکھو اپنے رب کے حکم کا ، اور نہ کہا مانو ان میں سے کسی گنہگار۔۔ یا ۔۔ ناشکرے کا) کسی ایسی کا جو تجھ کو گناہ کی طرف بلائے ، جیسے کہ عتبہ نے کہا کہ دعوت اسلام سے باز آؤ کہ میں اپنی تم کو دوں۔۔ یا کسی ایسے ناشکرے کی جو تجھ کو کفر کی طرف بلائے ، جیسے کہ ولید بن مغیرہ ، کہ اس نے کہا کہ اپنے باپ دادا کے دین کی طرف رجوع کرو تاکہ تم کو مالدار کردوں۔ (اور یاد کرو اپنے رب کے نام کو صبح و شام) یعنی ہمیشہ اس کی یاد میں مشغول رہو۔ (اور کچھ رات میں اس کا سجدہ کرو) یعنی اس کے واسطے نماز ادا کرو۔ بعضوں نے کہا ہے کہ بکرۃ فجر کی نماز کا وقت ہے ، اور اصیلا ظہر اور عصر کے وقت کو شامل ہے ، اور کچھ رات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

28 "Be patient": "Face patiently the hardships and difficulties of the great Mission your Lord has entrusted to you: endure firmly and steadfastly whatever comes to pass, without showing any weakness in this regard." 29 "Do not obey ...": "Do not yield to any one of them so as to give up preaching of the true faith: do not be inclined to make even the least change in the religious beliefs for the sake of any denier of the Truth, or in the moral teachings for the sake of a wicked person. Proclaim whatever is unlawful and forbidden to be so openly even if an immoral person might press you hard…

Read the full tafseer →