Al-Insaan 76:25

Al-Insaan · from ayah 25

76:25

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّاَصِیْلًا ۟ۖۚوَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا

اور صبح وشام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And mention the name of your Lord [in prayer] morning and evening

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:25

اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور صبح وشام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنے پروردگار کے نام کا صبح و شام ذکر کیا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے رب کا نام صبح اور پچھلے پہر یاد کیا کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام یاد کیجیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور صبح و شام اپنے رب کے نام کی یاد رکھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یاد کرتے رہا کرو تم نام اپنے رب کا صبح و شام (یعنی ہر وقت)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے پروردگار کا نام صبح وشام لیتے رہئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیجیے صبح و شام۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and remember the name of your Lord, morning and evening;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And pronounce the name of Allah morning and evening.

— Muhammad Taqi Usmani

And pronounce the name of Allah morning and evening.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And remember the Name of your Lord every morning and afternoon.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Remember the name of thy Lord at morn and evening.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And mention the name of your Lord [in prayer] morning and evening

— Saheeh International

Mention the Name of your Lord, mornings and evenings.

— Muhammad Sarwar

And glorify the name of your Lord morning and evening.

— Muhammad Habib Shakir

And remember thou the name of thy Lord in the morning and in the evening.

— Abdul Majid Daryabadi

And celebrate the name of thy Lord morning and evening,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–31

اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الدَّهْر 28 یعنی تمارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو، جو کچھ بھی تم پر گزر جائے اسے پا مردی کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ اور پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دو۔ سورة الدَّهْر 29 یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دین حق کی تبلیغ سے باز نہ آؤ، اور کسی بد عمل کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں، یا کسی منکر حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو، خواہ کوئی بد کار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو۔ اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

صبر کا نسخہ: اوپر جس صبر کی تلقین فرمائی ہے یہ اس کا نسخہ بتایا ہے کہ صبح و شام اپنے رب کے نام کو یاد رکھو۔ صبح و شام احاطۂ وقت کے مفہوم میں بھی بولے جاتے ہیں اور لفظ ’ذکر‘ یہاں عام ہے جو نماز اور ذکر دوام دونوں پر شامل ہے۔ ’وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاً‘ کے الفاظ سے تہجد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ خاص طور پر سورۂ مزمل کی تفسیر میں اس کے تمام اطراف زیربحث آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 صبح شام سے مراد تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر، یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

واذکراسم ........................ طویلا (25:76 تا 26) ” اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے زادراہ ۔ صبح وشام اللہ کا نام لینا اور طویل راتوں میں اللہ کی پاکی بیان کرنا ، اس سرچشمے سے رابطہ بحال رکھنا جہاں سے قرآن کریم کا نزول ہورہا ہے۔ جہاں سے دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی برپا کرنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ یہی سرچشمہ قوت کا بھی سرچشمہ ہے۔ یہی اس راہ کے سازو سامان کا بھی ماخذ ہے۔ اور اس کے ساتھ رابطے کا طریقہ ذکروفکر ، تسبیح وتہلیل اور دعاء و عبادت ہے۔ خصوصاً طویل راتوں کے اوقات میں۔ اس لئے کہ یہ راہ طویل ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ہمہ وقت اس کو یاد رکھو خصوصاً ان دو وقتوں میں سب خرخشوں کا علاج یہی ذکر خدا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا“ ربط ِمضمون کے اعتبار سے یوں سمجھئے کہ ان آیات کا تعلق سورة القیامہ کی ان آیات سے ہے : { لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ - اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۔ } ”آپ ﷺ اس قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے“۔ یعنی ہم نے قرآن مجید کو بطرز تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے ہی نازل کرنا ہے ‘ ہماری مشیت اسی میں ہے۔ ہمارا ہر حکم اور ہر فیصلہ اسی وقت پر نازل ہوگا جو وقت ہم نے اس کے نزول کے لیے طے کر رکھا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ کو نہ صرف نزول قرآن کے حوالے سے صبر کرنا ہے بلکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 25–26

29 نمازوں کے اوقات :۔ اس صبر اور برداشت کے لیے جو قوت درکار ہے۔ وہ آپ ﷺ کو اللہ کے ذکر اور اس پر توکل کرنے سے حاصل ہوگی۔ لہذا آپ ﷺ ہر وقت اللہ کو یاد کیا کیجیے۔ واضح رہے کہ اگرچہ پنج وقتہ نماز شب معراج میں فرض ہوئی تھی اور ہر نماز میں رکعات کی تعداد اور نماز کی دوسری جزئیات بتائی گئی تھیں۔ تاہم اس سے پہلے بھی نمازوں کے اوقات تقریباً وہی تھے مثلاً اس آیت میں (بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا 25 ؀ ڻ) 76 ۔ الإنسان :25) کے الفاظ آئے ہیں۔ بکرہ سے مراد پہلے پہر یا صبح کی نماز ہے اور اصیلا زوال آفتاب سے غروب آفتاب کے وقت کو کہتے ہیں یہ ظہر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ اور اس سے اگلی آیت میں رات سے مراد شام اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

15۔ یعنی شروع رات میں نماز فرض اور آخر میں تہجد کا اہتمام رکھیے (آیت) ” وسبحہ لیلا طویلا “۔ یعنی رات میں دیرتک تہجد میں لگے رہئے وتھجد لہ تعالیٰ قطعا من الیل طویلا (روح) (آیت) ” فاسجدلہ “۔ سجود۔ سے یہاں کنایہ اصل صلاۃ کی طرف ہے۔ فاسجد اے فصل (بیضاوی، روح) السجود مجاز عن الصلوۃ بذکر الجزء وارادۃ الکل (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–31

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذکر اسم ربک . ذکر سے مراد ہے نماز ‘ ذکر نماز کا جزء ہے اور جزء بول کر (مجازاً ) کُل مراد لے لیا جاتا ہے (بشرطیکہ جزاء ہم ہو) تکبیر تحریمہ نماز کا رکن ہے (اس لیے اہم جزء ہے) یا یوں کہا جائے گا کہ نماز کا ہر عمل اور ہر قول ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نماز میں کوئی حصہ انسانی کلام کا نہیں۔ یہ صرف تسبیح ‘ تکبیر اور قراءت ِ قرآن ہے۔ (رواہ مسلم من حدیث معاویۃ بن الحکم) بکرۃ . دن کا شروع حصہ۔ اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ واصیلا . دن کا پچھلا حصہ۔ اس سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–26

(23۔ 26) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔ شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ) عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

واذکراسم ربک بکرۃ واصیلاً ومن الیل …: دعوت کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو بردشات کرنے کے لئے قرآن مجید اللہ کے ذکر، نماز اور تسبیح کا حکم دیتا ہے، کیونکہ انھی چیزوں سے انسان ثابت قدم اور حوصلہ مند رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ) (البقرۃ : 35)”اور نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور سورة مزمل میں کالم الٰہی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی استعداد کے لئے تہجد اور ذکر کا حکم دیا۔ یہاں بھی قرآن کی دعوت و تبلیغ کے راستے میں صبر کی تلقین کے ساتھ حکم دیا کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کا نام یاد کر اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے لئے سجدہ کر۔ ذکر کی اعلیٰ ترین صورت نماز ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذکراسم ربک بکرۃ واصیلا۔ دن کے پہلے اور آخری حصہ میں اپنے رب کے حضور نماز پڑھیے، اس کے پہلے حصہ میں صبح کی نماز ہے اور آخری حصہ میں ظہر اور عصر کی نماز ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–26

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع منہم اٰثما او کفورا اور ان میں سے کسی بدکار یا ناشکرے کا کہا نا مانا کریں۔ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت اللہ کے دشمن ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابو جہل نے کہا جب نبی مکرم ﷺ پر نماز فرض ہوئی اور اس دن آپ مکہ میں تھے اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ضرور آپ کی گردن کو پاؤں سے روند ڈالوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ولاتطع منہم اٰثما اوکفورا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِكَ : اور آپ ﷺ یاد کریں اپنے رب کے نام کو ] [بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا : صبح سویرے اور شام کے وقت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–26

﴿ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ0024﴾ (اور ان لوگوں میں سے کسی فاسق یا کافر کی بات نہ مانیے) یہ لوگ آپ کو تبلیغ سے روکتے ہیں آپ ان کی فرمانبرداری نہ کریں اور تبلیغ کے کام میں لگے رہیں۔ ﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًاۖۚ0025﴾ (اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجئے) ۔ ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا 0026﴾ (اور رات کے حصے میں بھی اپنے رب کو سجدہ کیجئے اور رات کے بڑے حصہ میں اس کی تسبیح کیا کیجئے) اس میں یہ بتایا کہ کار دعوت کی مشغولی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی عبادت میں بھی مشغول رہیں نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص عابد و ذاکر ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–31

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

18:۔ ” واذکر اسم ربک “ یہ اصل دعوی یعنی مسئلہ توحید کا بیان ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی دعا پکار میں لگا رہ اور اللہ تعالیٰ کی شرک سے تنزیہ و تقدیس میں مصروف رہ۔ سجدہ، رکوع اور ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بجا لا۔ اس کی توحید کی تبلیغ کر اور شرک سے لوگوں کو دور رہنے کی تلقین کر۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ان آیتوں میں پانچوں نمازوں اور نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے۔ ” بکرۃ “ سے نماز فجر، ” اصیلا “ سے نماز ظہر و عصر، ” من اللیل “ سے نماز مغرب و عشا اور ” سبحہ لیلا طویلا “ سے نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا۝ 25 اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–26

ترکیب : انانحن نزلنا مبتداء اوخبر۔ وقال الزجاج اوھھنا اولہ من الواولانھا بدل علی ان کل واحد اھل ٌ ان لایطاع بخلاف الواولانھا تدل علی ان لایطاع کلاھما وجازان یطاع احد ھما وقال الفراء او بمعنی لاکانہ قال ولاکفورا بکرۃ من اول النہار الی الزوال والاصیل من الزوال الی الغروب وھما منصوبان علی انھما ظرفان لاذکر ومن اللیل من للتبعیض والفاء دالۃ علی معنی الشرطیۃ والتقدیر مھما یکن من شیء فصل من اللیل اے فی اللیل لیلاً منصوب علیٰ انہ ظرف کسبحہ۔ تفسیر : اس سورة کی ابتداء میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آدمی معدوم تھا۔ عدم سے وجود میں لایا گیا ایک قطرہ منی سے بنایا گیا جس میں اس کی تمام قوتیں اور کل ظاہر ہونے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَاذْ کُرِاسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَـہٗ وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاً ۔ (الدہر : 25، 26) (اور صبح و شام اپنے رب کا نام یاد کرو۔ اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔ ) ذکر اور نماز سے توفیق ملتی ہے پروردگار کی سنت یہ ہے کہ جب بھی وہ اپنے پیغمبر کو صبر کی تلقین فرماتا ہے تو اس کے معاً بعد اپنے ذکر اور نماز کا حکم دیتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دین حق کی راہ میں دشمنانِ حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے۔ صبح و شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے مراد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے یہ بات بتلا دی ہے کہ اے انسان تو شکر اور کفر میں جس کا چاہے انتخاب کرلے جو لوگ کفر کریں گے انہیں جہنم میں رنجیروں سے جھکڑا جائے گا اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے، جو لوگ شکر کا راستہ اختیار کریں گے ان کے اعمال کی قدر دانی کی جائے گی۔ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی۔ قرآن مجید میں ” اللہ تعالیٰ “ نے ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اس کے باوجود لوگ ہدایت کے راستہ پر نہیں آتے تو داعی کو صبر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہے۔ نبی ﷺ کو اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25 : وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا (اور اپنے پروردگار کا صبح و شام نام لیجیے) اذکر ؔ سے مراد نماز پڑھو۔ بکرۃؔ سے صلاۃ الفجر اور اصیلاؔ سے نماز ظہر و عصر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24 ۔” فاصبرلحکم ربک ولاتطع منھم “ یعنی مشرکین مکہ میں سے۔ ” آثما اور کفورا “ یعنی وکفورا اور الف صلہ ہے۔ اثما او کفورا کی تفسیر قتادہ (رح) فرماتے ہیں آثم اور کافر سے ابوجہل مراد ہے کیونکہ جب نبی کریم ﷺ پر نماز فرض کی گئی تو آپ (علیہ السلام) کو ابوجہل نے اس سے روکا اور کہا اگر آپ دیکھیں اے محمد ! (ﷺ ) کی نماز پڑھیں تو میں آپ (علیہ السلام) کی گردن رونددوں گا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں آثم سے عتبہ بن ربیعہ مراد ہے اور الکفور سے ولید بن مغیرہ ان دونوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا اگر آپ نے جو کچھ کیا ہے عورتوں اور مال کے لئے کیا ہے تو آپ (علیہ السلام) اس امر سے رجوع کرلیں۔ عتبہ نے کہا میں آپ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–31

23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(چونکہ صبر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے چناچہ فرمایا (وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا) یعنی صبح وشام اپنے رب کا نام لیتے رہو۔ اس میں فرض نمازیں، اس کے توابع نوافل وغیرہ اور ان اوقات میں ذکر وتسبیح، تہلیل اور تکبیر وغیرہ داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

33 حصول صبر کے ذریعے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ صبر و استقامت کے حصول کا ذریعہ ذکر خداوندی ہے۔ سو ارشاد خداوندی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے رب کے نام کو یاد کرتے رہا کرو صبح و شام۔ یعنی ہر وقت اور ہر حال میں، کہ اس کا ذکر مطہر اور اس کی یاد دلشاد تقویت قلب اور تسلیہ خاطر کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہے، اور ذکر خداوندی کی سب سے بڑی جامع اور مؤثر شکل اقامت صلوِٰۃ ہے، اس لئے نماز کو خاص طور پر اور ہر حال میں قائم رکھئے گا چناچہ بکرۃ (صبح) کے لفظ سے نماز فجر کی طرف اشارہ ہوگیا ‘ اور اصیلا (شام) سے ظہر عصر کی طرف ‘ کیونکہ اصیل کا اطلاق سورج ڈھلنے سے لے کر غروب آفتاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–31

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی ہر آن اس کا ذکر کرتے رہے، یا یہ مطلب ہے کہ صبح اور شام (یعنی فجر اور عصر) کی نماز پڑھئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:25) واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلا۔ واؤ عاطفہ اذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) مصدر سے۔ جس کے معنی یاد کرنے یا ذکر کرنے کے ہیں ۔ اسم ربک مضاف مضاف الیہ مل کر اذکر کا مفعول ۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کر۔ یہاں ذکر سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ ای وصل لربک اپنے رب کی نماز پڑھ۔ بکرۃ دن کا اول حصہ۔ یا اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اصلا شام۔ عصر و مغرب کے درمیانی وقت کو کہتے ہیں۔ دن کا پچھلا حصہ۔ اس سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں۔ بکرۃ واصیلا منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے یا بوجہ اذکر کے ظرف ہونے کے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–31

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[15] اصل الفاظ ہیں بکرۃ واصیلا بکرہ عربی زبان میں صبح کو کہتے ہیں اور اصیل کا لفظ زوال کے وقت سے لے کر غروب آفتاب تک کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ [16] جب اللہ کے ذکر کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ ہوتا ہے تو اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ چناچہ بکرہ کے تحت صبح کی نماز اور اصیل کے تحت ظہر اور عصر کی نمازیں آگئیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–31

ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–31

ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–26

(تو انتظار رکھو اپنے رب کے حکم کا ، اور نہ کہا مانو ان میں سے کسی گنہگار۔۔ یا ۔۔ ناشکرے کا) کسی ایسی کا جو تجھ کو گناہ کی طرف بلائے ، جیسے کہ عتبہ نے کہا کہ دعوت اسلام سے باز آؤ کہ میں اپنی تم کو دوں۔۔ یا کسی ایسے ناشکرے کی جو تجھ کو کفر کی طرف بلائے ، جیسے کہ ولید بن مغیرہ ، کہ اس نے کہا کہ اپنے باپ دادا کے دین کی طرف رجوع کرو تاکہ تم کو مالدار کردوں۔ (اور یاد کرو اپنے رب کے نام کو صبح و شام) یعنی ہمیشہ اس کی یاد میں مشغول رہو۔ (اور کچھ رات میں اس کا سجدہ کرو) یعنی اس کے واسطے نماز ادا کرو۔ بعضوں نے کہا ہے کہ بکرۃ فجر کی نماز کا وقت ہے ، اور اصیلا ظہر اور عصر کے وقت کو شامل ہے ، اور کچھ رات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

28 "Be patient": "Face patiently the hardships and difficulties of the great Mission your Lord has entrusted to you: endure firmly and steadfastly whatever comes to pass, without showing any weakness in this regard." 29 "Do not obey ...": "Do not yield to any one of them so as to give up preaching of the true faith: do not be inclined to make even the least change in the religious beliefs for the sake of any denier of the Truth, or in the moral teachings for the sake of a wicked person. Proclaim whatever is unlawful and forbidden to be so openly even if an immoral person might press you hard…

Read the full tafseer →