76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الدھر سورة نمبر 76 کل رکوع 2 آیات 31 الفاظ و کلمات 246 حروف 1099 مقام نزول مکہ مکرمہ سورۃ الدھر میں انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ آج تو وہ اپنے وجود اور دی گئی نعمتوں پر بڑا فخر کرتا ہے اور اتراتا ہے لیکن اس پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔ اس کے وجود کی ابتداء اس حقیر بوند سے ہوئی جو ایک مخلوط نطفہ تھا۔ پھر اللہ نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔ یہ اس کی کڑی آزمائش ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا اس کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کرتا ہے۔ نعمتوں پر شکر ادا نہ کرنے والے اور نعمتوں پر شکرا دا کرنے والے دونوں کے بدترین اور بہترین انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ناشکری اور کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں، گلے میں ڈالے جانے والے طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ لیکن شکر گزار مومن بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں ایسی شراب کے جام پیش کئے جائیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی۔ یہ بہتا ہوا رواں دواں چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ یہ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں جہاں چاہیں گے وہاں اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا وہ جو اپنی نذر یعنی منتوں کو پورا کرنے والے، اس دن کی اس آفت سے ڈرنے والے جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور اس کی محبت میں مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے والے اور یہ کہنے والے کہ ہم اس نیکی پر نہ تو تم سے کوئی بدلہ اور صلہ چاہتے ہیں نہ تم سے کسی طرح کے شکریہ کی توقع رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے پروردگار سے اس دن کے عذاب کا خوف رکھتے ہیں جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل اور لمبا دن ہوگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کی اس دن کے شر اور آفت سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں تروتازگی، سکون اور سرور عطا کیا جائے گا۔ ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت کا ریشمی لباس دیا جائے گا۔ وہاں وہ بڑے شاہانہ انداز سے مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ، نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی اور نہ سردی کی شدت۔ جنت کے درختوں کی چھاؤں ان پر سایہ کیے ہوگی اور ان درختوں کے پھل ان کے اختیار میں دے دئیے جائیں گے وہ جس طرح چاہیں گے ان پھلوں کے کھانے سے لطف اندوز ہوں گے۔ ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کر رہے ہوں گے۔ شیشے بھی اتنے خوبصورت جو چاندی کی طرح چمکتے ہوں گے۔ ان پیالوں کو ٹھیک اندازے کے مطابق خوب بھرا گیا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسی شراب کے جام دئیے جائیں گے جس شراب میں سونٹھ (خشک ادرک) کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لر کے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم دیکھو گے تو سمجھو گے کہ موتی ہیں جو ہر طرف بکھیر دئیے گئے ہیں۔ فرمایا کہ وہاں تم جدھر نظر دوڑائو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی۔ ان اہل جنت کو باریک ریشم کا سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے دئیے جائیں گے۔ ان کو چاندی کے کنگنس پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو نہایت لذیر شراب پلائے گا اور فرمایا جائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارے حسن عمل کا نتیجہ ہے۔ کفار یہ اعتراض کرتے تھے کہ اگر قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے تو اس کو ایک دم ایک کتاب کی شکل میں نازل کیوں نہیں کردیا جاتا۔ تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کی ان باتوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس قرا انکو ہم نے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے یعنی یہ بھی اللہ کی رحمت ہے اس کا کرم ہے اس طرح ہر آیت پر ہر شخص کو عمل کو موقع ملتا ہے اور قرآن کریم یاد ہوتا چلا جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان بدمل کافروں کی باتوں پر دھیان نہدیں۔ اپنے رب کے حکم پر جمے رہیں صبر کریں اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کریں اور راتوں کو اللہ کے سامنے سجدے کیا کریں اور رات کے طویل حصے میں اس کی حمدو ثنا کرتے رہا کریں۔ فرمایا کہ یہ ناشکرے لوگ تو اس دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو انہیں جلدی سے مل جائے اور اس دن کو نظر انداز کررہے ہیں جو بڑا بھاری دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہی ان کی شکلیں صورتیں بدل کر رکھ دیں۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم تو ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔ اب جس کا دل چاہیے وہ اس قرآن کریم کو اپنے رب تک پہنچنے کا ذریعہ بنالے اور کامیاب ہوجائے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے۔ اگر ان کو توفیق عطا نہیں کی جائے گی تو انہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ لہٰذا اسی سے توفیق مانگتے رہنا چاہیے جو سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہیے گا اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور ظالموں کو دردناک عذاب جو ان کے لئے تایر کیا گیا ہے اس میں جھونک دیا جائے گا۔

Ayahs 76:1–22

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کیا انسان پر ایسا وقت نہیں آیا کہ جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ؟

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے آدمی کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا جو مختلف اجزاء سے بنایا گیا تھا تاکہ ہم اس کی آزمائش کریں۔ پھر ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنادیا۔

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا (اب یہ اس پر ہے) کہ وہ شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا۔

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بیشک ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں، طوق اور دھکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو نیک لوگ ہوں گے وہ جام شراب میں ایسی شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہوگا جس سے اللہ کے بندے پئیں گے۔ وہ اس چشمے کو جہاں بہالے جانا چاہیں گے لے جائیں گے۔

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

وہ لوگ جو منت کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگیا

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

ور وہ لوگ جو اس کی محبت پر محتاج، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلا دیتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

اور (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ تو کسی طرح کی اجرت کی تمنا رکھتے ہیں اور نہ شکرئیے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم اپنے پروردگار کے اس دن سے ڈرتے ہیں جو انہتائی مصیبت کا نہایتت سخت دن ہوگا۔

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پھر اللہ ان کو اس دن کی سختی سے پچالے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کو ان کے صبر و استقلال کے بدلے جنت ( اور اس کا) ریشمی لباس دیا جائے گا۔

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہ اس جنت میں مسہریوں پر تکئیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ اس (جنت) میں نہ تو سورج کی تپش پائیں گے اور نہ سخت ٹھنڈک ۔

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور درختوں کے سائے ان پر جھکے جا رہے ہوں گے اور ان کے پھل ان کے اختیار میں دیدئیے جائیں گے۔

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے آب خورے پیش کئے جائیں گے۔

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

وہ شیشے کے برتن چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے خوب بھرا ہوگا۔

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

اور ان میں ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہوگا۔

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے اردگرد ایسے لڑکے (جام شراب لئے) دوڑتے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اور جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی سمجھوگے۔

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو وہاں بڑی بڑی نعمتوں کو دیکھے گا جو بہت عظیم سلطنت ہوگی۔

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اور (اہل جنت کا) اوپر کا لباس باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی ہوں گے۔ اور ان کو (بادشاہوں کی طرح) چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور ان کو ان کا رب شراب طہور (پاکیزہ شراب) پلائے گا۔

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

اور (ان اہل جنت سے کہا جائے گا کہ) یہ سب نعمتیں تمہارے لئے ہیں۔ یہ تمہاری نیکیوں کا بدلہ ہے اور تمہاری کوششیں مقبول ہوئیں۔

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے سروں پر نبوت کا تاج سجایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا ہے کہ انسان کو اپنی پیدائش اور وجود پر غور کرنا چاہیے کیونکہ ہر انسان پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب اس دنیا میں اس کا نام و نشان نہ تھا اور کوئی قابل ذکر چیز بھی نہ تھا۔ پھر اللہ نے اس کو پیدا کرکے عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اللہ ہی نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کرکے سننے اور دیکھنے کی طاقتوں سے نوازا ہے کہ اس کو آزمایا جاسکے کہ وہ اپنے حواس سے کام لے کر ایمان اور شکر کا راستہ اختیار کرتا ہے یا وہ دیکھتے بھالتے اللہ سے کفرو انکار اور ناشکری کرتا ہے۔ مخلوط نطفہ سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے الگ الگ نطفوں سے نہیں ہوئی بلکہ عورت کا بیضہ (Ovum) اور مرد کا نطفہ (Sperm) جب یہ دونوں آپس میں مل جاتے ہیں تو اس وقت ماں کے رحم میں وہ چیز بننا شروع ہوجاتی ہے جو مختلف فطری مرحلوں سے گزر کر آخر کار ایک جیتے جاگتے انسان یا جاندار کی صورت شکل اختیار کرلیتی ہے۔ مفسرین نے اس پر بحث کی ہے کہ اس انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یا کائنات میں قدم رکھنے والا ہر انسان ہے ؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ اور صحابہ کرام ؓ سے یہ روایات نقل کی گئی ہیں کہ یہاں انسان سے مراد کوئی خاص انسان نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ” جنس انسانی “ ہے یعنی آج تک جتنے انسان آئے ہیں یا آئندہ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پیدائش کا مقصد یہ بیان کیا ہے کہ ” ہم سب کچھ دے کر انسان کو آزمانا اور جانچنا چاہتے ہیں “ کہ وہ یہ سب کچھ پا کر بہک جاتا ہے یا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرکے جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ کا اٹل قانون یہ ہے کہ جو بھی کفرو شرک اور ناشکری کا طریقہ اپنائے گا اس کو انتہائی سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ نے ایسے ناشکرے لوگوں کے لئے ایسی زنجیریں تیار کررکھی ہیں جن میں باندھ کر ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور اس کو مضبوط باندھ کر ان کو جہنم کی بھڑکتی آگے میں جھونک دیا جائے گا۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کرکے ایمان اور شکر کا راستہ اختیار کیا ہوگا ان کو جنت کی تمام راحتیں اور نعمتیں عطا کی جائیں گے۔ وہاں ان کو ایسی بہترین اور مزید شراب پلائی جائے گی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔ وہ بہتے ہوئے ایسے چشمے ہوں گے کہ اہل جنت جہاں جائیں گے وہ چشمے ان کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں سونے کی ایسی چھڑیاں ہوں گی کہ وہ ان چھڑیوں سے جس طرف اشارہ کردیں گے نہریں اسی طرف بہنا شروع ہوجائیں گی یہ کون لوگ ہوں گے ؟ اور ان کی خصوصیات کیا ہوں گی ؟ اس کی تفصیل یہ ہے۔ 1۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب بھی کوئی نذر یا منت مانتے ہیں تو وہ اس کو پورا کرتے ہیں۔ اصل میں نذر یا منت وہ چیز ہے جس کے کرنے کیلئے شریعت نے مجبور نہیں کیا کیونکہ ایک شخص اپنی مرضی سے ایک منت مانتا ہے اور اس کے پورا کرنے کو اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے۔ ایسے لوگ جو خود سے ایک نیکی کا ارادہ کر کے اس کو پورا کرتے ہیں ان سے اس بات کی قوی امید ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ نے جن باتوں کو فرض اور لازم کیا ہے وہ اس کو یقینا پورا کرنے والے ہوں گے لہٰذا یہ خصوصیت ان کو جنت کی راحتوں سے ہم کنار کردے گی۔ 2۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر وقت قیامت کے اس دن سے ڈرتے ہیں جو مجرموں کے لئے بڑا ہولناک دن ہوگا اور اس دن کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ جس کا جیسا عمل ہوگا اسی کے مطابق اس کو جزا یا سز ادی جائے گی۔ 3۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان کا ہر کام اور خدمت اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتی ہے ان کے کسی کام میں ریاکاری یا دکھاوا نہیں ہوتا محتاج اور حاجت مند کو کھانا کھلانا، یتیم بچوں پر شفقت و محبت اور کسی قیدی کو (مسلم ہو یا کافر) کھانا کھلانا۔ 4۔ چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کوئی نیکی کرکے نہ تو اس کی تمنا رکھتے ہیں کہ کون ان کا شکریہ ادا کرے اور وہ کسی سے کسی بدلے کے طلب گار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی زبانوں پر بس یہی ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے کر رہے ہیں۔ اور ہم اس دن سے پناہ مانگتے ہیں جس دن مجرموں پر انتہائی ہیبت ناک اور سخت دن ہوگا۔ فرمایا کہ ایسے صبر وشکر، تحمل اور برداشت کرنے والوں کے لئے اللہ ان پر سختی کو بھی آسان فرما دے گا۔ ان کو تروتازگی، خوشی اور مسرت عطا فرمائے گا۔ ان کے صبر کے وجہ سے ان کو جنت کا ریشمی لباس پہنایاجائے گا۔ وہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ خوبصورت ترین مسہریوں پر تکئیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بڑا خوشگوار اور معتدل موسم ہوگا نہ اس میں گرمی کی تپش ہوگی اور نہ سردی کی شدت اور ٹھنڈک، ہرے بھرے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے جن درختوں کے ہر طرح کے پھل ان کے قبضے اور اختیار میں ہوں گے وہ جس قدر اور جیسے ان پھلوں کو کھانا چاہیں گے کھائیں گے، سونے چاندی کے کنگن، سونے چاندی کے برتن اور شیشے کی طرح چمکتے ہوئے جام پیش کیے جائیں گے جن کو خوب بھر بھر کردیا جائے گا یعنی کوئی کمی نہ ہوگی۔ ان کو ایسے جام پیش کئے جائیں گے جس شراب میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ وہ ایسے چشمے سے حاصل ہوگی جس کا نام سلسبیل ہوگا۔ ان جنتیوں کے اردگرد دوڑتے بھاگتے خدمت گزار لڑکے ہوں گے جو جنت میں موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے اور ہمیشہ جوان ہی رہیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ دیکھیں گے کہ جنت میں ہر طرف نعمتوں کے ڈھیر ہوں گے ۔ قدیم بادشاہوں کی طرح ان کو سونے چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ایسا معلوم ہوگا جیسے اہل جنت ایک عظیم سلطنت کے مالک ہیں۔ ان کے اوپر کالباس باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے بہترین شراب پلائی جائے گی جو انتہائی پاکیزہ اور نفیس ہوگی۔ اللہ کی طرف سے یہ اعلان کردیا جائے گا کہ یہ ساری نعمتیں تمہارے لئے ہیں۔ یہ درحقیقت تمہاری ان نیکیوں کا صلہ اور اچھی کر ششوں کو بدلہ ہے جو تم نے دنیا میں کی تھیں اور اللہ نے ان کو قبول بھر کرلیا تھا۔
Ayahs 76:23–31

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

آپ اپنے پروردگار کے حکم پر ڈٹے رہیے اور ان میں سے کس فاسق و کافر کے بات نہ مانئیے

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح کیجئے۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصے میں نماز پڑھا کیجئے اور رات کے بڑے حصے میں خوب اسکی پاکیزگی بیان کیجئے۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

(بےشک یہ کافر) جلدی مل جانے والی چیز ( دنیا ) کو پسند کرتے ہیں اور ایک بہت بھاری دن کو پیچھے ڈالے ہوئے ہیں۔

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا۔ اور ہم نے ہی ان کے جوڑوں کے بندھنوں کو خوب مضبوط باندھا ہے۔ اور ہم جب چاہیں گے ان کے بدلے ان ہی جیسے اور لوگوں کو لے آئیں گے۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بیشک یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب تک پہنچے کا راستہ بنا لے۔

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم اس وقت تک نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہیے۔ بیشک وہ بہت جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے۔ اور جو ظالم ہیں ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے۔

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے پیش کیا۔ انہیں یہ اعتراض تھا کہ ہر پیغمبرپر جو بھی کلام نازل کیا گیا ہے وہ چند دنوں یا ہفتوں میں مکمل کردیا گیا لیکن یہ کیسا قرآن ہے کہ اس کی چند آیتیں نازل کی جاتی ہیں اور پورا قرآن ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کہا (نعوذ باللہ) آپ اس قرآن کو خود سے گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام کہہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کے ان اعتراضات کے جواب میں ان آیتوں کو پیش فرمایا ہے اور کہا ہے کہ ” ہم نے ہی آپ پر اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے “ یعنی اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کی مصلحت یہ ہے کہ زندگی کا ہر انداز قرآن کریم کے اصولوں میں ڈھلتا چلا جائے۔ لہٰذا جس موقع پر جتنی آیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو نبی کریم ﷺ پر نازل کردیا جاتا ہے۔ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کے حکم پر ڈتے رہیے اور ان میں سے کافر اور گناہ گار کی بات نہ مانئیے۔ آپ صبح و شام اپنے پروردگار کا ذکر کرتے رہیے۔ راتوں کو اس کے سامنے سجدے کیجئے اور رات کے طویل وقت میں اس کی حمدو ثنا کیجئے۔ اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کیجئے جو آخرت کی ابدی زندگی اور آگے آنے والے بھاری دن سے غافل ہو کر جلد حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کو تو اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھیا کہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا۔ اسی نے ان کے جوڑ بند درست اور مضبوط کئے جن سے وہ زندگی بھر کام لیتے ہیں۔ یعنی دنیا میں کوئی کتنی ہی مضبوط مشین ہو وہ آخر کار گھس جاتی ہے لیکن اللہ نے انسان کو ایسے جوڑ بند عطا کئے جس سے وہ ایک طویل عرصہ تک کام لیتا ہے اور وہ مشینری چلتی رہتی ہے۔ فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو سب کچھ بدل کر رکھ دیں۔ ان کی جگہ کسی اور مخلوق کو لے آئیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو جو سراسر ہدایت اور رحمت ہے تھوڑ اتھوڑا کرکے نازل کرنا شروع کردیا ہے اس کی نصیحت اور خیر خواہی کے اصولوں سے جس کا دل چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ بنالے یعنی اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرلے۔ لیکن ہدایت اللہ نے اپنی ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے کیونکہ اس کائنات میں وہی ہوتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے اور جسے چاہے جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنادیتا ہے۔ لہٰذا راہ ھق میں چلنے میں ہر وقت اللہ کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔ حد سے بڑھنے والے ظالموں کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے اللہ نے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مفسرین نے سورة الدھر کی آیت نمبر 25 اور 26 کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ان آیتوں میں پانچ وقت کی نمازوں کا صاف اشارہ موجود ہے۔ صبح و شام اور رات کے طویل حصے میں اللہ کا ذکر اور اس کی حمدو ثنا کرنے کا بہترین طریقہ نماز ہے۔ نبی کریم ﷺ اور مومنین کے لئے یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ دین حق کو پہنچانے میں جب بھی مشکلات پیش آئیں تو ہر مخالفت کا مقابلہ عبادت سے کیا جائے اور ان لوگوں کی زیادہ پرواہ نہ کی جائے جو اپنے دنیاوی مفادات اور لالچ کی وجہ سے حق و صداقت کی مخالفت کرتے ہیں۔