76. Surah Al-Insaan
الانسانMan · 31 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الدھر سورة نمبر 76 کل رکوع 2 آیات 31 الفاظ و کلمات 246 حروف 1099 مقام نزول مکہ مکرمہ سورۃ الدھر میں انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ آج تو وہ اپنے وجود اور دی گئی نعمتوں پر بڑا فخر کرتا ہے اور اتراتا ہے لیکن اس پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔ اس کے وجود کی ابتداء اس حقیر بوند سے ہوئی جو ایک مخلوط نطفہ تھا۔ پھر اللہ نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔ یہ اس کی کڑی آزمائش ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا اس کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کرتا ہے۔ نعمتوں پر شکر ادا نہ کرنے والے اور نعمتوں پر شکرا دا کرنے والے دونوں کے بدترین اور بہترین انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ناشکری اور کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں، گلے میں ڈالے جانے والے طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ لیکن شکر گزار مومن بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں ایسی شراب کے جام پیش کئے جائیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی۔ یہ بہتا ہوا رواں دواں چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ یہ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں جہاں چاہیں گے وہاں اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا وہ جو اپنی نذر یعنی منتوں کو پورا کرنے والے، اس دن کی اس آفت سے ڈرنے والے جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور اس کی محبت میں مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے والے اور یہ کہنے والے کہ ہم اس نیکی پر نہ تو تم سے کوئی بدلہ اور صلہ چاہتے ہیں نہ تم سے کسی طرح کے شکریہ کی توقع رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے پروردگار سے اس دن کے عذاب کا خوف رکھتے ہیں جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل اور لمبا دن ہوگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کی اس دن کے شر اور آفت سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں تروتازگی، سکون اور سرور عطا کیا جائے گا۔ ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت کا ریشمی لباس دیا جائے گا۔ وہاں وہ بڑے شاہانہ انداز سے مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ، نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی اور نہ سردی کی شدت۔ جنت کے درختوں کی چھاؤں ان پر سایہ کیے ہوگی اور ان درختوں کے پھل ان کے اختیار میں دے دئیے جائیں گے وہ جس طرح چاہیں گے ان پھلوں کے کھانے سے لطف اندوز ہوں گے۔ ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کر رہے ہوں گے۔ شیشے بھی اتنے خوبصورت جو چاندی کی طرح چمکتے ہوں گے۔ ان پیالوں کو ٹھیک اندازے کے مطابق خوب بھرا گیا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسی شراب کے جام دئیے جائیں گے جس شراب میں سونٹھ (خشک ادرک) کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لر کے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم دیکھو گے تو سمجھو گے کہ موتی ہیں جو ہر طرف بکھیر دئیے گئے ہیں۔ فرمایا کہ وہاں تم جدھر نظر دوڑائو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی۔ ان اہل جنت کو باریک ریشم کا سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے دئیے جائیں گے۔ ان کو چاندی کے کنگنس پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو نہایت لذیر شراب پلائے گا اور فرمایا جائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارے حسن عمل کا نتیجہ ہے۔ کفار یہ اعتراض کرتے تھے کہ اگر قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے تو اس کو ایک دم ایک کتاب کی شکل میں نازل کیوں نہیں کردیا جاتا۔ تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کی ان باتوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس قرا انکو ہم نے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے یعنی یہ بھی اللہ کی رحمت ہے اس کا کرم ہے اس طرح ہر آیت پر ہر شخص کو عمل کو موقع ملتا ہے اور قرآن کریم یاد ہوتا چلا جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان بدمل کافروں کی باتوں پر دھیان نہدیں۔ اپنے رب کے حکم پر جمے رہیں صبر کریں اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کریں اور راتوں کو اللہ کے سامنے سجدے کیا کریں اور رات کے طویل حصے میں اس کی حمدو ثنا کرتے رہا کریں۔ فرمایا کہ یہ ناشکرے لوگ تو اس دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو انہیں جلدی سے مل جائے اور اس دن کو نظر انداز کررہے ہیں جو بڑا بھاری دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہی ان کی شکلیں صورتیں بدل کر رکھ دیں۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم تو ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔ اب جس کا دل چاہیے وہ اس قرآن کریم کو اپنے رب تک پہنچنے کا ذریعہ بنالے اور کامیاب ہوجائے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے۔ اگر ان کو توفیق عطا نہیں کی جائے گی تو انہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ لہٰذا اسی سے توفیق مانگتے رہنا چاہیے جو سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہیے گا اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور ظالموں کو دردناک عذاب جو ان کے لئے تایر کیا گیا ہے اس میں جھونک دیا جائے گا۔
هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader
کیا انسان پر ایسا وقت نہیں آیا کہ جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ؟
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader
بیشک ہم نے آدمی کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا جو مختلف اجزاء سے بنایا گیا تھا تاکہ ہم اس کی آزمائش کریں۔ پھر ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنادیا۔
اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader
ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا (اب یہ اس پر ہے) کہ وہ شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا۔
اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader
بیشک ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں، طوق اور دھکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader
جو نیک لوگ ہوں گے وہ جام شراب میں ایسی شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔
عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader
وہ ایک چشمہ ہوگا جس سے اللہ کے بندے پئیں گے۔ وہ اس چشمے کو جہاں بہالے جانا چاہیں گے لے جائیں گے۔
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader
وہ لوگ جو منت کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگیا
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader
ور وہ لوگ جو اس کی محبت پر محتاج، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلا دیتے ہیں
اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader
اور (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ تو کسی طرح کی اجرت کی تمنا رکھتے ہیں اور نہ شکرئیے کی خواہش رکھتے ہیں۔
اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader
ہم اپنے پروردگار کے اس دن سے ڈرتے ہیں جو انہتائی مصیبت کا نہایتت سخت دن ہوگا۔
فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader
پھر اللہ ان کو اس دن کی سختی سے پچالے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا
وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader
اور ان کو ان کے صبر و استقلال کے بدلے جنت ( اور اس کا) ریشمی لباس دیا جائے گا۔
مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader
وہ اس جنت میں مسہریوں پر تکئیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ اس (جنت) میں نہ تو سورج کی تپش پائیں گے اور نہ سخت ٹھنڈک ۔
وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader
اور درختوں کے سائے ان پر جھکے جا رہے ہوں گے اور ان کے پھل ان کے اختیار میں دیدئیے جائیں گے۔
وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader
اور ان لوگوں کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے آب خورے پیش کئے جائیں گے۔
قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader
وہ شیشے کے برتن چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے خوب بھرا ہوگا۔
وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader
اور وہاں ان کو ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔
عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader
اور ان میں ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہوگا۔
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader
اور ان کے اردگرد ایسے لڑکے (جام شراب لئے) دوڑتے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اور جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی سمجھوگے۔
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader
اور اے مخاطب تو وہاں بڑی بڑی نعمتوں کو دیکھے گا جو بہت عظیم سلطنت ہوگی۔
عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader
اور (اہل جنت کا) اوپر کا لباس باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی ہوں گے۔ اور ان کو (بادشاہوں کی طرح) چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور ان کو ان کا رب شراب طہور (پاکیزہ شراب) پلائے گا۔
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader
اور (ان اہل جنت سے کہا جائے گا کہ) یہ سب نعمتیں تمہارے لئے ہیں۔ یہ تمہاری نیکیوں کا بدلہ ہے اور تمہاری کوششیں مقبول ہوئیں۔
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader
آپ اپنے پروردگار کے حکم پر ڈٹے رہیے اور ان میں سے کس فاسق و کافر کے بات نہ مانئیے
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader
اور صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح کیجئے۔
وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader
اور رات کے کچھ حصے میں نماز پڑھا کیجئے اور رات کے بڑے حصے میں خوب اسکی پاکیزگی بیان کیجئے۔
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader
(بےشک یہ کافر) جلدی مل جانے والی چیز ( دنیا ) کو پسند کرتے ہیں اور ایک بہت بھاری دن کو پیچھے ڈالے ہوئے ہیں۔
نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader
ہم نے ان کو پیدا کیا۔ اور ہم نے ہی ان کے جوڑوں کے بندھنوں کو خوب مضبوط باندھا ہے۔ اور ہم جب چاہیں گے ان کے بدلے ان ہی جیسے اور لوگوں کو لے آئیں گے۔
اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader
بیشک یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب تک پہنچے کا راستہ بنا لے۔
وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader
اور تم اس وقت تک نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہیے۔ بیشک وہ بہت جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader
وہ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے۔ اور جو ظالم ہیں ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے۔