Al-Insaan 76:26

Al-Insaan · from ayah 26

76:26

وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَسَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا ۟وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهٗ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلًا طَوِيۡلًا

اور رات کو بڑی رات تک سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And during the night prostrate to Him and exalt Him a long [part of the] night.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:26

رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات کو بڑی رات تک سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کچھ رات کو بھی اس کے آگے سجدے کیا کرو، اور رات کے لمبے وقت میں اس کی تسبیح کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کچھ میں اسے سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رات کے کچھ حصہ میں پھر اس کے لیے سجدہ کر اور لمبی رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ کیجیے اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کیجیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور رات میں بھی اس کو سجدہ اور اس کی تسبیح کرو ‘ رات کے طویل حصہ میں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رات کا کچھ حصہ بھی اسی کے حضور سجدہ ریز رہا کرو اور رات کا ایک بڑا حصہ اسی کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہا کرو

— مولانا اسحاق مدنی

اور رات کے بھی کسی حصہ میں اسے سجدہ کیا کیجئے اور اس کی تسبیح رات کے بڑے حصہ میں کیا کیجئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور رات کے ایک حصے میں اس کے لیے سجدہ کیا کیجیے اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح کیا کیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور رات کو رات گئے تک اپنے رب کے آگے سجدے کرتے رہو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and prostrate yourself before Him at night, and extol His Glory during the long watches of the night.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And in some parts of night prostrate yourself before Him, and pronounce His purity for long times at night.

— Muhammad Taqi Usmani

And in some parts of night prostrate yourself before Him, and pronounce His purity for long times at night.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And during the night, prostrate yourself to Him, and glorify Him a long night through.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And worship Him (a portion) of the night. And glorify Him through the livelong night.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And during the night prostrate to Him and exalt Him a long [part of the] night.

— Saheeh International

Prostrate before Him and glorify Him extensively during the night.

— Muhammad Sarwar

And during part of the night adore Him, and give glory to Him (a) long (part of the) night.

— Muhammad Habib Shakir

And during the night - worship Him; and hallow Him the livelong night.

— Abdul Majid Daryabadi

And part of the night, prostrate thyself to Him; and glorify Him a long night through.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–31

اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الدَّهْر 28 یعنی تمارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو، جو کچھ بھی تم پر گزر جائے اسے پا مردی کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ اور پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دو۔ سورة الدَّهْر 29 یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دین حق کی تبلیغ سے باز نہ آؤ، اور کسی بد عمل کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں، یا کسی منکر حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو، خواہ کوئی بد کار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو۔ اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–26

صبر کا نسخہ: اوپر جس صبر کی تلقین فرمائی ہے یہ اس کا نسخہ بتایا ہے کہ صبح و شام اپنے رب کے نام کو یاد رکھو۔ صبح و شام احاطۂ وقت کے مفہوم میں بھی بولے جاتے ہیں اور لفظ ’ذکر‘ یہاں عام ہے جو نماز اور ذکر دوام دونوں پر شامل ہے۔ ’وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاً‘ کے الفاظ سے تہجد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ خاص طور پر سورۂ مزمل کی تفسیر میں اس کے تمام اطراف زیربحث آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2 6 ۔ 1 رات کو سجدہ کر سے مراد بعض نے مغرب و عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں اور تسبیح کا مطلب جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں ان سے اس کی پاکیزگی بیان کر، بعض کے نزدیک اس سے رات کی نفلی نمازیں یعنی تہجد ہے امر ندب واستحباب کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

واذکراسم ........................ طویلا (25:76 تا 26) ” اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے زادراہ ۔ صبح وشام اللہ کا نام لینا اور طویل راتوں میں اللہ کی پاکی بیان کرنا ، اس سرچشمے سے رابطہ بحال رکھنا جہاں سے قرآن کریم کا نزول ہورہا ہے۔ جہاں سے دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی برپا کرنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ یہی سرچشمہ قوت کا بھی سرچشمہ ہے۔ یہی اس راہ کے سازو سامان کا بھی ماخذ ہے۔ اور اس کے ساتھ رابطے کا طریقہ ذکروفکر ، تسبیح وتہلیل اور دعاء و عبادت ہے۔ خصوصاً طویل راتوں کے اوقات میں۔ اس لئے کہ یہ راہ طویل ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی نماز پڑھ، شاید مغرب و عشاء مراد ہو یا تہجد۔ 5 اگر " وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَہ،" سے تہجد مراد لیا جائے تو یہاں تسبیح ہے اس کے معنیٰ متبادل مراد لیں گے۔ یعنی شب کو تہجد کے علاوہ بہت زیادہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہیے اور اگر پہلے مغرب و عشاء مراد تھی تو یہاں تسبیح سے تہجد مراد لے سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ وَمِنَ الَّـیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ } ”اور رات کے ایک حصے میں اس کے لیے سجدہ کیا کیجیے“ { وَسَبِّحْہُ لَـیْلًا طَوِیْلًا۔ } ”اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح کیا کیجیے۔“ یہ اسی حکم کا تسلسل ہے جو سورة المزمل کی ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا۔ یعنی آپ ﷺ رات کا بیشتر حصہ اللہ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے ‘ اس کے حضور سربسجود رہنے اور اس کی تسبیح کرنے میں َصرف کیا کریں۔ اس وقت تک چونکہ ابھی نماز پنجگانہ کا حکم نہیں آیا تھا ‘ اس لیے سارا زور رات کی عبادت پر تھا۔ بعد میں جب نماز پنجگانہ کی فرضیت کا حکم آگیا تو اس ”قیام اللیل“ کو مختصر کر کے تہجد میں تبدیل کردیا گیا۔ وہ بھی سب کے لیے نہیں صرف…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 25–26

29 نمازوں کے اوقات :۔ اس صبر اور برداشت کے لیے جو قوت درکار ہے۔ وہ آپ ﷺ کو اللہ کے ذکر اور اس پر توکل کرنے سے حاصل ہوگی۔ لہذا آپ ﷺ ہر وقت اللہ کو یاد کیا کیجیے۔ واضح رہے کہ اگرچہ پنج وقتہ نماز شب معراج میں فرض ہوئی تھی اور ہر نماز میں رکعات کی تعداد اور نماز کی دوسری جزئیات بتائی گئی تھیں۔ تاہم اس سے پہلے بھی نمازوں کے اوقات تقریباً وہی تھے مثلاً اس آیت میں (بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا 25 ؀ ڻ) 76 ۔ الإنسان :25) کے الفاظ آئے ہیں۔ بکرہ سے مراد پہلے پہر یا صبح کی نماز ہے اور اصیلا زوال آفتاب سے غروب آفتاب کے وقت کو کہتے ہیں یہ ظہر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ اور اس سے اگلی آیت میں رات سے مراد شام اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

15۔ یعنی شروع رات میں نماز فرض اور آخر میں تہجد کا اہتمام رکھیے (آیت) ” وسبحہ لیلا طویلا “۔ یعنی رات میں دیرتک تہجد میں لگے رہئے وتھجد لہ تعالیٰ قطعا من الیل طویلا (روح) (آیت) ” فاسجدلہ “۔ سجود۔ سے یہاں کنایہ اصل صلاۃ کی طرف ہے۔ فاسجد اے فصل (بیضاوی، روح) السجود مجاز عن الصلوۃ بذکر الجزء وارادۃ الکل (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–31

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن اللیل فاسجد لہ . سجدہ سے مراد نماز ہے اور اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں۔ چونکہ رات کی نمازوں میں تکلیف زیادہ برداشت کرنی ہوتی ہے اس لیے من الّیل کو فاسجد سے پہلے ذکر کیا۔ فاسجد میں فاء زائد ہے اور اما شرطیہ مقدر ہے۔ اصل کلام یوں تھا : وَاَمَّا مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ ۔ و سبحہ لیلا . تسبیح سے مراد ہے نماز یعنی نماز شب۔ طویلا . یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تسبیحًا طویلاً اس سے مراد ہے آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–26

(23۔ 26) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔ شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ) عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

واذکراسم ربک بکرۃ واصیلاً ومن الیل …: دعوت کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو بردشات کرنے کے لئے قرآن مجید اللہ کے ذکر، نماز اور تسبیح کا حکم دیتا ہے، کیونکہ انھی چیزوں سے انسان ثابت قدم اور حوصلہ مند رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ) (البقرۃ : 35)”اور نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور سورة مزمل میں کالم الٰہی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی استعداد کے لئے تہجد اور ذکر کا حکم دیا۔ یہاں بھی قرآن کی دعوت و تبلیغ کے راستے میں صبر کی تلقین کے ساتھ حکم دیا کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کا نام یاد کر اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے لئے سجدہ کر۔ ذکر کی اعلیٰ ترین صورت نماز ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ومن اللیل فاسجدلہ وسبحہ لیلا طویلا۔ اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے اور رات کے نوافل ہیں یہ ابن حبیب کا قول ہے، حضرت ابن عباس اور سفیان کا نقطہ نظر ہے، قرآن حکیم میں جہاں بھی تسبیح کا لفظ ہے اس سے مراد نماز ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد مطلق ذکر ہے، خواہ وہ نماز میں ہو یا کسی اور صورت میں، ابن زید اور دوسرے علماء نے کہا، وسبحہ لیلا طویلا، یہ پنجگانہ نماز کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مستحب ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ نبی کریم کے ساتھ مخصوص ہے اس کی مثل میں گفتگو سورة المزمل میں گزرچکی ہے ابن حبیب کا قول اچھا ہے اصیل کی جمع اصائل اور اصل ہے جس طرح سفائن اور سفن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–26

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع منہم اٰثما او کفورا اور ان میں سے کسی بدکار یا ناشکرے کا کہا نا مانا کریں۔ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت اللہ کے دشمن ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابو جہل نے کہا جب نبی مکرم ﷺ پر نماز فرض ہوئی اور اس دن آپ مکہ میں تھے اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ضرور آپ کی گردن کو پاؤں سے روند ڈالوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ولاتطع منہم اٰثما اوکفورا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ : اور رات میں سے پھر آپ ﷺ سجدہ کریں اس کو ] [وَسَبِحْهُ : اور آپ ﷺ تسبیح کریں اس کی ] [لَيْلًا طَوِيْلًا : طویل رات میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–26

﴿ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ0024﴾ (اور ان لوگوں میں سے کسی فاسق یا کافر کی بات نہ مانیے) یہ لوگ آپ کو تبلیغ سے روکتے ہیں آپ ان کی فرمانبرداری نہ کریں اور تبلیغ کے کام میں لگے رہیں۔ ﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًاۖۚ0025﴾ (اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجئے) ۔ ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا 0026﴾ (اور رات کے حصے میں بھی اپنے رب کو سجدہ کیجئے اور رات کے بڑے حصہ میں اس کی تسبیح کیا کیجئے) اس میں یہ بتایا کہ کار دعوت کی مشغولی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی عبادت میں بھی مشغول رہیں نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص عابد و ذاکر ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–31

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

18:۔ ” واذکر اسم ربک “ یہ اصل دعوی یعنی مسئلہ توحید کا بیان ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی دعا پکار میں لگا رہ اور اللہ تعالیٰ کی شرک سے تنزیہ و تقدیس میں مصروف رہ۔ سجدہ، رکوع اور ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بجا لا۔ اس کی توحید کی تبلیغ کر اور شرک سے لوگوں کو دور رہنے کی تلقین کر۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ان آیتوں میں پانچوں نمازوں اور نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے۔ ” بکرۃ “ سے نماز فجر، ” اصیلا “ سے نماز ظہر و عصر، ” من اللیل “ سے نماز مغرب و عشا اور ” سبحہ لیلا طویلا “ سے نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ وَسَبِّحْہُ لَيْلًا طَوِيْلًا۝ 26 ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–26

ترکیب : انانحن نزلنا مبتداء اوخبر۔ وقال الزجاج اوھھنا اولہ من الواولانھا بدل علی ان کل واحد اھل ٌ ان لایطاع بخلاف الواولانھا تدل علی ان لایطاع کلاھما وجازان یطاع احد ھما وقال الفراء او بمعنی لاکانہ قال ولاکفورا بکرۃ من اول النہار الی الزوال والاصیل من الزوال الی الغروب وھما منصوبان علی انھما ظرفان لاذکر ومن اللیل من للتبعیض والفاء دالۃ علی معنی الشرطیۃ والتقدیر مھما یکن من شیء فصل من اللیل اے فی اللیل لیلاً منصوب علیٰ انہ ظرف کسبحہ۔ تفسیر : اس سورة کی ابتداء میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آدمی معدوم تھا۔ عدم سے وجود میں لایا گیا ایک قطرہ منی سے بنایا گیا جس میں اس کی تمام قوتیں اور کل ظاہر ہونے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَاذْ کُرِاسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَـہٗ وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاً ۔ (الدہر : 25، 26) (اور صبح و شام اپنے رب کا نام یاد کرو۔ اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔ ) ذکر اور نماز سے توفیق ملتی ہے پروردگار کی سنت یہ ہے کہ جب بھی وہ اپنے پیغمبر کو صبر کی تلقین فرماتا ہے تو اس کے معاً بعد اپنے ذکر اور نماز کا حکم دیتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دین حق کی راہ میں دشمنانِ حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے۔ صبح و شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے مراد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے یہ بات بتلا دی ہے کہ اے انسان تو شکر اور کفر میں جس کا چاہے انتخاب کرلے جو لوگ کفر کریں گے انہیں جہنم میں رنجیروں سے جھکڑا جائے گا اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے، جو لوگ شکر کا راستہ اختیار کریں گے ان کے اعمال کی قدر دانی کی جائے گی۔ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی۔ قرآن مجید میں ” اللہ تعالیٰ “ نے ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اس کے باوجود لوگ ہدایت کے راستہ پر نہیں آتے تو داعی کو صبر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہے۔ نبی ﷺ کو اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رات کا سجدہ : 26 : وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ (اور کسی قدر رات کے حصہ میں بھی اس کو سجدہ کیجئے) اور رات کا بعض حصہ پس مغرب و عشاء کی نمازیں ادا کریں۔ وَسَبِّحْہُ لَیْلًا طَوِیْلًا (اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح کیجئے) رات کے دو حصے جو کہ لمبا حصہ ہے تہجد کی نماز ادا کریں یا نصف رات یا ثلث لیل۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–31

23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

( وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ ) اور رات کو سجدے کرو۔ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجئے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ (وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا) اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ اس مطلق کی تقید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ (یا ایھا المزمل، قم اللیل الا قلیلا نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ او زد علیہ۔ المزمل 1 تا 4) اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیجئے، قیام نصف شب کیجئے یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34 رات کی سجدہ ریزی حکم و ارشاد : سو اس سے رات کے اوقات میں بھی اپنے رب کے حضور سجدہ ریزی کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور رات میں اس کے حضور سجدہ ریز رہا کرو کہ اس کی یاد دلشاد اس کی عبادت و بنڈگی اور اس کے حضور سجدہ ریزی ہی مومن کیلئے وہ عظیم الشان شرف اور سعادت ہے ‘ جس کے ذریعے بندئہ مومن مشاکل و مصائب پر قابو پاتا اور غلبہ حاصل کرتا ہے، اور اپنے خالق ومالک کی تائید و نصرت کے شرف سے مشرف ہوتا ہے اسی لئے نبیٔ اکرم ﷺ کا طریقہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا اور کوئی مشکل نمودار ہوتی ‘ تو آپ ﷺ نماز کی طرف رجوع فرماتے (اذا حزبہ امر فزع الی الصلوۃ) مگر افسوس کہ آج مسلمان اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–31

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی تہجد کی نماز پڑھئے۔ یہ حکم استحباب کے لئے ہے، اگر یہ کہا جائے کہ تہجد کی نماز نبی ﷺ پر بھی فرض نہ تھی بلکہ عام مسلمانوں کی طرح صرف نفل تھی۔ یا یہ حکم صرف نبی ﷺ کے لئے ہے، اگر یہ کہا جائے کہ تہجد کی نماز آپ ﷺ پر فرض تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:26) ومن الیل فاسجدلہ۔ واؤ عاطفہ، من تبعیضیہ ہے اور رات کے بعض حصہ میں۔ فاسجد میںزائدہ ہے اور اما شرطیہ ہے جو مقدر ہے۔ اصل کلام یوں ہے :۔ واما من الیل فاسجد (تفسیر مظہری) اسجد فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ سجود (باب نصر) مصدر۔ تو سجدہ کر۔ یہاں سجدہ سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں۔ وسبحہ لیلا طویلا : سبح فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع رب ہے تو اس کی تسبیح بیان کر۔ تو اس کی پاکی بیان کر۔ لیلا مفعول فیہ۔ رات کو، رات کے دوران۔ طویلا۔ لمبا۔ طویل، دراز، طول (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ یہاں طویلا مصدر محذوف کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–31

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–31

گرمی محشر۔ طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–31

ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اور رات کے کچھ حصے میں اس کو سجدہ کیا کیجئے اور رات کے بڑے حصے میں بھی اس کی پاکی بیان کیا کیجئے - بعض اہل تفسیر نے فرمایا ہے کہ اس سے پانچوں وقت کی نماز مراد ہے کہ آپ پانچوں وقت نماز پڑھتے رہیے یا یہ مطلب ہے کہ صبح وشام خاص طور قر اس کا نام لیا کیجئے اور اس کا نام کا ذکر کیا کیجئے یہ دو وقت خاص طور پر اس کو یاد کرنا اور اس کا نام جپنا بہت سی مشکلات کا علاج ہے۔ رات کے کچھ حصے میں سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کیجئے اور رات کے بڑے حصے میں پاکی بیان کرنے سے مطلب شاید تہجد کی نماز ہے اور اگر ومن الیل فاسجدلہ سے تہجد مراد لیں تو وسبحہ لیلا طویلا کا مطلب یہ ہوگا کہ رات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–31

ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–26

(تو انتظار رکھو اپنے رب کے حکم کا ، اور نہ کہا مانو ان میں سے کسی گنہگار۔۔ یا ۔۔ ناشکرے کا) کسی ایسی کا جو تجھ کو گناہ کی طرف بلائے ، جیسے کہ عتبہ نے کہا کہ دعوت اسلام سے باز آؤ کہ میں اپنی تم کو دوں۔۔ یا کسی ایسے ناشکرے کی جو تجھ کو کفر کی طرف بلائے ، جیسے کہ ولید بن مغیرہ ، کہ اس نے کہا کہ اپنے باپ دادا کے دین کی طرف رجوع کرو تاکہ تم کو مالدار کردوں۔ (اور یاد کرو اپنے رب کے نام کو صبح و شام) یعنی ہمیشہ اس کی یاد میں مشغول رہو۔ (اور کچھ رات میں اس کا سجدہ کرو) یعنی اس کے واسطے نماز ادا کرو۔ بعضوں نے کہا ہے کہ بکرۃ فجر کی نماز کا وقت ہے ، اور اصیلا ظہر اور عصر کے وقت کو شامل ہے ، اور کچھ رات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 The rule followed in the Qur'an is that wherever the Muslims have been exhorted to show patience against the disbelievers, immediately after it they have been commanded to remember Allah much and to observe the Prayer, which automatically implies that the power needed to meet the resistance of the enemies of the Truth in the way of truth faith can be obtained only by this means. To remember Allah morning and evening may also imply remembering Allah always but when the command to remember Allah at specific times is given, it implies the salat (Prayer) . In this verse, bukrah means the…

Read the full tafseer →