Al-Insaan 76:27

Al-Insaan · from ayah 27

76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا ۟اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُوۡنَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا‏

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, these [disbelievers] love the immediate and leave behind them a grave Day.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:27

یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ تو (دنیا کی) فوری چیزوں سے محبت کرتے ہیں اور اپنے آگے جو بھاری دن آنے والا، اسے نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ لوگ پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ (طالبانِ دنیا) جلد ملنے والے مفاد کو عزیز رکھتے ہیں اور سخت بھاری دن (کی یاد) کو اپنے پسِ پشت چھوڑے ہوئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن کو اپنے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ تو بس دنیا سے ہی محبت رکھتے ہیں اور ان کے آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ صرف دنیائے عاجل سے محبت رکھتے اور اپنے آگے ایک بھاری دن کو نظر انداز کررہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محبت کرتے ہیں اس جلد ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے اور چھوڑتے (اور نظر انداز کرتے) ہیں اپنے آگے آنے والے ایک ایسے دن کو جو بڑا ہی بھاری (اور نہایت ہولناک) دن ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ تو بس دنیا سے دل لگائے ہوئے ہیں اور اپنے آگے (آنے والے) ایک بھاری دن کو (بالکل) چھوڑے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز (دنیا) سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily they love (the good of this world) that is hastily obtainable and are oblivious of the burdensome Day ahead of them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In fact these people love that which is immediate, and neglect a Heavy Day ahead of them.

— Muhammad Taqi Usmani

In fact these people love that which is immediate, and neglect a Heavy Day ahead of them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, these love the present life of this world, and put behind them a heavy Day.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! these love fleeting life, and put behind them (the remembrance of) a grievous day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, these [disbelievers] love the immediate and leave behind them a grave Day.

— Saheeh International

These people (disbelievers) love the worldly life and neglect the terrifying day which will come.

— Muhammad Sarwar

Surely these love the transitory and neglect a grievous day before them.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those love the Herein, and leave in front of them a heavy day.

— Abdul Majid Daryabadi

As to these, they love the fleeting life, and put away behind them a Day (that will be) hard.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–31

اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 31 یعنی یہ کفار قریش جس وجہ سے اخلاق اور عقائد کی گمراہیوں پر مصر ہیں، اور جس بنا پر آپ کی دعوت حق کے لیے ان کے کان بہرے ہوگئے ہیں، وہ دراصل ان کی دنیا پرستی اور آخرت سے بےفکری و بےنیازی ہے۔ اس لیے ایک سچے خدا پرست انسان کا راستہ ان کے راستے سے اتنا الگ ہے کہ دونوں کے درمیان کسی مصالحت کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مخالفین کی اصل بیماری: یہ نبی ﷺ کی تسلی کے لیے آپ کے مخالفین کی اصل بیماری کا پتا دیا ہے کہ یہ لوگ تمہارے انذار پر جو شبہات وارد کر رہے ہیں یہ محض اصل حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ان کی سخن سازی ہے۔ ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ اس دنیا کی لذت عاجل کے پرستار ہیں۔ آخرت کی خاطر وہ اس نقد کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ خواہ آخرت کا دن کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو اپنی اس دنیا پرستی کو چھپائے رکھنے کے لیے وہ قیامت پر بعض بناوٹی قسم کے شبہات کا اظہار کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ تاثر دے سکیں کہ یہ لوگ تمہاری بات جو نہیں مان رہے ہیں تو اس کا سبب محض ضد اور انانیت نہیں بلکہ اس کے کچھ وجوہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 یعنی کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔ 27۔ 2 یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–27

5: یعنی ان لڑکوں کی عمر ایک جیسی ہی رہے گی، اور ان پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ھؤلآئ ........................ ثقیلا ” یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں “۔ یہ لوگ جن کی امیدیں نہایت ہی قریبی ہیں ، جو نہایت ہی چھوٹی چیزوں کو بڑی اور اہم سمجھتے ہیں ، جن کی سوچ اور جن کے مطالبے بہت ہی چھوٹے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگ ہیں اور یہ اس دنیا ہی میں گم ہیں ، دنیا کے شب وروز ہی ان کے لئے اہم ہیں۔ اور وہ عظیم اور ثقیل دن اور بھاری ذمہ داریوں کا دن ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ حالانکہ وہ بہت ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی اطاعت کسی چیز میں نہیں کی جاسکتی۔ جن کا اتباع کسی راہ پر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مومنین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی یہ لوگ جو آپ ﷺ کی نصیحت و ہدایت قبول نہیں کرتے اس کا سبب حب دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے اسی کو یہ چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں۔ بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں۔ سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ گئے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کر دے گا ؟ آگے اس کا جواب دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27{ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ہُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا۔ } ”یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز دنیا سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے ‘ اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔“ یعنی قیامت کا سخت دن : { یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا۔ } المزمل ”وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا“۔ اس آیت کے مضمون کا ربط سورة القیامہ کی ان آیات کے ساتھ ہے : { کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ - وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل میں تم لوگ عاجلہ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 یہ لوگ آخرت کے اس لیے منکر نہیں کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، بلکہ اس لیے منکر ہیں کہ یہ صرف نقد کے گاہک ہیں۔ دنیا کی دلفریبیوں، دلکشیوں اور اس کے مال و دولت سے انہیں گہری محبت ہے۔ اور اسے اپنے پاس سمیٹ سمیٹ کر رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ آخرت پر ایمان لانے کی صورت میں مال اکٹھا کرنے کی بجائے انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پھر اخروی زندگی پر ان کا کچھ یقین بھی نہیں۔ لہذا یہ اپنا فائدہ اسی میں دیکھتے ہیں کہ آخرت کا انکار کردیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یہاں تم لامذہبوں کی اصلی ذہینت (سائیکالوجی) بےنقاب کردی ہے، کہ عمق اور دور بینی سے یہ کورے ہوتے ہیں، صرف حاضر پرست یا ” آج “ پرست ہوتے ہیں، ان کی عقلیں سطحی اور ان کے فیصلہ تمامتر سرسری ہوتے ہیں، یہ محض حواس پرست اور ہوا پرست ہوتے ہیں، عقل ودور اندیشی سے انہیں دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ (آیت) ” یوما ثقیلا “۔ وہ دن جو کافروں اور منکروں پر بہت ہی بھاری ہوگا۔ (آیت) ” العاجلۃ “۔ سے مراد دنای اور اس کی ساری آنی فانی لذتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–31

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھولاء یحبوب العاجلۃ . مکہ کے کافر ‘ دار عاجلہ یعنی دنیا کو چاہتے ہیں۔ و یذرون وراء ھم . اور اپنے آگے یا پست پشت چھوڑ دیتے ہیں۔ یوما ثقیلا . بھاری دن یعنی سخت دن۔ ثقیل اصل میں سخت دشوار کام ہوتا ہے۔ مجازاً دن کو ثقیل کہہ دیا گیا (یعنی اس روز امر اتنا بھاری ہوگا کہ گویا وہ دن بھاری ہوجائیگا) ان ھؤلآء یحبون ...... پورا جملہ ممانعت اطاعت کی علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ تو خطا کار ہیں یہ جو کچھ کرتے ہیں ‘ دنیا کیلئے کرتے ہیں انکو آخرت کی پروا نہیں اسلئے تم انکے کہنے پر نہ چلو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ کفار مکہ تو صرف دنیا کے لیے کوشش کرتے ہیں اور آنے والے ایک بھاری دن کی تیاری کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان ھولآء یحبون العاجلۃ…: اس ایٓ میں کفار و فجار کے کفر وف سوق کا اصل سبب بیان فرمایا کہ ان کے نصیحت قبول نہ کرنے کا سبب حب دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے، اس لئے یہ اسی کو چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غافل ہیں، بلکہ اس کے آنے کا یقین ہی نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد گل سڑ گئے تو کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ آگے اس کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ھؤلاء یحبون العاجلۃ۔۔۔ تا۔۔۔ تبدیلا یہ کلام شرمندہ کرنے اور انہیں جھڑکنے کے لیے ہے، ھولاء سے مراد اہل مکہ ہیں، العاجلہ سے مراد دنیا ہے یذرون کا معنی ہے وہ چھوڑ دیتے ہیں، وراء ھم سے مراد ہے اپنے سامنے یوما ثقیلا سے مراد ہے بہت ہی سخت جس طرح فرمایا، ثقلت فی السماوات والارض ،۔ الاعراف 187) وہ آسمان و زمین میں بہت مشکل ہے یعنی وہ یوم قیامت پر ایمان کو ترک کردیتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، وراء ھم کا معنی پس پشت یعنی وہ آخرت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں وہ اس کے لیے کچھ عمل نہیں کرتے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو انہوں نے رسول اللہ کی صفات اور نبوت کو ثبوت چھپایا تھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) آیت اٰثما او کفورا کے بارے میں روایت کیا کہ ابوجہل کہتا تھا اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو میں ضرور اس کی گردن کو روند دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بات ماننے سے آپ کو روک دیا۔ اور آیت یوماثقیلا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے انتہائی مشکل اور شدید دن۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان هٰٓؤُلَاۗءِ يُحِبُّوْنَ : بیشک یہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں ] [الْعَاجِلَةَ : جلد حاصل ہونے والی (دنیا) کو ] [وَيَذَرُوْنَ وَرَاۗءَهُمْ : اور وہ چھوڑتے ہیں اپنے (پیٹھ) پیچھے ] [يَوْمًا ثَــقِيْلًا : ایک بھاری دن (قیامت کی فکر) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ﴾ (بلاشبہ یہ لوگ جلدی والی چیز سے محبت کرتے ہیں) ۔ جو لوگ دین اسلام قبول نہیں کرتے تھے (اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کے سامنے حق پیش ہوتا ہے تو نہیں مانتے) ان لوگوں کا حق سے منہ موڑنا اس لیے ہے کہ انہیں عاجلہ (جلدی والی چیز) یعنی دنیا محبوب اور مطلوب ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اسلام قبول کیا تو دنیا سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے نہ جائیداد رہے گی نہ گھر در اور عہدہ بھی جاتا رہے گا، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ موت کے بعد جو حق قبول نہ کرنے کی سزا ملے گی وہ بہت بڑی ہوگی اور ہمیشہ رہے گی کبھی نہ ٹلے گی یہ ہمیشہ والی سزا جس دن سامنے آئے گی اس دن کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–31

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

19:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ منکرین توحید و قیامت پر زجر ہے اور اس میں سورة قیامت کی آیتوں “ کلا بل تحبون العاجلۃ۔ وتذرون الاخرۃ “ کے مضمون کا اعادہ ہے۔ یہ لوگ صرف دنیا کے منافع چاہتے ہیں اور قیامت کے کٹھن اور ہولناک دن کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ وہ دنیوی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تمام تگ و دو دنیا کی تحصیل کیلئے ہے اور آخرت پر چونکہ ان کا ایمان ہی نہٰں، اس لیے وہ اس سے بےاعتنائی برت رہے ہیں اور اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کر رہے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَيَذَرُوْنَ وَرَاۗءَہُمْ يَوْمًا ثَــقِيْلًا۝ 27 حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–31

ترکیب : یذرون معطوف علیٰ یحبون وکلاء ھما خبران یوما مفعول یذرون وراء ھم ظرف لہ اذاشئنا شرط ومفعول شئنا محذوف یدل علیہ الجواب وھوبدلنا الاان یشاء اللہ ای الاوقت مشیۃ اللہ والافی حال مشیۃ اللہ والظالمین منصوب بفعل محذوف یفسرہ ما بعدہ ای اعد۔ تفسیر : اس کے بعد تین چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ فقال واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلاً کہ صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کرو۔ (2) ومن اللیل فاسجدلہ اور رات میں اس کو سجدہ کیا کرو۔ (3) وسبحہ لیلاً طویلاً اور بڑی رات سے اس کی تسبیح اور تقدیس کیا کر۔ ان آیات میں مفسرین کے دو قول ہیں : اول یہ کہ ان آیات میں نماز پڑھنا مراد ہے۔ بکرۃ سے صبح کی نماز اور اصیلاً سے ظہر و عصر کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَـۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ھُمْ یَوْمًا ثَقِیْلاً ۔ (الدہر : 27) (بیشک یہ لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔ ) مخالفین کی اصل بیماری آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے مخالفین کی اصل بیماری کی خبر دی گئی ہے کہ یہ لوگ آپ پر قسم قسم کے اعتراضات کرتے ہیں اور کبھی قرآن کریم کے حوالے سے مختلف شبہات اٹھاتے ہیں حالانکہ ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ یہ دنیا کی لذت عاجل کے پرستار ہیں اور آخرت کی خاطر وہ اس نقد کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ خواہ آخرت کا دن کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، اپنی اس دنیا پرستی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–31

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ صبر سے کام نہیں لیتے حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم سمجھتے ہیں۔ صبر کا معنٰی یہ ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ صبر نہ کرنے والا شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور ترقی کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس لیے عجلت کرتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی مشکلات نہیں ہوتیں اگر وہ قیامت کی مشکلات کو اپنے سامنے رکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی مشکلات آخرت کی مصیبتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس کے ذہن میں یہ عقیدہ پختہ ہوجائے۔ اسے صبر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27 : اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ (بیشک یہ) کافر یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ (عاجلہ سے محبت کرتے ہیں) عاجلہ سے محبت کا مطلب آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ھُمْ (اور اپنے آگے چھوڑ بیٹھے ہیں) وراءؔ کا معنی آگے یا ان کی پیٹھوں کے پیچھے۔ یَوْمًا ثَقِیْلاً (ایک بھاری دن) ثقیل کا معنی شدید ہے کہ یہ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ کیونکہ اس کے شدائد کفار پر انتہائی شدید ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” ومن اللیل فاسجدلہ “ یعنی مغرب و عشاء کی نماز۔ ” وسبحہ لیلا طویلا “ یعنی فرض کے بعد نفل۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–31

23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ) اے رسول آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں ان کو ترغیب دی گئی ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے انکو کچھ فائدہ نہیں دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے۔ (الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَاۗءَهُمْ يَوْمًا ثَــقِيْلًا) یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں یعنی اپنے آگے، بھاری دن۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یقول الکافرون ھذا یوم عسیر۔ القمر 8) کافر کہیں گے یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

36 منکرین کی اصل بیماری کی نشاندہی : سو اس سے حق کے مخالفین و منکرین کی اصل بیماری کی نشاندہی فرما دی ہے کہ وہ حب دنیا ہے کہ یہ لوگ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں اور یہی ہے فساد اور خربای کی وہ جڑ بنیاد، جس سے آگے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی اور قسما قسم کے مفاسد جنم لیتے ہیں اور اسی کی بنائ پر انسان انسانیت کے منصفہ شرف سے گر کر حیوانیت محضہ کے گڑھے میں گرجا پہنچتا ہے اور وہ صرف پیٹ اور خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے جینے کا خوگر ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ سنجیدگی اور معقولیت کی صفات سے عاری اور خالی ہو کر رہ جاتا ہے، جس کے بعد وہ نہ حق بات کو سننے ماننے کو تیار ہوتا ہے اور نہ ہی اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–31

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:27) ان ھوؤلاء یحبون العاجلۃ ویذرون وراء ہم یوما ثقیلا : ان حرف تحقیق ہے۔ خبر کی تحقیق و تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ ھؤلاء اسم اشارہ اسم ان۔ یحبون العاجلۃ جملہ فعلیہ خبر۔ ان۔ یحبون مضارع جمع مذکر غائب۔ احباب (افعال) مصدر۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ وہ دوست رکھتے ہیں۔ وہ محبت رکھتے ہیں۔ العاجلۃ : جلد ملنے والی، دنیا اور دنیا کی آسودگی مراد ہے۔ عجل اور عجلۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ترجمہ :۔ بیشک یہ لوگ جلد آنے والی (یعنی دنیا) کو پسند کرتے ہیں۔ ویذرون ۔۔ اس کا عطف یحبون ۔۔ پر ہے۔ اور یحبون کی طرح ان کی خبر ہے۔ یذرون جمع مذکر غائب وذر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–31

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–31

گرمی محشر۔ طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–31

ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) کیونکہ یہ منکر دنیا کو دوست رکھتے اور دنیا کو پسند کرتے ہیں اور ایک بہت بھاری دن کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں۔ یعنی چونکہ یہ دنیا سے محبت رکھتے ہیں اور ان کو آخرت کا کوئی خیال نہیں ہے اور انہوں نے آخرت کو نظر انداز کررکھا ہے اور جو ہولناک دن آگے آنے والا ہے اس کو پس پشت ڈال رکھا ہے اس لئے یہ لوگ آپ کا کہنا نہیں مانتے اور آپ کی بات ان کی سمجھ میں نہیں بیٹھتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–31

ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(بیشک یہ لوگ پسند کرتے ہیں جلدی والی دنیا کو اور چھوڑ بیٹھے ہیں اپنے پیچھے گراں بار دن کو) کہ وہ قیامت کا دن ہے۔ نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اسکے وسطے کام کرتے ہیں۔ بس یہی کرتے ہیں جس کا فائدہ انہیں دنیا ہی میں مل جائے۔ یہ کفار یہ نہیں سوچتے کہ اگر انہیں دنیا میں جلد ملنے والی نعمتوں سے محبت ہے تو اس کا بھی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کی توحید کو مانیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 That is, "The reason why the disbelieving Quraish still persist in the errors and deviations of belief and morality and why they turn a deaf ear to your invitation to the Truth is, in fact, their worship of the world and their heedlessness of the Hereafter. Therefore, the way being followed by a true God-worshipper is so different from and opposed to their way that there can be no question of any compromise between them. "

Read the full tafseer →