Al-Insaan 76:28

Al-Insaan · from ayah 28

76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَشَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ ۚ— وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا ۟نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ‌ۚ وَاِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا

ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have created them and strengthened their forms, and when We will, We can change their likenesses with [complete] alteration.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:28

ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل ﻻئیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے ہی انہیں پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے ان جیسے دوسرے پیدا کردیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان جیسے اور بدل دیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ نہیں سوچتے کہ) ہم ہی نے انہیں پیدا فرمایا ہے اور ان کے جوڑ جوڑ کو مضبوط بنایا ہے، اور ہم جب چاہیں (انہیں) انہی جیسے لوگوں سے بدل ڈالیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے ہی انھیں پیدا کیا اور ہم نے ان (کے اعضا) کا بندھن مضبوط باندھا اور ہم جب چاہیں گے بدل کر ان جیسے اور لوگ لے آئیں گے، بدل کر لانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے ہی انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور جب ہم چاہیں ایسے ہی اور لوگ (ان کی جگہ) لے آئیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور جب ہم چاہیں گے ٹھیک ٹھیک انہی کے مانند بدل دیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم ہی نے پیدا کیا ان کو (اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے) اور مضبوط کئے ان کے جوڑ بند اور ہم جب چاہیں ان (کو ہلاک کر کے ان) کی جگہ اور لوگ لے آئیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہم ہی نے انہیں پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور ہم ہی جب چاہیں انہیں جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے ہی ان کو تخلیق فرمایا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں۔ اور ہم جب چاہیں گے ان جیسے بدل کر اور لے آئیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور ہم جب چاہیں انہی کی طرح ان کے بدلے میں اور لے آئیں

— محترمہ رفعت اعجاز

We created them and strengthened their joints; and whenever We wish, We can change their faces entirely.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have created them and have made their joints strong. And whenever We will, We would replace them with others like them, a total replacement.

— Muhammad Taqi Usmani

We have created them and have made their joints strong. And whenever We will, We would replace them with others like them, a total replacement.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is We Who created them, and We have made them of strong build. And when We will, We can replace them with others like them with a complete replacement.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We, even We, created them, and strengthened their frame. And when We will, We can replace them, bringing others like them in their stead.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have created them and strengthened their forms, and when We will, We can change their likenesses with [complete] alteration.

— Saheeh International

We have created them and have given them strength. Had We wanted, We could have replaced them with another people like them.

— Muhammad Sarwar

We created them and made firm their make, and when We please We will bring in their place the likes of them by a change.

— Muhammad Habib Shakir

It it We Who creared them and made them firm of make. And whenever We list, We can replace them with others like Unto them.

— Abdul Majid Daryabadi

It is We Who created them, and We have made their joints strong; but, when We will, We can substitute the like of them by a complete change.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–31

اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة الدَّهْر 32 اصل الفاظ ہیں اذا شئنا بدلنا امثالھم تبدیلاً۔ اس فقرے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کر کے انہی کے جنس کے دوسرے لوگ ان کی جگہ لا سکتے ہیں جو اپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں ان کی شکلیں تبدیل کرسکتے ہیں، یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضاء بنا سکتے ہیں اسی طرح ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کردیں، کسی کو لقوہ مار جائے اور کوئی کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو کر اپاہج ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہم جب چاہیں موت کے بعد ان کو دوبارہ کسی اور شکل میں پیدا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مخالفین کو دھمکی اور ان کے شبہ کا جواب: یہ ان مخالفین کے لیے دھمکی بھی ہے اور اس میں قیامت پر ان کے سب سے بڑے شبہ کا جواب بھی ہے۔ ان کا سب سے بڑا شبہ، جو قرآن میں باربار نقل ہوا ہے، یہی تھا کہ مرنے اور مٹی میں رَل مِل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں! فرمایا کہ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ بند اور رگ پٹھے مضبوط کیے تو جب ہم ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے اور اس سے وہ انکار نہیں کر سکتے تو ہم جب چاہیں گے پھر ان کے رگ پٹھے ازسرنو مضبوط کر کے ان کو اٹھا کھڑا کریں گے۔ جب پہلی بار ہم کو اس کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو وہی کام ہمارے لیے دوبارہ کیوں مشکل ہو جائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 یعنی ان کی پیدائش کو مضبوط بنایا، یا ان کے جوڑوں کو، رگوں کو اور پٹھوں کے ذریعے سے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا، بلفظ دیگر، ان کا مانجھا کڑا کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان سب کو ہلاک کر کے ان کی جگہ دوسرے انسان پیدا کردیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انہیں شروع میں پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم جب چاہیں گے، ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں دوبارہ پیدا کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

نحن خلقنھم .................... تبدیلا یہ ذرا ان لوگوں کو تنبیہہ اور تذکیر ہے جو اپنی قوتوں پر مغرور ہیں کہ تمہاری قوت بلکہ تمہارے وجود کا سرچشمہ بھی درحقیقت ہم ہیں۔ اور اس کے بعد مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اگرچہ تم قلیل و ضعیف ہو لیکن تم جس ذات کی دعوت لے کر اٹھے ہو وہ نہایت ہی قوت والی ذات ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمام واقعات اللہ کی قدرت سے وجود میں آتے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ کی قدرت کار فرما ہوتی ہے۔ اور تمام امور اس کی حکمت کے مطابق سرانجام پاتے ہیں اور وہ احکم الحاکمین ہے۔ واذا شئنا ................ تبدیلا (18:76) ” اور جب ہم چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں “۔ اللہ کے مقابلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اول پیدا ہم نے کیا اور سب جوڑ بند درست کیے۔ آج ہماری وہ قدرت سلب نہیں ہوگئی۔ ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستی کو ختم کر کے دوبارہ ایسی ہی ہستی بنا کر کھڑی کردیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ نہ مانیں گے تو ہم قادر ہیں کہ جب چاہیں ان کی جگہ دوسرے ایسے ہی آدمی لے آئیں جو ان کی طرح سرکش نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ نَحْنُ خَلَقْنٰـہُمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَہُمْ } ”ہم نے ہی ان کو تخلیق فرمایا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں۔“ { وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَہُمْ تَبْدِیْلًا۔ } ”اور ہم جب چاہیں گے ان جیسے بدل کر اور لے آئیں گے۔“ عام طور پر اس آیت کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک قوم کو ختم کر کے اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ لیکن اس سے پہلے چونکہ انسانی تخلیق اور انسانی جسم کے جو ڑبند درست کرنے کا ذکر ہوا ہے اس لیے میرے نزدیک اس جملے کا درست مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں ہم ان لوگوں کو ان کے دنیوی زندگی والے جسموں جیسے اور جسم عطا کردیں گے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون قبل ازیں سورة…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

31 ہم نے رحم مادر سے ایک خوردبینی کیڑے کی نشوونما کرکے انہیں اس طرح پیدا کیا کہ ان کا بند بند اور پور پور درست کرکے انہیں ایک صاحب عقل و شعور انسان بنا کر پیدا کردیا تھا تو ہم میں یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں پرے ہٹا کر دوسری مخلوق تمہاری جگہ لے آئیں جو تمہاری طرح نافرمان اور سرکش نہ ہو۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں اس صفحہ ہستی سے مٹا کر دوبارہ تمہیں پیدا کرکے تمہارا پوری طرح محاسبہ کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ یعنی ان کی خلقت اور ان کی ترکیب حکیمانہ دونوں سے قدرت الہی بالکل ظاہر ہے، پھر بعث میں کون امر ایسا دشوار ہے کہ اس پر قدرت نہ ہو ؟ (آیت) ” واذا شئنا “۔ الخ سے مراد یہ بھی لی گئی ہے کہ ہم جب چاہیں گے ان کے امثال واشباہ بدل دیں گے، انہیں مار کر پھر سے جلائیں گے اور عالم برزخ وآخرت میں لے جائیں گے جہاں ان کی صورتیں ان کے اعمال ہی کی مماثل ہوں گی، اہل جہنم حسب اعمال قبیحہ اور اہل جنت حسب مقدار اعمال حسنہ، قبح اور حسن کے درجہ پر ظاہر کردیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–31

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نحن خلقنھم و شددنا اسرھم . ہم نے ہی انکو پیدا کیا اور انکی بناوٹ کمر اور جوڑ جوڑ کی بندش مضبوط کی۔ واذا شئنا بدلنا امثالھا تبدیلا . اور ہم جب چاہیں گے ان جیسی بناوٹ اور بندش مفاصل والے دوسرے لوگ ان کی جگہ لے آئیں گے۔ تبدیلاً مفعول مطلق تاکید کے لیے ہے۔ واذا شءْنا جملہ شرطیہ ہے ‘ اس کا عطف شددنا پر ہے اور نحن خلقنٰھم یعنی اس پورے کلام سے کافروں کی مذمت کا اظہار مقصود ہے کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے مقابلہ میں ناشکری کی۔ تخلیق اور طاقت بخشی کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ اس لیے کیا کہ تمام نعمتوں کی بنیاد یہی ہے۔ اذا شئنا کے جملہ سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت کفار پر تسکین بخشی مقصود ہے اور کافروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہم نے ہی ان مکہ والوں کو پیدا کیا اور ان کو مضبوط بنایا اور جب چاہیں تو ہم ان کو ہلاک کردیں اور ان کی جگہ ان ہی جیسے بہترین عبادت گزار آدمی پیدا کردیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نحن خلقنھم وشددنا اسرھم…:”اسرھم“ ”اسر“ کا معنی باندھنا ہے، سایر بھی اسی سے نکلا ہے، یعنی ہم نے ان کے اعضا کا بندھن مضبوطی سے باندھا ہے، ہڈیوں اور پٹھوں کے جوڑ نہایت مضبوط بنئاے ہیں، یعنی یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں، لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ ہم نے انہیں پ لہی مرتبہ پیدا کیا، ان کے نرم و نازک رگ و ریشے، گوشت پوست، جوڑوں اور ہڈیوں کو مضبوطی سے باندھ دیا تو ہم دوبارہ انہیں کیوں زندہ نہیں کرسکتے ؟ ہم تو جب چاہیں انہیں ختم کر کے ان کی جگہ ان جیسے اور لوگ لاسکتے ہیں، تو ان کا بنانا ہمیں کیا مشکل ہے ؟ دوسری جگہ فرمایا :(ان یشا یذھبکم ایھا النسا و یات باخرین وکان اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

نحن خلقنھم وشددا اسرھم۔ ہم نے انہیں مٹی سے پیدا کیا اور ان کی خلقت کو مضبوط کیا، یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور مقاتل اور دوسرے علماء نے کہا، اسرکامعنی خلقت ہے، ابوعبید نے کہا، کہا جاتا ہے فرس شدید الاسر یعنی گھوڑے کی خلقت اور جوڑ بڑے مضبوط ہیں کہا جاتا ہے، اسرہ اللہ جل ثناءہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت اور جوڑوں کو مضبوط لیا، اخطل نے کہا، من کل مجتنب شدید اسرہ، سلس القیاد تخالہ مختالا۔ یہ مجتنب (ایساگھوڑا جس کی لگام پکڑ کر آگے چلا جاتا) مضبوط جوڑوں والا اطاعت شعار ہے تو اسے متکبر خیال کرے گا، حضرت ابوہریرہ، حضرت حسن بصری اور ربیع نے کہا، ہم نے ان کے جوڑوں کو رگوں اور پٹھوں کے ساتھ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–29

4۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم اور ان کے جوڑ بند مضبوط کردئیے یعنی ان کی خلقت کو مضبوط کردیا۔ 5۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم سے مراد ہیں جوڑ۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اشرہم سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے جوڑ مضبوط کردئیے۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم سے مراد ہے کہ ہم نے ان کی خلقت کو مضبوط کردیا اور فرمایا آیت ان ہذہ تذکرۃ بیشک یہ ایک نصیحت ہے سے مراد ہے کہ یہ سورة ایک نصیحت ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ : ہم نے ہی پیدا کیا ان کو ] [وَشَدَدْنَآ : اور ہم نے مضبوط کیا ] [اَسْرَهُمْ : ان کی بندش (جوڑبند) کو ] [وَاِذَا شِئْنَا : اور جب بھی ہم چاہیں گے ] [بَدَّلْنَآ اَمْثَالَهُمْ : ہم تبدیل کردیں گے (ان کو) ان کے جیسوں سے ] [تَبْدِيْلًا : جیسے تبدیل کرتے ہیں ] نوٹ 2: آیت 28 ۔ میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انسان اپنے ایک ایک جوڑ پر نظر ڈالے کہ بتقاضائے حکمت و راحت انسانی جوڑ دیکھنے میں نرم ونازک معلوم ہوتے ہیں اور نرم نرم پٹھوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جس کا طبعی تقاضا یہ تھا کہ سال دو سال ہی میں یہ جوڑوں کے بندھن اور اعصاب گھس جاتے اور ٹوٹ جاتے، خصوصاً جبکہ دن رات…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہو کر اٹھنے پر تعجب کرتے تھے اور وقوع قیامت کے منکر تھے ان کے استعجاب اور انکار کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ 1ۚ﴾ (ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے) ۔ ﴿ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِيْلًا 0028 ﴾ (اور ہم جب چاہیں ان کے جیسے لوگ بدل دیں) یعنی ان کی جگہ ان جیسے لوگ پیدا کردیں۔ جس ذات پاک نے اولاً پیدا کیا مضبوط بنایا وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ پیدا فرما سکتا ہے اور وہ تمہیں موت دے کر دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی پوری طرح قادر ہے۔ ﴿ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ ﴾ جو فرمایا (کہ ہم نے ان کے جوڑ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–31

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:۔ “ نحن خلقنہم “ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کی خلقت کو محکم اور استوار بنایا ہے اور جب ہم چاہیں گے ان کی جگہ ان کی مانند اوروں کو لے آئیں گے۔ پیدا کرنے اور پھر مارنے اور مرنے والوں کی جگہ دوسروں کو لانے کا یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی کا کرشمہ ہے اور اس سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ جس طرح ہم نے ان کو پہلے پیدا کرلیا اسی طرح جب چاہیں گے قیامت کے دن ان کو دوبارہ پیدا کرلیں گے ای واذا شئنا بعثناہم یوم القیامۃ وبدلناھم فاعددنا ھم خلقا جدیدا (ابن کثیر ج 4 ص 458) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَحْنُ خَلَقْنٰہُمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَہُمْ۝ 0 ۚ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَہُمْ تَبْدِيْلًا۝ 28 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–31

ترکیب : یذرون معطوف علیٰ یحبون وکلاء ھما خبران یوما مفعول یذرون وراء ھم ظرف لہ اذاشئنا شرط ومفعول شئنا محذوف یدل علیہ الجواب وھوبدلنا الاان یشاء اللہ ای الاوقت مشیۃ اللہ والافی حال مشیۃ اللہ والظالمین منصوب بفعل محذوف یفسرہ ما بعدہ ای اعد۔ تفسیر : اس کے بعد تین چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ فقال واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلاً کہ صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کرو۔ (2) ومن اللیل فاسجدلہ اور رات میں اس کو سجدہ کیا کرو۔ (3) وسبحہ لیلاً طویلاً اور بڑی رات سے اس کی تسبیح اور تقدیس کیا کر۔ ان آیات میں مفسرین کے دو قول ہیں : اول یہ کہ ان آیات میں نماز پڑھنا مراد ہے۔ بکرۃ سے صبح کی نماز اور اصیلاً سے ظہر و عصر کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

نَحْنُ خَلَقْنٰـہُمْ وَشَدَدْنَـآ اَسْرَھُمْ ج وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْـنَـآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلاً ۔ (الدہر : 28) (ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں اور ہم جب چاہیں گے ٹھیک ٹھیک ان ہی کی مانند بدل دیں گے۔ ) مخالفین کو دھمکی اور ایک شبہ کا جواب قریش اور دیگر اہل مکہ دنیا کی محبت میں اندھے ہو کر عقل اور نصیحت کی کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آخرت کے بارے میں قرآن کریم کی تنبیہات بھی ان پر اثرانداز نہیں ہو رہیں کیونکہ ساون کے اندھے کو ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے دل و دماغ میں دنیا طلبی کے سوا اور کوئی خیال نفوذ اختیار نہیں کرتا۔ چناچہ اپنے اس اندھے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–31

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ صبر سے کام نہیں لیتے حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم سمجھتے ہیں۔ صبر کا معنٰی یہ ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ صبر نہ کرنے والا شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور ترقی کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس لیے عجلت کرتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی مشکلات نہیں ہوتیں اگر وہ قیامت کی مشکلات کو اپنے سامنے رکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی مشکلات آخرت کی مصیبتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس کے ذہن میں یہ عقیدہ پختہ ہوجائے۔ اسے صبر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : نَحْنُ خَلَقْنٰھُمْ وَ شَدَدْنَآ اَسْرَھُمْ (ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے) شددنا ہم نے مضبوط کیا۔ اسرھم ؔ ان کی خلقت۔ یہ قول عبد اللہ بن عباس ؓ اور فراء کا ہے۔ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلًا (اور جب ہم چاہیں تو انہی جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں) یعنی جب ہم چاہیں کہ ان کو ہلاک کرنا ہے تو ہلاک کر ڈالیں گے اور ان کی جگہ اور لوگ بدل دیں گے جو خلقت میں ان جیسے انسان ہونگے مگر مطیع و فرمانبردار ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” ان ھٰولائ “ یعنی کفار مکہ۔ ” یحبون العاجلۃ “ یعنی جلدی گھرکو اور وہ دنیا ہے ۔ ” ویذرون وراء ھم “ یعنی اپنے آگے۔ ” یوم ثقیلا “ سخت اور وہ قیامت کا دن ہے یعنی وہ اس کو چھوڑتے ہیں پس اس پر نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اس کے لئے عمل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–31

23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے چناچہ فرمایا (نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ ) یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ (وَشَدَدْنَآ اَسْرَهُمْ ۚ ) یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قوی کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہوگیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انہیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے۔ وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا وسزا دینے کے لیے انہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزرا ہے اس کی شان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

38 ۔ انسان کی خود اپنی تخلیق میں بڑے در سہائے عبرت و بصیرت، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے ان سب کو پیدا کیا اور مضبوط کئے ان کے جوڑ بند اور ایسے پر حکمت طریقے سے کہ دنیا کی ہر مشین کے پرزے تو استعمال سے گھست اور خراب ہوتے ہیں، لیکن انسانی جسم کی اس خدائی مشین کے کل پرزے محنت و مشقت اور تمرین و ریاضت سے اور مضبوط ہوتے ہیں، اسی لئے جسمانی ورزش کو انسانی صحت کے لئے ایک اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے، تاآنکہ بڑھاپے میں جب قدرت کے اپنے نظام کے مطابق یہ جوڑ پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، تو گرتے گرتے زیرو پوائنٹ پر واپس آجاتے ہیں اور اس طرح کہ کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ ان تغیرات کو روک سکے، یہاں تک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–31

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 14 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستیوں کو (ختم کرکے) دوبارہ ایسی ہی ہستیاں بناکر کھڑی کردیں “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:28) نحن خلقنھم۔ ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ وشددنا اسرہم : اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ شددنا ماضی جمع متکلم۔ شد باب نصر و ضرب) مصدر سے جس کا معنی مضبوط باندھنے کے ہیں۔ اسرھم مضاف مضاف الیہ ان کی جوڑ بندی، ان کی قید کی بندش (حاصل مصدر) ۔ الاسر کے معنی قید میں جکڑ لینے کے ہیں یہ اسرت العتب سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں : میں نے پالان کو مضبوطی سے باندھ دیا۔ قیدی کو اسیر اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ رسی وغیرہ سے باندھا ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں ” ہم نے ان کی بندش کو مضبوطی سے باندھ دیا “ میں اس حکمت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو انسان کی ہیئت ترکیبی میں پائی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–31

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–31

گرمی محشر۔ طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–31

ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور ہم ہی ان کے جوڑوں کے بندھن اور رگ وپٹھے خوب مضبوط باندھے ہیں اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے انہی جیسے اور لوگ لے آئیں۔ یعنی ہم نے ہی ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور ہم ہی نے ان کے جوڑ جوڑ کو درست اور مضبوط کیا ہے ہم جب چاہیں ان کی ہستی کو فنا کردیں اور دوبارہ ایسی ہی ہستی بنا کر کھڑی کردیں یا یہ کہ ان کو مٹاکر ان کی جگہ دوسرے آدمی لے آئیں جو ان کی طرح سرکش اور نافرمان نہ ہوں۔ انہوں نے یو ثقیل کو اس لئینظرانداز کیا ہے کہ ان کو مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا یقین نہیں یہ اس کا جواب ہے کہ جب ہم دنیا میں تم جیسے دوسرے انسان کو لاسکتے ہیں تو قیامت میں تم کو دوبارہ زندہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–31

ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(ہم نے پیدا فرمایا انہیں اور مضبوط کیا ان کے جوڑ بند کو) اس کے علاوہ ان کو دنیا میں زندہ رہنے کے تمام اسباب عطا کیے۔ سو اگر وہ ان دنیاوی نعمتوں سے محبت کرتے ہیں تو اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کے عطا کرنے والے سے محبت کریں ، اس کا شکر ادا کریں ، اور اس کی طاعت عبادت کریں۔۔ نیز۔۔ ان کو اس سے ڈرنا بھی چاہیے کہ جو ان نعمتوں کو عطا کرتا ہے وہ ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے ، تو ان نعمتوں کے زائل ہوجانے کے خوف کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کی عبادت کریں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول تو ان لوگوں کو آخرت کی دائمی نعمتوں سے محبت کرنی چاہیے اور ان نعمتوں کے حصول کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

32 The sentence, "Whenever it be Our will We can change their forms°, can have several meanings: (1) That whenever We please We can destroy them and replace them by other people of their own kind, who will be different from them in conduct; (2) that whenever We please We can change their forms; that is, just as We can make someone healthy and sound in body, so also We have the power to make somebody a paralytic, cause someone to be struck with facial paralysis and other to fall a victim to some disease or accident and become a cripple permanently; and (3) that whenever We will We can recreate…

Read the full tafseer →