Explained with ayahs 23–31
اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
سورة الدَّهْر 32
اصل الفاظ ہیں اذا شئنا بدلنا امثالھم تبدیلاً۔ اس فقرے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کر کے انہی کے جنس کے دوسرے لوگ ان کی جگہ لا سکتے ہیں جو اپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں ان کی شکلیں تبدیل کرسکتے ہیں، یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضاء بنا سکتے ہیں اسی طرح ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کردیں، کسی کو لقوہ مار جائے اور کوئی کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو کر اپاہج ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہم جب چاہیں موت کے بعد ان کو دوبارہ کسی اور شکل میں پیدا کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…
Read the full tafseer →آگاہی اور اعلان بے نیازی:
یہ ان لوگوں سے اظہار بے نیازی ہے کہ یہ آگاہی جو سنائی جا رہی ہے محض ان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے سنائی جا رہی ہے۔ اس میں نہ اللہ کا کوئی نفع ہے اور نہ رسول کی کوئی ذاتی غرض اس میں مضمر ہے۔ جس کا جی چاہے اس کو قبول کر کے اپنے رب کی راہ اختیار کرے ورنہ اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے یہ کتاب آگاہ کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →29۔ 1 یعنی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان سب کو ہلاک کر کے ان کی جگہ دوسرے انسان پیدا کردیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انہیں شروع میں پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم جب چاہیں گے، ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں دوبارہ پیدا کردیں گے۔
Read the full tafseer →ان ھذہ .................... سبیلا
اور اس کے بعد یہ تصریح بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاکہ لوگوں کی آخری توجہ اللہ کی طرف ہو۔ اور آخر کار سب لوگ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ انسان اپنی قوت پر مغرور ہونے کی بجائے اللہ کی قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یعنی پوری طرح اللہ کے آگے جھک جائے۔
Read the full tafseer →8 یعنی جبرو زور سے منوا دینا آپ کا کام نہیں، قرآن کے ذریعہ نصیحت کر دیجئے۔ آگے ہر ایک کو اختیار ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی خوشنودی تک پہنچنے کا راستہ بنا رکھے۔
Read the full tafseer →آیت 29{ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌج } ”یقینا یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔“
{ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔ } ”تو جو چاہے اپنے ربّ کی طرف راستہ اختیار کرلے۔“
یعنی جس کا جی چاہے اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کرلے۔ اس مضمون کے حوالے سے صوفیاء کے ہاں سیر الی اللہ ‘ تقرب الی اللہ ‘ سلوک الی اللہ وغیرہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →32 یہ قرآن تمہیں تمہاری فطرت کی یاددہانی کرانے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اور تمہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو اس کی نصیحت کو قبول کرلو اور چاہے تو رد کردو۔ نہ قرآن تمہیں کسی بات پر مجبور بنانے کے لیے نازل کیا گیا ہے اور نہ حامل قرآن میں یہ قدرت ہے کہ تمہیں زبردستی راہ راست پر لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
18۔ (اس لئے اس کی مشیت بھی ہمیشہ علم اور حکمت ہی پر مبنی ہوتی ہے) (آیت) ” فمن شآء اتخذ الی ربہ سبیلا “۔ اور اس راہ ہدایت کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے ارادہ واختیار سے صحیح کام لے۔ (آیت) ” وما ..... اللہ “۔ یعنی یہ بشری ارادہ بھی حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کے ماتحت ہی ہوتا ہے، اس سے الگ اور بےنیاز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…
Read the full tafseer →ان ھذہ . یہ سورت یا یہ آیات۔
تذکرۃ . نصیحت اور یادداشت ہیں جو اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ بتاتی ہیں۔
فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا . اب جو اللہ کی قربت اور اس کے راستہ پر چلنا چاہے وہ رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے یعنی اس کی طاعت کرے ہمیشہ اس کی یاد کرے اور دل سے خلوص رکھے اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے۔
Read the full tafseer →یہ سورت اللہ کی طرف سے نصیحت ہے سو جو شخص چاہے وحدانیت اختیار کر کے اپنے رب کی طرف کا راستہ اختیار کرے۔
Read the full tafseer →ان ھذہ تذکرۃ…: یعنی یہ سورت یا موعظت نصیحت ہے، اس سے صحیح راستہ واضح ہوگیا ، کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا، اب جو چاہے اپنے رب کی طرح جانے کا راستہ اختیار کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ان ھذہ تذکرہ فمن شاء اتخذ۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیما۔
ان ھذہ تذکرہ، فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ ھذہ سے مراد سورت ہے تذکرہ سے مراد نصیحت ہے سبیلا سے مراد ایسا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کی طلب تک پہنچا دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے سبیلا سے مراد وسیلہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی سمت اور جنت کی طرف جانے والا راستہ ہے معنی ایک ہے تم طاعت، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ نہیں چاہ سکتے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی امر اس کے قبضہ قدرت میں ہے لوگوں کے قبضہ قدرت میں نہیں کسی کی مشیت نافذ نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آگے ہوسکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت مقدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
4۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم اور ان کے جوڑ بند مضبوط کردئیے یعنی ان کی خلقت کو مضبوط کردیا۔
5۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم سے مراد ہیں جوڑ۔
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اشرہم سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے جوڑ مضبوط کردئیے۔
7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کی ہے۔
8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم سے مراد ہے کہ ہم نے ان کی خلقت کو مضبوط کردیا اور فرمایا آیت ان ہذہ تذکرۃ بیشک یہ ایک نصیحت ہے سے مراد ہے کہ یہ سورة ایک نصیحت ہے۔…
Read the full tafseer →[ان هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ: بیشک یہ ایک یادہانی ہے ] [فَمَنْ شَاۗءَ : تو جو چاہے ] [اتَّخَذَ اِلٰى رَبِهٖ : وہ بنا لے اپنے رب کی طرف ] [سَبِيْلًا : ایک راستہ ]
نوٹ 3: آیات۔ 29 ۔ 30 ۔ میں تین باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔ دوسرے یہ کہ تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ بڑا حکیم وعلیم ہے۔ ان تینوں باتوں پر اگر اچھی طرح غور کیا جائے تو انسان کی آزادیٔ اختیار اور اللہ کی مشیت کا تعلق بخوبی سمجھ میں آجاتا ہے اور وہ تمام الجھنیں صاف ہوجاتی ہیں جو تقدیر کے مسئلہ میں بالعموم لوگوں کے ذہنوں میں پائی جاتی ہیں۔ پہلی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
﴿اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ1ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا 0029﴾ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے) ۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور اللہ کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں چاہ سکتے) جو وہ چاہے گا وہی چاہو گے جو وہ چاہے گا وہی ہوگا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًاۗۖ0030﴾ (بیشک اللہ علیم ہے حکیم ہے) ﴿ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ 1ؕ﴾ (وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے) ﴿ وَ الظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا (رح) 0031﴾ (اور جو ظالم ہیں ان کے لیے اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے) ۔
وھذ آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
21:۔ ” ان ھذہ “ یہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ عبرت و نصیحت کے لیے کافی ہے۔ اب جو چاہے اس کو مان کر اور اس پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کا راستہ یعنی اسلام اور توحید کا راستہ اختیار کرلے۔ ” وما تشاءون “ لیکن تمہارا ارادہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے صرف وہی ہدایت پر آئے گا جس کے ہدایت پر آنے کے ساتھ ارادہ خداوندی متعلق ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ صرف ان لوگوں کی ہدایت سے متعلق ہوتا ہے جو منیب ہوں اور انصاف و اخلاص کے ساتھ راہ ہدایت کے طالب ہوں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” ویھدی الیہ من ینیب “ (شوری رکوع 2) ۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْكِرَۃٌ 0 ۚ فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّہٖ سَبِيْلًا 29
تَّذْكِرَةُ
والتَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن .
( ذک ر ) تَّذْكِرَةُ
التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ترکیب : یذرون معطوف علیٰ یحبون وکلاء ھما خبران یوما مفعول یذرون وراء ھم ظرف لہ اذاشئنا شرط ومفعول شئنا محذوف یدل علیہ الجواب وھوبدلنا الاان یشاء اللہ ای الاوقت مشیۃ اللہ والافی حال مشیۃ اللہ والظالمین منصوب بفعل محذوف یفسرہ ما بعدہ ای اعد۔
تفسیر : اس کے بعد تین چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ فقال واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلاً کہ صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کرو۔ (2) ومن اللیل فاسجدلہ اور رات میں اس کو سجدہ کیا کرو۔ (3) وسبحہ لیلاً طویلاً اور بڑی رات سے اس کی تسبیح اور تقدیس کیا کر۔ ان آیات میں مفسرین کے دو قول ہیں : اول یہ کہ ان آیات میں نماز پڑھنا مراد ہے۔ بکرۃ سے صبح کی نماز اور اصیلاً سے ظہر و عصر کی…
Read the full tafseer →اِنَّ ھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ ج فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (الدہر : 29)
(یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ )
بےنیازی کا اظہار
قریش اور اہل مکہ کو دلائل سے سمجھانے، تنبیہات کرنے اور اتمامِ حجت کے بعد نہایت بےنیازی سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ ایک نصیحت ہے جو محض انسانوں کی بھلائی کے لیے کی جارہی ہے۔ اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نفع ہے اور نہ اس کے رسول ﷺ کی کوئی ذاتی غرض اس میں مضمر ہے۔ جس کا جی چاہے اسے قبول کرکے اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور اپنی دنیا و عقبیٰ کو سنوار لے۔ اور جس کا جی چاہے اس سے اعراض کرکے اپنی عاقبت برباد کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ صبر سے کام نہیں لیتے حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم سمجھتے ہیں۔
صبر کا معنٰی یہ ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ صبر نہ کرنے والا شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور ترقی کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس لیے عجلت کرتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی مشکلات نہیں ہوتیں اگر وہ قیامت کی مشکلات کو اپنے سامنے رکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی مشکلات آخرت کی مصیبتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس کے ذہن میں یہ عقیدہ پختہ ہوجائے۔ اسے صبر…
Read the full tafseer →29 : اِنَّ ھٰذِہٖ (بیشک یہ) سورت تَذْکِرَۃٌ (نصیحت ہے) فَمَنْ شَآ ئَ اتَّخَذَاِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا (پس جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف رستہ اختیار کرنا) تو طاعت سے اور اس کے رسول کی اتباع سے اس کا تقرب حاصل کرلے۔
Read the full tafseer →28 ۔” نحن خلقنا ھم وشددنا “ ہم نے قوت دی اور پختہ کیا۔ ” اسرھم “ مجاہد، قتادہ اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” اسرھم “ یعنی ان کی تخلیق کو ۔ کہا جاتا ہے ” رجل حسن الاسر “ یعنی الخلق اور حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے جوڑ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رگوں اور پٹھوں کے ذریعے۔ مجاہد سے اسر کی تفسیر میں روایت کیا گیا ہے ۔ فرماتے ہیں شرمگاہ یعنی پیشاب اور پاخانہ کے گزرنے کی جگہ جب گندگی نکل جائے تو دونوں بند ہوجاتے ہیں۔ ” واذاشئنا بدلنا امثالھم تبدیلا “ یعنی جب ہم چاہیں گے ان کو ہلاک کردیں گے اور ان کے مشابہ لوگ لائیں گے۔ پس ہم ان کو ان کا بدل کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…
Read the full tafseer →(اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ ۚ ) یہ ایک نصیحت ہے۔ یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے اس کے اندر جو تخویف و ترغیب ہے اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ (فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا) پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے، یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔ اللہ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کردیا اور لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لیے انکو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →39 قرآن حکیم اور عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان تذکیرو یاد دہانی ہے۔ پس اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔ تاکہ اس طحر وہ خود ارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکے، ورنہ وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، والعیاذ باللہ العظیم۔ جو قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ فضل وتمیز کے دن وہ گا ظاہر ہو کہ رہے گا کیونکہ وہاں ہر کسی نے اپن زندگی بھر کے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے، خبر کا بھی اور شر کا بھی تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاض پورے ہو سکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے
تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
آیات 23 تا 31
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔
اسم ذات کے ذکر کا حکم۔
یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 14 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستیوں کو (ختم کرکے) دوبارہ ایسی ہی ہستیاں بناکر کھڑی کردیں “۔
Read the full tafseer →(76:29) ان ھذہ تذکرۃ : ان حرف تحقیق ۔ حر مشبہ بالفعل ھذہ (یہ سورة یا یہ آیات) اسم اشارہ واحد مؤنث (اسم ان) تذکرۃ۔ ان کی خبر، بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر۔ یاد دہانی ، نصیحت، یاد کرنے کی چیز۔
ترجمہ ہوگا :۔ یہ (آیات یا یہ سورۃ) ایک نصیحت ہے (سب کے لئے) ۔
فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا :عطف کے لئے ہے، بمعنی پس، پھر۔ من شرطیہ ہے۔ شاء ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مشیئۃ (باب سمع) مصدر۔ شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح۔ اس کو الف سے بدلا۔ اس نے چاہا۔ اس نے ارادہ کیا۔ اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اتخاذ (افتعال) مصر ۔ بمعنی اختیار کرنا۔ پسند کرنا۔
سبیلا۔ راستہ۔ راہ۔ سبیل، منصوب بوجہ اتخذ کے مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
لغات القرآن۔
شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔
تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
گرمی محشر۔
طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
[19] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة قیامہ حاشیہ 11 صفحہ 1467۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے
Read the full tafseer →(29) یہ مذکورہ مضمون ایک نصیحت ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(بیشک یہ ) سورت۔۔ یا۔۔ اہل بیت کا وہ ایثار جو اس میں مذکور ہے (نصیحت) و عبرت ہے) مومنوں کے واسطے ، تاکہ اس کے مثل عمل کریں اور ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں (تو جس نے چاہا اختیار کیا اپنے رب کی طرف ) پہنچا دینے والی (راہ کو) طاعت خداوندی اختیار کرکے۔ (اور تم لوگ کیا چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ) (علم والا) ہے جو ہر شخص کی استعداد اور استحقاق کو جانتا ہے ، اور (حکمت والا ہے) پکا کام کرنے والا ، جو چیز چاہتا ہے حکمت کے ساتھ چاہتا ہے۔ اسی لیے بہ تقاضہ حکمت۔۔۔
(داخل کرے جسے چاہے اپنی رحمت میں) ہدایت اور توفیق کے ساتھ۔ یا۔۔ بہشت میں اپنے فضل و کرم سے۔ (اور ظالموں) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
32 The sentence, "Whenever it be Our will We can change their forms°, can have several meanings:
(1) That whenever We please We can destroy them and replace them by other people of their own kind, who will be different from them in conduct;
(2) that whenever We please We can change their forms; that is, just as We can make someone healthy and sound in body, so also We have the power to make somebody a paralytic, cause someone to be struck with facial paralysis and other to fall a victim to some disease or accident and become a cripple permanently; and
(3) that whenever We will We can recreate…
Read the full tafseer →