Explained with ayahs 23–31
اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…
Read the full tafseer →سورة الدَّهْر 33
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المدثر، حاشیہ 41۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 1، صفحہ 576)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
توفیق ایمان کے باب میں سنت الٰہی:
یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے توفیق ایمان کے باب میں مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر سے کام لیتے اور خیر و شر، حق و باطل کے درمیان امتیاز کی اس صلاحیت کی قدر کرتے ہیں جو اس نے ان کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور جس کی طرف آیات ۲-۳ میں اشارہ فرمایا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی یہ صلاحیتیں ضائع کر کے اندھے بہرے بن جاتے ہیں تو ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ ان کے لیے خدا نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور اس جہنم میں وہ اس وجہ سے…
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی تم میں سے کوئی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ہدایت کی راہ لگا لے، اپنے لئے کسی نفع کو جاری کرلے، ہاں اگر اللہ چاہے تو ایسا ممکن ہے، اس کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ صحیح ارادہ نیت پر وہ اجر ضرور عطا فرماتا ہے ' اعمال کا دارو مدار، نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی وہ نیت کرے چوں کہ وہ علیم وحکیم ہے اس لیے اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے بنابریں ہدایت اور گمراہی کے فیصلے بھی یوں ہی نہیں ہوجاتے بلکہ جس کو ہدایت دی جاتی ہے وہ واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس کے حصے میں گمراہی آتی ہے وہ حقیقتا اسی کے لائق ہوتا ہے۔ '
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان سب کو ہلاک کر کے ان کی جگہ دوسرے انسان پیدا کردیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انہیں شروع میں پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم جب چاہیں گے، ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں دوبارہ پیدا کردیں گے۔
Read the full tafseer →وما تشاءون .................... حکیما
یہ اس لئے تاکہ انسانوں کے دل یہ جان لیں کہ فاعل مختار دراصل اللہ ہے۔ وہی متصرف اور زبردستی کنٹرول کرنے والا ہے تاکہ سب دل اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے کہ اصل فاعل مختار اللہ ہے لیکن اللہ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ حق و باطل کو سمجھ سکے اور اللہ کی مشیت کے مطابق سچائی یا باطل کی طرف اپنا رخ کرسکے۔ اس کے لئے اللہ نے انسان کو علم ومعرفت بھی عطا کیا۔ اور رسول بھیج کر انسانوں کو حق و باطل کا راستہ بھی اچھی طرح سمجھایا۔ اور قرآن اور دوسری کتابیں اتار کر راستے کی نشاندہی بھی کردی۔…
Read the full tafseer →9 یعنی تمہارا چاہنا بھی اللہ کے چاہے بدون نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بندہ کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے وہ جانتا ہے کہ کس کی استعداد و قابلیت کس قسم کی ہے اسی کے موافق اس کی مشیت کام کرتی ہے۔ پھر وہ جس کو اپنی مشیت سے راہ راست پر لائے، اور جس کو گمراہی میں پڑا چھوڑ دے عین صواب و حکمت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 30{ وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ } ”اور تمہارے چاہے کچھ نہیں ہوسکتا ‘ جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔“
{ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ } ”یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“
Read the full tafseer →33 یعنی تمہارا ارادہ اور تمہارا چاہنا وہی ہوتا ہے جس کا اللہ کو پہلے ہی سے علم ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ علم انسان کو اس بات پر مجبور نہیں بناتا کہ وہ وہی کام کرے جو پہلے سے اللہ کے علم میں ہے اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة اعراف کی آیت نمبر 24 کا حاشیہ نمبر 21
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
18۔ (اس لئے اس کی مشیت بھی ہمیشہ علم اور حکمت ہی پر مبنی ہوتی ہے) (آیت) ” فمن شآء اتخذ الی ربہ سبیلا “۔ اور اس راہ ہدایت کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے ارادہ واختیار سے صحیح کام لے۔ (آیت) ” وما ..... اللہ “۔ یعنی یہ بشری ارادہ بھی حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کے ماتحت ہی ہوتا ہے، اس سے الگ اور بےنیاز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…
Read the full tafseer →وما تشاء ون الان یشاء اللہ . یعنی اے لوگو ! یا اے کافرو ! تمہاری مشیت راہ خدا پر چلنے کے متعلق ہو یا کسی
اور چیز کے متعلق۔ کسی وقت بھی اس کا وجود نہیں ہوسکتا مگر اسی وقت تمہاری مشیت کا وجود ہوگا جب خدا کی مشیت تمہاری مشیت کی موجد ہو (یعنی تمہاری مشیت خود بخود پیدا نہیں ہوسکتی ‘ تمہاری مشیت کی ہستی اور تخلیق اللہ کی مشیت پر موقوف ہے) ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی چٹکی میں ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے اس کو پھیر دیتا ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنی طاعت پر موڑ دے۔…
Read the full tafseer →اور تم بغیر اللہ کی مرضی کے کوئی بات کفر و ایمان نیکی و برائی کی نہیں چاہ سکتی اور جو تم نیکی و برائی چاہو اس سے اللہ تعالیٰ واقف اور حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →(وما تشآء ون الا ان یشآء اللہ…: مگر تمہارا چاہنا اللہ کے چاہنے کے تابع ہے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے تقدیر کے منکروں کو اسی آیت سے لاجواب کیا تھا۔ خوارج کا ایک گروہ ان کے پاس آیا اور تقدیر کے اناکر کی دلیل کے طور پر اسی سورت کی ابتدا میں سے یہ آیت پڑھی :(انا ھدینہ السبیل اما شاکراً واما کفوراً) (الدھر : 3)”یعنی ہم نے انسان کو راستہ بتادیا ہے، اب چاہے تو شکر کرنے والا بن جائے اور چاہے تو کفر کرنے والا۔“ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا، آگے پڑھتے جاؤ، آخر میں یہ آیت آئی تو فرمایا، بیشک انسان جو راستہ چاہے اختیار کرے، مگر یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ان ھذہ تذکرہ فمن شاء اتخذ۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیما۔
ان ھذہ تذکرہ، فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ ھذہ سے مراد سورت ہے تذکرہ سے مراد نصیحت ہے سبیلا سے مراد ایسا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کی طلب تک پہنچا دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے سبیلا سے مراد وسیلہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی سمت اور جنت کی طرف جانے والا راستہ ہے معنی ایک ہے تم طاعت، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ نہیں چاہ سکتے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی امر اس کے قبضہ قدرت میں ہے لوگوں کے قبضہ قدرت میں نہیں کسی کی مشیت نافذ نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آگے ہوسکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت مقدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
قولہ تعالیٰ آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ۔
قدریہ پر لعنت کرنا
9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قدریہ پر لعنت کرے۔ حالانکہ اس نے کی ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ قدریہ پر لعنت کرے حالانکہ اس نے ان پر لعنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے حالانکہ اس نے اس پر کی ہے ؟ اور نہ انہوں نے ایسا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہ انہوں نے اس طرح قبول کیا جیسے فرشتوں نے کہا۔ اور انہوں نے ایسا نہیں کیا جیسے انبیاء (علیہم السلام) نے کہا اور نہ انہوں نے ایسا کیا جیسے انبیاء (علیہم السلام) نے کہا اور نہ انہوں نے ایسا کیا جیسے جنت والوں نے کہا اور انہوں نے ایسا…
Read the full tafseer →[وَمَا تَشَاۗءُوْنَ : اور تم لوگ کیا چاہو گے ] [اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ جو ] [يَّشَاۗءَ اللّٰهُ : چاہے گا اللہ ] [ان اللّٰهَ كَان : بیشک اللہ ہے ] [عَلِيْمًا حَكِيْمًا : جاننے والا حکمت والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
﴿اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ1ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا 0029﴾ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے) ۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور اللہ کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں چاہ سکتے) جو وہ چاہے گا وہی چاہو گے جو وہ چاہے گا وہی ہوگا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًاۗۖ0030﴾ (بیشک اللہ علیم ہے حکیم ہے) ﴿ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ 1ؕ﴾ (وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے) ﴿ وَ الظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا (رح) 0031﴾ (اور جو ظالم ہیں ان کے لیے اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے) ۔
وھذ آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
21:۔ ” ان ھذہ “ یہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ عبرت و نصیحت کے لیے کافی ہے۔ اب جو چاہے اس کو مان کر اور اس پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کا راستہ یعنی اسلام اور توحید کا راستہ اختیار کرلے۔ ” وما تشاءون “ لیکن تمہارا ارادہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے صرف وہی ہدایت پر آئے گا جس کے ہدایت پر آنے کے ساتھ ارادہ خداوندی متعلق ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ صرف ان لوگوں کی ہدایت سے متعلق ہوتا ہے جو منیب ہوں اور انصاف و اخلاص کے ساتھ راہ ہدایت کے طالب ہوں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” ویھدی الیہ من ینیب “ (شوری رکوع 2) ۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔
Read the full tafseer →وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِــيْمًا حَكِــيْمًا 30 ۤ ۖ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ترکیب : یذرون معطوف علیٰ یحبون وکلاء ھما خبران یوما مفعول یذرون وراء ھم ظرف لہ اذاشئنا شرط ومفعول شئنا محذوف یدل علیہ الجواب وھوبدلنا الاان یشاء اللہ ای الاوقت مشیۃ اللہ والافی حال مشیۃ اللہ والظالمین منصوب بفعل محذوف یفسرہ ما بعدہ ای اعد۔
تفسیر : اس کے بعد تین چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ فقال واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلاً کہ صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کرو۔ (2) ومن اللیل فاسجدلہ اور رات میں اس کو سجدہ کیا کرو۔ (3) وسبحہ لیلاً طویلاً اور بڑی رات سے اس کی تسبیح اور تقدیس کیا کر۔ ان آیات میں مفسرین کے دو قول ہیں : اول یہ کہ ان آیات میں نماز پڑھنا مراد ہے۔ بکرۃ سے صبح کی نماز اور اصیلاً سے ظہر و عصر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ ط وَالظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الدہر : 30، 31)
(اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ تعالیٰ بڑا علیم و حکیم ہے۔ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ )
توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کتاب نصیحت و ہدایت بنایا اور نبی کریم ﷺ کو ہادی بنا کر بھیجا اور اس ہدایت کو قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور شعور بخشا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ صبر سے کام نہیں لیتے حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم سمجھتے ہیں۔
صبر کا معنٰی یہ ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ صبر نہ کرنے والا شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور ترقی کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس لیے عجلت کرتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی مشکلات نہیں ہوتیں اگر وہ قیامت کی مشکلات کو اپنے سامنے رکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی مشکلات آخرت کی مصیبتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس کے ذہن میں یہ عقیدہ پختہ ہوجائے۔ اسے صبر…
Read the full tafseer →30 : وَمَاتَشَآ ئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآ ئَ اللّٰہُ (اور بدوں اللہ تعالیٰ کے چاہے تم لوگ کوئی بات چاہ نہیں سکتے) ماتشائون تم چاہ نہیں سکتے اللہ تعالیٰ کی طرف راستہ اختیار کرنا۔
قراءت : مکی، شامی، ابوعمرو نے یشائون پڑھا ہے۔
ط الا ان یشاء اللہ۔ یہ ظرفیت کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ ای الا وقت مشیۃ اللہ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو اس کیلئے چاہیں گے جس کے متعلق وہ جانتے ہیں۔ کہ اس نے اس راستہ کو اختیار وپسند کرلیا۔ ایک قول یہ ہے یہ اطاعت و عصیان اور کفر و ایمان میں عموم مشیت کو ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ اس صورت میں یہ معتزلہ کے خلاف ہم اہل سنت کی دلیل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ…
Read the full tafseer →29 ۔” ان ھذہ “ یعنی سورت ۔ ” تذکرۃ “ وعظ و نصیحت ہے۔” فمن شاء اتخذالی ربہ سبیلا “ عبادت کے لئے وسیلہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…
Read the full tafseer →(وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ) اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو۔ بیشک اللہ کی مشیت نافذ ہے۔ ( اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا) بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے، ہدایت یاب کی ہدایت اور گمراہ کی گمراہی میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–31
آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟
قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔
مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…
Read the full tafseer →40 ۔ مشیت الٰہی کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بیشک اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے، پس وہی ہے جو اپنے علم بےنہایت اور اپنی حکمت بےغایت سے ٹھیک ٹھیک اور پوری طرح جانتا ہے کہ کس کے لئے کب اور کیا مناسب ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس کا ہر کام اور ہر حکم و ارشاد سراسر علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور وہ حق و ہدایت کی دولت سے انہی کو نوازتا ہے، جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرتے اور ہدایت چاہتے ہیں سو اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں مشیت ومرضی اسی وحدہ لاشریک کی چلتی ہے اور ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے
تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
آیات 23 تا 31
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔
اسم ذات کے ذکر کا حکم۔
یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 1 کیونکہ بندہ کا چاہنا اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تابع ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کی قابلیت و استعداد کس قسم کی ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ اسے نیکی کی توفیق دیتا ہے یا برائی کے راستہ پر چلتے رہنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔2 یعنی اللہ تعالیٰ کسی بندے کے حق میں جو فیصلہ فرماتا ہے وہ اطل ٹپ نہیں ہوتا اور نہ اس میں کسی طرح کی بےانصافی پائی جاتی ہے بلکہ وہ سراسرعلم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(76:30) وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ : ما نافیہ۔ تشاء ون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ الا حرف استثناء ان مصدریہ۔ تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے کہ اللہ خود چاہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 76:29 متذکرۃ الصدر۔
ان اللہ کان علیما حکیما : ان حرف تحقیق اللہ منصوب بوجہ عمل ان کان کا اسم ہے۔ علیما حکیما کان کی خبر ہیں۔ بیشک اللہ بڑا علم و حکیم ہے۔
علیم علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے خوب جاننے والا۔ واؤ عاطفہ محذوف ہے حکیما کا عطف علیما پر ہے۔ حکیما حکمۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے حکمت والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
لغات القرآن۔
شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔
تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
گرمی محشر۔
طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی…
Read the full tafseer →[20] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مدثر حاشیہ 20 صفحہ 1458۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے
Read the full tafseer →(30) اور اللہ تعالیٰ کے بدلے چاہے تم لوگ کوئی بات نہیں چاہ سکتے بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی پوری سورت ایک تذکرہ اور نصیحت ہے لہٰذا جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی راہ لگ لے اور اس تک پہنچنے والی بٹیا اور سڑک پر چلے آگے اپنی مشیت کا اظہار فرمایا یعنی تمہارا چاہنا بھی بدون اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے وہ ہر شخص کی استعداد اور قابلیت سے بخوبی واقف ہے اس کی حکمت اگر کسی کے لئے ہدایت کی مقتضی ہوتی ہے تو اس کی رہنمائی فرماتے ہیں اور بعض لوگوں کو اپنی مصلحت اور حکمت سے گمراہ پڑا رہنے دیتے ہیں اور چونکہ وہ بڑے علم اور بڑی حکمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(بیشک یہ ) سورت۔۔ یا۔۔ اہل بیت کا وہ ایثار جو اس میں مذکور ہے (نصیحت) و عبرت ہے) مومنوں کے واسطے ، تاکہ اس کے مثل عمل کریں اور ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں (تو جس نے چاہا اختیار کیا اپنے رب کی طرف ) پہنچا دینے والی (راہ کو) طاعت خداوندی اختیار کرکے۔ (اور تم لوگ کیا چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ) (علم والا) ہے جو ہر شخص کی استعداد اور استحقاق کو جانتا ہے ، اور (حکمت والا ہے) پکا کام کرنے والا ، جو چیز چاہتا ہے حکمت کے ساتھ چاہتا ہے۔ اسی لیے بہ تقاضہ حکمت۔۔۔
(داخل کرے جسے چاہے اپنی رحمت میں) ہدایت اور توفیق کے ساتھ۔ یا۔۔ بہشت میں اپنے فضل و کرم سے۔ (اور ظالموں) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…
Read the full tafseer →33 Three things have been said in these verses:
(1) That whoever wills may adopt the way to his Lord;
(2) that one's willing to do a thing is not enough unless Allah so wills; and
(3) that Allah is All-Wise, All-Knowing. If one considers these three things deeply one can fully well understand the relationship between man's freedom of choice and Allah's Will, and it helps to remove all the confusions from the people's minds about the question of destiny.
The first verse shows that in this world the authority granted to man is only to the extent that he may decide to adopt any one of the…
Read the full tafseer →