Al-Insaan 76:31

Al-Insaan · from ayah 31

76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ ؕ— وَالظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ۟۠يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِىۡ رَحۡمَتِهٖ‌ؕ وَالظّٰلِمِيۡنَ اَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He admits whom He wills into His mercy; but the wrongdoers - He has prepared for them a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:31

اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ﻇالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور یہ جو ظالم لوگ ہیں ان کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت (کے دائرے) میں داخل فرما لیتا ہے، اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ظالم لوگ، اس نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی (ہولناک اور) دردناک عذاب

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ داخل کرے گا اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا۔ اور رہے ظالم تو ان کے لیے اس نے بہت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He admits to His Mercy whomsoever He pleases. As for the wrong-doers, He has prepared for them a grievous chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He admits whomsoever He wills to His mercy. As for the wrongdoers, He has prepared for them a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

He admits whomsoever He wills to His mercy. As for the wrongdoers, He has prepared for them a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will admit to His mercy whom He wills and as for the wrongdoers -- He has prepared a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He maketh whom He will to enter His mercy, and for evil-doers hath prepared a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He admits whom He wills into His mercy; but the wrongdoers - He has prepared for them a painful punishment.

— Saheeh International

He admits to His mercy whomever He wants. For the unjust He has prepared a painful punishment.

— Muhammad Sarwar

He makes whom He pleases to enter into His mercy; and (as for) the unjust, He has prepared for them a painful chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

He maketh whomsoever He listeth to enter His mercy. And the wrong-doers! for them He hath gotten ready a torment afflective.

— Abdul Majid Daryabadi

He will admit to His Mercy whom He will; But the wrong-doers,- for them has He prepared a grievous Penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–31

اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 34 اس کی تشریح ہم اسی سورة کے دیباچہ میں کرچکے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 2، صفحہ نمبر 577)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا، یعنی اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوگا کہ جنت کی یہ مخیر العقول نعمتیں سب تمہارے ان اعمال کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں کئے تھے اور تمہارے عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگئے۔ یہ کلمات ان کو بطور مبارکباد کے کہے جائیں گے۔ اہل عشق و محبت سے پوچھئے تو جنت کی ساری نعمتیں ایک طرف اور رب العالمین کا یہ فرمانا ایک طرف سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ اس میں حق تعالیٰ ان کو اپنی رضا کامل کی سند دے رہے ہیں۔ عام اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد خاص ان انعامات کا ذکر کیا گیا جو نبی کریم ﷺ پر مبذول ہوئے ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

توفیق ایمان کے باب میں سنت الٰہی: یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے توفیق ایمان کے باب میں مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر سے کام لیتے اور خیر و شر، حق و باطل کے درمیان امتیاز کی اس صلاحیت کی قدر کرتے ہیں جو اس نے ان کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور جس کی طرف آیات ۲-۳ میں اشارہ فرمایا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی یہ صلاحیتیں ضائع کر کے اندھے بہرے بن جاتے ہیں تو ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ ان کے لیے خدا نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور اس جہنم میں وہ اس وجہ سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان سب کو ہلاک کر کے ان کی جگہ دوسرے انسان پیدا کردیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انہیں شروع میں پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم جب چاہیں گے، ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں دوبارہ پیدا کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یدخل ............................ الیما غرض اللہ کی مشیت بےقید ہے ، جس طرح چاہے فیصلہ کردے ۔ اگر اللہ چاہے تو کسی کو بھی اپنی رحمت میں داخل کردے۔ انسانوں میں سے ہو ، جو بھی اس کی رحمت میں داخل ہونے کی التجا کرے۔ اس کی اطاعت پر اللہ کی مدد طلب کریں۔ ہدایت کی توفیق کے طلبگار ہوں جبکہ ظالموں کے لئے اس نے عذاب تیار کررکھا ہے ، جو بہت درد ناک ہے اور اللہ نے ان کو اس جہاں میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ وہ عذاب الیم تک جا پہنچیں۔ سورت کا یہ خاتمہ اس کے آغاز سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں آزمائش کا آخری انجام بتلایا گیا ہے۔ جس کے لئے اللہ نے انسان کو نطفہ امشاج (مخلوط نطفے) سے پیدا کیا ہے جس کے لئے اللہ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جن کی استعداد اچھی ہوگی ان کو نیکی پر چلنے کی توفیق دے گا۔ اور اپنی رحمت و فضل کا مستوجب بنائے گا،

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31{ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ } ”وہ داخل کرے گا اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا۔“ ظاہر ہے دنیا و آخرت کا کوئی کام بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ہم اللہ کے حکم اور اذن کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی شخص ایک کام کرنے پر بظاہر قادر بھی ہو تو وہ اس کام کو اس وقت تک انجام نہیں دے سکتا جب تک اس کی مشیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی شامل نہ ہو۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح ہم خود اللہ کی مخلوق ہیں اسی طرح ہمارے تمام اعمال بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ سورة الصَّافّات میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ۔ } کہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 یعنی جو انسان اس دنیا میں اپنے اختیار کا صحیح استعمال کرے گا اور کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح اپنے آپ کو اللہ کا تابع فرمان رکھے گا۔ اسے تو اللہ اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا اور جو اس اختیار کا غلط استعمال کرے گا اور اللہ کا سرکش اور نافرمان بن کر زندگی گزارے گا اسے مرنے کے ساتھ ہی دکھ دینے والے عذاب سے دوچار کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم سے مراد سیاق میں حسب محاورۂ قرآنی کافرہی ہیں، جنہوں نے اپنے ارادہ واختیار سے صحیح کام ہی نہ لیا۔ اے الکافرین (مدارک) اے المشرکین (معالم) وھم الکافرون (جلالین) (آیت) ” یدخل ..... رحمتہ “۔ اور رحمت میں داخل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا سینہ ایمان واسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–31

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یدخل من یشاء فی رحمتہ . اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ اپنی جنت میں داخل کرتا ہے ‘ رحمت سے مراد ہے جنت کیونکہ آخرت میں جنت ہی محل رحمت ہے۔ رحمت میں داخل کرنے کی مشیت اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ دل میں ایمان اور یقین ڈال دیتا ہے اور سر میں اپنی محبت پیدا کردیتا ہے اور طاعت کی توفیق دے دیتا ہے اور اطاعت پر قائم رکھتا ہے اور کفر و معصیت سے نفرت پیدا کردیتا ہے۔ والظلمین اعدلھا عذابا الیما . الظّٰلمین فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اس کا عطف یُدْخِل پر ہے اور دونوں جملوں میں سے ما تشاء ون الاّ ان یشاء اللہ کے مضمون کی تاکید ہوتی ہے ‘ واللہ اعلم۔ الحمد اللہ ! سورة الدہر ختم ہوئی ‘ بعونہ و منہ تعالیٰ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کہ تم بغیر اس کی مشیت کے کسی چیز کو اختیار نہیں کرسکتے جو دین اسلام کا اہل ہوتا ہے وہ اس سے سرفرازی عطا کرتا ہے اور کافروں کے لیے اس نے آخرت میں قریب ہی دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یدخل من یشآء فی رحمتہ :”وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے“ مالک اپنی چیز جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کوئی اسے پوچھ نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا، (لایسئل عما یفعل وھو یسئلون) (الانبیائ : 23)”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ (2) والظلمین اعدلھم عذاباً الیماً : یعنی اس نے ظالموں کے لئے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔ یہاں ”الظلمین“ سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ سب سے بڑے ظالم وہی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ان الشرک لظلم عظیم) (لقمان : 13)”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم انھی کو رکھتا ہے جو ظالم ہیں، جیسے فرمایا :(یضل بہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یدخل من یشاء فی رحمتہ، والظالمین اعدلھم عذاباالیما۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کرتے ہوئے جنت میں داخل فرما دیتا ہے، ظالمون کو عذاب دیتا ہے، ظالمین کو نصب فعل مضمر یعذب سے دی گئی ہے زجاج نے کہا، ظالمین کو نصب دی گئی ہے کیونکہ اس کا ماقبل منصوب ہے یعنی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے اور ظالمین یعنی مشرکوں کو عذاب دیتا ہے۔ اعدلھم یہ فعل مضمر کی تفسیر ہے جس طرح شاعر نے کہا، اصبحت لا احمل السلاح ولا، املک راس البعیر ان نفرا۔ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں مسلح نہ تھا اور اونٹ کا مالک بھی نہ تھا اگر وہ بھاگ جائے۔ والذئب اخشاہ ان مررت بہ، وحدی واخشی الریاح والمطر۔ میں بھیڑیے سے ڈرتا ہوں اگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–31

قولہ تعالیٰ آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ۔ قدریہ پر لعنت کرنا 9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قدریہ پر لعنت کرے۔ حالانکہ اس نے کی ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ قدریہ پر لعنت کرے حالانکہ اس نے ان پر لعنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے حالانکہ اس نے اس پر کی ہے ؟ اور نہ انہوں نے ایسا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہ انہوں نے اس طرح قبول کیا جیسے فرشتوں نے کہا۔ اور انہوں نے ایسا نہیں کیا جیسے انبیاء (علیہم السلام) نے کہا اور نہ انہوں نے ایسا کیا جیسے انبیاء (علیہم السلام) نے کہا اور نہ انہوں نے ایسا کیا جیسے جنت والوں نے کہا اور انہوں نے ایسا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُّدْخِلُ : وہ داخل کرتا ہے ] [مَنْ يَّشَاۗءُ : اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] [فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں ] [وَالظّٰلِمِيْنَ : اور ظلم (شرک) کرنے والوں کو ؟] [اَعَدَّ لَهُمْ : اس نے تیار کیا ان کے لیے ] [عَذَابًا اَلِيْمًا : ایک دردناک عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–31

﴿اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ1ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا 0029﴾ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے) ۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور اللہ کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں چاہ سکتے) جو وہ چاہے گا وہی چاہو گے جو وہ چاہے گا وہی ہوگا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًاۗۖ0030﴾ (بیشک اللہ علیم ہے حکیم ہے) ﴿ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ 1ؕ﴾ (وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے) ﴿ وَ الظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا (رح) 0031﴾ (اور جو ظالم ہیں ان کے لیے اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے) ۔ وھذ آخر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–31

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22:۔ یدخل من یشاء یہ مومنوں کے لیے بشارت ہے وہ جسے چاہتا ہے یعنی جو اس کی طرف انابت کرتے ہیں ان کو اپنی رحمت میں داخل فرما لیتا ہے اور ان کو قبول حق کی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطاء فرما دیتا ہے۔ ” والظالمین اعد لہم “ یہ کافروں کے لیے تخویف ہے اور کفار و مشرکین کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ سورة الدہر میں آیات توحید۔ 1 ۔ واذکر اسم ربک۔ تا۔ وسبحہ لیلا طویلا۔ نفی شرک فی العبادۃ۔ سورة الدہر ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَاۗءُ فِيْ رَحْمَتِہٖ۝ 0 ۭ وَالظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِــيْمًا۝ 31 ۧ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–31

ترکیب : یذرون معطوف علیٰ یحبون وکلاء ھما خبران یوما مفعول یذرون وراء ھم ظرف لہ اذاشئنا شرط ومفعول شئنا محذوف یدل علیہ الجواب وھوبدلنا الاان یشاء اللہ ای الاوقت مشیۃ اللہ والافی حال مشیۃ اللہ والظالمین منصوب بفعل محذوف یفسرہ ما بعدہ ای اعد۔ تفسیر : اس کے بعد تین چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ فقال واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلاً کہ صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کرو۔ (2) ومن اللیل فاسجدلہ اور رات میں اس کو سجدہ کیا کرو۔ (3) وسبحہ لیلاً طویلاً اور بڑی رات سے اس کی تسبیح اور تقدیس کیا کر۔ ان آیات میں مفسرین کے دو قول ہیں : اول یہ کہ ان آیات میں نماز پڑھنا مراد ہے۔ بکرۃ سے صبح کی نماز اور اصیلاً سے ظہر و عصر کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–31

وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ ط وَالظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الدہر : 30، 31) (اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ تعالیٰ بڑا علیم و حکیم ہے۔ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ) توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کتاب نصیحت و ہدایت بنایا اور نبی کریم ﷺ کو ہادی بنا کر بھیجا اور اس ہدایت کو قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور شعور بخشا اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–31

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ صبر سے کام نہیں لیتے حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم سمجھتے ہیں۔ صبر کا معنٰی یہ ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ صبر نہ کرنے والا شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور ترقی کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس لیے عجلت کرتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی مشکلات نہیں ہوتیں اگر وہ قیامت کی مشکلات کو اپنے سامنے رکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی مشکلات آخرت کی مصیبتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس کے ذہن میں یہ عقیدہ پختہ ہوجائے۔ اسے صبر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت اسکی رحمت سے : 31 : یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہے داخل کرلیتا ہے) اس سے مراد مومن ہیں۔ فِیْ رَحْمَتِہٖ (اپنی رحمت میں) اپنی جنت میں کیونکہ جنت اس کی رحمت ہی سے ملے گی۔ یہ معتزلہ کے خلاف ہماری دلیل ہے کیونکہ ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمام کو اپنی رحمت میں داخل کرے۔ کیونکہ اس نے تمام کا ایمان چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں خبر دی کہ وہ جس کو چاہے گا اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اسی ہی کی ذات کو علم ہے کہ وہ ہدایت کو اختیار کرے گا۔ وَالظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کیلئے) یہاں ظالم سے کافر مراد ہیں۔ کیونکہ انہوں نے عبادت کو غلط مقام پر استعمال کیا۔ یہ حالت نصبی میں واقع ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30 ۔” وما تشاء ون “ ابن کثیر، ابن عامر اور ابو عمرو نے ” یشائو ون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” الاان یشاء اللہ “ یعنی تم نہیں چاہتے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ اس لئے کہ امر اسی کی طرف ہے۔ ” ان اللہ کان علیما حکیما “…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–31

23۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

( يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَاۗءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ) وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ پس اسے اپنی عنایت سے مختص کرتا ہے اسے سعادت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے اور سعادت کے راستوں کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ (وَالظّٰلِمِيْنَ ) جنہوں نے ہدایت کے بجائے شقاوت کو منتخب کیا (اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا) تو ان کے ظلم اور عدوان کی پاداش میں ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–31

آیا کفار کو کھلانا جائز ہے ؟ قول باری ہے (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) ابو وائل سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے کچھ مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو حکم دیا تھا پھر درج بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس زمانے میں قیدی مشرک ہوتے تھے اس لئے تمہارا مسلمان بھائی اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اسے کھانا کھلائو۔ حسن سے (واسیرا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ قیدی مشرکین ہوتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے اسیر وہ شخص ہے جو قید خانے میں ہوتا ہے۔ ابن جبیر اور عطاء کا قول ہے کہ آیت میں اہل قبلہ یعنی مسلمان اور غیر مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41 ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سرفرازی اسی کی توفیق و عنایت سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل فرماتا ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے کہ وہ ہر کسی کی صلاحیت و استعداد سے بھی پوری طرح واقف ہے اور سب کی نیتوں اور ارادوں کو بھی وہ پویر طرح جانتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ہر کسی کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے، جس حق و ہدایت کی توفیق سے انہی کو نوازتا ہے جو اس کی طر سے بخشی گئی قدرتوں اور عنایتوں کی قدر کرتے ہیں اور اس کے بخشے ہوئے قوائے سمع و بصر، صحیح کام لیتے ہیں اور تمیز خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز سے متعلق اس قوت وقدرت کی قدر و حفاظت کرتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–31

اللہ کا پیغام نبی ﷺ کیلئے تشریح : یہاں اللہ ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے۔ کہ ہم نے قرآن تم پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ “ دراصل یہ جواب کفار کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ باقی کئی قسم کے اعتراضات کے ساتھ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے تھے کہ قرآن ایک دم پورے کا پورا نازل کیوں نہیں ہوا۔ ہو نہ ہو یہ تو محمد ﷺ خود ہی اپنے پاس سے بنا بنا کر بتا رہے ہیں ان کو نہ تو شعور تھا قرآن کا، نہ رسول ﷺ کا، اور نہ ہی اللہ کا بس صرف مخالفت پر اڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی خاص حکمت کی نشانی ہے کہ اس نے پورا قرآن پاک یکدم نازل نہیں فرمایا بلکہ انسانی زندگی کی مختلف ضروریات مسائل اور پریشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 1 کیونکہ بندہ کا چاہنا اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تابع ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کی قابلیت و استعداد کس قسم کی ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ اسے نیکی کی توفیق دیتا ہے یا برائی کے راستہ پر چلتے رہنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔2 یعنی اللہ تعالیٰ کسی بندے کے حق میں جو فیصلہ فرماتا ہے وہ اطل ٹپ نہیں ہوتا اور نہ اس میں کسی طرح کی بےانصافی پائی جاتی ہے بلکہ وہ سراسرعلم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:31) من یشائ : من موصولہ یشاء اس کا صلہ اس کا فاعل اللہ ہے ۔ وہ جسے اللہ چاہتا ہے۔ من یشاء مفعول ہے یدخل کا۔ اور اس کا فاعل بھی اللہ ہے۔ رحمتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع بھی اللہ ہے ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے۔ رحمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک جنت ہی ہے۔ (روح المعانی۔ السیر التفاسیر، تفسیر مظہری) کیونکہ آخرت میں جنت ہی محل رحمت ہے۔ (تفسیر مظہری) والظلمین اعدلہم عذابا الیما۔ واؤ عاطفہ۔ الظلمین مفعول فعل محذوف کا ہے ای ویکفا الظلمین اور وہ ظالموں کو دھتکارتا ہے۔ یکفا کا عطف یدخل پر ہے۔ حسب محاورہ قرآنی سیاق میں ظالم سے مراد کا فرہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–31

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–31

گرمی محشر۔ طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[21] ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی قدر نہیں کی۔ اسی طرح انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور خود کو جہنم کا مستحق بنایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–31

ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو سرکش ظالم ہیں ان کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ یعنی جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے اور جس کو چاہے کفر وظلم میں چھوڑ دے۔ بہرحال جو اس کی مشیت اور مصلحت کے ماتحت اس کی رحمت میں داخل ہوجائیں وہ ہر اعتبار سے کامیاب اور زمرہ ابرار میں شامل ، اور جو اپنی سرکشی اور ظلم و شرک کی وجہ سے اس کی رحمت سے محروم ہوگئے ان کے لئے دردناک عذاب مہیا ہے۔ تم تفسیر سورہو الدھر اور سوروہ الانسان

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–31

ف 4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 29–31

(بیشک یہ ) سورت۔۔ یا۔۔ اہل بیت کا وہ ایثار جو اس میں مذکور ہے (نصیحت) و عبرت ہے) مومنوں کے واسطے ، تاکہ اس کے مثل عمل کریں اور ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں (تو جس نے چاہا اختیار کیا اپنے رب کی طرف ) پہنچا دینے والی (راہ کو) طاعت خداوندی اختیار کرکے۔ (اور تم لوگ کیا چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ) (علم والا) ہے جو ہر شخص کی استعداد اور استحقاق کو جانتا ہے ، اور (حکمت والا ہے) پکا کام کرنے والا ، جو چیز چاہتا ہے حکمت کے ساتھ چاہتا ہے۔ اسی لیے بہ تقاضہ حکمت۔۔۔ (داخل کرے جسے چاہے اپنی رحمت میں) ہدایت اور توفیق کے ساتھ۔ یا۔۔ بہشت میں اپنے فضل و کرم سے۔ (اور ظالموں) یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–31

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاۗءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا ([ It will be said to them,] This is a reward for you, and your effort has been appreciated....76:22). Allah will address the inmates of Paradise once they have entered Paradise, and will announce to them that the amazing bounties are granted to them as a reward for their good deeds they had done in the world, and their deeds have been appreciated by Allah. These expressions will be made to them by way of congratulation. For the people of love, the Divine congratulatory expressions will outweigh all the other blessings of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 In this verse "wrong doers" imply the people whom the Revelations of Allah and the teachings of His Prophet may reach, yet they deliberately and consciously decide that they would not obey and follow them. This also includes those unjust people who may plainly say that they do not accept the Revelation as God's Revelation and the Prophet as God's Prophet, or that they do not believe in God at all, and also those wicked people who may not refuse to believe in God and the Prophet and the Qur'an, but they are resolved not to obey and follow them. As a matter of fact, both these groups are…

Read the full tafseer →