76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کیا انسان پر لامتناہی زمانے میں ایک ایسا وقت (بھی) آچکا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ؟

[1] اس لامتناہی زمانے میں جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا، ایک طویل مدت ایسی گزری ہے جب انسان کا کچھ نام و نشان نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور طے کر کے نطفے کی شکل میں آیا اور یہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا، تاکہ ہم اسے آزمائیں، پھر ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنادیا،

[2] ایک مخلوط نطفے سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے مرکب نطفوں سے مل کر ہوئی ہے۔ [3] یعنی نطفے سے جما ہوا خون، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ اس طرح کئی طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اسے ہوش گوش رکھنے والی ہستی بنادیا۔
Ayahs 76:3–6

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کو راہ دکھا دی، (اب) خواہ وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

یقینا ہم نے کفر کرنے والوں کے لئے زنجیریں اور طوق اور (دوزخ کی) دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

ہاں نیک لوگ (آخرت میں ایسی شراب کے) جام نوش کریں گے جس میں کافور (کے پانی) کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ (کافور کے پانی کا ایک) چشمہ (ہوگا) جس کا پانی اللہ کے (خاص) بندے پئیں گے (اور جہاں چاہیں گے بسہولت) اس کی شاخیں نکال لیں گے۔

[4] '' راہ دکھانے '' سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :۔ (ا) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔ (ب) ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو انسان خواہ کتنی ہی تھپکیاں دے کر سلائے اور اس کو بےحس بنانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کرے لیکن وہ اسے بالکل فنا کردینے پر قادر نہیں ہے۔ وہ دنیا میں ڈھیٹ بن کر اپنے آپ کو قطعی بےضمیر ثابت کرسکتا ہے۔ (ج) انسان کے اپنے وجود میں اور اس کے گردوپیش زمین سے لے کر آسمان تک ساری کائنات میں ہر طرف ایسی بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو خبر دے رہی ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کے بغیر نہیں ہوسکتا نہ بہت سے اللہ اس کارخانہ ہستی کو بنانے والے اور چلانے والے ہوسکتے ہیں۔ (د) انسان کی اپنی زندگی میں، اس کی ہم عصر دنیا میں اور اس سے پہلے گزری ہوئی تاریخ کے تجربات میں بیشمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں اور آتے رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک بالاتر حکومت اس پر اور ساری کائنات پر فرماں روائی کر رہی ہے، جس کے آگے وہ بالکل بےبس ہے، جس کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے اور جس کی مدد کا وہ محتاج ہے۔ (ر) انسان کی عقل اور اس کی فطرت قطعی طور پر حکم لگاتی ہے کہ جرم کی سزا اور عمدہ خدمات کا صلہ ملنا ضروری ہے۔ اس بناء پر دنیا کے ہر معاشرے میں عدالت کا نظام کسی نہ کسی صورت میں قائم کیا جاتا ہے۔ اب اگر یہ مسلّم ہے کہ اس دنیا میں بیشمار جرائم ایسے ہیں جن کی پوری سزا تو درکنار سرے سے کوئی سزا ہی نہیں دی جاسکتی اور بیشمار خدمات بھی ایسی ہیں جن کا پورا صلہ تو کیا کوئی صلہ بھی خدمت کرنے والے کو نہیں مل سکتا تو آخرت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ (س) ان تمام ذرائع رہنمائی کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی صریح اور واضح رہنمائی کے لئے دنیا میں انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں جن میں صاف صاف بتادیا گیا کہ شکر کی راہ کون سی ہے اور کفر کی راہ کون سی ہے اور ان دونوں راہوں پر چلنے کے نتائج کیا ہیں۔ انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی یہ تعلیمات، بیشمار محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں پھیلی ہیں کہ کوئی انسانی آبادی بھی اللہ کے تصور، آخرت کے تصور، نیکی اور بدی کے فرق اور ان کے پیش کردہ اخلاقی اصولوں اور قانونی احکام سے ناواقف نہیں رہ گئی، خواہ اسے یہ معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ علم اسے انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی تعلیمات ہی سے حاصل ہوا ہے۔ [5] یعنی نیکی اور بدی کا امتیاز دے کر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا کہ چاہے نیکی کی راہ اختیار کرے چاہے بدی کی راہ پر چلے اگر نیکی کی راہ اختیار کرے گا تو وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنے گا اور اس کا انعام پائے گا اور اگر بدی کی راہ اپنائے گا تو ناشکرا بنے گا اور اس کی سزا بھگتے گا جیسے کہ آگے مذکور ہے۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ (وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں اپنی) نذریں پوری کرتے ہیں۔ اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہوگی

[6] نذر کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 182 صفحہ 113۔ یہاں ان نیک بندوں کے اوصاف میں ایفائے نذر کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی نذروں کے پورے کرنے کا اہتمام رکھتے ہیں ان سے ان نیکیوں کی بدرجہ اولیٰ اہتمام کی توقع ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہے۔
Ayahs 76:8–11

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور ان کو جتا دیتے ہیں کہ) ہم تو تم کو صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے (اس کا) نہ عوض چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

بیشک ہم کو اپنے رب کی طرف سے اس دن کا خوف ہے جو سخت اداس کرنے ولا ہوگا۔

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پس اللہ (بھی) انہیں اس دن کی آفت سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور عطا کرے گا

[7] یعنی اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کے صبر (وثبات) کے صلے میں انہیں (رہنے کو) بہشت اور (پہننے کو) ریشمی لباس عنایت کرے گا۔

[8] یعنی یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کر کے معاصی سے رکے رہے اور طاعت پر جمے رہے۔
Ayahs 76:13–20

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہ اس (بہشت) میں تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے۔ وہاں نہ ان کو (سورج کی) تپش معلوم ہوگی اور نہ (جاڑے کی) سخت سردی۔

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور ان ( درختوں) کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے پھل (ہروقت) ان کے اختیار میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں اور جب چاہیں توڑیں اور کھائیں) ۔

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے آبخورے گردش میں ہوں گے

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

اور وہ شیشے (بھی کانچ کے نہیں بلکہ) چاندی کے ہوں گے اور ان کو (کارکنان قضا وقدر نے ٹھیک جنتیوں کی ضرورت کے) اندازے کے مطابق بنایا ہوگا۔

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور (اس کے علاوہ) وہاں ان کو (ایسی شراب کے) جام بھی پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

اس (جنت) میں چشمہ ہے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور (جنتیوں کی خدمت کے لئے ایسے) لڑکے دوڑتے پھرتے ہوں گے جو سدا (لڑکے ہی) رہیں گے (اور ایسے خوبصورت ہوں گے کہ) تم ان کو (چلتے پھرتے) دیکھو تو ان کو بکھرے ہوئے موتی گمان کروگے۔

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جب تو ( بہشت کی مجموعی حالت کو) دیکھے گا تو وہاں تمہیں (ہر طرح کی) نعمت اور ایک بڑی سلطنت دکھائی دے گی۔

[9] یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا، نہ گرمی کی تکلیف ہوگی نہ سردی کی۔
Ayahs 76:21–22

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان کے اوپر کا لباس سبز ریشمی باریک اور دبیز کپڑے کا ہوگا اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور ان کا رب ان کو شراب طہور پلائے گا۔

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

(جنتیو، ) یہ ہے تمہارا صلہ کہ تمہاری سعی (آج) مقبول ہوئی۔

[10] اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور کا ذکر آیا ہے جبکہ دوسرے مقامات پر سونے کے بیان کئے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں کسی کو وہ، یا کبھی وہ کبھی یہ۔ [11] یعنی سب نعمتوں کے بعد شراب طہور (پاکیزہ شراب) کا جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا جس میں نہ سرگرانی ہوگی نہ بدبو۔ اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے۔ پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بیشک ہم ہی نے تم پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے۔

[12] تاکہ تم تھوڑا تھوڑا کر کے امت تک بسہولت پہنچاتے رہو اور لوگوں کو بھی قبول کرنے میں آسانی رہے۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

پس تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو اور ان لوگوں میں سے کسی فاسق یا ناشکرے کی بات نہ مانو

[13] یعنی تمہارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو اور عزم و ہمت کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ۔ [14] یعنی کسی بدعمل کی خاطر دین میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لئے تیار نہ ہو جو کچھ حرام و ناجائز ہے۔ اسے برملا حرام و ناجائز کہو خواہ کوئی بدکار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی خدمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو۔ نیز جو باطل عقائد ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور جو حق ہیں انہیں علانیہ حق کہو۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو،

[15] اصل الفاظ ہیں بکرۃ واصیلا بکرہ عربی زبان میں صبح کو کہتے ہیں اور اصیل کا لفظ زوال کے وقت سے لے کر غروب آفتاب تک کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ [16] جب اللہ کے ذکر کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ ہوتا ہے تو اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ چناچہ بکرہ کے تحت صبح کی نماز اور اصیل کے تحت ظہر اور عصر کی نمازیں آگئیں۔
Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل حصے میں اس کی تسبیح (وتقدیس) کیا کرو۔

[17] مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ [18] مراد تہجد کی نماز ہے۔
Ayahs 76:27–29

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بیشک یہ (بےدین) لوگ تو عاجلہ سے محبت رکھتے ہیں اور (قیامت کے آنے والے) بھاری دن کو اپنے پس پشت ڈال رکھا ہے (کہ اس کے لئے کچھ بھی تیاری نہیں کرتے) ۔

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

(دیکھو، ) ہم (ہی) نے ان کو پیدا کیا ہے اور ہم (ہی) نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے ہیں، اور ہم جب چاہیں ان جسے اور لوگ بدل کرلے آئیں۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بیشک یہ (قرآن تو) ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے۔

[19] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة قیامہ حاشیہ 11 صفحہ 1467۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم (کچھ بھی) نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[20] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مدثر حاشیہ 20 صفحہ 1458۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

[21] ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی قدر نہیں کی۔ اسی طرح انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور خود کو جہنم کا مستحق بنایا۔