77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 77:1

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہواؤں کی جو پے درپے بھیجی جاتی ہیں،

Ayah 77:2

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر زور پکڑ کر تیز ہوجاتی ہیں۔

Ayah 77:3

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلا دیتی ہیں۔

Ayah 77:4

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر (ان کو) پھاڑ کر ایک دوسرے سے جدا کردیتی ہیں،

Ayah 77:5

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر (لوگوں کے دلوں میں یاد الٰہی کا) القا کرتی ہیں۔

Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

(اتمام) حجت کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر ،

[1] ہوا شرط زندگی ہے اور باران رحمت لاتی ہے۔ کبھی یہی ہوا آندھی بن کر نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہواؤں میں دونوں باتیں ہیں۔ کبھی وہ رحمت ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے بندوں پر اپنی حجت پوری کرتا ہے یعنی ان لوگوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے جو غفلت میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور کبھی وہ عذاب اور زحمت ہیں کہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو ڈراتا ہے۔
Ayahs 77:7–9

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

(غرض ہم کو ان ہواؤں کی قسم ہے) کہ تم لوگوں سے جو (قیامت) کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور (پورا) ہو کر رہے گا۔

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے۔

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔

[2] یہ قسم بھی اسی نوع کی ہے جس طرح سورة ذاریات میں ہواؤں کی قسم عذاب اور جزاو سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة ذاریات حواشی 4-5 اوراقسام القرآن برصفحہ 1062۔
Ayah 77:10

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑائے جائیں گے۔

[3] یعنی روئی کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
Ayahs 77:11–17

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب سب پیغمبر (وقت معین پر) جمع کئے جائیں گے (اس وقت سمجھو کہ قیامت واقع ہوگئی) ۔

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

(لیکن یہ واقعات) کس دن کے لئے ملتوی ہیں ؟

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

(یہ ملتوی ہیں) فیصلے کے دن کے لئے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم کیا سمجھے کہ وہ فیصلے کا دن ہے کیا ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن (قیامت کے) جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہے۔

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر (اسی طرح) ان کے پیچھے پچھلوں کو چلتا کریں گے۔

[4] پیغمبروں کا جمع کیا جانا ان کا اپنی اپنی امت کے متعلق بیان دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام انہوں نے لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
Ayah 77:18

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔

[5] اشارہ ہے قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قوموں کی طرف جن کی سرگزشتیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تاریخ اس بات کی مسلسل شہادت دے رہی ہے کہ روز آخرت اور جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کو ہم نے ہلاک کر مارا تو آخر انہی کی روش پر چلنے والے دورحاضر کے مجرموں کے بارے میں ہماری سنت کیوں بدل جائے ؟
Ayah 77:19

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔

[6] یہاں یہ آیت اس معنی میں ارشاد ہوئی ہے کہ روز آخرت کے جھٹلانے والوں کا جو انجام دنیا میں ہوا یا ہوگا وہ ان کی اصل سزا نہیں ہے۔ اصل سزا تو ان کو قیامت کے دن ملے گی جو ان کے لئے تباہی کا دن ہوگا۔
Ayah 77:20

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

(لوگو، ) کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

[7] یعنی منی سے۔
Ayahs 77:21–23

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا۔

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک مقررہ وقت تک۔

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

تو (دیکھو، ) ہم اس پر قادر تھے، بس ہم بہت اچھی قدرت رکھتے ہیں۔

[8] یعنی رحم مادر میں۔
Ayahs 77:24–25

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا

[9] یعنی جس خالق نے حقیر پانی کی ایک بوند سے تمہیں انسان کی شکل میں بنا کھڑا کیا اس کے لئے تمہارے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو تمہیں پیدا کرنا کیوں ناممکن ہوگا ؟ ایک دن آئے گا کہ تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے اور وہ دن روز آخرت کو جھٹلانے والوں کے لئے تباہی کا دن ہوگا۔
Ayahs 77:26–27

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں اور مردوں کو

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس میں اونچے اونچے پہاڑ گاڑ دئیے اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا۔

[10] زمین کا زندوں کی سمیٹنے والی ہونا تو ظاہر ہے کہ انسان زندگی بھر اس پر رہتا بستا ہے، اور مردوں کو سمیٹنے والی یوں کہ موت کے بعد انسان اس میں دفن ہوتا ہے اور جو مردے نہیں بھی دفن ہوتے ان کے بھی اجزا آگ سے جلنے یا پانی میں ڈوبنے کے بعد بہرحال کسی نہ کسی واسطے اسی زمین ہی میں جذب ہوتے ہیں۔
Ayahs 77:28–30

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

(اس دن منکروں کو حکم دیا جائے گا کہ) چلو (اب) اس (عذاب) کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف۔

[11] یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے احاطہ قدرت کے اتنے بدیہی شواہد کو دیکھتے ہوئے روز قیامت کو جھٹلاتے ہیں اس دن ان کے لئے تباہی ہے۔
Ayahs 77:31–33

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

جس میں نہ (ٹھنڈی) چھاؤں ہے اور نہ وہ آگ کی لپٹ سے بچاتا ہے۔

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

یقینا وہ آگ محل جیسے (بڑے بڑے) انگارے پھینکے گی

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

(جو اچھلتے ہوئے یوں دکھائی دیں گے) گویا وہ زرد اونٹ ہیں (جو اچھل کود کر رہے ہیں) ۔

[12] سایہ سے مراد معروف سایہ نہیں بلکہ دھوئیں کا سایہ ہے جیسا کہ سورة واقعہ (آیات 43 اور 44) میں فرمایا۔ سائے کی تین شاخوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بڑا دھواں اٹھتا ہے تو وہ آگے جا کر کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔
Ayahs 77:34–35

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا کہ (گنہگار مارے ہیبت کے) بات نہ کرسکیں گے۔

[13] جو سمجھتے تھے کہ قیامت آنے والی نہیں اور اگر آئی تو ہم وہاں بھی آرام سے رہیں گے۔
Ayah 77:36

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ (کسی طرح کا) عذر (پیش) کریں۔

[14] یہ ان کی آخری حالت ہوئی جو دوزخ میں داخلے کے وقت ان پر طاری ہوگی۔ جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم ہونا پوری طرح ثابت کردیا جائے گا اور عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے انہیں سزا دی جائے گی تو وہ دم بخود رہ جائیں گے اور اپنی معذرت میں کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ ان کو بولنے کی اجازت بھی اس لئے نہ ہوگی کہ کوئی عذر ہی موجود نہ ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں۔