Ayah 76:1(76:1) ہل اتی : استفہام تقریری ہے ہل بمعنی قد ہے۔ بیشک آچکا ہے بیشک گذر چکا ہے۔ علی الانسان۔ انسان سے عام انسان مراد ہے۔ یا حضرت آدم (علیہ السلام) ؟ اگلی آیت میں الانسان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسے نطفہ امشاج سے پیدا کیا۔ امام فخر الدین رازی نے دونوں جگہ الانسان سے مراد عام انسان لیا ہے (اضواء البیان)
حین : طائفۃ محدودۃ من الزمان الممتد الخیر المحدودۃ (بیضاوی) طویل ولا محدود زمانہ کا ایک محدود حصہ۔
الدھر : طریل، غیر محدود زمانہ۔
لم یکن شیئا مذکورا۔ جملہ محل نصب میں ہے اور الانسان سے حال ہے لم یکن مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں تھا۔ شیئا موصوف مذکورا ۔ ذکر سے اسم مفعول۔ صفت شی کی۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ :۔ انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ اس وقت نہ یہ دنیا میں موجود تھا نہ اہل دنیا میں اس کا تذکرہ تھا۔ کوئی انسان کے نام سے واقف نہ تھا۔
Ayah 76:2(76:2) نطفۃ امشاج ، موصوف و صفت نطفۃ قطرہ منی۔
امشاج ۔ یمشج مشج (باب نصر) بمعنی ملانا۔ خلط ملط کرنا سے مشتق ہے۔ امشاج بمعنی مخلوط یہ جمع لیا گیا ہے کہ اس میں مردو عورت کا نطفہ (پانی) مخلوط ہوتا ہے۔ اور ہر نطفہ اجزاء ، خواص، عقت، قوام کے لحاظ سے مختلف و منفرد ہوتا ہے۔
نبتلیہ : مضارع جمع متکلم ابتلاء (افتعال) مصدر سے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ ہم اس کی آزمائش کریں۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ خلقنا کے فاعل سے حال ہے والمراد مریدین ابتلائہ واختبارہ بالامر والنھی (مدارک التنزیل، روح المعانی) اور مراد ہماری اس کی آزمائش اور امتحان اوامرو نواہی کا مکلف بنانے کے بعد لینا تھا۔
(2) یہ معلول ہے جس کی علت الانسان کو نطفہ امشاج سے پیدا کرنا ہے لام علت محذوف ہے۔ ای خلقنہ لنختبرہ بالامر والنھی تاکہ اوامرو نواہی کے ذریعہ اس کی آزمائش کریں۔ (تفسیر خازن)
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا (27:2) اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔
فجعلنہ :سببیہ ہے ای بسبب ذلک (جلالین) ہ ضمیر مفعول واحد مذکر الانسان کے لئے ہے۔ ہم نے اس کو بنایا۔
سمیعا بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ ہے سننے والا۔ اسماء حسنی میں سے ہے جب یہ حق تعالیٰ شانہ کی صفت واقع ہو تو اس کے معنی ہیں ایسی ذات جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہو۔
بصیرا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے بمعنی دیکھنے والا۔
ترجمہ ہوگا :۔ بیشک ہم نے انسان کو ایک نطفہ مخلوط سے پیدا کیا ۔ تاکہ ہم اس کی آزمائش کریں بدیں وجہ ہم نے اس کو سنتا اور دیکھتا بنادیا۔
Ayah 76:3(76:3) انا ھدینہ ۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ھدایۃ (باب ضرب) مصدر بمعنی ہدایت یاب کرنا۔ راستہ بتادینا۔ ہدایت کرنا۔ بھلائی برائی کے حصول کے فطری راستے بتادینا۔ یہاں اس کا مطلب ہے ہم نے اس کو حق کا راستہ بتادیا۔
ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔
السبیل : منصوب بوجہ مفعول ھدینا کے۔ والسبیل الطریق السوی سیدھا راستہ، راہ حق۔
اما شاکرا واما کفورا : اما بمعنی اگر ، یا۔ شاکر اشکر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ شکر گراز، احسان مند۔
کفورا۔ کفران مصدر سے مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر۔ بڑا ناشکرا۔ بڑا احسان فراموش۔
شاکرا اور کفورا کے متعدد اقوال ہیں :۔
(1) دونوں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر سے حال ہیں ۔
(2) کلام یوں ہے : انا ھدینہ السبیل لیکون اما شاکرا واما کفورا۔ ہم نے اس کو راہ حق بتادی اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا چاہے احسان فراموش بنے۔ عربی میں کہتے ہیں :۔ قد نصحت نک ان شئت فاقیل وان شئت فاترک میں نے تجھے نصیحت کردی ہے اب چاہے قبول کر یا چھوڑ دے۔
(3) اما مرکب ہے ان شرطیہ اور ما زائدہ سے۔ ای بینا لہ الطریق ان شکر وان کفر۔ ہم نے اس کو سیدھا راستہ بتادیا ہے اگر وہ شکر گزار ہوتا ہے وہ انکار کرتا ہے (یہ اس کی مرضی ہے) ۔
Ayah 76:4(76:4) اعتدنا ماضی جمع متکلم اعتاد (افعال) مصدر ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ سلسلا : سلسلۃ کی جمع ہے زنجیریں۔ بعض کے نزدیک یہ جمع منتہی الجموع کے وزن پر ہے اور یہ قائم مقام دو اسباب منع صرف کے ہے۔ اسی لئے غیر منصرف ہے اور بدیں وجہ اس پر تنوین نہیں آئی۔
اغلالا : غل کی جمع ۔ طوق۔ ہتھکڑیاں۔ غل اس شے کو کہتے ہیں جس سے قید کیا جائے اور اس میں اعضا باندھ دئیے جائیں۔
سعیرا دھکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر سے جس کے معنی آگ بھڑکانے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے۔
سلسلا واغلالا : وسعیرا منصوب بوجہ مفعول فعل اعتدنا کے ہیں۔
Ayah 76:5(76:5) الابرار : نیک لوگ۔ یر، یار کی جمع (باب ضرب، سمع) مصدر۔ بمعنی نیک ہونا۔ راست باز ہوتا۔ بر (باب نصر، ضرب) اچھا سلوک کرنا۔ اطاعت کرنا۔
البر بحر کی ضد ہے۔ (اور اس کے معنی خشکی کے ہیں) پھر وسعت معنی کے لحاظ سے اس سے البر کا لفظ مشتق کیا گیا ہے جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنا کے ہیں اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر والرحیم (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے ۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہ (یعنی بندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی) ۔
چناچہ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوتے ہیں اور جب اس کی نسبت بندہ کی طرف ہو تو اطاعت اور فرمانبرداری کے ہوتے ہیں ۔
ابرار سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو اپنے ایمان میں سچے اور اپنے رب کے فرمانبرادار ہیں۔
یشربون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب شرب (باب سمع) مصدر ، وہ پئیں گے۔
من کاس : کاس شربت (کوئی بھی پینے والی چیز، پانی وغیرہ) سے بھرے ہوئے برتن کو کہا جاتا ہے۔ مثلا شربت کا سا طیبۃ میں نے پاکیزہ پیالہ پیا۔ یعنی پیالہ میں پاکیزہ شریت پیا۔ من کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) من ابتدائیہ ہے یعنی ابرار پینے کی چیزیں پینے کے برتن سے پئیں گے۔
(2) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پینے سے پینے کی چیز مراد ہو اس وقت من زائدہ ہوگا۔
(3) من تبعیضیہ ہے یعنی کچھ شربت پئیں گے۔
(4) من بیانیہ ہے۔ سوال ہے کہ کیا پئیں گے جواب ہوگا شربت پئیں گے۔
کان مزاجھا کافورا : کان فعل ناقص مزاج مضاف اسم کان ھا مضاف الیہ۔ (ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کاس ہے) کافورا۔ اس کی خبر مزاج مصدر ہے اس کو بھی مزاج کہتے ہیں۔ مزج یمزج (باب نصر) مزاج باہم پانی سے ملانا۔ ترجمہ ہوگا :۔ جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔
فائدہ : سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافور نہ تو پینے والی چیز ہے اور نہ ہی اس کا ذائقہ مرغوب ہے تو بہشت کے اس مشروب کو خصوصی طور پر کافور کیوں بیان کیا گیا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ :۔
(1) بہشت کی نعمتیں دنیوی نعمتوں سے کئی گناہ بہتر ہوں گے ان کو اس دنیا کے نام سے بیان کرنا محض انسان کو سمجھانے کے لئے۔
(2) کافور سے مراد یہ بھی لی جاسکتی ہے کہ ٹھنڈک اور سکون آوری میں وہ بہشتی مشروب کافور کی مانند ہوگا۔
(3) سکون مشروب کے پینے سے اور اس کی خوشبو سے حاصل ہوتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس کو پیتے وقت کافور کی سی خوشبو آئے گی۔
Ayah 76:6(76:6) عینا بعض کے نزدیک کافور بہشت میں ایک چشمے کا نام ہے اس صورت میں عینا ، کافورا سے بدل ہے۔
اس صورت میں مطلب ہوگا :۔ کہ وہ مشروب جو ابرار لوگ بہشت میں پئیں گے اس میں چشمہ کافور کا شربت بھی شامل ہوگا۔ یشرب بھا۔ اس کی تشریح میں علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقمطراز ہیں۔
باء زائدہ ہے۔ اس کو پئیں گے۔ یا۔ یشرب لذت کے معنی کو متضمن ہے اور یلتذ کے مفعول پر ب آتی ہے اس لئے یشرب کے مفعول پر بھی ب لائی گئی ہے۔ یا ممزوجا محذوف ہے بھا اس سے متعلق ہے۔ یا ۔ باء ابتدائیہ کے معنی میں ہے اس سے پئیں گے ۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر یشرب کا فاعل ، جسے اللہ کے بندے پئیں گے۔
یفجرونھا تفجیرا۔ یفجرون مضارع جمع مذکر غائب۔ تفجیر (تفعیل) مصدعر وہ بہا کرلے جائیں گے۔ وہ (سرچشمہ میں سے کاٹ کر) نکال کرلے جائیں گے۔
الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنے اور شق کردینے کے ہیں۔ فجرتہ فانفجر : میں نے پانی کو پھاڑ کر بہایا پس وہ بہہ گیا۔ صبح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب عینا کے لئے ہے تفجیرا مفعول مطلق، مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی اللہ کے بندے جنت کے اندر اپنے مکانوں اور محلات میں اوپر نیچے جہاں چاہیں گے اشارہ سے لے جائیں گے بلندی یا پستی یا اس قسم کی کوئی اور چیز اس میں رکاوٹ نہ بن سکے گی۔
Ayah 76:7(76:7) یوفون بالنذر جملہ مستانفہ ہے جس میں ابرار کا حال بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں ان اعمال حسنہ اور اخلاق حمیدہ کا بیان ہے جن کی وجہ سے ان کو جنت کی مذکورہ بالا نعمتیں عطا ہوں گی۔ یوفون مضارع جمع مذکر غائب ایفاء (افعال) مصدر۔ وہ پوری کرتے ہیں۔ وی مادہ۔ الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ النذر بطور اسم، بمعنی منت بطور مصدر بمعنی منت ماننا۔ نذر کا لغوی معنی ہے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینا۔ النذر کی تشریح کرتے ہوئے فقہاء کرام لکھتے ہیں۔
النذر ھو ایجاب المکلف علی نفسہ من الطاعات مالم یوجبہ لم یلزمہ۔ یعنی کسی مکلف (عاقل بالغ مومن کا) اپنے اوپر کسی ایسی چیز کا (نیکی اور عبادت کا) واجب کرلینا۔ کہ اگر وہ خود اس کو لازم کرے تو یہ اس پر لازم نہ ہو۔ گویا ابرار کی پہلی صفت یہ ہوگی کہ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں۔
ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے کان فعل ناقص شرہ (مضاف مضاف الیہ) اسم کان۔ مستطیرا۔ استمطار (استفعال) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر صفت ہے یوما کی۔ یوما سے مراد روز قیامت ہے۔
مادہ ط ی ر سے مشتق ہے بمعنی پھیلا ہوا۔ عام ۔ طیران کا اصل معنی ہے اڑنا مجازا کبھی اس سے سرعت رفتار مراد ہوتی ہے۔ جیسے فرش مطار۔ تیز رفتار گھوڑا۔ کبھی منتشر ہونا۔ اور پھیلنا ۔ جیسے غبار مستطار پھیلا ہوا غبار۔ استطار الحریق : آگ بہت پھیل گئی۔ استطار الفجر صبح کی روشنی بہت پھیل گئی۔ اسی مادہ سے ہے طائر بمعنی پرندہ۔ طیارہ بمعنی ہوئی جہاز۔ اور مطار ہوائی اڈہ، ائیرپورٹ
شرہ (مضاف مضاف الیہ) اس کا شر۔ اس کی برائی۔ اس کی ہولناکی۔ یعنی قیامت کے روز آسمان پھٹ جائیں گے ۔ آسمان خاک ہوکر اڑ جائیں گے۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یوما ہے۔ یہ ابرار کی دوسری صفت ہوگی۔ کہ وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ جس کا شر ہر سو پھیلا ہوا ہوگا۔
Ayah 76:8(76:8) ویطعمون الطعام علی حبہ اس کا عطف جملہ سابقہ ہے۔ یطعمون مضارع جمع مذکر غائب : اطعام (افعال) مصدر۔ وہ کھانا کھلاتے ہیں۔ علی حبہ اس کی محبت پر۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے ۔ اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں۔
مسکنا ویتیما واسیرا۔ مسکینوں کو، یتیموں کو۔ اسیروں کو، (ہر سہ منصوب بوجہ مفعول ہونے فعل یطعمون کے) اسیر بمعنی قیدی۔ یہ ابرار کی تیسری صفت ہے۔ خوبی ہے۔
Ayah 76:9(76:9) انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا۔ جملہ حالیہ ہے ای قائلین انما ۔۔ یہ کہتے ہوئے : ہم تمہیں کھلاتے ہیں اللہ کی رضاء کے لئے ۔ ہم نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کسی شکر کے متمنی ہیں۔
لوجہ اللہ۔ لام (حرف جر) تعلیل کا۔ وجہ مضاف بمعنی رضاء اللہ مضاف الیہ اللہ کی رضا کی خاطر۔
لانرید۔ فعل نہی۔ جمع متکلم۔ ارادۃ (افعال) مصدر۔ ہم نہیں چاہتے ہیں۔ شکورا۔ شکر یشکر کا مصدر ہے بمعنی شکر کرنا۔ شکر گزاری۔
Ayah 76:10(76:10) انا نخاف من ربنا : اطعام لہ پہلی علت لوجہ اللہ تھی۔ یہ دوسری علت ہے گویا حرف عطف اور حرف جر کو حذف کرکے لوجہ اللہ پر عطف کردیا گیا ہے۔ اصل کلام یوں تھا :۔
نطعمکم طمعا وخوفا من اللہ یعنی اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اور اللہ کے عذاب اور غضب کے خوف سے ہم تم کو کھانا کھلاتے ہیں۔ من ربنا کا معنی ہے من عذاب ربنا یعنی ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
یوما عبوسا قمطریرا : یوما منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے یا بوجہ ظرفیت کے ” یہ عذاب اس دن ہوگا “ یا اس دن کے عذاب سے۔ جو عبوس اور قمطریر ہوگا۔ عبوسا قمطریرا دونوں بوجہ یوما کی صفت کے منصوب ہیں۔
عبوسا : منہ بنانے والا۔ تیوری چڑھانے والا۔ ترش رو، سخت، منہ بگاڑ دینے والا۔ عبس وعبوس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قرآن پاک میں یہ یوما کی صفت واقع ہوا ہے۔ علامہ احمد فیومی نے مصباح میں لکھا ہے کہ :۔ عبد الیوم کے معنی ہیں دن کے سخت ہونے کے۔ اس اعتبار سے یوم عبوس کے معنی سخت دن کے ہیں۔
اور قاموس میں یوما عبوسا کی تشریح میں لکھا ہے :۔ ای کریھا تعبس منہ الوجوہ۔ ایسا مکروہ دن کہ جس سے منہ بگڑ جائیں
علامہ خازن نے تصریح کی ہے کہ :۔ یوم کو جو عبوس سے موصوف کیا ہے یہ مجاز ہے جس طرح کہ نھارہ صائم بولتے ہیں اور اس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے کہ جس نے اس دن کا روز ہ رکھا ہے۔
غرض مطلب یہ ہوا کہ اس دن میں لوگوں کے چہرے اس کے ہول اور شدت سے بگڑ جائیں گے۔
اور بعض کہتے ہیں کہ :۔ چونکہ اس دن میں سختی اور شدت ہے اس لئے اس کو عبوس سے موصوف کیا گیا ہے۔
قمطریرا : مصیبت اور رنج کا بہت طویل دن۔ (یعنی روز قیامت) اصل محاورے میں قمطرت الناقۃ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹنی دم اٹھا کر ناک چڑھا کر، منہ بنا کر مکروہ شکل اختیار کرلے۔ اسی معنی کی مناسبت سے ہر مکروہ، برے۔ رنج وہ دن کے لئے استعمال ہونے لگا۔
اصل مادہ فطر ہے۔ م زائدہ ہے۔ جملہ سابقہ کی طرح یہ جملہ بھی حالیہ ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ ہم ڈرتے ہیں اس روز کے اللہ کے عذاب سے جو بڑا ترش اور سخت ہے۔
Ayah 76:11(76:11) فوقھم اللہ :سببیہ ہے۔ وقی (وہ بچالے گا) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ وقایۃ (باب ضرب) مصدر۔ وقی مادہ۔
یہاں اگرچہ فعل ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور واقعہ کا تعلق مستقبل سے ہے : مستقبل کی تعبیر ماضی کے صیغہ سے اس لئے کردی ہے کہ گویا ایسا ہو ہی گیا۔
ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع الابرار ہے۔ جن کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ بہ سبب اس کے کہ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو خدا کی رضا کی خاطر اور روز قیامت کی سختی کے خوف سے کھانا کھلاتے ہیں اور ان سے کسی شکر گزاری اور اجر کی خواہش نہیں رکھتے اللہ ان کے روز قیامت کے شر سے بچالے گا۔
شر ذلک الیوم : ذلک اسم اشارہ الیوم مشار الیہ دونوں مل کر شر مضاف کا مضاف الیہ۔ اس دن کے شر سے۔ جملہ فعل وقی کا مفعول ہے۔ شر سے مراد اس دن کی سختیاں ۔
ولقہم نضرۃ وسرورا۔ واؤ عاطفہ لقی ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب قلقیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اور ان کو عطا کرے گا۔ اصل میں لقی کا مطلب ہے کسی کی طرف کسی چیز کو پھینکنا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ کلما القی فیہا فوج (67:8) جب بھی اس میں کوئی جتھا پھینکا جائے گا اس لئے تلقیۃ کا مطلب ہے پھینکنا۔ لیکن اللہ کی طرف سے تلقیۃ کا مطلب ہے وحی، عطائ۔ نضرۃ اسم منصوب۔ تروتازگی۔ رونق (چہرہ کی)
چناچہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وجوہ یومئذ ناضرۃ (75:22) کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ لقی کا مفعول ثانی۔ سرورا۔ خوشی۔ جو خوشی کہ اندر چھپ رہی ہو اس کا نام سرور ہے۔ لقی کا مفعول سوم ہے۔
اس آیت سے لے کر آیت 21 تک ان انعامات کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عالم آخرت میں عطا فرمائے گا۔
Ayah 76:12(76:12) وجزہم بما صبروا جنۃ وحریرا۔ واؤ عاطفہ۔ جزی ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب (مفعول اول) ان کو۔ ب سببیہ۔ ما موصولہ۔ صبروا صلہ اور وہ ان کو صبر کے بدلہ میں عطا کرے گا۔ جنۃ : جنت۔ مفعول دوم ۔ وحریرا اور ریشمی لباس مفعول سوم۔ حریر۔ رشیم (اسم ہے)
Ayah 76:13(76:13) متکئین فیہا علی الارائک۔ جملہ حال ہے۔ جزھم کی ضمیر مفعول ہم سے۔ متکئین : اسم فاعل جمع مذکر منصوب متکئی واحد۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے کو گاؤ تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنۃ ہے الارائک اریکۃ کی جمع۔ بہت سے تخت۔ اریکۃ اس تخت کو کہتے ہیں جو مزین ہو اور جس پر پردہ لگا ہوا ہو۔
لا یرون فیہا : لا یرون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں دیکھیں گے۔ وہ نہیں پائیں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (مفعول فیہ) کا مرجع جنۃ ہے۔ شمسا مفعول دوم۔ سورج بمعنی سخت گرمی۔
ولا زمھریرا۔ مفعول سوم۔ زمھریر۔ سخت ٹھنڈ۔ مطلب یہ کہ :۔ وہاں جنت میں نہ سخت گرمی ہوگی اور نہ سخت ٹھنڈ ہوگی بلکہ وہاں کی ہوا معتدل اور خوشگوار ہوگی۔
جملہ محل نصب میں ہے اور ہم ضمیر مفعول سے حال ہے۔ یا متکئین کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔
Ayah 76:14(76:14) ودانیۃ علیہم ظلھا : اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی حال ہے۔ دانیۃ : دنو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی قریب، نزدیک، جھکنے والی، لٹکنے والی۔ ظلھا مضاف مضاف الیہ۔ ان کے سائے جنت کے (باغوں کے) سائے۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور جنت کے باغوں کے سائے ان پر جھک رہے ہوں گے۔
وذللت قطوفھا تذلیلا : اس کا عطف دانیۃ پر ہے جیسے فالق الاصباح وجعل الیل سکنا (6:97) میں جعل کا عطف فالق پر ہے۔ یا دانیۃ کے ذوالحال سے حال ہے اور ذوالحال کی طرف راجع ہونے والی ضمیر محذوف ہے یعنی ذللت لہم (تفسیر مظہری) ۔ ذللت ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب۔ تذلیل (تفعیل) مصدر۔ وہ پست کردی گئی۔ وہ مسخر کردی گئی۔ وہ تابع کردی گئی ۔
قطوفھا : قطوف جمع قطف کی۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ھا کا مرجع جنت کے پھل ہیں۔
قطف مصدر ۔ درخت سے پھل توڑنا۔ قطف وہ پھل جو درخت سے توڑے جائیں۔ (خواہ توڑے گئے ہوں یا توڑے نہ گئے ہوں۔ توڑے جانے کے قابل ہوں) ۔ یہاں وہ پھل مراد ہیں جو اہل جنت کھڑے بیٹھے توڑ سکیں گے۔
تذلیل (تفعیل) مصدر ہے۔ بطور مفعول مطلق برائے تاکیداستعمال ہوا ہے۔ ذل صعوبت کی ضد ہے۔ مطلب یہ کہ جنت کے باغوں کے پھلوں کا حصول ان کے لئے آسان بنادیا جائے گا۔
Ayah 76:15(76:15) ویطاف علیہم بانیۃ من فضۃ واؤ عاطفہ ہے یہ بیان سابق کا تمتہ ہے جنتوں کے لئے رہنے سہنے اور میووں اور پھلوں کے علاوہ سامان خوردو نوش بھی شاہانہ ہوگا۔
یطاف مضارع مجہول واحد مذکر غائب اطافۃ (افعال) مصدر۔ دور چلا یا جائیگا۔ علیہم ان پر۔ یا ان میں۔ یعنی بہشتیوں میں
انیۃ جمع اناء کی جیسے اکسیۃ جمع ہے کساء کی (کمبل) یا اغطیۃ جمع ہے غطاء کی، (پردہ) ۔
من بیانیہ ہے۔ فضۃ۔ چاندی۔ یعنی چاندی کے بنے ہوئے برتن۔
مطلب ہے کہ خوردونوش کی چیزیں چاندی کے بنے ہوئے برتنوں میں مہیا کی جائیں گے۔
واکواب کانت قواریرا۔ اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اور آنجورے جو شیشے کے ہوں گے۔ اکواب جمع ہے کو ب کی اس آنجورے یا پیالے کو کہتے ہیں جس کا دستہ نہ ہو الکوبۃ اس ڈگڈگی کو کہتے ہیں جو تماشہ کے وقت مداری بجاتے ہیں۔
کانت قواریرا۔ صفت ہے اکواب کی، قواریرا جمع ہے فارورۃ کی شیشہ۔ شیشے کا برتن۔ گلاس ہو یا صراحی یا کچھ اور ۔ چاندی کے قواریر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ چاندی کی سفیدی اور شیشے کی طرح صفائی ان برتنوں میں ہوگی۔
کانت اگر فعل تام ہے تو قواریرا حال ہوگا یعنی وہ کوزے بنے ہوئے ہیں اور مثل بلور کے ہیں اور کانت فعل ناقص لیا جائے تو قواریرا اس کی خبر ہوگا۔ بمعنی وہ کوزے صفائی بلوری جام کی طرح ہیں (تفسیر مظہری)
Ayah 76:16(76:16) قواریرا من فضۃ یہ جملہ بدل ہے پہلے قواریرا کا جو آیت 15 میں آیا ہے قدروھا تقدیرا۔ یہ جملہ صفت ہے قواریرا کی
قدروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تقدیر (تفعیل) مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع قواریرا ہے۔ وہ (یعنی اہل جنت کے خادم) پینے والوں کی خواہش کے بقدر دیں گے۔
تقدیرا مفعول مطلق ہے اور تاکیدا لایا گیا ہے۔ ویسقون فیہا۔ واؤ عاطفہ، اس کا عطف جملہ یطاف علیہم پر ہے۔ یسقون مضارع مجہول جمع مذکر غائب سقی (باب ضرب) مصدر۔ اور وہ پلائے جائیں گے۔ یعنی ان کو پینے کے لئے دیا جائیگا۔ فیہا ای فی الجنۃ۔
Ayah 76:17(76:17) کان مزاجھا زنجیلا : (ایسی شراب کے) جام جن میں زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ زنجیل، سونٹھ۔ جنت میں ایک چشمہ کا نام۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 5 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 76:18(76:18) عینا فیہا : اگر زنجیل کو چشمہکا نام کہا جائے تو عینا اس سے بدل ہوگا ورنہ کا سا سے بدل ہوگا۔ اور مضاف محذوف ہوگا۔
تسمی سلسبیلا۔ اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے جو مشروب آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جائے اور خوش گوار ہو وہ سلسبیل ہے سلسل سلسالا وسلسبیلا آسانی اور خوش گواری کے ساتھ حلق میں اتر گیا۔
Ayah 76:19(76:19) ویطوف علیہم ولدان مخلدون۔ اس جملہ کا عطف بھی یطاف علیہم پر ہے۔ یطوف مضارع واحد مذکر غائب۔ طوف (باب نصر) مصدر چکر لگائے رہیں گے۔ ان کی خدمت کے لئے گھومتے ہونگے۔
ولدان جمع ولد واحد بچے، جنت کے غلمان ۔ مخلدون، تخلید (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر۔ سدا رہنے والے۔ یعنی نہ مریں گے اور نہ بوڑھے ہوں گے۔
اذا رایتھم حسبتھم لؤلوا منثورا۔ اس میں پہلا جملہ شرط ہے اور دوسرا جملہ جواب شرط ہے۔ جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ حسبتھم ، حسبت ماضی واحد مذکر حاضر۔ حسبان (باب حسب یحسب) مصدر بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ سمجھنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو نے ان کو جانا۔ تو نے ان کو خیال کیا۔ تو ان کو سمجھے یا خیال کرے۔
لؤلوا منثورا۔ موصوف و صفت، بکھرے ہوئے موتی، لؤلؤا کی جمع لالی ہے۔ منشور ۔ نثر (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم مفعول واحد مذکر ہے۔ بکھرا ہوا۔ لؤلوا منثورا ہم ضمیر مفعول سے حال ہے۔
Ayah 76:20(76:20) واذا رایت لم۔ واؤ عاطفہ رایت ماضی واحد مذکر حاضر رایت فعل متعدی ہے لیکن یہاں ظاہر یا مقدر اس کا مفعول مذکور نہیں ہے لہٰذا قائم مقام فعل لازم کے ہے۔
ثم بمعنی وہاں ۔ وہیں، اس جگہ۔ اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لئے آتا ہے اور اعتبار اصل کے ظرف ہے۔ یہاں رایت کے ظرف مکان کے طور پر آیا ہے بمعنی وہاں ۔ یعنی جنت میں۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔
(1) یہ ظرف زمان ہے۔ (زجاج، ریاشی)
(2) یہ ظرف مکان ہے۔ (مبرد، سیبوبہ)
(3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔
مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔
(1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں (کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ (تفسیر حقانی)
(2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ (تفسیر ضیاء القرآن)
(3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ (تفسیر ماجدی)
مطلب یہ کہ جنت میں نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی اور ایک وسیع مملکت ہوگی جو خداوند کریم نے اپنے ایک ایک بندے کو دیدی ہے۔ نعیما۔ اسم منصوب۔ کثیر نعمت۔ ملکا بادشاہی، سلطنت (باب ضرب سے مصدر بھی ہے) ملکا کا عطف نعیما پر ہے اور کبیرا صفت ہے ملکا کی۔ بڑی وسیع مملکت۔
Ayah 76:21(76:21) علیہم ثیاب سندس خضر واستیرق : علیہم ان کے اوپر کی پوشاک ۔ جو چیز اوپر ہے اور بالا ہو وہ عالی ہے۔ اوپر کی پوشاک میں بھی چونکہ یہ بات موجود ہے اس لئے وہ بھی عالی ہے اور یہاں اس لفظ سے یہی معنی مراد ہیں۔ عالی مضاف (بمعنی فوق) ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب مضاف الیہ۔ عالی منصوب بوجہ ظرفیت کے ہے۔ ای فوق) ہم کی ضمیر کا مرجع اہل جنت ہیں نہ کہ ان لڑکوں کے لئے ہے جو اہل جنت کی خدمت کے لئے دوڑے پھر رہے ہوں گے (تفہیم القرآن جلد ششم فٹ نوٹ نمبر 33 زیر آیت 21 ۔ سورة الدھر)
ثیاب ثوب کی جمع ہے کپڑے۔ لباس
سندس۔ باریک۔ ریشم ، باریک دیبا۔ خضر سبز، ہرے۔ اخضر، خضراء کی جمع (افعل فعلاء فضل کے وزن پر)
استبرق ریشم کا زریں موٹا کپڑا۔ دیبا۔
ثیاب خضر مبتداء ۔ مؤخر۔ علیہم خبر مقدم ہے۔ ثیاب سندس مضاف مضاف الیہ۔ خضر صفت ہے ثیاب کی، واؤ عاطفہ، سندس مبتدا۔ مؤخر (علیہم خیر مقدم) ۔
ترجمہ ہوگا :۔ ان (اہل جنت) کے اوپر لباس ہوگا سبز باریک ریشم کا۔ اور ریشم کے زرین موٹے کپڑے کا وحلوا اساور من فضۃ۔ واؤ عاطفہ۔ حلوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب تحلیۃ (تفعیل) مصدر ۔ بمعنی زیور پہنانا۔ ان کو زیور پہنایا گیا۔ ان کو آراستہ کیا گیا۔ حلی زیور۔ (واحد) حلی، جمع۔ جیسے ثدی کی جمع ثدی ہے۔ (بمعنی پستان) ۔ حلوا ماضی بمعنی مستقبل ہے ان کو پہنائے جائیں گے۔ وہ پہنائے جائیں گے۔
اساور ۔ سوار کی جمع ، کنگن، پہنچیاں ، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے۔ من فضۃ میں من بیانیہ ہے۔ چاندی کی بنی ہوئی ۔ چاندی کی۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔
آیت 18-31 میں ہے یحلون فیہا من اساور من ذھب (ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے) ۔
صاحب تفہیم القرآن اس فرق کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :۔
سورة الکہف 31 میں فرمایا گیا ہے ویحلون فیہا من اساور من ذھب۔ اور یہی مضمون سورة الحج 22 آیت 23 اور سورة فاطر 35-33) میں بھی ارشاد ہوا ہے ان سب آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو تین صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ کبھی وہ چاہیں گے تو سونے کے کنگن پہنیں گے۔ اور کبھی چاہیں گے تو چاندی کے کنگن پہنچیں گے دونوں چیزیں ان کے حسب خواہش موجود ہوں گی۔
دوسرے یہ کہ سونے اور چاندی کے کنگن وہ بیک وقت پہنیں گے کیونکہ دونوں کو ملا دینے سے حسن دو بالا ہوتا ہے۔
تیسرے یہ کہ جس کا جی چاہے گا سونے کے کنگن پہنے گا اور جو چاہے گا چاندی کے کنگن استعمال کرے گا۔ (تفہیم القرآن جلد ششم سورة الدھر فٹ نوٹ نمبر 24)
وسقھم ربھم شرا باطھررا۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے سقی ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب سقی (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی پلانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع اہل جنت ہے۔
ربھم مضاف مضاف الیہ ۔ شرابا طھورا موصوف صفت منصوب بوجہ مفعول فعل سقی۔ اور ان کا پروردگار ان کو شرابا طھورا پلائے گا۔ شرابا طھورا کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
علامہ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ ان اقوال سے بہتر وہ قول ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہاں شراب کی ایک اور خاص قسم مراد ہے جو دونوں مذکورہ اقسام (متصف بہ مزاج کا غور و متصف بہ مزاج زنجیل) سے اعلیٰ ہے اسی کو شراب طہور فرمایا ہے کیونکہ اس کو پینے والا تمام حسی لذتوں کی طرف میلان اور غیر اللہ کی رغبت سے پاک ہوجاتا ہے صرف جمال ذات کا معائنہ کرتا ہے اور دیار الٰہی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ صدیقین کے درجہ کی انتہا ہے اور ابرار کے ثواب کا اختتام ہے۔
Ayah 76:22(76:22) ان ھذا کان لکم جزائ : ان حرف تحقیق ھذا اسم اشارہ جس کا مشار الیہ وہ نعمتیں اور فیوض ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ جو ابرار کو ان کے اعمال صالحہ کے بدلے میں جنت میں ان کو دئیے جائیں گے۔ ھذا۔ اسم کان لکم جزاء خبر کان۔ جملہ سے قبل عبارت قیل لہم محذوف ہے۔ یعنی اہل جنت سے کہا جائے گا یہ تھی تمہاری جزاء اور تمہاری دنیاوی کوششوں ایمان اور عمل صالح اور محبت الٰہی کا بدلہ جو تمہارے لئے پہلے سے تیار تھا۔
وکان سعیکم مشکورا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے کان فعل ناقص ۔ سعیکم مضاف مضاف الیہ۔ اسم کان مشکورا اس کی خبر۔ اور کہا جائے گا، تمہاری کوششیں مقبول ہوئیں۔ مشکورا کا معنی مقبول ، پسندیدہ، ستائش کے لائق ۔ قابل ثواب۔
Ayah 76:23(76:23) نزلنا۔ ماضی جمع متکلم تنزیل (تفعیل) مصدر۔ بطور مفعول مطلق تاکیدا لایا گیا ہے۔ مراد یہ کہ قرآن مجید کو ہم نے آیت آیت کرکے نازل کیا۔
علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ مراد یہ ہے کہ آیت آیت کرکے نازل کیا یک دم مجموعہ نازل نہیں کیا۔ نحن مسند الیہ (مبتدائ) ہے نزلنا خبر فعلی ہے جملہ کو انا سے شروع کیا ہے نزلنا خود جمع متکلم ہے لیکن نحن کا اس پر اضافہ کرکے فاعل کی طرف فعل کی اسناد کو مکرر کردیا۔ یہ طرز کلام کلام کو بہت مؤکد کردیتا ہے اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تفریق کے ساتھ قرآن کو نازل کرنے میں حکمت اور مصلحت ہے (یک دم مجموعہ نازل کرنے سے وہ مصلحت اور فائدہ حاصل نہیں ہوتا) پھر فعل کی نسبت اپنی طرف کرنے سے اختصاص کا بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے (کہ ہم نے ہی نازل کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں یہ فعل ہمارا ہی ہے) اور حکیم کا فعل پراز حکمت ہوتا ہے (خدا حکیم ہے اس کا یہ فعل حکمت سے خالی نہیں) ۔
Ayah 76:24(76:24) فاصبر لحکم ربکسببیہ ہے (ف سے پہلے کا کلام بعد والے حکم کا سبب ہے۔ یعنی جب تم نے نیکوں اور بروں کا حال جان لیا۔ اور جزاء و سزا کی تاخیر کا سبب بھی جان لیا۔ تو کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر کرو۔ کافروں کو عذاب دینے کی جلدی مت کرو۔ کافروں پر فتح یاب ہونے میں جو تاخیر خیر ہو رہی ہے اس سے رنجیدہ نہ ہو اور جب تم جانتے ہو کہ قرآن خدا نے ہی نازل کیا ہے تو اس کے تشریعی احکام پر صبر کرو۔
اصبر فعل امر واحد مذکر حاضر، صبر (باب ضرب) مصدر۔ تو صبر کر۔ ولا تطع منہم : واؤ عاطفہ، لاتطع فعل نہیں واحد مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر تو اطاعت نہ کر۔ تو حکم نہ مان۔ منھم میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔
اثما او کفورا : اثما : اثم (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ گناہ کرنے والا۔ گنہگار۔ او بمعنی یا۔ کفورا کفر (باب نصر) مصدر۔ صفت مشبہ منصوب۔ ناشکرا۔ ناشکر گزار۔ کافر (مراد وہ کافر کی طرف بلانے والا ہے)
فائدہ : او بمعنی یا کے استعمال سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اثم یا کفور کی اطاعت سے منع کیا گیا ہے یعنی اختیار دیا گیا ہے کہ تم آثم اطاعت مت کرو یا کفور کی اطاعت مت کرو۔ دونوں میں سے کسی ایک کی اطاعت مت کرو۔ یعنی ایک کو کہنا مت مانو دوسرے کا مانو۔
اس شبہ کا ازالہ یہ ہے کہ اثما او کفورا ! دونوں نکرہ ہیں جو تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے اس لئے ممانعت میں عموما کا فائدہ دیا جا رہا ہے یعنی کوئی گناہ کی دعوت دے یا کفر کی یا دونوں کی تم کسی کی اطاعت مت کرو اگر بجائے او کے آیت میں واؤ ہوتا تو یہ مطلب ہوجاتا کہ اس شخص کی اطاعت مت کرو جو تم کو اثم اور کفر دونوں کی دعوت دیتا ہو اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ تنہا آثم یا صرف کفر کی دعوت دیتا ہو کی اطاعت نہ کرو۔ (تفسیر مظہری)
اثما او کفررا دونوں لاتطع کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Ayah 76:25(76:25) واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلا۔ واؤ عاطفہ اذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) مصدر سے۔ جس کے معنی یاد کرنے یا ذکر کرنے کے ہیں ۔ اسم ربک مضاف مضاف الیہ مل کر اذکر کا مفعول ۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کر۔ یہاں ذکر سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ ای وصل لربک اپنے رب کی نماز پڑھ۔ بکرۃ دن کا اول حصہ۔ یا اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اصلا شام۔ عصر و مغرب کے درمیانی وقت کو کہتے ہیں۔ دن کا پچھلا حصہ۔ اس سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں۔ بکرۃ واصیلا منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے یا بوجہ اذکر کے ظرف ہونے کے۔
Ayah 76:26(76:26) ومن الیل فاسجدلہ۔ واؤ عاطفہ، من تبعیضیہ ہے اور رات کے بعض حصہ میں۔ فاسجد میںزائدہ ہے اور اما شرطیہ ہے جو مقدر ہے۔ اصل کلام یوں ہے :۔ واما من الیل فاسجد (تفسیر مظہری)
اسجد فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ سجود (باب نصر) مصدر۔ تو سجدہ کر۔ یہاں سجدہ سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں۔
وسبحہ لیلا طویلا : سبح فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع رب ہے تو اس کی تسبیح بیان کر۔ تو اس کی پاکی بیان کر۔ لیلا مفعول فیہ۔ رات کو، رات کے دوران۔
طویلا۔ لمبا۔ طویل، دراز، طول (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ یہاں طویلا مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تسبیحا طویلا۔ مراد اس سے آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش ہے۔ (تفسیر مظہری)
تسبیح سے مراد نماز شب ہے۔ مدارک التنزیل میں ہے :۔ ای تھجدلہ ھزیعا طویلا من الیل ثلثیہ او نصفہ او ثلثہ۔ اس کے لئے تہجد کی نماز پڑھ۔ رات کے طویل حصہ میں اس کا دو تہائی یا نصف یا اس کا ایک تہائی حصہ۔
Ayah 76:27(76:27) ان ھوؤلاء یحبون العاجلۃ ویذرون وراء ہم یوما ثقیلا : ان حرف تحقیق ہے۔ خبر کی تحقیق و تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔
ھؤلاء اسم اشارہ اسم ان۔ یحبون العاجلۃ جملہ فعلیہ خبر۔ ان۔ یحبون مضارع جمع مذکر غائب۔ احباب (افعال) مصدر۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ وہ دوست رکھتے ہیں۔ وہ محبت رکھتے ہیں۔ العاجلۃ : جلد ملنے والی، دنیا اور دنیا کی آسودگی مراد ہے۔ عجل اور عجلۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔
ترجمہ :۔ بیشک یہ لوگ جلد آنے والی (یعنی دنیا) کو پسند کرتے ہیں۔
ویذرون ۔۔ اس کا عطف یحبون ۔۔ پر ہے۔ اور یحبون کی طرح ان کی خبر ہے۔ یذرون جمع مذکر غائب وذر (باب سمع) مصدر سے بمعنی چھوڑ دینا۔ اس مصدر سے صرف مضارع اور امر کے صیغے آتے ہیں۔ اور چھوڑ دیتے ہیں۔ ورآء ھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے آگے یا پس پشت۔ یوما : یذرون کا مفعول۔ موصوف ثقیلا صفت یوما کی۔
ترجمہ :۔ اور اپنے پس پشت چھوڑ دیتے ہیں بھاری دن کو۔
یوم کو ثقیل اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن معاملہ بہت سخت ہوگا۔ گویا وہ دن سخت اور بھاری ہوگا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یہ جو مکہ کے کافر لوگ ہیں یہ سب کچھ دنیا کے لئے کرتے ہیں اور اسی کے ہی خواہاں ہیں۔ اور آخرت کو انہوں نے بھلا رکھا ہے اس لئے آپ ان کے کہنے پر نہ چلیں ۔ گویا یہ پورا جملہ کفار کی اطاعت کی ممانعت کی علت ہے۔
Ayah 76:28(76:28) نحن خلقنھم۔ ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔
وشددنا اسرہم : اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ شددنا ماضی جمع متکلم۔ شد باب نصر و ضرب) مصدر سے جس کا معنی مضبوط باندھنے کے ہیں۔ اسرھم مضاف مضاف الیہ ان کی جوڑ بندی، ان کی قید کی بندش (حاصل مصدر) ۔
الاسر کے معنی قید میں جکڑ لینے کے ہیں یہ اسرت العتب سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں : میں نے پالان کو مضبوطی سے باندھ دیا۔ قیدی کو اسیر اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ رسی وغیرہ سے باندھا ہوتا ہے۔
آیت ہذا میں ” ہم نے ان کی بندش کو مضبوطی سے باندھ دیا “ میں اس حکمت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو انسان کی ہیئت ترکیبی میں پائی جاتی ہے۔ قدرت الٰہی نے انسان کے مختلف اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ پٹھوں، ریشوں اور رگوں کے ذریعے بڑی پختگی سے جوڑ دیا ہے سب اعضاء اپنے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں اس کے باوجود ایک دوسرے سے پیوستہ بھی ہیں۔ ایک دوسرے کی قوت و طاقت کا ذریعہ بھی ہیں ایک دوسرے کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر اسی ایک بات پر تم غور کرو تو تمہارے شکوک و شبہات کے بادل سب چھٹ جائیں گے۔ (راغب ، ضیاء القرآن)
واذا شیئنا بدلنا امثالہم تبدیلا : شیئنا کا مفعول محذوف ہے ای اہلاکہم او تبدیلہم۔
اذا بمعنی جب، شیئا کا ظرف ۔ شئنا ماضی جمع متکلم مشیئۃ (باب سمع) مصدر۔ ہم نے چاہا۔ ہم چاہیں۔ اس کا عطف شددنا پر ہے۔ یہ جملہ شرطیہ ہے۔ بدلنا امثالہم جواب شرط ہے۔ بدلنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم تبدیل (تفعیل) مصدر ہم نے بدل ڈالا۔ ہم بدل ڈالیں۔ امثالہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کی مثالیں، ان جیسے ۔ تبدیلا مفعول مطلق تاکید کے لئے ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ مضبوط کئے ہیں۔ اور جب ہم چاہیں ان کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں۔ (مودودی) ۔ مودودی صاحب تفہیم القرآن کے فٹ نوٹ میں رقم طراز ہیں :۔
اذا شئنا بدلنا امثالہم تبدیلا اس جملہ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں :۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کرکے ان ہی کی جنس کے دوسرے لوگ ان کی جگہ لاسکتے ہیں ۔ جو اپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں گے۔
دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں ان کی شکلیں تبدیل کرسکتے ہیں۔ یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضا بنا سکتے ہیں ، اسی طرح ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کردیں کہ کسی کو لقوہ مار جائے اور ۔۔ کسی بیمای یا حادثہ کا شکار ہو کر اپاہج ہ جائے۔
تیسرے یہ کہ ہم جب چاہیں موت کے بعد ان کو دوبارہ کسی اور شکل میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
Ayah 76:29(76:29) ان ھذہ تذکرۃ : ان حرف تحقیق ۔ حر مشبہ بالفعل ھذہ (یہ سورة یا یہ آیات) اسم اشارہ واحد مؤنث (اسم ان) تذکرۃ۔ ان کی خبر، بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر۔ یاد دہانی ، نصیحت، یاد کرنے کی چیز۔
ترجمہ ہوگا :۔ یہ (آیات یا یہ سورۃ) ایک نصیحت ہے (سب کے لئے) ۔
فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا :عطف کے لئے ہے، بمعنی پس، پھر۔ من شرطیہ ہے۔ شاء ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مشیئۃ (باب سمع) مصدر۔ شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح۔ اس کو الف سے بدلا۔ اس نے چاہا۔ اس نے ارادہ کیا۔ اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اتخاذ (افتعال) مصر ۔ بمعنی اختیار کرنا۔ پسند کرنا۔
سبیلا۔ راستہ۔ راہ۔ سبیل، منصوب بوجہ اتخذ کے مفعول ہونے کے ہے۔ سبیلا کا استعمال ہر اس شے کے لیے ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی شے تک پہنچا جاسکے خواہ وہ شے شر ہو یا خبر۔ نیز واضح راستہ بھی اس سے مراد لیا جاتا ہے۔ یہ لفظ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے جیسے وان یروا سبیل الرشد لایتخذوہ سبیلا اور اگر راستی کا راستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) راستہ نہ بنائیں۔ اور بطور مؤنث بھی مستعمل ہے جیسے قل ھذہ سبیلی (12:108) کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر جس نے چاہا اس نے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلیا۔ یا پس جس کا جی چاہے اپنے رب کے قریب کا راستہ اختیار کرے۔
Ayah 76:30(76:30) وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ : ما نافیہ۔ تشاء ون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ الا حرف استثناء ان مصدریہ۔ تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے کہ اللہ خود چاہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 76:29 متذکرۃ الصدر۔
ان اللہ کان علیما حکیما : ان حرف تحقیق اللہ منصوب بوجہ عمل ان کان کا اسم ہے۔ علیما حکیما کان کی خبر ہیں۔ بیشک اللہ بڑا علم و حکیم ہے۔
علیم علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے خوب جاننے والا۔ واؤ عاطفہ محذوف ہے حکیما کا عطف علیما پر ہے۔ حکیما حکمۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے حکمت والا۔
Ayah 76:31(76:31) من یشائ : من موصولہ یشاء اس کا صلہ اس کا فاعل اللہ ہے ۔ وہ جسے اللہ چاہتا ہے۔ من یشاء مفعول ہے یدخل کا۔ اور اس کا فاعل بھی اللہ ہے۔ رحمتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع بھی اللہ ہے ۔
ترجمہ ہوگا :۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے۔
رحمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک جنت ہی ہے۔ (روح المعانی۔ السیر التفاسیر، تفسیر مظہری)
کیونکہ آخرت میں جنت ہی محل رحمت ہے۔ (تفسیر مظہری)
والظلمین اعدلہم عذابا الیما۔ واؤ عاطفہ۔ الظلمین مفعول فعل محذوف کا ہے ای ویکفا الظلمین اور وہ ظالموں کو دھتکارتا ہے۔ یکفا کا عطف یدخل پر ہے۔ حسب محاورہ قرآنی سیاق میں ظالم سے مراد کا فرہی ہیں۔ جنہوں نے اپنے ارادہ و اختیار سے کام نہ لیا۔
ای الکافرین (مدارک) اے المشرکین (معالم) وہم الکافرون (جلالین) ۔ اعدلہم عذابا الیما۔ جملہ حالیہ ہے (ان ظالمین کا حال یہ ہے کہ ان کے لئے اس نے ردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اعد ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) مصدر۔ اس نے تیار کیا ہے اس نے تیار کر رکھا ہے۔
عذابا الیما۔ موصوف و صفت : دردناک عذاب، دکھ دینے والا عذاب ۔ الم یالم ایلام (افعال) مصدر سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ عذابا بوجہ اعد کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔