76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 76:1–22

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا فرمایا کہ ہم اس کو آزمائیں ، تو ہم نے اس کو سننے دیکھنے والا بنایا

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اسے راہ بھی دکھا دی۔ چاہے تو شکر ادا کرے اور چاہے تو ناشکرا ہو

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بیشک ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بیشک نیکی کرنے والے لوگ ایسے جام سے پئیں گے کہ اس میں کافور کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

ایسے چشمہ سے جس سے اللہ کے (خاص) بندے پئیں گے اور جس کو (جہاں چاہیں گے) بہا کرلے جائیں گے

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور وہ لوگ محض اس (اللہ) کی محبت میں غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم تم کو محض اللہ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے اس کا کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ (کے طالب ہیں)

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

بیشک ہم اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اس دن کے بارے جو (چہروں کو) بگاڑنے والا (اور دلوں کو) بےقرار کرنے والا ہے۔

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو اللہ ان کو اس دن کو سختی سے محفوظ رکھیں گے اور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائیں گے

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت اور ریشمی لباس عطا فرمائیں گے

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

(اس حال میں کہ) وہ ہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوں گے نہ وہاں گرمی کی تپش دیکھیں گے اور نہ سردی کی شدت

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور وہاں (درختوں کے) سائے ان پر جھکے ہوں گے اور پھلوں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آب خورے جو شیشے کے ہوں گے

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے بھی چاندی کے ہوں گے جو ٹھیک انداز کے مطابق بنائے گئے ہیں

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

وہاں (جنت میں) ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہنے والے لڑکے آتے جاتے ہوں گے اور (اے مخاطب ! ) جب تو ان کو (چلتے پھرتے) دیکھے تو سمجھے کہ موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) جب تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھ کو کثرت سے نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدنوں) پر دیبا کے سبز اور طلس کے کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ مشروب پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یقینا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت قبول فرمائی گئی

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر اس کو مختلف حالتوں سے گزار کر عقل وخرد کا مالک اور شعور انسانی عطا کردیتا ہے پھر اس کی ہدایت کا سامان کیا جاتا ہے اور اسے اختیار مل جاتا ہے کہ اطاعت کا راستہ اختیار کرے یانافرمانی کا اگر کفر کی راہ اپنائے گا تو انجام کار زنجیروں میں جکڑا جائے گا اور طوق پہنا کر دوزخ میں ڈالاجائے گا جبکہ اطاعت گزاروں پہ انعامات ہوں گے اور ایسے لذیذ مشروب کہ ان میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ان کی تواضع کے لیے ہوں گے اور ایسے مشروبات کے چشمے ہوں گے جنہیں اہل جنت اپنی مرضی سے چلائیں گے جہاں حکم دیں وہ ادھر جاری ہوجائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں نذر تک پوری کرتے تھے۔ نذر یامنت۔ نذر اس کام کی مانی جاسکتی ہے جو شرعا درست ہو اور وہ مانی جاسکتی ہے جو ازقسم فرائض پر ہو فرض نہ ہو جیسے نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ فرض ہے توفرائض کے علاوہ نوافل یانفلی روزے یاصدقہ کی منت مانی جاسکتی ہے پھر اسے ضرور پورا کیا جائے۔ یہاں مراد ہے جو اپنی طرف سے اپنے اوپر مقرر کرتے وہ بھی پورا کرتے تھے جو اللہ نے کردیا وہ تو بہرحال ضرور کرتے ہوں گے اور قیامت کے دن سے جس کا عذاب پھیل پڑے گا اور کفار کو سیلاب کی طرح نگلے گا ، ڈرتے تھے ان کا مالی نظام اور معاشی سلسلہ ایسا تھا کہ اللہ کے حکم کے تابع تھا یعنی اس کی محبت میں مساکین اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے تھے کہ کافر بھی اگر قیدی ہوتوریاست اسلامی اس کے کھانے کا اہتمام کرے گی اور ان سے اس کا بدلہ نہیں چاہتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے تم سے کسی بدلے کی ضرورت نہیں۔ تم سے احسان منوانا بھی نہیں چاہتے بلکہ ہم تو اللہ سے ڈرتے ہیں کہ قیامت بہت اداس کردینے والا اور سختی والا دن ہوگاتو اللہ ایسے لوگوں کو اس روز کی شدت اور عذاب سے بچائے گا اور انہیں تازگی اور مسرت و خوشی نصیب ہوگی یعنی روز قیامت بیک وقت وذاب سے بھر پور ہوگا اور لذت سے بھی اور انہوں نے خود کو اللہ کی اطاعت پہ قائم رکھا لہذا یہاں انہیں اس کا انعام بخشا جائے گا جو خوبصورت باغوں اور ریشمی لباسوں کی شکل میں عطا ہوگاجہاں وہ گاؤ تکیے لگاکربیٹھے ہوں گے وہاں موسموں کی شدت نہ ہوگی نہ گرمی نہ سردی یعنی کسی طرح سے کوئی شے ان کی لذات میں مخل نہ ہوگی ۔ حسین درختوں کی خوبصورت چھاؤں اور پھلوں سے جھکی ہوئی شاخیں جو ان کی خدمت کو حاضر ہوں یعنی جیسے اور جب چاہیں گے پھل حاصل کریں گے اور خدام ان کے لیے چاندی کے آبخوروں میں مشروب لیے پھرتے ہوں گے جو شیشے کی طرح شفاف ہوں گے اور خوبصورت انداز میں بھرے ہوئے ہوں گے۔ دوسری طرح کا مشروب بھی ہوگا جس میں سونٹھ کا ذائقہ ہوگایہ اس چشمے کا ہوگا جس کا نام سلسبیل ہے ان کی خدمت کے لیے نوعمر لڑکے ہوں گے کہ اگر انہیں دیکھاجائے تو لگے موتی بکھرے پڑتے ہیں۔ جنت کے خدام میں نوعمر بچے بھی ہوں گے۔ جنت میں جنتیوں کے خادم نوعمر خوبصورت حسین لڑکے بھی ہوں گے جو ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے کہ ان کے گھروں کے اندر بھی خدمت کرسکیں گے یہ مخلوق جنت میں اللہ پیدا فرمادیں گے اور علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کفار کے نابالغ بچے جنت میں خادم بنادیے جائیں گے۔ اور جس جنتی کو دیکھیں وہی سلطان نظر آئے گا کہ اس کی رہائش کی وسعت کسی سلطنت سے کم نہ ہوگی ان کے لباس بہت خوبصورت ہوں گے کہ سبز گاڑھے اور اوپر ایک باریک ریشمی لباس اور جنت کی چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہوں گے اور اللہ انہیں مشروب پلائیں گے اور ارشاد ہوگایہ تمہارا انعام ہے کہ تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔
Ayahs 76:23–31

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے حبیب ﷺ ! ) بیشک ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ نازل فرمایا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

پس اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں (قائم رہیں) اور ان میں سے کسی بدکار یا کافر کے کہنے میں نہ آئیے

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح وشام اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتے رہیے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو (بڑی دیر تک) اس کے آگے سجدہ کیجئے اور رات کے اکثر حصے میں اس کی تسبیح کیا کیجئے

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہیں اور اپنے آگے (آنے والے) ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا فرمایا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان کی جگہ ایسے ہی لوگ بدل دیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بیشک یہ نصیحت ہے تو جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرلے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہو گے سوائے اس کے جو اللہ چاہیں بیشک اللہ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جس کو چاہیں اپنی رحمت میں داخل فرمالیں اور ظالموں کے لئے انہوں نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

آیات 23 تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور شرعیت پر عمل کرنے کے لی قوت نصیب ہوتی ہے کفار کی پرواہ مت کیجئے ان بدبختوں نے تو دنیا کے لالچ میں آخرت کو فراموش کررکھا ہے جو بہت مشکل مقام ہے حالانکہ ہم نے ان کو پیدا کیا اور چھوٹے چھوٹے بیشمار مظبوط جوڑ لگا کر انسانی جسم کو بنایا اور جب چاہیں ویسے پھر سے زندہ کردیں بھلا کیا مشکل ہے یہ سب ایک قیمتی نصیحت ہے لہذا جو چاہے اپنے رب کا راستہ اپنالے لیکن وہی کچھ آرزوں کریں گے جس کی اللہ توفیق دیں گے اور توفیق الٰہی کیفیت قلبی پر ہے کہ ایمان قبول کرتا ہے یارد کرتا ہے کہ اللہ سب جانتا بھی ہے اور وہ بہت بڑی حکمت والا ہے۔ رضاء الٰہی۔ جس پر کرم کرتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے یعنی اللہ کی رحمت اور رضایہ ہے کہ نیک عمل کی توفیق ارزاں فرمادیتا ہے جو ظلم کرتے ہیں کہ سب سے بڑا ظلم اللہ پر ایمان نہ لانا ہے تو ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔