Explained with ayahs 16–25
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ
یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْقِیٰمَة 11
یہاں سے لے کر " پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیج میں توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کر آئے ہیں، نبوت کے ابتدائی دور میں، جبکہ حضور ﷺ کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی، آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہوجاتا تھا کہ جبریل ؑ جو کلام الہی آپ کو سنا رہے ہیں وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں، اس لیے آپ وحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرتے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل سورة قیامہ کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ 14ۙوَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ
بصیر اور بصیرة کے معنے دیکھنے والے کے بھی آتے ہیں اور بصیرة کے معنے حجت کے بھی آتے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے قد جائکم بصائر من ربکم اسمیں بصائر بصیرة کی جمع ہے اور معنی اسکے حجت کے ہیں اور معاذیر معذار بمعنے عذر کی جمع ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ عدالت کے ضابطہ کی رو سے انسان کے سارے اعمال محشر میں اس کو ایک ایک کرکے بتلائے جاویں گے مگر درحقیقت اس کو اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ اپنے اعمال کو خوب جانتا ہے خود اس کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کیا کام کئے، نیز یہ کہ محشر میں تمام اپنے اعمال نیک وبد کا مشادہ بھی اس کے…
Read the full tafseer →’اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ‘۔ یہ حضور ﷺ کی اس تشویش کو رفع فرمایا ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ چونکہ ایک عظیم آسمانی خزانہ آپ کی تحویل میں دیا جا رہا تھا اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کو اپنی امانت میں لیتے ہوئے آپ ایک ایک لفظ کو اس طرح محفوظ کرنے کی کوشش کرتے کہ کوئی حرف ضائع نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اس کو محفوظ کرنے اور اس کو سنانے کی ذمہ داری ہم نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔
قرآن کے جمع و ترتیب اور اس کی حفاظت کا وعدہ: لفظ ’جمع‘ یہاں ایک جامع لفظ ہے۔ اس سے مراد اس کو نبی ﷺ کے سینہ میں محفوظ کرنا بھی ہے اور ان منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا بھی۔…
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کردینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کردینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یادداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
6: یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ پر قرآن کریم نازل ہوتا تو آپ اس کے الفاظ ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے، تاکہ آپ انہیں بھول نہ جائیں۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ زبان مبارک سے الفاظ کو دہرانے کی مشقت نہ اٹھائیں، کیونکہ ہم نے ذمہ داری لے لی ہے کہ ہم انہیں آپ کو یاد بھی کرائیں گے، اور ان کی تشریح بھی آپ کے قلب مبارک میں واضح کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔
لا تحرک ........................ بیانہ
ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
1 شروع میں جس وقت حضرت جبرائیل اللہ کی طرف سے قرآن لاتے، ان پر پڑھنے کے ساتھ حضرت ﷺ بھی دل میں پڑھتے جاتے تھے تاکہ جلد اسے یاد کرلیں اور سیکھ لیں۔ مبادا جبرائیل چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔ مگر اس صورت میں آپ ﷺ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہ آتا۔ اور سمجھنے میں بھی ظاہر ہے دقت پیش آتی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہو کر سننا ہی چاہیے۔ یہ فکر مت کرو کہ یاد نہیں رہے گا۔ پھر کیسے پڑھوں گا۔ اور لوگوں کو کس طرح سناؤں گا۔ اس کا تمہارے سینے میں حرف بحرف جمع کردینا اور تمہاری زبان سے پڑھوانا ہمارے…
Read the full tafseer →آیت 17{ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۔ } ”اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔“
یعنی آپ ﷺ خاطر جمع رکھیں ‘ قرآن مجید میں سے کوئی آیت یا کوئی لفظ آپ ﷺ بھولیں گے نہیں۔ اس پورے کلام کی حفاظت اور ترتیب ہمارے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
12 آیت نمبر 16 سے لے کر 19 تک چار آیات درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں ان کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جبرئیل آپ ﷺ پر وحی لے کر آتے تو آپ زبان اور لب ہلاتے رہتے (کہ کہیں بھول نہ جائے) اس سے آپ ﷺ پر بہت سختی ہوجاتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہوجاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں یعنی وحی کا آپ ﷺ کے دل میں جما دینا (یاد کرا دینا) ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھا دینا بھی۔ تو جب ہم پڑھ چکیں تو آپ ﷺ بھی اسی طرح پڑھیں جیسے ہم نے پڑھا تھا اور جب تک وحی اترتی رہے۔ خاموش سنتے رہیں۔ پھر وحی کے الفاظ کو آپ ﷺ کی زبان پر رواں کردینا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
7۔ نزول وحی کے دوران میں آپ ﷺ اس خیال سے کہیں یہ الفاظ ذہن سے نکل نہ جائیں، خود بھی جلدی جلدی انہیں کو دہرانے لگتے تھے۔ یہاں یہ حکم مل رہا ہے کہ آپ نزول وحی کے وقت بس سکون وخاموشی سے سنتے ہی رہا کیجئے اور یہ اندیشہ بھی دل میں نہ لائیے کہ وحی کا کوئی خفیف ساجزو بھی قلب سے نکل جائے گا۔ اس کی محفوظیت کے ذمہ دار تو ہم خود ہیں۔ (آیت) ” بہ “۔ بہ دونوں جگہ ضمیر قران کی طرف راجع ہوتی ہے۔ (آیت) ” جمعہ “۔ یعنی قرآن کا آپ کے سینہ میں جمع کردینا۔ معناہ علینا جمعہ فی صدرک وحفضک (کبیر) (آیت) ” وقرانہ “۔ یعنی پورے کے پورے قرآن کا آپ کی زبان سے پڑھوا دینا۔ انا سنقرئک یا محمد الی ان تصیر بحیث لاتنساہ (کبیر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ، یہاں سے لے کر آیت 19 تک ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے جیسا کہ ما قبل میں ہم اس کی وضاحت کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →ان علینا جمعہ . قرآن کو تمہارے سینہ میں جمع کردینا تو ہمارے ذمہ ہے۔
وقرانہ . اور قرآن کو تمہاری زبان سے رواں کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(16۔ 18) اے محمد قرآن پڑھنے کے لیے آپ اپنی زبان نہ ہلایا کیجیے اس سے پہلے کہ جبریل امین اپنی قرات سے فارغ ہوجائیں کیونکہ نبی اکرم جس وقت جبریل امین قرآن کریم کا کوئی حصہ لے کر آتے تھے تو جبریل امین کے ختم کرنے سے پہلے بھول جانے کے خوف سے آپ پڑھنا شروع کردیتے، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرمائی اور فرمایا کہ آپ کے قلب میں اس کا جمع کردینا ہمارے ذمہ ہے اور جبریل امین کی قرات کا آپ کی زبان سے پڑھوا دینا یا یہ کہ حلال و حرام کا سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے، سو جس وقت جبریل امین اس کو پڑھنے لگا کریں تو آپ ان کے بعد اس کو پڑھ لیا کیجیے یا یہ کہ جس وقت وہ حلال و حرام کی تعلیم کریں تو آپ ان کی پیروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
(1) لاتحرک بہ لسانک…: ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اترتے وقت بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ)”تو اس کیساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے کہ اسے جلدی حاصل کرے۔ بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ ﷺ کا) اس کو پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔”ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔”فاذا قرانہ فاتبع قرآن ہ“ تو جب ہم اسے پڑھیں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔”ثم ان علینا بیانہ“ پھر یہ ہمارے ذمے ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ان علینا جمعہ وقرآنہ۔ فاذاقرانہ فاتبع قرانہ۔ یعنی آپ کے سینے میں جمع کرنا ہمارے ذمہ کرم پر ہے پھر آپ اسے پڑھیں جب ہم اسے پڑھیں تو اس کو سنیں اور خاموش رہیں اس کے بعد رسول الہ کا معمول یہ تھا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) آتے تو آپ سنتے جب وہ چلے جاتے تو نبی کریم اسے اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل امین نے پڑھا ہوتا۔ اسے امام بخاری نے بھی نقل کیا ہے اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ولاتعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ (طہ 114) وحی کے مکمل ہونے سے پہلے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔
عامر شعبی نے کہا : جب قرآن حکیم آپ پر نازل ہوتا تو قرآن کی محبت اور زبان میں اس کی مٹھاس پانے کی وجہ سے جلدی کرتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
11۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب قرآن نازل ہوتا تو آپ اس کے پڑھنے میں جلدی فرماتے تاکہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت لا تحرک بہ لسانک اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ اور رسول اللہ ﷺ سورة کے ختم ہونے کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ آپ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو آپ سمجھ لیتے کہ پہلی سورة ختم ہوگئی اب نئی سورة شروع ہوئی۔
قرآن یاد کرنے کا اہتمام
12۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قطعاً سستی اور کوتاہی نہیں فرماتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ وہ اس کو بھول نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لا تحرک…
Read the full tafseer →[ان عَلَيْنَا جَمْعَهٗ : بیشک ہم پر ہے اس کا جمع کرنا (آپ ﷺ کے سینے میں)] [وَقُرْاٰنَه : اور (آسان کرنا) اس کا پڑھنا ]
نوٹ 2: آیت ۔ 17 ۔ میں لفظ جمع ایک جامع لفظ ہے۔ اس سے مراد قرآن کو نبی ﷺ کے سینے میں محفوظ کرنا بھی ہے اور ان منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا بھی ہے۔ چناچہ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر رہنمائی حاصل ہوتی رہی کہ مختلف مواقع پر نازل ہونے والی آیات کو الگ الگ سورتوں میں کس ترتیب سے آپ ﷺ جمع کرائیں۔ چناچہ اسی رہنمائی کی روشنی میں آپ ﷺ نے الگ الگ سورتوں میں ان کے مواقع کے تعین کے ساتھ آیات جمع کرنے کی ہدایت فرمائی اور جمع کرنے والوں نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کی۔ اس کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
رسول اللہ ﷺ سے مشفقانہ خطاب، آپ فرشتہ سے قرآن کو خوب اچھی طرح سن لیں پھر دہرائیں، ہم آپ سے قرآن پڑھوائیں گے اور بیان کروائیں گے
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مشفقانہ خطاب فرمایا ہے جیسا کہ دوسرے خطابات بھی اسی طرح کے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان کا شان نزول یوں بیان فرمایا کہ جب وحی نازل ہوتی تھی تو رسول اللہ ﷺ مشقت برداشت کرتے تھے اور اپنے دونوں ہونٹوں کو ہلاتے تھے (تاکہ جو کچھ نازل ہو رہا ہے وہ فوراً یاد ہوجائے) ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ جلدی نہ کریں ہم اسے آپ کے سینہ میں جمع کردیں گے اور آپ سے پڑھوا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
8:۔ ” لا تحرک “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ روافض کہتے ہیں ان آیتوں کا ما قبل اور ما بعد سے کوئی تعلق نہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں تغیر و تبدل ہوچکا ہے اور ان آیتوں کو ان کے موزوں مقام سے اٹھا کر یہاں رکھ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ اعتراض سراسر باطل ہے، کیونکہ یہ ترتیب توقیفی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے آپ کی زندگی ہی میں مکمل ہوچکی تھی۔ اس پر امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا اجماع ہے اور قرآن میں تغیر و تبدل اور زیادۃ و نقصان کا قول کفر ہے۔ باقی رہی ان آیتوں کی سیاق وسباق سے مناسبت تو اس میں کئی وجوہ ہیں۔ وجہ اول، ممکن ہے گذشتہ آیتوں کے نزول کے وقت آنحضرت ﷺ نے ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کردیا ہو تاکہ…
Read the full tafseer →اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ 17
جمع
الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ،
( ج م ع ) الجمع
کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے
قرآن
والْقُرْآنُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ۔ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقَرْاٰنَـہٗ ۔ فَاِذَا قَرَاْنٰـہٗ فَاتَّبِعُ قُرْاٰنَـہٗ ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَـہٗ ۔ (القیامۃ : 16 تا 19)
(اے نبی، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے۔ ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھوا دینا۔ تو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس کی پیروی کریں۔ پھر اس کی وضاحت کردینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ )
ان آیات کا پس منظر
بعض لوگوں نے ان چار آیات کے حوالے سے اعتراض کیا ہے کہ یہ سیاق وسباق سے بالکل ہٹی ہوئی اور غیرمتعلق ہیں کیونکہ قیامت پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا جارہا تھا اسی ضمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کی دعوت کا تیسرا بڑا جز لوگوں کو قیامت کے احتساب سے آگاہ کرنا ہے۔ جب آپ ﷺ لوگوں کے سامنے قیامت کا ذکر کرتے تو لوگ اس پر غور کرنے کی بجائے جلد بازی میں آکر کہتے کہ قیامت کب آئے گی۔ نبی ﷺ وحی کے نزول کے وقت اس لیے جلدی فرماتے تاکہ وحی کا کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اس پر آپ کو جلد بازی سے روکا گیا اور تسلی دی گئی کہ جس وجہ سے آپ جلدی کرتے ہیں اس کا فکر نہ کریں آپ کو قرآن مجید ضبط کروانا اور اس کا ابلاغ کروانا ہمارے ذمہ ہے لہٰذا آپ اطمینان کے ساتھ وحی سنا کریں۔
وحی کے ابتدائی ایام میں نبی ﷺ کے سامنے جبریل امین قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے تو آپ جلدی جلدی اسے پڑھنے کی کوشش…
Read the full tafseer →17 : اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کردینا اور اس کا پڑھا دینا) جمع کرنا آپ کے سینہ اطہر میں اور قراٰنہٗؔ اس کی قراءت کا زبان پر چڑھا دینا۔ قرآنؔ کا معنی قراءت ہے اور اس کی مثال دوسری آیت میں ہے ولا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضٰی الیک وحیہ ] طہ : 114[
Read the full tafseer →16 ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ “ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ “ کے بارے میں مروی ہے ، فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر اترتے تو اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے تو یہ آپ پر گراں ہو اور یہ آپ (علیہ السلام) سے پہچانا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” لا اقسم بیوم القیامۃ “ سورت میں ” لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا (اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه ٗ ) اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھوا دینا ہمارے ذمے ہے یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کردی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔
انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16 پیغمبر کیلئے ایک خاص بشارت کا ذکر وبیان : سو اس سے پیغمبر کی تسکین و تسلی کے لئے ایک عظیم الشان بسارت اور بےمثال مژدئہ جانفزا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ پیغمبر کی تسکین وتسلیہ کیلئے آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی یاد کرلینے کی غرض سے اپنی زبان کو نہ ہلایا کریں۔ بلاشبہ ہمارے ذمے ہے اس قرآن کو جمع کرنا اور اس کو پڑھا دینا۔ لہٰذا آپ ﷺ کو اس بارہ فکر کرنے اور تکلیف اٹھانے اور مشقت برداشت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘ کہ سب کچھ ہمارے ذمے ہے ‘ روایات میں وارد و منقول ہے کہ جب جبریل امین وحی لے کر آتے تو آنحضرت ﷺ اس خیال سے کہ کہیں یہ بھول نہ جائے آپ ﷺ ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے لگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا
تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 4 صحیحین وغیرہ میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر وحی اترتے وقت سختی ہوتی تو آپ جلدی جلدی اپنی زبان اور ہونٹ ہلاتے رہتے اس ڈر سے کہ کہیں وحی کا کوئی حصہ آپ بھول نہ جائیں آپ یہ چاہتے کہ اسے اس طرح محفوظ کرلیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نییہ آیات نازل فرمائیں چناچہ اس کے بعد جب وحی آتی تو آپ خاموش رہ کر سنتے رہتے، جب حضرت جبریل چلے جاتے تو آپ جو انہوں نے پڑھایا ہوتا اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق پڑھ دیتے۔ نیز دیکھیے سورة طہ 114 (شو کانی)
Read the full tafseer →(75:17) ان علینا جمعہ : علینا ہمارے ذمہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ ای ان علینا جمعہ فی صدرک بحیث لایذھب علیک شیء من معافیہ یعنی قرآن قرآن کا تمہارے سینہ میں اس طرح جمع کردینا کہ اس کے معنی سے کوئی شے بھی تم سے مخفی نہ رہ جائے یہ ہمارا ذمہ ہے۔
وقرانہ۔ اس کا عطف جمعہ پر ہے دونوں منصوب بوجہ عمل ان ہیں۔ قرآن مصدر ہے بمعنی پڑھنا۔ یہ اللہ کی کتاب کا خاص نام ہے جو کہ ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی کسی دوسری آسمانی کتاب کا نام قرآن نہیں ہے۔
قرآن کی وجہ تسمیہ کے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ پروفیسر عبد الرؤف کے مطابق قرآن کہنے کی وجہ صرف قرأت اور تلاوت ہے اللہ کی کتاب عموما جہر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔
لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔
تشریح :
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
حفاظت قرآن مجید کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے۔
(ف 3) شان نزول : نبی ﷺ جبرائیل امین کے وحی پہنچا کر فارغ ہونے سے قبل یا دفرمانے کی سعی فرماتے تھے اور جلد جلد پڑھتے اور زبان اقدس کو حرکت دیتے، اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی مشقت گوارا نہ فرمائی اور قرآن کریم کا سینہ پاک میں محفوظ کرنا اور زبان اقدس پر جاری فرمانا اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے اور یہ آیت کریمہ نازل فرماکرحضور ﷺ کو مطمئن فرمادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[6] یعنی اپنی دنیوی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے آخرت کے لئے بھیجی تھی اور اپنے اچھے اور برے اعمال کے کیا اثرات وہ دنیا میں چھوڑ کر آیا تھا جو اس کے مرنے کے بعد مدتوں تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ یہ جتلانا اس معنی میں نہ ہوگا کہ ایک بیخبر اور ناواقف کو واقف اور باخبر کیا جا رہا ہے بلکہ اس لئے کہ انصاف کے تقاضے برسر عدالت جرم کا ثبوت پیش کئے بغیر پورے نہیں ہوتے، ورنہ ہر انسان جانتا ہے جو کچھ اس نے کیا ہے گو دوسروں کے سامنے حیلے بہانے بنا کر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوششیں کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
ایک لطیف ربط
3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…
Read the full tafseer →(17) اس قرآن کا آپ کے سینے میں جمع کردینا اور آپ کی زبان سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی آپ یہ تکلیف برداشت نہ کیا کیجئے جس خطرے سے آپ اندیشہ کرتے ہیں کہ کہیں کوئی لفظ رہ نہ جائے اور پڑھتے وقت یاد نہ آئے اور پوری وحی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو نہ پہنچا سکوں تو اس کا خطرہ نہ کیجئے کیونکہ اس قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کردینا اور آپ کی زبان سے ادا کرادینا ہمارے ذمے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 4۔ یعنی انسان اپنے سب حال کو خوب جانتا ہوگا اس لئے جتلانا اعلام کے لئے نہ ہوگا بلکہ تفریع و اتمام حجت و قطع جواب کے لئے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(مت حرکت دو قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو ، کہ جلد یاد کرلو۔ بلاشبہ ہم پر ہے اس کا جمع کرنا) تمہارے دل میں تاکہ تم دیاد رکھو (اور اس کا تمہارے پڑھنے میں رکھنا) یعنی اس کی قرات کو تمہاری زبان پر ثابت کردینا۔ (تو جب ہم) جبریل کی زبانی (اسے پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو) یعنی اسی طرح تم بھی پڑھو اور اس میں غور و فکر کرو۔ یعنی اس کے مطالب و معانی کا سمجھانا بھی ہمارے ہی ذمہ کرم میں ہے ۔ تو اس کا مطلب بھی حضرت جبریل سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ، تم خود ہی غور و فکر کرو۔ حق تعالیٰ اپنے فضل سے تمہارے دل میں اس کا مطلب القا فرما دے گا ، اور اس کلام میں جو مشکل ہوگا اس کو تم پر ظاہر فرما دے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in:
قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ
'...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] '
In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11 The whole passage from here to "Again, it is for Us to explain its meaning", is a parenthesis, which has been interposed here as an address to the Holy Prophet (upon whom be peace) . As we have explained in the Introduction above, in the initial stage of the Prophethood when the Holy Prophet (upon whom be peace) was not yet fully used to receiving the Revelation, he was afraid when Revelation came down to him whether he would be able to remember exactly what the Angel Gabriel (peace be on him) was reciting to him or not. Therefore, he would try to commit to memory rapidly what he heard…
Read the full tafseer →