وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۟ۙوَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِۙ
اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the mountains will be like wool,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۟ۙوَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِۙ
اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the mountains will be like wool,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij
اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہو جائیں گے
اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے
اور پہاڑ رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔
اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون
اور پہاڑ (دُھنکی ہوئی) رنگین اُون کی طرح ہو جائیں گے،
اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔
اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ رنگ کی روئی
اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند
اور یہ پہاڑ (دھنکی ہوئی) رنگ برنگی اون کی مانند (اڑتے پھر رہے) ہوں گے
اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے
اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی روئی (یا رنگی ہوئی اُون)۔
اور پہاڑ ایسے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون
and the mountains will become like dyed tufts of wool,
and the mountains will be like dyed wool,
and the mountains will be like dyed wool,
And the mountains will be like `Ihn.
And the hills become as flakes of wool,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And the mountains will be like wool,
and the mountains become like wool,
And the mountains shall be as tufts of wool
And then the mountains shall become like Unto wool dyed.
And the mountains will be like wool,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–18
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الْمَعَارِج 10 چونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، اس لیے جب وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اور بےوزن ہو کر اڑنے لگیں گے تو ایسے معلوم ہونگے جیسے رنگ برنگ کا دھنکا ہوا اون اڑ رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا، یہاں قریب و بعید با اعتبار مسافت یا زمانے کے نہیں بلکہ بعید از امکان یا بعید از وقوع مراد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ تو قیامت کے وقوع بلکہ امکان کو بھی بعید سمجھ رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
Read the full tafseer →’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ‘۔ لفظ ’عِہْنٌ‘ کے معنی اون کے ہیں اور اس سے مراد یہاں دھنی ہوئی اون ہے، جیسا کہ سورۂ قارعہ میں فرمایا ہے: ’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنفُوْشِ‘ (القارعہ ۱۰۱: ۵) (اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے)۔ یہ احوال قیامت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جو ازقبیل متشابہات ہیں۔ ان کی اصل حقیقت یہاں سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لیکن ذہن اس طرف جاتا ہے کہ آسمان کی سرخی نتیجہ ہو گی جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند پراگندہ کر دیے جائیں گے تاکہ جو لوگ پہاڑوں کو لازوال سمجھتے رہے ہیں وہ ان کی بے ثباتی کا مشاہدہ کر لیں۔ ظاہر ہے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورة القارعۃ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یوم تکون ................ کالعھن (07 : 9) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ مہل کے معنی ہیں خام معدنیات کو پگھلانا مثلا تیل کی تلجھٹ ، اور العہن کے معنی ہیں اون کا منقش کپڑا۔ قرآن کریم مختلف مقامات میں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس دن عظیم واقعات رونما ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اس دنیا کے اجرام فلکی کی موجودہ حالت نہیں رہے گی۔ ان کے اوصاف ، حالات اور شکل بدل جائے گی اور ان میں سے ایک یہ آسمان یوں ہوجائے گا جس طرح پگھلی ہوئی معدنیات۔ اور جو لو علوم طبیعیہ پر تحقیقات کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان آیات پر غور کریں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم…
Read the full tafseer →10 اون مختلف رنگ کی ہوتی ہے اور پہاڑوں کی رنگتیں بھی مختلف ہیں۔ کما قال تعالیٰ (ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ) 35 ۔ فاطر :27) دوسری جگہ فرمایا " کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ " (القارعہ) یعنی پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑتے پھریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت 6 ‘ 7{ اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا - وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں ‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے ‘ مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یا خبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہرچیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7 پہاڑوں کے پتھر بھی کئی رنگوں کے ہوتے ہیں مثلاً سرخ، سفید، کالے، دھاری دار اسی طرح اون کے عموماً یہی رنگ ہوتے ہیں۔ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑنے لگیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ رنگ برنگی دھنکی ہوئی روئی کے گالے اڑے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
6۔ یعنی ایسی نفسی نفسی اس وقت پڑی ہوگی کہ غیر تو کیا کام آئیں گے خود اپنے قریبی بھی بات تک نہ پوچھیں گے۔ (آیت) ” یوم “۔ یعنی کافروں پر یہ عذاب اس دن واقع ہوگا، جس کی کیفیت اب بیان ہورہی ہے۔ امتداد یوم حشر کا بیان ابھی ہوچکا ہے۔ اب تفصیلات اس روز کے اشتداد کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” کالمھل “۔ یعنی تلچھٹ کی طرح سیاہی مائل انتہائی سرخی کے ڈانڈے سیاہی سے مل جاتے ہیں۔ اس لئے اس بیان اور (آیت) ” کانت السمآء وردۃ کالدھان “۔ میں کوئی تناقص نہیں۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ سرخی اور میلان بسیاہی یہ (2) مختلف رنگتیں (2) مختلف حالتوں کی ہوں۔ (آیت) ” السمآء کالمھل “۔ الجبال کالعھن “۔ جب آسمان اور پہاڑ جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →و تکون الجبال کالعھن . پہاڑ رنگ برنگ کے اون کی طرح ہوجائیں گے کیونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں ‘ جب ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ رنگین اون ہوا میں اڑ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اور اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا باوجوی کہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے مگر اپنی مشغولیت کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں پہچانیں گے۔ کافر یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی یا نضر بن حارث اور اس کے ساتھ اس بات کی تمنا کریں گے کہ قیامت کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور بیوی کو اور بھائی کو اور کنبہ کو جن میں وہ رہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یوم تکون السمآء کالمھل…:”کالمھل“ یعنی آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (سرخ اور گرم ہو کر پھٹ جائے گا۔) (دیکھیے رحمان : 37)”العھن“ اون، یعنی پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح بالکل ہلکے ہو کر اڑنے لگیں گے۔ دیکھیے سورة طہ (105)۔ قارعہ (5)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وتکون الجبال کالعھن۔ پہاڑ ہوجائیں گے رگنی ہوئی اون کی طرح۔ اون کو عھن اس وقت کہتے ہیں جب وہ رنگی ہوئی ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا، پہاڑ سرخ اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ اونوں میں سے کمزور ترین اون ہوتی ہے۔ اس معنی میں زہیر کا قول ہے : کان فتات العھن فی کل منزل فتاب کا معنی ٹکڑے۔ العھن سے مراد سرخ اون ہے۔ اس کی واحد عھنہ ہے، گویا سرخ اون کے ٹکڑے ہر جگہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : العھن سے مراد رگن دار اون ہے۔ پہاڑوں کو اس سے تشبیہ دی جا رہی ہے کیونکہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں معنی ہے پہاڑ سختی کے بعد نرم ہوجائیں گے اور اجتماع کے بعد بکھر جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سب سے پہلے پہاڑ جمع شدہ ریت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
3۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب فی المتفق والمفترق اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم تکون السماء کالمہل جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا یعنی اب آسمان سبز رنگ کا ہے۔ اور بیشک قیامت کے دن وہ سرخ رنگ میں بدل جائے گا۔ 4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم تکون السماء کالمہل کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ قیامت کے دن کے خوف سے آسمان تیل کی تلچھٹ اور بیڈی کی سیاہی کی مانند ہوجائے گا۔ پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ تنا دی بہ القسم…
Read the full tafseer →[وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ : اور ہوجائیں گے پہاڑ ][ كَالْعِهْنِ : رنگی ہوئی اون کی مانند ] ع ھ ن [عَھْنًا : (ض) شاخ کا لچکنا اور ٹوٹنے کے قریب ہونا۔] عِھْنٌ رنگی ہوئی اون۔ آیت زیر مطالعہ۔ 9]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
قیامت کے دن ایک دوست دوسرے دوست کو نہ پوچھے گا، رشتہ داروں کو اپنی جان کے بدلہ عذاب میں بھیجنے کو تیار ہوں گے ان آیات میں قیامت کے دن کی بعض بڑی چیزوں کے ادل بدل ہوجانے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہے کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا اور پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سورة القارعہ میں لفظ المنفوش کا بھی اضافہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے جو اڑتے ہوئے پھریں گے۔ آسمان کے بارے میں جو کالمہل فرمایا اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی تیل کی تلچھٹ اور صاحب جلالین نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے كذائب الفضتہ کہا ہے یعنی پگھلی ہوئی چاندی کی طرح سے ہوگا اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4:۔ ” یوم تکون السماء “ تخویف اخروی۔ ظرف کا متعلق محذوف ہے جو سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی وہ عذاب کب آئیگا ؟ جواب دیا گیا جب آسمان تانبہ گداختہ کی مانند ہوجائیں گے۔ کانہ قیل متی یقع ذلک العذاب ؟ یقع یوم تکون السماء الخ، افاہ الشیخ قدس سرہ۔ یا یہ ” قریبا “ سے متعلق ہے یا یقع مقدر سے۔ مراد اس سے قایمت کا دن ہے۔ قیامت کا منظر نہایت ہولناک ہوگا۔ قیامت کے دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی مانند سرخ ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئ روئی کے گالوں کی مانند ہوں گے۔ اس دن کوئی مخلص سے مخلص دوست بھی اپنے کسی دوست کی خبر نہیں لے گا، حالانکہ سب دوست آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے مگر کچھ کر نہیں سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِہْنِ 9 ۙ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ عهن العِهْنُ : الصّوف المصبوغ . قال تعالی: كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ [ القارعة/ 5] ، و تخصیص العِهْنِ لما فيه من اللّون کما ذکر في قوله : فَكانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهانِ [ الرحمن/ 37] ، ورمی بالکلام علی عَوَاهِنِهِ أي : أورده من غير فکر ورويّة، وذلک کقولهم :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یَوْمَ تَـکُوْنُ السَّمَآئُ کَالْمُھْلِ ۔ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ ۔ (المعارج : 8، 9) (جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوجائے گا۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : الْمُھْل …مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے، پگھلا ہوا تانبا۔ اور بعض اسے ” پگھلی ہوئی چاندی “ قرار دیتے ہیں۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک اس آیت کریمہ میں یہ لفظ تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں آیا ہے۔ عِھْنِ …کے معنی اون کے ہیں۔ لیکن سورة القارعہ میں پروردگار نے اس میں ایک لفظ کا اضافہ فرمایا ہے۔ اَلْمَنْفُوْش تو اس صورت میں عِھْنِ سے مراد دھنی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی شب وروز کوشش تھی کہ کفار کو جہنم کے عذاب سے بچایا جائے اس کے باوجود کفار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر نبی ﷺ کو پریشانی ہوتی تھی اس لیے آپ کو صبر جمیل کی تلقین کی گئی۔ کفار کا بار بار عذاب کا مطالبہ کرنا آپ ﷺ کے لیے دو وجہ سے پریشان کُن تھا پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے آرام اور کام کی پرواہ کیے بغیر انتہائی خیرخواہی اور درد مندی کے ساتھ کوشش فرما رہے تھے کہ یہ لوگ کفر و شرک چھوڑ کر اپنے رب کے حضور تائب ہوجائیں مگر وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے آپ کی مخالفت اور اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھے جارہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس بات پر طعنہ دیتے اور جھوٹا قرار…
Read the full tafseer →9 : وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ (اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے) مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی اُون۔ کیونکہ پہاڑ مختلف رنگت کے ہیں۔ جددٌ بیض وحمر مختلف الوانھا وغرابیب سود۔ ] فاطر : 27[ پس جب اس کو فضاء میں اڑا کر بکھیر دیا جائے گا تو بکھری دھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں جس کو ہوا اڑا لے جائے۔
Read the full tafseer →8 ۔” یوم تکون السماء کالمھل “ زیتون کے تلچھٹ کی طرح اور حسن (رح) فرماتے ہیں جیسے چاندی جب پگھلائی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔ عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…
Read the full tafseer →(وتکون الجبال کالعھن) ۔ اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔ اور وہ ہے بےدھن کی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہوجائیں گے جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بےقرار طاری ہوگی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کررکھا ہوگا۔ کیا وہ اس لائق نہ ہوگا کہ اس کا دل اکھڑ جائے اس کی عقل وخرد زائل ہوجائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہوجائے ؟ اس لیے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
8 قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے کیونکہ عہن دراصل کہتے ہی اس اون کو ہیں جو مختلف رنگوں کی ہوتی ہے (قرطبی وغیرہ) اور یہ اس لئے ہوگا کہ پہاڑ مختلف رنگوں کے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانہ و غرابیب سود " (فاطر : 27) ۔ اور جب مختلف رنگوں کے یہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " وتکون الجبال کالعھن المنفوش " (القارعۃ :15) ۔ جو ظاہر ہے کہ یہ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے تو پھر باقی کسی بلڈنگ وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔
Read the full tafseer →(70:9) وتکون الجبال کالعھن اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ ہے۔ اور پہاڑ اون کی طرح ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔
Read the full tafseer →(9) اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4۔ یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت زبان پر آجاوے، بلکہ یہ سمجھ کر عمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →اور پہاڑ رنگین اون کے گالوں کی طرح ہوں گے 9 ؎ (العھن) عھن رنگین اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی ہو۔ اس وقت بھی دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں بعض سیاہ ہیں ، بعض سرخ اور بعض سرخ اور سیاہ دونوں رنگوں کو ملانے سے جو رنگ پیدا ہوتا ہے ایسے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو سفید ہوں اور اسی طرح طرح کے ملے جلے رنگوں کی چیز کو جب روئی کے گالوں کی طرح یا اون کے نمدوں کی طرح بنایا جائے تو وہ اپنے مختلف رنگوں کے باعث مختلف رنگوں ہی میں نظر آتے ہیں اور آسمانوں کے بعد جب پہاڑوں کا ذکر کیا گیا ہے تو ان کی اس حالت کو بھی بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے روز ہوگی اور اس کے لئے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا (They see it far off, and We see it near....70:6-7). In this context, the expressions 'far off and 'near' do not refer to time or space, but 'far off in terms of possibility and occurrence. The verse purports to describe that the pagans see the occurrence of Resurrection as impossible, and Allah sees its occurrence not only possible, but a certain reality.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
10 As the colours of the mountains are different, when they are uprooted and they drift about weight less, they will appear like flakes of carded wool of different colours.
Read the full tafseer →