70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 70:1–7

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک1 مانگنے والے نے (بطور تمسخر کے) عذاب کی خواہش کی ۔

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

جو کافروں پر (واقع) ہونے والا ہے اس کا کوئی روکنے والا نہیں۔

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

وہ (عذاب) اللہ کی طرف سے واقع ہوگا جو بلند درجوں والا ہے ۔

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روح (یعنی جبرئیل) اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں اور وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار دنیا کے ) بچ اس ہزار برس ہے (یعنی قیامت کے دن )

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس تم (ان کی مخالفت پر) اچھی طرح صبر کرو۔

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

بیشک کافر اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں (یعنی واقع ہونے والا نہیں) ۔

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اس کو نزدیک دیکھ رہے ہیں (یعنی ضرور ہونے والا ہے ) ۔

روح کابیان۔ (ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا کام روز کے روز طے ہوتا ہے تو سرکش لوگوں پر عذاب نازل ہونے کی کیا دیر لگتی ہے فقط وقت مقررہ آنے کی دیر ہے جبکہ سزا وجزا کے لیے پچاس ہزار برس کا ایک دن مقرر ہے تو عذاب آخرت کی جلدی ان مشرکوں کو کیا ہے معارج کے معنی آسمانوں کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت سے سات آسمانوں پر سے اس قدر جلدی ہر ایک کام میں ہوجاتا ہے تو ان عذاب کے چاہنے والوں پر عذاب آنے میں کیا دیرلگتی ہے ان کے عذاب کے تو بہت سے سامان خود زمین ہی پر موجود ہیں فرعون اور قارون کا قصہ کیا ان کو یاد نہیں رہا کہ ایک کو دریا میں ڈبودیا اور دوسرا زمین میں دھنس گیا۔
Ayahs 70:8–18

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن1 آسمان پگھلا ہوا تانبے کی طرح۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے دھنی ہوئی اون (کہ ہوا میں اڑتے پھرتے گے )

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی رشتہ دار کسی رشتہ دار کی بات نہ پوچھے گا (ہر ایک کو (اپنی پڑی ہوگی) ۔

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے، مجرم (یعنی کافر) آرزو کرے گا کاش ! اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں اپنے بیٹے۔

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی ۔

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے اس کنبے کو بھی جس میں اس کی جگہ ہے ۔

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے زمین میں ہیں سب کو دے دے، پھر یہ بدلہ دینا اسے بچا لے۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

(تو یہ) ہرگز نہ ہوگا۔

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

بیشک وہ دوزخ شعلے مارنے والی آگ ہے ۔ کھال اتار دینے والی ۔

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

اس شخص کو بلا رہی ہے جس نے (حق کے قبول کرنے سے) پیٹھ دیا اور (ایمان لانے سے) منہ پھیرا۔

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جوڑ کر سینت (جمع) رکھا (راہ خدا میں خرچ نہ کیا) ۔

قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرے کو دیکھنے گا، اور کوئی کسی سے بات تک بھی نہیں کریگا، اس دن عام لوگوں کی بدحواسی کا تو کیا ذکر ہے، سوائے خاتم النبین محمد ﷺ کے انبیاء تک کی زبان پر نفسی نفسی کا کلمہ ہوگا، اب آگے ان لوگوں کی عادتیں بتلائیں جن کو دوزخ پکار کر بلائے گی تاکہ وہ لوگ اپنے کیے کا خمیازہ بھگتیں۔ فرمایا بس جتنے لوگ دنیا میں حق کی طرف پیٹھ پھیر کر چل دیے تھے اور عمل صالح کی طرف سے اعراض کرتے اور مال سمیٹنے اور سینت کر رکھنے میں مشغول رہے تھے وہ سب دوزخ کی طرف کھینچے چلے آئیں گے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث معتبر سند سے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ دوزخ اول زبان قال سے پکارے گی ، الی یا کافر، یا منافق، الی یا جامع المال۔ یعنی اوکافر ، اومنافق۔ اومال سمیٹ کر رکھنے والے ادھرآ۔ لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے اس کے بعد ایک بہت لمبی گردن نکلے گی جو کافر کو چن چن کر اس طرح اٹھا لے گی جیسے جانور زمین سے دانہ اٹھالیتا۔ (العیاذ بااللہ) ۔
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک1 انسان بڑا بےصبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس کو مصیبت پہنچے تو سخت گھبرانے والا ہے ۔

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اس کو بھلائی پہنچے تو (مال سے) بخل کرنے والا (ہوجاتا) ۔

نماز کی تاکید ، محبوبان باری تعالیٰ کی صفات۔ (ف 1) اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان یعنی انسانوں میں جو کافر ہے فطری طور پر لالچی اور صبر پیدا ہوا ہے یعنی کسی طرح پختگی اور ہمت نہیں دکھلاتا، فقر فاقہ بیماری اور سختی آئے تو بےصبر ہوکرگھبرا اٹھے بلکہ مایوس ہوجائے ، گویا اب کوئی سبیل مصیبت سے نکلنے کی باقی نہیں رہی، اور مال و دولت تندرستی اور فراخی ملے تو نیکی کے لیے ہاتھ نہ اٹھے، اور خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہ ہو، وہاں لوگ مستثنی ہیں جن کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayahs 70:22–35

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر نمازی2 ۔

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز کے ہمیشہ پابند ہیں (یعنی مومن) ۔

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ جن کے مالوں سے مقرر حق نکلتا ہے (یعنی زکوۃ صدقہ) ۔

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

اس کے لیے جو مانگے اور اس محتاج کے لیے جو (بسبب شرم) نہ مانگے۔

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

وہ لوگ جو انصاف کے دن سچ جانتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے پروردگار کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا اپنی (شرعی) لونڈیوں کے پاس جانتے ہیں ، پس ان پر کچھ ملامت نہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو کوئی اس کے علاوہ اور چاہے بس ایسے لوگ حد (شرعی) سے نکلنے والے ہیں (یعنی حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرتے ہی) ۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی (سپردگی میں لی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی گواہیوں پر ٹھیک ٹھیک قائم رہنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ لوگ (جنت کے ) باغوں میں عزت سے ہوں گے ۔

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری نشانی یہ کہ نماز کے وقت کا اور رکوع و سجدہ کا لحاظ رکھتے ہیں وقت کو ٹال کر نماز نہیں پڑھتے، اور نماز میں ایسی جلدی نہیں کرتے، جس سے رکوع و سجدہ پورا ادا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی نماز میں یہ دونشانیاں نہ ہوں ان کا ایمان اور ان کی نماز دونوں ادھوری ہیں، اسی واسطے آخری وقت پر جلدی جلدی ایک شخص کو عصر کی نما زپڑھتے ہوئے دیکھا نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ منافقوں کی نماز ہے۔ یہ قصہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ اسی طرح گنڈے دار نما زپڑھنے والوں کو ابوہریرہ کی صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث میں نبی ﷺ نے منافق قرار دے کر یہ فرمایا کہ عشاء اور فجر کی نماز منافقوں پر بھاری معلوم ہوتی ہے کہ یہ دونوں وقت راحت و آرام کے ہیں ۔ اس راحت و آرام کو چھور کر یہ لوگ ان دونوں نمازوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ ان آیتوں میں جنتیوں کی آٹھ صفتیں بیان کیں جن کو نماز سے شروع اور نماز پر ہی ختم کیا تاکہ معلوم ہو کہ نماز اللہ کے ہاں کس قدر مہتمم بالشان عبادت ہے ، جس میں یہ صفات ہوں گی وہ کچے دل کانہ ہوگا، بلکہ عزم وہمت والا ہوگا، سورة المومنون میں اس کی تفسیر گزرچکی ہے یعنی جو لوگ حرام کاری سے بچتے ہیں اپنی فروج کو بےجگہ استعمال سے بچاتے ہیں مگر حلال جگہ یعنی چاربیبیاں یا وہ عورتیں جو وہ ان کی مملوک ہیں یعنی ان کی باندیاں ہیں کہ حلال کام میں کوئی ملامت اور گناہ نہیں پس جو سوائے ان کے اور جگہ تلاش کرے گا، یعنی حرام کاری کرے گا تو وہ ظالم سرکش ہے سزا پائے گا۔ مسئلہ : اس آیت سے متعہ، لواطت، جانوروں کے ساتھ قضاء شہوت ، اور ہاتھ سے استمناء کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔