69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 69:1–12

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ1 حق ہونے والی (قیامت) ۔

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ حق ہونے والی (قیامت کو) ۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور کس چیز نے تم کو جتلایا گیا ہے وہ حق ہونے والی (قیامت) ۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

قبیلہ ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا۔

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

پس ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے۔

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور جو عاد تھے بس وہ ایک سخت آندھی سے ہلاک کیے گئے ۔

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اور ان پر سات راتیں اور آٹھ دن (چہار شنبہ سے چہار شنبہ تک) لگاتار قوت سے چلائی، پس اے مخاطب اگر تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قو کو اس طرح گرا (یعنی مرا) ہوا دیکھتا کہ گویا گرے ہوئے کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں۔

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

پس تو ان میں سے کسی کو بھی بچا ہوا دیکھتا ہے ؟ (نہیں نام و نشان تک نہیں ہے)

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور (اسی طرح) فرعون اور اس سے پہلے کافر لوگ اور الٹ جانے والی بستیاں (مثل لوط کی قوم) گناہ کے مرتکب ہوئے ۔

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنے پروردگار کے رسولوں کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو ایک بڑٰ پکڑ میں پکڑا۔

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

بیشک جس وقت پانی ابلا تو ہم نے تم کو (یعنی تمہارے باپ دادوں کو جبکہ تم ان کی پشت میں تھے) کشتی میں سوار کیا (اور باقیوں کو غرق کردیا) ۔

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ ہم اس معاملہ کو تمہارے لیے نصیحت اور یادگار کریں ۔

(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلے سرکش لوگوں کا ہوچکا ، حاصل کلام یہ ہے کہ ان قصوں کے انجام کے اثر کو سوچا کرنا فائدہ کی بات ہے اسی واسطے حضرت نوح کے قصہ میں فرمایا کہ یہ قصہ ایسے لوگوں کے حق میں نصیحت نہیں جو لوگ نصیحت کی بات کو اس کان سے سن کر اس کان سے اڑادیتے ہیں بلکہ یہ قصہ ایسے لوگوں کے حق میں نصیحت ہے جو نصیحت کی بات سن کر اس نصیحت کو یاد رکھتے ہیں اور اس نصیحت کے موافق عمل کرتے ہیں اسی مطلب کے سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کے بعد ایساذکر فرمایا کہ معلوم ہوجائے کہ بالکل منکروں کا انجام تو وہ ہے جو حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک لوگوں کا بیان ہوا، اس کے بعد ایک انجام حشر کا ہے جس میں ذرہ ذرہ کا حساب ہونے والا ہے اور ہر طرح کی خلاف شریعت عادت کی سزا اس دن ہوگی یہ سب قصے کئی جگہ گذرچکے ہیں اس لیے پھر یہاں ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں خیال کی گئی۔
Ayahs 69:13–15

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

اور (یہ بات) یاد رکھنے والوں کے کان یاد رکھیں، پس1 جب صور میں پھونک ماری جاوے گی۔

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے ۔

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

پس اس روز قیامت قائم ہوجائے گی ۔

پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال۔ ایماندار اور کافر کی پہچان۔ (ف 1) یعنی صور پھونکنے کے ساتھ زمین اور پہاڑ اپنی جگہ کو چھوڑ دیں گے اور آپس میں ٹکرا ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے یا یہ کہ زمین پر سے درخت پہاڑ مکانات وغیرہ سب چیزیں دور کردی جائیں گی اور ساراعالم زیروزبر ہوجائے گا پس وہی وقت ہے قیامت کے ہونے کا۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان2 پھٹ جائے گا تو اس دن کا اسکا پتلا حال ہوگا۔

(ف 2) یعنی آج جو آسمان اس قدر مضبوط محکم ہے کہ لاکھوں سال گذرنے پر بھی کہیں ذراساشگاف نہیں پڑا۔ اس روز ہیبت رحمن جل جلالہ اور ہجوم ملائکہ سے اور ان کے اترنے سے پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور3 فرشتے آسمان کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن4 تمہارے پروردگار کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔

(ف 3) یعنی جن فرشتوں کا مسکن آسمان ہے وہ اس کے پھٹنے پر اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے پھر بحکم الٰہی اترکرزمین کا احاطہ کریں گے۔ (ف 4) حدیث شریف میں ہے کہ حاملین عرش آج کل چار ہیں۔ روز قیامت ان کی تائید کے لیے چار اور کا اضافہ کیا جائے گا آٹھ ہوجائیں گے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے ملائکہ کی آٹھ صفیں مراد ہیں جن کی تعداد اللہ ہی جانے۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس5 دن (خدا کے روبرو حساب کے واسطے) تم سب پیش ہوگے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی۔

(ف 5) دوسرے صور پر جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب بھولے ہوئے ہوں گے اس لیے اعمال کے یاد دلانے کی غرض سے پہلے ان کو ان کے اعمال نامے اس طرح دیے جائیں گے کہ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بدوں کے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں اور پھر حساب وکتاب کے لیے ان سب کو اللہ کے روبرو پیش کیا جائے گا اس دن اللہ کی عدالت میں کسی کی کوئی نیکی یابدی مخفی نہ رہے گی۔ سب منظر عام پر آجائیں گی ، اور اس دن ان پڑھ اور پڑھے ہوئے سب اپنااعمال نامہ پڑھ سکیں گے۔
Ayahs 69:19–24

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

پھر1 جس کو اس کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو خوشی کے مارے آس پاس والوں سے) کہے گا : لو میرے نامہ اعمال پڑھو۔

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے (دنیا میں) یقین تھا کہ (آخرت میں) میں اپنے حساب کو پہنچوں گا۔

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ شخص پسندیدہ زندگانی۔

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

بہشت بریں میں ہوگا۔

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

کہ جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے ۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

(کہا جائے گا) مزے کے ساتھ کھاؤ پیو ان نیک اعمال کے صلہ میں، جو تم نے گزشتہ دنوں (یعنی دنیا کی زندگی) میں آگے (یعنی آخرت کے لیے ) بھیجے تھے ۔

(ف 1) جو اچھے لوگ کہ نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے وہ اپنے اعمال صالحہ پر جو دنیا میں کیے تھے وثوق کرکے اور خوش ہوکر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والایاجان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا خوشی کے مارے اس سے بھی کہیں گے لوہمارانامہ اعمال پڑھ کردیکھو کہ میری کتاب اس میں کیا کیا ثواب و کرامت ہے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو تو دنیا میں ہی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب وکتاب دینے والے ہیں اور یہ بات پیش آنے والی ہے۔ اس خیال سے ہم ڈرتے رہے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے پس جو ایسا شخص ہوگا وہ ایسے عیش میں ہوگا کہ اس کی جان اس سے نہایت خوش اور راضی ہوگی اور جنت بالاتر مرتبہ پایہ میں اس جنت کے پھل میوے لٹکٹے ہوں گے کھڑا بیٹھا لیٹا ہر حال میں باآسانی پائیں گے تکلیف اٹھانے کی حاجت نہ ہوگی اور ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ خوش گوار اور سلامتی کے ساتھ میوے کھاؤ۔ نہروں میں پانی پیو، اب نہ کوئی دکھ درد ہے نہ موت۔ مبارک ہو یہ اس کا بدلہ ہے جو تم نے دنیا کی زندگی میں اچھے اچھے کام نماز روزہ ادا کرکے رکھ چھوڑے تھے۔
Ayahs 69:25–29

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور2 جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تو کہے گا : اے کاش ! میرا اعمال نامہ مجھے نہ ملتا۔

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا کہ میرا کیا حساب ہے ۔

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش ! کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

(افسوس) میرا مال (جو میں دنیا میں جمع کیا تھا) کچھ کام نہ آیا۔

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میری سب (حجت اور) قوت جاتی رہی۔

(ف 2) جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ لوگ اس میں اول سے آخرت کی بدیاں لکھی ہوئیں دیکھیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش ہمار ہاتھ میں اعمال نامہ نہ دیاجاتا اورہ میں کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کا کیا چیز ہے کاش موت ہمارا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی مرنے کے بعد پھر اٹھنانصیب نہ ہوتا ، یا اٹھا تھا تو اب موت آکر ہمارا لقمہ لیتی۔ افسوس وہ مال و دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی، آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں نہ ہماری حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے اس کے بعد ان دوزخیوں کا انجام بیان فرمایا۔
Ayahs 69:30–32

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

ایسے شخص1 کے لیئے فرشتوں کو حکم ہوگا : اسے پکڑو پھر اس کی گردن میں طوق ڈالو۔

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اس کو دوزخ میں لے جاؤ۔

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی ناپ (فرشتوں کے ہاتھ سے) ستر ہاتھ ہے اس کو جکڑ دو ۔

(ف 1) فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے پکڑو۔ طوق گلے میں ڈالو پھر دوزخ کی آگ میں غوطہ دو ، اس زنجیر میں جس طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو تاکہ جلنے کی حالت میں ذرا بھی حرکت نہ کرسکے، کہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی جلنے والاقدرے تخفیف محسوس کیا کرتا ہے گز سے وہاں کا گز مراد ہے جس کی مقدار اللہ ہی جانے، حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ یہ سترگز فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں۔
Ayahs 69:33–34

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

کیونکہ یہ (دنیا میں)2 خدائے بزرگ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہ دیتا تھا۔

(ف 2) یعنی اس نے دنیا میں رہ کر نہ اللہ کو جانا نہ بندوں کے حقوق پہچانے فقیر محتاج کی خود تو کیا خدمت کرتا، دوسروں کو بھی ادھر ترغیب نہ دی پھر جب اللہ پر جس طرح چاہے ایمان نہ لایا تو نجات کہاں، اور جب کوئی بھلائی کا چھوٹا بڑا کام بن نہ پڑا تو عذاب میں تخفیف کی بھی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 69:35

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

تو آج1 یہاں (یعنی آخرت میں) اس کا کوئی دوست نہیں (کہ مدد کرے) ۔

(ف 1) یعنی جب اللہ کو دوست نہ بنایا تو آج اس کا دوست کون بن سکتا ہے جو حمایت کرکے عذاب سے بچاوے یا مصیبت کے وقت کچھ تسلی کی بات کرے۔
Ayahs 69:36–37

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ2 (اسے) کچھ کھانے کو بجز زخموں کی پیپ کے ۔

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جس کو گنہگاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھائے گا۔

(ف 2) کھانے سے بھی انسان کو قوت پہنچتی ہے مگر دوزخیوں کو کوئی ایسا مرغوب کھانانہ ملے گا جو راحت وقوت کا سبب ہو ہاں دوزخیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے ان گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاسکتا۔ اور وہ بھی بھوک پیاس کی شدت میں غلطی سے یہ سمجھ کر کھائیں گے کہ اس سے کچھ کام چلے گا بعد کو ظاہر ہوگا کہ اس کا کھانا بھوک کے عذاب سے بڑا عذاب ہے ۔ (اعاذنا اللہ من سائرا نواع العذاب فی ال دنیا والاخرۃ) ۔