70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 70:1–35

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک طلب کرنیوالے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہگا

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

(یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اسکو ٹال نہ سکے گا

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اور خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

(تو تم کافروں کی باتوں کو) حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہو

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہماری نظر میں نزدیک

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان ایسا ہوجائیگا جیسا پگھلا ہوا تانبا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دہنکی ہوئی) رنگین اون

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں نہ ہوگا

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

(حالانکہ) ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہونگے (اس روز) گنہگار خواہش کریگا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دیدے یعنی اپنے بیٹے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے آدمی زمین میں ہیں (غرض) سب (کچھ دیدے) اور اپنے تئیں عذاب سے چھڑالے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

(لیکن) ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھال ادھیڑ ڈالنے والی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر نماز گزار

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلا ناغہ پڑھتے) ہیں

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

(یعنی) مانگنے والے کا اور نہ مانگنے والے کا

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائے

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے پر) انہیں کچھ ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اوراقراروں کا پاس کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی لوگ باغ ہائے بہشت میں عزت و اکرام سے ہونگے

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال میں منکروں پر واقع ہو کر رہے گا مانگا ہے۔ حاشیہ (یہ الفاظ اس تحقیق کے پیش نظر اضافہ کیے گئے جو بعض ائمہ مفسرین آیت کے اعراب میں فرماتے ہیں کہ (آیت) ” من اللہ ذی المعارج “ میں یہ بھی احتمال ہے کہ جملہ مستانفہ ماقبل سے منقطع ہو اور بجائے دافع سے متعلق کرنے کے ایک عامل مقدر کے متعلق اسکو کہا جائے وہ لفظ سائل ہے یعنی (آیت) ” سائل من اللہ ذی المعارج “۔ ) یہ عذاب اس اللہ سے جو بڑے اونچے درجوں والا ہے جس کی عظمت و برتری اور درجات کی بلندی کا یہ عالم ہے چڑھیں گے اسکی طرف فرشتے اور روح اس دن میں کہ جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے کہ فرشتے اور مومنین کی روحیں تمام آسمانوں کو درجہ بدرجہ طے کرتے ہوئے اسکی بارگاہ قرب تک چڑھتی ہیں یا اس کے بندے اس کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے جان ودل سے کوشش کرکے اچھی خصلتوں سے آراستہ ہو کر قرب ووصول کے مدارج روحانیہ طے کرتے ہیں اور ترقی کرکے اسکی حضوری سے مشرف ہوئے ہیں اور وہ درجات مسافت کے قرب اور بعد میں مختلف اور متفاوت ہوتے ہیں بعض ایسے کہ ایک پلک جھپکنے میں ایک منزل سے ترقی کے اعلی مقام پر پہنچا دیتے ہیں جیسے کلمۂ اسلام کا اقرار کرلینا کہ ایک ہی لمحہ میں کفر کی ذلیل ترین منزل سے ایمان کے اعلی درجہ پر پہنچا دیتا ہے بعضے ایک ساعت میں جیسے نماز بعضے پورے ایک دن میں جیسے روزہ بعضے پورے ایک مہینہ میں جیسے پورے ماہ رمضان کے انواروبرکات سے اعلی ترین درجات حاصل کرلینا بعضے ایک سال میں جیسے زکوٰۃ اور حج بیت اللہ وعلی ھذا لقیاس اور اسی طرح فرشتوں اور روحوں کا عروج ہے اور خود اس خداوند قدوس کی تربیت اور اتار چڑھاؤ بھی بیشمار درجے رکھتا ہے۔ حاشیہ (از فوائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح)۔ حافظ ابن کثیر (رح) تفسیر ابن کثیر میں ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے معارج کی تفسیر میں درجات کا مفہوم ذکر کیا کہ پروردگار عالم فضائل اور بلندیوں والا ہے مجاہد (رح) نے معارج سے آسمانوں کے مدارج مراد لیے ہیں روح سے جنس روح اور مراد مومنین کی روحین ہیں جیسا کہ ابوداؤد ونسائی کی ایک روایت میں ہے براء بن عازب ؓ مومن کی قبض روح کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں فلایزال یصعد بھا من السماء الی السماء حتی ینتھی بہ الی السماء السابعۃ۔ یعنی جب مومن کی روح قبض کرلی جائے گی تو اس کو چڑھا یا جائے گا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جائے گا اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ روح الامین یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ (آیت) ” فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “۔ کی مراد میں حفافظ ابن کثیر (رح) نے چار اقوال نقل کیے ایک یہ کہ اس سے مراد اسفل سافلین سے لے کر عرش تک کی مسافت ہے جو ساتوں زمینوں کا مستقر ہے چناچہ اس قسم کا مضمون ابن ابی شیبہ نے کتاب ” صفۃ العرش “ میں بیان کیا ہے دوسرا قول یہ کہ یہ مدت بقاء دنیا ہے کہ جب سے اللہ نے دنیا کو پیدا کیا اس وقت سے قیامت تک کی یہ مدت ہے چناچہ مجاہد (رح) اس آیت کی تفسیر میں کہا کرتے تھے عمرھا خمسون الف سنۃ۔ تیسرا قول یہ کہ وہ وقت فاصل ہے دنیا وآخرت کے درمیان مگر اس قول کو مفسرین نے غریب وشاذ کہا ہے چوتھا قول یہ ہے کہ یہ روز قیامت کی مدت ہے جو دنیا کے ایام کے لحاظ سے پچاس ہزار برس کے بقدر ہوگی چناچہ عکرمہ ؓ ابن عباس ؓ سے باسناد صحیح نقل کرتے ہیں ھو لیوم القیامۃ اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ نے اس دن کو کافروں کے واسطے پچاس ہزار سال کے برابر بنایا ہے آنحضرت ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی جب کہ سننے والوں نے کہا اللہ اکبر یہ کس قدر طویل دن ہوگا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کافر کے لئے ہوگا لیکن مومن کے لیے اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا آسان فرما دے گا جتنا وقت کہ وہ فرض نماز میں لگاتا ہے بلکہ اس سے بھی کم۔ مال کی زکوٰۃ نہ دینے والوں کی وعید میں جو حدیث ہے کہ وہ مال اس شخص پر جہنم کی آگ بنا کر داغ دیا جاتا رہے گا اس دن میں کہ جس کی مقدار پچاس پچاس ہزار برس ہے اسکی تائید کرتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 4) بعض ائمہ مفسرین کی رائے ہے کہ پچاس ہزار برس کی مدت ظاہری اور حقیقی معنی کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ وہ غم اور کرب ہے جس کے باعث یہ دن اس قدر طویل ہوگا اسی وجہ سے مومنین کے لیے نماز کے وقت کے بقدر ہلکا فرمایا گیا اور اس تقدیر پر سورة سجدہ کی آیت (آیت) ” مقدارہ الف سنۃ مما تعدون جس میں ایک ہزار برس مقدار بیان کی گئی کوئی تعارض نہ رہے گا “ (قرطی) بعض ائمہ مفسرین کے کلام سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں پچاس مواقف ہوں گے اور ہر موقف اور حاضری کا مقام ایک ہزار برس کے بقدر ہوگا تو اس لحاظ سے ایک ہزار برس نفس مجموعہ دن کی مدت ہوئی اور اس کے پچاس مواطن کے اعتبار سے پچاس ہزار ہوگئے جس کو بیان فرمایا گیا (روح البیان) (آیت) ” سال سآئل “ کی تفسیر میں بعض حضرات نے نضر بن حارث کا نام بیان کیا ہے مگر اس لئے کہ یہ ذلیل اس قابل نہ تھا کہ قرآن کریم میں اس کا نام لیا جائے تو مبہم رکھا نیز تعین نہ کرنے میں یہ خوبی ہے کہ اس سائل کے بعد جو بھی اس قسم کا سوال کرے گا اس پر آیت منطبق ہوگی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں سائل سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں یہ اشارہ ہے اس دعا اور درخواست کی طرف جو آنحضرت ﷺ نے کفار مکہ کی سرکشی اور انکے تمسخر سے رنجیدہ ہو کر بارگاہ خداوندی میں فرمائی تھی کہ ان پر کوئی عذاب مسلط کیا جائے چناچہ ان پر سات برس کا وہ جگر خراش قحط برسا کہ ہڈیاں اور مردار تک کھانے کی نوبت آگئی بہرکیف ان متعدد معانی پر ائمہ مفسرین نے ان کلمات کو محمول کیا ہے ہم نے اسی وجہ سے ترجمہ میں لفظ ” مانگا ہے مانگنے والے نے “ اختیار کیا تاکہ ہر دو معنی پر منطبق ہوسکے (واللہ اعلم بالصواب) تمسخر اور استہزاء کرنے والوں کا رویہ بیشک دلخراش ہے اور اس پر رنج وغم طبعی تقاضا ہے مگر اے ہمارے پیغمبر صبر کیجئے بھلے طور پر صبر کرنا یہ منکرین اور کفار مکہ اگرچہ آپ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اچھا اگر یہ دین برحق ہے اور ہم اسکو قبول نہیں کرتے تو آپ ﷺ آسمان سے پتھروں کی بارش ہم پر کروا دیجئے یا آپ ﷺ ہم کو جس قیامت سے ڈرا رہے ہیں وہ کہاں ہے اور کب آئیگی اس کو لے کر آئیے تو اے ہمارے پیغمبر ان منکرین کی ایسی لغوباتوں سے آپ مغموم نہ ہوں۔ بیشک یہ لوگ تو اس کو دور سمجھ رہے ہیں اور ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں نہ عذاب خداوندی آنے میں کوئی دیر ہے نہ ہی روز قیامت آنے میں وہ قیامت کا دن تو ایسا دن ہوگا کہ آسمان ہوجائے گا پنگھلے ہوئے تانبے کی طرح اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کے گالوں کی طرح جو مختلف رنگوں کے ہوں ہوا میں اڑ رہے ہوں اور پریشانی وبدحواسی کا یہ عالم ہوگا کہ کوئی دوست نہیں پوچھے گا کسی دوست کو حالانکہ سب ایک دوسرے کو نظر آتے ہوں گے لیکن اسکے باوجود ہر ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہوگا کوئی کسی کی مدد تو درکنار حال بھی نہ پوچھ سکے گا ایسے وقت گناہ گار تمنا کرے گا کاش آج کے دن کے عذاب سے وہ فدیہ دے دیتا اپنے بیٹوں کا اور بطور فدیہ دیدیتا اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے اس کنبہ کو جس کا ٹھکانہ وہ حاصل کرتا تھا اور حتی کہ اگر اس کے امکان میں ہوتا ہر اس شخص اور کل اس مال و دولت کا جو روئے زمین میں بستا ہے اور پھر وہ اپنے آپ کو اس عذاب سے بچا لیتا تو وہ ضرور وہ ہر چیز کو فدیہ کے طور پر دینے کے لئے تیار ہوجاتا مگر نہیں ہرگز نہیں وہ تو ایک دہکتی ہوئی آگ ہے جو کھال اتار دینے والی ہے اور اس طرح کہ وہ اندر سے جگر کو بھی جلا کر رکھ دے گی پکارتی ہوگی یہ آگ ہر اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری اور روگردانی کی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت وفرمانبرداری سے اور مال و دولت کی محبت اس قدر غالب آئی خوب جمع کیا اور سمیٹ کر رکھا کہ اس میں سے نہ اللہ کا حق ادا کیا نہ کسی مسکین و محتاج کی کوئی مدد کی بیشک انسان بہت ہی کمزور طبعیت پیدا کیا گیا اس کا حوصلہ اور دل نہایت ہی کمزور واقع ہوا ہے جب اس کو کوئی تکلیف پہنچے تو بےقرار ہوجائے اور جب اسکو بھلائی پہنچے اور اللہ رب العزت اپنی نعمتوں سے نوازے تو روکنے والا ہوجاتا ہے اور خیر کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق ہی ختم ہوجاتی ہے یہ بری خصلت ہر انسان میں ہوتی ہے جو اللہ کے تعلق سے دور ہو مگر ہو نمازی بندے جو اپنی نماز پر پابندی کرنے والے ہیں اور وہ لوگ جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے سائل کے لئے اور محتاج ومسکین کے لئے اور وہ لوگ جو ایمان ویقین رکھتے ہیں بدلہ اور انصاف کے دن یعنی قیامت پر اور جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اس لیے کہ بیشک انکے رب کا عذاب ایسا ہے کہ کسی کو اس سے مطمئن نہ ہونا چاہئے اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بجز اپنی بیویوں یا اپنی باندیوں کے جن کے وہ مالک ہیں کیونکہ ان پر تو کوئی گرفت نہیں اس لیے کہ وہ نفس کا تقاضا صحیح محل میں اور حلال طریقہ پر پورا کررہے ہیں لیکن جو شخص اسکے علاوہ کوئی راستہ اپنے نفس کا تقاضا پورا کرنے کا تلاش کرے گا تو بلاشبہ ایسے لوگ تعدی اور سرکشی کرنے والے ہوں گے اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کی رعایت رکھنے والے ہیں کہ امانت میں کوئی خیانت نہیں کرتے اور جو عہد و پیمان کیا اس کو پورا کرتے ہیں اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں کہ گواہی بھی سچی دیں اور کسی لالچ وطمع سے اس گواہی سے انحراف بھی نہیں کرتے بلکہ اسی پر قائم رہتے ہیں اور جو لوگ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں کہ اس میں کسی طرح خلل نہیں آنے دیتے وقت کی پابندی جماعت کی بھی پابندی پاکی کی احتیاط خشوع و خضوع اور اسی حالت کے ساتھ اس پر دوام تو بیشک ایسے ہی لوگ جو ان پاکیزہ خصلتوں اور پسندیدہ افعال سے متصف ہیں بہشت کے باغوں میں ہوں گے جن کا بڑا ہی اعزارز واکرام ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس کے بالمقابل جو شخص اللہ کی نافرمانی اور سرکشی پر تلا ہوگا اس کی ذلت وتباہی ایسی عبرتناک ہوگی کہ انسان اسکا تصور نہیں کرسکتا۔ : اس موقعہ پر اہل جنت کے یہ آٹھ اوصاف بیان کئے گئے جن کی تفصیل وتشریح سورة ال مومن ون میں گذر چکی یہاں ان صفات کے ذکر اور ترتیب میں عجیب لطافت و خوبی اختیار کی گئی کہ (آیت) ” الاالمصلین کے عنوان میں ابتداء بھی وصف صلوۃ سے فرمائی اور ان اوصاف کی تکمیل بھی (آیت) ” علی صلاتھم یحافظون “۔ پر کی گئی تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ ان اوصاف اور خوبیوں سے اتصاف نماز ہی کی برکت سے ہوسکتا ہے اور جو مومن ان صفات سے متصف ہوگا وہی نماز کا محافظ بھی ہوگا اور وہی ہلوع جیسی مذموم صفت سے محفوظ رہ سکے گا ورنہ تو اس مہلک اور خطرناک بیماری میں بالعموم انسان مبتلا ہو کر ہی رہتا ہے۔