70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 70:1–3

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

سوال کیا ایک سوال کرنے والے نے عذاب کے بارے میں

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

یہ عذاب اللہ کی طرف سے واقع ہوگا جو معارج والا ہے

قیامت کے دن کافروں کی بدحالی اور بےسروسامانی، ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہو گا یہاں سے سورة ٴ معارج شروع ہو رہی ہے چونکہ اس میں لفظ ذی المعارج وارد ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس لیے سورة ٴ المعارج کے نام سے موسوم ہوئی المعارج معرج کی جمع ہے جس کا معنی ہے چڑھنے کی جگہ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ المعارج سے آسمان مراد ہے چونکہ آسمانوں سے زمین کی طرف اور زمین سے آسمانوں کی طرف فرشتوں کا آنا جانا رہتا ہے اس لیے آسمانوں کو المعارج فرمایا اور خالق تعالیٰ شانہٗ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے آسمان بھی اس کی مخلوق ہیں جہاں سے فرشتوں کا گزر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وصف ذی المعارج ذکر فرمایا۔ مفسرین کرام نے اس سورت کی ابتدائی آیات کا شان نزول یہ ذکر فرمایا ہے کہ نضر بن حارث جو ایک بڑا مشرک اور مکہ معظمہ میں اسلام کا اور مسلمانوں کا بہت زیادہ کٹر دشمن تھا اس نے بارگاہ خداوندی میں یوں دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ دین (جو محمد ﷺ لائے ہیں) حق ہے (جسے ہم قبول نہیں کر رہے ہیں) تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دیجئے یا ہم پر دردناک عذاب لے آیئے۔ روح المعانی میں امام نسائی سے یہ روایت نقل کی ہے مذکورہ بالا دعا ابو جہل نے کی تھی اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا : ﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ001 لِّلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ002 مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِؕ003﴾ یعنی ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو معارج یعنی آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے اور ان کا مالک ہے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے بیان فرمانے میں بظاہر یہ نکتہ ہے کہ زمین پر رہنے والے عذاب کا سوال کر رہے ہیں زمین تو ان کے قریب ہی ہے اس میں دھنسائے جاسکتے ہیں اور زلزلہ اور بھونچال کے ذریعے بھی ہلاک کیے جاسکتے ہیں اور آسمان کی جانب سے بھی ان پر عذاب آسکتا ہے انہوں نے جو آسمان سے پتھر برسانے کی دعا کی ہے یہ دعا بعینہ بھی قبول ہوسکتی ہے اور پتھر برس سکتے ہیں۔ جیسے زمین میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ہے اسی طرح وہ آسمانوں اور جو چیزیں ان میں ہیں ان سب کا بادشاہ ہے، یہ تو آیات کا ترجمہ اور سبب نزول بیان ہوا اور نتیجہ اس دعا کا یہ ہوا کہ نضر بن حارث اور ابو جہل دونوں غزوہٴ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مقتول ہوئے اور ان کے ساتھ دوسرے مشرکین بھی مارے گئے جن میں کفر کے بڑے بڑے سرغنہ تھے بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی تعداد ستر تھی اور ستر کو قیدی بنا کر مدینہ منورہ میں لایا گیا خود ان کی بد دعا ان کے حق میں لگ گئی پھر ان قیدیوں میں سے بعض لوگ بعد میں مسلمان بھی ہوگئے تھے۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روحیں اس کی طرف چڑھ کر جاتی ہیں یہ عذاب اس دن واقع ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے،

﴿تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ ﴾ (فرشتے اور روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں) یعنی عالم بالا میں جو مواقع ان کے عروج کے مقرر فرما دیئے ہیں وہاں پہنچتی ہیں۔ قال صاحب الجلالین الی مھبط امرہ من السماء۔ ﴿فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ004 ﴾ (ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی) صاحب بیان القرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ ذی المعارج کے بعد ﴿ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ ﴾ میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان فرمائی ہے اور فِيْ يَوْمٍ متعلق ہے محذوف سے اور مطلب یہ ہے کہ سائل نے جس عذاب کا سوال کیا ہے وہ عذاب ایسے دن میں واقع ہوگا جس کی مقدار دنیا کے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی اس سے قیامت کا دن مراد ہے۔ صاحب جلالین نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ حیث قال فی یوم متعلق بمحذوفٍ ای یقع العذاب بھم فی یوم القیامة۔ اس میں جو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جو عذاب مانگا تھا وہ تو غزوہٴ بدر میں آچکا پھر لفظ فِيْ يَوْمٍ کو یقع سے کیوں متعلق کیا جا رہا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے معارض نہیں ہے دنیا میں بھی عذاب واقع ہوگیا اور آخرت میں بھی واقع ہوگا اگر دونوں کا تذکرہ مقصود ہو تو اس میں اشکال کی کوئی بات نہیں، جملہ فی یوم کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : وایاما کان فالجملة استیناف مؤكد لما سیق لہ الکلام وقیل ھو متعلق بواقع وقیل بدافع والمراد بالیوم علی ھذہ الا قوال ما ارید بہ فیما سبق وتعرج الملئكة والروح الیہ مستطرد عندو صفہ عزوجل بذی المعارج وقیل ھو متعلق بتعرج کما ھو الظاھر الا ان العروج فی الدنیا والمعنی تعرج الملئكة والروح الی عرشہ تعالیٰ ویقطعون فی یوم من ایامکم ما یقطعہ الانسان فی خمسین الف سنة لو فرض سیرہ فیہ۔ ہزار سال اور پچاس ہزار سال میں تطبیق : یہ دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس سے بظاہر قیامت کا دن مراد ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزائیں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے اور سورة ٴ الم سجدہ میں فرمایا ہے : ﴿ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 005﴾ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ قیامت کا دن ایک ہزار سال ہوگا۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے جو آدھا دن ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 447) ایک ہی دن کے بارے میں ایک ہزار سال بھی بتایا اور اس کی مقدار پچاس ہزار سال بھی بتائی اس کے بارے میں علماء کرام نے فرمایا ہے کہ یہ لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہوگا کافروں کے لیے پچاس ہزار سال ہی کا دن ہوگا اور انہیں حساب کی سختی کی وجہ سے اتنا ہی لمبا معلوم اور محسوس ہوگا اور مومن آدمی کے لیے ہلکا کردیا جائے گا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ جو دن پچاس ہزار سال ہوگا اس کی لمبائی کتنی زیادہ ہوگی (بطور تعجب اور اظہار تشویش یہ سوال کیا) آپ نے ارشاد فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ دن مومن پر ہلکا کردیا جائے گا یہاں تک کہ جو دنیا میں ایک شخص نماز پڑھتا ہے اس سے بھی زیادہ ہلکا کردیا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 487) اس سلسلہ میں ہم نے سورة ٴ حج کی آیت ﴿ وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 0047﴾ اور سورة ٴ الم سجدہ کی مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں جو کچھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

سو آپ ایسا صبر کیجئے جو صبر جمیل ہو،

﴿ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا 005﴾ (سو آپ ایسا صبر کیجئے جو صبر جمیل ہو) صبر جمیل اسے کہتے ہیں جس میں شکایت کا نام نہ ہو مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان کو حق پہنچایا حق کی دعوت دی آپ کے ذمہ جو کام تھا وہ آپ نے کردیا اب جو یہ لوگ نہیں مانتے کفر پر جمے ہوئے ہیں آپ ان کی طرف سے دلگیر نہ ہوں اور رنج میں نہ پڑیں صبر سے کام لیں اور صبر جمیل اختیار فرمائیں دنیا میں نہیں تو قیامت کے دن تو ہر کافر کو سزا ملنی ہی ہے۔
Ayahs 70:6–7

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

بیشک وہ اس دن کو دور سمجھ رہے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

﴿اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًاۙ006 وَّ نَرٰىهُ قَرِيْبًاؕ007﴾ (یہ لوگ قیامت کے دن کو دور دیکھ رہے ہیں) یعنی یہ سمجھ رہے ہیں کہ صرف کہنے کی باتیں ہیں قیامت آنے والی نہیں ہے اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ قیامت آنی ہے اور ان لوگوں کو اس دن عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے اسی کو سورة ٴ انعام میں فرمایا : ﴿اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ 1ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 00134﴾ (بلاشبہ تم جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آجانے والی چیز ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو) ۔
Ayahs 70:8–10

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہونگے

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوست کا نہ پوچھے گا

قیامت کے دن ایک دوست دوسرے دوست کو نہ پوچھے گا، رشتہ داروں کو اپنی جان کے بدلہ عذاب میں بھیجنے کو تیار ہوں گے ان آیات میں قیامت کے دن کی بعض بڑی چیزوں کے ادل بدل ہوجانے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہے کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا اور پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سورة القارعہ میں لفظ المنفوش کا بھی اضافہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے جو اڑتے ہوئے پھریں گے۔ آسمان کے بارے میں جو کالمہل فرمایا اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی تیل کی تلچھٹ اور صاحب جلالین نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے كذائب الفضتہ کہا ہے یعنی پگھلی ہوئی چاندی کی طرح سے ہوگا اس میں آسمان کی ایک کیفیت ذکر فرمائی ہے وہ واھیۃ کی تصویر ہے جیسا کہ گزشتہ سورت میں ﴿فَہِیَ يَوْمِىِٕذٍ وَاھِیَۃٌ﴾ گزر چکا ہے۔ آسمانوں اور پہاڑوں کا حال بیان فرمانے کے بعد میدان قیامت میں حاضر ہونے والوں کی حیرانی اور پریشانی بیان فرمائی۔ ارشاد فرمایا : ﴿ وَ لَا يَسْـَٔلُ حَمِيْمٌ حَمِيْمًاۚۖ0010﴾ (اور اس دن کوئی بھی دوست کسی بھی دوست کو نہ پوچھے گا) ﴿ يُّبَصَّرُوْنَهُمْ 1ؕ﴾ (آپس میں ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے) یعنی ایک دوسرے کو دیکھیں گے مگر کوئی کسی کی مدد اور ہمدردی نہیں کرسکے گا۔
Ayahs 70:11–14

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

باوجود یہ کہ ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے مجرم شخص اس بات کی تمنا کرے گا کہ کاش وہ اپنے بیٹوں

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے کنبے کو جس میں وہ رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور تمام اہل زمین کو اپنی جان کے بدلہ میں دے دیتا پھر یہ اس کو بچا لیتا

﴿ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍۭ بِبَنِيْهِۙ0011 وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِيْهِۙ0012 وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِۙ0013 وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا 1ۙ ثُمَّ يُنْجِيْهِۙ0014﴾ (مجرم شخص آرزو کرے گا کاش اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے کنبہ کو جو اسے ٹھکانہ دیتا تھا اور تمام اہل زمین کو اپنی جان کے بدلہ میں دے کر عذاب سے چھٹکارا پالے) مطلب یہ ہے کہ اس دن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ انسان دنیا میں جن لوگوں پر جان دیتا تھا ان کو اپنی جان کے عوض عذاب میں ڈال کر اپنی جان بچانے کی تمنا کرے گا لیکن وہاں کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنا اپنا عذاب بھگتنا ہوگا
Ayahs 70:15–18

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

یہ ہرگز نہیں ہوگا بیشک وہ آگ شعلے مارنے والی ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

سر کی کھال اتار دینے والی ہے

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ اس شخص کو بلاتی ہے جس نے پشت پھیری اور بےرخی اختیار کی

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور مال جمع کیا پھر اس کو سنبھال کر رکھا۔

اسی کو فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (ہرگز ! ایسا نہ ہوگا) کہ کوئی شخص اپنی جان کا بدلہ دے کر چھوٹ جائے۔ ﴿اِنَّهَا لَظٰىۙ0015 نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ0016﴾ (بلاشبہ وہ دوزخ سخت گرم چیز ہے جو سر کی کھال اتار دینے والی ہے) جب دوزخ کی آگ جلائے گی تو سر کی چمڑی اتر کر علیحد ہوجائے گی۔ ﴿ تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ0017﴾ (دوزخ اس کو پکارے گی جس نے دنیا میں پشت پھیری اور بےرخی کی اور مال جمع کیا اور پھر اس کی حفاظت کرتا رہا) ۔ ﴿يَوَدُّ الْمُجْرِمُ ﴾ سے یہاں تک کافر کا حال بیان ہوا ہے۔ پہلے تو یہ بتایا کہ کافر مجرم عذاب سے بچنے کے لیے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اور کنبہ قبیلہ کو اور جتنے بھی اہل زمین ہیں سب کو اپنی جان کے عوض دے کر اپنی جان کو عذاب سے چھڑانے کی آرزو کرے گا پھر یہ بتایا کہ وہ کسی طرح عذاب سے چھوٹ نہیں سکتا اسے دوزخ میں جانا ہی ہے دوزخ اپنے لوگوں کو پہچانے گی اور پکار پکار کر آواز دے دے کر بلائے گی کافروں کے کرتوت تو بہت ہیں لیکن اجمالی طور پر دنیا میں حق سے پشت پھیر کر جانے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے اعتراض کرنے اور مال جمع کرنے اور اسے اٹھا اٹھا کر رکھنے یعنی خرچ نہ کرنے کا تذکرہ فرمایا۔ ﴿اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ﴾ میں کفر سے متصف ہونا بیان فرما دیا اور وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى0018 میں مال کی محبت کا تذکرہ فرما دیا اور کافروں کی صفت بخل بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ انہیں مال سے محبت تھی حقوق اللہ ضائع كركے اور حقوق العباد تلف کر کے مال پر مال جمع کرتے رہے، سود بھی لیا اور غبن بھی کیا، خیانتیں بھی کیں اموال غصب بھی کیے، نوٹوں کی گڈیوں کی محبت میں اور بینک بیلنس کی فکر میں حلال حرام کچھ نہ دیکھا ایسی صورت میں لا محالہ دوزخ ہی ٹھکانہ ہوگا، جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں انہیں بھی فکر کرنا چاہیے کہ ہمارا مال کہاں سے آ رہا ہے اور مال جمع کرنے میں کتنے گناہوں کا ارتکاب ہو رہا ہے پھر حلال مال مل جائے تو اس میں سے فرائض اور حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرنا لازم ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے تھے کہ اے ابن آدم ! تو اللہ کی وعید سنتا ہے پھر بھی مال سمیٹتا ہے۔ (ذكرہ ابن کثیر) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن دوزخ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھتی ہوں گی اور دو کان ہوں گے جن سے سنتی ہوگی اور ایک زبان ہوگی جس سے بولتی ہوگی وہ کہے گی میں ان تین شخصوں پر مسلط کی گئی ہوں۔ (1) ہر سرکش ضدی پر (2) ہر اس شخص پر جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود ٹھہرایا (3) تصویر بنانے والے پر۔ (مشکوٰۃ المصابیح) تفسیر ابن کثیر سے نقل کیا ہے کہ جس طرح جانور دانہ تلاش کر کے چُگ لیتا ہے اسی طرح دوزخ میدان حشر سے ان لوگوں کو دیکھ بھال کر چن لے گی جن کا دوزخ میں جانا مقرر ہوچکا ہے۔
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک انسان کم ہمت پیدا کیا گیا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو خوب گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اس سے اچھی حالت مل جاتی ہے تو منع کرنے والے بن جاتا ہے،

انسان کا ایک خاص مزاج، گھبراہٹ اور کنجوسی، نیک بندوں کی صفات اور ان کا اکرام و انعام آیات بالا میں انسان کی بعض صفات رذیلہ اور بہت سی صفات جمیلہ بیان فرمائی ہیں اس سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ دوزخ انہیں بلائے گی جنہوں نے رو گردانی کی پشت پھیری اور مال جمع کیا اور اٹھا اٹھا کر رکھا اور ان آیات میں سے پہلی اور دوسری اور تیسری آیت میں انسان کا ایک خاص مزاج بتایا ہے ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ0019﴾ (بلاشبہ انسان کم ہمت پیدا کیا گیا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہا : الھلع سرعة الجزع یعنی جلدی سے گھبراہٹ میں پڑجانے کو ھلع کہا جاتا ہے یہ لفظ ناقة ھلوع سے لیا گیا ہے جو اونٹنی سریع السیر ہو تیز چلنے والی ہو اس کے لیے ناقۃ ھلوع بولا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا ﴿اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ0020 وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًاۙ0021﴾ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان دونوں آیتوں میں ھلوع کا معنی بیان فرمایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کے ھلوع ہونے کا زیادہ مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت زیادہ گھبراہٹ میں پڑجاتا ہے خوب جزع فزع کرتا ہے اور ہائے ہائے کرنے بیٹھ جاتا ہے (اسی کو ” كم ہمتی، ، سے تعبیر کیا گیا ہے) اور جب مال مل جاتا ہے تو اسے خرچ کرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ جب مال دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات میں اور مقرر کردہ حقوق میں خرچ نہیں کرتا۔ ضرورت مندوں کی حاجتیں رکی رہتی ہیں لیکن مال کو بھیج کر رکھے رہتا ہے اس کا دل چاہتا ہے کہ تجوری بھری رہے بینک بیلنس بڑھتا رہے اس میں اور ملالوں لیکن جو موجود ہے اس میں سے خرچ نہ کروں یہ جانتے ہوئے کہ نہ میں ہمیشہ رہوں گا نہ مال ہمیشہ رہے گا نہ مال ساتھ جائے گا پھر بھی مال کو دبائے بیٹھا رہتا ہے یہی خرچ نہ کرنے کا جذبہ بخل اور کنجوسی کہلاتا ہے بخل کی صفت انسان کو نیک کاموں میں آگے نہیں بڑھنے دیتی اور صدقات اور خیرات کے کاموں سے روکتی ہے بخیل آدمی جب خرچ کرنے لگتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی جان نکل جائے گی۔ اسی کو حدیث شریف میں فرمایا : شرما فی الرجل شح ھالح وجبن خالع (بلاشبہ انسان میں جو سب سے بری خصلت ہے وہ کنجوسی ہے جو گھبراہٹ میں ڈال دیتی ہے اور وہ بزدلی ہے جو جان نکال دینے والی ہے) ۔ (رواہ ابو داؤد كما فی المشکوٰۃ صفحہ 165) اس کے بعد ان حضرات کی صفات بیان فرمائی جو صفت ھلوع سے بچے ہوئے ہیں۔
Ayahs 70:22–23

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو نمازی ہیں

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

اولاً نمازیوں کا ذکر فرمایا : ﴿اِلَّا الْمُصَلِّيْنَۙ0022 الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ۪ۙ0023﴾ سوائے ان لوگوں کے جو نمازی ہیں جو اپنی نماز پر متوجہ رہتے ہیں۔ لفظ ﴿دَآىِٕمُوْنَ﴾ دوام سے ماخوذ ہے، صاحب روح المعانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ای مواظبون علی اداہٴا لا یخلون بھا ولا یشتغلون عنھا بشی عن الشواغل یعنی نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں ان میں ذرا سا خلل بھی گوارا نہیں کرتے اور دیگر مشغولیتیں انہیں نماز سے نہیں ہٹاتیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں : وقیل دَآىِٕمُوْنَ ای لا یلتفتون فیھا یعنی جب نماز پڑھنے لگتے ہیں تو برابر نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں، نہ ادھر ادھر کی باتیں سوچتے ہیں اور نہ دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے : اذا قمت فی صلوتک فصل صلوة مودع (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 445) ثانیاً : ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کے مالوں میں سوالی اور محروم کا حق معلوم ہے یعنی جو لوگ سوال کرنے والے ہیں انہیں بھی اپنے اموال میں سے دیتے رہتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی دے دیتے ہیں جن کا سوال کرنے کا مزاج نہیں ہے وہ اپنی حاجتیں دبائے بیٹھے رہتے ہیں اور اموال سے محروم رہتے ہیں یہ اصحاب خیر انہیں جا کر مال دے دیتے ہیں اس انتظار میں نہیں رہتے کہ کوئی شخص مانگے گا تب دیں گے۔
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کے مالوں میں حق معلوم ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سوال کرنے والے کے لیے اور محروم کے لیے

﴿حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے زکوٰۃ مفروضہ مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے وہ حق مراد ہے جو صاحب مال خود اپنے اوپر مقرر کرلے کہ مہینہ میں یا ہفتہ میں یا روزانہ یا اپنی آمدنی میں سے اس قدر ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیا کریں گے۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو لوگ روز جزا کی تصدیق کرتے ہیں

ثالثاً : ﴿ وَ الَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِ۪ۙ0026﴾ (اور جو لوگ روز جزا کی تصدیق کرتے ہیں) ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا جانی اور مالی عبادت جو لگے ہوئے ہیں اس عبادت کے اجر وثواب کی سچے دل سے آرزو رکھتے ہیں اور ثواب آخرت کے لیے اپنی جانوں کو نیک کاموں میں لگاتے اور تھکاتے ہیں چونکہ قیامت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا اور اس ایمان میں سبھی برابر ہیں اس لیے امتیازی شان بتانے کے لیے ان کی تعریف فرمائی ہے یہ لوگ آخرت پر ایمان تو رکھتے ہی ہیں وہاں کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہیں۔
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں

رابعًا فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ0027﴾ (اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں) ۔
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بلاشبہ ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے

﴿اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَاْمُوْنٍ 0028﴾ (بلاشبہ ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں جس سے بےخوف ہوں) مطلب یہ ہے کہ صالحین کا یہ طریقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی لگتے ہیں۔ جانی عبادت بھی کرتے ہیں اور مالی بھی، ان سب کے باوجود ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ قبول ہوا یا نہیں ہوا جو اعمال کیے ہیں ان کے علاوہ کتنے چھوٹ گئے ہیں ان کی طرف بھی دھیان رہتا ہے اور اپنی ہر طرح کی لغزش، کمی، کوتاہی اور معصیت کی طرف خیال کرتے ہوئے مواخذہ اور محاسبہ سے ڈرتے رہتے ہیں، اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے بےفکر اور مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جاتے۔ سورة ٴ المومنون میں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ0060﴾ (اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ انہوں نے دیا اس حال میں دیا کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں) ۔ اللہ کے عذاب سے مطمئن ہو کر بیٹھ جانا مومنین کی شان نہیں ہے۔ خوف اور طمع دونوں ساتھ ساتھ رہنی چاہیے۔
Ayah 70:29

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

خامساً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ0029﴾ (اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں)
Ayah 70:30

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں کے یا ملکیت میں آنے والی باندیوں کے سو وہ ان کے بارے میں ملامت کیے جانے والے نہیں ہیں۔

﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَۚ0030﴾ (مگر اپنی بیویوں پر اور اپنی مملوکہ باندیوں پر) کہ ان کی شرمگاہوں کی حفاظت کی ضرورت نہیں کیونکہ بیویاں اور باندیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال کردی گئی ہیں ﴿فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ﴾ (لہٰذا ان سے استمتاع کرنے پر انہیں کوئی ملامت نہیں) ۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

سو جس نے اس کے علاوہ کوئی جگہ تلاش کی تو یہ وہ لوگ ہیں جو حد سے آگے بڑھ جانے والے ہیں

﴿فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ0031 ﴾ (سو جو شخص اس کے علاوہ کا طلب گار ہوگا یعنی بیوی اور شرعی باندی کے علاوہ اور کسی جگہ شہوت پوری کرے گا سو یہ لوگ ہیں حد سے آگے بڑھ جانے والے) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حد مقرر فرمائی کہ شہوت پورا کرنے کے جذبات کو صرف بیویوں اور باندیوں تک محدود رکھیں اس کے خلاف ورزی کر کے مقررہ حد سے آگے نکل کر اپنے کو گناہ گار بنانے والے ہیں اور حدود سے آگے بڑھ جانے پر جو دنیاوی اور اخروی عذاب ہے اس کے مستحق ہوجانے والے ہیں۔ بیویوں اور شرعی باندیوں کے علاوہ جس سے بھی شہوت رانی کی جائے وہ حرام ہے اس میں زنا کاری اور بیویوں کے ساتھ غیر فطری عمل اور ہم جنسوں کے ساتھ شہوت رانی اور روافض کا متعہ سب داخل ہے۔ روافض جو متعہ کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے دیگر دلائل کے علاوہ اس آیت سے بھی متعہ کی حرمت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جاتا ہے وہ روافض کے نزدیک بھی بیوی نہیں ہوتی اگر متعہ کر کے کوئی شخص مدت مقررہ ختم ہونے سے پہلے مرجائے تو اس عورت کو میراث نہیں ملے گی (بیوی ہوتی تو میراث پاتی) اور دیگر احکام متعلقہ ازواج بھی اس پر نافذ نہیں کیے جاتے۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں

سادساً یوں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ0032﴾ (اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں) ۔ اللہ کے حقوق جو بندوں پر ہیں نماز، زکوٰۃ، روزے، کفارات، نذر کا پورا کرنا اور ان کے علاوہ بہت سی چیزیں یہ سب امانتیں ہیں جن کی ادائیگی یا اضاعت ہر شخص کو معلوم ہوتی ہے کہ میں نے کس حکم پر عمل کیا اور زندگی میں کس موقعہ پر حکم عدولی کی اس کی دوسروں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح حقوق العباد جو ایک دوسرے پر واجب ہیں وہ بھی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی فرض ہے ہر شخص اپنے متعلقہ احکام میں امانتدار ہے چھوٹے بڑے حکام اور ملوک اور رؤسا اور وزراء امانت دار ہیں انہوں نے جو عہدے اپنے ذمے لیے ہیں وہ ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے مطابق پوری کریں کسی بھی معاملہ میں عوام کی خیانت نہ کریں اسی طرح سے بائع اور مشتری اور سفر کے ساتھی اور پڑوسی، میاں بیوی اور ماں باپ اور اولاد سب ایک دوسرے کے مال کے اور دیگر متعلقہ امور کے امانتدار ہیں جو بھی کوئی کسی کی خیانت کرے گا گناہگار ہوگا اور میدان آخرت میں پکڑا جائے گا، جو مال کوئی شخص کسی کے پاس حفاظت کے لیے رکھ دے کہ میں بعد میں لے لوں گا یہ بھی امانت ہے اس کی حفاظت بھی لازم ہے اور اس کا ضائع کرنا اور اس میں خیانت کرنا بہت بڑی گناہگاری ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باتیں کر رہے تھے۔ ایک اعرابی (دیہات کا رہنے والا) آیا اس نے سوال کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کہ جب نا اہلوں کو کام سپرد کردیئے جائیں اس وقت قیامت کا انتظار کرنا۔ امانتوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ عہود کی نگرانی کا بھی حکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیے ہیں وہ بھی پورے کریں اور بندوں سے جو عہد کیے ہیں انفرادی و اجتماعی معاہدات ہیں ان کو بھی پورا کرنے کا اہتمام کریں۔ سورة الاسراء میں فرمایا : ﴿وَ اَوْفُوْا بالْعَهْدِ 1ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔوْلًا 0034﴾ (اور عہد پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا) ۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں

سابعاً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ۪ۙ0033﴾ (اور جو اپنی گواہیوں کے ساتھ قائم رہنے والے ہیں) یعنی گواہیوں کو ٹھیک طرح سے ادا کرتے ہیں، اس میں ہر قسم کی گواہی داخل ہے، ایمانیات کی گواہی دینا اور اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا ہے اس کے مطابق حق اور ناحق کی تعلیم اور تفہیم میں مشغول رہنا اور جہاں کہیں کسی کا کوئی حق مارا جاتا ہو اپنی سچی گواہی سے اسے ثابت کرنا اور صاحب حق کو اس کا حق دلوانا دینا یہ سب شھاداتھم قائمون کے عموم میں داخل ہے، حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں وہ شخص نہ بتادوں جو گواہوں میں سب سے بہتر ہے، پھر خود ہی فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے۔ (رواہ مسلم) جب کسی کا حق مارا جا رہا ہو اور کسی کو صورت حال کا صحیح علم ہو وہ حق کی حفاظت کرنے کے لیے گواہ بن کر پیش ہوجائے اور گواہی دے دے اور جب صاحب حق گواہی دینے کے لیے بلائے تو نہ گواہی کو چھپائے اور نہ گواہی دینے سے انکار کرے جیسا کہ سورة ٴ البقرہ میں فرمایا ﴿وَ لَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا 1ؕ ﴾ (اور گواہ انکار نہ کریں جب بلائے جائیں) اور فرمایا ﴿ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ 1ؕ وَ مَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ 1ؕ ﴾ (اور گواہی کو مت چھپاؤ، اور جو شخص اس کو چھپائے اس کا دل گناہگار ہے) ۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

ثامناً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَؕ0034﴾ (اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) ۔ نمازوں کی پابندی یعنی اہتمام کے ساتھ ادا کرنا مومن کی صفات خاصہ اور لازمہ میں سے ہے یہاں اس کو دو مرتبہ ذکر فرمایا ایک مرتبہ مومنین کی صفات کے شروع میں اور ایک مرتبہ آخر میں۔
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو بہشتوں میں باعزت رہیں گے۔

آخر میں فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ 2ؕ 0035﴾ مومنین کے اوصاف بیان فرمانے کے بعد ان کی جزا بیان فرما دی کہ وہ موت کے بعد بہشتوں میں باعزت رہیں گے۔
Ayahs 70:36–38

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

سو کیا ہوا کافروں کو کہ آپ کی طرف دوڑے آتے ہیں

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

آپ کی طرف دائیں سے اور بائیں سے

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر شخص اس کا لالچ کرتا ہے کہ نعمتوں والی جنت میں داخل کردیا جائے

کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے باطل میں لگے رہیں، قیامت میں ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی ان آیات میں منکرین کا طرز عمل بتایا ہے جو انہوں نے دنیا میں اختیار کر رکھا تھا۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کعبہ شریف کے قریب نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوتے تو مشرکین آپ کے چاروں طرف حلقے بنا بنا کر جمع ہوجاتے تھے اور ان کی مختلف جماعتیں بن جاتی تھیں، قرآن کو سن سن کر اس کا مذاق بناتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو مسلمان ہوتے تھے (جو بظاہر ٹوٹے پھوٹے حال میں تھے) انہیں دیکھ کر کہتے تھے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمد ﷺ کا بیان ہے تو بلاشبہ ہم ان سے پہلے داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص یہ آرزو رکھتا ہے کہ کافر ہوتے ہوئے نعمتوں والی جنت میں داخل ہوجائے اول تو اسے استفہام انکاری کی صورت میں بیان فرمایا پھر مزید تردید فرمائی ﴿كَلَّا ﴾ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ کوئی کافر جنت میں داخل ہوجائے یہ ان کی جھوٹی آرزوئیں ہیں ان کے نفس نے انہیں دھوکہ دے رکھا ہے اپنے مال اور اولاد کو دیکھ کر یوں سمجھتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں اموال اور اولاد والے ہیں تو آخرت میں بھی ہم کامیاب ہوں گے اور اچھے حال میں ہوں گے۔ یہ ان کی جہالت اور حماقت تھی۔ کروڑوں کافر آج بھی اسی دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہ ہوگا، بلاشبہ ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جس کو وہ جانتے ہیں،

﴿اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ 0039﴾ (بلاشبہ ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا جسے وہ جانتے ہیں) ۔ یعنی ان کو ہم نے نطفہ سے پیدا کیا ہے جس کی انہیں خبر ہے اس میں منکرین بعث کی تردید ہے وہ لوگ قیامت قائم ہونے پر ایمان نہیں لاتے تھے اور یہ جو کہتے تھے کہ یہ لوگ (اہل اسلام) جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جائیں گے ان کا یہ کہنا بطور تمسخر تھا جب ان کے سامنے بعث و حشر و نشر کی بات آتی تھی تو تعجب کرتے تھے اور منکر ہوجاتے تھے ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہیں کس چیز سے پیدا کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری پیدائش نطفہ منی سے ہوئی ہے جس ذات پاک نے بےجان نطفہ سے پیدا فرما دیا اسے اس پر بھی قدرت ہے کہ موت دے کر دوبارہ زندہ فرما دے، اسی کو سورة ٴ قیامہ کے آخر میں فرمایا ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037 ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ0038 فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ0039 اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ (کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا تھا پھر وہ خون کا لوتھڑا تھا پھر اللہ نے اسے بنایا پھر اعضاء درست کیے پھر اس کی دو قسمیں کردیں مرد اور عورت، کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ فرما دے) ۔