70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 70:1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک مانگنے والے نے وہ عذاب مانگا ہے

Ayah 70:2

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

جو کافروں پر آنے والا ہے (1) کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے۔

1: ایک کافر نے اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر قرآن اور اسلام برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے، یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لے آئیے، جیسا کہ سورة انفال (8: 32) میں گزرا ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص نضر بن حارث تھا، یہاں اسی کی بات کا حوالہ دیا جارہا ہے کہ وہ عذاب مانگ رہا ہے اور اس کا اصل مقصد مذاق اڑاکر اس عذاب کو جھٹلانا ہے، حالانکہ وہ ایسی چیز ہے جب آجائے گی تو کوئی اسے روک نہیں سکے گا۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

وہ اللہ کی طرف سے آئے گا جو چڑھنے کے تمام راستوں کا مالک ہے۔ (2)

2: چڑھنے کے راستوں سے مراد وہ راستے ہیں جن سے چڑھ کر فرشتے عالم بالا تک پہنچتے ہیں۔ یہاں ان کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ اگلی آیت میں انہی فرشتوں کے چڑھنے کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayahs 70:4–16

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روح القدس اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ (3)

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

لہذا تم خوبصورتی کے ساتھ صبر سے کام لو۔

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں۔

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

(وہ عذاب) اس دن ہوگا جب آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو پوچھے گا بھی نہیں۔

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے۔ مجرم یہ چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹے فدیہ میں دیدے۔

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنا وہ خاندان جو اسے پناہ دیتا تھا۔

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور زمین کے سارے کے سارے باشندے۔ پھر (ان سب کو فدیہ میں دے کر) اپنے آپ کو بچا لے۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوسکے گا۔ وہ تو ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو کھال اتار لے گی۔

3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے، وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت کے مطابق متعین ہوگا۔ اور تم جو سمجھ رہے ہو کہ اس کے آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے تو درحقیقت تم جس مدت کو ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال سمجھتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ چنانچہ سورة حج : 47 میں بھی یہ بات اسی سلسلے میں فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ عذاب کو جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور یہاں سورة معارج میں بھی اسی شخص کے جواب میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے جو عذاب مانگ رہا تھا۔
Ayah 70:17

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

ہر اس شخص کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیر کر منہ موڑا ہوگا۔ (4)

4: یعنی جس جس نے دنیا میں حق سے پیٹھ موڑی ہوگی اسے وہ اپنے پاس بلا لے گی۔
Ayahs 70:18–23

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) اکٹھا کیا ہوگا پھر اسے سینت سینت کر رکھا ہوگا۔ (5)

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے۔

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں۔

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔

5: یعنی مال پر اللہ تعالیٰ نے جو حقوق عائد فرمائے ہیں، ان کو ادا کیے بغیر وہ اسے جمع کرتا رہا ہوگا۔
Ayah 70:24

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال و دولت میں ایک متعین حق ہے۔ (6)

6:: اس سے مراد زکوٰۃ اور دوسرے واجب حقوق ہیں، ان الفاظ میں یہ بھی واضح فرمادیا گیا ہے کہ زکوٰۃ دینا غریبوں پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے۔
Ayahs 70:25–30

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سوالی اور بےسوالی کا (7)

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے عذب سے سہمے رہتے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

یقینا ان کے پروردگار کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے بےفکری برتی جائے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں اور ان باندیوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

7: جو غریب اپنی حاجت ظاہر کردیتے ہیں، انہیں سوالی سے اور جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کسی سے نہیں کہتے، انہیں بےسوالی (محروم۔ نہ مانگنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayahs 70:31–33

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ان کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں وہ حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں۔ (8)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی گواہیاں ٹھیک ٹھیک دینے والے ہیں۔

8: یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا کسی اور طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنا حرام ہے، اس لئے ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔
Ayahs 70:34–36

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی پوری پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔ (9)

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں عزت کے ساتھ رہیں گے۔

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) ان کافروں کو کیا ہوگیا کہ یہ تمہاری طرف چڑھے چلے آرہے ہیں۔

9: آیت نمبر 23 میں نماز کی پابندی کا ذکر ہے، اور یہاں اس کی پوری حفاظت سے مراد اس کے تمام آداب کی رعایت ہے۔ مسلمانوں کے انہی جیسے اوصاف سورة مومنون کی ابتدائی آیات میں بھی گذرے ہیں۔
Ayahs 70:37–38

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی، ٹولیاں بنا بنا کر۔ (10)

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر شخص کو یہ لالچ ہے کہ اسے نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے ؟

10: جب حضور اقدس ﷺ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو کافر لوگ ٹولیا بنا بنا کر آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے، اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اگر یہ صاحب جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے چلے جائیں گے۔ (روح المعانی)۔ یہ آیت اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
Ayahs 70:39–40

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے یہ خود جانتے ہیں۔ (11)

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

اب میں قسم کھاتا ہوں ان تمام مقامات کے مالک کی جہاں سے ستارے نکلتے اور جہاں سے غروب ہوتے ہیں کہ ہم یقینا اس بات پر قادر ہیں۔

11: یعنی یہ جانتے ہیں کہ ہم نے انہیں نطفے سے پیدا کیا ہے، حالانکہ نطفے سے انسان بننے تک کتنے مراحل آتے ہیں۔ لہذا جب ہم ان تمام مراحل سے گزار کر نطفے کو جیتا جاگتا انسان بنانے پر قادر ہیں تو اس کی لاش کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ؟