Ayah 70:11 : سَاَلَ سَآپلٌم بِعَذَابٍ وَّ اقِعٍ (ایک درخوست کرنے والا اس عذاب کی درخواست کرتا ہے) سائل سے نضربن الحارث مراد ہے۔ جس نے کہا تھا ان کان ھذا ھو الحق منعندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم ] الانفال : 32[ نمبر 2۔ اس سے مراد نبی اکرم ﷺ ہیں کہ آپ نے کفار پر نزول عذاب کی دعا فرمائی۔ سائل میں جب کہ دعا کا معنی متضمن ہے اس لئے اس کو باء سے متعدی کیا گیا گویا اس طرح کہا گیا دعاء داع ایک دعا کرنے والے نے دعا کی۔ بِعَذَابٍ وَّ اقِعٍ (واقع ہونے والے عذاب کی) عرب کہتے ہیں۔ دعاء بِکَذَا جب وہ دعامانگے اور طلب کرے ایک ارشاد الٰہی میں اسی کو ذکر فرمایا یدعون فیھا بکل فاکھۃ ] الدخان : 55[۔ وہ اس میں ہر قسم کے پھل مانگیں گے۔
قراءت : مدنی، شامی نے بلا ہمزہ سال پڑھا ہے۔ اور یہ سوال سے بھی ہوسکتا ہے تلیین کے ساتھ اس میں تخفیف کی گئی ہے۔ البتہ سائل ٌ بالا تفاق مہموز ہے۔
Ayah 70:22 : لِّلْکٰفِرِیْنَ (جو کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے) یہ عذاب کی صفت ہے ای بعذاب واقع کائن للکافرین۔ ایسا عذاب جو کافروں پر واقع و ثابت ہونے والا ہے۔ لَیْسَ لَہٗ (جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں) اس عذاب کو کوئی نہیں دَافِعٌ (رد کرنے والا)
Ayah 70:33 : مِّنَ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واقع ہوگا)
نحو : یہ واقع سے متصل ہے ای واقع من عندہ یا نمبر 2۔ دافع سے متعلق ہے۔ ای لیس لہ دافع من جھتہ تعالیٰ اذاجاء وقتہ اس کو کوئی روکنے والا نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا جب اس کا وقت آجائے گا۔ ذِی الْمَعَارِجِ (جو کہ سیڑھیوں کا مالک ہے) آسمان کی سیڑھیاں جن کو فرشتے استعمال میں لاتے ہیں۔ معارج جمع معرج۔ چڑھنے کی جگہ۔
Ayah 70:44 : پھر ان مصاعد کی تعریف فرمائی اور ان کی دوری اور بلندی کو ذکر کیا فرمایا۔ تَعْرُجُ الْمَلٰٓپکَۃُ وَالرُّوْ حُ ( فرشتے اور روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں)
قراءت : تَعرجؔ کا معنی چڑھنا یہ یاء کے ساتھ علی نے پڑھا ہے۔ الروحؔ نمبر 1۔ سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ملائکہ کا عمومی ذکر کر کے ان کو فضل و عظمت کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کردیا۔ نمبر 2۔ یہ الروح ایک ایسی مخلوق ہے جو ملائکہ پر نگران ہے جیسا فرشتے ہم پر نگران ہیں۔ نمبر 3۔ موت کے وقت ایمان والوں کی ارواح کو عروج حاصل ہوتا ہے۔ اِلَیْہِ (اس کے عرش کی طرف) اور اس کا حکم اترنے کی جگہ فِیْ یَوْمٍ (ایسے دن میں)
نحو : مِنؔ یہ تعرج کا صلہ ہے۔
قیامت کے دن کی مقدار :
کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ (جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے) دنیا کے سالوں کے مطابق جبکہ فرشتوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص چڑھے۔ نمبر 2۔ مِنؔ یہ واقع کا صلہ ہے تقدیر کلام یہ ہے یقع فی یوم طویل مقدارہ خمسون الف سنۃ من سنکم۔ یہ واقع ہوگا ایسے طویل دن میں جس کی مقدار تمہارے سالوں میں پچاس ہزار سال ہے اور وہ قیامت کا دن ہے پھر اسکو طویل اسلئے بتلایا کیونکہ یہ کفار پر بڑا سخت ہوگا۔ نمبر 2۔ یہ دن فی الحقیقت اتنا طویل ہوگا ایک قول یہ ہے اس میں پچاس مواقف ہونگے جن میں ہر موقف ایک ہزار سال کا ہوگا اور اس کا اندازہ ایمان والوں کیلئے ظہر وعصر کے مابین وقت سے کیا گیا ہے۔
Ayah 70:55 : فَاصْبِرْ (پس آپ صبر کیجئے) یہ سأل سائل کے متعلق ہے کیونکہ نضر بن حارث نے رسول اللہ ﷺ سے بطور استہزاء اور تکذیب وحی کے عذاب کا جلد مطالبہ کیا اور اس سے آنحضرت ﷺ کو کبیدگی خاطر پیش آئی اسی لئے اس پر صبر کا حکم دیا گیا۔ صَبْرًا جَمِیْلًا (اور صبر بھی ایسا جس میں شکایت کا نام نہ ہو) اس صبر میں گھبراہٹ و شکایت نہ ہو۔
Ayah 70:66 : اِنَّھُمْ (یہ لوگ) یعنی کفار یَرَوْنَہٗ (اس کو دیکھ رہے ہیں) اس عذاب یا قیامت کے دن کو بَعِیْدًا (بعید) ناممکن۔
Ayah 70:77 : وَّ نَرٰٹہُ قَرِیْبًا (اور ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں) وہ بہرصورت واقع ہوگا بعید سے بعید از امکان مراد ہے۔ اور قریب سے قریب الامکان۔
Ayah 70:8ایک منظر قیامت :
8 : یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآ ئُ (جس دن آسمان ہوجائے گا) یومؔ یہ قریباً کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے یمکن فی ذلک الیوم وہ اس دن میں ممکن ہے۔ نمبر 2۔ فی یومؔ سے بدل ہے۔ اس صورت میں مجرور ہے یہ ان کے نزدیک ہے جنہوں نے واقع کے متعلق کیا ہیکالْمُھْلِ (تلچھٹ کی طرح ہوجائیگا) زیتون کے تلچھٹ کی طرح یا پگھلی ہوئی متلون چاندی کی طرح۔
Ayah 70:99 : وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ (اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے) مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی اُون۔ کیونکہ پہاڑ مختلف رنگت کے ہیں۔ جددٌ بیض وحمر مختلف الوانھا وغرابیب سود۔ ] فاطر : 27[ پس جب اس کو فضاء میں اڑا کر بکھیر دیا جائے گا تو بکھری دھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں جس کو ہوا اڑا لے جائے۔
Ayah 70:1010 : وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا (اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا) قریبی کسی قریبی کو نہ پوچھے گا کیونکہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔
قراءت : البزی اور البر جمی نے لایسال ضمہ یاء سے پڑھا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوگا کسی قریب سے دوسرے قریبی کا مطالبہ نہ کیا جائیگا۔ اور نہ اس کے گناہ کے بدلہ اس کو پکڑا جائے گا۔
Ayah 70:111 1 : یُّبَصَّرُوْنَھُمْ (باوجودیکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیئے جائیں گے)
نحو : یہ حمیمًا کی صفت ہے۔ وہ قریبی دکھائے جائیں گے اور پہچان کرائے جائیں گے نمبر 2۔ یہ جملہ مستانفہ ہے گویا کہ جب یہ کہہ دیا گیا : ولا یسأل حمیم حمیمًا تو اس پر سوال پیدا ہوا کہ شاید کہ وہ اس کو دیکھ نہ پائے۔ تو جواب دیا گیا وہ ایک دوسرے کو دکھلا دیے جائیں گے۔ لیکن اپنی مشغولیت کی وجہ سے ایک دوسرے سے پوچھ بھی نہ سکیں گے۔ یبصرونھم کی وائوؔ یہ پہلے حمیم کی طرف راجع ہے ھمؔ حمیم ثانی کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے۔ وہ گہرے دوست دوسرے دوستوں کو اچھی طرح دیکھیں گے ایک دوسرے سے چھپے ہوئے نہ ہونگے۔
ضمیر جمع کی وجہ :
دونوں ضمائر جمع لائے حالانکہ یہ تو دو ہیں۔ کیونکہ فعیلاً کا وزن جمع کے موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ یَوَدُّالْمُجْرِمُ (مجرم اس بات کی تمنا کریں گے) مشرک تمنا کرے گا۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ یبصرونہم کی ضمیر مرفوع یا منصوب سے حال ہے۔
لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم (کہ اس روز کے عذاب سے چھوٹنے کے لئے فدیہ میں دے دے)
نحو و قراءت : مدنی و علی نے بناء کی وجہ سے یومَئِذ مفتوح پڑھا ہے۔ اس لئے کہ اس کی اضافت غیر متمکن کی طرف ہے۔
بِبَنِیْہِ (اپنے بیٹوں کو)
Ayah 70:1212 : وَصَاحِبَتِہٖ (اور اپنی بیوی کو) وَاَخِیْہِ (اور اپنے بھائی کو )
Ayah 70:1313 : وَفَصِیْلَتِہِ (اور اپنا قریبی خاندان) الَّتِیْ تُئْوِیْہِ (جن میں وہ رہتا ہے) بالآخر جو اس کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہے۔
قراءت : یزید نے اس کو بغیر ہمزہ تُوِیْہِ پڑھا ہے۔
Ayah 70:1414 : وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ (اور تمام اہل زمین کو پھر یہ اس کو بچا لے) جمیعًا سے تمام لوگ یُنجیہٖ سے فدیہ دینا مراد ہے۔ اور اس کا عطف یفتدی پر ہے۔
Ayah 70:1515 : کَلَّا (یہ ہرگز نہ ہوگا) اس میں مجرم کو اس کی خواہش پر ڈانٹ پلائی گئی۔ اور اس پر متنبہ کیا کہ اس کو فدیہ فائدہ نہ دے گا۔ اور نہ ہی عذاب سے بچائے گا۔ اِنَّھَا (وہ آگ)
نحو : عذاب کا تذکرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ضمیرمبہم ہے۔ جس کی ترجمانی خبر کر رہی ہے۔ نمبر 3۔ ہاء یہ ضمیر قصہ ہے۔ لَظٰی (شعلہ زن ہے) یہ آگ کا نام ہے۔
Ayah 70:1616 : نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی (جو کھال اتار دے گی) نمبر 1۔ حفص و المفضل نے حال مؤکدہ کی بناء پر منصوب پڑھا ہے۔ نمبر 2۔ ڈرانے کیلئے بطور اختصاص منصوب ہے۔ نمبر 3۔ دیگر قراء نے نزاعۃ رفع سے پڑھا ہے اور خبر کے بعد دوسری خبر قرار دیا۔ ان کی اول خبرلظٰی دوسری خبر نزاعۃٌ۔ نمبر 4۔ ھی مبتدأ محذوف کی خبر ہے ھی نزاعۃٌ للشویؔ۔ اطراف انسانی ہاتھ پائوں وغیرہ نمبر 2۔ شواۃٌ سر کا چمڑا، اس کو آگ کھینچ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔ پھر وہ دوبارہ اپنی حالت پر لوٹ جائے گا۔ تو آگ اپنے کام پر لوٹتی رہے گی۔ (اعاذن اللہ منھا) ۔
Ayah 70:17جہنم آوازیں دے گی :
17 : تَدْعُوْا (وہ اس شخص کو بلا وے گی) ان کے اس طرح نام لے گی۔ یا کافر یا منافق۔ میری طرف۔ میری طرف نمبر 2۔ وہ پکار کر کہے گی تو ہلاک ہو۔ یہ دعا ک اللّٰہ سے کیا ہے جس کا معنی اھلکک نمبر 2۔ جب اس کا ٹھکانہ آگ ہے تو گویا آگ کو ایسا قرار دیا گیا کہ وہ اس کو بلا رہی ہے۔ مَنْ اَدْبَرَ (جس نے حق سے پیٹھ پھیری ہوگی) وَتَوَلّٰی (اور بےرخی کی ہوگی) اطاعت سے۔
Ayah 70:1818 : وَجَمَعَ (اور جمع کیا ہوگا) یعنی مال فَاَوْعٰی (پھر اس کو اٹھا اٹھا کررکھا ہوگا) پھر اس کو تجوری میں رکھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کیا۔
Ayah 70:1919 : اِنَّ الْاِنْسَانَ (انسان) مراد اس سے جنس انسان ہے تاکہ مصلین کا استثناء درست ہوسکے۔ خُلِقَ ھَلُوْعًا (کم ہمت پیدا ہوا ہے) ۔
قول ابن عباس ؓ :
اس کی تفسیر مابعد والی آیت ہے۔
Ayah 70:2020 : اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا (جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو جزع فزع کرنے لگتا ہے)
Ayah 70:2121 : وَّ اِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا (اور جب اس کو فارغ البالی ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے) الھلعؔ ناپسند حالت آنے پر جلد گھبرانا۔ اور بھلائی پہنچے تو جلد بھلائی سے رک جانا۔
قول ثعلب (رح) :
محمد بن طاہر نے آپ سے پوچھا ھلعؔ کیا ہے تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی خود تفسیر فرما دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی تفسیر سے زیادہ واضح نہیں ہوسکتا۔ اور وہ وہی ہے جب اس کو تکلیف پہنچے تو شدید گھبراہٹ کا اظہار کرے۔ اور جب اس کو خیر میسر ہو تو بخل کرے اور اس کو لوگوں سے روک کر بیٹھ رہے۔ یہ طبع انسانی ہے۔ انسان کو اپنی طبع کی مخالفت کا حکم دیا گیا اور شرع کی موافقت کرنے کا کہا گیا ہے۔ الشرؔ سے جسمانی تکلیف، فقر، مرض، الخیرؔ۔ وسعت رزق، مالداری، صحت۔
Ayah 70:2222 : اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ (مگر وہ نمازی )
Ayah 70:2323 : الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ (جو اپنی نماز پر) پانچوں نمازیں دَآ ئِمُوْنَ (برابر توجہ رکھتے ہیں) ۔ نماز کے اوقات میں ان کی محافظت کرتے ہیں۔ یہ ابن مسعود ؓ کی تفسیر ہے۔
Ayah 70:2424 : وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ (وہ جن کے مالوں میں سب کا حق ہے) حقؔ زکوٰۃ کیونکہ یہی مقرر اور معلوم ہے۔ نمبر 2۔ صدقہ جو آدمی اپنے اوپر کسی کے وظیفہ کے طور پر مقرر کرے۔ اور مقرر اوقات میں اس کو ادا کرے۔
Ayah 70:2525 : لِّلسَّآ ئِلِ (سوالی کیلئے) جو لوگوں سے مانگتا ہے وَالْمَحْرُوْمِ (اور بےسوالی کیلئے) جو سوال سے بچتا ہے اس کو غنی سمجھ کر محروم رکھتے ہیں۔ اور وہ محروم رہتا ہے۔
Ayah 70:2626 : وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ (وہ جو قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں) یوم الدینؔ سے یوم جزاء اور حساب مراد ہے یہی قیامت کا دن ہے۔
Ayah 70:2727 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ ( اور وہ جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں) مشفقون کا معنی خائفون خوف کرنے والے۔
Ayah 70:2828 : اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ (واقعی ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں)
قراءت : ابو عمرو کے علاوہ باقی قراء نے مأمون ہمزہ سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کسی کو مناسب نہیں اگرچہ وہ طاعت و محنت میں کتنی ترقی کر جائے کہ وہ عذاب سے بےخوف ہو کر بیٹھ جائے۔ اور مناسب یہی ہے کہ خوف ورجاء کے درمیان رہے۔
نحو : یہ جملہ معترضہ درمیان میں لائے۔
Ayah 70:2929 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ( اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھنے والے ہیں) ۔
Ayah 70:3030 : اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ (لیکن اپنی بیویوں سے یا اپنی لونڈیوں سے کیونکہ ان پر کوئی الزام نہیں) اگر وہ حفاظت کو ترک کردیں۔
Ayah 70:3131 : فَمَنِ ابْتَغٰی (ہاں جو طلبگار ہوا) جماع کی جگہ تلاش کی۔ وَرَآ ئَ ذٰلِکَ (ان کے علاوہ) بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ (ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں) حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے۔
فائدہ : یہ آیت متعہ کی حرمت، لواطت کی حرمت اور بہائم سے جماع اور استمناء بالید کی حرمت کو ثابت کرتی ہے۔
Ayah 70:3232 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَ مٰنٰتِھِمْ (اور جو لوگ اپنی امانتوں )
قراءت : لا مانتھم۔ مکی نے پڑھا ہے۔ الاماناتؔ کا لفظ شرع کی امانتیں اور بندوں کی امانتوں کو شامل ہے۔ وَعَھْدِ ھِمْ (اور اپنے وعدوں کا) اس میں مخلوق کے معاہدات، نذور اور قسمیں سب شامل ہیں۔ رَاعُوْنَ (خیال رکھنے والے ہیں) حفاظت کرنے والے ہیں۔ نہ خیانت کرنے والے اور نہ ہی توڑنے والے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اماناتؔ وہ ہیں جن پر عقل دلالت کرے۔ العھدؔ جس کو رسول لائے۔
Ayah 70:3333 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰتِھِمْ قَآئِمُوْنَ ( اور جو لوگ اپنی گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں)
قراءت : حفص ‘ سہل و یعقوب نے شہادات پڑھا ہے۔ قائمون کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکام کے پاس گواہی کو بغیر کسی میلان کے جو قریب و شریف کیلئے اختیار کیا جائے اور بلاترجیح کے جو طاقتور کے حق میں ضعیف کے خلاف اختیار کیا جائے۔ وہ ادا کرتے ہیں اور ان کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کو زندہ کرنا اور دین میں صلابت و پختگی ہوتا ہے۔
Ayah 70:3434 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ (اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) نماز کی اہمیت واضح کرنے کیلئے اس کو دوبارہ لائے۔ نمبر 2۔ اول میں فرائض کی محافظت اور ثانی میں نوافل کی مداومت کو ذکر فرمایا۔ نمبر 4۔ ایک قول یہ ہے نمازوں پر مداومت سے مراد۔ کثرت سے پڑھے اور ان کی محافظت کرنے سے مراد وہ اپنے اوقات سے نہ ہٹنے پائیں۔ نمبر 5۔ دوامؔ؛ اوقات میں ادائیگی کا نام ہے اور محافظتؔ اس کے ارکان، واجبات، سنن، آداب کی حفاظت۔
Ayah 70:3535 : اُولٰٓپکَ (ایسے لوگ) جو ان صفات سے متصف ہوں۔ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ (بہشتوں میں عزت سے داخل ہونگے )
نحو : اولئک مبتدأ اور باقی دونوں خبریں ہیں۔
Ayah 70:3636 : فَمَالِ یہ لفظ مصحف عثمان ؓ کی اتباع میں الگ لکھا جاتا ہے۔ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ (تو کافروں کو کیا ہوا کہ آپ کی طرف) قبلکؔ آپ کی طرف اور جانب مُھْطِعِیْنَ (دوڑے آرہے ہیں)
نحو : الذین کفروا سے حال ہے۔
Ayah 70:3737 : عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ (دائیں اور بائیں سے) آپ کے دائیں اور بائیں سے عِزِیْنَ (مختلف جماعتیں بن کر) یہ عزۃ کی جمع یا اس کا اصل عزوۃٌ ہے ہر گروہ اپنی الگ الگ متفرق نسبت کرتا ہے۔
نحو : یہ حال ہے۔
Ayah 70:38کفار کا وطیرہ اور اس کا جواب :
38 : کافر آپ کے اردگرد مختلف گروہوں اور پارٹیوں کی شکل میں جمع ہو کر قرآن سنتے اور وہ کلام اللہ کا مذاق اڑاتے اور کہتے اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوگئے جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں۔ تو ہم ضرور ہی ان سے پہلے جائیں گے پس یہ آیت اتاری گئی۔ اَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ (کیا ان میں سے ہر شخص اس کی طمع رکھتا ہے کہ وہ آسائش کی جنت میں داخل ہوجائیگا)
قراءت : مفضل کے علاوہ بقیہ نے یُدْخَلَ پڑھا ہے یا مضموم اور خاء مفتوح۔ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ : نعمتوں والی جنتیں جیسا کہ ایمان والوں کو ملیں گی۔
Ayah 70:39بغیر ایمان جنت کا دعویٰ کس منہ سے :
39 : کَلَّا (ہرگز نہیں) اس میں ان کی دخول جنت والی طمع کو رد کردیا گیا۔ اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان کو ایسی جگہ سے پیدا کیا جس کی ان کو بھی خبر ہے) یعنی حقیر نطفہ سے اسی لئے ابہام کے طور پر ذکر کیا۔ تاکہ یہ بتلایا جائے کہ حیاء کا تقاضایہ ہے کہ اس کو اشارۃً ذ کر کیا جائے۔ تو جب ان کی پیدائش ایسی چیز سے ہے تو مشرف کہاں سے ہوں گے۔ اور ایمان والوں سے بڑھ جانے کا کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم جنت میں ان سے پہلے داخل ہونگے۔ نمبر 2۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو نطفہ سے بنایا۔ جیسا تمام اولاد آدم کو بنایا۔ ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جنت میں کوئی ایمان کے بغیر داخل نہ ہو تو یہ بلا ایمان اس میں داخلہ کی کیونکر طمع کرتے ہیں ؟
Ayah 70:4040 : فَـلَا اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ (پھر میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی) مشارقؔ سے مطالع اور مغاربؔ سے غروب کے مقامات اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ (ہم اس پر قادر ہیں)