Explained with ayahs 8–18
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الْمَعَارِج 10
چونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، اس لیے جب وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اور بےوزن ہو کر اڑنے لگیں گے تو ایسے معلوم ہونگے جیسے رنگ برنگ کا دھنکا ہوا اون اڑ رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ حَمِـيْمًا ښ يُّبَصَّرُوْنَهُم حمیم کے معنی گہرے اور مخلص دوست کے ہیں قیامت کی شدت کا بیان ہے کہ اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا، مدد کرنا تو درکنار، آگے یہ بھی بتلادیا کہ یہ نہ پوچھنا اس لئے نہیں کہ وہ دوست سامنے نہیں ہوگا بلکہ قدرت الٰہیہ ان سب کو ایک دوسرے کے سامنے بھی کر دے گی، مگر ہر شخص نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا کوئی کسنی دوسرے کی تکلیف و راحت کی طرف التفات نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →اس دن کی نفسی نفسی کی تصویر:
یعنی اس دن ہر شخص پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی کہ جو عمر بھر اس دنیا میں باہم دگر جگری دوست بنے رہے اور جنھوں نے ایک دوسرے کی خاطر جان اور اپنے مال سب کچھ قربان کیے اس دن اس طرح آنکھیں پھیر لیں گے کہ کوئی کسی کا حال پوچھنے کا بھی روادار نہ ہو گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورة القارعۃ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔
لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " سب نظر آجائیں گے۔ یعنی دوستی ان کو نکمی تھی۔ " ایک دوسرے کا حال دیکھے گا۔ مگر کچھ مدد و حمایت نہ کرسکے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت 6 ‘ 7{ اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا - وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں ‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔“
ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے ‘ مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یا خبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہرچیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7 پہاڑوں کے پتھر بھی کئی رنگوں کے ہوتے ہیں مثلاً سرخ، سفید، کالے، دھاری دار اسی طرح اون کے عموماً یہی رنگ ہوتے ہیں۔ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑنے لگیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ رنگ برنگی دھنکی ہوئی روئی کے گالے اڑے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
6۔ یعنی ایسی نفسی نفسی اس وقت پڑی ہوگی کہ غیر تو کیا کام آئیں گے خود اپنے قریبی بھی بات تک نہ پوچھیں گے۔ (آیت) ” یوم “۔ یعنی کافروں پر یہ عذاب اس دن واقع ہوگا، جس کی کیفیت اب بیان ہورہی ہے۔ امتداد یوم حشر کا بیان ابھی ہوچکا ہے۔ اب تفصیلات اس روز کے اشتداد کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” کالمھل “۔ یعنی تلچھٹ کی طرح سیاہی مائل انتہائی سرخی کے ڈانڈے سیاہی سے مل جاتے ہیں۔ اس لئے اس بیان اور (آیت) ” کانت السمآء وردۃ کالدھان “۔ میں کوئی تناقص نہیں۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ سرخی اور میلان بسیاہی یہ (2) مختلف رنگتیں (2) مختلف حالتوں کی ہوں۔ (آیت) ” السمآء کالمھل “۔ الجبال کالعھن “۔ جب آسمان اور پہاڑ جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →ولا یسئل حمیم حمیما . ہر شخص اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ کوئی اپنے گہرے دوست کو بھی نہیں پوچھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اور اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا باوجوی کہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے مگر اپنی مشغولیت کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں پہچانیں گے۔
کافر یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی یا نضر بن حارث اور اس کے ساتھ اس بات کی تمنا کریں گے کہ قیامت کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور بیوی کو اور بھائی کو اور کنبہ کو جن میں وہ رہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ولایسئل حمیم حمیاً…: کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا، اس لئے نہیں کہ وہ دکھائی نہیں دے رہا ہوگا، بلکہ ”یبضرونھم“ ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جا رہے ہوں گے اور آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ نہ پوچھنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی، مجرم دنیا میں جن جن پر اپنی جان قربان کرتا تھا اس دن سب کو، بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو پانی جان بچانے کے لئے عذاب الٰہی کے حاولے کردینا پسند کرے گا۔ اس مقام پر رشتہ داروں کی ترتیب میں پہلے ان کا ذکر کیا جو سب سے زیادہ محبوب ہیں، یعنی بیٹے، بیوی، بھئای، خاندان اور سورة عبس (34 تا 36) میں اس کا الٹ ہے۔ ”فصیلتہ“ خاندان، کنبہ، کیونکہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وتکون الجبال کالعھن۔ پہاڑ ہوجائیں گے رگنی ہوئی اون کی طرح۔ اون کو عھن اس وقت کہتے ہیں جب وہ رنگی ہوئی ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا، پہاڑ سرخ اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ اونوں میں سے کمزور ترین اون ہوتی ہے۔
اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
کان فتات العھن فی کل منزل
فتاب کا معنی ٹکڑے۔ العھن سے مراد سرخ اون ہے۔ اس کی واحد عھنہ ہے، گویا سرخ اون کے ٹکڑے ہر جگہ ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا : العھن سے مراد رگن دار اون ہے۔ پہاڑوں کو اس سے تشبیہ دی جا رہی ہے کیونکہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں معنی ہے پہاڑ سختی کے بعد نرم ہوجائیں گے اور اجتماع کے بعد بکھر جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سب سے پہلے پہاڑ جمع شدہ ریت…
Read the full tafseer →6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یسئل حمیم حمیما اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا یعنی ہر انسان لوگون سے بےپرواہ ہو کر اپنی ذات میں مشغول ہوگا آیت یبصرونہم کہ وہ ان کو دیکھیں گے یعنی تم ضرور جان لو گے اللہ کی قسم ! قیامت کے دن ایک قوم دوسری قوم کو ضرور پہچانے گی اور لوگ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ آیت یود المجرم لویفتدی۔ مجرم چاہے گا کاش وہ فدیہ دے کر چھوٹ جائے۔ پھر فرمایا کہ وہ قیامت کے دن تمنا کرے گا کہ وہ سب سے محبوب چیز کا فدیہ دیتا اور پھر اس کے بعد سب سے زیادہ محبوب اور زیادہ قریبی اپنے اہل و عیال اور اپنے خاندان میں سے فدیہ دے سکتا اور یہ اس دن…
Read the full tafseer →[وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ: اور نہیں پوچھے گا کوئی دوست ][ حَمِـيْمًا : کسی دوست سے (خیر خیریت)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
قیامت کے دن ایک دوست دوسرے دوست کو نہ پوچھے گا، رشتہ داروں کو اپنی جان کے بدلہ عذاب میں بھیجنے کو تیار ہوں گے
ان آیات میں قیامت کے دن کی بعض بڑی چیزوں کے ادل بدل ہوجانے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہے کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا اور پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سورة القارعہ میں لفظ المنفوش کا بھی اضافہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے جو اڑتے ہوئے پھریں گے۔
آسمان کے بارے میں جو کالمہل فرمایا اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی تیل کی تلچھٹ اور صاحب جلالین نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے كذائب الفضتہ کہا ہے یعنی پگھلی ہوئی چاندی کی طرح سے ہوگا اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔
مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4:۔ ” یوم تکون السماء “ تخویف اخروی۔ ظرف کا متعلق محذوف ہے جو سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی وہ عذاب کب آئیگا ؟ جواب دیا گیا جب آسمان تانبہ گداختہ کی مانند ہوجائیں گے۔ کانہ قیل متی یقع ذلک العذاب ؟ یقع یوم تکون السماء الخ، افاہ الشیخ قدس سرہ۔ یا یہ ” قریبا “ سے متعلق ہے یا یقع مقدر سے۔ مراد اس سے قایمت کا دن ہے۔ قیامت کا منظر نہایت ہولناک ہوگا۔ قیامت کے دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی مانند سرخ ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئ روئی کے گالوں کی مانند ہوں گے۔ اس دن کوئی مخلص سے مخلص دوست بھی اپنے کسی دوست کی خبر نہیں لے گا، حالانکہ سب دوست آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے مگر کچھ کر نہیں سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین :
اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔
سابقہ سورة سے ربط :
اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ حَمِـيْمًا 10 ۚ ۖ
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلاَ یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّـبَـصَّرُوْنَہُمْ ط یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْہِ ۔ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا لا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلاَّ ط اِنَّھَا لَظٰی۔ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی۔ (المعارج : 10 تا 16)
(اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دے دے اپنی اولاد کو۔ اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے۔ اور روئے زمین کے سب لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →10 : وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا (اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا) قریبی کسی قریبی کو نہ پوچھے گا کیونکہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔
قراءت : البزی اور البر جمی نے لایسال ضمہ یاء سے پڑھا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوگا کسی قریب سے دوسرے قریبی کا مطالبہ نہ کیا جائیگا۔ اور نہ اس کے گناہ کے بدلہ اس کو پکڑا جائے گا۔
Read the full tafseer →9 ۔” وتکون الجبال کالعھن “ رنگی ہوئی اون کی طرح اور ” عھن “ صرف رنگی ہوئی اون کو کہا جاتا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں دھنکی ہوئی روئی کی طرح اور حسن (رح) فرماتے ہیں سرخ روئی کی طرح اور وہ کپاس میں کمزور ترین ہے اور پہلے جب پہاڑ متغیر ہوں گے تو وہ بچھی ہوئی ریت ہوجائیں گے۔ پھر دھنکی ہوئی روئی پھر ذرات ہوا میں اڑتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔
عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…
Read the full tafseer →(ولا یسئل حمیم حمیما یبصرونھم) ۔ حمیم۔ سے مراد قریبی ہے۔ یعنی قریبی دوست وہ اپنے دوست کو دیکھے کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہوگی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے بس اسے اپنے آپ کا غم ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
8 قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے کیونکہ عہن دراصل کہتے ہی اس اون کو ہیں جو مختلف رنگوں کی ہوتی ہے (قرطبی وغیرہ) اور یہ اس لئے ہوگا کہ پہاڑ مختلف رنگوں کے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانہ و غرابیب سود " (فاطر : 27) ۔ اور جب مختلف رنگوں کے یہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " وتکون الجبال کالعھن المنفوش " (القارعۃ :15) ۔ جو ظاہر ہے کہ یہ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے تو پھر باقی کسی بلڈنگ وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں
تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری )
قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔
آیات 1 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔
مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔
جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔
Read the full tafseer →(70:10) ولا یسئل حمیم حمیما : یہ جملہ بھی معطوف ہے اس کا عطف بھی آیت نمبر 8 پر ہے اور کوئی دوست کسی دوست کا حال نہیں پوچھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔
تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔
(ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔
” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔
Read the full tafseer →(10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4۔ یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت زبان پر آجاوے، بلکہ یہ سمجھ کر عمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہو گا
10 ؎ (حمیم) نہایت گرم پانی کو کہتے ہیں جو گرمی کی شدت کے باعث کھولنا شروع ہوجائے اور اس اعتبار سے اس قریبی دوست کو بھی کہتے ہیں جو اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجائے (حمیم) کو اگر گرم پانی کے معنوں میں لیا جائے تو اس کی جمع حمائم ہوگی اور گہرے دوست کے معنی میں ہو تو اس لحاظ سے اس کی جمع احماء ہوگی لیکن قرآن کریم میں جمع کا صیغہ استعمال نہیں ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی دوست خواہ وہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو دوسرے دوست کی مدد کو نہیں آئے گا اور اس کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر اس کا خون نہیں کھولے گا اور اس کی حمایت میں قطعاً کھڑا نہیں ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ (and no friend will ask about any friend, (though) they will be made to see each other....70:10, 11). The word hamim means a 'sincere friend'. The context describes the horrors of the Day of Resurrection. On that Day, no bosom friend will inquire about his friend - let alone helping him. This is not because they will not be able to see each other. The Divine power, in fact, will make them see each other. Every person will be in a state of 'each for himself. No person will be able to pay heed to the comfort or discomfort, pleasure or pain of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
10 As the colours of the mountains are different, when they are uprooted and they drift about weight less, they will appear like flakes of carded wool of different colours.
Read the full tafseer →