70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 70:1–2

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک مانگنے والے نے جلدی کر کے اوہ عذاب مانگا

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

جو کافروں کو ضرور ہونے والا ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا2

ف 2 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ شخص جس نے عذاب مانگا نضر بن حارث تھا جبکہ اس نے یہ کہا تھا اللھم ان کان ھذا ھو الحق میں عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئینا بعذاب الیم چناچہ یہ شخص بدر کے روزمارا گیا۔ جمہور علماء تفسیر نے یہی تاویل کی ہے۔ یا ممکن ہے عذاب مانگنے والے سے مراند آنحضرت ہی ہوں۔ چناچہ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” یعنی پیغمبر نے تم پر عذاب مانگا ہے وہ کسی سے نہ ہٹایا جائیگا۔ (موضح) مگر پہلی تاویل قابل ترجیح ہے۔
Ayahs 70:3–4

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

بلند درجے والے اللہ کی طرف سے

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

رشتے اور روح یعنے جبرئیل یا اور کوئی فرشتہ اس تک ایک دن میں چھڑتے ہیں اگر اور کوئی وہاں تک چڑھنا چاہے تو اس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہیں3

ف 3 یعنی وہ پچسا ہزار سال میں اس مقام تک پہنچے گا جہاں یہ فرشتے ایک دن میں چڑھ جاتے ہیں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب دن کا تعلق فرشتوں کے چڑھنے سے ہو۔ اگر اس کا تعلق عذاب سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مدت پچاس ہزار سال ہے یعنی قیامت کا دن۔ (شوکانی)
Ayahs 70:5–10

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

اے پیغمبر تو ان لوگوں کیجھٹلانے پر اچھا صبر کئے رہ

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ قیامت کو دوراز قیاس سمجھتے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ وہ نزدیک ہے

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

ضرور آنے والی ہے جس دن آسمان پگھلے تانبے کی طرح لال ہوجائیگا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح اڑتے پھریں گے)

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

کوئی رشتہ اپنے رشتہ دار کو یا کوئی دوست اپنے دوست کو دکھائے جانے پر بھی نہ پوچھے گا4

ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔
Ayahs 70:11–20

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

گنہگار کافر اس دن آرزو کرے گا کاش اپنے بیٹے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور پانی جوروں اور اپنے بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے کنبے والوں کو یا اپنی ماں کی جو مصیبت کے وقت اس کو پناہ دیا کرتے تھے ان کے پاس جا کر رہتا تھا،

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور زمین کے سارے لوگوں کو اپنی چھوڑائی میں دے ڈالے پھر کس طرح یہ دنیا اس کو چھوڑالے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

یہ ہونا نہیں یعنے چھوڑائی منظور نہ ہوگی دوزخت و دھک رہی ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

وہ سر کی کھلڑی ادھیڑ دے گی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

اس کو کھینچ بلائے گی جو کوئی دنیا میں حق بات سن کر پیٹھ دکھانے اور منہ پھیر لے

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور پیسہ جمع کر کے رکھ چھوڑے زکو 1 نہ دے

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک آدمی دل کا کچا بنایا گیا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے5

ف 5 مصیبت یعنی محتاجی اور بیماری وغیرہ
Ayahs 70:21–23

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب دولت ملتی ہے تو بخیل ہوجاتا ہے

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر ایماندار نمازی

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو ہمیشہ بلاناغہ نماز پڑھنے میں6

ف 6 یعنی جو کوئی نماز ترک نہیں کرتے یا جو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ اس سے عبادت پر دوام کی فضیلت نکلتی ہے۔ ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت نے فرمایا : خذو امن العمل ماتطیقون فان اللہ لا یمل حتی تملوا قالت فکان احب الاعمال الی رسول اللہ ﷺ مادام علیہ وان قل عبادت اتنی کرو جتنی طاقت ہو۔ یعنی حد سے زیادہ اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو ورنہ تم اکتا کر چھوڑ بیٹھو گے۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت کو سب سے محبوب عمل وہ ہوتا جسے آپ ہمیشہ کرتے خواہ تھوڑا ہی ہو۔
Ayahs 70:24–26

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں ایک حصہ مقرر ہے۔

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

مانگنے والے فقیر اور چپ رہنے والے فقیر دونوں کا

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو بدلے کے دن قیامت کا یقین رکھتے ہیں1

ف 1 یعنی اپنے اعمال سے تصدیق کرتے ہیں کہ انہیں قیامت کے آنے کا یقین ہے۔
Ayahs 70:27–28

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے مالک کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک انکے مالک کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے2

ف 2 لفظی مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا نہیں ہے کہ اس سے بےخوف ہوا جائے۔
Ayahs 70:29–31

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہ کو رہ کے رہتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیبیوں یا لونڈیوں سے نہ روکیں تو ان پر کچھ الزام نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو کوئی ان کے سوا اور کچھ چاہے تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھ جانے والے ہیں3

ف 3 یعنی جو اپنی بیوی یا لونڈی کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنی شہوت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حرام کاری کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے مومنون :7)
Ayahs 70:32–33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانت اور اقرار کا خیال رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی گواہیوں پر جمے رہتے ہیں4

ف 4 یعنی سچی گواہی دیتے ہیں کسی کے ڈر یا طمع سے گواہی دینے میں جھوٹ نہیں بولتے اور نہ کوئی بات چھپاتے ہیں دیکھیے ( سورة بقرہ 42-40)
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی خبرداری رکھتے ہیں5

ف 5 یعنی اسے دھیان سے تمام ارکان و شرائط کے ساتھ وقت پر ادا کرتے ہیں۔ اوپر کی آیت میں نماز پر دوام کی تعریف کی ہے اور اس آیت میں نفس نماز کی حافظت پر مومنین کی صفات کی ابتداء اور انتہا میں نماز کی حفاظت پر زور دیا ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ نماز ہی مومن کی معراج ہے اور باری تعالیٰ کے ساتھ مناجات ہے۔ اس بناء پر آنحضرت نے فرمایا ہے : جعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ (روح)
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ لوگ بہشت کے باغوں میں عزت سے رہیں گیف 6

ف 6 یعنی یہ ہیں ان لوگوں کی صفات جو بہشت میں عزت سے رہیں گے۔
Ayahs 70:36–38

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

داہنے اور بائیں طرف سے جٹ کے جٹ تیری طرف دوڑنے آتے ہیں

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں کا ہر کوئی یہ امید رکھتا ہے کہ وہ آرام کے باغ بہشت میں جائے گا7

ف 7 یعنی ان کے جھنڈ کے جھنڈ آپ کی مجلس میں آ کر بٹھتے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کی آیتیں سنتے ہیں لیکن آپ کی کسی نصیحت پر عمل نہیں کرتے بلکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا اس پر بھی ان میں سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیا جائے گا ؟… مفسرین کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ کہا کرتیت ہے کہ اگر مسلمان جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جنت میں پہنچیں گے۔ ان کے اسی زعم باطل کی اس آیت میں تردید فرمائی گئی ہے۔ (فتح القدیر)
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

یہ تو کبھی ہونا نہیں وہ جانتے ہیں جس چیز سے ہم نے ان کو بنایا8

ف 8 یعنی ایک حقیر قطرہ سے اس پر اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں یہ سرکشی اور یہ بےخوفی ؟
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

تو میں پور بوں اور پچھموں کے مالک کی (یعنے اپنی قسم کھاتا ہوں ہم یہ کرسکتے ہیں9

ف 9 مشرق (پورب) کئی ہیں کیونکہ ہر روز سورج ایک نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اسی طرح مغرب پچھم) کیونکہ ہر روز سورج ایک نئی جگہ غروب ہوتا ہے۔ (تفصیل سورة صافات کی آیت 5 کے تحتگزر چکی ہے۔ )