69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 69:1–2

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

حق ہونے والی10

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

اور کیا چیز ہے حق ہونے والی

ف 10 مراد قیامت ہے اسے ” حق ہونیوالی “ اس لئے فرمایا گیا کہ اس کا اور اس میں جزا و سزا کا واقع ہونا حقیقت ہے۔
Ayah 69:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تو کیا جانے حق ہونے والی کیا چیز ہے11

ف 11 یعنی اس کی اور اس میں واقع ہونیوالے دلگداز مناظر کی پوری حقیقت آپ کو بھی معلوم نہیں ہے۔
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود اور عاد دونوں نے کھر کھڑا ڈالنے والی یعنے قیامت کو جھٹلایا12

ف 12 قیامت کے بہت سے نام ہیں۔ ان میں سے ایک قارعہ (کھڑاکھڑانیوالی) ہے اس لئے کہ وہ اپنی شدت سے دلوں کو ہلادیگی۔
Ayahs 69:5–6

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

پھر ثمود تو ایک چہنگاڑ یا زلزلے) سے کھپائے گئے13

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد بہت ٹھنڈے زناٹے کی آندھی سے تباہ کئے گئے

ف 13 یا ” وہ اپنے کفر و سرکشی کی بدلوت تباہ کردیئے گئے۔ لفظ ” طاغیہ “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔
Ayah 69:7

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

برابر سات راتیں اور آٹھ دن یا سات راتیں اور آٹھ منحوس دن ان پر ہوا چلانی14 تو اگر اس وقت ہوتا تو دیکھتا وہ لوگ اس آندھی میں اس طرح مرے ہوئے پڑے تھے جیسے کھجور کے کھوکھل ڈہنڈ بوتے1

ف 14 ” حسوماً کے معنی ” برابر “ یعنی لگاتار اور ” منحوس “ دونوں ہوسکتے ہیں۔ (دیکھیے حم السجدہ :16) 1 یعنی کھوکھلے اور بےجان تنے جن کے سر اوپر سے کٹ گئے ہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عاد کے عام لوگ بڑے قد آور اور گرانڈ یل پہلوان تھے۔ صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” عاد پر دبور یعنی پچھوا ہوا چلائی گئی اور میری صبا یعنی مشرق سے آنیوالی ہوا کے ذریعہ مدد کی گئی (ابن کثیر)
Ayah 69:8

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

پھر اب تو دیکھنا ہے ان میں سے کوئی بچ رہا2

ف 2 مطلب یہ ہے کہ سب تباہ کردیئے گئے اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچا۔
Ayah 69:9

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور الٹی بستیوں والوں لوط کی قوم نے گناہ کئے۔3

ف 3 جیسے قوم نوح اور قوم شعیب۔
Ayah 69:10

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

اور اپنے مالک کے پیغمبر کا کہنا سنا4 آخر اس نے ان کو بھی سخت پکڑا

ف 4 یعنی ان میں سے کسی قوم نے اپنے مالک کے پیغمبر کا کہا نہ مانا۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

ہم نے نوح کے زمانہ میں جب پائی حد سے بڑھ گیا تم کو کشتی میں سوار کرلیا5

ف 5 یعنی تمہارے آبائو اجداد کو جبکہ تم ان کی پشتوں میں تھے کشتی میں سوار کرلیا۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

اس لئے کہ اس واقعہ کو تمہارے لئے یادگار بنائیں6 اور جو کان اس کو یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یاد رکھے7

ف 6 ” ھا “ کی ضمیر کشتی کے لئے بھی ہوسکتی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کشتی کو تمہارے لئے یادگار بنائیں۔ اس صورت میں کشتی سے مرا خاص حضرت نوح کی کشتی بھی ہوسکتی ہے اور ہر کشتی بھی کیونکہ وہ اس کی جنس سے ہونے کی وجہ سے اس کی یادگار ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح کی کشتی کو اس امت کے ابتدائی لوگوں نے دیکھا ہے۔ (ابن کثیر)7 مراد ہر وہ شخص ہے جو واقعات کو سن کر انہیں سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
Ayahs 69:13–16

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پھر جب صور ایک بار پھونکا جائے گا8

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ دونوں کو اٹھا کر اپنی جگہ سے اکھاڑ کر ایک بارگی ٹکڑا دیا جائے گا

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

اس دن ہو پڑنے والی قیامت ہو پڑے گی

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا وہ اس دن پھنس پھنسا کمزور ہوجائے گا

ف 8 جیسا کہ پچھلیآیات کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔ صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب تمام مخلوقات فنا ہوجائے گی اور دوسرا اس وقت جب تمام لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے۔
Ayahs 69:17–19

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے جو آسمان پر رہتے ہیں وہ اس کے کناروں پر آجائیں گے9 اور تیرے مالک کا تخت اس دن آٹھ (فرشتے اٹھائے ہوں گے10

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

لوگو اس دن خدا کے سامنے لائے جائو گے تمہارا کوئی بھید اس پر چھا نہیں رہے گا

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

تو جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ خوشی خوشی لوگوں سے کہے گا لو ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھو

ف 9 کیونکہ وہ درمیان سے پھٹ جائیگا۔ ضحاک کہتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتوں کے حکم دے گا تو وہ زمین پر اتر آئیں گے اور اسے اور اس کے رہنے والوں کو گھیر لیں گے۔ (شوکانی)10 یا ” فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائینگی جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جیسا کہ ابن عباس سے متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے مگر قرآن کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ فرشتے ہونگے اور اس کی تائید بعض صحیح روایات سے بھی ملتی ہے۔ ابن عربی نیفتوحات میں ملۃ العرش پر مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی تمثیل ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا حساب سے کنایہ ہو۔ (روح)
Ayahs 69:20–22

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے دنیا میں یقین تھا کہ ایک دن مجھ کو حساب دینا ہوگا11

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پھر وہ تو بڑے آرام کی زندگی میں رہے گا

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

اونچے باغ میں

ف 11 اس آیت میں ” یقین “ کے لئے اصل لفظ ” ظن “ اسعتمال ہوا ہے۔ ظن کے لفظی معنی اگرچہ گمان کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد یقین لنیا ضروری ہے کہ آخرت میں نجات کا انحصاریقین پر ہے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں لفظ ظن مومن کی طرف منسوب ہوا ہے وہاں اس کے معنی یقین کے ہیں اور جہاں کافر کی طرف ہوا ہے اس سے مراد شک ہے۔
Ayahs 69:23–25

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جن کے میوے جھکے ہوں گے12

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا تم نے جو نیک کام اگلے دنوں میں دنیا میں کئے تھے ان کے بدل آج مزے سے کھائو پیو (چین کرو)

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ افسوس سے کہے گا کاش میرا نامہ اعمال مجھ کو نہ ملتا

ف 12 یعنی اتنے نیچے ہوں گے کہ آدمی انہیں ہاتھ سے توڑے گا۔
Ayah 69:26

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھ کو اپنے حساب کی خبر نہ ہوتی1

ف 1 یعنی مجھے پتا ہی نہ چلتا کہ میرا حساب کیسا ہے اور کیسا نہیں ہے۔
Ayahs 69:27–28

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کاش اگلی موت میرا کام تمام کردیتی2

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

ہائے افسوس میں نے جو دنیا میں دولت کمائی وہ بھی کچھ کام نہ آئی

ف 2 یعنی کاش ! میں مرنے کے بعد دو برہ زندہ ہی نہ کیا جاتا۔
Ayahs 69:29–31

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میری دولت بھی خاک میں مل گئی3

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(حکم ہوگا اس کو پکڑ لو باندھلو) اگلے میں طوق ڈالو

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر دوزخ میں دھکیل دو

ف 3 ” سلطان “ سے مراد دلیل و حجت اور دولت و حکومت چیز ہوسکتی ہے۔ مقاتل کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ اقتدار ہے جو ہر شخص کو اپنے ہاتھ پائوں پر ہوتا ہے چناچہ قیامت کے روز جب کافر کے ہاتھ پائوں اس کے خلاف گواہی دینگے تو وہ کہے گا ” ھلک عنی سلطانیہ “ آج میرا اقتدار مجھ سے جاتا رہا۔ (شوکانی)
Ayahs 69:32–33

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ستر ہاتھ کی ایک زنجیر میں اس کو پرو دو4

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

کیونکہ یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں رکھتا تھا جو سب سے بڑا ہے

ف 4 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ ” زنجیریں اس کے پیچھے سے داخل کر کے منہ سے نکالی جائیں گی۔ “ (ابن کثیر)
Ayahs 69:34–35

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور محتاج کو کھانے کی رغبت نہیں دلاتا تھا5

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

اب اس کا بیان کوئی دل جلا دسوت نہیں

ف 5 یعنی اتنا کنجوس تھا کہ نہ اپنے آپ کو اور نہ اپنے علاوہ دسروں کو غرباء اور محتاجوں کو کھانا کھلانے پر ترغیب دیتا تھا گویا نہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 69:36–37

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ اس کے لئے یہاں کھانا ہے مگر دو زخیوں کا پیپ لہو۔6

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

یہ کھانا وہی کھائیں گے جو گنہگار ہیں

ف 6 یا ” زخموں کا دھوئوں “ عموماً مفسرین نے غسلین کے یہی معنی بیا نکئے ہیں۔ ضحاک اور ربیع کہتے ہیں کہ وہ ایک درخت ہے جسے دوزخی کھائیں گے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ وہ بدترین قسم کا ایک کھانا ہے۔ ابن زید کہتے ہیں کہ اس کی اور زقوم کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ دوسری آیت میں ہے۔ لیس لھم طعام الامن ضریع “ ان کو ضریع کے سوا کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا۔ اس لئے ممکن ہے غسلین سے مراد ” ضریع “ ہی ہو۔ (شوکانی)
Ayahs 69:38–39

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

یعنے مشرک اور کافر) تو میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جن کو تم دیکھتے ہو7

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور جن کو نہیں دیکھتے

ف 7 جیسے زمین و آسمان، آدمی اور جانور وغیرہ … آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب فلا میں لا کو زائد مانا جائے جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے ورنہ مطلب یہ ہوگا کہ ” مجھے ان چیزوں کی قسم کھانے کی ضرورت نہیں جنہیں تم دیکھتے ہو