70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 70:1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا ایک مانگنے والے نے وہ ہولناک عذاب جس نے (اپنے وقت پر) بہر حال واقع ہو کر رہنا ہے

1 ۔ منکرین کی ہٹ دھرمی اور مت ماری کا ایک نمونہ : سو اس سے منکرین کے عناد و ہٹ دھرمی اور ان کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ وہ عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے الٹا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سال کے معنی پوچھنے کے بھی آتے ہیں اور مانگنے کے بھی، اس لئے بعض حضرات مفسرین نے پہلے معنی کے اعتبار سے فرمایا ہے کہ پوچھا ایک پوچھنے والے نے کہ وہ عذاب کن لوگوں پر واقع ہوگا تو ان کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کافروں پر واقع ہوگا جو ایمان کی دولت سے محروم رہے ہوں گے، جو کہ سب سے بڑی محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم مگر جمہور مفسرین کرام کے نزدیک یہاں پر سال صرف پوچھنے اور معلوم کرنے کے معنی میں نہیں بلکہ مانگنے کے معنی میں ہے کہ مانگنے والے نے بوجہ اپنے کفر وعناد اور ازراہ تکبر و استہزاء کے اس ہولناک عذاب کو مانگا کہ وہ کب ہوگا ؟ اگر سچ مچ وہ ہونے الا ہے تو ہم پر واقع ہوتا کیوں نہیں ؟ اور مراد اس مانگنے والے سے یہاں نضر بن حارث بن کلدہ ہے جو کہ صنادید قریش میں سے تھا جیسا کہ سورة انفال کی آیت نمبر 32 میں اس کا یہ قول اس طرح مذکور ہے۔ " واذاقالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ائنتا بعذاب الیم " (الانفال 32) یعنی وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ اگر واقعی یہ (دین) حق ہے تیری طرف سے تو تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے، یا اور کوئی درد ناک ہم پر بھیج دے، یہ ہے انسان کی وہ بدبختی جو ایمان و ہدایت کے نور سے محرومی کے بعد اس پر طاری ہوتی ہے کہ وہ سیدھی بات کی بجائے الٹی بات کرتا ہے، سو بجائے اس کے وہ اپنے اس حتمی انجام اور یقینی عذاب سے بچنے کی فکر و دعا کرے وہ الٹا اس کے فوری وقوع کا مطالبہ کرتا ہے والعیاذ باللہ سو آخر کار یہ صندید قریش معرکہ بدر میں ایک بری موت کا شکار ہو کر فی النار والسقر ہوا والعیاذ باللہ العظیم، بہرکیف اس سے کفار کی ہٹ دھرمی اور ان کی مت ماری کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے، اور ایسے نمونے ہمیشہ اور ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ اس لئے یہاں پر کسی تخصیص کے بغیر مطلق سائل کے عام لفظ سے ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ یہ اس طرح کے ہر نمونے کو عام اور شامل رہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 70:2

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں پر جس کو کوئی ٹالنے والا نہیں2

2 اللہ کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ عذاب کافروں کیلئے ہوگا اور اس کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ اس عذاب کیلئے جلد مچانے اور اس کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و سعی کا طریقہ اپنایا جائے ‘ کہ حیات مستعار کی یہ فرصت محدود و معدود جو ہر دم ہاتھ سے نکلتی اور رخصت ہوتی جا رہی ہے پھر ملنے والی نہیں ‘ واللہ الموفق وھو المستعان سو اس ارشاد سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ وہ عذاب اصل میں کافروں ہی کیلئے ہوگا ‘ اور دوسری یہ کہ اس کو کوئی دفع کرنے اور ٹالنے والا نہیں بن سکے گا ‘ سو بڑے ہی شامت زدہ لوگ ہیں وہ لوگ جو اس کیلئے جلدی مچاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں پر ترکیب کے لحاظ سے للکافرین کا تعلق واقع سے بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں اس کا معنی اور مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ عذاب کا مذاق اڑاتے ہیں جو کافروں کیلئے واقع ہونے والا ہے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کو ایک مستقل جملہ قرار دیا جائے یعنی وہ عذاب جس کا یہ بدبخت لوگ مذاق اڑا رہے ہیں وہ کافروں کیلئے مقرر ہے۔ سو کتنے بدبخت اور کس قدر شامت زدہ ہیں وہ لوگ جو اس سے نچنٹ اور بےفکر ہو کر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے اس کے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکنا اور ٹالنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کی ہر کجی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

(بےپایا عظمتوں والے) اس اللہ کی طرف سے جو مالک ہے عروج کے زینوں کا

3 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اللہ کی طرف سے جو کہ مالک ہے عروج کے زینوں کا۔ جن کی حقیقت کا احاطہ و ادراک کسی کے بس کی چیز نہیں ‘ اپنی عظمت شان اور رفعت مکان کے ان زینوں کو وہ وحدہ لاشریک ہی جان سکتا ہے ‘ کما ینبغی لجلال وجھہ و عظیم سلطانہ اسی لئے سلف میں سے بعض حضرات نے ان کا مصداق ساتوں آسمان کو قرار دیا ہے ‘ کماروی ذالک عن ابن مسعود ؓ وغیرہ من اھل العلم (جامع البیان ‘ معارف القرآن وغیرہ) بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کا وہ عذاب جس کی اس نے وعید سنائی ہے ‘ اپنے وقت پر آئے گا ضرور ‘ کہ اس کا ہر قول سچا اور ہر وعدہ و وعید پکا ہے ‘ مگر اس کی بارگہ بہت بلند اور بڑی ہی عظمتوں والی ہے ‘ اور وہ بڑے ہی بلند مدارج اور عظیم الشان زینوں والا ہے ‘ اس کے یہاں سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اس کے اپنے پروگرام کے مطابق اور اس کے اپنے حساب سے ہوتے ہیں ‘ اور اس کے یہاں کا ایک دن انسانی تقویم کے حساب سے ایک ہزار برس کا ہوتا ہے ‘ اس لئے اس کے دنوں اور سالوں کو اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپو ‘ انسان کی یہی تنگ نظری اس کو خدا کے فیصلوں کے بارے میں بےصبر اور جلد باز بنا دیتی ہے ‘ سو تمہارے پیمانے چونکہ بہت چھوٹے اور محدود ہیں ‘ اور تم ہر وعدے اور وعید کو اپنے دنوں کے حساب سے جانچتے ہو ‘ اس لئے تمہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ فلاں وعدے پر بڑی طویل مدت گزر گئی اور وہ پورا نہیں ہوا ‘ کہ تمہارے ظرف بہرحال محدود اور تمہارے پیمانے تمہارے حساب سے اور بہت چھوٹے ہیں ‘ حالانکہ خدائی دنوں کے حساب سے اس پر ابھی چند منٹ یا چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں گزرا ہوتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

اسی کی طرف چڑھ کر جاتے ہیں فرشتے بھی اور روح بھی (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے

4 اللہ تعالیٰ کے حساب کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشدا فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ ایک ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی۔ یہ مطلب اس وقت ہوگا جب کہ فی یوم کو واقع یا اس کے ہم معنی فعل مقدر یقع سے متعلق مانا جائے یعنی وہ دن اتنا طویل اور اس قدر ہولناک ہوگا ‘ مگر مسند احمد اور بیہقی وغیرہ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ مومن کو یہ اتنا طویل زمانہ ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ ایک فرض نماز کی ادائیگی کا وقت (مظہری ‘ ابن کثیر ‘ قرطبی اور جامع البیان وغیرہ) سبحان اللہ کیسی عظیم دولت ہے یہ ایمان کی دولت کہ اس کی برکت سے یہ اس قدر طویل اور اتنا ہولناک دن اہل ایمان کو اس قدر معمولی معلوم ہوگا اللھم فردن منہ وثبتنا علیہ اور اگر فی یوم کو تعرج سے متعلق مانا جائے تو اب مطلب ہوگا کہ فرشتے اس کی طرف عروج کرتے ہیں ایک ایسے دن میں جو کہ دوسروں کے حساب سے پچاس ہزار برس کا ہے ‘ مگر فرشتے اس کو چند لمحوں میں طے کرلیتے ہیں (خازن ‘ ابن کثیر ‘ مراغی وغیرہ) پچاس کا یہ عدد بھی تحدید و تقیید کیلئے نہیں بلکہ تعظیم و تکثیر کیلئے ہے کہ حضرت حق جل مجدہ کا مقام اقدس و اعلیٰ بندوں کے مقام سے بہت دور اور ابہت دور اور اعلیٰ وبالا ہے ‘ کہ بندے تو مادہ اور مادیات میں غرق و منغمس ہیں اور اس کا مقام اقدس تو اعلیٰ سے اعلیٰ اور الطف سے الطف ہے جہاں مختلف ایسے درجات اور عوالم ہیں کہ ہر عالم اپنے ماقبل سے اعلیٰ و الطف ہے (المراغی) سو کیا کہنے اس کی عظمتوں اور رفعتوں کے ‘ سبحانہ و تعالیٰ اور الیہ یعنی اس کی طرف سے مراد آسمان اور عالم بالا کا وہ مقام ہے جہاں پہنچنے کیلئے فرشتے مامور ہوتے ہیں ‘ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا تھا انی ذاھب الی ربی یعنی میں وہاں جا رہا ہوں جہاں جانے کا مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے ورنہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ شانہ مکان اور مکانیات سے پاک ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ اور جیسا کہ اوپر گزرا ‘ پچاس ہزار برس کا یہ وعدہ بھی یہاں پر تحدید و تقیید کیلئے نہیں ‘ بلکہ عربی محاورہ کے اعتبار سے یہ تعظیم و تکثیر کیلئے ہے ‘ کیونکہ حضرت حق جل مجدہ زمان و مکان کی حدود وقیود سے پاک اور وراء الوراء ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ کے ذی المعارج یعنی عروج کے زینوں کے مالک ہونے کے مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ لیکن یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ یہ باتیں متشابہات کی نوعیت کی ہیں۔ جن کی اصل حقیقت کو سمجھنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ اس سے اصل مقصود بندوں کو یہ تصور دینا ہے کہ خداوند قدوس کے معاملات کو تم لوگ اپنے اوپر قیاس مت کرو۔ اس کے پیمانے الگ ہیں۔ اس کے یہاں ایک دن تمہارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayahs 70:5–6

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس آپ صبر جمیل ہی سے کام لیتے رہیں (اے پیغمبر ! )

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ تو اسے بڑا دور سمجھتے ہیں

5 صبر جمیل ‘ حکم ارشاد اور اس کے مقصود مراد ؟ سو اس سے مراد فرمائی گئی ہے اور یہ حکم ارشاد آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی کیلئے ہے ‘ کہ راہ حق میں اس کی بڑی عظمت و اہمیت ہے ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ صبر جمیل ہی سے کام لیں۔ جس میں نہ کوئی جزع و فرح ہو ‘ نہ شکوہ و شکایت اور نہ اعراض و کبیدہ خاطری وغیرہ ‘ سو عذاب کیلئے جلدی مچانے ولاوں کے جواب میں آپ کسی طرح کی بےصبری کا مظاہرہ نہ کریں ‘ بلکہ ان کے استہزاء پر خوبی اور وقار کے ساتھ صبر سے کام لیں ‘ خوبی اور خوبصورتی سے مراد یہ ہے کہ ان کے اس رویئے سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہوں ‘ اور نہ ان کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھائیں ‘ اور نہ ہی اپنے موقف میں کوئی کمزوری پیدا ہونے دیں۔ سو فاصر کی فاء تفریعیہ سے ایک طرف تو پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف اس سے ایک گونہ ان لوگوں کی معذوری کا اظہار بھی کہ جب اللہ تعالیٰ کے پیمانوں کی عظمت شان کا عالم یہ ہے اور انسان کی تنگ ظرفی کا حال وہ تو پھر یہ ایسے عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق کا احاطہ و ادراک کس طرح اور کیونکر کرسکتے ہیں ؟ اس لئے آپ ان لوگوں کے رویئے کے جواب میں صبر جمیل اور عفو و درگزر سے کام لیں کہ حق تو بہرحال وہی ہے جس پر آپ ہیں۔
Ayah 70:7

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

مگر ہم اسے بہت ہی قریب دیکھ رہے ہیں

6 یوم حساب قریب ہی ہے والعیاذ باللہ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو اس کو دور سمجھتے ہیں مگر ہم اس کو قریب دیکھتے ہیں کہ آنے والی چیز بہرحال قریب ہی ہوتی ہے کہ اس نے بہرحال آکر ہی رہنا ہوتا ہے ‘ کما قیل کل ماھو ات فھو قریب مگر یہ اپنی غفلت و لاپرواہی کی بناء پر اس کو دور سمجھتے ہیں ‘ کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ‘ جس کی بناء پر ان کو قریب کی چیز بھی دور نظر آرہی ہے ‘ اس ہولناک دن کے آنے پر جب ان کی یہ پٹی کھل جائے گی تو ان کو سب کچھ ٹھیک ٹھیک نظر آئے گا ‘ سو یہ لوگ ایمان و یقین کی دولت اور اس کے نور سے محروم ہیں۔ اس لئے یہ اس کو دور یعنی ناممکن سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک وہ قریب اور محض ایک اشارہ و ارشدا کی دوری پر ہے اور بس۔ فسبحان اللہ العظیم۔ اس لئے ہمیشہ اس کو یاد کرنے اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ‘ و علی مایحب ویریدو ھوالہادی الی سواء السبیل۔
Ayah 70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن کہ ہوجائے گا یہ (نیلگوں) آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح

7 قیامت کے روز آسمان کی کیفیت : سو قیامت کی ہلچل اور اس کی ہولناکی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن یہ آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا۔ یہ مہل کا ایک معنی و مطلب ہے جبکہ اس کا دوسرا معنی تیل کی تلچھٹ سے بھی کیا گیا ہے اور یہ دونوں ہی معنی یہاں پر مراد لینا درست ہے یہ سب احوال و اہوال اس پر وارد ہوں گے۔ سو اس کو تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں لینے کی صورت میں اس سے مقصود آسمان کی رنگت کو تیل اور اس کی سیاہی مائل سرخی سے تشبیہ دینا ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشدا فرمایا گیا : " فکانت وردۃ کا دھان " (الرحمن :37) ۔ یعنی اس روز آسمان سرخ چمڑے کی مانند سرخ ہوگا۔ سو وہ دن بڑا ہی ہولناک اور عظیم الشان دن ہوگا ‘ اس لئے اس سے غفلت و لاپرواہی بڑے ہی سخت خسارے کا باعث ہے ‘ (العیاذ باللہ) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے ‘ اور ہر قوم اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں ہی پر اٹھانے کی توفیق بخشے ‘ آمین ثم آمین ‘ یارب العالمین۔
Ayahs 70:9–10

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور یہ پہاڑ (دھنکی ہوئی) رنگ برنگی اون کی مانند (اڑتے پھر رہے) ہوں گے

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور (اس دن) کوئی گہرا دوست بھی کسی دوست کو نہیں پوچھے گا

8 قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے کیونکہ عہن دراصل کہتے ہی اس اون کو ہیں جو مختلف رنگوں کی ہوتی ہے (قرطبی وغیرہ) اور یہ اس لئے ہوگا کہ پہاڑ مختلف رنگوں کے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانہ و غرابیب سود " (فاطر : 27) ۔ اور جب مختلف رنگوں کے یہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " وتکون الجبال کالعھن المنفوش " (القارعۃ :15) ۔ جو ظاہر ہے کہ یہ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے تو پھر باقی کسی بلڈنگ وغیرہ کی حیثیت ہی کیا ہوگی۔ جن پر ابناء دنیا مست و مگن ہیں ‘ اور ان کو وہ ناقابل شکست اور ناقابل زوال سمجھتے ہیں ‘ اور انہی کے بھروسے اور اعتماد پر وہ نچنت اور بےفکر ہوئے بیٹھے ہیں اور اپنے انجام اور اس کی خطورت سے لاپرواہی برت رہے ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ کس قدر ہولناک خسارے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 70:11–12

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے بھی جائیں گے مجرم چاہے گا کہ کاش کہ وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بدلے میں اپنے سب بیٹوں کو بھی دے دے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی اور اپنے بہائی کو بھی

9 قیامت کے دن کی نفسا نفسی کی تصویر کا ذکر وبیان : سو اس یوم عظیم کی نفسا نفسی کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کوئی گہرا دوست اپنے دوست کے بارے میں کچھ نہیں پوچھے گا حالانکہ ان کو ایک دوسرے کو دکھایا بھی جائے گا اور یہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے بھی ہوں گے (قالہ ابن عباس ‘ در منشؤر) مگر اس کے باوجود کوئی کسی سے پوچھے گا بھی نہیں ‘ کہ نفسا نفسی کے اس عالم میں ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی کسی کو کسی کا ہوش نہیں رہے گا " لکل امرء منھم یومئذ شان یغنیہ " (عبوس :37) ۔ سو جو گہرے اور جگری دوست دنیا میں ایک دوسرے کیلئے اپنی جان تک چھڑکنے کو تیار ہوجایا کرتے تھے اس روز وہ ایک دوسرے کو دیکھنے اور پہچاننے کے باوجود اس کا حال تک نہ پوچھیں گے۔ سو اس سے اس یوم عظیم کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اس بڑی گھبراہٹ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 70:13

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے اس پورے کنبے کو بھی جو کہ اس کو پناہ دیا کرتا تھا

10 مجرم شخص کی اس روز کی خواہش اور تمنا کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مجرم شخص اس دن چاہے گا کہ اپنے بدلے میں اپنے بیٹوں کو بھی دے دے۔ جن پر اس کو دنیا میں بڑا ناز ہوا کرتا تھا اور ان کیلئے وہ ہر طرح کے پاپڑ بیلا کرتا تھا ‘ مگر اس روز وہ چاہے گا کہ میرے بدلے میں ان سب کو لے لیا جائے ‘ اور میری جان بخشی ہوجائے ‘ اور اس طرح وہ اپنی بیوی اور اپنے بھائیوں کو بھی اپنے بدلے میں دینے کو تیار ہوجائے گا تاکہ اس طرح وہ اس دن کے عذاب سے بچ سکے۔ سو اس سے یوم عظیم کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے یہ سب رشتے ناطے جن پر آج دنیا میں یہ ایسا مست و مگن ہے کہ حق بات سننے ماننے کو بھی تیار نہیں ہو رہا اس دن یہ سب رشتے یکسر ختم ہوجائیں ‘ الٹا اس دن ان کے بارے میں اس کا رویہ یہ ہوجائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 70:14–15

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور ان سب لوگوں کو بھی جو کہ روئے زمین میں موجود ہیں پھر یہ (بدلہ دینا) اس کو بچالے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں1 وہ تو شعلہ مارتی ہوئی ایک (ہولناک) آگ ہوگی

11 اپنے بدلے میں سب کو دے دینے کی خواہش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مجرم انسان اس روز چاہے گا کہ اپنی جان بخشی کے عوض اپنے بیٹوں کو بھی دے دے ‘ اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی " اور اپنے اس کنبے اور خاندان کو بھی جو اس کو پناہ دیا کرتا تھا۔ اور حق و ناحق اس کا ساتھ دیا کرتا تھا اور ان کی پشت پناہی پر یہ شخص بڑا مست اور مگن رہا کرتا تھا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا ‘ سو اس سے اس دن کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ‘ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ یہ چاہے گا کہ ساری مخلوق اس کے بدلے میں لگ جائے جو پوری روئے زمین پر پائی جاتی ہے تاکہ اس طرح وہ وہاں کے اس ہولناک عذاب سے بچ جائے۔ سو نفسا نفسی کے اس یوم عظیم و رہیب میں اس کو اپنی جان ہی کے بچانے کی فکر ہوگی اور بس۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 70:16

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

ادھیڑ کر رکھ دینے والی کھال کو2

13 عذاب دوزخ کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ کی وہ آگ کھال کو ادھیڑ کر رکھ دینے والی ہوگی۔ والعیاذ باللہ۔ اور ایک مرتبہ کھال اترنے پر دوبارہ نئی کھال آجائے گی تاکہ وہ عذاب کا مزہ برابر چکھتا رہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا " کلما نضجت جلودھم بدلناھم جلودا غیرھا لیذقوا العذاب الایۃ " (النسائ :56) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ہولناک آگ سے کوئی نہیں بچ سکے گا اور وہ کسی مجرم کو نہ چھوڑے گی اور نہ اس پر کسی طرح کا کوئی ترس کھائے گی ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " لاتبقی ولا تذر " (المدثر :28) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ لظی کے معنی شعلے کے ہیں اور شوی کا لفظ اصل میں سر اور اطراف بدن کی کھال کیلئے آتا ہے۔ سو اس آگ کے شعلوں کی لپٹ ایسی ہوگی کہ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی ادھیڑ کر رکھ دے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ‘ آمین
Ayah 70:17

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

تو (پکار پکار کر اپنی طرف) بلا رہی ہوگی ہر اس شخص کو جس نے منہ موڑا ہوگا (حق سے) اور پیٹھ پھیری ہوگی

14 دوزخ کی آگ مجرموں کو پکارپکار کر بلارہی ہے۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخ کی وہ آگ دنیاوی آگ کی طرح اندھی نہیں ہوگی بلکہ وہ دوزخ کی آگ مجرموں کو پکار پکار کر بلا رہی ہوگی کہ ادھر آؤ اے مجرمو ! ‘ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا ہوگا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ آگ صاف اور صریح الفاظ میں اپنی طرف بلا رہی ہوگی کہ میری طرف آجا اے کافر ‘ میری طرف آجا اے منافق " الی یا منافق الی یا کافر " اور پھر گردن مبی کرکے ان کو اس طرح اچک لے گی جس طرح کہ پرندہ دانے چگ لیتا ہے (ابن کثیر ‘ قرطبی خازن ‘ مظہری وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم الذی لا معبود بحق سواہ ولا نعبد الا ایاھ جل و علا اور وہ آگ دلوں کو جھانک کر دیکھے گی کہ کس میں کفر و شکر کی کتنی میل ہے۔ جیسا کہ ادوسرے مقام پر اس کے بارے میں ارشدا فرمایا گیا " تطلع علی الافئدۃ " (الہمزۃ :7) سو اس کے مطابق وہ مجرموں کو اپنی طرف بلائے گی ‘ والعیاذ باللہ۔ سو جن لوگوں نے دنیا میں پیغمبر کی دعوت پر کان نہیں دھرا اس روز وہ آگ ان کو بلا بلا کر ہڑپ کرتی جائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی ظاہر رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے ‘ آمین ثم آمین۔
Ayahs 70:18–20

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جمع کیا ہوگا (دنیاوی مال و دولت کو) اور سینت سینت کر رکھا ہوگا (اس کو)

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

واقعی انسان بڑا تھڑدلا (اور کم حوصلہ) ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ گھبرا اٹھتا ہے

15 آتش دوزخ کے مطلوب لوگوں کی صفات و خصال کا ذکر وبیان : سو اس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بلا رہی ہوگی ہر اس شخص کو جس نے منہ موڑا ہوگا۔ اور اس نے پیٹھ پھیری ہوگی۔ نور حق و ہدایت سے۔ اور جو سینت سینت کر رکھتا تھا اپنے مال کو اپنی تجوریوں ‘ اور بکسوں کے اندر ‘ اور اپنے بینکوں اور خزانوں میں ‘ اور دوسرے طرح طرح کے حیلوں حوالوں سے اور نہ اس میں اس نے اللہ کا حق ادا کیا اور نہ اس کے بندوں کا ‘ (ابن کثیر ‘ مدارک ‘ محاسن ‘ صفوہ وغیرہ) اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنا اس پر بہت گراں تھا ‘ جبکہ آخرت کی فوز و فلاح کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اپنا مال دنیا کی تجوریوں کی بجائے اللہ کے بینک میں جمع کرائے تاکہ وہ اس کو کئی گنا بڑھ کر واپس ملے۔ سو مال کا اصل مصرف اور سب سے نفع بخش کاروبار یہی ہے کہ اس کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کیا جائے۔ لیکن جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں ان کو یہ سودا خسارے کا سودا لگتا ہے۔ اس لئے وہ اس کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اس لئے ایسے بخیل اور زر پرست لوگ حضرات انبیاء و رسل کی دعوت کی تکذیب اور ان کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ سو بخالت اور جزا و سزا کی تکذیب لازم و ملزوم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 70:21

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو یہ بخل کرنے لگتا ہے

17 منکر انسان کا حال خوشحالی میں بخل و کنجوسی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب اس کو خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو یہ بخیل بن جاتا ہے۔ اور ایسا خود غرض بن جاتا ہے کہ کسی دوسرے کی مصیبت و پریشانی سے نہ اس کا دل پسیجتا ہے ‘ نہ یہ ٹس سے مس ہوتا ہے ‘ اور دوسرے کے کام آنے کی بجائے الٹا یہ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہوجاتا ہے جیسا کہ سود خور مہاجنی لوگ دوسرے ضرورت مندوں کا خون چوسنے لگتے ہیں اور رحم و ترس کے جذبات کے سے عاری ہو کر وہ چمڑی جائے دمڑی نہ جائے کا نمونہ بن جاتے ہیں اس طرح دنیا کا ملنا بھی ان کیلئے عذاب بن جاتا ہے اور اس کا نہ ملنا یا مل کے چھننآ بھی ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے ‘ لیکن اس سے مراد دراصل وہی انسان ہے جو ایمان سے محروم ہے جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ سو ایمان والوں کی شان عسر و یسر کی ان دونوں ہی حالتوں میں اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ اس کو جب کوئی تنگی اور تکلیف پیش آتی ہے تو وہ صبر سے کام لیتا ہے۔ اور جب کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر حضرت واہب مطلق۔ جل و علا۔ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس طرح اس کی نعمت بھی اس کیلئے خیر بن جاتی ہے اور تکلیف اور مصیبت بھی اس کیلئے خیر بن جاتی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور دارین کی ناکامی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

سوائے ان نمازیوں کے

18 سعادت مندوں کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان : سو اس سے سعادت مند اور متوازن لوگوں کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو تنگ ظرف اور غیر متوازن لوگوں سے استثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان نمازیوں کے جن کی یہ اور یہ صفات ہوں گی کہ ان کا حال اس تنگ ظرف انسان سے یکسر مختلف ہوتا ہے ‘ کہ وہ نعمت ملنے پر اس کا شکر کرتے ‘ اور اپنے رب کے حضور دل و جان سے جھک جاتے ہیں اور اس کے نہ ملنے باچھن جانے ‘ یا کسی مصیبت کے پیش آجانے پر۔ والعیاذ باللہ۔ وہ صبر و تسلیم سے کام لیتے ہیں اور اس طرح صبر و شکر کی خو و خصلت سے ان کیلئے نعمت اور مصیبت کی یہ دونوں حالتیں خیر ہی خیر بن جاتی ہیں جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں گزرا۔ اور اس طرح مومن صادق کی زندگی بنص حدیث نبوی ان امرء کلہ لہ خیر کا نمونہ اور مصداق بن جاتی ہے یعنی اس کی ہر حالت اس کیلئے خیر ہی خیر بن جاتی ہے کہ اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور مصیبت آتی ہے ‘ تو صبر سے کام لیتا ہے ‘ سو صبر و شکر کی صفات مومن کی پوری زندگی کو خیر اور سعادت و سرفرازی کی زندگی بنآ دیتی ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے ‘ آمین ثم آمین۔
Ayahs 70:23–24

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنے نماز کی (حفاظت اور اس کی) پابندی کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

جنکے مالوں کے اندر حق ہوتا ہے مقرر (اور طے شدہ)

19 نمازیوں کی صفت دوام و مواظبت کا ذکر وبیان : سو اس سے نمازیوں کی خاص صفت یعنی مواضبط و مدومت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا بجز ان نمازیوں کے جو اپنی نماز پر مداوت کرتے ہیں۔ سو ایسے ہی خوش نصیب لوگ اس طرح کی تنگ دلی ‘ بےصبری ‘ اور بےراہ روی سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو صحیح خطوط پر ڈھالنے اور نفس کے متضاد داعیات میں توازن اور نقطہ اعتدال پیدا کرنے میں نماز اولین عامل کی حیثیت رکھتی ہے ‘ پس جو کوئی اپنی تربیت اس طرح کرنآ چاہے کہ شیطان اس کو کسی بےراہ روی میں مبتلا نہ کرنے پائے ‘ تو اس کیلئے سب سے اہم اور اولین شئے نماز کا اہتمام ہے ‘ اس کے بغیر کوئی شخص اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا ‘ سو نماز کی مواظبت و مداومت ہی سے انسان کی زندگی میں وہ توازن Balance پیدا ہوجاتا ہے جو انسآن کی ساری زندگی کو متوازن بنا دیتا ہے۔ کیونکہ نماز وہ عظیم الشان اور بےمثال عبادت ہے جس میں انسان اپنے ظاہر و باطن ‘ قلب و قالب اور لسان و ارکان سب کے ساتھ مصروف عبادت ہوتا ہے۔ اور اس میں انسان براہ راست اپنے رب کے حضور محو عرض والتجا ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو مومنوں کی معراج قرار دیا گی ہے اور اس کے ثمرات و فوائد سے متمتع و سرفراز ہونے کیلئے اصل چیز نماز پر مواظبت و مداومت ہے ‘ کیونکہ اسی سے اس کے خاص ثمار و فوائد سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ اسی لئے یہاں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ لکل حال من الاحوال۔
Ayah 70:25

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

ان کے لئے بھی جو سوال کرتے ہیں اور ان کیلئے بھی جو سوال نہیں کرتے ہیں

20 انفاق فی سبیل اللہ کی دوسری بڑی اور اہم صفت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نماز کے بعد انفاق فی سبیل اللہ سعادت دارین سے سرفرازی کا سب سے بڑا ذریعہ و وسیلہ اور ایمان والوں کی صفات میں ایک ہم صفت ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان کے مالوں کے اندر حق ہوتا ہے سائل کا بھی اور محروم کا بھی۔ جو اپنی طبعی شرافت اور پاک دامنی کی وجہ سے دوسروں کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے ‘ جس سے ناواقف لوگ ان کو مالدار سمجھنے لگتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف " (البقر :173) ۔ حالانکہ ہوتے وقت وہ ضرورت مند ہیں ‘ تو متقی لوگ اپنے مالوں میں ان کیلئے بھی مقرر حصہ رکھتے ہیں اور ان کی ضرورتوں اور حاجتوں کے پیش نظر ان کا خیال رکھتے ہیں ‘ سو محروم سے مراد وہ شخص ہے جو وسائل معاش سے محروم ہو ‘ لیکن یہاں چونکہ یہ لفظ سائل کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ محروم ہونے کے باوجود لوگوں کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتا۔ ایسے لوگ اپنی عزت نفس اور خودداری کی بنا پر فاقہ کشی تو برداشت کرلیتے ہیں لیکن کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہیں کرتے۔ سو ایسے لوگ اپنی عزت نفس اور خودداری کی بنا پر فاقہ کشی تو برداشت کرلیتے ہیں لیکن کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہیں کرتے۔ سو ایسے ہی خوددار اور عزیز النفس لوگ لفظ محروم کے اصل مصداق ہیں۔ سو ان کی مدد ان کو تلاش کرکے بلکہ ان کے آگے جھک کر کرنی پڑتی ہے۔ جسیا کہ بعض نصوص و آثار سے اس کے شواہد ملتے ہیں کہ ایسے عزیز النفس اور خوددار لوگوں کی عزت نفس اور ان کی بلند ہمتی کسی کے آگے جھکنا اور دست سوال دراز کرنآ گوارا نہیں کرتی۔ سو اہل ایمان کے مالوں میں ایسے لوگوں کا بھی حق ہے ‘ باللہ التوفیق۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

جو سچے دل سے مانتے ہیں بدلے (اور جزا) کے دن کو)

21 انفاق فی سبیل اللہ کے اصل محرک کا ذکر وبیان : سو اہل ایمان کے مالوں میں ایسے لوگوں کا بھی حق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ج سچے دل سے مانتے ہیں بدلے کے دن کو، کہ بدلے کے اس دن نے یقیناً آنا ہے اور ہر کسی نے اپنے کئے کرائیک ا بدلہ بہرحال پانا ہے اور حقیقت میں یہی ایمان و یقین ہے جو انسان کی زندگی کے رخ کو ہی بدل دیتا ہے اور اس عقیدے و یقین اور اس کی پختگی کی بناء پر وہ پاکیزہ سے پاکیزہ اور عمدہ سے عمدہ انسان بنتا چلا جاتا ہے، بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں کے انفاق کے محرک کی طرف اشارہ فرما دیا گیا، چونکہ یہ لوگ روز جزا پر ایمان رکھتے اور صدق دل سے اس کو مانتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے مالوں کے اندر غریبوں اور محتاجوں کا ایک حق متعین کر رکھا ہوتا ہے کیونکہ ان کو اپنے اس ایمان و یقین کی بناء پر یہ بھروسہ او اعتماد ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے اس دیے بخشے کا حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے بدلہ ملے گا اور کئی گنا بڑھ کر ملے گا اور آخرت کے اس جہان غیب میں ملے گا جو کہ ابدی اور دائمی جہان ہوگا اور جہاں پر ہم لوگ اس طرح کے اجر وثواب کے کہیں بڑھ کر اور سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ سو آخرت کے اس یقین و اعتماد کے بعد اور اس کی بناء پر ایسے لوگ دل کی خوشی سے تیار ہوتے ہیں اور اس کی طلب و تلاش میں رہتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید علی مایحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم و گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب (کی پکڑ اور اس) کے عذاب سے

22 ایمان بالا آخرت کا نتیجہ خوف و خشیت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب کے عذاب سے۔ سو ایسے صادق الایمان لوگ اپنے نیک اعمال پر فخر و رور کی بجائے وہ اپنے رب کے عذاب اور اس کی پکڑ سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ ہم کیا اور ہمارے اعمال کیا جو اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ کے شایان شان ہو سکیں، سبحانہ و تعالیٰ سو اس سے اسی تصدیق بیوم الدین کی وضاحت فرما دی گئی کہ وہ چونکہ جزا و سزا پر ایمان رکھتے ہیں، اس لئے اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، سو ایسے لوگوں کا انفاق خدا وند قدوس کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔ دوسری کوئی غرض ان کے سامنے نہیں ہوتی اور انفاق کا یہی محرک طبعی بےریا اور پاکیزہ محرک ہوتا ہے اور اسی سے روح کو بالیدگی اور نفس کی پاکیزگی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے سوا انفاق کے باقی جو بھی محرک ہیں وہ سب مصنوعی اور کاروباری ہوتے ہیں جن کو انسان کے باطن کو طہارت و پاکیزگی اور اس کی اصلاح و ترقی میں کوئی خل نہیں ہوتا۔ اس لئے قرآن حکیم نے انفاق فی سبیل اللہ کے اصل محرک کو اجاگر فرمایا ہے اور دوسرے مصنوعی اور کاروباری نوعیت کے کسی محرک اکا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید،
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

(اور) بلاشبہ ان کے رب کا عذاب نڈر (اور بےخوف) ہونے کی چیز ہے ہی نہیں

23 رب کے عذاب سے ڈرنا تقاضائے عقل و نقل : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہنا عقل دانش کا تقاضا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان کے رب کا عذاب نڈر اور بےخوف ہونے کی چیز ہے بھی نہیں کہ اس کا عذاب کہیں سے بھی کسی بھی شکل میں اور کسی بھی وقت آسکتا ہے، پس بندے کام یہ ہے کہ وہ ہر ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتا اور اس کی پکڑ سے ڈرتا ہے اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتا رہا سبحانہ و تعالیٰ ، پس رب کے عذاب سے کسی بھی لمحے بےخوف نہیں ہونا چاہیے، کیا پتہ وہ کس وقت اور کس شکل میں آدبوچے، والعیاذ باللہ، یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور محفوظ رہنے کی سب سے موثر تدبیر مسکینوں کی خبر گیری، ان کو کھلانا، پلانا اور ان کو پہنانا ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب یرید، اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، سبحانہ و تعالیٰ ، جل وعلا۔
Ayah 70:29

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی شرمگاہوں کی

24 ۔ عفت نفس اور پاکدامنی کی صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی شرمگاہوں کی یعنی وہ ان کی حفاظت کرتے ہیں حرام کاری کی تمام صورتوں سے اس لیے وہ ان کو غلط اور ناجائز طور پر استعمال کنے سے بچائے رکھے ہیں اور یہ بڑی اہم صفت و خصلت ہے، یہاں تک کہ نبوت کی لسان حق و صدق ترجمان نے فرج و فم کی حفاظت پر جنت کی ضمانت دی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " من یضمن لی ما بین لحییہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ ( جو مجھے اس چیز کی ضمانت دے گا جو کہ اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے، یعنی اپنی زبان کی، اور جو کچھ اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے، یعنی اس کی شرمگاہ تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہو) سبحان اللہ۔ کیسا عظیم الشان اور کس قدر آسان نسخہ بتایا ہے نبی امی ﷺ نے دخول جنتکا۔ مگر دنیا ہے کہ وہ انہی دو کی آفتوں میں مبتلا ہے، اور اس کے لیے وہ فرج کی انہی دو آفتوں سے بچنا ہمیشہ مشکل رہا، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف نماز، انفاق فی سبیل اللہ، خوف و خشیت خداوندی کے ذکر کے بعد اس سے نعیم جنت سے سرفراز ہونے والے ان خوش نصیبوں کے اخلاق کی پاکیزگی اور طہارت کی اس اہم صفت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں، سو وہ ایسے نہیں ہوتے کہ سانڈ بن کر تمام اخلاقی حدود وقیود کو توڑ تاڑ کر رکھ دیں، بلکہ وہ ان حدود وقیود کی پابندی کرنے والے ہوتے ہیں، جو حضرت خالق جل مجدہ نے فطری طور تقاضوں کی تکمیل کے لیے ان کے لیے مقرر فرمائی ہوتی ہیں، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر قائم و ثابت رکھے، اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 70:30

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا ان باندیوں سے جن کے وہ مالک ہوتے ہیں کہ ان میں ان پر کوئی ملامت نہیں

25 ۔ فطری خواہشات کی جائز حدود کی نشاندہی : سو حفظ فروج کی جائز صورتوں کا استثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا بجز ان کی اپنی بیویوں اور باندیوں کے کہ اس میں ان پر کوئی ملامت نہیں کہ اس کی ان کے رب نے ان کو اجازت دی ہے، پس دین حق میں نہ تو اس حیوانیت کی کوئی گنجائش ہے جس میں نور حق و ہدایت سے محروم مادہ و معدہ کے پجارے منہمک و مشغول ہیں اور نہ ہی اس میں اس رہبانیت جوگی پنے کے لیے کوئٰ جگہ ہوسکتی ہے، جس کے عذاب میں ترک دنیا کے نام سے بہت سی دنیا پہلے بھی مبتلا رہی اور آج بھی کئی جگہ اور کئی طرح سے مبتلا ہے کہ یہ دونوں انتہائیں صراط مستقیم سے دور اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف اور ان سے جنگ کے مترادف ہیں، جس کی دین حق جو کہ دین فطرت ہے کسی بھی طرح اجازت نہیں دے سکتا، سو دین حق افراط وتفریط کی ان دونوں انتہاؤں کے خلاف اس درمیانی راہ کی تعلیم و تلقین کرتا ہے جو کہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق راہ حق و صواب ہے، اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والی اور صراط مستقیم کی شاہراہ ہے، پس ایسے صادق الایمان لوگ اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کو اپنی بیویوں اور باندیوں تک ہی محدود رکھتے ہیں، اور وہ اس حد سے تجاوز کرنے کی جسارت نہیں کرتے اور جو لوگ اس حد سے تجاوز کرتے ہیں وہ اپنے کیے کا بھگتان بھگتیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسواء و انحراف بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔ جل وعلا۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پس جس نے ڈھونڈی کوئی راہ اس کے سوا (اپنی شہوت رانی کے لئے) تو ایسے ہی لوگ ہیں حد سے نکلنے والے

26 ۔ حدود و فطرت سے تجاوز موجب عذاب، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے اس کے سوا کوئی اور راہ ڈھونڈی وہی اس کے حکم و ارشاد کی خلاف ورزی کرنے والے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، والعیاذ باللہ، جو دین فطرت کی طرف سے مقرر کردہ ان حدوں سے نکلنے والے ہیں، جو ان فطری تقاضوں کی تکمیل کا سامان کرنے والی، اور ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و ہمکنار کرنے والی ہیں، اور اس طرح حدود و فطرت کو پھلانگنے والے ایسے لوگ خود اپنی تباہی کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ پس اس حصر سے معلوم ہوا کہ زنا متعہ جلق اور اغلام بازی وغیرہ سب حرام ہیں کہ یہ سب صورتیں حلال اور جائز طریقوں کے علاوہ اور ان کے ماسوی میں داخل ہیں والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں، ان کو اپنے کیے کرائے کی سزا بہرحال بھگتنا ہوگی، اور اللہ اپنی حدود کی بےحرمتی کرنے والوں سے ضرور انتقام لے گا، والعیاذ باللہ۔ سو حدود فطرت سے تجاوز موجب عذاب ہے اور ایسوں کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین ویا ارحم الرحمین۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو پاس (ولحاظ) رکھتے ہیں اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا

27 ۔ امانت کی پابندی و پاسداری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو پاسداری کرتے ہیں اپنی امانتوں کی، اس میں سب حقوق واجبہ آگئے خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے کہ یہ سب ہی دراصل امانتیں ہیں جن کی ادائیگی کا بار انسان کی گردن پر ہے، ( معارف القرآن وغیرہ) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ (النساء 58 پ 5) اسی طرح ہاتھ پاؤں دل و دماغ وغیرہ جو بھی ظاہری یا باطنی قوتیں انسان کو بخشی گئی ہیں یہ سب بھی درحقیقت اللہ کی پاک امانتیں ہیں جو انسان کو بخشی گئی ہیں، پس ان کی حفاظت کرنا اور ان کو اس خالق ومالک کی رضا میں صرف کرنا بھی انسان کی ذمہ داری ہے ان سب کے بارے میں بھی پوچھ گھچ ہوگی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا (بنی اسرائیل 36 پ 15) سو امانت کا لفظ محدود معنی نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ یہ قدرت کی ان تمام نعمتوں، عنایتوں اور قوتوں و صلاحیتوں کو شامل ہے، جو انسان کو بخشی ہیں پس یہ سب چیزیں خداوند قدوس کی امانت ہیں، جو قدرت نے انسان کی تحویل میں دے رکھی ہیں، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں اس سے پوچھ ہوگی، کہ اس نے ان میں کوئی خیانت نہیں کی، جیسا کہ اوپر ذکر کردہ سورة بنی اسرائیل کی آیت کریمہ میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان امانتوں کے بارے میں کسی طرح کی خیانت سے کام لیا اس کے بارے میں قیامت کے روز اس سے پوچھ ہوگی اور اس کا بھگتان اس کو بہرحال بھگتنا ہوگا، کہ یہی تقاضا ہے اس یوم حساب کے عدل و انصاف کا۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔ 28 ۔ اپنے عہد و پیمان کی پابندی کا ذکر وبیان : سو ان مومنین صادقین کی صفات کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور جو پابندی کرتے ہیں اپنے عہدو پیمان کی، جن میں سب سے پہلا اور سب سے اہم عہد تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کا وہ عہد ہے جو کہ اللہ پاک نے ازل میں سب سے لیا تھا اور فرمایا تھا " الست بربکم " (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ ) اور سب نے " بلی " (ہاں کیوں نہیں) کہہ کر اس کا جواب دیا تھا اور اس کا اقرار کیا تھا اور جو کہ اسی وجہ سے عہد الست کے نام سے مشہور و معروف ہے اور اس کے علاوہ جو بھی عہد انسان کرتا ہے وہ سب اس میں داخ ہے سو ایسے تمام عہدوں کو اور ان کے تقاضوں کو پورا کرنا اس کے عموم میں داخل و شامل ہے، خواہ وہ باہمی قول وقرار سے وجود میں آیا ہو یا عرف عام کے طور پر معاشرے میں مسلم ہو، وہ سب ہی عہود و میثاق اس میں داخل و شامل ہیں، اور ان سب ہی کی پابندی مطلوب ہے، سو عہد کا لفظ بھی یہاں پر اپنے وسیع مفہوم کے اعتبار سے بولا گیا ہے اور ان تمام عہود و میثاق میں وہ اہم عہد و پیمان بھی داخل و شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے اپنے بندوں سے لیا ہے جس کا تعلق اس کی اطاعت مطلقہ اور اس کی عبادت و بندگی سے ہے، سو ان سب ہی کی حفاظت و پابندی ضروری ہے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو قائم رہتے ہیں اپنی گواہیوں کی ادائیگی میں (صداقت و راست بازی پر)

29 ۔ اپنی گواہیوں کی پابندی و ادائیگی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو قائم رکھتے ہیں اپنی گواہیوں کو جن میں پہلی اور سب سے اہم اور بڑی شہادت و گواہی تو اللہ پاک کی وحدانیت کی اور حضرت رسالت پناہ ﷺ کی رسالت کی شہادت و گواہی ہے، اسی لیے جس کلمہ کے ذریعے انسان دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اس کو کلمہ شہادت کہا جاتا ہے کہ وہ ان دونوں شہادتوں پر مشتمل ہے اور اس کے بعد دوسری تمام شہادتیں اور گواہیاں بھی اسی میں داخل ہیں، سو مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ان تمام شہادتوں اور گواہیوں کو صحیح صحیح اور بلا کسی تغیر و تبدل اور رو رعایت کے ادا کرے، پس جس طرح امانات کا لفظ اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے، اسی طرح شہادات کا یہ لفظ بھی عام اور وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، پس ہر شخص اس شہادت و گواہی کی ادائیگی کا ذمہ داری ہے جس ادائیگی کا بار اس نے اپنے سر لیا ہو، خواہ اس کا تعلق کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملے ساتھ ہی کیوں نہ ہو اور اسی طرح اس شہادت کبری کی ادائیگی بھی اس کے ذمہ ہے جس پر اس کے رب نے اس کو مامور و مقرر فرمایا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا (البقرہ 143 پ 2) والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء و انحراف بکل حال من الاحوال فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی نمازوں (کی ادائیگی اور پابندی) کی1

30 ۔ نماز، حفاظت دین کے لیے ایک عظیم الشان حصار : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی نمازوں کی، یعنی ان کے اوقات اور ان کی شرائط اور ارکان و واجبات وغیرہ سب کا پورا پورا لحاظ کرتے اور خیال رکھتے ہیں، سو اس سے نماز کی اہمیت اور اس کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں پر ان صفات کے بیان کا آغاز بھی اسی سے فرمایا گیا اور خاتمہ بھی اسی پر فرمایا گیا، اس لیے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ نماز ہی ان صفات جمیلہ اور خصال خیر کا منبع و ومصدر بھی ہے اور وہی ان کا محافظ و نگہبان بھی، گویا نماز کی حیثیت دین کے جملہ احکام کے لیے ایک حصار کی ہے، جس نے اس حصار کو محفوظ رکھا وہ اپنے دین کو محفوظ رکھے گا اور جس نے اس حصار کو توڑ دیا، والعیاذ باللہ۔ تو اس نے اپنے دین کو ضائع کردیا، والعیاذ باللہ۔ اسی لیے حضرت عمر ؓ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد جو سب سے پہلی تعمیم (Circulor) اپنے عمال اور گورنروں کو جاری کیا وہ یہ تھا " الا ان اھم امورکم عندی الصلوۃ فمن حافظ علیھا فھو لغیرھا احفظ ومن ضیعھا فھو لغیرھا اضیع ( یعنی " آگاہ رہو کہ تمہارے معاملات میں میرے نزدیک سب سے اہم معاملہ نماز ہے، جس نے اس کی حفاظت کی وہ باقی کاموں کی حفاظت بھی اچھی طرح کرے گا اور جس نے اس کو ضائع کیا وہ دوسرے کاموں کو اور بھی زیادہ ضائع کرے گا والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، اور ہر قسم کے شرور وفتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

سوا ایسے ہی لوگ ہیں جو نہایت عزت (و آرام) سے رہیں گے عظیم الشان جنتوں میں

31 ۔ سچے عزت داروں اور ان کے انعام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی لوگ عزت سے رہیں گے، عظیم الشان جنتوں میں، پس سچی عزت سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوگی اور ان کی یہ عزت افزائی حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے بھی ہوگی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ (یسین 58 پ 23) اور فرشتوں کی طرف سے بھی ان کے لیے ایسی عزت و کرامت کا اظہار ہوگا جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ( الرعد 23، 24 پ 13) اور خود جنتی بھی ایک دوسرے کی سچی اور دلی عزت کریں گے، سو ان کی عزت سچی حقیقی اور دائمی عزت ہوگی جو جنت کے اس دار کرامت میں ان کو نصیب ہوگی، اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو نصیب فرمائے، آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت وراثت میں منتقل ہونے والی چیز نہیں، بلکہ اس کا تعلق انسان کے ایمان و عمل اور اس کے اخلاق و کردار سے ہے جو بھی اس دولت کو اپنائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کی بےمثال اور سدا بہار نعمت سے نوازے گا، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب ہوں، کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں، اور جو ایمان و عمل کی اس پونجی سے محروم ہوں گے، والعیاذ باللہ، وہ اس کی بو بھی نہیں سونگھ سکیں گے، خواہ وہ دنیا کے بڑے سے بڑے ساہوکار، اصحاب مناصب اور صنادید قریش، یا سرداران عجم ہی کیوں بنہ ہو، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان جل وعلا۔
Ayahs 70:36–37

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پھر کیا ہوگیا ان کافروں کو جو دوڑے چلے آتے ہیں آپ کی طرف (اے پیغمبر ! )

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی گروہ در گروہ ہو کر2

32 ۔ کفار کے حال پر اظہار تعجب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر کیا ہوگیا ان کافروں کو جو دوڑے چلے آرہے ہیں آپ کی طرف گروہ در گروہ ہو کر اے پیغمبر، مذاق و استہزاء کے لیے اور یہ لوگ کان نہیں دھرتے اس ہدایت پر جو آپ ان کو ارشاد فرما رہے ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ سورة مدثر آیت 49 ت ا 51 پ 29 میں فرمایا گیا فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۔ (المراغی وغیرہ) قرآن حکیم کا یہ فیصلہ سن کر کفار قریش کے تن بدن میں آگ لگ جاتی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ محمد اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں اور وقت کی سب عزتوں اور عظمتوں کے وارثو مورث ساتات قریش دوزخ کا ایندھن بنیں، اس لیے وہ ٹولیاں بنا بنا کر حضور ﷺ کی تردید و توہین کے لیے دائیں اور بائیں سے آپ پر پل پڑتے، سو ان آیات کریماں میں انہی مغروروں کی اس خرد یاختگی اور اظہار تعجب فرمایا گیا ہے، " عزین " جمع ہے " عزہ " کی جس کے معنی گروہ اور ٹولی کے آتے ہیں اور " اھطاع " کے عمنی کسی کی طرف تیزی سے بڑھنے اور لپکنے کے آتے ہیں، سو یہ بھی کفار و منکرین کی بدبختی اور مت ماری کا ایک نمونہ ہے کہ یہ لوگ راہ حق و ہدایت کو اپنا کر نعیم جنت سے سرفرازی کی راہ پر چلنے کی بجائے حق اور صاحب حق کا مذاق اڑٓ کر اپنی بدبختی اور محرومی میں مزید اضافہ کرتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ بدبختی اور محرومی کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 70:38

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اسے یونہی داخل کردیا جائے گا نعمتوں بھری جنت میں

33 ۔ منکرین کی خرد باختگی کے ایک نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کافروں کو کیا ہوگیا کہ جو ہر طرف سے گروہ در گروہ ہو کر آپ کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں، دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی، کیا ان میں سے کوئی اس بات کی طمع رکھتا ہے کہ اس کو یونہی داخل کردیا جائ؁ گا نعمتوں بھری جنتوں میں ؟ یعنی بغیر ایمان و یقین کے نور اور عمل صالح کی پونجی کے ؟ سو ایسے نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ عدل و انصاف خداوندی کے تقاضوں کے خلاف ہے، اس لیے ایسے کبھی نہیں ہوگا، مگر منکرین و معاندین کا زعم اور گھمنڈ یہی تھا، جیسا کہ ان کا کہنا تھا کہ اگر بالفرض جنت ہوئی بھی تو ہم یقینا ان مسلمانوں سے پہلے اس میں داخل ہوں گے اور اگر ان کو وہاں کوئی خیر اور بھلائی ملی بھی تو ہمیں یقینا وہ ان سے زیادہ ہی ملے گی کہ دنیا میں ہم ان سے ہر طرح سے بڑھ کر ہیں ( قرطبی وغیرہ) سو دنیاوی مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا یہ پہلو بہت خطرناک اور نہایت نقصان دہ بنے کہ اہل باطل اس کی بناء پر اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتے ہیں اور اس وجہ سے وہ دعوت حق و ہدایت کو سننے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، اور اس طرح وہ حق سے اور زیادہ دور اور محروم ہوتے چلے جاتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اس طمع خام میں مبتلا ہیں ؟ اگر ایسے ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی یہ طمع کبھی پوری نہیں ہوگی، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے تقاضا عدل و انصاف کے خلاف ہے۔ پس یہ محض ان کی خام خیالی اور شیطانی دھوکہ ہے جس میں پڑ کر یہ لوگ حیات دنیا کی اپنی فرصت محدود کو یونہی ضائع کر رہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم، زیغ و ضلال سبحانہ وتعالی۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

(نہیں اور) ہرگز نہیں بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ان کو اس چیز سے جس کو یہ خود بھی جانتے ہیں

34 ۔ منکرین کے زعم باطل پر ایک ضرب کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے اس زعم باطل پر ضرب کاری لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور کلا کے حرف ردع و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز ہونے کا نہیں جیسا کہ ان بدبختوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہ عقل و نقل دونوں کے تقاضوں اور قانون عدل و انصاف کے سراسر خلاف ہے، سو اس سے ان مغروروں اور متکبروں کے اس زعم باطل پر ضرب لگائی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے تقدس اور بزرگی کی داستان زیادہ نہ بڑھائیں یہ جو کچھ ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے کہ وہ سب کا خالق اور مالک ہے، اس سے اس کی مخلوق میں سے کسی کی بھی کوئی حالت اور کیفیت مخفی اور چھپی نہیں رہ سکتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ (الملک 14 پ 29) (کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ بڑا ہی باریک بیں اور انتہائی باخبر ہے) سو ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، پس جو لوگ اس طرح کے کسی زعم باطل میں مبتلا ہیں وہ اپنی فکر و سوچ کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکلا جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پچھتانا پڑے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمن۔ 35 ۔ خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : سو اس سے منکرین کو خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے اپنی بڑائی کے زعم باطل کی تردید کے لیے ان کو خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو پیدا کیا اس چیز سے جس کو یہ خود بھی جانتے ہیں، یعنی پانی، کیچڑ اور پھر ایک گندے قطرہ آب ستے جس کی بنا پر نہ تو ان عقل کے اندھوں کو اس طرح کے تکبر کرنے کا کوئی حق پہنچتا ہے، اور نہ ہی ان کی یہ اساس و بنیاد جنت میں داخلے کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ وہاں کا داخلہ تو اصل میں رہین منت ہے حضرت حق جل مجدہ کی رحمت و عنایت کا جو کہ موقوف ہے انسان کے سچے ایمان و عقیدہ اور اس کے صالح اعمال پر، اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں، اور ایسے محروم کہ ان کو اپنی اس محرومی کا احساس بھی نہیں تو پھر یہ اس کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں ؟ سو پانی، کیچڑ پانی اور مٹی کی اس اصل سے وجود پذیر ہونے والی مخلوق کو یہ بات آخر کیسے زیب دے سکتی ہے کہ وہ محض اپنے مزعوم حسب و نسب کے غرور میں اپنے آپ کو جنت کا موروثی حقدار سمجھ بیٹھے، مجرد خلقت کے اعتبار سے کسی کو بھی اس طرح کا کوئی شرف حاصل نہیں ہوسکتا، جنت کی اس عظیم الشان اور بےمثال نعمت سے سرفرازی محض حسب و نسب کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار کے نتیجے میں نصیب ہوگی، وباللہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہر قسم کے شر و فتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ فی کل زمان و مکان جل وعلا۔