70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 70:1–34

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو واقع ہو کر رہے گا

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں پر سے اس کو کوئی ٹال نہ سکے گا

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اللہ صاحب درجات کی طرف سے

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

جس کی طرف فرشتے اور روح (مومنوں کی) چڑھ کر جاتی ہیں (اور) وہ (عذاب) ایسے دن (واقع) ہوگا جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار سال (کے برابر) ہے

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

سو آپ بہت حوصلے کے ساتھ صبر کیجئے

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں کو وہ دور لگ رہا ہے

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھتے ہیں

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ جیسے دھنکی ہوئی رنگین روئی

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوت کو نہ پوچھے گا

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (اس روز) گنہگار خواہش کرے گا کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دے دے (یعنی) اپنے بیٹے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے بھی لوگ زمین میں ہیں سب کو پھر خود کو عذاب سے چھڑانے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں یقینا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھال تک ادھیڑ دے گی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جن لوگوں نے (دین سے) اعراض کیا اور منہ پھیرلیا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جمع کیا پھر بند رکھا

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر نمازی لوگ

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز پر برابر توجہ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کے مالوں میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سوالی اور بےسوالی کے لئے

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

واقعی ان کے پروردگار کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھنے والے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا اپنی (شرعی) کنیزوں کے ساتھ (حفاظت نہیں کرتے) تو ان پر کوئی الزام نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو اس کے علاوہ (شہوت رانی کا) طلب گار ہو سو ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا خیال رکھنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو انپی گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور میں اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں مومنین کی ارواح بھی مقامات سلوک میں درجہ بدرجہ ان عظمتوں کو پہنچتی ہیں ایسے ہی قیامت کے روز ان بلندیوں پر پہنچیں گے۔ قیامت کے دن کی طوالت۔ قیامت کا روز پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، تو آپ نے فرمایا مومن کے لیے اتنا ہی ہوگا جس قدر فرض نماز کی ادائیگی میں وقت لگتا ہے لہذا ہر ایک کے لیے باعتبار اس کے اعمال کے مختلف محسوس ہوگا لہذا آپ اپنے کام پر ڈتے رہیں یعنی صبر کریں جیسا کہ صبر کرنا چاہیے مراد ہے کہ کفار کی باتوں اور مخالفانہ کوششوں سے مومن کو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حق پر قائم رہے اور نفاذ اسلام کا کام کرتا رہے کہ کفار کہ قیامت یا عذاب کا واقع ہونا ناممکن نظر آتا ہے دور نظر آتا ہے مگر اللہ جانتا ہے کہ یہ یقینی ہے۔ کفر اور کافرانہ نظام کوشکست۔ یہاں یہ بات بطور وعدہ بھی ثابت ہے جب بھی خلوص کے ساتھ نفاذ دین کی کوشش کی جائے گی کفر اور کافرانہ نظام کو یقینا شکست ہوگی قیامت کا روز اس قدر سخت ہوگا کہ آسمان بھی پگھلے ہوئے تانبے کی طرحبہہ جائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑجائیں گے اس روز کافروں کی دوستیاں کام نہ آئیں گی کوئی کسی کونہ پوچھے گا سب کو اپنی فکر لگ جائے گی اور مجرم چاہیں گے کہ اگر اپنے بدلے بیٹا دینا پڑے یا بیوی یا بھائی یاساراخاندان تو سب کو دوزخ میں ڈال کو جان بچالو یعنی جن کی خاطر اللہ سے اور اس کے نظام سے بغاوت کی انہیں کو جان بچانے کے لیے آگ میں جھونکنے پر تیار ہوگا بلکہ روئے زمین کی ہر نعمت بھی دے کر جان چھوت سکے تو چھڑالوں لیکن تب ہرگز ایسا نہ ہوسکے گا دوزخ کی آگ تو ایسی ہے کہ نافرمانوں کو کھینچ لیتی ہے جیسے کلیجے سے پکڑ کر کھینچتی ہو اور اللہ کے نافرمانوں کی تو کھال تک اتار دے گی سب کو پکر پکڑ کر جمع کرے گی۔ تخلیقی اوصاف۔ تخلیقی طو ر پر انسان میں کمزوریاں ہیں اور ان کا سدباب ہے اللہ سے تعلق یعنی نعمت انسان کے لیے ہے ہے اگر اس سے محروم ہوا تو کمزوریوں کا شکار ہوجاتا ہے پھر جب مشکل آئے تو چلاتا ہے اگر راحت ملے تو اللہ کا احسان بھول جاتا ہے سوائے ان اللہ کے بندوں کے جو اللہ سے تعلق عبادت کے ذریعے جوڑتے ہیں اور اس کو ہمیشہ قائم رکھتے ہیں اور عملی زندگی میں مال و دولت کے غلام نہیں ہوتے۔ معیشت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بلکہ معاشی نظام کو اللہ کے حکم کے مطابق اختیار کرتے ہٰں کہ کسی بھی معاشرے کی بھلائی یا برائی میں معیشت بنیادی حیثیت رکھتی ہے لہذا یہاں معیشت کو مقدم رکھا اور فرمایا کہ ان کے مال میں غریب یعنی محروم اور سوالی کا حق ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ زکوۃ کی مقدار مقرر ہے جس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ لہذا یہ ثابت ہے کہ زکوۃ کی مقدار اور طریقہ مقرر ہے جو اللہ کی طرف سے ہے اس میں کمی بیشی جائز نہیں اور وہ آخرت پر اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں لہذا ان کا کردار وعمل اس کا گواہ ہوتا ہے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہیے۔ بیویوں یالونڈی کے علاوہ شہوت رانی کی تمام صورتیں حرام ہیں مشت زنی پر لعنت کی وعید ہے۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں یا حلال لونڈیوں کے دوسری جگہ شہوت رانی نہیں کرتے اور اگر کوئی کرے وہ حد شرعی سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ اس آیت میں شہوت کی جائز صورت بیوی ، یاشرعی لونڈی کو بیان فرمایا اس کے علاوہ تمام صورتیں حرام ہیں اسمیں نکاح کی وہ صورتیں بھی شامل ہیں جو شرعا درست نہیں جیسے ان عورتوں سے نکاح جن سے شرعا منع ہے یاوقتی شادی جیسے متعہ اور ایک رات کا حلالہ وغیرہ ذالک ، نیز ہاتھ سے شہوت رانی کرنا بھی حرام ہے اور نبی (علیہ السلام) نے ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے آج کل کے دین بےزار معاشرے میں اس پہ کافی بات ہوتی ہے مگر بات یہ ہے کہ ان محروم لوگوں کے پاس اس کا کوئی بدل نہیں یہ سمجھتے ہیں کہ صرف یہی طریقہ حصول لذت کا ہے لہذا ہر ایک کو حق ہے کہ کسی نہ کسی طرح حظ حاصل کرے جبکہ قران اسی سورت کے شروع میں بتاتا ہے کہ اصل لذت وصال حق ہے اور معرفت و سلوک میں وہ لزت ہے جو دنیا کی کسی شے میں نہیں اگر وہ نعمت حاصل ہو تو اس سے ناجائز طریقے میں بھی لذت کی بجائے کلفت ہوتی ہے لہذا اللہ نے صرف بقائے نسل کے لیے اس کی اجازت بخشی ہے یاپھرلونڈی حلال ہوتوجائز ہے اور اس سے بھی اولاد ہوسکتی ہے تفصیل کے لیے دوسری کتب دیکھی جاسکتی ہیں۔ نظام اسلام۔ اصل بات نظام زندگی کی ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق اختیار کیا جائے لہذا ارشاد ہوتا ہے کہ امانتوں پر قائم رہتے ہیں اور وعدے پورے کرتے ہیں اس سے مراد حقوق وفرائض ہیں کہ دوسرے کا حق دوسرے کے پاس امانت ہے کہ وہ اپنا وعدہ یعنی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو امانت کا حق ادا ہوتا ہے اور اپنی گواہیوں پہ پورے اترتے ہیں کہ سب سے بڑی گواہی اللہ اور رسول پر ایمان ہے اور اپنی عبادات کی حفاظت کرتے ہیں یعنی اللہ کی اطاعت کا ہر کام عبادت ہے اسے پورے خلوص سے کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں کو جنت میں داخلے کی عزت بخشی جائے گی۔