70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 70:1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک طلب کرنے والے نے اس عذاب کو طلب کیا جو واقع ہو کر رہے گا (یہ بات یقینی ہے)

ایک طلب کرنے والے نے اس عذاب کو طلب کیا ہے جو واقع ہو کر رہے گا 1 ؎ (سال) اس نے مانگا۔ سوال سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ایک دریافت کرنے والے نے دریافت کیا یا سوال کرنے والے نے سوال کیا۔ ایک طلب کرنے والے نے طلب کیا۔ کیا طلب کیا ؟ فرمایا ایک عذاب طلب کیا جو واقع ہو کر رہے۔ افسوس کہ طلب کرنے والے نے اور مانگنے والے نے کتنی بری چیز کو طلب کیا اگر اس احمق کو مانگنا ہی تھا تو کوئی اچھی چیز تو مانگتا جس سے اس کی دنیا اور آخرت سنور جاتی اس نے طلب کیا تو کیا طلب کیا۔ اس کی تفصیل دیکھنا مقصود ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 32 کی تفسیر دیکھیں۔ کفار اس طرح کا عذاب طلب کرتے رہے ایک بار نہیں بار بار انہوں نے طلب کیا لیکن ان کو کہا گیا کہ اس عذاب کے نازل نہ ہونے کا اصل باعث کیا ہے اس کی وضاحت بھی سورة الانفال کی آیت 33 میں کی گئی ہے کہ ان کو عذاب کیوں نہیں دیا جا رہا پھر جب آپ ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا اور آپ ﷺ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آگئے تو پھر اہل مکہ کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ اب اس عذاب الٰہی میں جو رکاوٹ تھی وہ دور ہوگئی ہے اس لئے اب کوئی وجہ تھی کہ تم کو عذاب میں مبتلا نہ کیا جائے اور پھر جس طرح ان کو عذاب میں مبتلا کیا گیا اس کو بھی زمانہ جانتا ہے اور اس کی وضاحت بھی الانفال اور التوبہ میں کردی گئی ہے اور اس عذاب الٰہی کا شروع بدر میں ہوا اور فتح مکہ پر اس کو ختم کردیا گیا اور عذاب کیا ختم ہوا کہ اس اللہ تعالیٰ کے عذابنے معذبین ہی کو ختم کردیا اور اب ان کا دروازہ میدان حشر میں دوبارہ کھٹکھٹایا جائے گا۔
Ayah 70:2

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

جو کافروں کے لیے ہے جس کو ٹالا نہ جاسکے گا

یہ عذاب کافروں کے لئے ہے جس کو کسی حال میں بھی ٹالا نہیں جائے گا 2 ؎ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ وہ عذاب ہے جس کے لئے انہوں نے دعائیں کی ہیں اور بار بار اللہ تعالیٰ سے طلب کیا ہے وہ عذاب عنقریب ان پر نازل ہونا شروع ہوگا اور عنقریب میں جو کہا گیا تھا وہ وہی عذاب تھا جو ان کو دنیا میں دیا گیا اور جس کے متعلق ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ وہ عذاب بدر میں نازل ہونا شروع ہوا ، فتح مکہ تک اس نے کفار مکہ کے ایک ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان کے کفر کی مع ان کے صف لپیٹ دی گئی۔ اس عذاب کو کافروں سے دنیا میں بھی کوئی روک نہ سکا اور آخرت میں بھی یقینا کفار کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور نہ تو اس دنیوی عذاب کو کافروں سے روکا جاسکا اور نہ ہی آخرت کے عذاب کو کوئی ان سے روک سکے گا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو روکنے کی کسی میں ہمت و جرأت نہیں ہے ، نہ کوئی روک سکا اور نہ ہی کوئی روک سکے گا۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

(وہ) اللہ کی طرف سے ہوگا جو بلندیوں کا مالک ہے

وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا جو بلندیوں کا مالک ہے 3 ؎ یہ عذاب جس کا فیصلہ ان کے حق میں کیا جا چکا ہے کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اس عذاب کا وعدہ دینے والی وہ ذات کبریا ہے جو ساری بلندیوں کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں کا اور بلندیوں کے زینوں کا مالک حقیقی ہے۔ (معارج) عروج سے ہے اور عروج کے معنی بلند ہونے کے ہیں۔ اس سے اسم الہ معراج اور معرج ہے اس کی جمع معارج اور معاریج ہے۔ سیڑھیاں اور زینے ہیں چونکہ اوپر چڑھنے کے ذرائع ہیں اس لئے ان کو بھی معارج کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب معارج کی نسبت اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہو تو اس سے مراد وہ شان و عظمت ہے جو اس ذات اقدس ہی کے لئے خاص ہے اور (ذی المعارج) اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر بیان ہوا ہے جیسے (ذی العرش) ہے۔ وہ (ذی المعارج) ہے کہ اس کے پاس انسانوں کیلئے بڑے بڑے درجات موجود ہیں جن کو انسان ہمت کر کے حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

(یہ وقت ہوگا کہ) فرشتے اور جبرئیل اس کی طرف عروج کریں گے اس دن جس کا اندازہ (دُنیا کے) پچاس ہزار سال ہے

فرشتے اور جبریل اس کی طرف عروج کریں گے اس کے دن کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے 4 ؎ انسان کی زندگی میں غمی و خوشی کا آنا لازم و ملزوم ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے کہ اگر غمی کا دن یا رات آجائے تو اس کی لمبائی کتنی بڑھ جاتی ہے اور خوشی کی گھڑیاں ہوں تو کس طرح آنکھ جھپکنے میں گزر جاتی ہیں۔ ایک ہی دن ہوتا ہے لیکن کسی کے لئے وہ ایک ساعت سے بھی ہلکا گزر جاتا ہے اور کسی کے لئے اتنا لمبا ہوتا ہے کہ وہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔ کیا دن فی الواقع لمبا اور چھوٹا ہوتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی کیفیت جو اس پروارد ہوتی ہے اس کو لمبا یا چھوٹا کردیتی ہے لیکن اہل زبان اس کو اسی طرح بولتے ہیں اور زمانہ اس کی حقیقت اور اصلیت کو خوب سمجھتا ہے۔ زیر نظر آیت میں جو عروج ملائکہ اور روح کا ذکر ہے یہ بھی محض استعارات ہیں اس حقیقت کو سمجھانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان طاقتوں اور قوتوں میں کیا کیا مخفی رکھا گیا ہے کہ انسان اگر اس کو دریافت کرنے کے لئے کوشش شروع کر دے تو بھی ہزاروں انسانوں کی زندگیاں کھپ جائیں کہ یکے بعد دیگرے وہ ترقی کرتے کرتے اس منزل تک پہنچیں ۔ آج سے پہلے اس مضمون کو سمجھنا معلوم نہیں کہ کتنا دشوار تھا اس لئے کہ اس طرح مشاہدات انسان کے سامنے موجود نہیں تھے لیکن آج ہم مشاہدات کر رہے ہیں اتنی مسافت میں کہ ایک انسان ایک مدت تک جو چلتا رہے تو وہاں تک نہ پہنچ سکے لیکن اگر وہ ہوائی جہاز پر سفر کرے تو بھی اس کو دس بارہ یا پندرہ سولہ گھنٹے لگ جائیں لیکن فون اور وائرلیس کے ذریعہ وہ ایک آن ہی میں وہاں گفتگو کرسکے۔ ایسے نمبر گھمایا اور ایسے ہی بات شروع ہوگئی لیکن اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس زمین پیمائی کے لئے ہوا ہے لیکن عروج میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ابھی کہاں کہاں کیا کیا مخفی رکھا ہے جس کو شہود میں آنا ہے اور اس کے متعلق کہا یہ استعارہ صادق آئے گا کہ اگر ایک انسان اوپر چڑھنا شروع ہوجائے اور وہ کئی کئی سال چڑھتا رہے اور پھر وہ سال بھی پچاس ہزار سال کا ایک سال تصور کیا جائے تو بھی انسان کی رسائی وہاں تک ہو یا نہ ہو لیکن ان طاقتوں اور قوتوں کے ذریعہ وہ اتنی بڑی مسافت کو بھی ایک لحظہ میں طے کر جائے عین ممکن ہے۔ اگر آج سے ایک سو سال پیچھے چلے جائیں۔ اس وقت 1998 ء ہے اگر ہم 1898 ء کو تصور میں لائیں تو ان دونوں زمانوں کا موازنہ کرنے سے جو فرق نظر آئے اس کو صرف تحریر میں ضبط کرنا شروع کردیں تو اس کا مکمل طور پر ضبط ہونا اگر ناممکن نہیں تو مشکل بہرحال ضرور ہو اور اس وقت جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ایک سو سال بعد ان سے اس کا موازنہ کرنے والے کریں گے تو وہ اور بھی مستعجب ہوں گے اور اس وقت تک انسان اتنی ترقی کرچکا ہوگا کہ اس زندگی اور اس زندگی کا خلا آسمان و زمین کی وسعت رکھے گا۔ جس کا احاطہ کرنا آج ہمارے لئے مشکل ہے۔ انسان اتنا جلد باز ہے کہ سمجھنے والی بات کو سمجھنے کے لئے وقت ہی کم دیتا ہے اور حیوانیت کے تحت جو کچھ کرتا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ لاریب انسان بھی ایک حیوان ہے لیکن اس کے باوجود جو فرق ہے اس کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے۔ زیر نظر آیت میں بالکل باریک سا ایک اشارہ فرمایا گیا کہ فرشتوں اور الروح کا جو عروج ہوتا ہے وہ (الیہ) اس کی طرف ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور اس میں اشارہ کیا نکلا یہی کہ اس طرح کی ترقیاں جو انسان کرتا چلا جا رہا ہے تو اس طرح ترقی کرتے کرتے وہ اللہ تعالیٰ کے قریب سے قریب تر چلا جا رہا ہے حالانکہ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ وہ کس طرح اس کی طرف ترقی کناں ہے لنکق اچانک جب انسان کی آنکھ کھلے گی وہ اپنے اصل مقصود کی طرف دوڑ پڑے گا اور پالیا پا لیا کی صدائیں بلند کرتا ہوا اچانک اس طرف کو رخ کرے گا وہ جس طرح کو رخ کرنے سے وہ ابھی تک کتراتا چلا آ رہا ہے۔ اگر آپ اس زمانہ کی ہو ہو اسے الگ رہ کر صرف اور صرف اسی نقطہ پر غور کریں تو اس حقیقت کو پالیں گے کہ انسان جس چیز کی مزاحمت کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتا ہے کس طرح اچانک اس کی طرف اندھا دھند دوڑ پڑتا ہے اور اس کو مطلوب سمجھ کر جب حاصل کرتا ہے تو خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ اگر تم کو مزید وضاحت درکار ہے تو ایک منٹ کے لئے تصور کرو کہ اس سائنسی ترقی کو کتنا عرصہ ہوا کہ سائنس دان نے ایک سمت کی طرف بڑھنا شروع کیا لیکن ہمارے مذہبی راہنمائوں تک کا کردار دیکھو کہ وہ اس کی راہ کو روکنے کے لئے کیسے کیسے جتن کرتے رہے اور کس کس طرح کے فتوے انہوں نے دیئے اور کون کون ان کے فتوئوں کی زد میں آیا اور انسانوں ہی نے ہیجان میں آ کر کس طرح زندگیوں کو تہس نہس کیا ، لیکن ان ساری رکاوٹوں کے باعث ایک طرف سے وہ ترقی جاری وساری رہی اور آج اس سائنس کے ذریعہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا ، غوری اور شاہین کا استعمال کر کے دکھا دیا تو قوم کے سارے راہنمائوں نے بشمول مذہبی راہنمائوں کے خوشیاں منانا شروع کردیں اور وہ اچھلنے کو دنے لگے لیکن کیا انہوں نے کبھی محسوس کیا کہ اگر وہ بند جو انہوں نے اس راستے میں لگائے تھے نہ لگاتے تو اس کا وقت آج نہیں اس وقت ہوتا جب اس دنیا میں کسی نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ ہم کتنے پیچھے رہ گئے اور ہم کو پیچھے کس نے رکھا ؟ آپ کو اس آیت پر غور کرنے سے بہت کچھ حاصل ہوگا۔ یقین جانیے کہ یہ آیات زندوں کے غوروفکر کرنے کے لئے ہیں لیکن ہم نے قرآن کریم پر بہت ظلم کیا کہ اس کو مردوں کی بخشش کے لئے خاص کردیا اور جلسوں میں اگر اس کی چند آیات کریمات کو جھوم جھوم کر پڑھا تھا تو وہ بھی محض رسم کے طور پر پڑھا کہ ہم مسلمان ہیں اور یہ ہماری مذہبی کتاب ہے ، اس سے ابتدا ہونا ضروری ہے اگرچہ وہ ہماری جہالت کے مظاہرہ کی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور خصوصاً اس دنیا سے آخرت کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس آپ صبر کریں صبر جمیل

بس آپ صبر کریں اور وہ بھی صبر جمیل (کی ہدایت دی جاتی ہے) 5 ؎ صبر کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے غزوۃ الوثقی ، جلد پنجم میں سورة طہ کی آیت 130 کی تفسیر میں کرچکے ہیں اس لئے وضاحت وہیں سے دیکھ لیں۔ اس جگہ بھی آپ ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی مخالفت میں مخالفین و معاندین جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہماری نظر میں ہے اور ہم اس سے قطعاً غافل نہیں ہیں۔ آپ ﷺ دل تنگ نہ ہوں بلکہ پوری دل لگی اور دلجمعی سے اپنا کام کرتے چلے جائیں اور ان لوگوں کی ہرزہ سرائی کی بالکل پرواہ نہ کریں اور ملول و رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں ، صبر سے کام لیں۔ محاورہ ہے کہ ” سہج پکے سو میٹھا “ اور فرمایا کہ صبر کرو لیکن صبر بھی وہ جو جمیل ہو یعنی دکھوں اور غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں اور دیکھنے والے منہ میں انگلیاں ڈال لیں لیکن تمہاری زبان شکوہ سنج نہ ہو اور لبوں پر کسی طرح کی بڑبڑاہٹ نہ آئے اور جس کام پر لگے ہو اس میں اگر مزید اضافہ کرسکو تو جتنا کر رہے ہو اس میں فرق نہ آئے اور نہایت دلجمعی کے ساتھ اپنا کام جاری وساری رکھو نتیجہ اللہ پر چھوڑو اور وہ جب چاہے گا اس کو ظاہر کر دے گا۔
Ayah 70:6

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے

کفار کو تو یہ بہت دور نظر آتا ہے 6 ؎ کفار نے عذاب عذاب کا جو شور ڈال رکھا ہے یہ ان کی حماقت ہے کیونکہ عذاب خوشی سے مانگنے اور طلب کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے تو اللہ کی پناہ طلب کرنا عقل مندی کی بات ہے لیکن وہ مطالبہ کرتے ہیں تو محض اس لئے کہ ان کے نزدیک قیامت کا وقوع محال ہے اس لئے وہ آپس میں تو یہ کہتے تھے کہ قیامت ویامت کچھ بھی نہیں ہے یہ لوگ محض اس کی رٹ لگاتے رہتے ہیں اور ہم تو آبائو اجداد کے وقتوں سے اس طرح کے سر پھروں سے اس کا ذکر سنتے آ رہے ہیں اگر وہ کوئی چیز ہوتی تو آخر آ بھی تو جاتی چونکہ ان کے ذہن و دماغ میں اس کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ہے اور اس کا آنا وہ ناممکن سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب قیامت ہی نہیں ہوگی تو قیامت کے عذاب کیسے ہوگا ؟ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس کو بہت دور سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جس کے آنے کی کوئی امید ہی نہ ہو اس کو دور ہی سمجھا جائے گا۔
Ayah 70:7

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہماری نظر میں قریب ہے

اور ہماری نظر میں وہ بالکل قریب ہے 7 ؎ ہم اس کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہر عقل مند اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جس چیز کا آنا مقرر ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے اور جب کہ اس کا بپا ہونا یقینی ہے اور جس کا آنا یقینی ہو اس کو دور سمجھنا عقل مندی کی نہیں بلکہ بیوقوفی کی نشانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کل ما ات قریب ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے اور پھر قیامت کا قرب تو اس لحاظ سے بھی ہے کہ جب کسی شخص کی موت واقع ہوگئی گویا اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ اس کو دوبارہ یہ زندگی تو نہیں ملے گی وہ جس حال میں بھی ہے بہرحال عالم برزخ میں ہے اور یہاں سے وہ نکلے گا تو سیدھا میدان حشر میں اس کو پہنچا دیا جائے گا اور عالم برزخ میں بھی وہ ایسے مقام پر ہی ٹھہرایا گیا جو اس کے قیامت کے حال کے موافق تھا گویا مرنے کے ساتھ ہی اس کے جسم کو تو زمین کے گڑھے میں دبا دیا گیا اس کو جلا کر راکھ کردیا گیا لیکن اس کی روح جو اصل باعث ہے دکھ کا یا سکھ کا اس کا تعلق اس کے مثالی جسم سے قائم کردیا گیا۔ بلاشبہ مثال حقیقت نہیں ہوتی تاہم حقیقت کو سمجھنے کے لئے وہ ناگزیر ہوتی ہے اور عالم آخرت کے متعلق جو اخبار کتاب و سنت میں ہیں ان پر ایمان لانا ضروریات دین میں سے ہے اور ان کی حقیقت اور اصلیت سے ہم کو بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر وہ بات جو قابل مشاہدہ ہے وہ قابل بحث بھی ہے۔ ہاں ! ایک چیز پہلے غیب میں تھی لیکن اب وہ مشاہدہ میں آگئی تو مشاہدہ میں آتے ہی وہ قابل بحث ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے اگر فقط انسان اپنی شخصیت کو پیش نظر رکھ کر سمجھے تو اس کے لئے اس کی حقیقت کو سمجھنا بہت آسان ہوجائے مثلاً انسان بمشکل بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس میں ہر وہ چیز اس وقت موجود ہے جس کا اظہار اپنے وقت پر ہوگا۔ ابھی بہت سی چیزیں فقط ایسی ہیں جن کا تعلق اس کے لئے مشاہد نہیں لیکن جوں جوں یہ مشاہدہ میں آتی جائیں گی تو اس کے لئے قابل بحث ہوتی جائیں گی جن کا سمجھنا اس کے لئے ضروریات دین سے ہوگا۔ مختصر یہ ہے کہ جب ایک شخص کا ایمان ہے کہ قیامت کو آنا ہے اور مجھے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے خواہ وہ کب ہی ہو وہ اس کے لئے اپنی تیاری مکمل کرے گا اور اگر کوئی کوتاہی اس سے ہوئی تو اس کے ازالہ کی بھی کوشش کرے گا۔ مختصر یہ کہ ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ اس سے غفلت میں رہے اور اگر وہ غفلت میں ہے تو اس کے ایمان کی یہ کمزوری ہے۔
Ayah 70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گا

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گا 8 ؎ (المھل) اسم ہے۔ تیل کی تلچھٹ۔ چاندی کا پانی اور بہت سی دوسری چیزوں کو کہا جاتا ہے بلکہ ہر معدنی چیز کو کہتے ہیں جیسے تانبا ، لوہا ، سونا ، چاندی اور خصوصاً جب ان چیزوں کو پانی کی مانند بنایا جائے اور اس طرح ہر روغنی چیز کو بھی (المھل) سے تعبیر کرتے ہیں اور روغن زیتون ، گھی اور تیل کے نیچے جو تلچھٹ بیٹھ جاتی ہے اس کو بھی کہتے ہیں۔ زہر ، زرد لہو ، پیپ اور مردہ سے بہنے والے زرد پانی کو بھی کہا جاتا ہے اور مھل آہستگی کو بھی کہا جاتا ہے۔ امھال مہلت دینے اور تاخیر کرنے کو کہا جاتا ہے۔ قیامت کے وقوع ہونے کے حالات میں ج ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ دن ایسا ہوگا کہ آسمان پگھلے ہوئے تانبے ، تیل کی تلچھٹ یا اس سے ملتی جلتی کسی دھات کی مانند ہوجائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ استعارات ہیں جن سے مراد فقط یہ ہے کہ لوگوں کی تفہیم ہوجائے اور وہ آنے والے اس دن کے لئے اپنی مکمل تیاری رکھیں تاکہ اس دن کے عذاب سے بچ جائیں۔ پگھلی ہوئی دھاتیں ہوں یا روغنیات ان کے لئے ایک جگہ قرار مشکل ہے اور اس دن آسمان کو بھی یقیناً قرار نہیں ہوگا بلکہ وہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے ہوں گے اور یہ وہ حالت ہے جب کہ لوگ قیامت کے روز میں ہوں گے یعنی اب اس کے آنے میں نہ تو کسی کو شک ہوگا اور نہ ہی اس وقت توبہ کا کوئی امکان رہے گا۔ اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے یہ الفاظ بولے گئے ہیں۔
Ayah 70:9

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین اون کے گالوں کی طرح ہوں گے

اور پہاڑ رنگین اون کے گالوں کی طرح ہوں گے 9 ؎ (العھن) عھن رنگین اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی ہو۔ اس وقت بھی دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں بعض سیاہ ہیں ، بعض سرخ اور بعض سرخ اور سیاہ دونوں رنگوں کو ملانے سے جو رنگ پیدا ہوتا ہے ایسے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو سفید ہوں اور اسی طرح طرح کے ملے جلے رنگوں کی چیز کو جب روئی کے گالوں کی طرح یا اون کے نمدوں کی طرح بنایا جائے تو وہ اپنے مختلف رنگوں کے باعث مختلف رنگوں ہی میں نظر آتے ہیں اور آسمانوں کے بعد جب پہاڑوں کا ذکر کیا گیا ہے تو ان کی اس حالت کو بھی بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے روز ہوگی اور اس کے لئے یہ استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہ پہاڑوں کو اس روز اس طرح اڑایا جائے گا جیسے روئی کے گالے اڑتے ہیں جب کہ روئی دھنی جاتی جا رہی ہو یا اس اون کے نمدوں کی طرح ہوں گے جو اون کاتنے کے لئے تیار کی گئی ہو اور گزشتہ بیان کی طرح یہ بیان بھی محض تفہیم کے لئے ہے کہ وہ دن کتنا زبردست دن ہوگا۔
Ayah 70:10

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست [ کسی دوست کا پرسان حال نہ ہو گا

اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہو گا 10 ؎ (حمیم) نہایت گرم پانی کو کہتے ہیں جو گرمی کی شدت کے باعث کھولنا شروع ہوجائے اور اس اعتبار سے اس قریبی دوست کو بھی کہتے ہیں جو اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجائے (حمیم) کو اگر گرم پانی کے معنوں میں لیا جائے تو اس کی جمع حمائم ہوگی اور گہرے دوست کے معنی میں ہو تو اس لحاظ سے اس کی جمع احماء ہوگی لیکن قرآن کریم میں جمع کا صیغہ استعمال نہیں ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی دوست خواہ وہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو دوسرے دوست کی مدد کو نہیں آئے گا اور اس کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر اس کا خون نہیں کھولے گا اور اس کی حمایت میں قطعاً کھڑا نہیں ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ اس کو دیکھ کر اس کا حال معلوم کرنے کے کی بھی کوشش نہیں کرے گا۔ کھولتے ہوئے پانی کے عذاب شدید کے لئے دیکھنا ہو تو عروہ الوثقی ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 40 ، سورة الواقعہ آیت 42 ، 93 کی تفسیر دیکھیں اور اگر گہرے دوست کے لئے استعمال دیکھنا ہو تو جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 101 ، جلد ہفتم سورة ال مومن کی آیت 8 ، جلد ہشتم سورة فصلت کی آیت 34 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 70:11

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے بھی ہوں گے ، گنہگار تمنا کرے گا کہ کسی طرح اس روز کے عذاب سے بچنے کیلئے (بدلے میں) اپنے بیٹے دے دے اور خود بچ جائے)

وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور گنہگار چاہیں گے کہ اولاد کو پیش کر کے خود پیچھے ہٹ جائیں 11 ؎ گزشتہ آیت میں کسی گہرے دوست کے لئے بھی کسی کا خون نہ کھولنے کا ذکر تھا ، زیر نظر آیت میں ایک شبہ کے ازالہ کے لئے کہ اس سے کوئی آدمی یہ نہ سمجھے کہ شاید اس دوست نے دوسرے دوست کو دیکھا ہی نہ ہو کہ میرا دوست عذاب کی زد میں ہے فرمایا نہیں ایسی بات نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے ، پہچانتے ہوں گے اور دیکھ کر ، پہچان کر ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کے لئے اور کسی طرح کے اشارہ ہی سے پوچھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں گے اور پھر مزید شبہ کو دور کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ مجرم اس روز خواہش کرے گا کہ اگر اس عذاب سے بچنے کے لئے اس کو بیٹوں ، بیٹیوں کی قربانی دینا پڑے اور اس کے بدلے ہی وہ عذاب سے بچایا جاسکے تو وہ بخوشی اس صورت کو قبول کرلے اور فدیہ میں اپنی اولاد جیسی چیز کو دے کر عذاب الٰہی سے بچ جائے۔ یہ اس کی خواہش کا ذکر ہے نہ کہ حقیقت کا کہ ایسا ہونا ممکن بھی ہے۔ ہرگز نہیں یہ بات حتمی ہے کہ کوئی شخص بھی کسی کے فدیہ میں کام نہیں دے گا نہ بیٹا باپ کے کام آئے گا اور نہ باپ بیٹے کے۔
Ayah 70:12

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی

اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی وہ فدیہ میں دے گا 12 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ عذاب میں پھنسا ہوا آدمی اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی فدیہ میں دینے کے لئے تیار ہوگا اگر اس سے کوئی یہ فدیہ قبول کرلے اور یہ بات اس لئے تفصیل سے کی جا رہی ہے کہ اس دنیوی زندگی میں اگر کوئی مقدمہ ایسا قائم ہوجائے تو آدمی اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ میری اولاد ، میری بیوی اور بھائی اور دوسرے عزیز و اقارب اس مصیبت سے بچ جائیں تو میں ان کی مصیبت کو اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوں اور بعض اوقات ایسا ہوتا بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے عزیز و اقارب کے جرم میں پکڑا جائے یا خود ان کو بچا کر ان کے عوض کو اپنے سر لے لے لیکن آخرت میں اس کا کوئی تصور موجود نہیں اور یہ بھی کہ کسی کو اس طرح کی خواہش بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو فدیہ میں دے کر اپنے بچوں ، اپنی بیوی یا دوسرے اعزہ و اقرباء کو بچا لے ہاں ! اگر کسی کی خواہش ہوگی تو اس کا الٹ ہوگی کہ وہ خود اس عذاب سے اگر اس طرح بچ سکے کہ اپنے بچوں ، اپنی بیوی اور دوسرے احباب کو فدیہ میں دے کر بچ سکے تو بچ جائے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ فدیہ کیا ہے ؟ وہ چیز جو جان بچانے کے لئے لی یا دی جاتی ہے اس کو فدیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسی طرح اس کو ” فداء “ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
Ayah 70:13

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے خاندان کو بھی جس میں وہ (دن رات) رہتا تھا

اور اپنے خاندان کو بھی جن میں وہ دن رات رہتا تھا 13 ؎ (فصیلتہ) فصیلہ حالت جرہ ضمیر مضاف الیہ۔ مرد کے اقارب اور اعزہ (منتہی المحارب) قبیلہ کے لوگ (محلی) ماں ، باپ ، اولاد سب کے سب ایک دوسرے سے جدا جدا ہوتے ہیں اگرچہ اولاد ان سے پیدا ہوتی ہے تاہم بحیثیت جسم و جان الگ ہوتی ہے اور والدین اولاد کو قطع کر کے جدا جدا ہوجاتے ہیں۔ (کبیر) انسان کے اپنے جسم کے اندر جو جوڑ اور بند ہیں ان کو مقاصل کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو جدا کرتا ہے۔ (تو یہ) وہ جگہ دیتی ہے۔ وہ خودکشی کرتی ہے۔ وہ ٹھکانا دیتی ہے۔ توی ایواء سے مضارع کا صیغہ ، واحد مؤنث غائب ، ضمیر واحد مذکر غائب۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی ایک بھی دوسرے کے کام نہیں آسکے گا اور ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور ہر ایک شخص ع ” تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبی ڑ تو “ کا مصداق ہوگا نہ تو وہ وہاں اپنے خاندان والوں کو اور نہ ان لوگوں کو جن کو اپنے پاس ٹھہرانے کے لئے وہ سارے جتن کرتا تھا ان میں سے کسی ایک کو بھی لفٹ (Lift) کرانے کے لئے تیار نہیں ہوگا بلکہ اس کی خواہش بالکل اس کے برعکس ہوگی اور اس کی اس خواہش کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 70:14

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جو لوگ زمین میں ہیں سب کو دے دے (اگر) وہ اپنے آپ کو بچا سکے

اور جو لوگ زمین میں ہیں سب کو دے دے بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو بچا سکے 14 ؎ گزشتہ مضمون بدستور جاری ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اولاد ، بیوی ، بچے ، دوست و احباب ، حقیقی بھائی اور خاندان کے دوسرے افراد اور اسی طرح جو کچھ اس دنیا کے اندر موجود ہے اگر اس کے اختیار میں ہو کہ وہ ان سب کو فدیہ میں دے کر اپنی جان چھڑا لے تو وہ اس سے کبھی دریغ نہ کرے گا۔ اس کو محض اپنی نجات کی فکر ہوگی اگر وہ اس کو حاصل ہوجائے تو اس کے عوض میں جو کچھ اس کے پاس ہے وہ سب کا سب چلا جائے تو وہ بڑی خوشی سے دینے کے لئے تیار ہوگا۔ دراصل یہ سارا بیان اسی عذاب کی سختی کو ثابت کرنے کے لئے دیا جا رہا ہے جس عذاب سے بچنے کے لئے اس وقت موقع موجود ہے لیکن بہت ہی کم لوگ ہیں کہ وہ اس وقت اس کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے بچنے کی کوئی تدبیر کریں بلکہ الٹا اس میں پھنسنے کی ہر کوئی کوشش کر رہا ہے اور یہ بات سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ اس وقت کو اس طرح ضائع کر کے اور آخرت کو برباد کر کے وہ اپنا کتنا نقصان کر رہا ہے۔ اس وقت ذرا محنت سے اپنے کام سرانجام دے کر اتنے سخت عذاب سے بچ سکتا ہے اگر وہ بچنے کی کوشش کرے لیکن جب یہ وقت نکل جائے گا اس وقت اس کو عذاب سے بچنے کی فکر ہوگی کیونکہ اب وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس کو دیکھ رہا ہوگا۔ اس طرح بتایا جا رہا ہے کہ انسان کتنا غافل ہے کہ جب بچنے کا وقت ہے بچتا نہیں اور جب بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اس وقت سرتوڑ کوشش کرتا ہے کہ وہ بچ جائے اور اسی ادھیڑ بن میں اس کی عمر کی گاڑی اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہے اور اس کا کام تمام ہوجاتا ہے۔
Ayah 70:15

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز (ایسا) نہیں ، وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے

ہرگز ایسا نہیں وہ تو بس بھڑکتی ہوئی آگ ہے 15 ؎ اب زیر نظر آیت سے اس بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی سختیاں اس کو بتائی جا رہی ہیں جس عذاب کے معاملہ میں وہ اس قدر سستی سے کام لے رہا ہے اور اس وقت جب اس عذاب سے بچنے کی تدبیریں موجود ہیں غفلت میں مبتلا ہو کر اس کی ذرا پروا نہیں کر رہا ہے اور پھر جب وہ وقت نکل جائے گا تو حسرت و افسوس سے کف افسوس ملے گا بلکہ اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹنے کی کوشش بھی کرے گا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : (و یوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یلتینی اتخذت مع الرسول سبیلا ) (25 : 27) کہ ” اس روز ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کہ اے افسوس مجھ کو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ راستہ کیوں اختیار نہ کیا ؟ “ فرمایا سمجھنے کا وقت تو اب ہے کہ اس عذاب سے اپنے آپ کو بچا لے اگر وہ بچا سکتا ہے۔ جب وقت نکل گیا تو اس وقت پچھتانے سے کیا ہوگا۔ اس وقت تو جو کچھ ہے بس وہ یہی ہے کہ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے اس کے استقبال کے لئے تیار ہوں گے۔ لظی علم اور اسم مصدر اور مصدریہ دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور بغیر دھوئیں کے اٹھتا ہوا شعلہ آگ کا اس سے مراد ہے۔ تلظی آگ کا بھڑکنا ہے اور تار اتلظی بھڑکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں۔ جس کے شعلے بھڑک کر انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ گزشتہ آیات کے مضمون کی تردید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی شخص کے فدیہ میں کوئی چیز یا کوئی دوسرا انسان دھر لیا جائے اور اس کو جو پکڑا گیا ہے آزاد کردیا جائے ایسا ہی نہیں ہاں ! وہاں بھڑکتی ہوئی آگ ہے اور وہ ہر اس شخص کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی جو اس آگ میں پڑنے کے قابل ہے۔
Ayah 70:16

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو کھال ادھیڑ ڈالنے والی ہے

وہ آگ کھال ادھیڑ ڈالنے والی ہے 16 ؎ (نزاعۃ) مبالغہ کا صیغہ ہے نزع مصدر ہے جس کے معنی کھینچنے کے ہیں۔ سخت کھینچنے والی یا سختی سے اتارنے والی۔ (شوی) کلیجہ ، منہ کی کھال ، سر کی کھلڑی۔ لغت میں اس کا استعمال ان تینوں معنوں میں ہوتا ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ (شوی) کے معنی اطراف بدل کے ہیں جیسے کہ ہاتھ اور پیر اور یہ شواۃ کی جمع ہے جیسے نوی نواۃ کی۔ اس کے معنی اس طرح بتائے گئے ہیں کہ سر کی کھال کو کہتے ہیں۔ انسان کی کھال۔ حیوان کے ہاتھ پائوں۔ ہر وہ عضو کہ جس کو کاٹ کر الگ کردینے سے موت واقع نہ ہوتی ہو۔ (بحر المحیط ج 8 ص 330) گزشتہ آیت میں آگ کے شعلوں کا ذکر تھا اس میں بتایا جا رہا ہے کہ آگ کے وہ شعلے انسان کو اس طرح بھون دیں گے جس طرح آگ پر سری پائے کو بھونا جاتا ہے تاکہ بال جل جائیں اور کھال باقی رہ جائے اور وہ بھی ایک خاص ہیئت و صورت میں جس طرح وہ بھوننے کے بعد ہو کر رہ جاتی ہے۔
Ayah 70:17

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور روگردانی کی ہو گی

وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور رو گردانی کی ہو گی 17 ؎ (تدعوا) مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب بھی ہے اور مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر بھی۔ پہلے صیغہ کے لحاظ سے معنی ہوں گے وہ پکارتی ہے۔ وہ بلاتی ہے۔ وہ پکارے گی۔ وہ بلائے گی۔ اعاد اور دوسرے صیغہ کے لحاظ سے معنی ہوں گے تم پکارو۔ تم پکارتے ہو۔ تم پکارو گے۔ اصل اس کی ” دعاء “ ہے۔ زیر نظر آیت میں پہلے معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص نے اس سے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا وہ ان کو پکارے گی اور بلائے گی اور آواز آئے گی کہ الی یا مشرک الی یا منافق اے مشرک ! اے منافق ! کہاں بھاگتے ہو تم سب ادھر آئو۔ اب تم کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا۔ مجھ سے روگردانی کا وقت نکل گیا۔
Ayah 70:18

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جمع کیا اور (اس کو) سنبھال کر رکھا ہو گا

اس کو جس نے مال جمع کیا اور اس کو سنبھال کر رکھا ہو گا 18 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ وہ آگ بلائے گی اور بھڑک بھڑک کر آوازیں دے رہی ہوگی تم بھی ادھر آ جائو کہ تم کو مال و دولت کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا اور تمہارا مشغلہ ہی مال جمع کرنا اور اس کو سنبھال سنبھال کر رکھنا تھا۔ (فاوعی) اس نے سینت کر رکھا۔ اس نے حفاظت سے رکھا۔ ایعاء سے جس کے معنی مال و اسباب کو کسی چیز میں محفوظ کر کے رکھنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مال اور اسباب دنیا میں کام آنے والی چیز ہیں لیکن آخرت کے سنوارنے کا انحصار بھی ان پر ہے خصوصاً ان لوگوں کی آخرت جن کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت دی ہے اور اس سے آخرت کے سنورنے کی صورت یہی ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کیا جائے جب کہ دنیوی زندگی میں اپنی ذات پر خرچ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہو اس لئے اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ اس کے ساتھ ایسی محبت نہ کی جائے جو انسان کی آخرت برباد کر دے۔
Ayah 70:19

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بلاشبہ انسان بےصبرا ہی پیدا ہوا ہے

بلاشبہ انسان بےصبرا ہی پیدا ہوا ہے 19 ؎ (ھلوعا) مبالغہ کا صیغہ ھلع مصدر۔ بہت بےصبرا۔ تھوڑ دالا۔ بہت ہی بےصبرا۔ ھلع بےصبری سے شور کرنے والا۔ (خلق الانسان) انسان پیدا کیا گیا ہے بےصبرا۔ تھوڑ دلا۔ معمولی معمولی باتوں پر شور کرنے والا۔ اس طرح اس کے معنی ڈرپوک ، عاجز ، بخیل ، مصیبت پر صبر نہ کرنے والا ، رو پڑنے والا ، ڈر کر بھاگنے والا ، بددل ہونے والا ، کمزور اور سست وغیرہ ہیں اور اس طرح تخلیق انسانی کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : (وخلق الانسان ضعیفا) (4 : 28) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : (خلق الانسان من عجل) (21 : 37) تفصیل کے لئے عزوۃ الوثقی ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 28 ، جلد پنجم سورة الانبیاء کی آیت 37 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ بلاشبہ یہ سب کے سب استعارات انسانی تخلیق پر صادق آتے ہیں۔ اس آیت 35 تک کا مضمون بہت سمجھ سمجھ کر پڑھنے کے قابل ہے۔ عربی متن کو بھی بار بار پڑھو اور قرآن کریم کی ان آیات کے معانی پر بھی غوروفکر کرو۔ ان آیات میں انسانی زندگی کے لئے بہت سی باتیں بتائی گئی ہیں۔ اگر آپ نے ان آیات کو محض ختم شریف پڑھنے والوں کی طرح نہ پڑھ دیا تو بہت کچھ حاصل ہوگا۔ تخلیق انسانی کی کمزوری کی طرف جو اشارہ زیر نظر آیت میں دیا گیا ہے اس پر لفظ (ھلوعا) کا اطلاق کس قدر معنی خیز ہے اور اس ایک ہی لفظ نے تخلیق انسانی کا جس طرح نقشہ کھینچ دیا ہے یہ اس معجزانہ کلام ہی کا ایک حصہ ہے۔
Ayah 70:20

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے

جب اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے 20 ؎ (جزوع) جزع سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ جزوعا گھبرا جانے والا۔ اضطراب کرنے والا۔ یہ انسان کی دوسری فطری کمزوری ہے جو اس جگہ بیان کی گئی ہے کہ ذرا تکلیف پہنچی تو جزع فزع شروع کردیا اور گھبرا کر چیخنے چلانے لگا اور اس طرح واویلا شروع کردیا کہ شاید اس کے ایسا کرنے سے اس کی تکلیف دور ہوجائے گی حالانکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح گھبرا کر چیخنے ، چلانے اور واویلا کرنے سے سوائے اس کی کمزوری کے اظہار کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا کیونکہ جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔
Ayah 70:21

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اس کو فراخی ملتی ہے تو رک جاتا ہے

اور جب اس کو فراخی ملتی ہے تو وہ رک جاتا ہے 21 ؎ (منوعا) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ منع مصدر بہت روکنے والا۔ گویا بہت کنجوس اور بخیل ہے کہ جب اس کو رزق کی فراوانی میسر آتی ہے تو بخل کرنا شروع کردیتا ہے اور مال کو جمع کرنے کے لالچ میں وہ اس قدر خبطی ہوجاتا ہے کہ اس کو کچھ نہیں سوجھتا بس ایک ہی دھن اس پر سوار ہوجاتی ہے کہ اس روپے اور خزانے کو بار بار گنتا ہے اور روک روک کر رکھتا ہے۔ نہ خود اپنی جان پر خرچ کرتا ہے اور نہ ہی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے ان پر دل کھول کر خرچ کرتا ہے اور کسی غریب ، مسکین ، یتیم کو تو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔ یہ بھی انسان کی دراصل فطری کمزوری ہے لیکن اس کو بیر کوئی شخص کمزوری ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ آیت 19 سے آیت 21 تک تین آیتوں میں انسان کی تین کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے گویا انسان کی سرشت میں یہ تین عیب ہیں جن کو ہم نے کمزوری سے تعبیر کیا ہے۔ (1) کہ وہ حریص اور کم ظرف ہے ایسی چیزوں کو بھی ہڑپ کرنے کے لئے بےتاب رہتا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں ہوتیں۔ اس کی کوششیں ہر وقت ، ہر قیمت پر دولت سمیٹنے کے لئے وقف رہتی ہیں۔ خواہ دولت رشوت سے ملے ، لوٹ کھسوٹ سے ملے ، چوری ڈاکہ اور راہزنی سے ملے ، قوم و ملک کے ساتھ غداری کر کے ملے ، قوم کے غذائی ذخائر فروخت کر کے ملے ، یہ دولت اس کو سمگل کرنے سے حاصل ہو ، قومی راز دوسروں کے سامنے کھول کر رکھ دینے سے حاصل ہو بہرحال کوئی طریقہ جو اس کے اختیار میں ہو اور وہ اس طریقہ کو استعمال کرسکتا ہے وہ استعمال کرے گا اور ذاتی ملکیت کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور اس کے لئے کوئی حربہ بھی اس کو استعمال کرنا پڑے وہ کرے گا۔ ہم نے جو کچھ گنوایا ہے یہ بالکل مختصر ہے اگر تم اسی نہج پر سوچو گے تو بہت کچھ پائو گے۔ اس طرح کی ساری صورتوں کے لئے قرآن کریم نے ایک ہی لفظ (ھلوعا) کا استعمال کر کے انسان کی اس طرح کی ساری کمزریوں کا اظہار کردیا ہے کہ وہ اربوں پتی ہوگا ، دولت کے ڈھیروں کو اس قدر اکٹھا کرنے کے بعد کہ اس کو دولت کا شمار بھی نہیں ہے لیکن دولت اکٹھا کرنے کی حرص اب بھی بدستور باقی ہے ، دوسروں کے پاس کچھ دیکھے تو اس کی رال فوراً ٹپکے گی کہ یہ بھی میرا ہی حق ہے اور مجھے ہی ملنا چاہئے۔ (2) یہ کہ وہ (جزوعا) ہے بہت ہی گھبرانے والا ہے جونہی مصائب کی کوئی گھٹا اس کی زندگی کے افق پر نمودار ہوتی ہے تو اس کے ہاتھ پائوں سوجنا شروع ہوجاتے ہیں اور سانس پھول جاتا ہے اور اوسان خطا ہوجاتے ہیں اور پھر جدھر دیکھتا ہے بس امید کی کوئی کرن اس کو نظر نہیں آتی۔ آپ اس ملک کے وزیراعظم رہنے والوں ، صداقت کی کرسی پر بیٹھنے والوں ، سینیٹر بننے والوں ، ایم پی اے اور ایم این اے بننے والوں اور دوسرے سارے وزیروں کو دیکھ لیں جو ان عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اب دوسروں کی باری ہے تو وہ کتنے گھبرائے ہوئے آپ کو نظر آتے ہیں اور پھر اس پر دوسرے سارے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا خیال کریں تو حقیقت کھلتی چلی جائے گی۔ (3) یہ کہ وہ سخت کنجوس ، سخت قسم کا بخیل نظر آئے گا۔ کروڑوں کا مالک بیچارہ غریب نظر آئے گا۔ کسی ملی ، قومی مقصد کے لئے کسی نادار و فقیر کی امداد کے لئے ایک پائی خرچ کرنا اس کے لئے بہت دشوار ہے۔ اب ذرا غور سے سوچنے اور اپنی ایمانداری سے خود فیصلہ کیجئے کہ جس شخص میں حرص اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو کہ وہ حلال و حرام کی تمیز سے بھی قاصر ہو۔ جو مصیبت کے وقت اپنے اوسان خطا کر بیٹھے اور مایوس ہو کر اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرام پر ڈال دے یا جب وہ دولت مند اور مالدار ہو تو کنجوس مکھی چوس بن جائے تو کیا ایسے شخص کا وجود اپنے ملک و ملت کے لئے باعث ننگ و عار نہیں ہوتا۔ اس سے اس کی بستی والے بھی نفرت کرتے ہیں اس کے گھر والے بھی اس سے بیزار ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے بھی وبال بن جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کے لئے بھی مخلص نظر نہیں آتا۔ لیکن ان ساری کمزوریوں کا حل کیا ہے ؟ قرآن کریم کا کہنا ہے کہ ان تین قسم کی کمزوریوں کا ذکر جو کیا گیا ہے محض اس لئے کیا گیا ہے کہ ان تینوں کا ایک حل موجود ہے اور وہ حل بھی بالکل آسان ہے لیکن اس کے لئے جو اس کو کرنے کے لئے بھی تیار ہو اور وہ حل آنے والی آیت واضح الفاظ میں بتا رہی ہے کہ وہ کیا ہے ؟
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

بجز ان نمازیوں کے

سوائے ان نمازیوں کے (جو نماز کو قائم کرتے ہیں) 22 ؎ فرمایا ان تینوں کمزوریوں کا ازالہ جو تعلیمات اسلام میں بتایا گیا ہے وہ نماز ہے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر عمل پیرا ہوتا ہے جب وہ اپنی زندگی کے روز و شب کو قرآن کریم کے پیش کئے ہوئے اس قالب میں ڈھال لیتا ہے تو اس کی کایا پلٹ جاتی ہے وہ حریص نہیں رہتا۔ وہ بحمد اللہ غنی ہوجاتا ہے اس لئے کہ اس کا دل غنا حاصل کرلیتا ہے۔ اس کی آنکھیں سیر ہوجاتی ہیں پھر مصائب کے تند و تیز طوفان جب اس سے آ کر ٹکراتے ہیں تو اسے فولاد کی چٹان کی مانند مضبوط پاتے ہیں۔ ان حالات میں اس کی امید کا چراغ اور زیادہ ضیاء بار ہوجاتا ہے۔ وہ کسی طرح بھی سیل حوادث سے گھبراتا نہیں بلکہ اس وقت اس کی خفتہ توانائیاں انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔ وہ ان سے فرار اختیار نہیں کرتا بلکہ شیروں کی طرح ان پر جھپٹتا ہے اور جب اس پر خوش حالی کا دور آتا ہے تو وہ محتاجوں ، مسکینوں کو ڈھونڈ کر ان کی امداد کرتا ہے اور ان کے دکھوں کا مداوا بن کر خوش ہوتا ہے وہ کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتا اور اس طرح جب تک وہ کسی کی تکلیف کو دور نہ کر دے اسے چین نہیں آتا وہ تبدیلی ہے جو اسلام کے پیش کئے ہوئے نظام عبادات پر عمل کرنے سے انسان میں رونما ہوتی ہے۔ زیر نظر آیت میں ان ساری کمزوریوں سے بچنے کی ایک تدبیر بتائی گئی ہے کہ اس حالت سے وہ لوگ نکل آتے ہیں جو نماز ادا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں نماز فقط ان ہی لوگوں کی نماز ہے جن سے یہ ساری قسم کی بیماریاں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ختم ہوجاتی ہیں۔ لاریب ان کی نماز نماز ہے اور اس کے قبول ہونے کا ان کے لئے یہی سب سے بڑا سرٹیفکیٹ (Certificate) ہے اور ان کی نماز کی قبولیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صمیم قلب سے رب کریم کی یاد میں محو ہوجاتے ہیں اور دائیں بائیں ان کی نظریں قطعاً نہیں اٹھتیں۔
Ayah 70:23

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو نماز کے (سختی سے) پابند ہیں

وہ لوگ نماز کے سختی سے پابند ہیں 23 ؎ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے حضور ہر وقت حاضر رہتے ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات بلکہ دل کے احساسات کو بھی وہ دیکھ رہا ہے پھر ایک تو نمازوں کو ہمیشگی ادا کرتے ہیں اور دوسرے صرف زبان سے الفاظ کی ادائیگی پر ہی کفایت نہیں کرتے بلکہ نماز کو دل کی گہرائیوں میں جگہ دیتے ہیں۔ ان کی نمازوں کا اثر ان کے چہروں سے نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کسی حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے دین سے غافل نہیں ہوتے۔
Ayah 70:24

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں (حقداروں کا) حق مقرر ہے

اور جن کے مال میں حق داروں کا حق مقرر ہے 24 ؎ وہ جو مال کماتے ہیں تو بہت دیانت و امانت کے ساتھ اور محنت شاقہ کر کے کماتے ہیں اور جائز طریقوں سے مال کو حاصل کرتے ہیں۔ پھر جب مال ان کو ملتا ہے تو وہ سب کا سب اپنا ہی حق نہیں سمجھتے اور اپنی محنت کا کمال نہیں سمجھتے بلکہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہوئے اللہ کی رضا کے مطابق کماتے ہیں اور اسی کی رضا کے مطابق خرچ کرتے ہیں۔ ان کے ذہن و دماغ کے اندر یہ بات سما چکی ہے کہ اس مال میں ان کی ذات کے لئے کتنا ہے اور غرباء و مساکین کا حق کتنا ہے اور ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس مال کا تعلق قوم کے خزانہ سے ہے تو اس میں کہاں تک صرف کرنے کے مجاز ہیں۔
Ayah 70:25

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

مانگنے والوں کا اور نہ مانگنے والوں کا

اس مال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں کا کیا حق ہے ؟ 25 ؎ مطلب یہ ہے کہ ہر سائل کے لئے ضروری نہیں کہ وہ حاجت مند بھی ہو اور اسی طرح ہر حاجت مند کے لئے یہ لازم نہیں کہ سوال بھی کرتا ہو وہ اس بات کا خوب خیال رکھتے ہیں کہ ہر مانگنے والا محض سوال کرنے کا عادی ہے یا فی الواقع حاجت مند بھی ہے اور پھر دونوں ہی صورتوں میں وہ ڈانٹتے ڈپٹتے نہیں بلکہ مانگنے والوں کو ہی دیتے ہیں جتنا کہ ان کو دینا چاہئے اور نہ مانگنے والوں کی تو وہ تلاش میں ہوتے ہیں تاکہ ان کو نہ مانگنے کے باعث ہر آدمی نہیں سمجھ سکے گا اس لئے ان لوگوں کا خیال رکھ کر ان کو بن مانگے دیتے ہیں اور ان کو دینے کے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں تاکہ ان کی حاجت بھی پوری ہو اور جس چیز کو وہ اخفا رکھنا چاہتے ہیں وہ بھی اسی طرح بدستور قائم رہے۔ اور وہ مال کو اپنی ذات کے لئے مخصوص نہیں کرتے بلکہ انہوں نے اس میں ایک خاص حصہ مقرر کر رکھا ہے جو وہ سائلوں اور محروموں کو دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ سائل سے مراد مانگنے والا ہی ہے اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو از حد ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے ان کو ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے جو سفید پوش ہوتے ہیں اور وہ رات کو چھپ کر ان کی مدد کردیتے ہیں اور پھر کبھی ان کو باور تک نہیں ہونے دیتے کہ ہم نے تمہاری کبھی خدمت کی تھی اور ظاہر ہے کہ وہ فرض زکوٰۃ کے علاوہ مال خرچ کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو لوگ روز جزا پر یقین رکھتے ہیں

اور جو لوگ روز جزاء پر یقین رکھتے ہیں اور عمل سے اس کو ثابت کردیتے ہیں 26 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزا کی تصدیق کرنے والے ہیں اور اس طرح وہ زبان سے بھی اقرار کرتے ہیں اور ان کا عمل بھی اس پر گواہ ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس دنیوی زندگی کو آخری زندگی خیال نہیں کرتے بلکہ ان کا ایمان ہے کہ قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھایا جائے گا اور ان سے ان کے اعمال کے بارے میں بازپرس کی جائے گی۔ ان کو اس بات پر پختہ یقین ہے کہ آج کا دیا کل کو کام آئے گا۔ اس لئے وہ دل کھول کر خرچ کرتے ہیں لیکن وہاں جہاں اللہ تعالیٰ ان کو مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس طرح وہ روز جزا پر ایمان رکھنے کا گویا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں۔
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں

اور جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں 27 ؎ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے نیک کام ہوتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا مزید شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہم کو نیک کام کرنے کی توفیق بخشی ہے اس طرح وہ نیکی کرنے کے بعد اپنی نیکی پر نازاں نہیں ہوتے بلکہ ہر وقت اپنی کوتاہیوں کا احساس ان کو دامن گیر رہتا ہے اور اپنے رب کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ اگر ان سے کسی وقت بھی کوئی حرکت ایسی سرزد ہوجاتی ہے جو نازیبا ہوتی ہے تو وہ اسی وقت اللہ سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہوئے کانپ جاتے ہیں اور ان کے دل ندامت میں ڈوب جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب ان کے گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہے تو وہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور پھر پختہ ارادہ کرتے ہیں کہ ان انسانی کمزوریوں کو آئندہ قریب بھی نہیں آنے دیں گے۔
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بلاشبہ ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز بھی نہیں

بلاشبہ ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز بھی نہیں ہے 28 ؎ (مامون) اسم مفعول واحد مذکر (غیر مامون) ایسا عذاب جس کا اندیشہ برابر لگا ہی رہنا چاہئے۔ اس کی طرف سے نڈر ہو کر نہ بیٹھنا چاہئے۔ ناقابل بےخوفی اور خطرناک مطلب یہ ہے کہ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے رب کے عذاب کو کوئی شخص بھی دور نہیں کرسکتا اور یہ بھی کہ وہ خواہ کتنے نیکوکار کیوں نہ ہوں وہ اپنے آپ کو اپنے رب کے عذاب سے ذہنی طور پر امن نہیں پاتے گویا ان کو ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت بھی اپیا گرفت میں ان کو لے سکتا ہے اس لئے وہ ہر وقت اس ڈر اور اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی دنیوی زندگی میں وہ کبھی بھی بےخوف و خطر نہیں ہوجاتے کہ یہاں آزمائش کا ایک رنگ بھی موجود ہے اور وہ کسی وقت بھی ناگہانی طور پر آسکتی ہے اس لئے ان کو اس طرح کا خوف بالکل آزاد ہونے ہی نہیں دیتا۔
Ayah 70:29

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے پردوں کے مقام کی حفاظت کرتے ہیں

وہ لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں 29 ؎ اور وہ اس طرح کہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے فرمان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ انسان کے سارے ہی اعضاء زنا کرتے ہیں۔ آنکھ ، کان ، ہاتھ ، پائوں اور یہاں تک کہ اس کی جلد تک اس گناہ میں ملوث ہوجاتی ہے اور آخری تصدیق شرم گاہ کا کام ہے اس لئے وہ مبادیات زنا سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہتے ہوئے اپنے ان سارے اعضاء کی حفاظت کرتے ہیں اور آخری حد تک وہ قطعاً نہیں پہنچتے اور اس طرح وہ اپنے دامن صفت پر داغ نہیں آنے دیتے اور اس طرح وہ اپنے گوہر عصمت کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں۔ وہ اللہ کا ڈر اپنے دماغ میں اس قدر بٹھا چکے ہیں کہ ان کا ذہن اس خوف سے کسی حال میں بھی آزاد نہیں ہوتا۔ وہ اپنے سارے جوارح کی حفاظت اور نگرانی کرتے ہیں اور ان کی خواہشات حرام کی طرف عود ہی نہیں کرتیں اور ان کی حیوانیت جب ان پر غالب آتی ہیں تو وہ اس کے ازالہ کے لئے ہمیشہ جائز اور درست سعی کرتے ہیں۔
Ayah 70:30

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی آزاد بیویوں اور منکوحہ لونڈیوں کے کہ ان پر (اس طرح) کوئی الزام نہیں

سوائے اپنی آزاد بیوی اور منکوحہ لونڈیوں کے ان پر کوئی الزام نہیں ہے 30 ؎ اگر کوئی انسان ہے خواہ وہ کتنا ہی نیک اور کتنا ہی پرہیز گار حتی کہ معصوم جیسا کہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) تھے تو بہرحال وہ خواہشات جو انسان میں من حیث الجنس و دیعت کی گئی ہیں وہ تو ہر ایک کے اندر موجود ہیں اور ان کا موجود ہونا ہی انسان کو کامل انسان بناتا ہے اگر وہ کسی انسان میں کسی وجہ سے نہیں ہیں یا ہیں لیکن بہت ہی کمزور تو یہ کوئی خوبی کی بات نہ ہوئی بلکہ عیب اور نقص ٹھہرا اس لئے اگر ان کا ہونا ضروری ہے تو ظاہر ہے کہ ان کا ازالہ بھی لازم اور ضروری ہے۔ اس لئے زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ خواہشات جو ان میں فطری طور پر موجود ہیں اور جن کا موجود ہونا ایک خوبی ہے ان کے ازالہ کی جو جائز اور درست صورت اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے وہ یہ ہے کہ مرد اپنیخواہشات کے لئے اللہ کے حکم کے مطابق غیر محرم عورتوں ہی سے نکاح کرے اور اس کے لئے ایک سے چار تک عورتوں سے بیک وقت نکاح جائز اور درست ہے اس لئے اگر اس کو ضرورت ہو تو اپنی ضرورت کے لئے ان حدود کے اندر وہ خواہشات کو پورا کرے اور اگر آزاد عورت میسر نہ ہو تو لونڈی اور باندی سے بھی وہ نکاح کرسکتا ہے۔ اس طرح وہ نکاح کرنے کے بعد ان پابندیوں کے اندر رہتے ہوئے اپنی خواہشات کا ازالہ ان سے کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ اس پر کوئی الزام ہے اس لئے وہ لوگ جو ان حدود کے اندر رہ کر عورتوں سے نکاح کرتے اور ان پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد کی خواہش رکھتے ہیں اور عورتوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرتے ہیں وہ اجر کے مستحق ہیں گویا ان کی حالت ایسی ہے کہ ہم خرماوہم صواب۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

ہاں ! جو شخص اس کے سوا خواہش کرے تو پھر ایسے ہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

ہاں ! جو شخص اس کے سوا خواہش کرے تو ایسے ہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں 31 ؎ اپنی آزاد بیوی اور اپنی غلام باندیوں کے ساتھ نکاح کرنے کے سوا اگر کوئی شخص دوسری طرف نظر کرے ، ہاتھ کرے ، دل کو جگہ دے یا پائوں سے چل کر کسی کی طرف بڑھے اور پھر ان حدود سے آگے ہی بڑھ جائے تو جتنا اس نے خلاف کیا اور جتنا خلاف بڑھا اتنا ہی اس نے زیادتی کی اور زیادتی بہرحال زیادتی ہے خواہ کم ہے یا زیادہ اس لئے وہ لوگ بہرحال زیادتی کرنے والے ٹھہریں گے جو اس حد سے تجاوز کریں گے اور ایمان والے لوگ کبھی ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ زیادتی ایمان لانے کے منافی ہے۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں 32 ؎ آیت 23 سے صلوٰۃ ادا کرنے والوں کی نشانیاں گنوائی جا رہی ہیں اور ان میں سے ان کی یہ نشانی بھی ہے کہ جو امانتیں ان کے سپرد کی جاتی ہیں وہ ان میں خیانت نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ امانتوں سے مراد ہر طرح کی امانتیں ہیں۔ ہمارے اعضاء ، ہماری عقلیں اور ہمارے ہوش و حواس یہاں تک کہ ہماری زندگی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں اور ان سب کو اسی کے حکم کے مطابق صرف کرنا دیانتداری ہے اور ان کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرنا بددیانتی اور خیانت ہے۔ بہرحال اس میں ہر طرح کی امانتیں داخل ہیں جو امانتیں انسان ، انسان کے سپرد کردیتا ہے اور اسی طرح جو عہد و پیمان کیا جاتا ہے وہ بھی امانت ہے یہاں تک کہ اگر کسی نے نیک مشورہ مانگا ہے تو وہ بھی اس کے لئے امانت ہے چاہئے کہ اس کی بات دوسروں تک نہ پہنچائے اور اگر مشورہ دے سکتا ہے تو صحیح اور درست مشورہ دے اور رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد یاد رکھے کہ : الا لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ ” بردار جس میں امانت نہیں ہے اس کا کوئی ایمان نہیں ہے اور جو عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں ہے۔ “ (بیہقی فی شعب الایمان)
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں

اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں 33 ؎ شہادت عام ہے خواہ کسی شہادت کی ذمہ داری اٹھائی ہو اور خواہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ دونوں صورتوں میں شہادت کا صحیح ادا کرنا ضروری ہے۔ شہادت کا تعلق محض حق اللہ سے ہو جیسے توحید و رسالت کی شہادت یا کسی کی طرف سے شہادت ڈال دی گئی ہو جیسے کسی مقدمہ کی شہادت ، کسی کے لین دین کی شہادت ، خواہ کسی دینی معاملہ میں ہو جیسے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے نہ دیکھنے کی شہادت ، خواہ شہادت کسی دنیوی معاملہ کی ہو اور اس کا تعلق حقوق العباد سے ہو شہادت خواہ اپنے اعزہ و اقرباء کے متعلق ہو اور خواہ اپنی ذات کے متعلق ہو ہر حال میں شہادت کا صحیح ادا کرنا اور اس پر قائم رہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق دین اسلام کے احکام سے ہے۔ امانت میں خیانت اور جھوٹی گواہی دونوں کا تعلق نفاق سے یعنی منافق کی نشانیوں میں سے ہے اس لئے اس سلسلہ میں محتاط رہنا بھی بہت ہی ضروری ہے۔ بداحتیاطی دین کا صفایا کردینے والی چیز ہے۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں 34 ؎ آیت 23 سے نماز ادا کرنے والوں کی نشانیاں گنوائی چلی آرہی ہیں اور یہاں آ کر پھر صلوٰۃ یعنی نماز کا ذکر فرمایا ہے۔ وہاں صرف نمازیوں کا ذکر کیا تھا اور یہاں نماز قائم کرنے والوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں جن لوگوں میں یہ اوصاف فی الواقع موجود ہیں بلاشبہ وہ نمازیں ادا کرتے ہیں تو ان کی نمازیں قبول ہوتی ہیں اور جو ان اوصاف میں کوتاہی کرتے ہیں اور وہ ان میں کامل اور مکمل طور پر نہیں پائے جاتے وہ اگر نمازیں پڑھتے ہیں تو محض رسمی نمازیں ادا کرتے ہیں ، ان کی نمازیں قائم نہیں کہی جا سکتیں کیونکہ ان سے نمازیں پڑھنے کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہو رہا۔ یہ آیات جو اس جگہ بیان ہوئی ہیں بالکل ان کے ساتھ ملتی جلتی آیات کریمات سورة المؤمنون کی آیت ایک سے آیت دس تک بیان کی گئی ہیں اور وہاں پر ان کی مکمل وضاحت کردی گئی ہے جو اشارات و استعارات اس جگہ بیان کئے گئے ہیں ان کے متعلق بھی مختصر سا بیان اس جگہ آگیا ہے۔ غزوۃ الوثقی جلد ششم میں سورة المؤمنون کی محولہ بالا آیات کی تفسیر بھی ان کے ساتھ دیکھ لی جائے تو نماز کے قائم کرنے کا مفہوم ذہن میں بیٹھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کے بٹھانے کی سعی و کوشش کی جائے۔ سورة المؤمنون کی آیات کریمات کی تفسیر کے بعد فی نفسہٖ نماز کے بارے میں ایک مضمون نقل کیا گیا ہے اس کو نگاہ میں رکھا جائے ، ضروریات نماز کی پوری وضاحت بھی اس میں آگئی ہے اس سے انشاء اللہ فائدہ ہوگا اور نماز کو خطرات و اوہام سے بچانا بھی نمازی کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ محنت کرنے کے بعد اگر کسی چیز کو بالکل ضائع کردیا جائے تو بہرحال دوہرا نقصان ہوتا ہے اور دوہرا نقصان کرنے والا آدمی عقل مند آدمی نہیں کہلا سکتا۔
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں عزت سے رہیں گے

یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں عشرت سے رہیں گے 35 ؎ اوپر جو خوبیاں گنوائی گئی ہیں وہ لوگ جو ان خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہیں بلاشبہ ان میں وہ فطری کمزوریاں باقی نہیں رہتیں جن کا پیچھے ذکر کیا گیا ہے یعنی آیت 19 سے آیت 21 تک اور ان کی وضاحت بھی ہم نے کردی ہے خواہ وہ کتنی مختصر ہے لیکن اگر کوئی شخص اس کو سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ بہت کچھ سمجھ سکتا ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں کہ اگر یہ کسی معاشرہ میں اکٹھے ہوجائیں اور ان کی کثرت سے جو معاشرہ بنتا ہے بلاشبہ وہ اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے اور اس معاشرہ میں رہ کر اسلامی زندگی کا جو لطف انسان اٹھا سکتا ہے وہ کسی دوسرے معاشرے میں ممکن ہی نہیں ہے اور پھر اسی معاشرہ کے لوگ ہیں جو جنت الفردوس کے مالک قرار پائیں گے اور وہاں بحمد اللہ ان کا انتظار کیا جا رہا ہے جونہی وہ پہنچیں گے تو ان کو عزت و احترام سے رکھا جائے گا اور فرشتے ان کو خوش آمدید پیش کریں گے اور ان کی زندگیاں وہاں عیش و آرام کے ساتھ گزریں گی اور جو کچھ ان کو وہاں پیش کیا جائے گا اس کا ذکر تفصیلی طور پر پیچھے عروۃ الوثقی ، جلد ہشتم میں سورة الرحمٰن اور سورة الواقعہ میں گزر چکا ہے اگر آپ چاہیں کہ ان کی گزر بسر کو نگاہ میں رکھیں تو ان دونوں سورتوں کا مطالعہ کریں۔ ان کی عزت و اکرام کا وہاں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 70:36

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پس ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں

ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں 36 ؎ (مھطعین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب مھطع واحد اھطاع مصدر باب افعال سر جھکائے تیزی سے دوڑنے والے۔ ھطیع کشادہ راستہ۔ مھطع عاجزی اور ذلت کی وجہ سے نظر نہ اٹھانے والا۔ بلانے والے کی طرف خاموش چلا جانے والا ھطع اور ھطوع مصدر۔ دوڑتا ہوا آنا۔ کسی چیز پر نظر جمائے رکھنا۔ ادھر ادھر نگاہ نہ اٹھانا۔ اھطاع سر جھکائے تیز دوڑنا۔ گردن لمبی کرنا۔ (مھطعین) کا لفظ تین بار استعمال ہوا ہے۔ (الحجر : 43) ، (القمر : 8) ، (المعارج : 36) گزشتہ دونوں سورتوں میں آنے والے الفاظ پر غوروفکر کرنے سے یہ تیسری جگہ کا مفہوم بھی واضح ہوجاتا ہے۔ کفار ایک طرف تو آپ ﷺ پر اعتراض کرتے کہ یہ کلام محمد (رسول اللہ ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اور اسی طرح انہوں نے جو جو الزام آپ ﷺ پر لگائے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا کہ جب آپ ﷺ جنت کے ذکر کی آیات کریمات تلاوت کرتے تو بعض کفار آپ ﷺ کی طرف دوڑتے چلے آتے اور آپ ﷺ کے سامنے آ کر ٹک کر بیٹھ جاتے اور ان کا اس طرح آپ ﷺ کی مجلس میں آنا آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کے لئے نہ ہوتا بلکہ بعد میں مذاق اڑانے اور آپ ﷺ کی ہنسی اڑانے کے لئے ہوتا تھا۔ زیر نظر آیت میں ان کے اس طرح آنے کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ منہ اٹھا کر دوڑتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف چلے آتے اسی طرح واپس چلے جاتے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سننے کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ مھطعین ای مسر عین متقبلین الیک بڑی تیزی سے آپ ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں۔