Ayah 70:37دائیں اور بائیں جانب سے گروہ در گروہ بیٹھ جاتے
37 ؎ (عزین) گروہ گروہ ، جماعت جماعت ، جوق جو ق۔ امام راغب اصفہانی رقم طراز ہیں کہ (عزین) کے معنی ہیں متفرق جماعتیں اور اس کا واحد ہے عزۃ اور یہ اصل میں عزوتہ فاعتزی سے ہے یعنی میں نے اس کی نسبت کی تو وہ منسوب ہوگیا گویا عزۃ وہ جماعت ہوئی کہ جس کا ایک فرد دوسرے کی طرف منسوب ہو دعوت میں یا ایک دوسرے کی پشت پناہی میں اور اسی سے ہے الا عتزاء فی الحرب یعنی جنگ میں اپنا انتساب بنانا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ عزین عزا عزاء فھو عز سے نکلا ہے جس کے معنی بتکلف صبر کرنے اور دوسرے کو اس حال میں دیکھ کر تسلی پانے کے ہیں گویا عزۃ اس جماعت کا نام ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر تسلی پاتی رہتی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ (عزین) جمع ہے عزۃ کی۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ اس کے معنی متفرق جماعتوں کے ہیں جو تین تین چار چار آدمیوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں مراد ہیں۔ (ابو حیان اندلس البحر المحیط ج 8 ص 330) علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن ماحصل سب کا ایک ہی ہے مطلب یہ ہے کہ کفار چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو کر آپ ﷺ کے دائیں بائیں آ کر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اس طرح ان کے آنے اور آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے سے ان کا فائدہ ؟ اگر کچھ نہیں تو بیکار بیٹھنے کا کوئی مطلب ؟ اور پھر جب آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر بھی ان کو فائدہ نہ ہوا تو وہ کونسی جگہ ہے جہاں سے وہ فائدہ حاصل کریں گے۔
Ayah 70:38کیا ان میں سے ہر ایک شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ نعمت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا ؟
38 ؎ وہ از راہ مذاق اور از راہ استہزاء مسلمانوں کو مخاطب کر کے گویا ہوئے کہ یہ لوگ ہیں جو جنت میں ان انعامات کے مستحق ہیں اور یہ ہیں جن کو اس طرح کے انعامات حاصل ہوں گے اگر بات یہی ہے تو ہم ان لوگوں سے پہلے وہاں موجود ہوں گے۔ یہ منہ اور مسور کی دال ایسے لوگوں کے لئے اس طرح کے انعامات۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر تو ان انعامات کی یقیناً بارش ہوگی۔ ان کے اس طرح کے مذاق کا ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اہل ایمان کا حق ہے خواہ وہ تمہاری نظروں میں کتنے ہی حقیر ہیں تم نہ ایمان لائے اور نہ ہی کوئی نیک عمل کیا لیکن جونہی اہل جنت کا بیان سنا تو تمہاری رال ٹپک پڑی کہ اگر یہ جنت ہے اور اس کے یہ انعامات ہیں تو یہ تو ہم کو حاصل ہوں گے۔
ع ایں خیال است ومحال است و جنوں
Ayah 70:39ہرگز نہیں ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا جس کو وہ بھی جانتے ہیں
39 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ان کی بھول بھلیاں ہیں اور غلط فہمیاں ہیں جن میں وہ مبتلا ہوئے ہیں ان کو کسی الگ طرح کے مادہ سے پیدا نہیں کیا گیا کہ ان کو ایمان لانے اور اچھے عمل کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو اور ان کو ایمان و عمل کے بغیر ہی جنت میں داخل کردیا جائے جب سب کا خمیر ایک جیسا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دوسرے لوگوں کو ایمان لانے اور اچھے عمل کرنے کی ضرورت ہو اور ان کو بغیر ایمان لائے اور بغیر اچھے عمل کئے سیدھا جنت روانہ کردیا جائے۔ ایسا ممکن نہیں ہے ان کے ضمیر کو بھی ہم جانتے ہیں اور یہ خود بھی اس سے لاعلم نہیں ہیں۔ کفار کے اس زعم باطل پر ہم پیچھے عروۃ الوثقی ، جلد ہشتم سورة فصلت کی آیت 50 میں وضاحت کرچکے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کی خوش فہمیوں کا ذکر جلد ہذا کی سورة القلم کی آیت 35 تا 38 میں کیا جا چکا ہے اور ان کی ایسی پیدائش پر بحث جلد ہشتم میں سورة النجم کی آیت 32 میں تفصیل سے گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 70:40پس میں مشرقوں اور مغربوں کا رب قسم کھاتا ہوں کہ بلاشبہ ہم قادر ہیں
40 ؎ یہ کائنات کتنی وسیع و عریض ہے اور اس کے مشرقوں اور مغربوں کا کسی نے اندازہ لگایا ہے اور کون ہے جو ان کو ماپ کر ان کی انتہا کو معلوم کرسکے لیکن ان ساری وسعتوں اور جن میں یہ وسعتیں قائم کی گئی ہیں سب کا بنانے والا ، سب کا پھیلانے والا صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ اس بات کا اقرار تو اہل مکہ کو بھی ہے پھر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ہم اس سارے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام قائم کردیں اور وہ نظام اس سے بھی کہیں بہتر ہو اور خصوصاً ہم ان لوگوں کو جو اکڑنے اور اترانے والے اور نیک لوگوں سے استہزاء اور مذاق کرنے والے ہیں ان سے اس ماحول کو پاک کردیں اور ان کو محض دوزخ رسید کرنے کے لئے دوبارہ زندہ کردیں جہاں وہ اس طرح کی بحث کر ہی نہ سکیں تو پھر آخر کون ہے جو اس تبدیلی سے ہم کو روکے گا۔ اگر یہ لوگ اپنی پیدائش اور اس کائنات کی پیدائش اور وسعت پر نظر ڈال لیتے تو ان کو اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کرنا پڑتیں اور شاید یہ اتنے چھوٹ نہ ہوتے جتنے اس وقت ہوچکے ہیں اور یہ بےلگام لوگ کان کھول کر سن لیں کہ ان سے اس نظام کو پاک کرنے پر ہم پوری پوری قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 70:41ان سے بہتر لوگوں کو ہم لے آئیں کوئی ہم کو اس ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا
41 ؎ یہ لوگ کس غلطی میں مبتلا ہیں اور اپنے آپ کو یہ لوگ کیا سمجھتے ہیں ؟ ان کو کس طرح یہ دھوکا لگ گیا ہے کہ اس دنیا کی رونق اور آبادی ان کے دم قدم سے ہے اگر یہ نہ ہوں گے تو اس گلستان کی ساری رونق ویران ہوجائے گی اور اس دنیا پر ہو کا عالم طاری ہوجائے گا۔ کیا یہ لوگ نہیں تھے تو یہ دنیا آباد نہیں تھی اور اگر یہ نہ ہوں گے تو دنیا ویران ہوجائے گی ؟ جن لوگوں کو اس طرح کی غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے ہم ان کو پلک زدن میں تہس نہس کردینے پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور پھر جب یہ نہ ہوں گے تو دنیا ان سے بہتر لوگوں سے آباد ہوگی اور اس طرح دنیا کی رونق اس وقت سے بھی پررونق ہوگی اور ہم کو اس تبدیلی سے کوئی بھی روک نہیں سکے گا۔ ان لوگوں نے یہ کس ورطے سے ایسی بات کی ہے جس کے کرنے کا ان کو قطعاً حق نہیں تھا ، ان کی حیثیت ہی آخر کیا ہے ؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔
(مسبوقین) اسم مفعول جمع مذکر مجرور مسبوق واحد اور اس کے معنی ہیں پیچھے چھوڑے گئے یعنی جن کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے آگے بڑھ جائیں اور مراد اس سے عاجز کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اگر کام کرنے کا ارادہ کریں اور کوئی دوسرا خواہ کوئی ہو اور کون ہو ہمارے ارادہ کو پیچھے چھوڑ کر خود آگے نکل جائے اور جو وہ کرنا چاہے وہ ہوجائے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو ہم کو ہمارے ارادہ سے باز رکھ سکے۔ یہ طاقت اور قوت صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو حاصل ہے کہ وہ بڑے بڑے ہیکڑی والوں کے ارادوں کو پورا نہ ہونے دے اور ان کے سارے ارادے دھرے کے دھرے رہ جائیں اور امر الٰہی ان سب پر غالب آجائے۔ آیت 40 اور 41 کا ترجمہ ایک بار نگاہ میں لائیں فرمایا جا رہا ہے کہ ” پس میں مشرقوں اور مغربوں کا رب قسم کھاتا ہوں کہ بلاشبہ ہم قادر ہیں اس بات پر کہ ان سے بہتر لوگوں کو ہم لے آئیں اور کوئی ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتا۔ “ مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو لاتے ہیں تو ان کے مشورہ سے نہیں بلکہ اپنے حکم تکوینی کے تحت اور جب ہم ان کو لے جانا چاہیں گے تو ان سے مشورہ کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہم اس کو اپنے حکم تکوینی کے تحت ان کو لے جائیں گے اور پھر ان کی جگہ جو دوسروں کو لائیں گے تو ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ وہ ان سے بہترے آئیں اگر ہم ایسا چاہیں تو کوئی بھی ہم کو اس سے باز رکھنے والا نہیں ہے۔ قبضہ قدرت ہمارا ہے نہ کہ ان آدمیوں کا۔
Ayah 70:42آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑیں تاکہ جو چاہتے ہیں کرلیں اور اپنے وعدہ کے دن سے جا ملیں
42 ؎ (ذرھم) تو ان کو چھوڑ دے۔ اس میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب ہے۔ (یخوضوا) جمع مذکر غائب مضارع جو منصوب و مجزوم خوض مصدر وہ مشغول ہوں۔ وہ مشغول رہیں۔ (یلعبوا) جمع مذکر غائب مضارع مجزوم لعب مصدر وہ کھیلتے رہیں۔ وہ کھیل میں پڑے رہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں کیونکہ ان کی مت الٹی ہے اور یہ سیدھی بات کو سمجھنے والے نہیں ہیں جو یہ الٹی سیدھی ہانکتے اور بکتے ہیں ان کو ہانکنے اور بکنے دیں ان پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے میں نے ان کو جو اپنے قانون امہال کے تحت جو مہلت دے رکھی ہے اس کو یہ پورا کریں اور انجام کار اپنے اس دن سے جا ملیں جس دن کا ان سے وعدہ کیا جا چکا ہے۔ ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔
آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ شروع سے آج تک ان ہی لوگوں کی کثرت رہی ہے جو عقل و فکر سے کام لینے کی بجائے سینہ زوری ، دھونس اور دھاندلی سے کام لیتے ہیں۔ الجھنا ان کو خوب آتا ہے اور اگر کوئی ان سے الجھنا چاہے تو وہ ہر وقت تیار ہیں ، نکمے ہیں کام کرنا نہیں چاہتے ، ان کے نزدیک یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسری زندگی نہیں اور اس کو وہ اسی طرح کاہلی اور سستی میں گزارنا چاہتے ہیں تو ان کو گزارنے دیں جو اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارتا ہے اس کو روکنے اور منع کرنے کا آخر فائدہ ؟ وہ جس کام میں مشغول ہیں اس میں مشغول رہنا چاہتے ہیں۔ کھیل کو وہی ان کا مطمع نظر ہے اور اس سے آگے ان کی نظریں مسدود ہیں۔ انسان ناطق ہونے کے باوجود وہ حیوانیت کو ترجیح دیتے ہیں ایسوں کے پیچھے پڑنے کی آپ ﷺ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس اس طرح یہ لوگ اپنے وعدہ کے دن کو پہنچ جائیں گے۔
Ayah 70:43وہ دن کہ یہ لوگ اپنی مرقدوں سے نکل کر بھاگ پڑیں گے اور نشان منزل پر پہنچ جائیں گے
43 ؎ وہ وعدہ کا دن کونسا ہے جس کا گزشتہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ دن موت ہی کا ہے۔ اچھا موت آئے گی تو کیا قصہ ختم ہوجائے گا ؟ ہاں ! اکثر کا خیال تو یہی ہے لیکن اسلام نے جو نظریہ و عقیدہ دیا ہے اس میں سمجھایا گیا ہے کہ وہ دنیا کی منزل کا آخری دن ہے کہ اس کے بعد اس دنیا میں کوئی نہیں آئے گا لیکن وہ دن ایسا نہیں کہ اسی روز یہ قصہ ختم ہوجائے بلکہ وہ دن ایسا دن ہے کہ اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے لئے جو دن مقرر کیا گیا ہے وہ اس دن کے آتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کے تحت اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے ان مقامات سے جن مقامات میں وہ مرنے کے بعد داخل ہوئے تھے یا داخل کئے گئے تھے اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہاں سے وہ اتنی تیزی کے ساتھ نکلیں گے گویا وہ بھاگنے کے لئے پہلے ہی تیار کھڑے تھے کہ ایک دو تین ہو اور وہ بھاگ کھڑے ہوں اور ایسا ہے کہ گویا ان کے لئے ایک نشان کھڑا ہے جس کی طرف بھاگ کر وہ وہاں پہنچ جائیں گے اور بلاشبہ وہ میدان حشر کی وہ جگہ ہے جہاں ان کا کھڑا ہونا مشیت خداوندی میں طے ہوچکا ہے اور وہ عین اس جگہ پر جا کر کھڑے ہوں گے اور یہ انجام ہے ان لوگوں کا جن کا ذکر گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے۔
Ayah 70:44ان کی نظریں جھکی ہوں گی ، ذلت چھائی ہوگی وہ دن ہے جس کا ان کو وعدہ دیا گیا ہے
44 ؎ اس وقت تو جب ان کو سیدھی بات بتائی جاتی ہے تو وہ منہ نوچنے کو آتے ہیں اور اس طرح اکڑ کر اترا کر بولتے ہیں کہ یہ ساری دنیا کا زور ان ہی کے سینہ کے اندر ہے اور یہ بات کرتے ہیں تو آستینیں چڑھاتے ہیں ، بولتے ہیں تو گرجتے ہیں ، بات کرتے ہیں تو کڑک کر لیکن جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو ان کی گرج اور کڑک سب ہوا ہوچکی ہوگی اور ان کی حالت اس طرح ہوگی کہ آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھائی ہوگی ، چہرے سیاہ پڑچکے ہوں گے ، ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بن چکی ہوگی اور یہ وہی دن ہے جس کا ان کو دنیا میں وعدہ دیا جاتا تھا تو یہ لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اور جب اس دن سے ان کو ڈرایا جاتا تھا تو اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان لوگوں کی دونوں حالتوں کو پیش نظر رکھ کر اگر کوئی اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو کرلے۔ ابھی تک ان لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں زندہ ہیں ان کی اصلاح کے لئے موقع موجود ہے اور جو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے وہ بھی ان ہی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ اسی مضمون پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین۔