69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 69:1

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ (جس کو) واقع ہونا ہے

وہ ہو کر رہنے والی ہے (الحاقۃ) 1 ؎ (الحاقۃ) کا اصل مادہ ح ق ق ہی ہے اور (الحاقۃ) کے معنی ہی حق ہونے والی ، ثابت ہونے والی حق سے جس کے معنی حق اور ثابت ہونے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث اور مراد اس سے روز قیامت ہے۔ دنیا میں ہرچیز کا جب شروع ہے تو آخر بھی ہے اور کوئی چیز ابھی آپ بیان نہیں کرسکتے کہ اس کا شروع ہو اور آخر نہ ہو۔ ایک ذات واحد مانی گئی ہے لیکن اس کا نہ شروع ہے اور نہ آخر اور وہ خالق ہے لیکن مخلوق نہیں۔ اس لئے اس ذات خداوندی کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے مخلوق بھی ہے اور اس کا شروع بھی ہے اور اگر شروع ہے تو آخر لازم ہے کیونکہ شروع سے آخر دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اس کائنات کے نظام کا کوئی شروع ہے اور یقینا اس کا کوئی آخر ہونا بھی ضروری اور لازم اور اسی کو (الحاقۃ) کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ازیں اور بھی بہت سے نام ہیں اور ہم نے غزوۃ الوثقی جلد ششم میں سورة الانبیاء کی آیت 49 کے ضمن میں ان ناموں کی تفصیل بیان کردی ہے ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 69:2

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

وہ واقع ہونے والی کیا ہے ؟

وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے ؟ (ما الحاقۃ) 2 ؎ کسی چیز کی اہمیت کے پیش نظر اس طرح کا بیان دیا جاتا ہے اور مراد اس سے سامع کو چوکنا اور ہوشیار کرنا ہوتا ہے اور اس جگہ اس کے ہولناک ہونے پر دال ہے کیونکہ دہشت اس کی کوئی معمولی چیز نہیں ہے اور اس عالم کا سارا نظام بدل دینا کوئی معمولی بات نہیں ہوگی اتنے اتنے بڑے تارے سیارے اور چاند و سورج جس کا حجم ہمارے اس زمین سے بھی بڑا ہے ان سب کا فنا ہونا اور گرنا کیا کوئی معمولی بات سمجھی جاسکتی ہے اگر نہیں اور فی الواقع وہ معمولی بات بھی نہیں ہوگی بلکہ (شیء عظیم) ہوگی اور ایک بہت بڑے زلزلہ کی صورت میں نمایاں ہوگی اور پھر صرف ہلاکر ہی نہیں چھوڑ دے گی بلکہ اس سارے نظام کو تہس نہس کر کے رکھ دے گی۔
Ayah 69:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تجھ کو کیا خبر کہ وہ واقع ہونے والی کیا ہے ؟

اور آپ کیا جانیں کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے ؟ 3 ؎ (وما ادراک) کا مخاطب ہر ایک انسان ہے اور خصوصاً وہ انسان جو اس کی ٹوہ میں ہے کہ وہ معلوم کرے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ کس طرح تم کو باور کرایا جاسکتا ہے کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے۔ کبھی تم نے ایک جان کے جانے کی صورت حال کو دیکھا ہے۔ پھر وہ کیا ہے جو چلی جاتی ہے اور کیسے چلی جاتی ہے ، پھر کہاں چلی جاتی ہے۔ بس اس کو آپ اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ وہ ہو کر رہنے والی یعنی قیامت واقع ہو کر رہے گی اور اس لم اور کہنہ سے نہ تم کو بتائی جاسکتی ہے اور نہ ہی تم اس کو جان سکتے ہو اور اس طرح بہت سی چیزیں اور بھی ہیں کہ ان کا ہونا یقینی ہے اور وہ ہوتی ہیں لیکن کیوں اور کیسے کا جواب تم نہیں دے سکتے اور ان کے ہونے ہی سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اور یہی حال اس وارد ہونے والی کا ہے جو قرآن کریم میں بیسیوں ناموں سے یاد کی جاتی ہے۔
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود و عاد نے اس دل ہلا دینے والی (گھڑی) کو جھٹلایا

ثمود اور عاد نے اسی دل ہلا دینے والی گھڑی کو جھٹلایا 4 ؎ قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) اور قوم عاد کی طرف ہود (علیہ السلام) نبی بنا کر مبعوث کئے گئے ۔ ان دونوں نبیوں کی سرگزشت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قوم کو انہوں نے کیا درس دیا اور قوم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ زیر نظر آیت میں ان کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے بھی قیامت کے بپا ہونے کا انکار کیا اور پھر انکار کرتے ہی چلے گئے ان کی نبیوں نے ان کے سامنے قیامت کی تفصیلات رکھیں لیکن انہوں نے جھٹلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور اپنے نبیوں کی مخالفت ہی کے باعث ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ اوپر کے ذکر میں قیامت کو (الحاقۃ) کے نام سے یاد کیا گیا اور اس جگہ قیامت کو (القارعۃ) کا نام دیا گیا اور یہ بات ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ قیامت کے نام قرآن کریم میں بیسیوں مذکور ہیں اس لئے ان ناموں میں سے کسی نام سے بھی اس کو یاد کیا جاسکتا ہے اور (القارعۃ) کے معنی ایک سخت چیز کے دوسرے سخت چیز کے ساتھ ٹکرانے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو نظام کائنات درہم برہم ہوگا اور اس حالت میں ایک چیز کے دوسری چیز کے ساتھ ٹکرانے سے کون انکار کرسکتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ قیامت پر ایمان لانے کا حکم سب قوموں کو ایک جیسا تھا اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت پر ایمان لانا اتنی بڑی اہمیت کیوں رکھتا ہے۔ یہ اہمیت اس لئے ہے کہ انسان کی اصلاح کا دارومدار اس کو صدق دل کے ساتھ ماننے پر ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آجاتے ہیں اور اس کی یاد میں بڑے پرسکون رہتے ہیں اور جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے کبھی باز نہیں آتے۔ جن لوگوں کے نزدیک قبر کا تاریک اور خاموش گڑھا زندگی کی آخری منزل ہے وہ قدم قدم پر پھسلتے ہیں اور نفس امارہ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑتے ہیں اور سنبھلنے کے لئے ان کے پاس کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ وہ ایک بار راہ راست سے بھٹک گئے تو بس سیدھے جہنم رسید ہوگئے۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

پس ثمود تو ایک سخت (دہشت ناک) آواز سے ہلاک کردیئے گئے

پس ثمود تو ایک سخت آواز سے ہلاک کردیئے گئے 5 ؎ (طاغیۃ) نافرمانی۔ حد سے نکل جانے والی آواز یہ یا تو مصدر ہے اس صورت میں اس کے معنی خدا کی نافرمانی میں حد سے آگے بڑھ جانے کے ہیں یا صفت ہے یعنی حد سے بڑھ جانے والی۔ اس صورت میں طغیان سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث ہوگا۔ امام فخر الدین رازی (رح) تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں (طاغیۃ) کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ اول یہ کہ (طاغیۃ) ایسا واقعہ ہے جو شدت و قوت میں حد سے بڑھ گیا ہو اور کہا جاتا ہے کہ (طاغیۃ) کسی محذوف کی صفت ہے اور محذوف کیا ہے اس میں اختلاف ہے۔ بعض محذوف صحیحہ کو مانتے ہیں گویا وہ ایسی چنگھاڑ تھی جو بہت سی چنگھاڑوں سے قوت و شدت میں بڑھی ہوئی تھی اور بعض نے محذوف رجفۃ تسلیم کیا ہے اور بعض نے (صاعقۃ) بجلی کی کڑک تھی جو حد سے بہت بڑھی ہوئی تھی اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم میں ثمود کی ہلاکت کے سلسلہ میں جو عذاب ان کو دیا گیا اس کو کہیں (الرجفۃ) کہیں (الصیحۃ) اور کہیں (الصاعقۃ) کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے اور زیر نظر آیت میں (الطاغیۃ) کا لفظ بھی آگیا اور اس لئے دوسرے سارے الفاظ اس کی صفت تسلیم کر لئے گئے اور صحیح یہی ہے کہ اس عذاب پر یہ سب نام لئے جاتے ہیں اور لئے جاسکتے ہیں اور ان کی تعبیرات بھی الگ الگ سمجھی جاسکتی ہے اگرچہ مراد سب کی ایک اور صرف ایک ہے۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد کو بھی ایک نہایت تند و تیز آندھی سے تباہ و برباد کردیا گیا

عاد کو بھی ایک نہایت تند و تیز آندھی سے تباہ و برباد کردیا گیا 6 ؎ یہ بات تو قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ قرآن کریم میں قصص بیان کرتے وقت اس بات کا بالکل لحاظ نہیں کیا جاتا کہ تاریخی طور پر ان واقعات میں سے پہلے کون سا واقعہ ہے اور پچھلا کونسا اس لئے کہ یہ کتاب نصیحت پذیری کے لئے ہے نہ کہ تاریخی بیانات کے لئے۔ یہ بات اس لئے کہی گئی ہے کہ اکثر قرآن کریم میں عاد کا ذکر پہلے ہے اور ثمود کا بعد میں اور تاریخ میں یہ بات طے ہے کہ عاد پہلے تھے اور ثمود بعد کے اس لئے کہ ثمود عاد کے بقیہ لوگوں کو کہا گیا ہے جو ہلاکت سے بچ گئے تھے لیکن اس جگہ اور بعض دوسرے مقامات پر بھی ثمود کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور عاد کا بعد میں اور یہ بات کوئی تنقید کی نہیں ہے اور نہ ہی اس میں تاریخ کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بہرحال زیر نظر آیت میں عاد کی ہلاکت کا بیان ہے کہ ان کو ایک سخت تیز اور تند آندھی نے تہس نہس کردیا تھا۔ باد صر صر تو سخت آندھی کو کہا ہی جاتا ہے لیکن زیادہ رجحان یہی ہے کہ یہ سخت آندھی ہے لیکن سردی میں چلنے والی جس میں سردی کی بہت بہتات ہو یہاں تک کہ سردی کے باعث وہ درختوں اور فصلوں کو جلا دے اور یہ وہی ہے جس کو بعض جگہ (صر) کے لفظ سے بھی ادا کیا گیا ہے گویا (صر) کہیں یا (صرصر) دونوں نام نہایت ٹھنڈی اور یخ ہوا کے ہیں جو ہرچیز کو جما کر رکھ دے لیکن بعض نے (صر) سے گرم لو مراد لی ہے۔ (صرصر) سے سخت سرد ہو اور مفہوم دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے کہ ان کو جلا کر یا بھون کر رکھ دیا گیا خواہ وہ سخت سردی کے باعث تھا یا سخت گرمی کے باعث۔ مطلب واضح ہے کہ عاد قوم کو سخت سرد اور تند ہوا نے ہلاک کر کے رکھ دیا۔ (عاتیۃ) حد سے نکل جانے والی نافرمان۔ عتر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث اس جگہ عاتیۃ باد صر صر کی صفت ہے جو قوم عاد کی سرکشی کی پاداش میں بصورت عذاب بھیجد گئی تھی۔ گویا عاد کے خلاف اس ہوا نے سرکشی کی تھی کہ وہ اس کو روک نہ سکے بلکہ الٹا اس نے ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ہم انشاء اللہ العزیز قوم ثمود اور قوم عاد پر سورة فجر میں وضاحت سے کچھ تحریر کریں گے۔
Ayah 69:7

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

جس (آندھی) کو اللہ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن تک متواتر مسلط رکھا ، پھر تو (اے پیغمبر اسلام ! ) ان لوگوں کو دیکھتا تو وہ ایسے تھے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں وہ بھی کٹے پڑے

اس ہوا کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط رکھا 7 ؎ عاد قوم پر اس ہوا کا عذاب ایک دو گھنٹہ نہیں رہا بلکہ مسلسل رات اور آٹھ دن تک یہ برابر چلتی رہی اور اس طرح اس ترتیب سے بیان کر کے اس بات کی وضاحت کردی کہ اس عذاب کا شروع صبح کو ہوا اور اختتام رات کے وقت ہوا۔ مثلاً ہفتہ کے صبح کو چلی اور آنے والے ہفتہ کی شام کو ختم ہوئی اور اس طرح آٹھ دن اور سات راتیں ہوگئیں گویا جس روز ان پر عذاب نازل ہونا شروع ہوا اسی روز صبح سے شروع ہو کر آئندہ آنے والے اسی روز شام تک مسلسل عذاب جاری رہا اور یہ آندھی کیا تھی کہ عذاب خداوندی تھا اور عذاب بھی ایسا کہ اس نے قوم عاد کے مکانوں ، کھیتوں ، باغوں سب کو جڑوں سے اکھیڑ کر رکھ دیا اور کوئی چیز باقی نہ چھوڑی۔ (حسوما) سخت نہس ، جڑ سے کاٹنے والے ، جڑ سے کاٹ دینا۔ عرب کے محاورے میں جو نحوست جڑ سے اکھیڑ دے ” حسوم “ کہلاتی ہے اور یہ حسم یحسم کا مصدر بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی جڑ سے کاٹ دینے اور زخم کے مسلسل داغ دینے کے ہیں اور حاسم کی جمع بھی ہو سکتی ہے جو اسم فاعل کا صیغہ ہے جیسے شاھد کی جمع شھود ہے۔ تو دیکھتا تھا یا تو سنتا تھا کہ وہ ان دنوں میں گرے پڑے ہیں۔ گویا کہ وہ کھجور کے تنے ہیں کٹے پڑے جن کو کاٹ کاٹ کر پودوں میں الگ الگ کردیا گیا ہو۔ ہماری زبان میں ان کو ” مڈھ “ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور (خاویۃ) کے معنی ہیں اندر سے کھوکھلے ہوجانا اور یہ اعجاز نخل کی صفت بیان ہوئی ہے گویا وہ کھجور کے ایسے تنے تھے جو اندر سے کھوکھلے ہوچکے تھے اور کھجور اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہو تو صحیح وسالم بھی نہیں رہتی بلکہ وہ کئی حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے گویا ان کو کاٹا نہیں گیا یہ گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے کیونکہ اندر سے بالکل کھوکھلے ہوچکے تھے۔
Ayah 69:8

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

پھر کیا تو نے ان میں سے کسی کو بچا ہوا دیکھا ؟

کیا آپ نے ان میں سے کسی ایک کو باقی بچا ہوا دیکھا ہے ؟ 8 ؎ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی پوری نسل کی نسل ہی کو ختم کردیا گیا اور ان میں اس وقت ایک بھی باقی نہ بچا جو ان کے کردار و اخلاق کا ہو اور وہی لوگ باقی بچے جو اس وقت کے رسول سیدنا ہد (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تھے۔ ہم نے (لھم) سے مراد ان کی نسل یعنی حسب و نسب مراد نہیں لیا بلکہ ان کے پیروکار ہی مراد لئے ہیں کہ جس کردار و اخلاق کے وہ مالک تھے اس کردار و اخلاق کے لوگوں میں سے ہم نے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور یہ بات ہم نے اس لئے کی ہے کہ قوم ثمود کے لوگ دراصل حسب و نسب کے لحاظ سے قوم عاد ہی کے لوگ تھے لیکن یہ سیدنا ہود (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی وقت وہاں سے کسی دوسرے علاقہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا اور یہ لوگ وہاں سے ہجرت کر کے نکل گئے تو باقی رہنے والوں کو غرق کردیا گیا اور ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا۔
Ayah 69:9

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے وہ لوگ جن کی بستیاں الٹ دی گئی تھیں سب ہی خطاکار تھے

فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور اٹھائی گئی بستیوں والے سب ہی خطاکار تھے 9 ؎ فرعون مصر کے بادشاہ کا لقب تھا کہ جو شخص بھی اس دور میں مصر کے تخت پر تخت نشین ہوتا تھا اس کو فرعون کہا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور جس کے دور میں مدین سے واپس آ کر مصر میں بطور نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے دونوں کو فرعون ہی کہا گیا ہے اگرچہ وہ دو مختلف شخصیتیں ہوں کیونکہ اس بات کا زیادہ احتمال ہے اور فرعون سے پہلے کے لوگوں میں وہی قومیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے عاد ، ثمود ، لوط (علیہ السلام) کی قوم ، ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور بہت سی قومیں گزر چکی تھیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے اور تاریخ بھی ان کی وضاحت پیش کرتی ہے اور الٹائی گئی بستیوں والوں سے مراد سیدنا لوط (علیہ السلام) ہی کی قوم اور ان کی بستیاں مراد لی گئی ہیں اور اس جگہ ان کے اس بیان سے مقصود یہی ہے کہ جب فرعون اور اس سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے اور ان الٹے ہوئے شہروں اور بستیوں کے مکینوں نے جان بوجھ کر بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا تو ہم نے ان پر اپنا عذاب بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ ان سب نے غلطیوں کا ارتکاب کیا اور انہوں نے جو غلطیاں کیں جان بوجھ کر کیں نہ کہ ان سے خطاء ہوئیں۔
Ayah 69:10

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو ایسی مصیبت میں مبتلا کیا جو بڑھتی ہی چلی گئی

انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا 10 ؎ انہوں نے اپنے اپنے رسول کی نافرمانی کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان قوموں کی طرف ہر ایک قوم میں ایک رسول بھیجا گیا اور ان ساری قوموں نے اپنے اپنے رسول کی نافرمانی کی اور ان کی نصیحتوں کی کچھ پروا نہ کی جس کا نتیجہ ہر بار یہی ہوا کہ جب ان میں سے ہر قوم کو دی گئی مہلت ختم ہوئی تو اس قوم کو غرق کر کے رکھ دیا گیا اور ان پر جو عذاب بھی بھیجا گیا ایک سے ایک بڑھ کر تھا۔ (رابیۃ) کے معنی اس جگہ سخت کے ہیں یا آگے بڑھنے کے ہیں اور یہ ربو سے ہے جس کے معنی بڑھنے اور زائد ہونے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤـنث ہے۔ ایک طرح کا سنت اللہ کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ شروع سے سنت اللہ چلی آرہی ہے کہ جس قوم کے پاس بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول بھیجا اس قوم کی اکثریت نے اس رسول کو مخالفت ہی کی لیکن مخالفین کو فوراً مخالفت کرتے ہی پکڑ نہیں لیا گیا بلکہ ان کو کافی مہلت دی گئی اور جب انہوں نے اس مہلت سے فائدہ حاصل نہ کیا تو آخر کار ان کو پکڑ لیا گیا اور ایسا پکڑا گیا کہ ان کو تہس نہس کردیا گیا اور یہ بات مکہ والوں کو بتائی جا رہی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو انجام کار ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو گزشتہ قوموں کے ساتھ ہوا۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا

جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا 11 ؎ قوم فرعون اور اس سے پہلی قوموں کی طرف اشارہ کیا تھا اور پہلی قوموں کے بعض ناموں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ اب قوم نوح کا ذکر اشارتاً کیا گیا ہے کیونکہ طغیانی جو آئی تھی وہ نوح (علیہ السلام) ہی کی قوم پر آئی تھی اور نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کے لئے جو کشتی تیار کروائی گئی تھی اس کشتی پر ان کو سوار کر کے اس طوفان سے بچالیا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس (واقعہ) کو ہم تمہارے لیے باعث نصیحت بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں

اس واقعہ کو ہم نے تمہارے لئے باعث نصیحت بنا دیا اور یاد رکھنے کی ایک بات 12 ؎ اس واقعہ کو بعد میں آنے والی قوموں کے لئے ایک نصیحت بنا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ قوم اپنے نبی و رسول کی جب مخالفت کرے اور مخالفت کرتی ہی چلی جائے اور حق کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرے تو پھر اس بات کا لحاظ نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف پوری قوم ہے اور دوسری طرف چند نفوس ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ان چند نفوس ہی کے لئے سہارے کا باعث ہوتی رہی ہے اور ان کے مقابلہ میں پوری کی پوری قوم کو تباہی کے گڑھے میں دبا دیا جاتا رہا ہے اور اب بھی یہی کچھ ہوگا جو پیچھے سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ (تعیھا) اور (واعیۃ) دونوں کا مادہ و ع ی ہے۔ (تعیھا) وہ اس کو یاد رکھے تعی وعی سے جس کے معنی یاد رکھے اور نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس میں نگاہ رہے کہ کشتی میں سوار ہونے والے اہل مکہ نہ تھے اور مخاطب اس جگہ ان ہی کو کہا گیا ہے کیونکہ کشتی میں بچائے جانے والے ہی ان کے آبائو اجداد تھے اور یہ بھی کہ ان کی داستان آج تک زبان زد خاص و عام ہے۔
Ayah 69:13

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پھر جب صور میں ایک پھونک مار دی جائے گی

پھر جب ایک بار صور میں پھونک ماری جائے گی 13 ؎ (نفخ صور) کا لفظ قرآن کریم میں دس بار ذکر کیا گیا ہے اور اس کو قیامت کے آنے اور میدان حشر میں حاضر ہونے کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ (صور) کے لفظی معنی نر سنگھا کے ہیں۔ اس کی اصل یہ ہے کہ قدیم الایام بابلیوں ، کنعانیوں ، آرامیوں اور عبرانیوں وغیرہ تمام پرانی قوموں میں بادشاہی جلال و جلوس اور اعلان جنگ کے موقع پر نر سنگھا پھونکا جاتا تھا اور اس کو لوگ بگل بجانے سے تعبیر کرتے ہیں یا وہ بھی اس طرح کی علامت کے لئے بجایا جاتا ہے۔ بہرحال نر سنگھا پھونکنا شاہی جلال کے اظہار کے باعث ہے یا غیر معمولی خطرہ کا نشان ہے اور اس کو اعلان سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس مقصد کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے اس کی وضاحت غزوۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 73 ، جلد پنجم سورة الکھہف کی آیت 99 ، سورة طہ کی آیت 102 ، جلد ششم سورة المومنون کی آیت 101 ، سورة النمل کی آیت 87 ، جلد ہفتم سورة یٰسین کی آیت 51 ، سورة الزمر کی آیت 68 ، جلد ہشتم سورة ق کی آیت 20 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 69:14

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور (اچھی طرح سن لو اور یاد رکھو کہ) زمین اور پہاڑ اٹھائے جائیں گے پھر یکبارگی ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے

زمین اور پہاڑ اٹھائے جائیں گے پھر یکبارگی ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے 14 ؎ (حملت) وہ اٹھائی گئی۔ وہ اٹھائی جائے گی۔ حمل اور جمل سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ اگر آپ غور کریں گے تو یہ ایک لفظ (حملت) کا زمین کی ہیئت کذائی اور اس کی ساری حقیقت کی وضاحت کے لئے کافی ہے اور یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس طرح فضا کے اندر دوسرے سیارے چلتے پھرتے اور گھومتے ہم کو نظر آ رہے ہیں اس طرح یہ ہماری زمین بھی چکر کھا رہی ہے جو اس طرح کا ایک سیارہ ہے اور جس طرح دوسرے سیارگان سورج ، چاند وغیرہ ہم کو اٹھائے گئے نظر آتے ہیں اسی طرح ہماری زمین بھی بعض جگہوں سے نظر آتی ہوگی اور جس طرح اس زمین میں پہاڑ گاڑے گئے ہیں ان میں بھی یقینا گاڑے گئے ہیں خواہ وہ پہاڑ ایسے ہی ہیں یا اس سے مختلف بہرحال چاند سے پتھروں کا لانا روشنی میں آچکا ہے اگرچہ ابھی وہاں کی آبادی کی تصدیق نہیں کی جاسکتی لیکن قرآن کریم میں ایسے اشارات پائے جاتے ہیں جن سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ وہاں آبادی ضرور ہے خواہ وہ چاند میں ہے یا دوسرے سیاروں میں یا سب میں۔ اور جب زمین یہ اٹھا لی جائے گی تو ظاہر ہے کہ اس کے پہاڑ بھی اس کے ساتھ ہی اٹھا لئے جائیں گے اور پھر ان کے باقی رہنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ (قد کتادکۃ) وہ دونوں توڑ دی جائیں گی۔ دونوں سے مراد کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ آیت زیر نظر میں پہاڑوں اور زمین دونوں کا ذکر ہے اس لئے اس سے مراد یہی دونوں لئے جاسکتے ہیں یعنی زمین اور پہاڑ اور دک کے معنی ریزہ ریزہ کرنے کے کئے جاتے ہیں اور دکتادک سے ماضی مجہول کا صیغہ تثنیہ مؤنث غائب ہے اور دوسری جگہ اس کے نشیب و فراز کے ختم ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین کو ہموار کر کے ایک نئی زمین بچھائی جائے گی اور اس میں کوئی بلندی ، کوئی پستی ، کوئی ٹیلہ ، کوئی گڑھا باقی نہیں رہے گا اور ظاہر ہے کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان دونوں کو یعنی زمین کو اور زمین کے اندر کے پہاڑوں کو ایک بار ریزہ ریزہ کر کے اڑا دیا جائے اور یہ بات آنے والی سورتوں میں بہت وضاحت سے کہی گئی ہے۔
Ayah 69:15

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

پس اس وقت جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہوجائے گی

پس اس وقت جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہوجائے گی 15 ؎ یہی وہ دن ہے یعنی جس دن کو زمین اور آسمان دونوں کو اٹھا لیا جائے گا کہ وہ جس کو واقع ہونا ہے وہ واقع ہوجائے گی۔ مکہ والوں کو اس کے ہونے اور جس طرح اس کو ہونا ہے اس کی وضاحت بتائی جا رہی ہے اور اس سے سارے انسانوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی انفرادی زندگی سے اس کی حقیقت کا سراغ پا لیں کہ وہ ہر انسان کی اپنی موت ہی کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہے اس لئے کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے اٹھا لیا جاتا ہے تو اس کو دوبارہ واپس اس دنیا میں نہیں بھیجا جاسکتا اور جب وہ واپس نہیں آئے گا تو ظاہر ہے کہ وہ اسی روز اٹھے گا جو روز اس کے اٹھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور وہ وہی حشر کا روز ہے اور اس واقع ہونے والی کے واقع ہونے کی وضاحت ہم نے سورة الواقعہ کے شروع میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور سورة الواقعہ غزوۃ الوثقی کی جلد ہشتم میں آئی ہے۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا پھر اس دن وہ بالکل بودا نظر آئے گا

آسمان پھٹ جائے گا اور اس روز وہ بالکل بودا ہو گا 16 ؎ (واھیۃ) اسم فاعل واحد مؤنث وھی مصدر۔ معنی ہیں کمزور ، بوسیدہ ، پھٹا ہوا۔ آسمان کی بوسیدگی کیا ہے ؟ فراء نے کہا کہ : وھیھا یشققھا آسمان کی بوسیدگی اس کے پھٹنے سے ہے اور پھٹنے سے مراد بوسیدگی ہے کیونکہ بوسیدہ چیز معمولی ضرب سے بھی پھٹ جاتی ہے یا پھٹنا شروع ہوجاتی ہے اور وھی مصدر ہے پھٹ جانا۔ اس کا بند کمزور ہوجانا۔ ڈھیلا پڑجانا اور اسی طرح ابر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ آسمان پھٹ جائے گا۔ اس پر ظاہر ہے کہ تعجب کا ہونا ضروری تھا اس لئے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ وہ بہت بوسیدہ ہوچکا ہوگا۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ بوسیدہ ہو رہا ہے اور جب حکم الٰہی اس کے پھٹنے کا آجائے گا تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ قرآن کریم نے ان کے بنانے اور ختم ہونے پر سائنس کی زبان میں بات نہیں کی لیکن ایک جگہ بھی ایسی نہیں چھوڑی جس جگہ اس طرح کے استعارات نہ استعمال کئے ہوں جن استعارات سے آج کی تحقیق کی گئی باتوں کی پوری وضاحت انسان کے سامنے آجاتی ہے۔ ہمیں افسوس سے بار بار عرض کرنا پڑتا ہے کہ یہ کام مسلم سائنس دانوں کے کرنا کا تھا جو سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے علوم کے بھی حامل ہوتے اور جو ترقی اس سلسلہ میں وہ کرسکتے ہیں دوسرے کسی حال میں بھی نہیں کرسکتے۔ اب بھی زمانہ ان کے انتظار میں ہے کہ وہ اٹھیں اور قرآن کریم کے ان استعارات کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں اس لئے کہ جو کچھ ہوا ہے لاریب وہ تعجب خیر ہے لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے اور اس وقت گویا اس کی ابتدا ہے انتہا نہیں لیکن افسوس کہ مسلم راہنمائوں اور مسلم مذہبی اجارہ داروں نے مل کر سائنسی علوم کو مسترد کردیا۔ علمائے اسلام کی اکثریت نے اس کو کفر قرار دیا اور اس کے قریب پھٹکنا جرم عظیم بتایا اور ظاہر ہے کہ جب ایک گروہ نے نفرت کی تو دوسرے نے اس سے زیادہ نفرت میں آگے بڑھنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میں اب اتنا بعد ہوگیا کہ شاید وہ ابھی مزید سو سال تک ایک دوسرے کے قریب نہ جائیں لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت ہی بدقسمتی کی بات ہوگی۔ ایسے لوگوں کو معاش سے فارغ کرنا اور ان کو وسائل مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں سے بہت بڑی ذمہ داری ہے اگر اس کے ساتھ اسی طرح بےرخی برتی گئی تو بہت بڑا ظلم ہوگا اور پھر ظلم کا نتیجہ پہلے کب بہتر نکلا ہے کہ اب نکلے گا۔
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھا رہے ہوں گے

فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جبکہ حاملین عرش کی تعداد آٹھ ہو گی 17 ؎ (ارجائھا) کی اصل ر ج و ہے اور بعض نے ر ج ا بتائی ہے اور آسمان کا رحاء اس کا کنارہ ہے۔ (راغب) (ارجا) کا لفظ قرآن کریم میں صرف اسی جگہ ایک بار استعمال ہوا ہے اور کسی دوسری جگہ اس کا استعمال نہیں ہوا اور اس کے معنی و مفہوم کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : الا رجاء جمتع الرجا و ھو الجانب من کل شیء اس مادہ سے اور الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے ترجون ، ترجو ، ترجوھا ، یرجو ، یرجون ، ارجوا ، مرجوا ، ترجی ، ارجہ ، مرجون ، ارجائھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں عالم انسانی کی ہدایت اور راہنمائی کے اصول بتائے گئے ہیں اور انسانوں کی ذہنی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہیں بلکہ ان میں زمین و آسمان سے زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اتنی مختلف صلاحیتیں رکھنے والوں کے لئے الگ الگ ابواب قائم نہیں کئے تاکہ ہر ذہن اپنی صلاحیت کے باب سے فائدہ اٹھائے بلکہ اس کا پیرایہ انداز ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ ہر صلاحیت کا انسان اس سے مستفید ہو سکتا ہے اور یہی وہ کمال ہے جو دنیا کی کسی ایک آسمانی کتاب میں بھی نہیں ملتا اور مخلوق کی تالیفات و تصنیفات میں تو اس کے اہتمام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور قرآن کریم کے معجزات میں سے یہی وہ معجزہ ہے جو اول سے آخر تک ہر انسان کے لئے زندہ و تابندہ ہے اور یہی وہ راز ہے جس کے باعث کوئی کلام اس کلام کے مشابہ نہیں ہو سکتا۔ اس جلد یہ بات اس لئے عرض کرنا پڑی کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق قوتوں میں سے بعض قوتوں کا نام ہے اور جس طرح کوئی قوت بھی واضح طور پر بتانا مقصود ہو تو اس کے لئے ایک پیرایہ انداز اختیار کرنا پڑتا ہے یہ یہاں بھی کرنا پڑا اور ان میں سے بعض فرقوں کے نام رکھ دیئے گئے ہیں تاکہ ان کی پہچان اور ان کے کاموں کی شناخت ہو سکے جس کو جبرئیل وحی لانے والے فرشتہ ملک الموت ، جان نکالنے والے فرشتہ کے ناموں سے تعبیر کیا جاتا ہے اسی طرح ملائکہ کا تعلق آسمان سے معروف ہے اور اسی طرف کے مطابق جب آسمانوں کے پھٹنے کا ذکر آیا تو لوگوں کی تفہیم کے لئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائیں گے تو فرشتے کناروں کی طرف چلے جائیں گے اس سے یہ بحث پیدا کرنا کہ کیا کنارے آسمان کے قائم رہیں گے اور رہیں گے تو کتنے کتنے ہوں گے اور آسمان کہاں تک پھٹے گا ؟ اس طرح کی بحثیں بےفائدہ اور فضول ہیں۔ پھر جیسا کہ اس نظام کے چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی وضاحت تفہیم ہی کے لئے کرائی گئی کہ بادلوں کو ہانکنے والی ہوائوں کو چلانے والے ، گرمی کی تمازت کو بڑھانے اور کم کرنے والے ، بارش برسانے والے ، احکام الٰہی کو ان قوتوں کی طرف منسوب کر کے سمجھا یا گیا تھا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو پوری طاقت و قوت کے ساتھ دوسرے نظام کو چلانے کا ذکر کرنا مقصود تھا اور یہ تخیل بھی دیا گیا ہے کہ اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے عرش الٰہی کے حامل چار فرشتے ہیں اور اس طاقت و قوت میں مزید اضافہ ثابت کرنے کے لئے اس نظام کو ختم کرکے دوسرا انتظام کرنے کے لئے چار کی بجائے آٹھ فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے اور ہر ذہن و دماغ میں یہ بات واضح ہوجائے کہ اس دنیا کے جو انتظامات کئے گئے ہیں ان سے دوگنا انتظام ہوں گے اور اس طرح سب کے لئے سمجھنا آسان ہوگیا۔ کسی عام سطحی ذہن کے آدمی کو بھی کوئی بات باور کرانا ہو تو کسی ایک انتظام کو اس کی آنکھوں کے سامنے لا کر اگر اس کو کیا جائے کہ یہ انتظام جو آپ دیکھ رہے ہیں ہم جو انتظام کریں گے وہ اس سے دوگنا ہوگا تو اس کی سمجھ میں اس آنے والے انتظام کا ایک نقشہ مر قسم ہوجائے گا اور یہی ذہن نشین کرانا مقصود اصل ہے۔ رہا فی نفسہٖ عرش اور استویٰ علی العرش اور حاملین عرش تو یہ سب کے سب استعارات ہیں جو محض تفہیم کے لئے اختیار کئے گئے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے لئے ہاتھ ، پائوں اور چہرے کا ذکر بھی کتاب و سنت میں آیا ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ لیس کمثلہ شی۔ لا مثل لہ ولا مثال لہ۔ لا ضدلہ ولا تدلہ تو اس سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہونے سے مراد اس کی طاقت و قوت کا اظہار ہے اور اس کی تفہیم کے لئے یہ سب استعارات ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ شکل و صورت سے پاک ہے اور اس کا تصور کرنا کہ ایسا ہوگا ، ابتدائے شرک ہے اور شرک سب ظلموں سے بڑا ظلم ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے آپ غزوۃ الوثقی جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 54 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 129 ، سورة یونس کی آیت 2 ، سورة الرعد کی آیت 3 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 42 ، سورة طہ کی آیت 5 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 22 ، سورة المؤمنون کی آیت 86 ، 116 ، سورة الفرقان کی آیت 59 ، سورة النمل کی آیت 26 ، جلد ہفتم سورة السجدہ آیت 4 ، سورة الزمر کی آیت 75 ، سورة غافر کی آیت 7 ، 15 ، جلد ہشتم 82 جلد ہذا سورة الحدید کی آیت 4 میں اس کی وضاحت کرا دی گئی ہے ان مقامات کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس دن تم (اللہ کے سامنے) حاضر کیے جاؤ گے ، تمہاری کوئی بات بھی چھپی نہ رہے گی

اس دن تم اللہ کے سامنے حاضر کئے جائو گے ، تمہاری کوئی بات چھپی نہیں رہے گی 18 ؎ گزشتہ سارے استعارات و اشارات کا ماحصل بیان کیا جا رہا ہے کہ اس نظام کو درہم برہم کرنے کے بعد جب نیا نظام قائم کیا جائے گا اور وہ نظام اس نظام سے بہت بڑا اور بہت ہی مضبوط نظام ہوگا اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور دنیاوی زندگی میں تم نے جو کچھ کیا ہوگا وہ سب کا سب تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا اور تمہاری کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رہے گی اور جو کچھ تم کرنے کے بعد بھول چکے ہو گے اور جو کچھ تمہاری یادداشت میں موجود ہوگا وہ سب کا سب تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ گویا جس وقت تم جہاں رہ کر بھی کوئی حرکت کر رہے تھے وہ ساری حرکات و سکنات تمہاری آنکھوں کے سامنے پیش کردی جائیں گی اور کوئی بات بھی مبہم اور غیر واضح نہیں ہوگی۔ زیر نظر آیت نے گزشتہ ساری آیات کریمات اور سارے اشارات و استعارات کی حقیقت کو تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا اور اس بات کی خبر دے دی کہ اس زندگی میں تم نے بہت موج و بہار دیکھی لیکن اس ساری موج و بہار کا ستیاناس ہوجائے گا اگر تم آخرت کی زندگی میں فیل ہوگئے۔ (خافیۃ) کی اصل خی ہے اور یہ لفظ بعینہٖ قرآن کریم میں ایک ہی بار آیا ہے۔ چھپنے والی ، پوشیدہ ہونے والی ، راز اور بھید کی بات۔ اسم فاعل کا صیغہ اور مؤنث ہے۔ تمہاری ساری چھپی ہوئی اور راز داری میں کی ہوئی باتیں تمہارے سامنے کھول کر رکھ دی جائیں گی۔ اسی سے اشارہ نکل آیا کہ انسان کا سارا کیا کرایا اس کائنات کے اندر محفوظ ہے اور پھر ظاہر ہے کہ جب قرآن کریم نے اس کی حفاظت اور اس کے محفوظ ہونے کو واضح کردیا تو اب اگر انسان اس کوشش میں لگ جائے کہ وہ کس طرح محفوظ ہے اور کس طرح اس کو قابو میں لایا جاسکتا ہے تو یہ سو فیصد ممکن ہے اور اس سے اس آنے والے وقت کے لئے زبردست شہادت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور ایمان باللہ اور مضبوط ہو سکتا ہے بشرطیکہ کوئی اس ذہن کے ساتھ اس کی جستجو کرے۔
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

پھر جس کو اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا کہ آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو

جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ دوسروں کو پڑھنے کی دعوت دے گا 19 ؎ میدان حشر میں ہر انسان کا نتیجہ آئوٹ (Result Out) ہونے اور اس کے فیل اور پاس ہونے کی ایک ایسی علامت بیان کردی گئی کہ کروڑوں کیا اربوں ، کھربوں انسان ہوں تو بھی ان کا نتیجہ سناتے اتنی دیر لگے گی جتنا کہ ایک انسان کو اس کا مجمل نتیجہ بنانے پر صرف ہوتا ہے۔ نتیجہ کے مجمل سنانے اور مفصل سنانے میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ مجمل میں فقط فیل اور پاس کی علامت دی جاتی ہے اور مفصل میں ایک ایک پرچہ کی پوری وضاحت دی گئی ہوتی ہے کہ اس میں اتنے نمبر تھے اور امتحان دینے والے نے اتنے نمبر حاصل کئے ہیں۔ پھر نتیجہ پیش کئے جانے کی علامت کے طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ پاس ہونے والوں کے داہنے ہاتھ میں ان کا رزلٹ دیا جائے گا اور فیل ہونے والوں کے بائیں ہاتھ میں پھر اس جگہ ذکر نہیں لیکن سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کا نتیجہ لیٹر آن (Later On) ہوگا۔ وہ اعراف میں ہوں گے اور ابھی انتظار کرتے ہوں گے۔ بہرحال اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے کہ جب رزلٹ ان کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ ان کی مرضی کے مطابق نہیں پکڑایا جائے گا بلکہ اس وقت وہ اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی حرکت کر ہی نہ سکیں گے جن کے دائیں ہاتھ میں رزلٹ دیا جائے گا وہ دائیں ہی سے پکڑیں گے اور جن کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ بائیں ہی سے پکڑیں گے اور یہ بھی کہ اس کا خلاف نہیں کرسکیں گے۔ جن کے دائیں ہاتھ میں صحیفہ عمل پکڑا دیا جائے گا یہ گویا اس امر کی علامت ہوگی کہ یہ لوگ بحمد اللہ جنتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کے مستحق قرار پائے اور اس وقت ان کی خوشی اور مسرت کا کون اندازہ لگا سکے گا ؟ جتنی خوشی ہوگی اس کا اندازہ کون لگا سکتا ہے۔ وہ خوشی کے عالم میں اپنے جاننے والوں کو ، اپنے اعزہ و اقارب کو ، اپنے دوستوں اور یاروں کو پکاریں گے (ھاوم اقراء و اکتبیہ) کہ آئو میرا اعمال نامہ پڑھو اور دیکھو کہ میرا رزلٹ کیسا رہا ؟
Ayah 69:20

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے یقین تھا کہ ایک دن میرا نامہ اعمال مجھے ملے گا

مجھے یقین تھا کہ ایک روز مجھے نامہ اعمال ضرور ملے گا 20 ؎ (ظن) کے معنی بعض اوقات گمان اور شک کے ہوتے ہیں اور بعض اوقات یقین کے اور بعض اوقات علم کے معنوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں (ظن) شک اور گمان کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یقین یا کم از کم علم کے معنوں میں اس کو تسلیم کیا جاسکتا ہے جب اس کے رزلٹ اور نتیجہ اور نتیجہ کو دیکھیں گے تو وہ نہایت خوشی کے ساتھ کہے گا کہ مجھے پورا یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا اور بحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا اور میرے حال پر رحم فرماتے ہوئے مجھے کامیابی کی سند عطا فرما دی کہ آج مجھے دنیاوی دکھوں اور تکلیفوں کا محض ایک دھندلا سا تصور باقی رہ گیا کہ مجھے یہ کچھ دنیا میں پیش آیا اور فلاں فلاں نے میرے ساتھ یہ بدسلوکی کی اور دوسری جگہ اس کی وضاحت فرما دی کہ ان کے دکھ پہنچانے والوں کو جب بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا تو ان کا وہ دھندلا تصور بھی ختم ہو کر رہ جائے گا۔
Ayah 69:21

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ (آخرت میں) خاطر خواہ زندگی بسر کرے گا

پس وہ آخرت میں خاطر خواہ زندگی بسر کرے گا 21 ؎ (عیشۃ) زندگانی ، گزران ، عاش یعیش کا مصدر ہے جو باب ضرب سے آتا ہے اور جس کے معنی جینے کے ہیں اور بعض نے لکھا ہے کہ بروزن فعلۃ عیش سے بیان نوع کے لئے ہے۔ (غرائب القرآن ج 29 ص 34 برحاشیہ تفسیر ابن جریر طبری امام راغب (رح) فرماتے ہیں کہ عیش اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ حیاۃ سے اخص ہے کیونکہ حیاۃ کا استعمال ہر حیوان ، اللہ رب ذوالجلال والاکرام اور فرشتوں سب کے لئے یکساں ہے۔ (راضیۃ) پسندیدہ ، خوش ، من بھاتی ، راضی۔ رضی سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ ایسی زندگی جس پر وہ مکمل طور پر راضی ہوگا اور خوشی سے اس کو زندگی گزارنے کا موقع فراہم ہوگا اور جو اس کی چاہت ہوگی وہ پوری کی جائے گی۔
Ayah 69:22

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

وہ جنت کے عالی شان باغ میں ہو گا

وہ جنت کے عالی شان باغوں میں ہو گا 22 ؎ وہ باغات جو خاص ایسے لوگوں کے لئے لگائے گئے ہوں گے اور وہ باغات جن کا تذکرہ سورة الرحمن اور سورة الواقعہ میں مفصل گزر چکا ہے اور وہاں ان کے لئے بڑے بڑے عالی شان محلات تیار کئے گئے ہیں جن میں زندگی کی ہر طرح کی سہولتیں موجود ہیں اور یاد رہے کہ اہل جنت کے لئے دنیوی زندگی کی طرح کھانا کھانے کے بعد قضائے حاجت کی جو ضرورت پیش آتی ہے وہ صورت مطلق پیش نہیں آئے گی اور کھانے اور ہضم کا نظام دنیوی زندگی کی طرح نہیں ہوگا۔ اور اس کی وضاحت کے لئے غزوۃ الوثقی جلد ہشتم میں محولہ بالا دونوں سورتوں کی تفسیر کو دیکھنا مفید مطلب رہے گا۔
Ayah 69:23

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے 23 ؎ (قطوفھا) قطوف جمع ہے قطف واحد قطوف مضاف ھا ضمیر مضاف الیہ قطف درخت سے پھل توڑنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قطف وہ پھل جو درخت سے توڑے جائیں خواہ وہ توڑ لئے گئے ہوں یا توڑے نہ گئے ہوں بلکہ توڑے جانے کے قابل ہوں۔ زیر نظر آیت میں ایسے پھل مراد ہیں جو اہل جنت کے لئے (دانیۃ) خود بخود ہی جھک کر قریب آجائیں گے تاکہ اہل جنت بغیر کسی سعی و کوشش کے ان میں سے جس کو انتخاب کریں اور انتخاب کرتے ہی یعنی ان کی خواہش ہوتے ہی وہ ان کے قریب آ کر ٹوٹ پڑیں۔ مقصود صرف یہ ہے کہ وہاں جو کچھ ملے گا بغیر محنت کے ملے گا بلکہ اس کے لئے محنت تو انہوں نے دنیوی زندگی میں کرلی جو کرلی اور اس کو اللہ تعالیٰ نے منظور بھی کرلیا جس کے صلہ میں ان کو جنت عطا کردی گئی اب جنت میں جو کچھ ان کو ملے گا وہ بغیر کسی سعی و کوشش ہی کے ملے گا۔
Ayah 69:24

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

(کہا جائے گا) خوب لطف سے کھاؤ پیو یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو تم گزشتہ دنوں میں بھیج چکے ہو

خوب لطف سے ان کا استعمال کرو یہ صلہ ہے اس کا جو تم گزشتہ دنوں میں بھیج چکے 24 ؎ (ھنینا) صیغہ صفت مشبہ ھناء مصدر۔ خوش مزہ ، خوش ذائقہ ، پاکیزہ وزن۔ فعل واحد و جمع دونوں کے لئے آتا ہے اس نے فاعل کی ضمیر جمع سے خالی ہے۔ حنی خوشگوار مبارک وہ چیز جو بغیر محنت کے حاصل ہوجائے۔ ھانی نوکر ، خادم وغیرہ کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت سے کہا جائے گا کہ کھائو اور پیئو اور مزے سے رہو یہ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے ، گزرے ہوئے دنوں میں یعنی دنیا کی زندگی میں جو تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اعمال کئے تھے ان اعمال کی جزا ہے۔ السلف المتقدم من الشیء اس لئے سلف صالحین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو نیک لوگ پہلے گزر چکے ہوں لیکن اس جگہ اچھے اعمال مراد ہیں۔ (الخالیۃ) کا اصل مادہ خ ل و ہے۔ (الایام الخالیۃ) الا یام الماضیۃ گزرے ہوئے دنوں میں مراد وہی دنیا کی زندگی کے دن ہیں اور یہ فقط ایک ہی بار قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 69:25

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کو اس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا کہ کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ جاتا

جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ کہے گا کہ کاش مجھے اعمال نامہ نہ دیا جاتا 25 ؎ یہ بات ہم بار بار عرض کرچکے ہیں کہ جہاں اہل جنت کا ذکر ہوتا ہے وہاں ساتھ ہی دوزخ کا بھی کیا جاتا ہے اور جس جگہ اہل دوزخ کا ذکر کیا جا رہا ہے ساتھ ہی اہل جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ پیچھے ان لوگوں کا ذکر تھا جن کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اور ان کو اہل جنت قرار دے کر ان کے انعام و اکرام کا ذکر کیا گیا اور زیر نظر آیت سے ان لوگوں کا ذکر شروع کیا جا رہا ہے جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو بدعمل ، بداخلاق ، کافر ، منافق تھے۔ فرمایا جونہی اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں گیا تو وہ حسرت و افسوس میں مبتلا ہوگئے حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے قریب سے بھی کبھی حسرت و افسوس نہ گزرا تھا ، بہت خوش حال لوگ تھے اور دنیا میں وہ مذہبی راہنما ، سیاسی لیڈر ، پیرومرشد ، شیوخ الاشیاخ ، گدی نشین ، سجادہ نشین ، ملکوں کے صدر ، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، اسمبلیوں کے ممبر ، سینیٹر ، سردار اور اسی طرح کے دوسرے بڑے بڑے عہدوں سے نوازے گئے تھے لیکن اس جگہ ہاتھ ملتے ہیں اور تلیاں چاٹتے ہیں اور کہتے کیا ہیں کہ ہائے افسوس ! ہم کو ہمارا اعمال نامہ ہمارے بائیں ہاتھوں میں کیوں دیا گیا لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ وہ اقتدار اور سرداری کا زمانہ گزر گیا اور اب افسوس و تاسف کا کوئی فائدہ ؟
Ayah 69:26

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے ؟

کاش مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے ؟ 26 ؎ اب اس تڑپنے اور واویلا کرنے اور شور مچانے کا کیا مطلب کہ کاش مجھے اپنا حساب معلوم ہی نہ ہوتا اگر تیرے اختیار میں ہوتا تو شاید تو اس کو دفتر داخل کردیتا اور وہ اس طرح تیرے ہاتھ میں تھما دیا جاتا کہ اب بھی تیرے پاس اتنی ہمت ہے تو تو افسوس کیوں کرتا ہے صرف اتنا ہی کر کے دکھا دے کہ تیرے بائیں ہاتھ میں جو کچھ دیا گیا ہے اس کو دائیں سے پکڑ کر دکھا دے اور اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس طرح واویلا کرنے اور ہاتھ ملنے سے اب کچھ نہیں ہوگا ، نہ ہی تیرا کوئی مددگار تیری مدد کے لئے پہنچ سکے گا۔ تو نے جس طرح لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے کی کوشش کی اب ان کوششوں کے نتیجے میں خود ہی اس دھوکے کے دائو میں آگیا جس سے نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی تجھے نکالا جاسکتا ہے اور اس وقت تو مکمل طور پر قانون کی زد میں ہے۔
Ayah 69:27

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش ! (میری) موت مجھے ختم کرگئی ہوتی

ہائے افسوس مجھ کو ، میری موت مجھے ختم کرگئی ہوتی 27 ؎ (القاضیۃ) اسم فاعل واحد مؤنث۔ اس جگہ عمل قضا مراد ہے یعنی ختم کردینے والی ایسی موت جس کے بعد زندگی نہ ہو اور کام تمام ہوجائے۔ (محل ، حازن) یعنی ہائے افسوس کہ میری زندگی کا قصہ پاک کردیا جاتا اور مجھے کبھی دوبارہ زندگی نہ ملتی۔ تو تو بڑے زور و شور سے کہتا تھا کہ یہی دنیا کی زندگی بس زندگی ہے اور آخرت و اخرت کچھ نہیں اور اب جو پیش آنا تھا وہ آگیا تو اب تو کہتا ہے کہ کاش میرا کام تمام کردیا گیا ہوتا اور مجھے دوبارہ زندگی نہ ملتی۔ اب تیرے افسوس سے تو کچھ نہیں ہوگا اور اگر تو خودکشی کرنا چاہے تو بھی نہیں کرسکتا۔
Ayah 69:28

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

(افسوس کہ) میرا مال بھی کچھ میرے کام نہ آیا

افسوس کہ میرا مال بھی میرے کچھ کام نہ آیا 28 ؎ اب افسوس کرتا ہے اور کتنی سچی بات کہتا ہے کہ کاش آج تو وہ اربوں کھربوں روپیہ جو دیار غیر کے بنکوں میں رکھا تھا وہ بھی میرے کچھ کام نہ آیا اور مجھ سے میرے مال نے کچھ بھی کفایت نہ کی۔ وہ کفایت کیا کرتا اسی کے باعث تو آج تجھے یہ وقت دیکھنا پڑا کہ تو نے مال جمع کرنے میں حق ناحق ، جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی پروا نہ کی۔ ایک ہی دھن میں مبتلا رہا کہ مال جمع ہوجائے اور اس حالت کا ذکر دوسری جگہ اس طرح کیا گیا کہ (جمع مالا وعددہ) (104 : 2) ” اس نے مال کو جمع کیا اور گن گن کر رکھا “ اور اب برملا کہہ رہا ہے کہ افسوس ! میرے مال نے مجھ سے ذرا بید کفایت نہ کی اور کچھ بھی کام نہ آیا۔
Ayah 69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی

میرا غلبہ اور میری حکومت بھی مجھ سے جاتی رہی 29 ؎ (ھلک) واحد مذکر غائب ماضی ھلک اور تھکلۃ مصدر۔ وہ مر گیا ، وہ گیا گزرا۔ وہ جاتا رہا۔ عنی مجھ سے یعنی مجھ سے میرا مال بھی جاتا رہا۔ وہ گیا گزرا۔ سلطنیہ میری حکومت۔ سلطان مضاف ” ی “ ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ ہ سکتہ کی ہے۔ یعنی میری حکومت بھی مجھ سے چھینی گئی اور اس جگہ وہ میرے کچھ کام نہ آئی۔ ان تاسف اور افسوس کے الفاظ پر ذرا غور تو کرو کہ وہ کس طرح پکار پکار کر کہتا ہے کہ کہاں گئے میرے دولت کے وہ انبار ؟ کہاں گئی میری حکومت اور سلطانی ؟ کہاں گئے میرے اعوان و انصار اور میرے درباری ؟ آج تو کوئی بھی میرے قریب نہیں آ رہا ہے۔ کہاں گیا اقتدار اور اقتدار کا وہ نشہ جس میں میں مبتلا تھا اور میرا اپنا ہی ذہن دلائل کے انبار لگا دیا کرتا تھا اور آج میرے سارے دلائل ہی ہوا ہوگئے اور کسی طرف سے بھی مجھے کوئی سہارا دستیاب نہ ہوا اور میرے اقتدار کی ساری رونقیں ختم ہو کر رہ گئیں۔ وہ اس طرح کے تانے بانے اپنے ذہن و دماغ میں بن رہا تھا کہ اس کو مزید حکم سنایا گیا۔
Ayah 69:30

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(حکم ہوگا) اس کو پکڑ لو پھر زنجیر میں اس کو جکڑ لو

حکم ہوگا کہ اس کو پکڑ لو اور پھر زنجیر میں اس کو جکڑ لو 30 ؎ (غلوہ) کی اصل غ ل ل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی گردن میں جلدی سے طوق ڈال دو جس سے اس کا سارا غلبہ بھسم ہو کر رہ جائے۔ جمع مذکر حاضر اور ہ ضمیر مفعول غل مصدر۔ باندھ دو ، جکڑ دو ، ہاتھ پائوں باندھ کر گردن میں طوق ڈال دو ۔ گویا وہی کچھ اس کے سامنے کرو جو کچھ دنا میں یہ لوگوں کے ساتھ اور خصوصاً غریبوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔ اس طرح آج اس کے ساتھ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ ، اس کی گردن میں باندھ دو ۔
Ayah 69:31

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر دوزخ میں اسے جھونک دو

پھر دوزخ میں اس کو جھونک دو 31 ؎ زیر نظر آیت میں مفعول کو فعل سے پہلے لا کر مفید حصر بنا دیا ہے۔ (الجھیم) بہت بڑی دھکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ذرا اٹھو اور اس کو ایک خاص طریقہ سے پکڑ کر دوزخ میں ڈال دو ۔ (صلوہ) اس کو داخل کر دو ۔ صلوا لعیبۃ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ذرا غور کرو اس کو بھی دیکھو اور اس کے فعل کو بھی دیکھو اور اس کے فعل کی سزا کا بھی ذرا اندازہ لگائو کہ وہ کیا ہے ؟ اور کس طرح اس کو زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ میں جھونک دینے کا دوزخ کے فرشتوں کو حکم دیا جا رہا ہے۔
Ayah 69:32

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر (دوزخ میں ڈالنے کے بعد) ایک زنجیر جس کا طول ستر گز ہے اس میں اس کو جکڑ دو

اس زنجیر میں اس کو جکڑ دیں جس کی لمبائی ستر گز ہے 32 ؎ ستر بار کہنا۔ ستر ہاتھ کی زنجیریں جکڑنے کا حکم دینا ایسے ہی سو بار کہنا اور سو ہاتھ کا رسا لینا اور سات سو بار سات سو گزر کی زنجیریں پکڑنا۔ ہزار بار کہنا ہزار ہاتھ کی زنجیروں میں جکڑنا۔ یہ سب الفاظ بہتات کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور ہر زبان میں ان کو بولا جاتا ہے مراد اس سے محض تاکید و تائید ہے نہ کہ گنتی گن کر تعداد کو پورا کرنا مراد ہے اور اس طرح اس کی بےبسی کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ کہاں اس کا اترانا اور اپنے کندھوں پر تھوکنا اور کسی کو گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہ ہونا اور کہاں اس طرح کی بےکسی و بےبسی کہ اس کو پکڑا جا رہا ہے ، جکڑا جا رہا ہے اور دوزخ میں پھینکا جا رہا ہے۔ ایک طرف اس کا کروفر ہے اور دوسری طرف اس کی ذلت و خواری ، بےکسی و بےبسی کا بیان ہے۔
Ayah 69:33

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

کیونکہ وہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا

اس لئے کہ یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا 33 ؎ اب بتایا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے یہ کیوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے آخر کیا کیا ہے ؟ اس کے جرم کی نوعیت بتائی جا رہی ہے کہ اس طرح پکڑنے ، جکڑنے اور دوزخ میں ذلیل و خوار کر کے ڈالنے کی اصل علت کیا ہے ؟ فرمایا یہ ہم اس سے کوئی زیادتی نہیں کر رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کو اپنی برائی کا اور اپنے غرور کا اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پروا کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا اور اللہ پر اور اس کی باتوں پر اس کو قطعاً کوئی یقین نہیں تھا گویا یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اپنی توہین سمجھتا تھا اور اللہ تعالیٰ جو سب بڑوں کا بڑا ہے اس کے احکام کو بےوقعت سمجھتا تھا۔
Ayah 69:34

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ ہی محتاجوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا

اس نے محتاجوں کو کھانا کھلانے کی کبھی ترغیب نہیں دی تھی 34 ؎ (لایحض) کی اصل ح ض ض ہے۔ واحد مذکر غائب مضارع منفی حض مصدر۔ وہ آمادہ نہیں کرتا۔ وہ ترغیب نہیں دیتا۔ وہ نہیں ابھارتا تھا۔ فرمایا وہ غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں کو کھانا کھلانے کی نہ تو کبھی خود ہمت کرتا تھا اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا تھا بلکہ جہاں تک اس کا بس چلتا کھانا کھلانا تو درکنار کھلانے والوں کو بھی روکنے کی سرتوڑ کوشش کرتا تھا۔ پیچھے سورة المنافقوں میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ وہ اس کردار کے لوگ تھے جو برملا کہتے تھے کہ جو اللہ کے رسول کے اردگرد چمٹے ہوئے ہیں ان پر اگر آپ لوگ خرچ کرنا چھوڑ دیں تو وہ رسول کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ نکلیں اور کبھی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھیں اور یہی بات اس جگہ ذکر کی گئی ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ غریبوں ، مسکینوں کو کھلانا تو درکنار یہ تو اگر ان کو کوئی دے تو اس کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب کسی کو رغبت نہ دلانے کی یہ سزا ہے تو پھر تم خود ہی سمجھ لو کہ خرچ کرنے والوں کو روکنے کی کیا سزا ہوگی ؟
Ayah 69:35

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

پس آج اس کا بھی یہاں کوئی ہمدرد نہیں ہے

پس آج اس کا بھی یہاں کوئی ہمدرد نہیں ہے 35 ؎ اس کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ سارے آسرے اور سہارے جو تو نے دنیا میں بنا رکھے تھے اور جن دوستوں ، یاروں کے تعلقات کے باعث یہ ساری بداعتدالیاں کرتا تھا آج تیری حمایت کے لئے ہم کو ایک بھی یہاں نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی تیری مدد کے لئے کوئی یہاں پہنچے گا کو ان کہ اصل سہارے اور آسرے کو تو تو نے خود توڑنے کی کوشش کی اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیروں پر سہارے اور آسرے لگائے۔
Ayah 69:36

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور کوئی غذا سوائے زخموں کے دھون کے (اس کے لیے) نہیں ہے

اور کوئی غذا سوائے زخموں کے دھو ون کے ان کے لئے نہیں ہو گی 36 ؎ دوزخیوں کو پیاس بجھانے کے لئے جو کچھ دیا جائے گا اس کا بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں ہی کے زخموں کا دھو ون ہوگا یہ اس کی ناپاکی اور برائی کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانیاں کیں۔ اوپر ان کی دو طرح کی نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا تھا ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور دوسرا یہ کہ وہ نہایت ہی کنجوسی اور سنگدلی سے کام لیتے ہیں کہ اپنے گھر سے کسی غریب و مسکین کو کھانا کھلانا تو درکنار وہ کسی کو رغیبت دلانے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں بلکہ ان کا بس چلے تو وہ اس طرح کی نیکیوں سے خود رکتے اور دوسروں کو روکتے ہیں۔ ان کو دو طرح کا عذاب سنایا گیا ہے ایک تو یہ ہے کہ جو ان لوگوں نے سہارے بنائے ہوئے اور سمجھے ہوئے تھے وہ ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے اور اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ دوسرے یہ کہ جب ان کو بھوک اور پیاس تنگ کریگی تو ان کو پیاس بجھانے کے لئے جو کچھ پیش کیا جائے گا وہ نہایت ہی گندی اور ناپاک چیز ہوگی جس کو پینا تو درکنار دیکھنا بھی طبیعت گوارا نہیں کرتی اور وہ مجبور ہو کر اس کو استعمال کریں گے۔
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جس کو سوائے گنہگاروں کے کوئی نہیں کھائے گا

جس کو سوائے گنہگاروں کے اور کوئی نہیں کھائے گا 37 ؎ اس طرح کی گندی چیز ان کو پینے کے لئے کیوں پیش کی جائے گی ؟ فرمایا اس لئے کہ یہ لوگ دنیا میں جائز و ناجائز ، حلال و حرام میں تحقیق نہیں کرتے تھے بلکہ حلال کی بجائے حرام کو بڑی رغیبت سے کھاتے ، پیتے اور اکٹھا کرتے تھے پھر جس طرح کی ان کی خطائوں کی نوعیت تھی اسی طرح ان کے ساتھ سلوک کیا جانا ضروری تھا۔ یہ زخموں کی دھو ون کیا ہے ؟ ایک ناپاک اور حرام چیز ہی تو ہے اور ذرا غور کرو کہ شراب کیا ہے ؟ سود کیا ہے ؟ کسی کا ناجائز طریقوں سے غصب کیا ہوا مال کیا ہے ؟ یہ رشوتیں کیا ہیں جو ملک کے صدر ، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اور دوسرے تمام وزیروں کے منہ کو نامراد لگی ہوئی ہیں اور اترنے کا نام ہی نہیں لیتی ہیں۔ پیٹ کی خاطر دین میں افراط اور تفریط کے ساتھ کمایا ہوا مال کیا ہے ؟ بڑے بڑے لوگ جو کارخانوں میں سارا سال اٹھا کر کروڑوں بوریوں کو گوداموں میں بند کردیتے ہیں اور پھر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں یہ کیا ہے ؟ اگر یہ سب کچھ بھی حرام اور ناپاک ہے تو پھر کسی حرام اور ناپاک کو دوڑ دوڑ کر حاصل کرنا اور ناپاک اور حرام سے نفرت کرنا یہ دوغلی پالیسی ان کو کس نے بتائی ہے اور کس نے ان ساری چیزوں کو جائز اور حلال کہا ہے ؟ پھر ان حرام خوروں کو سزا کے طور پر حرام ہی پیش کیا جائے اور یہ گندے لوگ اس کو بھی ڈک ڈک کر پی جائیں تو اس میں آخر تعجب کی بات کیا ہے ؟ کیا حرام اور حلال ان کے اختیار کی بات ہے یا وہ کسی کو حلال قرار دے لیں اور کسی کو حرام قرار دے لیں۔ کیا اللہ کے حکم کا نام حلال و حرام نہیں ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان کو جب کہ حرام ان کے منہ کو لگ چکا ہے ہم کتنا ہی ناپاک سے ناپاک ان کو پیش کریں گے تو یہ پی جائیں گے اور یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ ناپاک لوگوں کے علاوہ ایسی گندی چیز کو کوئی بھی پینے کے لئے تیار نہیں ہوگا بس یہی ہیں کہ جو کچھ بھی ان کو پیش کیا جائے گا وہ بغیر کسی حیل و حجت کے اس کو پی جائیں گے۔
Ayah 69:38

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

پس قسم کھاتا ہوں ان چیزوں (کے رب ) کی جو تم دیکھتے ہو

پس میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کے رب کی جن چیزوں کو تم دیکھتے ہو 38 ؎ اگر ان چیزوں کو شمار کریں جن کو انسان ان ظاہری آنکھوں سے دیکھتا ہے تو وہ ایک دو نہیں بیسیوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں کہ اگر ان کو شمار کرنے لگیں تو ان کو شمار نہ کرسکیں۔ ان سب میں سے کسی ایک کو بطور شہادت پیش کریں اور پھر ایک ایک کو پیش کرتے جائیں تو ہر ایک چیز اس کی گواہی دے گی کہ اللہ ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، جنت اور دوزخ حق ہے۔ اسی طرح ہر ایک چیز شہادت پیش کرے گی بلکہ آپ یوں کہیں کہ ایک ایک چیز شہادت پیش کر رہی ہے لیکن نہ ماننے والوں اور نہ تسلیم کرنے والوں کے لئے کسی شہادت کی کوئی قدر و قیمت موجود نہیں ہے کیونکہ ان کا انکار اس لئے نہیں کہ ان کو کوئی دلیل پیش نہیں کی جا رہی بلکہ ان کے انکار کا اصل باعث ضد اور عناد ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کے سامنے کوئی دلیل بھی نہیں ٹھہر سکتی ، کیوں ؟ اس لئے کہ ضدی کا کام کیا ہے کہ وہ کسی سچی بات کو جب جھوٹ کہہ بیٹھا ہے تو پھر وہ جھوٹ کہتا رہے اگر وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ تسلیم کرلے تو آخر اس کو ضدی اور ہٹ دھرم کیوں کہا جائے گا۔
Ayah 69:39

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور جو چیزیں تم نہیں دیکھتے

اور ان چیزوں کی جو تم نہیں دیکھتے 39 ؎ اگر ان چیزوں کو شمار کرنے لگیں جن کو انسان کی یہ مرئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تو وہ بھی ان گنت اور بیشمار ہیں۔ پھر ان ان دیکھی اور ان سمجھی باتوں پر ایمان لانے کی دلیل کیا دی جاسکتی ہے۔ اور ان چیزوں کی شہادت کو ان کے سامنے کیونکر پیش کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں نظر آتی ہیں ان کی گواہی پیش کرو یا ان چیزوں کی گواہی پیش کرو جو نظر نہیں آتیں اور ان کو یہ ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں لیکن ان میں سے بھی ایک ایک کر کے ان کو بطور شہادت پیش کرنا شروع کردیں تو بھی جن لوگوں نے حق کو حق تسلیم نہیں کرنا ہے وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور اسی طرح قرآن کریم کو اللہ کا کلام جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس میں نازل کیا ہے اس کو رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا قرار دیں گے۔ ان کو ہزار دلیلیں دو تو بیکار اور اگر دلیل طلب کرو تو لاحاصل۔ لیکن بات پوچھو تو پھر وہی کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو پھر ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کو منوانے کا طریقہ یہی ہے کہ ان کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے عذاب میں ایک ڈبکی دی جائے اور پھر سب ہی مانتے چلے جائیں اگرچہ اس طرح کے ماننے سے ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔