69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 69:40

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

کہ یہ ( قرآن کریم) کلام ہے ایک رسول کریم کا (جبریل کا لایا ہوا)

بلاشبہ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے رسول کا لایا ہوا ہے 40 ؎ رسول کریم ﷺ سے مراد بعض نے جبریل (علیہ السلام) کو لیا ہے اور بعض نے محمد رسول اللہ ﷺ کو اور آیت کا مطلب یہی ہے کہ یہ کلام اللہ کریم کا پیش کیا ہوا ہے گویا اس کلام کے لانے والا جبریل ہے یا براہ راست محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ لوگوں کے سامنے آپ ﷺ ہی نے اس کو پیش کیا ہے لیکن دوسرے مقامات کو بھی اگر سامنے رکھا جائے تو اس سے مراد جبریل امین کو لینا زیادہ قرین قیاس ہے اور اس کی وضاحت آگے سورة التکویر میں مزید آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو فرشتہ کا کلام قرار دینا چہ معنی دارد ؟ پیغام بھجنے والے اور بھجوانے والے دونوں کی طرف نسبت جائز اور درست ہے جب کہ جو پیغام بھیجنے والے نے اس کی یقین دہانی کرا دی تو ایک بار اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہونے سے جب تک کلام نازل ہوتا رہے گا نسبت اسی کی طرف رہے گی خواہ اس کے لانے والے کا نام آپ لیں اور خواہ بھیجنے والے کا۔ جب کارندہ حکومت کا اپنا ہے اور اس کے لائے ہوئے پیغام کی وقعت کو تسلیم کیا جا رہا ہے تو اس میں کسی طرح کا استحالہ نہیں ہے۔ تردید مقصود ان کے کلام کی ہے اور ان کا کلام رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا کلام کہتا ہے اور دوسرا کسی انسان یا جن کا کلام ہونے کا الزام ہے جس کی تردید کردی گئی ہے اور یہ مضمون سورة الشعراء میں بہت تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ ایک نظر دیکھنا ہو تو غزوہ الوثقی جلد ششم میں سورة میں سورة الشعراء کی آیت 192 سے آیت 200 تک کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 69:41

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو

یہ کسی شاعر کا کلام نہیں تم لوگ بہت کم ایمان لاتے ہو 41 ؎ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ کی طرف سے جو الزامات آپ ﷺ پر عائد کئے گئے تھے وہ یہی تھے کہ ان میں سے کوئی اٹھتا تو آپ ﷺ کا گھڑا ہوا کلام کہہ دیتا اور کوئی آپ ﷺ کو کاہن قرار دیتا اور کوئی شاعر اور کوئی مجنون اور پھر کوئی ساحر ، کوئی سحر زدہ پھر جب ان کی باتیں مختلف تھیں تو ان کو جواب بھی مختلف دیئے گئے لیکن ان کے ہر اعتراض کا رد ضرور پیش کردیا گیا کہیں ایک بات کا اور کہیں دو کا ، کہیں سب کا۔ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کے شاعر ہونے کی نفی کی گئی ہے اور اس بات کی تردید ان کے اپنے بیان سے بھی ہوتی ہے اور وہ مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ شاعر کا کلام نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے قرآن کریم کو اللہ کا کلام تسلیم کیا ہے۔ دراصل عقائد اسلام اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں کہ ایک کا اقرار سب کا اقرار ہے اور ایک کا انکار سب کا انکار تصور ہوتا ہے۔ اس لئے وہ ایک بات کی خود تردید کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے۔
Ayah 69:42

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور یہ کسی کاہن کا کلام (بھی) نہیں تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو

یہ کسی کاہن کا کلام بھی نہیں تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو 42 ؎ اور یہ کلام کسی کاہن کا کلام بھی نہیں ہے کیونکہ کاہن کا کلام اتنا واضح اور اتنا مربوط کہ ایک بار جو بات کہی حالات زمانہ کچھ سے کچھ ہوتے چلے گئے لیکن وہ بات اپنی جگہ پر حق ہی رہی ، اس میں ذرا بھر بھی فرق نہ پڑا۔ اللہ کے کلام ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر نہ ماننے والوں سے مطالبہ کیا کہ تم کہتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ اگر تمہارا یہ دعویٰ سچا ہے تو اٹھو اور تم بھی اس جیسا کلام گھڑ کرلے آئو۔ پھر مطالبہ میں نرمی کی اور یہ کہہ کہ چلو اس جیسی دس سورتیں ہی گھڑ کرلے آئو پھر مزید نرمی کرتے ہوئے ایک سورت کے لانے کا مطالبہ کیا لیکن کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ سامنے کھڑا ہو اور تین آیتوں کو ایک سورت میں لا کر پیش کر دے۔ اگر یہ کسی کاہن کا کلام ہوتا تو کیا ایک کاہن کے مقابلہ میں کسی دوسرے کاہن کے کلام میں اس طرح کے چیلنج کی کوئی مثال آپ پیش کرسکتے ہیں۔ کاہن کا کام کیا ہے یہی کہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملایا اور اس ایک سچ کے ساتھ سو جھوٹ چلا دیا اور ایک سچ کو سو جھوٹ کے لئے ثبوت بنانے کی کوشش کی جس کو زمانہ جان گیا کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ آیات جو اس جگہ بیان ہوئی ہیں دراصل سورة الشعراء کی آیت 192 سے آخر سورت تک چلی گئی ہیں اور اس مضمون کو ہم نے وہاں بہت کھول کر بیان کردیا ہے اس لئے غزوہ الوثقی جلد ششم میں سورة الشعراء کی ان آیات کی وضاحت دیکھنا بھی مفید مطلب ہوگا کیونکہ وہاں مفصل بیان تحریر ہوا ہے۔ مختصر یہ کہ کوئی دعویٰ بغیردلیل کے ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن تعجب ان لوگوں پر ہے جس بات کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے ان میں سے ایک بات کے لئے بھی انہوں نے کوئی دلیل پیش نہیں کی صرف خالی بات کہہ دی ہے اور اس کے مقابلہ میں قرآن کریم نے ایک ایک بات پر سینکڑوں دلائل پیش کئے اور اتنے مضبوط دلائل پیش کئے کہ اگر کسی ایک بات پر غورو فکر کرتے تو اس کو اللہ کا کلام ماننے کے لئے مجبور ہوجاتے لیکن جب کوئی شخص عقل و فکر کی بات پر غور کرنے یہ سے گریز کرے اور محض ہٹ دھرمی کے ناطے بغیر دلیل کے ایک بات کہتا چلا جائے تو اس کے نصیحت حاصل کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا اور کفار مکہ کے کفر کی بس ایک وجہ ہے ورنہ وہ کسی دلیل کے باعث تو کفر پر قائم نہیں رہ سکتے تھے۔
Ayah 69:43

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

یہ (تو) پروردگار عالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے

یہ تو پروردگار عالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے 43 ؎ یہ قرآن کریم کی اصلیت اور حقیقت کا بیان ہے کہ جب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہو سکتا اور اس طرح یہ بھی کہ یہ کلام کسی کاہن کا بھی نہیں ہو سکتا اور اسی طرح یہ باتیں محمد رسول اللہ ﷺ کی گھڑی ہوئی بھی نہیں ہو سکتیں جیسا کہ کفار مکہ اکثر کہتے ہیں تو آخر یہ کلام ہے کیا ؟ اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہ کلام پروردگار عالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس میں کسی بھی انسان ، شیطان یا جن کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے اور اس کو نجا نجا نازل کیا گیا نہ کہ یکبارگی نازل کیا گیا ہے۔ اگر یہ محض دفع الوقتی کے لئے باتیں کی جاتیں تو حالات کے ساتھ ساتھ کلام میں تبدیلی رونما ہوتی جاتی حالانکہ اس میں جو کچھ بیان ہوا وہ اس قدر پختہ دلائل ہیں کہ ان میں دفع الوقتی کی صورت نظر ہی نہیں آتی۔ ہاں ! تم اس کو مان نہیں رہے اور اپنے موقف پر قائم ہو تو قائم رہو اور عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا اور حقیقت کھل کر تمہارے سامنے آجائے گی کیونکہ اس وقت کا آنا بہت ضروری اور لابدی ہے کہ حق اپنا آپ خود منوا لے اگرچہ اس وقت ماننے والوں کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
Ayah 69:44

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اور اگر یہ نبی ﷺ ہمارے متعلق کوئی بات از خود کہہ دیتا

اور اگر یہ نبی ہمارے متعلق کوئی بات از خود کہہ دیتا 44 ؎ وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ محمد (رسول اللہ ﷺ نے یہ قرآن کریم خود گھڑا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (ام یقولون افترہ) (10 : 38) (ام یقولون افتراہ) (11 : 13) (ام یقولون افتراہ) (11 : 35) (بل قالوا اضعات حلام بل افتراہ) (21 : 5) (ان ھذا الا افک افتراہ (25 : 4) (ام یقولون افتراہ) (32 : 2) (ام یقولون افتراہ) (46 : 8) کفار کا یہ الزام درج کرنے کے بعد ان کو ہر بار جواب دیا گیا اور ایسا مسقط جواب دیا گیا کہ اس جواب کے بعد ان کے پاس سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہ رہا لیکن وہ ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے۔ ان سارے لوگوں کو جو اس طرح کے اعتراض اٹھاتے تھے ایک جواب ان کو اس زیر نظر آیت میں بھی دیا گیا کہ اگر ہمارا رسول ہماری وحی کے علاوہ ہم پر کسی طرح کی کوئی بناوٹ ، دروغ اور فتویٰ باندھتا جیسا کہ تم لوگوں کا خیال ہے تو ہم اس کو ایسی سزا دیتے کہ زمانہ دیکھتا۔ (تقول) اس نے بنا لیا۔ اس نے گھڑ لیا۔ اس نے باندھ لیا۔ تقول سے جس کے معنی دل سے گھڑ کر کسی دوسرے کی طرف سے کہہ دینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ (الاقاویل) باتیں ، اقوال کی جمع ہے اور اقوال قول کی جمع ہے گویا اقاویل جمع الجمع ہے اور اب بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ ہم پر کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کر بیان کرتا تو ہم کیا سزا دیتے۔
Ayah 69:45

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے 45 ؎ دائیں ہاتھ سے پکڑنا بطور محاورہ ہے کہ جس سے مراد ہے کہ ہم اس کو پوری قوت کے ساتھ پکڑ لیتے اور ایسا پکڑتے کہ ہمارے پکڑتے ہی اس کی ہوائیاں اڑ جاتیں اور ہم جلدی سے گویا ایک ہی جھٹکے سے اس کا کام تمام کردیتے اور آنے والی آیت میں اس کا کام تمام کرنے کی صورت بھی واضح فرما دی۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Ayah 69:46

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے

پھر ہم اس کی رگ جان ہی کاٹ ڈالتے 46 ؎ (الوتین) اسم منصوب۔ زندگی کی رگ۔ دل کی ڈوری۔ کہا گیا ہے کہ یہ دل سے کنکشن (Connection) رکھنے والی ایک رگ ہے اگر اکھڑ جائے تو آدمی مر جائے۔ (محلی) اور بعض نے کہا کہ پشت میں ایک رگ ہے بہرحال لغت میں وتین کا ترجمہ دل کی رگ کیا گیا ہے۔ وتن اور اوئتۃ اس کی جمع بتائی گئی ہے۔ داہنے ہاتھ سے پکڑ کر ایک جھٹکا دیتے کہ دوسری طرف سے اس کی رگ جان ہی کاٹ ڈالتے تاکہ اس طرح کی حرکت آئندہ کبھی نہ کرسکتا۔ دراصل کفار کے اس الزام کا جواب دینے کے بعد کہ یہ قرآن محمد (رسول اللہ ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اب دوبارہ ان کو جواب کی وضاحت سنائی جا رہی ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو ہم کبھی اپنے رسول کا لحاظ نہ کرتے بلکہ اس کو داہنے ہاتھ سے یعنی طاقتور ہاتھ سے پکڑ کر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے اور وہ ہرگز ہرگز اپنے رب کے کام میں کسی طرح کی کوئی ملاوٹ نہ کرسکتا اور اگر بفرض محال ایسا کرتا بھی تو ہم اس کو مہلت ہی آخر کیوں دیتے ، اسی وقت اس کا کام تمام کیوں نہ کردیتے ؟ اتنی ڈھیل تو اتنا بڑا گناہ ہے اور اتنا سنگین جرم ہے کہ اس کو گوارا کرلیا جائے تو سلسلہ نبوت و رسالت کا مقصد ہی ختم ہو کر رہ جائے اور کسی کو نبی و رسول کی بات پر کوئی وثوق ہی نہ رہے۔ اس لئے اس کی طرف سے اگر کوئی ایسی حرکت ہوتی تو ہم بغیر کسی توقف کے انتقام کی تلوار بےنیام کرتے اور آن واحد میں اس کا سر قلم کردیتے اور اس کو معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے نبی و رسول بنا دیئے جانے کے بعد اگر کوئی اس طرح کی بداعتدالی کرے تو اس کے لئے ایسی سزا مقرر کی گئی ہے اور صرف وہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس بات کو سمجھ جاتی۔ خیال رہے کہ یہ بات جو اوپر فرمائی جا رہی ہے سچے اور جھوٹے نبی و رسول کے پرکھنے کے معیار کے طور پر بیان نہیں کی گئی بلکہ یہ بات محض نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت و رسالت کی سچائی کے طور پر بیان کی جا رہی ہے کہ جو کچھ ہم اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں وہ وہی کچھ قرآن کریم کی صورت میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اور اس میں ایک لفظ بلکہ ایک حرف کی بھی کمی و بیشی نہیں کرتا اگر وہ ایسا کرتا تو ہم اس کو اس طرح کی سزا دیتے جس طرح کی سزا دینے کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے۔ لیکن ہم کو تعجب ہے کہ بعض لوگوں نے فی نفسہٖ نبوت و رسالت کے لئے سچا اور جھوٹا ہونے کا معیار تسلیم کرلیا اور اس طرح ایک جھوٹے مدعی نبوت کی نبوت کو پرکھنے کا معیار قرار دے دیا حالانکہ زیر نظر آیات کریمات میں اس طرح کا کوئی اشارہ تک نہیں پایا گیا۔ بلکہ انہوں نے جس طرح مسلمانوں کو دھوکا دے کر عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے ساتھ مرزا جی کی نبوت کو منسلک کردیا اور اس کو معیار قرار دے دیا کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پا گئے تو مرزا جی کی نبوت ثابت ہوجاتی ہے لہٰذا مرزا جی کے سارے پروگرام کو انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کی وفات کی آڑ میں تحفظ دے دیا اب کوئی مرزا جی کے بارے میں کسی طرح کی کوئی بحث کرے گا تو کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے نہایت چالاکی کے ساتھ اس کو صرف اور صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے ساتھ وابستہ کردیا ہے اور ہمارے عوام و خواص نے ان کی اس چالاکی کو سمجھنے کی بہت کم کوشش کی اور مرزائیوں سے جب بھی اور جہاں بھی کوئی مناظرہ اور گفتگو کا موقع آیا تو ساری گفتگو اور ساری بحث نہایت چالاکی کے ساتھ اس نظریہ میں پھنسائے رکھی اور بہت ہی کم ایسا ہوا کہ مرزائی شخصیت کو اور ان کے پھندوں کو کسی نے کبھی سمجھنے یا ان پر بات کرنے کا موقع دیا ہو۔ حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا مسئلہ اگرچہ مختلف فیہ رہا لیکن کسی نے بھی کسی نبی و رسول کے آنے کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے ساتھ نہیں جوڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنے مدعیان نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد آئے ان میں سے کسی ایک کی نبوت کو بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے مسئلہ کے ساتھ قطعاً نہیں جوڑا گیا۔ پھر اس تعجب پر مزید تعجب یہ ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل نبوت جب وہ نبی بنا کر اس دنیا میں بھیجے گئے تھے صرف ایک خاص گروہ اور خاندان کے لئے بھیجے گئے تھے جس کا اعتراف خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کیا اور قرآن کریم نے بھی اس کی وضاحت فرمائی لیکن کسی نے اس سوال کو نہ اٹھایا کہ اگر وہ فی الحقیقت مسیح موعود ہیں تو پھر یہ مسلمانوں کے پاس کیا لینے کے لئے آئے ہیں اور ان کو خواہ مخواہ مخاطب کیوں کرتے ہیں جب کہ ان کو مخاطب کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کو مخاطب کریں اور بنی اسرائیل کے دونوں گروہوں میں سے جس کے ساتھ بھی وہ چاہیں اپنا تعلق قائم کریں۔ اہل اسلام کے ساتھ اس مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں۔ عیسائیوں کے ہاں اگر ان کی دوبارہ آمد کا کوئی نظریہ موجود ہے تو وہ نظریہ اسلام کا کب ہے ؟ اور اگر اسلام نے ان کے اس نظریہ کے باعث یہ بات کہی ہے کہ اگر ان کو آنا ہے تو ان کی آمد کا مقصد تو صلیب کو توڑنا ، خنزیر کو حرام کرنا اور کفارہ کا ادا کرنا ہے اور پھر ان ساری چیزوں کا تعلق بھی عیسائیت سے ہے نہ کہ اہل اسلام سے۔ اگر ان کو اتنی خبر بھی نہیں ہے کہ ان کو جانا کدھر تھا اور وہ آ کدھر گئے تو اس سے سارا راز کھل جاتا ہے کہ اس دعویدار کی اصلیت اور حقیقت کیا ہیڈ اس طرح زیر نظر آیات میں جو بات نبی اعظم و آخر ﷺ کی ذات اقدس کے لئے مخصوص طور پر بیان کی گئی ہے اس کو نبوت اور رسالت کا معیار قرار دے کر ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی کہ اگر مرزا صاحب سچے دعویدار نہ ہوتے تو اللہ ان کی گردن مار دیتا اور اس طرح پھولے نہیں سماتے کہ دیکھو ہم نے مرزا جی کی نبوت کی سچائی کو قرآن کریم سے ثابت کردیا حالانکہ نہ قرآن کریم میں کوئی ایسا اصول یا معیار مقرر کیا گیا ہے اور نہ آیات کریمات کا یہ مفہوم ہے ، نہ اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ہمارے مفسرین نے مرزا جی کے چیلوں کیلئے جو جو اب گھڑا سچی بات یہ ہے کہ اس کا حال بھی ویسا ہی ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات والے مسئلہ کا ہے کہ جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ اس کو اتنا زور و شور سے بیان کیا بلکہ اس کو حق و صداقت کا معیار قرار دینا کیسے دیانت و امانت کہلا سکتا ہے ؟ لہٰذا ہمارے مفسرین نے ان کو یہ جواب دیا ہے کہ یہ سچے کو پرکھنے کا معیار ہے نہ کہ جھوٹے کو پرکھنے کا۔ جب مرزا جی کا دعویٰ ہی سچائی پر مبنی نہیں ہے تو اس کو ان کی سچائی کا معیار کیسے قرار دیا جاسکتا ہے حالانکہ اس کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی اس لئے کہ زیر نظر ” بات “ کا اس بحث سے کوئی تعلق قائم ہی نہیں ہوتا کیونکہ اگر معیار ہوتا تو جب سے نبوت کا پروگرام بنایا گیا اور اس کو اس دنیا میں چلایا گیا تھا اسی وقت ہی سے اس معیار کے ساتھ اعلان کرنا چاہئے تھا جب کہ ایسی کوئی بات بیان نہیں کی گئی اب جب کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت پر لا کر نبوت و رسالت ہی کو ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے اب اس طرح کے معیار کا فائدہ ؟ غور کرو کہ جس سچائی کو ثابت کرنے کے لئے ان آیات کریمات کو معیار قرار دیا جا رہا ہے وہ کس وقت قرار دیا جا رہا ہے اس وقت جب کہ اس سچائی کے ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ کیا نبوت و رسالت کے ختم کردیئے جانے کا اعلان نبی اعظم و آخر ﷺ سے نہیں کرایا گیا اور اگر کرایا گیا تو پھر ان آیات کو سچائی کے پرکھنے کا معیار کیونکر قرار دیا گیا ؟
Ayah 69:47

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

پھر تم میں سے کوئی (اس کام سے ہمیں) روکنے والا نہ ہوتا

پھر تم میں سے کوئی بھی اس کام سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا 47 ؎ اب تو تم مخالفت پر کمر بستہ ہو اور ہمارے رسول اور اس پر اتارے گئے کلام کو سچ تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہو حالانکہ ہم نے اپنے رسول پر اس سچائی کے اتارنے کا اتنا اہتمام کیا ہے کہ اگر وہ ہماری بھیجی ہوئی سچائی میں ایک لفظ کیا ایک حرف تک بھی کمی بیشی کرے تو ہم اسی وقت اس کو پکڑ لیں اور پھر تم جو اس وقت ماننے کے لئے تیار نہیں ہو تم بھی مل کر اس کو ہم سے چھڑوانا چاہو تو نہ چھڑوا سکو کیونکہ جس شخص کو ہم پکڑ لیتے ہیں اس کو ہماری پکڑ سے کوئی شخص نہیں بچا سکتا۔ انداز بیان خود بتا رہا ہے کہ یہ بیان محض اس کی تصدیق کے لئے ہے کہ جو کچھ ہم نے اپنے پیغمبر محمد رسول ﷺ پر نازل کیا ہے وہ من و عن اس کو لوگوں تک پہنچا رہا ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی وہ کمی بیشی نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی اس کو کبھی اجازت دی جاسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ جو لوگ اس سچائی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ان کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے اور ان کو جو مہلت اور ڈھیل اللہ نے دے رکھی ہے اگر وہ اس سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے تو اس طرح وہ اپنا نقصان آپ کر رہے ہیں جونہی ان کی مہلت کا وقت ختم ہوجائے گا تو ان کو حاضر کرلیا جائے گا اور ان کو وہ مار دی جائے گی جو کافروں ، مشرکوں ، منافقوں ، فاسقوں کے لئے قانون میں مقرر کردی گئی ہے۔
Ayah 69:48

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ تو پرہیزگاروں کیلئے ایک نصیحت ہے

اور بلاشبہ یہ تو پرہیزگاروں کے لئے ایک نصیحت ہے 48 ؎ یہ قرآن کریم کا ماحصل بتایا جا رہا ہے کہ ہم جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کر رہے ہیں وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ تو سراسر نصیحت ہے اور ظاہر ہے کہ نصیحت ان ہی لوگوں کے لئے کارگر ہوتی ہے جو نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نصیحت حاصل کرنا بھی چاہتے ہیں اور قرآن کریم کی زبان میں ان ہی لوگوں کو متقین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کو شروع کرتے وقت بھی یہی بات ارشاد فرمائی تھی کہ یہ قرآن کریم ہدایت ہے لیکن متقین کے لئے اور اس میں ارشاد فرمایا کہ تذکرہ ہے یعنی نصیحت ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو متقین ہیں۔ گویا بات کو سن لینے اور اس کو قبول کرلینے کی صلاحیت موجود ہو تب ہی یہ قرآن کریم نصیحت کرتا ہے اور ہدایت عطا کرتا ہے۔ جو شخص بھی صلاحیت کو ضائع کر بیٹھے اس کے لئے نہ یہ نصیحت ہے اور نہ ہدایت ہے کیونکہ کسی چیز کے ہونے کا مفہوم اور مطلب یہی ہے کہ وہ مفید مطلب بھی ہو اور فائدہ بھی پہنچائے۔ اگر وہ مفید نہ ہو تو اس کے ہونے کا فائدہ ؟
Ayah 69:49

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں بعض جھٹلانے والے ہیں

اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں بعض جھٹلانے والے ہیں 49 ؎ جو لوگ قرآن کریم کی نصیحت اور ہدایت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ ہم سے کچھ پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہمارے علم میں ہیں لیکن وہی بات جو اس سے پہلے کہی گئی کہ جب ہم نے اپنے قانون امہال کے تحت ان کو ڈھیل دینے کا اعلان کردیا ہے تو اب جو مہلت ان کو دی گئی ہے اس کو انہوں نے بہرحال پورا کرنا ہے۔ پھر اس کے بعد ان سے نبٹ لیا جائے گا کیونکہ ہم جھٹلانے والوں سے نبٹنا بھی خوب جانتے ہیں۔
Ayah 69:50

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ (جھٹلانا) کافروں کے لیے موجب حسرت ہو گا

اور بلاشبہ جھٹلانا کافروں کے لئے موجب حسرت ہو گا 50 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ پر اتاری گئی نصیحت کو جھٹلانے والے کون ہیں ؟ قرآن کریم کی زبان میں ان کو کافر کہتے ہیں اگر انہوں نے بالکل تسلیم ہی نہیں کیا تو وہ کافر سے موسوم کئے جائیں گے اور اگر انہوں نے تسلیم کیا ہے اور اس کے باوجود مسلسل بےاعتنائی ہوت ہے تو ان کو منافق کہا جائے گا اور مان لینے اور کرلینے کے باوجود بعض اوقات اس میں کوتاہی کی گئی ہے تو یہ فسق ہے اور اللہ چاہے فاسق کو معاف کر دے اور چاہے اس کے فسق کے برابر اس کو سزا دے لیکن کفر اور نفاق دونوں کی سزا ایک ہی بتائی جا رہی ہے بلکہ منافق کی سزا بعض حالات میں کفر سے بھی زیادہ ہے۔ فرمایا وہ لوگ جو قرآن کریم کو دنیا میں جھٹلا رہے ہیں اور مسلسل جھٹلاتے ہی چلے جاتے ہیں ان کو قیامت کے روز اس اپنے کئے پر نہایت حسرت اور افسوس ہوگا۔ اگرچہ اس وقت ان کے افسوس کرنے سے ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کی سمجھ میں بات اس زندگی میں آجاتی تاکہ ان کی آخرت بھی سنور جاتی۔
Ayah 69:51

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ (قرآن) تو یقینی طور پر حق ہے

اور بلاشبہ یہ قرآن کریم تو یقینی طور پر حق ہے 51 ؎ قرآن کریم کی صداقت کے لئے بہت لمبا بیان اس جگہ دیا گیا ہے اور پھر اس بیان کا ماحصل بھی قرآن کریم ہی میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ حق الیقین کے درجہ پر ہے۔ گویا اس کے حق ہونے میں مکمل طور پر یقین کے ساتھ حق کہنا چاہئے یعنی جس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ قرآن کریم کے دلائل واضح ہیں ، اس کی ہدایت روشن ہے لیکن اس سے فائدہ وہی حاصل کرسکتا ہے جو فائدہ حاصل کرنا چاہے۔ حق باطل کی ضد ہے اور ضدین کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں اس لئے جو حق ہے وہ باطل نہیں ہو سکتا اور جو باطل ہے وہ حق نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم ہے تو اس کی کوئی بات ، کوئی نصیحت باطل نہیں ہو سکتی کہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کو اس کی جگہ اختیار کرلیا جائے۔
Ayah 69:52

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

پس آپ ﷺ اپنے رب کے نام کی تسبیح کرتے رہیے جو عظمت والا ہے

پس آپ ﷺ اپنے رب کے نام کی تسبیح کرتے رہیں جو عظمت والا ہے 52 ؎ یہ وہ تلقین ہے جو قرآن کریم نے بار بار پیش کی ہے کہ جب وہ تنگ پڑے اور طبیعت قابو سے باہر ہونے کو ہوجائے مخالفین کی مخالفتوں کے باعث اور اپنوں کی تنگ نظری کے باعث تو اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح بلند کرو جو آپ کا رب ہے اور بہت بڑا ہے اور یہی وہ نام ہے جو بریاں دلوں کے لئے باعث سکون ہے۔ زخمی دلوں کے لئے مرہم کا کام دیتا ہے۔ تھکے ماندوں کے لئے ملجا و ماویٰ ہے۔ تسبیح سے حقیقی طور پر کیا مراد ہیڈ کیا زبان سے سبحان ربی الاعلی کہنے کو تسبیح کہتے ہیں ؟ کیا ہم کو سجدہ میں گر کر ہی سبحان ربی الاعلیٰ کہنا جائز ہے یا بغیر سجدہ کے بھی یہ وظیفہ جائز ہے ؟ بلاشبہ سبحان ربی الاعلیٰ سجدہ کی تسبیح ہے جس میں سنت یہ ہے کہ ایک حالت سجدہ میں کم از کم اس کو تین بار دہرایا جائے اور سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم درد زبان ہے جس سے ہر وقت زبان کا تر رہنا درد زبان کے لئے خوب وظیفہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو الفاظ ہیں جو زبان پر تو بہت ہلکے ہیں لیکن وزن میں وہ بہت بھاری ہیں اور رحمن کو وہ محبوب ہیں اور ان دونوں کو اس طرح ادا کیا جاتا ہے کہ : سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم (بخاری و مسلم عن ابی ہریرہ ؓ) اور جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہتا ہے اس کیلئے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔ (ترمذی) نیز رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کا تین بار کہنا سنت ہے اور یہ حدیث ابن مسعود ؓ سے بیان کی گیا ہے۔ دردو وظائف کا اپنا ایک مقام ہے لیکن اصل تسبیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نقائص سے جو لوگوں نے خوش فہمی اور کم عقلی کی بنا پر اس کی طرف منسوب کردیئے ہیں ، پاک و صاف بیان کیا جائے اور اصل تحمید یہ ہے کہ اس کے کمالات کو ظاہر کیا جائے اور اس کی صفات کو بیان کیا جائے اور جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس دور میں اس تسبیح اور تحمید کی بہت ضرورت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خوش فہمیوں اور کم عقلیوں کے باعث بھی بہت کچھ منسوب کیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور جو کام کرنے کے ہیں ان کے کرنے کی سعی و کوشش جو ہم پر لازم ہے اس کے لئے دن رات کوشاں رہیں ، ہاتھ کام میں مصروف ہوں اور زبان ورد سے تر رہے۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ سبحان ربی الاعلیٰ سبحان ربی العظیم سبحان اللہ الملک الصمد لا شریک لہ لہ الملک و لہ الحمد و ھو علی کل شیء قدیر۔ اور اسی وظیفہ پر ہم اس سورت کے مضمون کو ختم کر رہے ہیں۔ وللہ الحمد اولہ واخرہ۔