Ayah 68:1نو… ن قسم ہے قلم کے رب کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں
1 ؎ (ن) حروف مقطعات میں سے ایک حرف ہے اور حروف مقطعات کے متعلق ہم مکمل بحث سورة البقرہ کی آیت اول میں کر آئے ہیں اس لئے اس کو دیکھنا ہو تو وہیں سے دیکھ لیا جائے۔ قسم کے متعلق ہم اس سے قبل بہت دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ غیر اللہ کی قسم کسی حال میں بھی جائز اور درست نہیں ہے خواہ وہ کون ہو اور کیا ہو اور یہ کہ عربی قاعدہ کے مطابق جو زبان کا مسئلہ ہے کہ اس طرح کی قسموں میں اللہ تعالیٰ کو وہ محذوف مانتے ہیں اور مراد اس سے اس چیز کے رب کی قسم سے ہے وہ چیز خواہ کیا ہو یا کون ہو ؟ اس ضابطہ کے مطابق ہم نے اوپر ترجمہ میں بھی اس محذوف کا ذکر کیا ہے کہ قسم ہے قلم کے رب کی اور جو وہ لکھتے ہیں لکھنے والے۔ حروف مقطعات کے معنی تو نہ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی معنی کئے جاسکتے ہیں البتہ (القلم) سے مراد کون سا قلم ہے اس میں مفسرین نے بہت لمبا کلام کیا ہے اور بعض نے (ن) سے مراد رات بھی تحریر کیا ہے اور ان کے خیال میں یہ بات بےقلم ، بغیر دوات کے بیکار ہے لیکن جب انہوں نے کہا تھا اس وقت اگرچہ یہ بات کہی جاسکتی تھی اور آج یہ بات کہنا خواہ مخواہ مذاق اور استہزاء کا نشانہ بننا ہے کیونکہ اب جو قلم لکھتے ہیں ان کو دوات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے یہ تفسیر کا جتنا کام کیا ہے بغیر دوات کے صرف اور صرف قلم ہی سے کیا ہے اس لئے ہم نے اس جگہ ن سے مراد قلم بھی نہیں لیکا بلکہ حروف مقطعات کے لئے بیان کرنے کی جو وجہ ہم نے سمجھی ہے وہ اس جگہ پر صادق آتی ہے اور اس طرح ہم نے (القلم) سے مراد بھی جنس قلم ہی لیا ہے اور اس کے رب کی قسم محض اس تاکید کے لئے اٹھائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علوم جو اس وقت ظاہر فرمائے ہیں ان کے ظاہر کرنے کا ذریعہ قلم ہے جو پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور شاید یہ ذریعہ رہتی دنیا تک رہے گا۔ اگر اب ایسے طریقے بھی ایجاد ہو رہے ہیں کہ اس قلم کی محتاجی بھی شاید ختم ہوجائے اور اگر ایسی بات ہوئی تو بھی جو تحریر کیا گیا یا لکھا گیا اس پر قلم کا محاورہ ثابت آئے گا کیونکہ اس میں تحریر شدہ چیز کا محفوظ ہونا تو ظاہر ہوگا اور قلم اسی اظہار کا ایک ذریعہ ہے ویسے بھی ایک سے لے کر آج تک اس نے جتنے روپ بدلے ہیں ہر روپ میں اس کو قلم ہی کہا گیا ہے اور قلم ہی سمجھا گیا ہے وہ بھی قلم ہے جو ایک ٹکے میں دس آج بھی بکتی ہیں اور وہ بھی قلم ہے جو دو ہزار میں ایک ہی آ رہا ہے۔ بہرحال اس کو جو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے تو محض اس کی اہمیت کے لحاظ سے پیش کیا گیا ہے اور یہ بات اس میں آج بھی موجود ہے یعنی اس کی اہمیت سے آج بھی کسی کو انکار نہیں ہے اور انشاء اللہ اگر اس کے مزید روپ بدلیں گے تو بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جائے گا۔ اگر آپ غوروفکر کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کو جو عظمت حاصل ہوئی ہے محض علم و ادب سے ملی ہے اور علم و ادب کی فضیلت قلم سے وابستہ ہے یہاں تک کہ لوح و قلم کا ایک محاورہ استعمال ہوتا ہے جو محض اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ ہر ایک چیز کے محفوظ ہونے کی پوری پوری ضمانت ذہن نشین کرا دی جائے۔ اس آیت کی مزید وضاحت آپ کو سورة اقرا میں ملے گی انشاء اللہ ذرا توقف کریں وہ آگے آرہی ہے۔
Ayah 68:2آپ ﷺ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں
2 ؎ رسول اللہ ﷺ کو بعثت و نبوت سے پہلے لوگ ” الصادق “ اور ” الامین “ کے لقب سے یاد کرتے تھے یہ بات کتاب و سنت سے روز روشن کی طرح واضح ہے لیکن جونہی آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو سنایا اور لوگوں کو توحید الٰہی کا درس دینا شروع کیا تو انہی لوگوں نے آپ ﷺ کو ” مجنون “ کہنا شروع کردیا اور اس طرح پروپیگنڈا کیا کہ وہی زبانیں جو کل تک ” الصادق “ اور ” الامین “ کے لقب سے یاد کرتی تھیں آج مجنون ، شاعر ، کاہن اور اسی طرح کے دوسرے ناموں سے یاد کرنے لگے اور جو نہایت پیار کے ساتھ محمد ﷺ کہتے تھے انہوں نے آپ ﷺ کو ” مذمم “ کے لقب سے یاد کرنا شروع کردیا۔ ان لوگوں کے ان جھوٹے الزاموں کا جواب دیا جا رہا ہے اور مخاطب بھی براہ راست خود اسی ذات کو کیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان بدباطنوں کے اس طرح کے الزامات کی قطعاً پروا نہ کریں۔ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات ہیں کہ ان انعامات و احسانات کی روشنی میں کوئی شخص بھی ان کے ان الزامات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور ان کی تردید کرنے کی بھی آپ کو زحمت گوارا نہیں کرنا پڑے گی اور پھر یہ بھی کہ کسی کے کہنے سے کیا ہوتا ہے جو سورج پر تھوکتا ہے آخر وہ سورج کا کیا نقصان کرتا ہے۔ جو پہاڑ کو ٹکریں مارتا ہے وہ پہاڑ کا آخر کیا نقصان کرے گا جو کچھ بگڑے گا خود اسی کا بگڑے گا۔ یہ لوگ آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں اور زمانہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ کو اس طرح کا کوئی جنون نہیں ہے اور آپ ﷺ کا خلق عظیم ہی ان کے اس جھوٹ کی ساری قلعی کھول دے گا اور معلوم ہوجائے گا کہ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں یہ ان کے دیوانہ ہونے کی نشانی ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ دیوانہ دوسروں کو دیوانہ ہی سمجھتا ہے۔
Ayah 68:3آپ ﷺ کے لئے ایسا اجر مقرر کیا جا چکا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے
3 ؎ یہ بیوقوف جو کہتے ہیں کہتے رہیں ، ان کے کہنے سے کیا ہوگا۔ آپ ﷺ نے جس بار گراں کو اٹھایا ہے اور دین اسلام کی تبلیغ جس شاندار طریقہ سے شروع کی ہے اور جس استقامت اور عزیمت کا مظاہرہ آپ ﷺ نے کیا ہے وہ آپ ﷺ ہی کا حق تھا اور آپ ﷺ ہی کرسکتے تھے اس لئے آپ ﷺ ہی کر رہے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو گردش زمانہ کا انتظار ہے تو عنقریب یہ گردش زمانہ کے پھیر میں آنے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ اس طرح کی باتیں کیوں بناتے ہیں محض اس لئے کہ یہ اس دنیا کے سروسامان پر ریجھ گئے ہیں اور اس کو انہوں نے معیار حسن اخلاق سمجھل یا ہے حالانکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کے مال و دولت اور جاہ و جلال پر اترانے والے اور بڑائی کی ڈینگیں مارنے والے ذہنیت کے لحاظ سے نہایت پست ہوتے ہیں اور ان کے ہاں جو حق و ناحق کا معیار مقرر کیا جاتا ہے وہ سراسر ناحق ہوتا ہے۔ ان کے ان مالوں اور اولادوں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ تو چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مترادف ہے اور یہ جو کچھ ان کو دیا گیا ہے اور جس کو خیر کا معیار سمجھ رہے ہیں حقیقت اس کی فقط یہ ہے کہ یہ ان کی محض آزمائش کے لئے ہے اور اس آزمائش میں وہ پاس ہونے کے بجائے فیل ہوچکے ہیں۔ آپ ﷺ کا اجر غیر منقطع ہے کو قن کہ رہتی دنیا تک آنے والے انسان آپ ﷺ کی ان تعلیمات سے گوناگوں فائدہ اٹھائیں گے اور جتنے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں گے اتنا ہی آپ ﷺ کے اجر میں اضافہ ہوتا جائے گا اور یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا جب کہ ان لوگوں کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا اور بعد میں آنے والے ان کے ناموں کو بھی بھول چکے ہوں گے۔ ان کے کاموں کی فلاپی باقی رہے گی تاکہ وہ جس بدنامی کا موجب بنے ہیں برابر بنتے چلے جائیں۔ غیر ممنون کے معنی غیر منقطع کے ہیں اور یہ وہ انعام و احسان ہے کہ اس کے برابر دنیا کا اور کوئی انعام و احسان نہیں ہو سکتا گویا یہ وہ پنشن (Pension) ہے جو قیامت تک کے لئے ایک ہی آرڈر سے نافذ کردی گئی ہے اور کبھی منقطع نہیں ہوگی۔
Ayah 68:4بلاشبہ آپ ﷺ کا خلق نہایت ہی عظیم الشان ہے
4 ؎ (خلق) عادت ، خصلت ، خو ، خلق جمع اخلاق۔ عقائد و عبادات کے بعد تعلیمات نبوی کا تیسرا باب اخلاق ہے۔ اخلاق سے متقصود باہم بندوں کے حقوق و فرائض کے وہ تعلقات ہیں جن کو ادا کرنا ہر انسان کے لئے مناسب بلکہ ضروری ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس دنیا کی ہر شے سے تھوڑا بہت اس کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔ اس تعلق کے فرض کو بحسن و خوبی انجام دینا اخلاق ہے۔ اس کے اپنے ماں باپ ، اہل و عیال ، عزیز و رشتہ دار ، دوست و احباب سب سے تعلقات ہیں بلکہ ہر اس انسان کے ساتھ اس کا تعلق ہے جس سے وہ محلہ ، وطن ، قومیت ، جنسیت یا اور کسی نوع کا علاقہ رکھتا ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر حیوانات تک سے اس کے تعلقات ہیں اور ان تعلقات کے سبب سے اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں۔ دنیا کی ساری خوشی ، خوشحالی اور امن وامان اسی اخلاق کی دولت سے ہے۔ اسی دولت کی کمی کو حکومت و جماعت اپنے طاقت و قوت کے قانون سے پورا کرتی ہے اگر انسانی جماعتیں ، اپنے اخلاقی فرائض کو پوری طرح از خود انجام دیں تو حکومتوں کے جبری قوانین کی کوئی ضرورت ہی نہ ہو۔ اس لئے بہترین دین و مذہب وہ ہے جس کا اخلاقی دبائو اپنے ماننے والوں پر اتنا ہو کہ وہ ان کے قدم کو سیدھے راستے سے بہکنے نہ دے۔ دنیا کے سارے مذاہب نے کم و بیش اس کی کوشش کی ہے اور اس دنیا کے آخری دین و مذہب اسلام نے بھی یہی کیا ہے۔ اسلام کی ان مساعی اور کوششوں کا باب اتنا لمبا ہے کہ اس جگہ تفصیل کی گنجائش ممکن ہی نہیں ہے اور اختصار سے کچھ کہنے کے سوا چارہ بھی نہیں ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : (بعثت لاتمم مکارم الاخلاق و محاسن الاعمال) ” میں بزرگ ترین اخلاق اور بہت ہی اچھے اعمال کی تکمیل کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ “ اسلام نے ہم کو بتایا ہے کہ اخلاق رذیلہ کے منبع چار ہیں :
(1) جہل (2) ظلم (3) شہوت (4) غضب۔
(1) تاثیرات جہل میں سے ہے کہ ہر اچھی شے کو بری اور بری شے کو اچھی شکل میں نمایاں کرتا ہے۔ کمال کو نقص اور نقص کو کمال دکھاتا ہے۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ہے کہ : (اصب الیھن واکن من الجاھلین) (12 : 23) ” اگر میں ان عورتوں کی باتوں میں پھنس گیا تو میں جاہل ہو جائوں گا۔ “
(2) تاثیرات ظلم میں سے ہے کہ کسی شے کو اس کے غیر محل میں رکھا جائے جیسے خوشنودی کے مقام پر خفگی ، سخاوت کے مقام پر بخل ، بخل کے مقام پر بذل ، نرمی کے مقام پر سختی اور سختی کے مقام پر نرمی۔ انکسار کے مقام پر تکبر اور وقار کے مقام پر انکسار یعنی حقوق غلط استعمال اور غلط استعمال پر دعویٰ استحقاق۔ قرآن کریم میں (ان الشرک لظلم عظیم) حقوق الٰہی کا غصب کرنا اور ان حقوق کا استعمال دوسرے کے لئے جائز سمجھنا بزرگ ترین ظلم ہے۔
(3) تاثیرات شہوت میں سے ہے کہ مرض بخل اور تنگ دلی کو ترقی ہوتی ہے۔ حصہ غیر پر حملہ کیا جاتا ہے۔ وقار نفس اور پارسائی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے : (اعطی کل ذی حق حقہ) اللہ تعالیٰ نے ہر ایک حقدار کو اس کا حق ادا فرما دیا ہے۔ فرمایا (لا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا ) (بنی اسرائیل : 32) ” زنا کے قریب بھی نہ جائو یہ کھلی بےحیائی ہے اور بہت بڑی سڑک ہے۔ “
(4) تاثیرات غضب میں سے تکبر ، کینہ ، حسد ، بغاوت اور سفاہت پیدا ہوتے ہیں۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے تین بار درخواست کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائی جائے تو آپ ﷺ نے ہر بار اس کو یہی جواب دیا کہ : (لاتغضب) غیظ و غضب سے دور رہو۔ اس طرح ہم کو اسلام نے بتایا ہے کہ اخلاق محمودہ کے سرچشمے چار ہیں :
(1) صبر (2) عفت (3) شجاعت (4) عدل
(1) صبر کے نتائج میں اس نے ہم کو تعلیم دی ہے کہ برداشت مصائب ، غصہ پی جانا ، عدم ایذا دہی ، بردباری ، خاکساری ، گھبراہٹ کا نہ ہونا اور کسی پر خواہ مخواہ حملہ نہ کرنا۔ صبر کا ذکر قرآن کریم میں تقریباً ستر بار آیا ہے اور ہم اس کی وضاحت غزوۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة طہ کی آیت 130 کے ضمن میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں اس کا بیان آیا ہے اگر اس کو جمع کریں تو اس کو تقریباً 6 اصناف پر بیان کیا گیا ہے۔ امام احمد بن حنبل (رح) نے فرمایا ہے کہ نصف ایمان کا نام صبر ہے اور نصف کا نام شکر۔
(2) عفت کے نتائج یہ ہیں ، رذائل و قبائح سے اجتناب ، قولاً و فعلاً پاکیزگی ، عفت سے حیا پیدا ہوتی ہے اور حیاء کا اثر ہر ایک خلق نیک پر ہے۔ عفت سے جھوٹ ، بخل اور بدکاری کا ستیاناس ہوتا ہے۔
(3) شجاعت کے نتائج ہیں کہ اپنی عزت کو آپ ملحوظ خاطر رکھنا۔ اچھے اور بہترین اخلاق کی تلاش میں رہنا۔ مال و جان سے دوسروں کی امداد کرنا۔ طیش و غضب سے دور رہنا۔ اپنے نفس کی باگ عقل کے سپرد کردینا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے : (لیس الشدید بالصرعۃ انما الشدید الذی بملک نفسہ عند الغضب ) ” پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دیتا ہے پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو سنبھال لیتا ہے۔
(4) عدل کے نتائج میں اعتدال ، اخلاق اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر وسط کو اختیار کرلینا عدل بتاتا ہے کہ جود و سخا اسے کہتے ہیں جو بخل اور اسراف کے درمیان ہو۔ عدل بتاتا ہے کہ حیا وہ ہے جو ذلت و بےشرمی کا میانہ ہے۔ عدل بتاتا ہے کہ شجاعت اسے کہتے ہیں جو جبن اور تہور کا وسط ہو۔ عدل بتاتا ہے کہ حلم یہ ہے کہ تکبر و امانت کے بیچ بیچ ہو۔ ان تصریحات سے ظاہر ہے کہ اسلام نے اخلاق حسنہ کے بیان میں کس قدر زیادہ حصہ لیا ہے۔
حدیث میں ہے کہ : (البر حسن الخلق) ” اچھے خلق ہی کا نام نیکی ہے “ (مسلم عن نوای بن سبحان ؓ آپ ﷺ نے فرمایا ، (خیار کم احاستکم اخلاقاً ) ” نیک اور بہتر وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں “ ایک حدیث میں ہے کہ : (مامن شی ئِ اثفل فی میزان ال مومن یوم القیامۃ من خلق حسن) ” قیامت کے دن مومن کے ترازو میں سب سے زیادہ وزن دار شے اچھے اخلاق ہیں ، ان سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی۔ “ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (وان اللہ لیبغض الفاحش البذی) ” اللہ تعالیٰ ہر ایک بےحیا ، بدزبان سے بغض رکھتا ہے “ (ترمذی ، ابودائود و عن ابوالدرداء ؓ عنہض
اسلام میں اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نماز میں جو دعا مانگتے تھے اس میں آپ ﷺ اکثر ارشاد فرماتے : (واھدنی لاحسن الاخلاق لایھدی لا حسنھا الا انت واصرف عنی سیا تھا لا یصرف عنی سیا تھا الا انت) (مسلم باب الدعا فی الصلوٰۃ) ” اور اے میرے اللہ ! تو مجھ کو بہتر سے بہتر اخلاق کی راہنمائی فرما کر تیرے سوا کوئی بہتر سے بہتر اخلاق کی راہ نہیں دکھا سکتا اور بڑے اخلاق کو مجھ سے پھیر دے اور ان سے کوئی نہیں پھیر سکتا مگر تو “ ان الفاظ کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوگا کہ ایک اللہ کا رسول وہ بھی خاتم النبیین اپنے تقرب اور استجابت کے بہترین موقع پر بارگاہ الٰہی سے جو چیز مانگتا ہے وہ حسن اخلاق ہے۔
نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کسی خاص قوم یا زمانہ تک محدود نہیں اس لئے آپ ﷺ کو اخلاقی تعلیم کا جو صحیفہ عنایت ہوا اس کو صرف ایک قوم یا زمانہ کی اخلاقی اصلاح تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ تمام قوموں اور زمانوں تک وسیع کہا گیا اس لئے تمام قوموں اور زمانوں میں جو برائیاں پائی جاتی ہیں یا پائی جانے والی تھیں۔ ان سب کا استقصار کر کے منع کیا گیا اور اس طرح تمام انسانی اخلاقی محاسن کو بھی کھول کر بیان کیا گیا اور ان کے حصول کی تاکید کی گئی۔ گزشتہ صحیفوں میں جن برائیوں سے روکا گیا تھا یا جن نیکیوں کی تعلیم دی گئی تھی۔ آپ ﷺ کی وحی مبارک نے ان کی تمام جزئیات کا استقصار کیا اور ان کے گوشہ گوشہ کو کھول کر روشن کرایا۔ ذیل میں ہم ان اخلاقی تعلیمات کی ایک مجمل فہرست درج کرتے ہیں جن کی تعلیم یا ممانعت قرآن کریم نے کی ہے۔ مفصل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔
قرآن کریم میں جو اخلاق دیئے گئے ہیں ان کی مجمل فہرست اس طرح ہے :
سچ بولنا ، جھوٹ کی برائی بیان کرنا اور جھوٹ سے نفرت ، علم بےعمل کی مذمت ، عام عفو و درگزر ، توکل ، صبر ، شکر ، حق پر استقامت ، اللہ کی راہ میں جان دینا ، سخاوت اور خیرات کا حکم ، بخل کی برائی ، اسراف اور فضول خرچی کی ممانعت ، میانہ روی کی تاکید ، عزیزوں ، قرابت داروں ، ییموں اور مسکینوں اور پڑوسیوں کے ساتھ نیکی ، مسافروں ، سائلوں اور غریبوں کی امداد ، غلاموں اور قیدیوں کے ساتھ احسان ، فخر و غرور کی برائی ، امانت داری ، وعدہ کا ایفاء کرنا ، عہد کا پورا کرنا ، معاہدوں کا لحاظ رکھنا ، صدقہ و خیرات ، نیکی اور بھلائی کی بات کرنا ، آپس میں لوگوں کے درمیان محبت پیدا کرنا ، کسی کو برا بھلا نہ کہنا ، کسی کو نہ چڑانا ، نہ برے ناموں سے یاد کرنا۔ والدین کی خدمت اور اطاعت ، ملاقاتوں میں باہمی بھلائی اور سلامتی کی دعا دینا ، حق گوئی ، انصاف پسندی ، سچی گواہی دینا ، گواہی کو نہ چھپانا ، جھوٹی گواہی کا دل کی گنہگاری پر اثر ، نرمی سے بات کرنا ، زمین پر اکڑ کر نہ چلنا ، صلح جوئی ، اتحاد و اتفاق ، ایمانی برادری ، انسانی برادری ، اکل حلال ، روزی خود حاصل کرنا ، تجارت کرنا ، گداگری کی ممانعت ، لوگوں کو اچھی بات کی تعلیم دینا اور بری بات سے روکنا ، اولاد کشی ، خودکشی اور کسی دوسرے کی ناحق جان لینے کی ممانعت ، یتیم کی کفالت ، اس کے مال و جائیداد کی نیک نیتی کے ساتھ حفاظت ، ناپ اور تول میں بےایمانی نہ کرنا ، ملک میں فساد برپا نہ کرنا ، بےشرمی کی بات سے روکنا ، زنا کی حرمت ، آنکھیں نیچی رکھنا ، کسی کے گھر میں بےاجازت داخل نہ ہونا۔ ستر اور حجاب ، خیانت کی برائی ، آنکھ ، کان اور دل کی بازپرس ، نیکی کے کام کرنا ، لغو سے اعراض ، امانت و عہد کی رعایت ، ایثار ، تحمل ، دوسروں کو معاف کرنا ، دشمنوں سے درگزر ، بدی کے بدلہ نیکی کرنا ، غصہ کی برائی ، مناظروں اور مخالفوں سے گفتگو میں آداب کا لحاظ ، مشرکوں کے بتوں تک کو برا نہ کہنا ، فیصلہ میں عدل و انصاف ، دشمنوں تک سے عدل و انصاف ، صدقہ و خیرات کے بعد لوگوں پر احسان دھرنے کی برائی ، الاہنے کی مذمت ، فسق و فجور سے نفرت ، چوری ، ڈاکہ ، رہزنی اور دوسرے کے مال کو بےایمانی سے لے لینے کی ممانعت ، دل کا تقویٰ اور پاکیزگی ، پاکبازی جتانے کی برائی ، رفتار میں وقار و متانت ، مجالس میں حسن اخلاق ، ضعیفوں ، کمزوروں اور عورتوں کے ساتھ نیکی ، شوہر کی اطاعت ، بیوی کا حق ادا کرنا ، ناحق قسم کھانے کی برائی ، چغل خوری ، طعنہ زنی اور تہمت دھرنے کے ممانعت ، جسم و جان اور کپڑوں کی پاکیزگی اور طہارت ، شرمگاہوں کی ستر پوشی ، سائل کو نہ جھڑکنا ، یتیم کو نہ دبانا ، خدا کی نعمت کو ظاہر کرنا ، غیبت نہ کرنا ، بدگمانی نہ کرنا ، سب پر رحم کرنا ، ریا اور نمائش کی ناپسندیدگی ، قرض دینا ، قرض معاف کرنا۔ سود اور رشوت کی ممانعت ، ثبات قدم ، استقلال اور شجاعت و بہادری کی خوبی ، لڑائی کے گھسمان سے نامردی سے بھاگ کھڑا ہونے کی برائی ، شراب پینے اور جوا کھیلنے کی ممانعت ، بھوکوں کو کھانا کھلانا ، ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بےشرمی کی باتوں سے پرہیز ، بےغرض نیکی کرنا ، مال و دولت سے محبت نہ ہونا ، ظلم سے منع کرنا ، لوگوں سے بےرخی نہ کرنا ، گناہ سے بچنا ایک دوسرے کو حق پر قائم رکھنے کی فہمائش ، معاملات میں سچائی اور دیانتداری۔
احادیث میں دیئے گئے اخلاق کی ایک مجمل فہرست اس طرح ہے
اسلام کا اخلاقیات کا بڑا ذخیرہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اقوال میں ہے جو آپ ﷺ کی احادیث میں مذکور ہیں اور ان کی کثرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ کنزل العمال میں جو ہر قسم کی حدیثوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اخلاقی تعلیمات باریک ٹائپ کی بڑی تقطیع کے 187 صفحوں میں ہیں ، جن میں سے ہر صفحہ میں 37 سطریں ہیں اور تعداد کے اعتبار سے یہ تین ہزار نو سو چھ حدیثیں ہیں جو ڈھائی سو کے قریب مختلف اخلاقی ابواب و عنوانات میں منقسم ہیں۔ ان میں سے بعض مکرر باتیں بھی ہیں۔ تاہم ان سے اندازہ ہوگا کہ انسان کی اخلاقی و نفسانی کیفیات و حالات کا کوئی ایسا جز نہ ہوگا جو داعی اسلام (علیہ السلام) کی تلقینات کی فہرست سے رہ گیا ہو اور جس پر دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے آخری اخلاقی معلم کی نگاہ نہ پڑی ہو۔ ہم ذیل میں آنحضرت ﷺ کی اخلاقی تعلیمات کے صرف وہ عنوانات لکھتے ہیں جو صحیح بخاری ، جامع ترمذی اور سنن ابی دائود میں مذکور ہے۔
صلہ رحمی ، ماں باپ کے ساتھ سلوک ، بچوں سے محبت ، چھوٹوں کی محبت اور بڑوں کی عزت ، اپنے بھائی کو اپنے یہ مانند چاہنا ، ہمسایوں کے ساتھ سلوک ، غلاموں کے ساتھ سلوک ، غلاموں کا قصور معاف کرنا ، اہل و عیال کی پرورش ، یتیموں کی پرورش ، بیوہ کی خبر گیری ، حاجت مندوں کی امداد ، اندھوں کی دستگیری ، عام انسانوں کے ساتھ ہمدردی ، قرض داروں پر احسان ، فریادیوں کی فریاد رسی خلق کو نفع رسانی ، مسلمانوں کی خیر خواہی ، جانوروں پر شفقت اور رحم ، محسنوں کی شکر گزاری ، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ، بیماروں کی خدمت و عیادت ، حسد کی ممانعت ، دوسروں کی مصیبت پر خوش ہونے کی ممانعت ، شجاعت و بہادری ، لڑائی کے میدان سے بھاگنے کی برائی ، امیر و امام کی اطاعت ، مداومت عمل ، اپنے ہاتھ سے کام کرنا ، شیریں کلامی ، خوش خلقی ، فیاضی ، بدزبانی سے اجتناب ، مہمان نوازی ، شرم و حیا ، حلم و وقار ، غصہ کو ضبط کرنا ، عفو و درگزر ، صبر تحمل ، حسب و نسب پر فخاری کی مذمت ، بدگمانی کی برائی ، کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہونا۔ دوسروں کے گھر جا کر ادھر ادھر نہ دیکھنا۔ دوسرے بھائی کے لئے پیٹھ پیچھے دعا کرنا ، رفق و نرمی ، قناعت اور استغناء ، گداگری کی ممانعت ، اپنے گناہوں کی پردہ پوشی ، اپنے بھائیوں کے عیوب پر پردہ ڈالنا ، چغل خوری کی ممانعت ، تہمت لگانے کی برائی ، غیبت کی ممانعت ، بغض و کینہ کی ممانعت ، دوسروں کی ٹوہ لگانے کی ممانعت ، راز داری ، تواضع و خاکساری ، امانت داری ، گالی کی ممانعت ، منہ پر مدح و ستائش کی ممانعت ، لعنت کرنے کی ممانعت ، بخل کی ممانعت ، فضول گوئی کی ممانعت ، فضول خرچی کی ممانعت ، کبر و غرور کی مذمت ، ہنسی مذاق کی برائی ، نفس انسانی کا احترام ، ظلم کی ممانعت ، عدل و انصاف ، تعصب کی ممانعت ، سخت گیری کی ممانعت ، غم خواری و غم گساری ، توکل ، لالچ کی برائی ، رضا بالقضاء ، ماتم کی ممانعت ، قمار بازی کی ممانعت ، سچائی کی ہدایت اور جھوٹ کی ممانعت ، جھوٹی گواہی کی ممانعت ، جھگڑا فساد کرنے کی ممانعت ، باہم مصالحت کرانا ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ ناراض نہ رہے۔ منافقت اور دوزخی چال کی مذمت ، وعدہ خلافی کی ممانعت ، خیانت اور فریب کی ممانعت ، شرابی خوری ، زنا کاری اور چوری کی ممانعت ، طہارت و صفائی ، دوست و احباب کی ملاقات سلام و تحیت ، مصافحہ و معانقہ ، دیگر آداب ملاقات ، آداب مجلس ، آداب طعام ، آداب لباس ، آداب نشست و برخاست ، خانہ داری کے آداب ، سونے جاگنے کے آداب ، عورتوں کے متعلق خاص آداب و اخلاق و سلوک کے احکام۔
ان تفصیلات سے قیاس ہو سکے گا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے ذریعہ اخلاقیات کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ انسانوں کو عطا کیا گیا ہے۔
Ayah 68:5عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
5 ؎ جو کچھ وہ کہتے ہیں اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے علم میں ہے ، یہی ناکہ وہ آپ ﷺ کو دیوانہ کہتے ہیں اور اس طرح کہہ کر وہ آپ ﷺ کی باتوں کو ہلکا اور بےوزن کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا ان کے کہنے سے آپ ﷺ کی باتیں بےوزن ہوجائیں گی۔ آپ ﷺ تو وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کہنے کا حکم دیا ہے پھر جو آپ ﷺ کہہ رہے ہیں اس کا رزلٹ (Result) عنقریب ان کو دکھا دیا جائے گا اور جو کچھ وہ آپ ﷺ کے متعلق الٹی سیدھی ہانکتے ہیں اس کا انجام بھی عنقریب ان کو دیکھنا پڑے گا اور وہ دیکھیں گے۔ پھر غور کرو کہ کتنا عرصہ گزرا تھا کہ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے کئے کا انجام دیکھ لیا اور آج تو یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کس نے کیا دیکھا اور کیا نہیں دیکھا۔
Ayah 68:6معلوم ہوگیا کہ کون تم میں سے دیوانہ تھا
6 ؎ گزشتہ چھوٹے سے فقرہ میں جو بات کہی تھی اس کی مزید وضاحت بیان کردی کہ پھر وقت آنے پر سب نے دیکھ لیا کہ دیوانہ اور مجنون کون تھا ؟ جس کو کہا گیا وہ یا جن لوگوں نے کہا وہ دیوانہ تھے ؟ اور آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ جس کو انہوں نے دیوانہ ، شاعر اور کاہن وغیرہ کے الزام دیئے اس کا دعویٰ اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کا تھا اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا نکلا اور جو جو باتیں اس نے اللہ کے حکم سے کہی تھیں ان میں سے ایک ایک صحیح اور درست نکلی اور آپ ﷺ پر اس طرح کے الزامات رکھنے والے حواس باختہ ہوگئے اور یہ بات فتح مکہ کے روز بالکل صاف ہوگئی۔
Ayah 68:7اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کون راہ راست پر ہے اور کون بھٹکا ہوا ہے
7 ؎ جب باتیں بنانے والے باتیں بنا رہے تھے اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا پیغام ان کو سنا رہے تھے اس وقت بھی یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں موجودتھی کہ اس کی راہ سے بھٹکا ہوا کون ہے اور ہدایت یافتہ کون ہے ؟ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا تو سب کو معلوم ہوگیا اور کسی پر بھی بات پوشیدہ نہ رہی کہ گمراہ کون ہے اور ہدایت یافتہ کون ہے ؟ یاد رہے کہ علم کے معنی جاننے کے بھی ہیں اور ظاہر کرنے کے بھی جب اس کی نسبت انسانوں کی طرف ہو تو اس کے معنی جاننے ہی کے کئے جاتے ہیں لیکن جب علم کی نسبت اللہ رب کریم کی طرف ہو تو اس کے معنی جاننے کے نہیں ہوتے بلکہ ظاہر کرنے کے ہوتے ہیں کیونکہ علم الٰہی سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی لیکن دوسروں پر تب ہی واضح ہوتی ہے جب اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے تو کسی کا حال ، کسی وقت بھی پوشیدہ نہیں ہوتا وہ ہر وقت ہر ایک کی حالت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس کو تو معلوم ہی تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو میں نے اپنا رسول بنا کر مبعوث کیا ہے اور یہ لوگ میرے رسول کے پے آزار ہیں اور اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں پھر لوگوں کو اس بات کا کب پتا چلا کہ ہدایت پر کون ہے اور گمراہی کس کے حصہ کی چیز ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ اس وقت ہی معلوم ہوا جب ان پر بات واضح ہوگئی پھر علم کے یہ معنی قرآن کریم میں عام بیان ہوئے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو غزوۃ الوثقی ، جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 3 اور آیت 11 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 68:8آپ ﷺ ان جھٹلانے والوں کی بات کو بالکل نہ سنیں
8 ؎ (فلا تطع) اور تو حکم نہ مانے یا تو حکم نہ مانے گا۔ اطاعت سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر اور لانفی کے لئے ہے اور (تطع) اصل میں تطبع تھا اور ان شرطیہ کے آنے سے ” ی “ جو حرف علت ہے حذف ہوگیا۔ اور ” تطبع “ سے تطع ہوگیا اور اس طرح آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کی بات کو نہ ماننے کا حکم دیا گیا۔ اس میں دیکھنے اور سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ ان کی باتوں کو ماننے لگے تھے یا آپ ﷺ پر ان کی باتوں کے ماننے کا شبہ ہوا تھا ؟ اگر نہیں تو اس کے معنی کیا ہوئے ؟ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ جب لوگوں کی باتوں کو سنتا ہے تو قدرتاً اس پر ان کی باتوں کا کچھ نہ کچھ اثر پڑتا ہے اور اس سے وہ دل تنگ ہوتا ہے اور اس تنگی کو دور کرنے کے لئے اس طرح کی بات کی جاتی ہے کہ آپ ان کی باتوں میں نہ آئیں۔ گویا ان کی باتوں کو سننے کے باوجود ان سنی کردیں اور ان کا اثر قبول نہ کریں اور یہ بات کہ مخاطب فرما کر آپ ﷺ کو امت کی سارے لوگوں کو تعلیم دے دی کہ اکثریت کے پروپیگنڈے کی قطعاً پروانہ کریں جس طرح یہ حق باتوں کو سن کر ان سے منہ پھیر دیتے ہیں آپ ان کی ناحق باتیں سن کر ان سے منہ پھیر دیں اور دیکھیں کہ ان کو ان کے کرتوتوں کی کس طرح سزا ملتی ہے۔ ذرا توقف کریں اور جو یہ کہتے ہیں سنتے رہیں اور دیکھیں کہ ان کو کس طرح ان کے کئے کی سزا ملتی ہے۔
Ayah 68:9یہ تو کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر آتے ہیں لیکن حق میں یہ اصول نہیں چلتا
9 ؎ (تدھن) تو نرمی کرے ، تو ملائمت کرے ، تو سستی کرے ، تو ڈھیلا ہو ادھان سے جو اصل میں ” تدھین “ تھا جس کے معنی چکنا کرنے اور تیل ڈالنے کے ہیں مگر اس سے مراد ملائمت اور سستی لی جاتی ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (ید ھنون) وہ بھی نرمی کریں اور وہ بھی سستی کریں وہ بھی ڈھیلے پڑیں جمع مذکر غائب مضارع ہے وہ بھی مکھن لگائیں۔ (دھن) ہر چکنی چیز کو کہتے ہیں اور باتوں کو چکنا کرنے کا مفہوم ہماری زبان میں عام ہے جس کے معنی عام طور پر اس طرح کئے جاتے ہیں کہ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے مطابق کام کرو یعنی کچھ تم ہماری مان لو کچھ ہم تمہاری مان لیتے ہیں تاکہ درمیان میں کہیں ہماری اور آپ کی صلح ہوجائے اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آپس میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے موقف سے ذرا ہٹ کر صلح کرلی ہے۔ اس وقت تک مکہ والوں کے سامنے صرف اور صرف دو باتیں کی گئی تھیں ایک توحید خداوندی اور دوسری آخرت یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنا اور اسلام نے یہ دونوں نظریات ان کے سامنے پیش کئے اور اب تم خود غور کرو کہ ان دونوں نظریوں میں کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر صلح کی صورت کیا ہے ؟ تصور کے طور پر مکہ والے اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر نہیں تھے بلکہ ماننے والے تھے ، اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات بھی مانتے تھے ، زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا بھی۔ ان کے اس اعتراف کا ذکر قرآن کریم میں کئی بار کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو بھی شریک مانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ بزرگ بارش لانے والا ہے اور یہ بزرگ دھوپ چڑھانے والا ہے۔ بیٹے فلاں کی سفارش سے دیئے جاتے ہیں اور فلاں مراد کو فلاں پورا کرنے والا ہے۔ اسلام نے ان ساری باتوں کی تردید کرتے ہوئے ان سے صاف صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کسی ایک صفت میں بھی کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے اور یہی بات آخرت کے معاملہ میں تھی۔ کفار مکہ کا موقف تھا کہ بس دنیا کی زندگی یہی زندگی ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی دی جائے گی محض ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اب غور کرو کہ اس میں اگر ڈھیل کی جائے تو وہ کیا ہوگی اور کیسے ہوگی ؟ گویا یہ ایک بات ہے جو وہ کہہ رہے ہیں اور اب ان کی ضد ہوچکی ہے اس لئے وہ کہتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کو حق بات میں اس طرح کی مداہنت کی ضرورت نہیں ہے اور حق بات میں نرمی فقط یہ ہے کہ وہ کہی جائے اور اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے اور نہ ماننے والوں سے محض اس لئے کوئی انتقام نہ لیا جائے کہ وہ حق کو مان کیوں نہیں رہے اگر وہ حق کو نہیں مانتے تو حق کو ماننے والوں کا وہ کچھ بھی نقصان نہیں کر رہے ہیں۔
Ayah 68:10آپ ﷺ کسی بھی قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی بات نہ مانیں
10 ؎ آیت 8 کی طرح دوبارہ تنبیہہ اور تلقین کی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی ایسے شخص کی باتوں کا اثر قبول نہ کریں جو اپنی باتوں کو منوانے کے لئے جھوٹ موٹ کی قسمیں کھانے کا عادی ہوچکا ہے اور اس کی رسوائی سے بچہ بچہ واقف ہے۔ اگرچہ کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی اس کے منہ پر اس کو کچھ نہ کہے اور اس کی جرأت نہ کرے لیکن اس کے کردار سے سارے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اس کا نام آتے ہی سب کو ہنسی آجاتی ہے کہ یہ شخص کہتا کیا ہے اور کرتا کیا ہے۔ (حلاف) بہت قسمیں کھانے والا اور اس بات کی پرواہ کئے بغیر قسمیں کھانے والا کہ اس کی بات سچی ہے یا جھوٹی (مھین) ذلیل و رسوا کو کہتے ہیں خواہ وہ عذاب ہو یا جس کو اس طرح کا عذاب دیا جانے والا ہو۔ دراصل یہ پاپولر لوگوں کی عادت ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھائیں گے اور اپنی بات کو مضبوط بنانے کیلئے زیادہ ترقیوں سے کام لیں گے اور لاریب یہ کسی ایک شخص کے کردار کی بات نہیں بلکہ عام ہے اور (کل) کے لفظ نے اس کو مزید عام کردیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ جو شخص قسمیں کھانے کا عادی ہو اور بات بات پر قسمیں کھائے اس کی یہ عادت محض جھوٹے ہونے کی ایک نشانی تصور کر لینی چاہئے ورنہ سچی بات کہنے والے کو قسمیں کھا کھا کر باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو جو بات کرے گا وہ سوچ سمجھ کر کرے گا اور الٹی سیدھی باتیں کرنے اور باتوں باتوں میں قسمیں کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی ایسی حرکت کرے گا۔ انسانی خصلت و رحمت کا بھی عجب حال ہے کہ وہ کسی ایک عادت و خصلت کا عامل ہو تو اس کی بہت خصلتوں اور عادتوں کا کھوج لگایا جاسکتا ہے اور برملا کہا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر اگر یہ بات اور یہ خصلت ہے تو فقط یہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ اور یہ بھی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس کے ساتھ اسی طرح کی خصلتوں کا حامل ہوتا ہے۔ ہماری اپنی زبان میں یہ محاورہ زبان زد خاص و عام ہے کہ جو شخص کبوتر باز ہے وہ اس طرح کی کئی عادتوں کا حامل ہوتا ہے اور خصوصاً وہ عادتیں جن کے ساتھ باز کا لفظ لاحق ہو۔ اس طرح قرآن کریم نے بھی اس کی وضاحت کردی کہ جو شخص حلاف و مہین ہے اس میں خصلتیں اور بھی ہیں جو اس کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ان کا نام آگے لیا جا رہا ہے۔
Ayah 68:11ایسا شخص لوگوں کو طعنے دیتا ہے اور چغلیاں کھاتا ہے
11 ؎ پہلی دو صفتوں کے ساتھ دو صفات کا اور ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف پہلی دو صفتوں کا حامل ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ طعنہ زنی کرنے والا بھی ہے اور چغلی کھانے کی عادت بھی اس میں موجود ہے اور اس طرح بہت سی عادتیں اور بھی اس میں پائی جاتی ہیں جیسے (ھماز) صیغہ مبالغہ ھمز سے مصدر۔ بڑا عیب گو ، طعن وتشنیع کرنے والا۔ ھمز بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا ، نچوڑنا ، چبھونا ، عیب گوئی کرنا ، دور کرنا ، مارنا ، کاٹنا ، توڑنا ، زمین پر پٹخنا ، ھمز ال شیطان شیطانی وسوسہ ، دیوانگی ھمزۃ لوگوں کے عیب کو ڈھونڈنا۔ ھامز عیب چیں ، چغل خور۔ (مشاء) اسم مبالغہ مشی مصدر بہت زیادہ چلنے والا اور (ھماز مشاء) کے معنی ہیں بہت زیادہ چغل خور جو ادھر کی بات ادھر اور ادھر یک بات ادھر کرنے والا ہو اور بہت زیادہ ہی چغلیاں کھانے والا ہو۔ گویا چلتے چلتے چغلی کھا جانے والا جو آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارہ سے بہت کچھ کہتا ہو اور بولتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ (بنعیم) مصدر جو بہت قریب جا کر کان میں باتیں کرنے کی عادت رکھتا ہو اور ان تینوں کاموں کا متحمل تو پھر سبحان اللہ ! کیا ہی کہنے ہیں اس کے جس میں ایک عادت بھی انسانوں والی نہیں اور اس کے باوجود وہ اپنے دور کا لیڈر ، راہنما اور بہت بڑے کروفر کا مالک ہوتا ہے اور ابھی اس کی مزید صفات رذیلہ گنوائی جا رہی ہیں تاکہ اس کی شخصیت پہچاننے میں کسی کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
Ayah 68:12نیک کاموں سے منع کرنے والا اور حد سے بڑھا ہوا ہے
12 ؎ (مناع) صیغہ مبالغہ منع مصدر۔ معنی ہیں نیکی سے روکنے والا۔ مال روک کر رکھنے والا۔ بخیل۔ (مناع للخیر) بھلائی اور بہتری کے کاموں سے منع کرنے والا۔ (معتد) اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں معتدی تھا اور اعتداء مصدر۔ حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ (اثیم) جس میں طرح طرح کے گناہ ہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک پایا جاتا ہو۔ اور اس طرح اس کی اب تک بیان ہونے والی صفات کی گنتی آٹھ ہوچکی ہے اور دو کا ذکر آنے والی آیت میں کیا جا رہا ہے۔
Ayah 68:13بدزبان بھی ہو اور علاوہ ازیں بدنام بھی ہو
13 ؎ (عتل) سخت مزاج ، گردن کش ، اجڈ۔ اس کے معنی اس طرح نقل کئے گئے ہیں : (1) بسیار خور۔ (2) درشت خو۔ (3) ستم گر۔ (4) سخت گو اور یہ عتل سے صفت کا صیغہ ہے جس کے معنی کسی چیز کو پورے طور پر پکڑ کر سختی اور زبردستی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں۔ (منتخب اللغات) اس جگہ مراد تند خو اور سخت مزاج کافر ہیں۔ ھو الشدید الخلق الفاحش الخلق (فتح القدیر ج 5 ص 261) ” عتل وہ ہے جو جسم کا مضبوط اور اخلاق کا خراب ہو۔ “ اس طرح کہا گیا ہے کہ ” وہ شخص جو جسم کا مضبوط ہو ، صحت مند ہو ، بڑا کھانے پینے والا ہو ، جسے کھانے پینے کے لئے وافر ملتا رہے اور وہ لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہو اور توند اس کی بڑھی ہوئی ہو۔ (فتح الباری ج 8 ص 508 طبع مصریہ ، یہ اردو ترجمہ ہمارا اپنا ہے) زنیم) بدنام۔ جو کسی بھی بری علامت سے مشہور ہوجائے وہ جو کسی قوم میں نہ ہونے کے باوجود اس میں اپنے آپ کو ملائے لیکن اس میں سے نہ ہو۔ تحریر ہے کہ ” زینم بمعنی آنکہ نسبت کردہ شدہ است بقومے کہ از آنہا نباشد ماخوذ است از زنمتی الشاۃ کہ گوش برجرم گلوئے آں را پارہ می برند و آویزاں بآں می گزارند “ (تیسیر القاری ج 4 ص 625 طبع علوی لکھنؤ ) اور بعض نے اس کے معنی بداصل اور حرام زادہ کے بھی کئے ہیں۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے سلف صحابہ ؓ وتابعین رحمۃ اللہ علیہم کے متعدد اقوال میں اس کی تفسیریں نقل کرنے کے بعد ان سب کا خلاصہ اس طرح تحریر کیا ہے کہ : والاقول فی ھذا کثیرۃ ترجع الی ما قلناہ وھوان الزنیم ھو المشھور بالشر الذی یعرف بہ بین الناس و غالبا یکون دعیا ولدا زنافان فی الغالب یتسلط ال شیطان علیہ مالا یتسلط علی غیرہ کما حاء فی الحدیث لا یدخل الجنۃ ولدزنا و فی الحدیث الاخر ولدالزنا شر الثلاثۃ اذا عمل بعمل ابوبہ (ابن کثیر ج 4 ص 405 طبع مصر 1356 ھ) ” اور اس میں اقوال بہت ہیں اور سب اسی طرف لوٹتے ہیں جو ہم نے بیان کیا کہ (زنیم) وہ شخص ہے جو برائی میں اتنا مشہور ہو کہ اسی کے ذریعہ لوگوں میں پہچانا جاتا ہو اور اکثر ایسا شخص نسب میں متہم اور حرام زادہ ہوتا ہے کیونکہ بیشتر شیطان جتنا اس پر مسلط ہوتا ہے دوسرے پر نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ولدالزنا جنت میں نہیں جائے گا اور دوسری حدیث میں ہے کہ ولد الزنا تینوں میں برابر ہے جب کہ اپنے ماں باپ کے سے عمل کرے۔ “ افراء کا بیان ہے کہ ” زنیم وہ ہے جس کے نسب میں تہمت ہو ، قوم میں ملحق ہو اور ان میں سے نہ ہو “ اس کی وضاحت میں اور بھی بہت کچھ کہا گیا ہے اور ماحصل سب کا ایک جیسا ہے۔
آیت 10 سے آیت 13 تک چار آیتوں میں ان چوہدریوں اور پارٹی لیڈروں اور مذہبی راہنمائوں اور پیشوائوں کی دس نشانیاں گنوائی گئی ہیں جن میں یہ کامل دس نشانیاں پائی جاتی ہیں تو وہ بہت سرکردہ اور اعلیٰ قسم کا لیڈر شمار ہوتا ہے ، جن لیڈروں سے آج کل کے حالات کے مطابق ملک کا صدر ، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اور دوسرے وفاقی اور صوبائی وزیر چنے جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ تعریف ان لوگوں پر صادق آتی ہے جو سینیٹر کے نام سے پکارے اور یاد کئے جاتے ہیں۔ ہاں ! ان میں سے کسی کے اندر دس نشانات مکمل ہیں اور کسی کے اندر زیادہ سے زیادہ ایک یا دو کی کمی موجود ہوتی ہے اور وہ وہی ہیں جن کو آج کل کی زبان میں نوجوان قیادت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ابھی تک عشرۃ کاملہ کے مصداق شاید نہ ہوں لیکن چند ہی سالوں میں وہ پہلوں کی جگہ خود بخود حاصل کرلیتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ جاری وساری رہتا ہے۔ ان دس پر ایک نظر دوبارہ ڈالیں تاکہ ذہن میں مستحضر رہیں۔ (1) حلاف۔ (2) مھین۔ (3) ھماز ۔ (4) مشاء۔ (5) نمیم۔ (6) مناع للخیر۔ (7) معتد۔ (8) اثیم۔ (9) عتل اور (10) زنیم۔ یہ دس نشانات ، علامات ، عادات اور خصائل جن لوگوں میں پائے جاتے ہیں وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو آج کل کے زمانہ میں لیڈروں ، راہنمائوں ، پیشوائوں ، سجادہ نشینوں ، گدی نشینوں ، پیرزادوں ، صاحبزادوں ، عباسیوں ، قریشیوں ، زرداریوں ، مزاریوں اور سرداروں میں شمار کیا جاتا ہے یا ان میں شمار ہوتے ہوئے ملک کے صدروں ، وزیراعظموں ، وزیراعلیٰ ، گورنروں ، سینیٹروں دوسرے ساری قسموں کے وزیروں میں شامل کر لئے جاتے ہیں اور پھر ان کا شمار آگے آنے والے نشانات میں خود بخود شروع ہوجاتا ہے۔
Ayah 68:14ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ یہ لوگ مالدار اور صاحب اولاد ہوتے ہیں
14 ؎ ایسے ذلیل اور رسوائے زمانہ مشہور و معروف لوگ ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جنہوں نے حکومت کے خزانہ سے حیلوں بہانوں کے ساتھ لاکھوں ، اربوں ، کھربوں روپیہ بٹورا ہوتا ہے اور ان کے اس طرح روپیہ بٹورنے کے عجیب عجیب ڈھنگ ہیں اور مختلف طریقوں سے یہ مال کو جمع کرتے اور سمیٹتے رہتے ہیں اور عوام کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکتے ہیں کہ عوام ان کو نہایت شریف اور وضع دار لوگ تصور کرتے ہیں اور ان کو اپنا لیڈر اور راہنما ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے پنتھ ہیں ، کبھی یہ لوگ عوام کی نگاہ میں ظالم ہوتے ہیں اور کبھی مظلوم اور یہ ساری ان کی سحرکاری ہوتی ہے۔ ہم اس وقت کی بات کرتے ہیں اور جب قرآن کریم نازل ہو رہا تھا ان کی یہ صورت حال دوسرے ناموں سے پکاری اور سمجھی جاتی تھی۔ تاہم یہ لوگ اس وقت صاحب مال اور صاحب خاندان و برادری اور اولاد تصور ہوتے تھے اور آج کی زبان میں ان کو باپ دادا والے لوگ شمار کیا جاتا ہے۔ ان دس نشانات کے حامل لوگوں اور ان عہدوں سے پکارے جانے والوں کا حال مزید عرض کیا جا رہا ہے کہ ان کی کوئی علامت آپ سے مخفی اور چھپی ہوئی نہ رہے۔
Ayah 68:15جب ایسوں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
15 ؎ نزول قرآن کریم کے وقت ان لوگوں کی اتنی بہتات نہیں تھی جتنی آج ہے۔ تاہم اس وقت بھی ایسے لوگ بہت تھے اور آج تو ان کا شمار ہی بہت مشکل ہے۔ لیکن قرآن کریم نے ان کا ذکر واحد شخصیت کے طور پر کیا ہے اور جب ایک کی عادت و خصائل معلوم ہوجائیں جو ان عادات و خصائل کے حامل ہوں تو سب پر وہ بات خود بخود فٹ ہونے میں زیادہ اچھی اور زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی اسلام نے انسانیت کا جو احترام کیا ہے اور بتایا ہے وہ کسی دوسرے دین و مذہب میں موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ صفات جو اوپر گنائی گئی ہیں کوئی اچھی نہیں ہیں اور انسانیت کے لئے وہ مناسب نہیں ہیں لیکن بڑے لوگوں نے انسانیت کی قدر کب کی ہے اور ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز کب ہوتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے پھر بھی ان کا ذکر فرد واحد کی صورت میں کیا ہے لیکن اس سے لازم نہیں آتا کہ یہ کوئی واحد شخصیت کا ذکر کیا جا رہا ہے اور اس کی وضاحت میں صرف ایک لفظ (کل) کا استعمال کر کے وضاحت کردی ہے اور بدستور ساری صفات کے ساتھ موجود ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کردار کے لوگوں اور ان صفات کے حامل لوگوں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان کے سامنے جب قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کو سن کر وہ بول اٹھتے ہیں کہ کیا یہ قرآن ہے ، یہ تو پہلے لوگوں کے قصے اور کہانیاں ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ یہ اس وقت کے مخاطبین کی حالت بیان کی گئی ہے کیونکہ وہ قرآن کریم کا مفہوم اور زبان کو سمجھتے تھے ، ہمارے ہاں کے اس کردار اور ان صفات کے لوگ سرے سے یہ بات تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ اس قرآن کریم کا ترجمہ ہے بلکہ وہ صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ تو اپنی طرف سے اس طرح کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے بھلا اس کو کوئی سمجھ سکتا ہے یہ تو اللہ نے محض ہمارے ثواب کی خاطر اتاری ہے اور اس کو برکت کے لئے پڑھا جاتا ہے۔ اس کا ترجمہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کے پردہ پر ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسے آدمیوں کو توبہ کرنی چاہئے اور قرآن کریم کا لوگوں کی کتابوں کی طرح ترجمے کرنے کا ہر آدمی کو حق کیسے مل گیا ؟ یہ اور اس طرح کی باتیں بنا بنا کر اپنے دل کو بہلانے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ آج تک تو ہم نے ایسا ترجمہ کبھی نہیں سنا۔ یہ لوگ نئے پیدا ہوگئے اور اب ان کی سمجھ میں قرآن آیا ہے پہلے کوئی قرآن کریم پڑھنے والا نہیں تھا۔
Ayah 68:16ہم عنقریب اس طرح کے سارے لوگوں کی ناکوں کو داغ دیں گے
16 ؎ فرمایا یہ لوگ اس طرح کی باتیں کیوں بناتے ہیں اور غریبوں کو دیکھ کر کیوں ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں اور اللہ کے بندوں سے یہ لوگ کیوں نفرت کرتے ہیں ؟ اس لئے کہ یہ ان کی ناک کا مسئلہ ہے کہ ان کی ناک دوسرے لوگوں سے بہت اونچی ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں محض ناک کی خاطر ہے اور یہ بطور محاورہ و استعارہ ہے کہ جب ان کی ناک اتنی اونچی ہے تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے دین ، ہمارے رسول اور ہماری کتاب سے جس نے ناک بھوں چڑھایا پھر ہم اس کی ناک کو ضرور داغیں گے کیونکہ اس ہاتھی کی سونڈ والے نے ناک بھوں کیوں چڑھایا اور کس لئے چڑھایا۔ آخر اللہ کے دین ، اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب میں اس نے کونسی ایسی بات دیکھی جس کے مقابلہ میں اس ایرے غیرے اور نتھو خیرے نے اپنی عزت و ناموس اور نام و نمود کے خلاف پایا۔ اس کی ناک ان چیزوں کے مقابلے میں کیسے بلند ہوگئی اگر انہوں نے اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیا ہے تو ہم کو ایسے لوگوں کی ناکیں داغنے میں کتنی دیر لگتی ہے کیا انہوں نے بڑی بڑی ناکوں والوں کی داستانیں کبھی نہیں سنیں کہ ان کے ساتھ کیا کیا گیا اور ان کے نکوڑوں پر ہم نے کس طرح ضربیں لگائیں۔
Ayah 68:17ان لوگوں کو آزمائیں گے جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جو صبح گئے تھے
17 ؎ یہ مکہ کے لوگوں کے سامنے اور ان جیسے کردار کے سارے لوگوں کے لئے ایک مثال بیان کی جا رہی ہے جس کا ذکر زیر نظر آیت سے شروع ہو کر آیت 33 تک چلا گیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ کفار مکہ کے حالات کے مناسب قرآن کریم نے ایک مثال بیان کی ہے۔ حقیقت میں کوئی واقعہ نہیں تھا اور سعد بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ واقع ہے جو یمن کی ایک بستی ضروان میں پیش آیا جو کہ صنعا سے چھ میل پر واقع تھی۔ چناچہ مفسرین نے اس واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ
اہل کتاب میں سے ایک شخص بہت مالدار ، صاحب زمین و املاک تھا اور ویسے بھی نیک انسان تھا۔ اپنی پیداوار میں سے فقراء و مساکین پر کافی خرچ کرتا رہتا تھا۔ اس کا جب انتقال ہوگیا تو اس نے چند لڑکے اپنے وارث چھوڑے۔ جب پھلوں اور کھیتیوں کے کاٹنے کا وقت آیا تو ان لڑکوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بہت ہی بیوقوف تھا کہ اپنی یہ کثیر دولت فقراء اور مساکین میں لٹا دیتا تھا ہم ایسے پاگل نہیں ہیں کہ اپنی محنت اور کمائی کو اس طرح ضائع کردیں اور آپس میں صلاح یہ کی کہ پھل اتارنے اور کھیتی کاٹنے کے لئے منہ اندھیرے چلو اور اتنی عجلت کرو کہ فقراء و مساکین کو معلوم ہی نہ ہو سکے کہ کھیتوں میں آ کر ہم کو تنگ کریں۔ ایک طرف تو یہ بخیل لوگ مشورہ کر رہے تھے کہ ساری دولت کو ذخیرہ کر کے ایک خزانہ بنا لیں اور والد کی طرح اتنا کچھ ہونے کے باوجود کورے کے کورے نہ رہیں۔ اس میں نہ تو اللہ کا کوئی حق ہے اور نہ اللہ کے سارے بندوں کی یہ جائیداد ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہونے والا تھا کہ اس نے رات ہی رات میں اس باغ کو سخت لو بیجے کر تباہ و برباد کردیا اور اس باغ اور کھیتی کے چورے کے سوا وہاں کچھ بھی موجود نہ تھا کیونکہ سب کچھ جل کر خاکستر ہوگیا تھا۔ اب جو مشورہ کے مطابق یہ لوگ رات کے اندھیرے ہی اندھیرے میں اٹھ کر باغ کی طرف روانہ ہوئے تو وہاں پہنچ کر حالات کو بالکل مختلف پایا اور ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ وہ وہاں سے آگے کی طرف نکل گئے کہ شاید ہم کسی غلط راستے کی طرف نکل آئے ہیں اور یہ وہ جگہ نہیں ہے مگر دوسرے نشانات دیکھ کر وہ چونک گئے اور واپس آ کر جو دیکھا تو وہ جگہ تو وہی تھی لیکن باغ اور کھیتی کے چورے کے سوا وہاں کچھ نہ پایا۔ وہ سمجھ گئے کہ ہم نے جو مشورہ کیا تھا وہ رب ذوالجلال والا کرام کو پسند نہ آیا۔ جو ہم نے غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کے خلاف کہا تھا اور یہ گویا ہمارے ظلم ہی کا نتیجہ ہے۔ اب وہ حسرت و افسوس سے ہاتھ ملنے لگے لیکن اب وہ باغ تو درست ہونے سے رہا وہ تو جو ہونا تھا ہوگیا اور اس طرح ان کی پکار بھی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ یہ مثال ہو یا حقیقی واقعہ قرآن کریم نے اس کے بیان میں تذکیر و تنذیر کا جو پہلو رکھا ہے وہ بہرحال اپنی جگہ بدستور موجود ہے اس لئے کہ ان آیات سے قبل قریش مکہ کی نافرمانیوں اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے انکار و کفران کا ذکر کرتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ ان کو بعض شخصیتوں یا کسی ایک شخص کی بداعتدالیوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کو مثال دے کر یا واقعہ سنا کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے رسول ﷺ اور ہماری کتاب قرآن کریم کے خلاف باہم سرگوشیاں کرنے کا انجام دہی نکلے گا جو اصحاب الجنہ کا نکلا تھا اس لئے اس کو اپنے ذہن اور خیال میں رکھو۔
Ayah 68:18اور انہوں نے بات کرتے ہوئے کسی کو بھی اس میں استثناء نہ کیا
18 ؎ ان کا ارادہ اپنے باغ کے پھل چننے اور کھیتی کاٹنے کا تھا اور ظاہر ہے کہ باغوں والے اپنے باغوں کے پھل چنتے اور کھیتیوں والے اپنی کھیتوں کو کاٹتے آئے ہیں ، کاٹ رہے ہیں اور جب تک یہ نظام قائم ہے کاٹتے رہیں گے لیکن ان لوگوں پر افتاد کیوں پڑی ؟ اس لئے کہ انہوں نے ایک ایسی اسکیم سوچی جو ان کو سوچنے کا حق نہیں تھا اور اگر اس طرح سرمنڈاتے ہی اولے نہ پڑتے تو شاید ان کی عقلیں درست نہ ہوتیں۔ اس طرح وہ پہلے مرحلہ ہی پر حقیقت کو سمجھ گئے اگرچہ باغ کا پھل اور کھیتی ان کے ہاتھ سے نکل گئی لیکن حقیقت ان کی سمجھ میں آگئی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سنبھل گئے اور انہوں نے حقیقت کا سراغ پا لیا اگر ان کی قسمت مزید باور ہوئی تو وہ بات کرتے وقت اس میں سے کچھ تو مستثنیٰ کردیتے کہ چلو جتنا خرچ ان کا والد کرتا تھا اور جس طرح اس نے ایک نیکی کا کام اپنیذمہ لیا تھا وہ اس کے برابر نہیں تو کچھ تو حصہ لیتے رہتے تاکہ وہ اپنی دنیا کو سنوارنے کیس اتھ ساتھ اپنی آخرت کی بھی کچھ تو فکر کرتے۔ انہوں نے اپنے باپ کو بیوقوف سمجھا اور خود سمجھداری کا تمغہ حاصل کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے حالانکہ کام آنے والی وہی بات تھی جو ان کے والد نے اختیار کی اور جس کو غلط ثابت کرنے کے لئے انہوں نے سکیم تیار کی جس سکیم سے ان کا سارا کیا کرایا بھسم ہو کر رہ گیا۔
Ayah 68:19تیرے رب کی طرف سے ایک پھرجانے والی چیز ان کے باغ پر پھر گئی
19 ؎ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پھرنے والی چیز ان کے باغ پر پھر گئی۔ ظاہر ہے کہ وہ آندھی تھی اور ایسی آندھی جس میں بگولے اٹھتے ہیں اور ہوا کا بگولا اتنا سخت ہوتا ہے کہ وہ مکانوں کی چھتوں تک کو اڑا کرلے جاتا ہے اور تین تین چار چار منزل والے مکانوں کو زمین بوس کردیتا ہے۔ اتنے اتنے بڑے درختوں کو وہ جڑوں سے اس طرح اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے جیسے گندم کے ایک پودے کو کوئی پکڑ کر زمین سے باہر پھینک دے۔ جس طرح کسی گاجر اور مولی کو اکھاڑا جاتا ہے۔ فرمایا جو کچھ ہوا ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کیونکہ جہاں سے وہ اٹھ کر باغ اور کھیتی کی طرف نکل کھڑے ہوئے تھے وہاں اس طرح کی کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ آفت اسی علاقے میں آئی جس علاقے میں ان کا باغ اور کھیتی تھی۔ آپ نے کبھی اولے برستے دیکھے ہوں یا ساون کی بارش کا اندازہ لگایا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک کھیت کے ساتھ دوسرا کھیت بالکل صحیح اور سالم کھڑا ہے اگر اس کا نقصان بھی ہوا ہے تو بالکل معمولی لیکن دوسری طرف والا اولوں نے اور بارش نے تباہ کردیا ہے اس طرح کی مثالیں آج بھی بیشمار مل جاتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی حکمت الٰہی ضرور ہوتی ہے اور جس کو نقصان پہنچانا مقصود ہوتا ہے اس کو بہرحال پہنچ کر رہتا ہے جیسا کہ ان کے ساتھ ہوا کہ یہ لوگ جہاں سوئے ہوئے تھے ان کے وہم و گمان میں بھی کوئی ایسی چیز نہ تھی اور جب وہاں پہنچ کر دیکھا تو وہاں کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔
Ayah 68:20ان کا باغ ایسا ہوگیا جیسا کہ کٹا پڑا تھا ، سبزے کا نام و نشان تک نہ رہا
20 ؎ (صریم) کٹا ہوا ، ٹوٹا ہوا۔ صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ بروزن فیل بمعنی مفعول یعنی کعروم سے۔ واضح رہے کہ اصل معنی (کالصریم) کے یہی ہیں کٹا ہوا ، جدا کیا ہوا۔ پھر چونکہ صبح رات سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور رات صبح سے اس لئے (صریم) کا استعمال کبھی صبح کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی رات کے معنی میں۔ اس طرح ذرہ ریگ کو بھی (صریم) کہا جاتا ہے کہ جو تودہ ریگ سے جدا ہوگیا۔ چناچہ (کالصریم) کی تفسیر میں یہ سارے اقوال بیان کئے گئے ہیں کہ وہ باغ سوکھ کر ایسا سپیدہو گیا کہ جس طرح ذرہ ہائے ریگ تو وہ ریگ سے اڑ کر منتشر ہوجاتے ہیں نیز (صریم) کی تفسیر مصروم سے بھی کی گئی ہے جیسے کہ قتیل بمعنی مقتول ہے۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة ہذا اور تفسیر بیضاوی) اور ہم نے اس کے کٹے ہونے کا مفہوم سبزے کا نام و نشان نہ رہنے سے ادا کیا ہے کہ وہاں سبزے کا نام و نشان بھی نہ رہا۔
Ayah 68:21پھر وہ صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو پکارنے لگے ، باغ میں جانے کے لئے
21 ؎ (مصبحین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ صبح کرنے والے ، صبح کرتے کرتے ، صبح کے وقت میں داخل ہوتے ہوئے۔ گویا جس وقت کو ہم سحری کا وقت یا علی الصبح کے نام سے موسوم کرتے ہیں وہی وقت تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو اٹھانا اور جگانا شروع کیا تاکہ وہ منہ اندھیرے وہاں پہنچ جائیں۔ کھاتیں اور باغ کاٹنے والے اکثر دن چڑھے اور دھوپ تیز ہونے کے وقت کام شروع کرتے ہیں اور اس وقت کا موسم ان کو بہت اچھا اور بہتر محسوس ہوتا ہے کہ ایک تو سب لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور دوسرا دھوپ کی چمک سے شبنم وغیرہ سے جو فصل میں نمی پیدا ہوجاتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے۔ جب کہ نمی فصل کاٹنے والے کے لئے معاون ثابت نہیں ہوتی۔ اور عادت میں بھی کاٹنے والوں کے یہی چیز داخل ہے جو آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 68:22اگر تم کچھ کاٹنا چاہتے ہو تو سویرے سویرے اپنی کھیتی پر پہنچ جائو
22 ؎ (صرمین) کاٹنے والے صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر صارم کی جمع۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو بلانا اور ساتھ ملانا شروع کردیا کہ جتنا جلدی کھیتی پر پہنچ سکتے ہو پہنچو۔ اگر تم کو وہاں سے کچھ حاصل کرنا ہے تو بہت ہی جلدی پہنچنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ پہلے کی طرح تڑکا ہوتے ہی مانگنے والے اور سوال کرنے والے وہاں پہنچنا شروع ہوجائیں۔
Ayah 68:23پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
23 ؎ (یتخافتون) جمع مذکر غائب مضارع تخافت مصدر چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے۔ چپکے چپکے کہتے ہوئے۔ ان کی اس حالت کا ذکر جب وہ اپنے اپنے گھروں سے نکلے تھے اور آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے تاکہ جلد سفر طے ہوجائے اور وہاں جا کر مزید مشورہ نہ کرنا پڑے بلکہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے آپس میں پہلے ہی بات چیت طے ہوجائے جو کچھ اس کو کاٹنے کے بعد کرنا ہے اور جس طرح اس کو اٹھانا ہے اور جہاں رکھنا ہے۔ کھیتی کا نام تو نہیں لیا گیا کہ وہ کس چیز کی کھیتی تھی بہرحال وہ جو کچھ بھی تھا اس کو سنبھالنے کا طریقہ تو ہونا چاہئے تھا اور اس بارے میں وہ آپس میں بطور مشورہ باتیں کرتے جا رہے تھے۔