68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 68:24

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ (دیکھو) آج تمہارے پاس کوئی محتاج نہ آنے پائے

دیکھو آج تمہارے پاس کوئی محتاج نہ آنے پائے 24 ؎ یہ وہ چپکے چپکے مشورہ کرنے اور طے کرنے کی بات ہے جس پر وہ سارے بھائی آپس میں ڈسکس (Discus) کرتے جا رہے تھے کہ آج اتنی جلدی کام ہونا چاہئے کہ کسی بھی مانگنے والے کے وہاں تک پہنچتے پہنچتے آخر وقت لگ گا اور ان مانگنے والوں کے پہنچنے سے پہلے ہی کھیتی کاٹ لی جائے تاکہ ان کے شور سے بچا جاسکے کیونکہ ایسے لوگ جب کٹتے کھیت پر پہنچ جاتے ہیں تو بہت تقاضا کرتے ہیں اور پھر خصوصاً جب وہ آج تک اس میں سے ایک کثیر حصہ لیتے بھی رہے ہیں تو اس طرح اگر وہ کٹتے کھیت پر اب بھی پہنچ گئے تو ہم کو ضرور شرمندہ کریں گے اور ہمارے باپ کے واسطہ سے بات کر کے ہم کو شرم دلائیں گے لہٰذا بہتر ہے کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی کھیتی کو کاٹ لیا جائے تاکہ ان کو مانگنے اور ہم کو شرم دلانے کا موقع ہی نہ ملے۔
Ayah 68:25

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور صبح آنے سے پہلے ہی وہ بخل کا فیصلہ کرچکے تھے

صبح ہونے سے قبل ہی انہوں نے اپنے بخل کا فیصلہ کر لیا 25 ؎ (حرد) تیزی اور غصہ کے ساتھ روکنا۔ (مفردات راغب) (حرد) کے معنی لغت میں قصد کرنے اور قصد میں ہونے کے ہیں لیکن حسن ، قتادہ اور ابو العالیہ نے سعی و کوشش سے تفسیر کی ہے۔ قرطبی ، مجاہد اور عکرمہ نے اسے طے شدہ معاملات بتایا ہے جس کی باہم قرارداد کرلی ہے اور یہ دونوں تفسیریں قصد کے معنی پر ہی مبنی ہیں کیونکہ انسان جس چیز کا ارادہ رکھتا ہے۔ کوشش سے کام لیتا ہے اور معاملہ کے متعلق بھی ایک بات طے کرلیتا ہے بعض نے لکھا ہے (عدوا غعلی حرد) یعنی مسکینوں کو روکنے کے لئے اپنے گھر سے صبح سویرے چلے اور اسی طرح جب بارش نہ ہو تو عرب کے لوگ بولتے ہیں کہ حاردۃ السۃ اس سال پانی رک گیا۔ اس طرح جب ناقہ کے دودھ نہ رہے تو کہتے ہیں حاردت الناقۃ اونٹنی نے دودھ روک لیا اور بعض نے مسکینوں کو غصے سے روکنے کے معنی بھی کئے ہیں۔ (معالم التنزیل ج 7 ص 112 طبع مصر) اس طرح گویا ان لوگوں کے ارادوں کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کردی ہے کہ ان کے ارادہ میں یہ بات آگئی اور انہوں نے اس میں سرتوڑ کوشش بھی کی اور انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم اس طرح اپنے ارادہ میں کامیاب ہوں گے کہ ہم نے اس طرح کی سکیم بنا لی ہے اور اب عمل کرنے کے لئے بھی سب مل کر چل پڑے ہیں۔
Ayah 68:26

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو راستہ بھول گئے ہیں

جب انہوں نے اس جگہ کی حالت کو دیکھا تو کہنے لگے شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں 26 ؎ جیسا کہ شروع کلام میں بھی بتا دیا گیا تھا کہ ادھر اس طرح کے مشورے ہو رہے تھے اور ادھر رب کریم نے اپنے لشکر کو حکم دے دیات ھا کہ ان اسکیموں کے پہنچنے سے پہلے پہلے تم کو اپنی سکیم لڑانا ہے کہ اس کھیتی اور باغ کو چورا چورا کرنا ہے اور اس سال وہ جس پلان (Plan) کے تحت خزانہ اکٹھا کرنا چاہتے ہیں ہمارا فیصلہ ہے کہ ایسے لوگوں کا اصل زر بھی ایک بار ختم کردیا جائے تاکہ ان کو معلوم ہو اور ان کی سمجھ میں آئے کہ انسان کے سارے ارادے کبھی پورے نہیں ہوتے اور یہ ضروری ہے کہ وہ پورے نہ ہوں کیونکہ انسان کی تفہیم ہوتی رہنی چاہئے کہ ہمارے ارادوں کو کوئی توڑنے والی طاقت بھی موجود ہے جو سب طاقتوں اور قوتوں سے زیادہ مضبوط اور جس کی سکیم (Scheme) ہمارے سکیموں سے زیادہ پختہ ہے کہ وہ کبھی خفا نہیں ہوتی اور وہی ہوتا ہے جو اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہی رب ذوالجلال والاکرام کی پہچان کا نشان ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور ایسے بہت سے نہ ماننے والوں کو وہ منوا لیتا ہے لیکن اس کے لئے اس نے ایک قانون باندھ رکھا ہے اور جو کچھ ہوتا ہے اسی قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ جب وہ عین موقعہ پر پہنچے تو ان کو اعتراف کرنا ہی پڑا کہ ہم نے جو مشورہ کیا اور جو سکیم (Scheme) تیار کی وہ درست نہیں تھی۔
Ayah 68:27

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی ہے

ہماری تو قسمت پھوٹ گئی ہے اور بربادی ہمارا مقدر بن کر رہ گئی ہے 27 ؎ گویا ہم تو اسکیمیں تیار کرتے ہی رہ گئے اور ہماری اسکیموں کا نتیجہ کیا نکلا کہ خزانہ جمع کرتے کرتے ہم اصل زر سے بھی محروم رہ گئے۔ یہ فطری چیز ہے کہ انسان جب ایسے حالات سے دوچار ہوجاتا ہے حالانکہ جو کچھ ہوتا ہے وہ تو اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے لیکن وہ ایسا مایوس ہوتا ہے کہ مایوسی کی حالت میں جو بات اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ حسرت و یاس ہی کی ہوتی ہے اور وہ اپنی قسمت کا ماتم کرتا نظر آتا ہے۔ زیر نظر آیت کے اس فقرہ نے ان کی ساری مایوسی کی حالت کو صرف دو لفظوں میں بیان کردیا اور اس کی تفسیر کی جائے تو محرومیوں کی یہ داستان بہت ہی لمبی ہو سکتی ہے اور پھر اس سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ اکثر وقتی ثابت ہوتے ہیں گویا انسان اس طرح کی نصیحتوں کو بہت جلد بھول جانے والا ہے۔
Ayah 68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں سے جو اچھا تھا وہ بولا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ اس (اللہ) کی پاکیزگی کیوں بیان نہیں کرتے

ان میں سے بہتر آدمی نے کہا کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ تم پاکیزگی اختیار نہیں کر رہے 28 ؎ (اوسطھم) ان میں سے جو کچھ معقول تھا۔ ان کا درمیانہ اوسط مضاف ھم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ یہاں (اوسط) سے مراد وہ شخص ہے جو افراط وتفریط کے درمیان ہو۔ جیسے حود کہ وہ اسراف اور بخل کے درمیانی درجہ کا نام ہے۔ ایسی صورت میں (اوسط) کا لفظ مدح کے لئے آیا ہے نہ کہ عمر کے لحاظ سے درمیانہ مراد ہے اور عین ممکن ہے کہ جس وقت یہ صلاح مشورے ہو رہے تھے اس نے کوئی اس طرح کی بات ضرور کی ہوگی لیکن جب سب کی رائے اس کے خلاف ہوئی تو اس نے خاموشی اختیار کرلی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ حقیقی بہن بھائیوں میں بھی سب کے حالات اور خیالات ایک جیسے نہیں ہوتے اور بعض کی طبیعت بعض سے نہیں ملتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب تک کسی انسان کے اندر مکمل طور پر دین نے اپنی جگہ حاصل نہ کرلی ہو اس وقت تک اس کے ارادوں میں پختگی نہیں آتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھنے کے باوجود صحیح قدم اٹھانے سے ہچکچاتا رہتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کی بھلائی کا سبب بنے اپنا بیڑا بھی ساتھ ہی غرق کرلیتا ہے۔ شاید آپ اس کو ایک معمولی لغزش سمجھتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معمولی لغزش نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑا جرم ہے اور جرم کو اگر کوئی شخص جرم تسلیم نہ کرے تو اس کے اس طرز سے وہ جرم نہ رہے یہ ممکن نہیں ہے۔ ہم نے اشارہ کردیا ہے سمجھ گئے تو انشاء اللہ فائدہ پائو گے۔
Ayah 68:29

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

وہ بولے پاک ہے ہمارا پروردگار بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے

انہوں نے کہا پاک ہے ہمارا پروردگار بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے 29 ؎ پھر کیا ہوا کہ جب ان کا سب کچھ لٹ گیا تو اس وقت انہوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تسبیح وتحمید شروع کردی اور اس حقیقت کو تسلیم کرلیا کہ یہ ہمارا ہی قصور تھا اور ہم نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا تھا۔ اس طرح ان کو جو تاسف اور افسوس ہوا وہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ تھا اور انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا۔ آپ سمجھ لیں کہ یہ بھی ان کی خوش بختی کی بات تھی۔
Ayah 68:30

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پس یہ لوگ (بھی) ایک دوسرے پر الزام رکھنے لگے

پس اب یہ لوگ ایک دوسرے پر الزام رکھنے لگے 30 ؎ فطری چیز ہے کہ جب ہونے والا ایک کام ہوجاتا ہے اور اس سے نقصان ہو چکتا ہے تو پورے گھر کی فضا میں ایک بار ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ فلاں نے پہل کی تھی اور اس نے ہی دراصل اس طرح کی پہل کی تھی پھر جب اس نے ایسا کہہ دیا تو ہم خاموش ہوگئے کہ یہ سب کی مشترکہ چیز ہے جس طرح سب کی مرضی اور رضا ہے اسی پر ہم کر راضی رہنا چاہئے اور اس طرح کی بہت سی باتیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بڑھا چڑھا کر کرنے لگے اور پھر نہ معلوم کتنی دیر تک کرتے ہی چلے گئے۔ (یتلاومون) کی اصل ل و م ہے اور جمع مذکر غائب مضارع ہے تلاوم مصدر۔ وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے یا ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔
Ayah 68:31

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہماری شامت (اعمال) کہ ہم ہی حد سے بڑھنے والے تھے

کہنے لگے ہمارے شامت اعمال کہ ہم ہی حد سے تجاوز کرنے والے تھے 31 ؎ ایک دوسرے پر الزام دھرنے کے بعد آخر ان سب بھائیوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ حقیقت اپنی جگہ پر حقیقت ہی ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ہی ظامل تھے اس لئے ہم نے آپس میں اس طرح کی بات طے کر کے اپنے اوپر ہی ظلم کیا ہے اور اب سب نے اس کا نیجہخ بھی حاصل کرلیا ہے۔ ہمارے والد جو کرتے رہے اس کا نتیجہ کتنا بہتر رہا لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے حقیقت کو سمجھنے میں بہت دیر کی لیکن اب ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا بھی کوئی اچھی فال نہیں ہے اور یہ کہ اس طرح کی بحث و تمحیص کا کبھی اچھا اور مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اس لئے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔ گولی لگ جانے کے بعد کہا جائے کہ خدا کرے کہ جھوٹ ہی ہو تو وہ جھوٹ کیسے ہوجائے گی ؟ نقصان جو ہونا تھا وہ ہوگیا لیکن اب ہم کو اتفاق رائے سے سمجھ لینا چاہئے کہ جو ہوا سو ہوا آئندہ ایسے نظریات اور ایسے مشوروں سے ہم کو بچنا چاہئے۔ جو طریقہ ہمارے والد نے مقرر کیا تھا وہ بہت ہی اچھا اور بہت خوب تھا ہم کو اسی کی پیروی کرنی چاہئے۔
Ayah 68:32

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

شاید ہمارا رب اس سے بہتر (باغ) ہم کو بدلے میں دے دے ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے ہیں

شاید ہمارا رب اس سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے اگر ہم اس کی طرف لوٹ آئیں 32 ؎ معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے باغ اور کھیتی کی حالت دیکھی تو ان کی آنکھوں سے غفلت کی پٹی اتر گئی اور یہ بھی ان کی خوش قسمتی کی بات تھی کہ ان کی عقل نے ان کی غلط راہنمائی نہ کردی ورنہ اس طرح کے بھولے ہوئے آدمیوں کو کم ہی سیدھی راہ میسر آتی ہے بلکہ اکثر لوگ الٹی راہ ہی پر چل نکلتے ہیں اور اس طرح ان کی دنیا بھی برباد ہوجاتی ہے اور آخرت کو بھی وہ خود اپنے ہاتھوں برباد کر بیٹھتے ہیں۔ بہرحال اب ان کو یقین آگیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے دناا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی درست ہوتی ہے اس لئے یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں بلکہ نہایت ہی نفع کی راہ ہے اگر کسی کو نصیب ہو اس طرح ان کو سچے دل سے توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توقعات سے بڑھ کر ان کو دیا۔ اس کو کہتے ہیں کہ اگر کوئی صبح کا بھولا شام کو گھر آئے تو اس کی خیر اور اس کی بھلائی میں کسی کو شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

اس طرح عذاب اترا کرتا ہے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت بڑا ہے

اس طرح عذاب کے اترنے کو بھی دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے 33 ؎ اگر آپ لوگ غورو فکر کریں تو آپ بھی سمجھ سکتے ہیں اور جس طرح ان لوگوں نے جن کا ذکر اس واقعہ یا مثال میں کیا گیا ہے انہوں نے سنبھلنے کی اور اپنی اصلاح خود کرنے کی کوشش کی ہے اور بھول جانے کے بعد وہ راہ راست کی طرف آئے ہیں تم بھی آ جائو اور اپنے گناہوں کی تلافی چاہو۔ اللہ تعالیٰ کو معاف کرتے کچھ دیر نہیں لگتی اور آیا ہوا عذاب بھی ٹل جاتا ہے اگر انسان اپنی ضد اور ہٹ پر اڑا رہے تو اس کی دنیا ہی خراب نہیں ہوتی آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ یقین کیجئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا ترجمہ ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہی ہوتا ہے گویا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ کاش کے راہ سے بھٹکنے والے اس حققتی کو سمجھ جائیں اور اپنی آخرت کو برباد ہونے سے بچا لیں۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمتوں کے باغات ہیں

بلاشبہ پرہیزگار بندوں کے لئے ان کے رب کے ہاں نعمتوں کے باغات ہیں 34 ؎ گزشتہ آیات میں متکبرین کی بات تھی اور ان کے مشوروں میں اس طرح کے خیالات کی ترجمانی ہوتی تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ کچھ نقصان حاصل کرنے کے بعد سنبھل گئے اور انہوں نے تکبر سے توبہ کر کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کرلی اور اب زیر نظر آیت میں ان کو گویا متقی کہہ کر ان کی پذیرائی کی جا رہی ہے کہ سنبھلنے والوں کے لئے خیر و برکت ہے اور اب وہ آخرت کی خوشخبری کے مستحق ٹھہرے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر وہ شخص جو دنیا کی زندگی میں اس طرح ڈوب نہ جائے کہ آخرت سے نچنت ہوجائے بلکہ اپنی آخرت کی فکر بھی رکھتا ہو تو بحمد اللہ اس کے متقی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے ، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ دنیا سے بالکل لاتعلق ہونا اتقاء اور پرہیزگاری کی علامت نہیں ہے بلکہ دنیا میں رہ کر دنیا سے فائدہ حاصل کر کے اور بد اعتدالیوں سے بچ کر اور دنیا کی دل فریبیوں میں اس طرح گم نہ ہو کر آخرت کی فکر سے آدمی لاتعلق ہوجائے بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کو درست کرنے کی کوشش کر کے انسان متقی اور پرہیزگار کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔ اس سے دنیا سے کنارہ کشی کرنے والوں کی مکمل تردید نکل آئی کہ یہ طریقہ اسلام کا نہیں بلکہ اسلام سے منحرف ہونے کا ہے۔
Ayah 68:35

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کے برابر کردیں گے

کیا ہم فرمانبرداروں اور نافرمانوں کو برابر کردیں گے ؟ 35 ؎ اگر تم یہ بات سمجھتے ہو کہ اندھیرا اور روشنی ، دن اور رات ، ظلم اور رحمت ، سایہ اور دھوپ برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی نیکی اور برائی کبھی نتیجہ کے اعتبار سے برابر ہو سکتی ہے تو تم نے یہ کیسے باور کرلیا کہ فرمانبرداروں اور نافرمان دونوں کے نتائج برابر برابر ایک جیسے نکلیں گے۔ نہیں اور ہرگز نہیں ہم کبھی فرمانبرداروں اور نافرمانوں کو ایک جیسے نتائج سے دوچار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہمارے نزدیک ایک نیکوکار اور بدکار ، وفادار اور غدار ، بےایمان اور ایماندار برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا اندھیر ہے بلکہ وہاں جو کچھ ہے عدل و انصاف پر مبنی ہے اور جو عدل و انصاف کے خلاف ہے وہ ممکن ہی نہیں ہے۔
Ayah 68:36

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟

تم کو کیا ہوگیا ، تم کیسے فیصلے کرتے ہو 36 ؎ یہ بات پیچھے بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ کسی قوم کے کفار کو بھی جب کسی قوم کے نبی و رسول نے ڈرایا تو انہوں نے یہی بات کہی کہ تم ہم کو خواہ مخواہ برا سمجھتے ہو اور ہمارے افعال و اعمال کو اچھا نہیں سمجھتے اگر ہمارے اعمال اللہ کو پسند نہ ہوتے تو آخر اس نے جو ہم پر احسان کر رکھے ہیں وہ کیوں کرتا۔ حالت تو تمہاری رحم کے قابل ہے اور باتیں ہماری کرتے ہو۔ پھر تم کو بار بار یہ بات باور کراتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات ، دولت ، عزت ، شہرت ، اولاد سب کچھ ہمیں دیا ہے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہم موج و بہار سے زندگی گزار رہے ہیں اور اس نے ہم کو اپنی رحمتوں سے نوازا ہے اور سرفراز کیا ہے اگر قیامت آگئی تو وہ ہمارے ساتھ وہاں بھی یہی سلوک کرے گا اور تم لوگ جس طرح اس جگہ تنگی اور عسرت سے گزر بسر کر رہے ہو قیامت کے روز بھی تمہاری یہی گت بنے گی اور قرآن کریم نے ان کی اس بات کو درج کر کے بار بار اس کی تردید بھی کردی ہے کہ تمہارا یہ خیال سراسر جہالت ہے اور حماقت سے خالی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں کہ فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں امتیاز ہی نہ کرے کہ جو لوگ ساری زندگی اس سے ڈرتے رہے ، اس کے حکم کی تعمیل کرتے رہے انہیں تو وہ خاص مہربانیوں سے محروم کر دے اور فاسقوں ، فاجروں کو ان کے کفر اور کفران نعمت کی جزا دے کر انہیں جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انصاف ہے دھاندلی نہیں۔ کیا تمہاری عقلیں اس طرح کی سوچ سے باز نہیں رہتیں۔ اس طرح کی سوچیں سوچ کر تم نے کیسے فیصلے شروع کردیئے ہیں۔ کیا تم لوگ اس ذہنیت کے مالک ہو کہ تم کو معقول اور نامعقول میں امتیاز بھی نہیں ہے۔
Ayah 68:37

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس سے تم پڑھ لیتے ہو

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس سے تم پڑھ لیتے ہو ؟ 37 ؎ بات تو وہ بات ہوتی ہے جس پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہے یا کوئی لال کتاب تم نے رکھی ہے جس سے دیکھ دیکھ کر تم اس طرح کی بےسروپا باتیں بیان کرتے ہو کہ جب ہماری زندگی دنیا میں اس طرح عیاشی اور معاشی سہولت میں گزر رہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہماری اخروی زندگی بھی صحیح اور درست ہو اور ہم کو وہاں بھی اسی طرح کی آسائش اور آرام مہیا ہو۔ یہ باتیں تم کس ورطہ سے بنا لیتے ہو۔ کیا تم کوئی ایسا حوالہ پیش کرسکتے ہو جس میں مجرم اور فرمانبردار دونوں سے ایک طرح کا سلوک کئے جانے کا ہم نے ذکر کیا ہے اور جس جگہ پر لکھا ہے آپ نے پڑھا ہے کہ فرمانبردار اور سرکشوں کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے گا۔ یہ بات اس رنگ میں محض اس لئے پوچھی جا رہی ہے کہ ایسی بات کو اللہ کی کتاب تو کیا بیان کرے گی عام انسانی عقل و فکر بھی اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور تم لوگ اس طرح کی دور از عقل و فکر باتیں کہاں سے نکال کر بیان کرنا شروع کردیتے ہو۔
Ayah 68:38

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

(پھر تو) یقینا اس میں تم کو اپنی پسندیدہ باتیں مل جاتی ہوں گی ؟

کیا اس میں تم کو تمہاری پسند کی باتیں مل جایا کرتی ہیں ؟ 38 ؎ (تخیرون) تم پسند کرتے ہو ، تم پسند کرو گے ، تم اختیار کرتے ہو ، تم اختیار کرو گے۔ تخیر سے جس کے معنی پسند کرنے اور اختیار کرنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ گزشتہ آیت میں پوچھی گئی بات کی مزید وضاحت طلب کی گئی ہے کہ کیا تمہارے لئے اس تمہاری کتاب میں جس سے تم دیکھ کر پڑھ کر اس طرح کی باتیں بیان کرتے ہو۔ ان کو اس طرح کا جواب اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ اس جواب کو سن کر شرمندہ ہوں اور جس طرح کی باتیں وہ بیان کرتے ہیں اس طرح کی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ لیکن جن کی عادت ہر سنی ان سنی کردینے کی ہے وہ اس طرح کی باتیں سن کر کب سبق حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان کے دل اور دماغ تو اس بات سے بھرے پڑے ہیں کہ ہم کو کوئی کچھ کہے ہم نے ان کی باتوں کو سن کر ان کو اپنے پاس جگہ نہیں دینا ہے لہٰذا ان کی بلا سے کہ کوئی کیا کہتا ہے اور کیا نہیں کہتا۔ اور یہی وہ بات ہے جو ان کی کتاب میں لکھ دی گئی ہے اور انہوں نے اس کو خوب یاد کر رکھا ہے۔
Ayah 68:39

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے قیامت تک کے لیے قسمیں لے رکھی ہیں کہ جس چیز کا تم حکم کرو گے وہ تم کو ملے گا ؟

کیا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں کہ جس کا تم حکم دو گے تم کو وہی مل جائے گا 39 ؎ اچھا اگر تمہارے پاس اس بات کی تحریر نہیں ہے اور تم نے اس طرح کی کوئی بات پڑھی بھی نہیں ہے تو کیا ہم سے تم نے زبانی عہد و پیمان لے رکھا ہے یا ہم نے تم کو قیامت تک اور قیامت کے بعد بھی عہد دے رکھا ہے کہ ہم تمہیں بالکل نہیں پوچھیں گے تم چاہو جو کچھ بھی کرتے رہے اور ہم اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ تم کو پوچھ بھی نہ سکیں کہ تم کس طرح کی باتیں کرتے ہو۔ اتنا تمہارا رعب ہم پر چھا چکا ہے کہ جو تم حکم دو گے وہ ہم کو ہر حال میں ماننا ہی پڑے گا۔ تمہاری وقعت کیا ہے جس کے بل بوتے تم اس طرح کی باتیں بنا رہے ہو۔ تعجب ہے ہم کو کہ تم اتنے چھوٹ ہوچکے ہو کہ تمہاری زبانوں کو کوئی لگام دینے والا ہی نہیں ہے۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ نے آخرت کی کامیابی کے وعدے کئے ہیں ، افراد سے بھی اور قوموں سے بھی لیکن ان کا کردار اور ان کے اعمال حسنہ کی وضاحت بھی فرما دی ہے کہ وہ ایسے ایسے لوگ ہوں گے اور یہ بھی کہ مخالفین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوزخ کا وعدہ فرمایا ہے خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں تو اس طرح کے دونوں وعدے انشاء اللہ یقیناً پورے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وعدہ خلافی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے اور تم کو وعدہ پورے کرنے کی ہدایت دیتا ہے اور وعدہ خلافی کرنے پر سزا بھی وہ یقیناً دے گا۔
Ayah 68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھئے کہ اس بات کا ان میں سے کون ذمہ دار ہے ؟

آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ اس بات کا ان میں سے کون ذمہ دار ہے ؟ 40 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں سے پوچھئے کہ وہ کون ہے ان میں سے جس نے ہم سے نجات اور فلاح و فوز کا وعدہ نامہ لکھوایا ہے۔ ذرا وہ ہمارے سامنے تو آئے جس سے ڈر کر ہم نے اس کی باتوں کی تصدیق کی ہے اور ہم نے کہہ دیا کہ یہ لوگ ہمارے چہیتے ہیں ، اس لئے چاہے یہ کیا کرتے رہیں ہم ان پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والے یہود میں بھی تھے اور نصاریٰ میں بھی اور آج بدقسمتی سے ان لوگوں کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، جن کے گمان میں اس طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں اور جو لوگ دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ پوچھ ہی نہیں سکتا ، اس لئے کہ اس کائنات میں ہمارے بزرگوں نے ایسے ایسے کارہائے نمایاں کئے ہیں کہ ان کا نام لیتے ہی اللہ میاں کے ہاتھ ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور وہ ہم کو ہمارے پیروں اور بزرگوں کے صدقے میں ہمارے سارے کاموں سے درگزر فرماتا ہے۔ اگر اس کی تصدیق آپ دیکھنا چاہیں تو غزوۃ الوثقی ، جلد سوم میں سورة المائدہ کی آیت 18 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے کوئی شریک ہیں ، اچھا تو اپنے ان شریکوں کو بھی وہ لے آئیں اگر وہ (وعدے میں) سچے ہیں

کیا ان کے کوئی شریک ہیں تو وہ ان کو بھی بلا لائیں اگر وہ سچے ہیں 41 ؎ یہ ان کے ڈھکوسلوں کا جواب ہے کہ جناب ہم تو کچھ بھی نہیں ہم تو بہت گناہ گار ہیں لیکن ہمارے پیروں اور ہمارے بزرگوں کے ایسے کارہائے نمایاں ہیں کہ انہوں نے ہمارے لئے اور ہماری نسلوں کو قیامت تک کے لئے محفوظ کرا دیا ہے اور ہم ان لوگوں کی کمائی کھانے والے ہیں م۔ فرمایا کہ اگر ان کو اس طرح کا کوئی وہم و گمان ہے تو وہ اس کو بھی برملا کہیں تاکہ سب لوگ سن لیں کہ وہ کون سی شخصیت ہے اور زیادہ نہیں تو وہ ان کے نام ہی لے لیں تاکہ اس بات کی تصدیق کرلی جائے۔ اس وقت شاید ان لوگوں نے نام نہ لیا ہو اور وہ خوف کھا گئے ہوں لیکن آج کل کے پاکستانی لوگ تو صاف صاف کہتے ہیں اور برملا نام لیتے ہیں ، ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے ؎ چاچڑ وانگ مدینہ د سے کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر دے وچ پیر فریدن باطن دے وچ اللہ حقیقت میں دیکھو تو خواجہ خدا ہیں ہمیں درپہ خواجہ کے سجدے روا ہیں یہ دعا ہے یہ دعا ہے یہ دعا تیرا اور سب کا خدا احمد رضا کملے لوگ جہان دے بھلے پھر دے سب سامنے ویکھ کے پیر نوں فیروی پچھن رب جن لوگوں کی یہ خرافات ہیں کہ اگر یہ بات اب کہی جائے کہ اگر تمہارے پاس کوئی تمہارے شریک ہیں تو ان کو بلالو اور ہمارے سامنے لے آئو اگر یہ لوگ ان بزرگوں کو بطور نام پیش کردیں تو آخر اس میں بعید از عقل بات کون سی ہے۔ جب وہ برملا کہتے ہیں کہ وہی جو مستوی عرش پر تھا خدا ہو کر اتر پڑا مدینے میں مصطفیٰ ہو کر خدا کہتے ہیں جس کو مصطفیٰ معلوم ہوتا ہے جسے کہتے ہیں بندہ وہ خود خدا معلوم ہوتا ہے بجاتے تھے جو ان عبدہٗ کی بانسری ہر دم خدا کے عرش پر انی انا اللہ بن کے نکلیں گے غور کریں کہ ان لوگوں کے سامنے قرآن کریم پڑھنے سے ان کو کیا فرق پڑے گا اور وہ قرآن کریم کی کیا قدر کریں گے اور ان کو قرآن کریم کیسے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دے گا جب کہ انہوں نے ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے اللہ بنا رکھے ہیں بلکہ اس اللہ کو چھوڑ کر نئے اللہ بنا لئے ہیں۔ احمد رضا جن کا خدا ہو ، چاچڑ جن کا مدینہ ہو اور کوٹ مٹھن جن کا بیت اللہ ہو ان کو کوئی سمجھائے گا تو کیسے اور وہ سمجھیں گے تو آخر کیوں ؟
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن ساق کھولی جائے گی اور لوگوں کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا پھر یہ لوگ (سجدہ) نہ کرسکیں گے

جس دن ساق کھولی جائے گی ، لوگوں کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے 42 ؎ (ساق) پنڈلی۔ علامہ مجد الدین فیروز آبادی رقم طراز ہیں کہ ” تخنہ اور گھٹنہ کے جو درمیان ہے وہ (ساق) ہے۔ سوق سقان اور اسوق جمع وائو کو ہمزہ اس لئے کہا گیا ہے کہ ضد کو برداشت کرسکے اور (یوم یکشف عن ساق) جس دن پنڈلی کھولی جائے کے معنی عن شدۃ کے ہیں یعنی جس روز سختی ظاہر ہوگی اور والتفت الساق بالساق اور پنڈلی پنڈلی پر لپٹ گئی۔ یعنی دنیا کی آخری شدت ، آخرت کی پہلی شدت سے لپٹ گئی جب معاملہ کی شدت اور اس کی ہولناکی کی خبر دینا مقصود ہوتا ہے تو (ساق) کا ذکر کرتے ہیں۔ جب کوئی سخت تکلیف اور مصیبت کا وقت آجاتا ہے تو اہل عرب یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح جب گھسمان کی لڑائی شروع ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں شمرت الحربعن ساقھا جنگ نے اپنی پنڈلی سے تہہ بند اوپر اٹھا لیا اور جب قحط سالی انتہا کو پہنچ جائے تو اس کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ : سنۃ قد کشفت عن ساقھا یہ اس سال کی بات ہے جس نے پنڈلی ننگی کردی اور اس محاورہ کے مطابق آیت کے معنی ہوں گے وہ دن جس دن حالات بہت ہی تکلیف دہ اور ہولناک ہوجائیں گے اور ہر شخص جلال خداوندی کے سامنے لرزہ براندام ہوگا اور کپکپی طاری ہوگی اور چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی اور دل خوف سے دھک دھک کر رہے ہوں گے اور لوگوں کی آزمائش کے لئے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جائے گا اور جونہی اللہ کے نیک بندے سجدے میں گریں گے تو ان کے دلوں کو طمانیت نصیب ہوگی اور کافر اور منافق سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن وہ سزا سجدہ نہیں کرسکیں گے اور اس رسوائی کے باعث ان کی آنکھیں جھک جائیں گی اور اس طرح ان کا کفر اور نفاق سب کے سامنے کھل جائے گا اور کسی سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہے گی۔ زیر نظر آیت میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا بھانڈا کس طرح چورا ہے میں پھوٹ جائے گا۔
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی ان پر ذلت چھائی ہوگی حالانکہ ان کو سجدہ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ اس وقت اچھے خاصے تھے

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی ، ذلت ان پر چھائی ہوگی اور سجدہ کرنے سے معذور ہوجائیں گے 43 ؎ وہ لوگ سجدہ سے کیوں محروم کردیئے گئے فرمایا یہاں تو ان کو سجدہ کا حکم دیا گیا تھا اور یہ اس حکم کی دراصل تصدیق تھی جو دنیا میں ان کو دیا گیا تھا لیکن وہاں ان کو کم از کم پانچ بار سجدہ کی دعوت دی جاتی رہی لیکن ان کے ماتھے پر جوں بھی نہ رینگی اور انہوں نے ایک بار بھی سجدہ کرنے کا ارادہ نہ کیا اور اب جب وہ دار فانی سے نکل کر دارالنتیحہ کی طرف آ چکے تو اب ان کو سجدہ کا حکم دیا گیا یہ وہ فرض اور واجب نہیں تھا یہ تو محض ایک طرح کی آزمائش تھی تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ کون دنیا میں سجدہ کی طرف دوڑتا تھا اور کون سجدہ سے بھاگتا تھا اور ہم نے دیکھا اور سب کو دکھا دیا کہ جو لوگ دنیاوی زندگی میں سجدہ ادا کرتے رہے وہ سجدہ میں گر پڑے لیکن جنہوں نے دنیا میں عملی طور پر سجدہ نہیں کیا وہ آج سجدہ سے دور کردیئے گئے تاکہ سجدہ کرنے والوں سے سجدہ نہ کرنے والوں کو جدا کردیا جائے اور دیکھ لو کہ ان کو سجدہ کرنے والوں سے کس طرح ایک ہی اشارہ سے جدا کردیا گان اور ان کی قوت اس وقت سلب کردی گئی اور ان کی پنڈلی کو ان کی دوسری پنڈلی سے جوڑ دیا گیا کہ وہ سجدہ کر ہی نہ سکیں اور ان کی دنیوی طاقت کو ہم نے اس وضاحت سے ثابت کردیا کہ اگر وہ چاہتے تو دنیا میں سجدہ کرتے جہاں دراصل دارالعمل تھا اور جہاں ان کے سجدہ کی ایک حقیقت ہمارے ہاں طے ہوچکی تھی۔
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

پس تو مجھ کو اور ان کو جو اس کتاب کو جھٹلا رہے ہیں چھوڑ دے ہم ان کو درجہ بدرجہ (جہنم کی طرف) لیے جا رہے ہیں اس طرح کہ ان کو خبر تک نہیں

آپ سمجھے اور اس کتاب کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ہم ان کو دوزخ کی طرف لے جائیں گے 44 ؎ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو ٹھوکر لگتی ہے اور وہ منہ کے بل گرتا ہے ، اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور بعض کا زیادہ ہی نقصان ہوجاتا ہے تاہم اگر اس کی قسمت باور کرے اور اس کا مقدر درست ہو تو ایسے لوگ اس ٹھوکر سے سنبھل جاتے ہیں جیسے ان لوگوں کی حالت تھی جو پیچھے باغ والوں کی تمثیل میں بیان کئے گئے کہ ان کا نقصان ہوا لیکن بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو ٹھوکر لگتی ہے لیکن وہ سنبھلنے کی بجائے ٹھوکر میں مزید پختہ ہوجاتا ہے اور اپنے نظریہ کو قطعاً نہیں بدلتا بلکہ جوں جوں ان کی رسی ڈھیلی کی جاتی ہے اور ان کی دولت اور عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تو پہلے اگر وہ ضلع کونسل میں تھے تو اب ایم پی اے ہوگئے اور اگر ایم پی اے تھے تو ان کو ایم این اے بننے کا موقع مل گیا اور پھر اس طرح وہ کسی وزارت اور صدارت کو حاصل کر گئے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ وہ اگر ڈیڑھ چھائل تھے تو اب ڈھائی چھائل ہوگئے پہلے چھوٹے چھوٹے ظلم کرتے تھے اور اب بڑے بڑے ظلم ڈھانے لگے اور ان کو یہ غلطی لگ گئی کہ شاید انہی مظالم کے باعث عہدے بڑھتے ہیں اور مال و دولت جمع کرنے کا یہی وہ نسخہ ہے اس لئے جو کچھ وہ کر رہے ہیں بس یہی عادات و خصائل اللہ میاں کو بھی پسند ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان ظالموں کی رسی دراز کی جا رہی ہے کہ جتنے ظلم چاہتے ہو اس دنیا میں کھل کر کرلو کہ عنقریب اس دنیا کی زندگی ختم ہونے والی ہے اور آخرت کا دن آنے والا ہے جو تمہارے لئے رسوائی کا دن ہے اور اس روز تک کو ان ظلموں کا صحیح صحیح بدلہ دیا جائے گا۔ ان کی اسی حالت کے پیش نظر آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ظالم جو نت نئے ظلم کے دروازے کھول رہے ہیں آپ ﷺ ان کو مجھ پر چھوڑ دیں یعنی ان کی خبر میں خود لے لوں گا کیونکہ میں نے ہی ان کی رسی ڈھیلی کی ہے اور میں ہی نے ان کی آزمائش کے لئے قاعدہ و قانون مقرر کردیا ہے اور ان لوگوں کو اس طرح درجہ بدرجہ بلند سے بلند تر کئے جا رہا ہوں کہ جتنا بلند ہونے کا ان کو خیال بھی نہیں تھا اور یہ اس لئے بھی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کا قاعدہ ہم نے یہ مقرر ہی نہیں کیا کہ اس دنیا میں صرف اور صرف ان لوگوں کو دیا جائے جو نیک و پارسا ہوں کیونکہ میں صرف نیک اور پارسائوں کا رب نہیں ہوں بلکہ کافروں ، مشرکوں اور سارے نافرمانوں کا بھی رب ہوں اس لئے ہم نے اس دنیا کے قانون میں یہ اصول ہی نہیں بنایا کہ یہاں صرف فرمانبرداروں کو ملے اور نافرمانوں کو نہ ملے بلکہ جن اصولوں کے تحت اس دنیا میں مال دیا جاتا ہے ان اصولوں کے مطابق نافرمان ، اکھڑ ، ہیکٹر اور جاہل ، نادان لوگ زیادہ حاصل کرلیتے ہیں اور ان کو دیا جاتا ہے جتنی وہ کوشش اور ہمت کرتے ہیں اور ان کو اندھا دھند رزق دیا جاتا ہے اور ان کو اتنا ملتا ہے کہ وہ اس کا حساب تک نہیں کرسکتے۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کو ڈھیل دیئے جاتا ہوں بلاشبہ میری تدبیر بڑی مستحکم ہے

میں ان کو ڈھیل دیئے جاتا ہوں بلاشبہ میری تدبیر بڑی مستحکم ہے 45 ؎ اگر مجرموں کو جرم کرتے ہی پکڑا نہیں جا رہا تو وہ محض اس لئے کہ وہ میری دسترس سے باہر نہیں ہیں اور جب میں ارادہ کروں گا ان کے پکڑنے کا وہ ایک قدم بھی آگے نہیں جاسکیں گے لیکن میرے پانون اعمال میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ کسی کو گناہ کرتے ہی میں نے کبھی نہیں پکڑا بلکہ ان کو کم و بیش کچھ نہ کچھ مہلت ضرور دی جاتی ہے تاکہ وہ سنبھلنا چاہیں تو سنبھل سکیں لیکن جب ان کی رسی ڈھیلی کی جاتی ہے اور وہ اس کو ہماری طرف سے ڈھیل سمجھ کر سنبھلنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس میں اپنا کمال سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہم کسی کے مارنے سے نہیں مرے اور نہ ہی ہم کو مارا جاسکتا ہے تو پھر ہمارا قانون حرکت میں آجاتا ہے اور ان کو پل بھر میں تہس نہس کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور یہی ہماری وہ تدبیر ہے جو ہم نے ان لوگوں کے لئے تیار کر رکھی ہے اور ہماری اس تدبیر کے تحت وہ گناہوں پر گناہ کرنے کے باوجود دندناتے پھرتے ہیں اور جب تک ان کا وقت آ نہیں جاتا وہ شکنجہ میں کسے نہیں جاتے اور ان کی بدنصیبی کہ وہ اس کو اپنی بہادری اور شجاعت سمجھنے لگتے ہیں۔
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا آپ ﷺ ان سے کوئی اجر چاہتے ہیں کہ وہ اس تاوان کے بوجھ سے دبے جاتے ہیں ؟

کیا آپ ﷺ ان سے کچھ اجر چاہتے ہیں کہ وہ اس تاوان کے بوجھ میں دبے جاتے ہیں 46 ؎ اے پیغمبر اسلام ! اور اے مخاطب ! کیا آپ ﷺ نے ان سے کوئی اجر طلب کیا ہے کہ یہ لوگ اس بوجھ کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں ؟ دراصل یہ ان لوگوں کے کردار پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کو ایک طرح کی ملامت بھی کی جا رہی ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ ایک آدمی اتنی خیر خواہی کا مظاہرہ کرتا ہے اور کسی کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا لیکن یہ لوگ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور ان کو اس بات کی ذرا پر دا نہیں ہے کہ کم از کم یہ ذہن میں اس کا احترام ہی رکھتے۔ گویا ان کے اخلاق و کردار کا بالکل ہی جنازہ نکل چکا ہے تو آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے اور ہر اس شخص کو جو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق آپ ﷺ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے کہ اگر یہ لوگ نعمت الٰہی سے بھاگ رہے ہیں تو اس میں ان ہی کی محرومی ہے ، تم اپنے اللہ کے ہاں بالکل سرخرو ہو اس لئے آپ ان کے اس رویہ کی مطلق پروا نہ کریں اور اپنا کام رضائے الٰہی کے لئے کئے جائیں۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ وہ اس کو لکھ لیتے ہیں

کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبر ہے کہ وہ اس کو لکھ لیتے ہیں 47 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ یہ لوگ کس کردار کے لوگ ہیں کہ جو بات ان کے منہ میں آتی ہے کہہ دیتے ہیں ذرا پر دا نہیں کرتے اور نہ ہی عقل و فکر سے سمجھ سوچ کر بات کرنے کی ان کو عادت ہے اور جو کچھ کرتے ہیں محض اس لئے کرتے ہیں کہ زبان ان کے پاس ہے اور جو کچھ یہ بک سکتے ہیں وقتی طور پر بک دیتے ہیں اور جب وقت نکل جاتا ہے تو ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے کس سے کیا کہا ہے اور کیا نہیں۔ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس لئے کہ ان کو معلوم ہے کہ ہم کو کوئی پوچھ نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی کہہ سکتا ہے کہ تم نے یہ وعدہ کیا تھا جو ایفا نہیں کیا اور جس طرح یہ عام باتیں کرنے کے عادی ہیں اسی طرح اگر کوئی آخرت کی بات ان کے سامنے آتی ہے تو اس کے متعلق بھی بڑی بےاعتنائی سے کہہ دیتے ہیں کہ وہاں کے اعلیٰ مدارج جو ہیں وہ بھی ہمارے ہی لئے ہیں اور ہم ہی کو وہاں انعام و اکرام ملنے والے ہیں اور اس طرح تسلی سے بات کرتے ہیں گویا انہوں نے غیب سے سب کچھ معلوم کرلیا ہے اور ان کو پورا یقین ہے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس طرح کے لوگوں کا یہ کلام سورة الطور میں بھی آیا ہے جیسا کہ سورة الطور کی آیت 41 میں ہے اور سورة النجم کی آیت 35 تا 38 میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے اگر آپ ان دونوں مقامات کو ساتھ ملا لیں تو مفہوم بہت واضح ہوجائے گا۔ سورة النجم اور سورة الطور کے لئے غزوۃ الوثقی جلد ہشتم کو اٹھانا پڑے گا۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

پس آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے ، جب اس نے پکارا اس حال میں کہ وہ غم و غصہ کو پینے والا تھا

آپ ﷺ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے اور صاحب حوت کی طرح نہ ہوں 48 ؎ نبی نبی ہوتا ہے اگرچہ اس کو خود ہی اس بات کا علم نہ ہو کہ میں نبی ہونے والا ہوں۔ ہم پیچھے عرض کرچکے ہیں کہ ہم جب بھی کسی گزشتہ نبی و رسول کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے بچپنے کے حالات حریر کرتے ہوئے بھی اس کو نبی ہی لکھتے اور کہتے ہیں حالانکہ ایک دو کے سوا کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ہم ہونے والے نبی ہیں۔ اس لئے اس سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ کسی نبی کے نبوت کے پہلے کی زندگی کی کوئی بات کی جا رہی ہو تو وہ اس کی نبوت کے زمرہ میں نہیں آتی۔ یہ بات ہم نے اس لئے کہی ہے کہ صاحب حوت یعنی یونس (علیہ السلام) ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے لیکن چونکہ آپ ہونے والے نبی و رسول تھے اس لئے آپ کی زندگی دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی طرح بلاشبہ مثالی تھی اور نبوت ملنے سے پہلے ہی قوم کو وعظ و درس دیتے تھے اور برائیوں سے ان کو روکتے اور ٹوکتے تھے۔ آپ قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے آپ کیا یک نہ مانی اور انجام کار آپ قوم کو چھوڑ کر نکل گئے ، ابھی زیادہ دور نہ گئے ہوں گے کہ حکومت وقت نے اپنی حکومت کے لوگوں کی کایا پلٹنے کے لئے ایسے انتظامات کئے جو یونس (علیہ السلام) کی دی گئی تعلیم کے بالکل مطابق تھے۔ قوم نے یونس (علیہ السلام) کی تلاش کی کہ شاید یہ آپ ہی کی تبلیغ وتعلیم کا اثر ہے اور حکومت نے آپ کی دی ہوئی تعلیم کی روشنی میں احکام عوام تک پہنچانے کا انتظام کیا ہے اس وقت اگر آپ موجود ہوتے تو بلاشبہ آپ کو خوشی ہوتی۔ یونس (علیہ السلام) نے اتنی جلدی کی کہ گھومنے نکلے اور دریا کے کنارے چلنے لگے جب ایک جگہ سے کشتی پر جو لوگ سوار ہوتے دیکھے تو انہوں نے دوڑنا بھاگنا شروع کردیا کہ جس طرح بھی ہو اس کشتی میں میں بھی سوار ہو جائوں۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح آپ بھی دوڑ بھاگ کر کشتی میں سوار ہوگئے لیکن کشتی اس وقت اتنی بھر چکی تھی کہ جسے کہا جاتا ہے کہ اس میں تل بھر بھی خالی جگہ نہیں تھی۔ بہرحال آپ جب سوار ہوئے تو آپ کو بھی کنارے پر بالکل ایسی جگہ بیٹھنے یا کھڑے ہونے کو جگہ ملی جہاں سے دریا میں گرنے کا بہت خطرہ تھا کہ آدمی ایسی جگہ کا ذہن میں خیال رکھے اور جب دریا میں جا رہا ہوں تو اس کے گرنے کا تصور ہی اس کو لے ڈوبے لیکن آپ نے کشتی میں سوار ہوتے ہی اس کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرتے ہوئے کہ میں اس وقت کتنے نازک مقام پر کھڑا ہوں اٹھے اور کھڑے ہو کر وعظ کرنا شروع کردیا اور وعظ کی ابتدا ایسے پیرایہ میں کی کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کشتی والوں میں سے کسی شخص کو بھی گویا آپ کا خطاب نہیں بلکہ آپ خود بخود اپنی ذات کو وعظ کر رہے ہیں اور اگر کسی دوسرے کے ساتھ ہیں تو وہ ان لوگوں میں موجود نہیں۔ آپ نے وعظ شروع ہی کیا تھا کہ لوگوں نے آپ کو اس خطرناک مقام سے اٹھا کر ایک محفوظ جگہ پر کھڑا کردیا اور آپ کا انداز بیان ایسا انوکھا تھا کہ کسی آدمی نے آپ کے وعظ و نصتحد کو برا محسوس نہ کیا اور وقت پورا ہوگیا۔ لوگ کشتی سے اترنے لگے اور سب کے سب اتر گئے اور اپنی اپنی راہ لی لیکن یونس (علیہ السلام) کی تو کوئی منزل ہی نہ تھی وہ تو محض اتفاقاً نکل آئے تھے اور آتے ہی کشتی مل گئی ، سوار ہوگئے اور پھر دریا سے پار ہو کر آپ جاتے تو آخر کہاں ؟ لوگ چلے گئے اور آپ افسردہ خاطر پھر اس دریا کے کنارے چل پڑے کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے لئے منتخب کرلیا اور آپ کو اس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جس قوم کی طرف سے بھاگ کر نکل آئے تھے۔ اب حکم الٰہی پا کر یونس (علیہ السلام) دوبارہ اسی قوم کی طرف چلے اور ان کو جا کر تبلیغ شروع کی ، وہ لوگ تو پہلے ہی رام ہوچکے تھے اور آپ کی تلاش میں تھے۔ وہ یونس (علیہ السلام) کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اس طرح ایک وقت گزرنے کے بعد بعض پریشانیاں دیکھنے کے بعد آپ دوبارہ خوش و خرم وعظ و درس کا کام کرنے لگے۔ زیر نظر آیت میں یونس (علیہ السلام) کے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یونس (علیہ السلام) کی طرح جلدی سے کام نہ لیں بلکہ آہستہ آہستہ تبلیغ کا کام جاری رکھیں کیونکہ اس میں دیر ضرور لگتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہوتا خصوصاً جب لوگ آپ کی تعلمازت کو نہ صرف یہ کہ نہیں مانتے بلکہ آپ کی مخالفت بھی کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس طرح انسان کا دل تنگ پڑتا ہے لیکن پھر بھی صبر و ثبات سے کام لینا ہی زیادہ مفید رہتا ہے۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر اس کے رب کی رحمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا اور اس کی دنیا میں مذمت کی جاتی

اگر اس کے رب کی رحمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا 49 ؎ فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا جو اس کے شامل حال ہوا اور اس کی اتنی جلدی کے باوجود اس کی رحمت نے اس کو سہارا دیا اور اس پر مواخذہ نہ ڈالا ورنہ جس طرح یونس (علیہ السلام) اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل گیا تھا اگر اللہ کی رحمت اس کا ساتھ نہ دیتی تو وہ اکیلا ہی کسی چٹیل میدان میں پڑا رہتا اور اس کا کوئی شخص بھی پرسان حال نہ ہوتا کیونکہ اس کی اجنبیت کے باعث اس پورے علاقہ میں اس کا کوئی جاننے والا نہیں تھا اور وہ لوگ اس کو اس نام سے یاد کرتے کہ آدمی تو نیک تھا لیکن کسی طرح دل تنگ آیا کہ اپنی زندگی کو خواہ مخواہ ضائع کردیا اور یہ بھی کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے وعظ نہ کرتا جو اس نے کشتی کے اندر شروع کیا تھا تو ایسا ہونا بھی ممکن تھا کہ جہاں اس کو غیر محفوظ جگہ ملی تھی وہاں بیٹھنے سے اس کو کسی نئی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ اپنی مذمت آپ ہی کرنا شروع کردیتا کہ میں نے ایسے حالات میں کشتی پر سوار ہو کر خواہ مخواہ موت کو دعوت دی۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر اس کو اس کے رب نے منتخب فرمایا اور اس کو اپنے نیک بندوں میں شامل رکھا

پھر اس کو اس کے رب نے منتخب فرمایا اور اپنے نیک بندوں میں شامل کیا 50 ؎ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے یونس (علیہ السلام) کو ہمت فرمائی اور اس وعظ کے باعث اس کو کتنی ہی عزت و احترام کے ساتھ رکھا اور جب کشتی سے اتر کر لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے اور وہ حیران و ششدر میدان لق و دق میں اکیلا رہ گیا تو اس پر مزید احسان کرتے ہوئے اس کا انتخاب نبوت کے لئے کرلیا اس کو اطلاع کردی کہ آج سے تم ہمارے نبی و رسول ہو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کے لئے تم کو پسند کرلیا گیا ہے اب تم اللہ کا پیغام نینویٰ میں جا کر لوگوں کو پہنچائو۔ اس جگہ ہم نے بالکل اختصار سے کام لیا ہے اور آپ کے قصہ کی تفصیلات کو بیان نہیں کیا اس لئے کہ پیچھے تین چار مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا ہے اور یہ بھی کہ یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت پیچھے غزوہ الوثقی ، جلد چہارم سورة یونس کی آیت 95 کے آخر پر درج کی گئی ہے اور اس میں اس کی پوری تفصیل بیان کردی گئی ہے اس لئے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو اس طرح گھو رتے ہیں (یوں معلوم ہوتا ہے) کہ وہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلا دیں گے اور (جب ایسا نہیں ہوسکتا تو) وہ کہتے ہیں کہ وہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلا دیں گے اور (جب ایسا نہیں ہوسکتا تو) وہ کہتے ہیں کہ وہ تو مجنون ہے

کافر جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کو پھسلا دینا چاہتے ہیں 51 ؎ کفر و اسلام کا جب مقابلہ شروع ہے اور باوجود اس کے کہ کافروں کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں ہے وہ محض غصہ میں ہیں جو ان کے دلوں کے اندر بھڑک رہا ہے اور خصوصاً اس وقت ان کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور ان کے تیور بدل جاتے ہیں جب آپ ﷺ ان کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور وہ سنتے ہیں کیونکہ ایسا کلام تو وہ لا نہیں سکتے نہ ان کے بس اور اختیار کی بات ہے اور باوجود مخالفت کے وہ آپ ﷺ کے اس کلام کو رد بھی نہیں کرسکتے اور آپ ﷺ کا پڑھا ہوا سن بھی نہیں سکتے اور اس طرح جو وہ اپنے غصے کے اندر ہونٹ کاٹ کر رہ جاتے ہیں اور ہاتھوں کو کاٹتے ہیں اگر ان کے بس میں ہو تو وہ آپ ﷺ کی زندگی کی شمع فوراً گل کردیں اور پھر جب وہ ایسا بھی نہیں کرسکتے تو آپ ﷺ کو گھورتے ہیں اور غضبناک نظروں سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی صورت ایسی ہو کہ یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہم کو نظر نہ آئے اور جب وہ اس کا اختیار بھی نہیں رکھتے تو بےبس ہو کر آپ ﷺ پر مجنون ہونے کا الزام رکھتے ہیں اور اس طرح کہہ کر اپنے مجنون ہونے کا وہ واضح ثبوت پیش کرتے ہیں اور ایسے حالات میں ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ کہنا اور کرنا چاہتے ہیں نہ تو وہ کھل کر کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ کھل کر کرسکتے ہیں اور اس طرح وہ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور (حقیقت یہ ہے کہ) قرآن تو سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے

اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہے 52 ؎ اس آیت کا جہاں سے شروع ہوا وہیں لا کر اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ شروع میں فرمایا تھا کہ یہ لوگ آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں اور پھر یہ بات بیان کرتے کرتے ان کے اس بیان کی تردید بھی فرما دی اور اس طرح زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ لوگ اس کو کچھ کہیں اور وہ جس طرح اپنے غصہ کا اظہار کرسکتے ہیں کریں اور جس طرح ناک بھوں چڑھانا چاہتے ہیں چڑھائیں لیکن ہماری طرف سے ایک بات کان کھول کر سن لیں کہ وہ خود بھی اور اس پر لایا ہوا کلام بھی تمام جہانوں کے لئے وجہ عزت و شرف ہے ، اسے مجنون کہنے کی وہی جرأت کرسکتا ہے جو خود مجنون ہے۔ کیا کسی مجنون کی باتوں کو سن کر بھی دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اترنا شروع ہوجاتی ہے اور دل اللہ تعالیٰ کے ڈر سے نرم ہونے لگتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ شیشے میں اپنا عکس دیکھتے ہیں اور برے کو برا منہ نظر آنے والی بات ان کے مونہوں سے جاری ہوجاتی ہے اور اسی مضمون پر سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔ اللھم لک الحمد و لک الشکر۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔